Thumbnail for Oxford Urdu book Kanwal Class 8 Chapter no 01 Hamad| کنول/حمد by Education by Irfan

Oxford Urdu book Kanwal Class 8 Chapter no 01 Hamad| کنول/حمد

Education by Irfan

18m 11s2,559 words~13 min read
Auto-Generated

[0:01]بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈیئر سٹوڈنٹس! السلام علیکم۔ آج ہم 8th کلاس کی اردو کی کتاب کامل سٹارٹ کرنے جا رہے ہیں جس کا سبق نمبر ون ہے حمد۔

[0:16]اس میں سب سے پہلے جو مشکل الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ دیکھیں گے۔ پہلا لفظ ہے مبرّاکسی ذمہ داری سے آزاد، اطلاع نافذ ہونا، عائد ہونا۔

[0:30]منزه عیبوں سے پاک، انفیس عالمِ ارواح، ورائے عقل سمجھ سے بالا تر۔

[0:41]جادوانی لا فانی کبھی ختم نہ ہونے والا، ہمیشہ رہنے والا۔ اس کے بعد اشعار کی تشریح ہے۔

[0:52]پہلا پہلا شعر ہے خدایا اول و آخر بھی تو ہے خدایا باطن و ظاہر بھی تو ہے۔

[0:58]اس شعر میں شاعر اللہ تعالیٰ کی کامل اور بے مثال صفات بیان کرتا ہے۔ اللہ ہی ابتداء بھی ہے اور انتہا بھی ہے۔ یعنی ہر چیز کا آغاز بھی اسی سے ہے اور انجام بھی اسی کے تابع ہے۔ وہ ظاہر بھی ہے جس کی نشانیاں کائنات میں جگہ جگہ نظر آتی ہیں اور باطن بھی ہے جو نظر تو نہیں آتا مگر ہر دل کے حال سے واقف ہے۔

[1:25]شاعر اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اللہ کی ذات ہر حد سے بلند ہے وقت جگہ اور صورت سے پاک ہے۔ بندہ جس طرف بھی نظر کرے اسی کی قدرت کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔

[1:47]وہ اول تو کہے ہے آخر سے آخر وہ آخر تو کہے ہے اول سے فاخر۔

[1:53]یہ شعر اللہ کی ازلی و ابدی شان کو بیان کرتا ہے اللہ ایسا اول ہے کہ اس سے پہلے کوئی نہیں، اور ایسا آخر ہے کہ اس کے بعد بھی کوئی نہیں۔ اس کی شان و عظمت ابتداء اور انتہا دونوں پر غالب ہے۔

[2:12]یہاں شاعر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان کے لیے وقت کا تصور محدود ہے۔ مگر اللہ کی ذات ہر طرح کے زمانے حدود سے بالا تر ہے۔ کائنات میں کوئی مقام یا وقت ایسا نہیں جہاں اللہ کی قدرت اور ملکیت نہ ہو۔

[2:37]نہیں اول کو آخر سے جدائی ورائے عقل ہے تیری خدائی۔

[2:41]اس شعر میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے اول اور آخر ہونے میں کوئی جدائی یا فرق نہیں یعنی اس کی ہر صفت کامل اور ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہے۔ مخلوق کے لیے ابتداء اور انتہا دو الگ حقیقتیں ہیں، مگر اللہ کے لیے یہ دونوں ایک ہی شان کی کیفیتیں ہیں۔

[3:07]شاعر کہتا ہے کہ اللہ کی خدائی انسانی فہم اور عقل سے کہیں بلند ہے۔ انسان اپنی محدود سمجھ کے باعث اس کی حقیقت کو مکمل طور پر جان ہی نہیں سکتا۔

[3:25]جو آخر ہے وہی اول بھی تھا تو وہی جو آج ہے سو کل بھی تھا تو۔

[3:30]یہ شعر اللہ کی صفت قدیم و قائم کے تصور کو واضح کرتا ہے۔ اللہ وہ ذات ہے جو ہمیشہ سے موجود تھی آج بھی موجود ہے اور ہمیشہ موجود رہے گی۔

[3:43]نہ اس پر وقت کا کوئی اثر ہوتا ہے نہ اس میں کسی قسم کی تبدیلی آتی ہے۔ شاعر اس بات کو بیان کرتا ہے کہ کائنات میں سب کچھ بدلتا ہے مگر اللہ کی ذات میں تغیر نہیں ہوتا ازل سے ابد تک اس کی موجودگی ایک جیسی ہے۔

[4:09]ہے تیرا اول و آخر مطابق نہ تیرے ساتھ لاحق نہ سابق۔

[4:12]اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اللہ کی اول اور آخر ہونے والی دونوں صفات مکمل ہم آہنگ اور مساوی شان رکھتی ہیں۔ اس کا نہ کوئی ساتھ دینے والا ہے نہ اس سے پہلے کوئی وجود رکھتا ہے۔

[4:28]وہ اپنے آپ میں کامل منفرد اور بے نیاز ہے۔ یہ صفات اللہ کی وحدانیت اور یکتائی کو ظاہر کرتی ہیں۔ اللہ نہ ابتدا میں کسی کا محتاج تھا نہ انجام میں اس کو کسی مددگار کی ضرورت ہے۔

[4:50]مبرّاقید اور اطلاق سے تو منزّانفس و آفاق سے تو۔

[4:56]یہاں شاعر بیان کرتا ہے کہ اللہ ہر قسم کی قید پابندی جسمانیت اور حدود سے پاک ہے۔ نہ وہ جگہ کا محتاج ہے اور نہ زمانے کا۔ نفس یعنی انسان کی ذات اور آفاق یعنی کائنات دونوں سے اللہ پاک اور بلند ہے۔

[5:14]اس کا وجود مخلوق جیسا نہیں وہ ہر لحاظ سے اعلیٰ اور منفرد ہے۔ اس کا ادراک ممکن نہیں مگر اس کی نشانیاں ہر جگہ موجود ہیں۔

[5:27]زمین و آسماں کا نور ہے تو مگر خود ناظر و منظور ہے تو۔

[5:33]اس شعر میں شاعر اللہ کو کائنات کی روشنی زندگی اور ہدایت کا منبع قرار دیتا ہے۔ زمین و آسمان کی ہر رونق اسی کی دی ہوئی ہے۔

[5:47]وہ خود ہی دیکھنے والا بھی ہے اور نظر آنے والا بھی۔ اس کی قدرت کے آثار ہر شے میں دکھائی دیتے ہیں مگر اس کی ذات پوشیدہ ہے۔

[5:58]شاعر نے اللہ کی قدرت کاملہ اور اس کی شان مشاہدہ کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔

[6:10]سوا تیرے نہیں موجود کوئی نہ عابد ہے نہ ہے معبود کوئی۔

[6:16]یہاں توحید باری تعالیٰ کا اعلان ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی موجود حقیقی نہیں اور نہ کوئی عبادت کے لائق ہے۔ تمام مخلوق اسی کی محتاج ہے جبکہ وہ سب سے بے نیاز ہے۔

[6:34]اللہ ہی خالق ہے، مالک ہے، رازق ہے۔ عبادت بندگی اور نیازمندی صرف اسی کے سامنے جھکتی ہے۔ شاعر توحید کی پاکیزہ حقیقت کو بہت مضبوط انداز میں واضح کرتا ہے۔

[6:51]تیری رحمت ہے یہ جلوے دکھاتی ہے قہاری تیری سب کو مٹاتی۔

[6:57]شاعر اللہ کی دو صفات کا ذکر کرتا ہے رحمت اور قہاری۔ اللہ کی رحمت انسانوں کو نعمتیں، آسائشیں اور نور عطا کرتی ہے۔ جبکہ اس کی قہاری ظالموں اور نافرمانوں کو مٹاتی ہے۔

[7:15]یہ دونوں صفات کائنات کے توازن کو قائم رکھتی ہیں۔ اس کی رحمت وسیع ہے مگر اس کا عذاب بھی برحق ہے۔ اسی نظام سے عدل اور حق قائم رہتے ہیں۔

[7:31]مسلم ہے تجھی کو حکمرانی کہ تیری سلطنت ہے جاودانی۔

[7:41]آخری شعر میں شاعر اعلان کرتا ہے کہ اصل پادشاہی اور اختیار صرف اللہ کی ذات کے لیے ہے۔ دنیا کی ہر حکومت عارضی ہے مگر اللہ کی سلطنت ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔

[7:55]وہی سب کا مالک، حاکم اور چلانے والا ہے۔ اس کے فیصلے اٹل اور اس کی قدرت دائمی ہے۔ شاعر اللہ کی بادشاہت کی ہمیشگی اور بے مثالی کا اعتراف کرتا ہے۔

[8:14]نیکسٹ جو ہے وہ معروضی سوالات ہیں یہاں سے دیکھیں کہ جس نظم میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کی جائے اسے کہتے ہیں نعت، حمد، منقبت، ترانہ تو اسے حمد کہتے ہیں۔

[8:34]یہ تھوڑا سا ہائی لائٹ آپ کو نظر آ رہا ہو گا۔ حمد خدایا اول و آخری تو ہے کے شاعر ہیں۔ حفیظ جالندھری، مولانا ظفر علی خان، محمد اسمٰعیل میرٹھی اور اکبر الہ آبادی تو اسمٰعیل میرٹھی ہے۔

[8:45]تیسرا ہے شعر کے آخر میں دہرائے جانے والے الفاظ ردیف کہلاتے ہیں۔ اس حمد کے پہلے شعر کی ردیف ہے۔ بھی تو ہے، ہے تو، سے، آخر کوئی تو اس کی ردیف جو ہے وہ بھی تو ہے۔

[9:00]چوتھا ہے حمد کے پہلے شعر میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہے۔ دو، تین، چار، پانچ۔ تو چار صفات کا ذکر ہے۔

[9:12]پانچواں ہے ورائے عقل ہے تیری خدائی سے مراد کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اول و آخر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی سلطنت و شان کو سمجھنا عقل سے بالا تر ہے۔

[9:27]اللہ تعالیٰ زمین اور آسمان کا نور ہے، اللہ تعالیٰ زمین آسمان کا خالق ہے۔ تو درست آپشن ب ہوگا۔ کہ اللہ تعالیٰ کی سلطنت و شان کو سمجھنا عقل سے جو ہے وہ بالاتر ہے۔

[9:37]نیکسٹ جو ہے وہ الفاظ کی ترتیب درست کر کے مصرع جو ہے وہ دوبارہ تحریر کیجیے۔

[9:46]بک پہ دیکھیں گے تو وہاں پہ جو شعر لکھا ہوا ہے اس کی ترتیب تھوڑی سی آگے پیچھے لفظ آگے پیچھے ہیں جیسے کہ غلط ترتیب کے ساتھ یہ شعر ہے۔ اس کی درست ترتیب آپ نے وہاں پہ یہ لکھنی ہے ٹھیک ہے؟

[9:58]جیسے کہ غلط ہم پڑھتے ہیں کہ اول و آخر بھی خدایا ہے تو۔ تو یہ درست شعر ترتیب کے ساتھ یوں بنے گا کہ خدایا اول و آخر بھی تو ہے۔

[10:10]اسی طرح غلط ترتیب کے ساتھ مبرّا اطلاع قید تو اور سے تو یہ وہاں پہ آپ صحیح درست جو ہے وہ شعر اس طرح لکھیں گے کہ مبرّا قید اور اطلاق سے تو۔

[10:23]اسی طرح جدائی نہیں آخر سے اول کو نہیں اول کو آخر سے جدائی درست ترتیب یہ بنے گی۔

[10:31]نیکسٹ ہے وہ اول سے آخر تو کہے ہے۔ وہ اول تو کہے ہے آخر سے آخر درست ترتیب وہاں پہ یہ بنے گی تو وہاں پہ جو باکس بنا ہوا ہے درست ترتیب کے ساتھ لکھنے کا تو وہاں پہ ترتیب کے ساتھ آپ بھی یہ اشعار جو ہے وہ لکھ سکتے ہیں ٹھیک ہے۔

[10:46]نیکسٹ زبان شناسی قواعد ہیں۔ املاء کی درستی کہ اردو کا اہم ذخیرہ الفاظ فارسی کے الفاظ پر بھی مشتمل ہے جس میں بہت سی تراکیب بھی عربی کی ہیں۔

[11:00]ان کو لکھتے ہوئے املا کا خیال رکھنا چاہیے۔ مثلاً بعض اوقات الف خاموش ہوتا ہے جیسے بالکل بالخصوص و غیرہ۔

[11:10]تو یہاں ب کی آواز بھی آ رہی ہے لام کی بھی آ رہی ہے الف کی نہیں آ رہی کیوں؟ کیونکہ الف یہاں پہ خاموش ہے۔

[11:17]بالخصوص یہاں پہ بھی دیکھیں الف کی آواز نہیں آ رہی۔ اسی طرح لام ساکت ہوتا ہے جیسے السلام و علیکم السلام نہیں کہیں گے۔

[11:27]یہاں پہ بھی لام جو ہے وہ خاموش ہے آواز نہیں دے رہا۔ السلام و علیکم پڑھیں گے۔ لام کے بغیر لکھنا جو ہے وہ فاش غلطی ہے یعنی کہ لام جو ہے وہ لازمی ساتھ لکھی جائے گی۔

[11:39]کہتے ہیں کہ خاموش الف کے مزید دو الفاظ تحریر کیجئے۔ دیکھیں بالفرض اس میں بھی جو ہے وہ الف آواز نہیں دے رہا بترتیب اس میں بھی الف آواز نہیں دے رہا۔ بلاوجہ، بلا وقفہ، بالعموم، بلا تعمل وغیرہ۔

[11:53]آپ یہ الفاظ جو ہے وہ اس طرح لکھ سکتے ہیں جو کہ اس کی آواز نہیں دے رہے۔

[12:00]نیکسٹ جو ہے وہ متضاد الفاظ ہیں۔ کہتے ہیں کہ دی گئی عبارت میں خط کشیدہ الفاظ کے متضاد لکھ کر عبارت نقل کیجئے۔

[12:07]متضاد کہتے ہیں کسی بھی چیز کے الٹ کو۔ میں کہوں کام کرنا ہے آپ کہیں نہیں کرنا تو یہ متضاد ہے۔

[12:14]میں کہوں دن آپ کہیں رات یہ متضاد ہے ٹھیک ہے۔ یعنی کسی بھی چیز کے الٹ کو کہتے ہیں جیسے کہ عبارت ہے کہ ہم ایسی پکی گولیاں نہیں کھیلے۔

[12:22]دوسرے دن شام چھاتا لے کر بارش کے انتظار میں بیٹھ گئے۔ آپ کہیں گے کمرے کے باہر چھاتا لے کر بیٹھنے کا کیا مطلب؟

[12:32]آپ لوگ نہیں جانتے سردی میں جب بارش آتی ہے تو بہت آتی ہے۔ کوئی نو یا دس بجے ایک صاحب گئے ہم نے بھی ہم بڑے عقلمند ہو۔

[12:44]ایسی بارش میں چھاتے کے بغیر نکل آئے۔ تو اس عبارت کو آپ نے سمپل جو ہے وہ جس جس لفظ کے نیچے انڈر لائن ہے، خط کشیدہ ہے تو اس کو آپ نے اس کا الٹ بنا دینا ہے جیسے کہ ہم ایسی پکی پکی کے نیچے دیکھیں لائن ہے تو یہاں پہ ہم نے کچی کر دینا ہے اس کا الٹ کر دینا ہے یعنی ہم ایسی کچی گولیاں نہیں کھیلے، اسی طرح دوسرے دن شام تو دوسرے دن صبح شام کا متضاد کیا ائے گا؟ صبح۔

[13:14]اسی طرح آپ کہیں گے کمرے کے باہر تو آپ کہیں گے کمرے کے اندر۔

[13:20]یعنی کہ باہر کا الٹ بنا دیں گے یعنی کہ اس کو اندر کر دیں گے۔ اسی طرح نیکسٹ ہے۔

[13:27]سردی سردی کی جگہ پہ آپ گرمی کر سکتے ہیں۔ نیکسٹ ہے صاحب صاحب گئے آپ صاحب آئے کر دیں۔

[13:37]ٹھیک ہے۔ اسی طرح عقلمند اور نادان اس کا الٹ ہے۔ اس طرح جو خط کشیدہ الفاظ ہیں ان کے نیچے جو ہے وہ متضاد الفاظ لگا کر آپ جو ہے وہ یہ عبارت سیم ویسے ہی دوبارہ لکھ سکتے ہیں۔

[13:51]ٹھیک ہے۔ نیکسٹ ہے ہم قافیہ الفاظ کہتے ہیں کہ مدرجہ ذیل الفاظ کے کم از کم تین ہم قافیہ الفاظ لکھیے۔ جیسے آخر ہے حکمرانی ہے نور ہے۔

[14:01]تو آخر کے جو ہم قافیہ الفاظ ہیں وہ ظاہر، باطن، طاہر، حکمرانی کے سلطانی، داستانی، جاودانی، نور کے دور، سرور، حضور وغیرہ جو ہے وہ اس کے ہم قافیہ الفاظ ہیں۔

[14:17]نیکسٹ کہتے ہیں کہ درز ذیل الفاظ کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔ خدایا، اول، عقل، زمین و آسماں، حکمرانی، منظور۔

[14:31]سب سے پہلا لفظ ہے خدایا جملہ یوں بنا سکتے ہیں کہ خدایا ہمیں ہر مشکل میں اپنی مدد اور ہدایت عطا فرما۔

[14:39]اول اللہ تعالیٰ ہی کائنات کا سب سے اول اور سب سے طاقتور حاکم ہے۔

[14:46]عقل عقل وہ نعمت ہے جس سے انسان سیکھتا، سمجھتا اور ترقی کرتا ہے۔

[14:54]زمین و آسمان زمین و آسمان کو دیکھ کر دل گواہی دیتا ہے کہ یہ سب بے مثال قدرت کی نشانی ہے۔

[15:03]حکمرانی کائنات میں اللہ ہی کی حکمرانی ہے اور اسی کا فیصلہ سب پر غالب ہے۔

[15:11]منظور میری دعا ہے کہ میری کوشش اور محنت اللہ کو منظور ہو اور مجھے کامیابی ملے۔

[15:18]تو جملے آپ لوگ اپنی طرف سے بھی بنا سکتے ہیں۔ نیکسٹ جو ہے وہ حمد کا مرکزی خیال تحریر کیجیے۔ نظم حمد از اسماعیل میرٹھی کا مرکزی خیال یہ ہے کہ شاعر اللہ تعالیٰ کی عظمت، طاقت اور شان بیان کرتا ہے۔

[15:35]وہ بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اگرچہ وہ ہمیں نظر نہیں آتا مگر اس کی بنائی ہوئی کائنات اس کا نظام اس کی قدرت اور اس کی نشانیاں اس کے وجود کا ثبوت ہیں۔

[15:55]دنیا کی کوئی طاقت اس کے وجود کو جھٹلا نہیں سکتی۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھتا ہے اور ہماری ہر حرکت اور سوچ اس کے علم میں ہے۔

[16:08]نیکسٹ جو ہے وہ کہتے ہیں کہ درز ذیل اشعار کی تشریح کیجیے۔ پہلا ہے کہ زمین و آسماں کا نور ہے تو مگر خود ناظر و منظور ہے تو۔

[16:17]اس شعر میں شاعر اللہ کو کائنات کی روشنی زندگی اور ہدایت کا منبع قرار دیتا ہے۔ زمین و آسمان کی ہر رونق اسی کی دی ہوئی ہے۔

[16:30]وہ خود ہی دیکھنے والا بھی ہے اور نظر آنے والا بھی۔ اس کی قدرت کے آثار ہر شے میں دکھائی دیتے ہیں مگر اس کی ذات پوشیدہ ہے۔

[16:43]شاعر نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس کی شان مشاہدہ کو نہایت خوبصورتی سے جو ہے وہ بیان کیا ہے۔

[16:53]نیکسٹ ہے وہ اول تو کہے ہے آخر سے آخر وہ آخر تو کہے ہے اول سے فاخر۔

[16:58]یہ شعر اللہ تعالیٰ کی ازلی و ابدی شان کو بیان کرتا ہے۔ کہ اللہ ایسا اول ہے کہ اس سے پہلے کوئی نہیں اور ایسا آخر ہے کہ اس کے بعد بھی کوئی نہیں۔

[17:11]اس کی شان و عظمت ابتداء اور انتہا دونوں پر غالب ہے۔ یہاں شاعر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان کے لیے وقت کا تصور محدود ہے۔

[17:23]مگر اللہ کی ذات ہر طرح کے زمانی حدود سے بالاتر ہے۔ کائنات میں کوئی مقام یا وقت ایسا نہیں جہاں اللہ کی قدرت اور ملکیت نہ ہو۔

[17:37]نیکسٹ ہے مسلم ہے تجھ کو حکمرانی کہ تیری سلطنت ہے جاودانی۔

[17:41]آخری شعر میں شاعر اعلان کرتا ہے کہ اصل بادشاہی اور اختیار صرف اللہ کی ذات کے لیے ہے۔ دنیا کی ہر حکومت عارضی ہے مگر اللہ کی سلطنت ہمیشہ رہنے والی ہے۔

[17:56]وہی سب کا مالک، حاکم اور چلانے والا ہے۔ اس کے فیصلے اٹل اور اس کی قدرت دائمی ہے۔ شاعر اللہ کی بادشاہت کی ہمیشگی اور بے مثالی کا جو ہے وہ اعتراف کرتا ہے۔

[18:10]ٹھیک ہے۔ یہ تھا آج کا لیسن امید ہے کہ آپ لوگوں کو پسند آیا ہوگا۔ دعاؤں میں یاد رکھیے گا اللہ حافظ۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript