Thumbnail for French Revolution # 05 | A Failed Revolution | Usama Ghazi by Dekho Suno Jano

French Revolution # 05 | A Failed Revolution | Usama Ghazi

Dekho Suno Jano

24m 1s4,291 words~22 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Use this transcript
Related transcript hubs

[0:07]17 جولائی 1789 کا دن پیرس میں بستییل کے قلعے پر عوام کے قبضے کو یہ تیسرا دن ہے۔ اور شہر کی سڑکوں پر ایک عجیب منظر ہے وہ بادشاہ جو پہرے داروں اور ملازموں کے بغیر محل سے باہر نہیں نکلتا تھا اج سر جھکائے شہر میں اس طرح داخل ہو رہا ہے کہ اس کی بگی کو قومی اسمبلی کے اراکین نے گھیر رکھا ہے۔ راستے کے دونوں طرف دو لاکھ مرد اور عورتیں ہاتھوں میں ہتھیار اٹھائے کھڑے ہیں۔ لیکن وہ بادشاہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے کیونکہ اس کی بگی کے اگے گھوڑے پر قوم کا ہیرو بیٹھا ہے جس کے ہاتھ میں چمکتی ہوئی تلوار ہے۔ جو دیکھنے والوں کو چیلنج کر رہی ہے کہ ہمت ہے تو بادشاہ کو ہاتھ لگا کر دکھاؤ۔ یہ قوم کا ہیرو کون ہے اور عوام اسے اتنی عزت کیوں دے رہے تھے؟ میں ہوں محمد اسامہ غازی اور دیکھو سنو جانو کی سیریز انقلاب فرانس کی اج اخری قسط میں ہم اپ کو یہ دکھائیں گے کہ فرانسیسی تاریخ کے پہلے انقلاب کا انجام کیا ہوا؟ سزائے موت کی مخالفت کرنے والے قاتل کیسے بنے اور یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ انقلاب اپنے ہی بچے کھا جاتا ہے۔

[1:24]بادشاہ کی بگی کے اگے چلنے والا ہیرو اصل میں فرانسیسی جنرل مارکس ڈی لافیٹ ہے۔ انقلاب فرانس سے اٹھ سال پہلے جب فرانس نے امریکہ کی جنگ ازادی میں مداخلت کی تو لافیٹ نے انگریزوں کو شکست دی تھی اس لیے وہ قوم کا ہیرو تھا۔ پھر جب انقلاب ایا تو لافیٹ نے انقلابیوں کا ساتھ دیا۔ پیرس کی انقلابی فوج بھی اسی نے بنائی تھی اور اسے نیلے سفید اور سرخ رنگ والا نشان دیا تھا جو پھر انقلاب کی پہچان بنا۔ اور اج فرانس کا پرچم بھی انہی رنگوں پر مشتمل ہے۔ تو یہ لافیٹ ہی تھا جس نے بادشاہ کو اس کی زندگی کی ضمانت دی تھی اس لیے بادشاہ پیرس اگیا تاکہ عوام کو یقین دلا سکے کہ وہ انقلابیوں کا دشمن نہیں ہے۔ البتہ حفاظت کی ضمانت ملنے پر بھی بادشاہ ڈر رہا تھا کہ عوام اسے مار ڈالیں گے اس لیے وہ پیرس انے سے پہلے اپنی وصیت تک لکھوا ایا تھا اور چرچ میں بھی اخری بار حاضری دے ایا تھا کہ شاید اب اسے واپسی نصیب نہ ہو۔ لیکن لافیٹ کی وجہ سے بادشاہ کی جان بچ گئی۔ پیرس پہنچ کر بادشاہ نے عوام کے جم غفیر کے سامنے وعدہ کیا کہ وہ قومی اسمبلی کا ہر فیصلہ مانے گا لیکن ہم دکھا چکے ہیں کہ بادشاہ اپنے فیصلوں پر قائم رہنے والا انسان نہیں تھا۔ چنانچہ جب اگلے ماہ اگست میں فرانس کی قومی اسمبلی نے انسانی حقوق کا چارٹر منظور کیا تو بادشاہ نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ اس چارٹر میں تمام شہریوں کو برابری کے حقوق اظہار رائے اور مذہب کی ازادی دی گئی تھی لیکن جب بادشاہ نے اس چارٹر کو نہیں مانا تو عوام نے یہی سمجھا کہ بادشاہ نے اپنا وعدہ توڑ کر قوم کو دھوکہ دیا ہے۔ چنانچہ پانچ اکتوبر کو عوام نے وارسائی کے محل کے سامنے دھرنا دے دیا۔ اس احتجاج میں کوئی 30 ہزار کے قریب خواتین بھی شامل تھیں بلکہ یہ خواتین ہی تھیں جو پہلے احتجاج کرتے ہوئے وارسائی محل تک ائی تھیں۔ پھر سارے پیرس سے لوگ وارسائی پہنچنے لگے۔ عوام کا دھرنا ساری رات جاری رہا لافیٹ کی قیادت میں انقلابی فوج کے دستے بھی محل میں پہنچ گئے۔ حالت یہ تھی کہ بادشاہ اور ملکہ محل کی بالکونی میں کھڑے عوام کا جم غفیر دیکھ رہے تھے اور خوفزدہ تھے کہ انہیں قتل کر دیا جائے گا۔ لیکن اس موقع پر لافیٹ نے اگے بڑھ کر ملکہ کا ہاتھ چوم لیا۔ یورپ میں خواتین کو عزت دینے کے لیے ان کا ہاتھ چوما جاتا ہے چنانچہ جب لافیٹ نے ملکہ کی عزت افزائی کی تو عوام کا جوش بھی ٹھنڈا ہو گیا۔ شاہی خاندان کی جان تو بچ گئی لیکن عوام نے شاہی خاندان کو گرفتار کر لیا اور انہیں وارسائی کے محل سے پیرس لے ائے جہاں انہیں ٹیولری پیلس میں ٹھہرا دیا گیا۔ بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ فرانس میں حالات کنٹرول میں ا چکے ہیں لیکن دنیا میں ہر انقلاب کے ساتھ یہ مسئلہ رہا ہے کہ وہ پرامن نہیں رہ سکتا کیونکہ پرانے نظام کے حامی نئے نظام کو دل سے قبول نہیں کر پاتے اور انقلابیوں میں یہ حوصلہ نہیں ہوتا کہ وہ پرانے نظام کے لوگوں کو برداشت کر سکیں۔ فرانس میں بھی یہی ہوا۔ ایک طرف تو بادشاہت کے حامیوں نے سارے ملک میں ہنگامے شروع کر دیے تو دوسری طرف انقلابیوں نے بھی اپنے سیاسی مخالفین اور پادریوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ ان ہنگاموں نے قومی اسمبلی میں ایک نئے گروپ کو سر اٹھانے کا موقع دیا جس کا نام تھا جیکوبین کلب۔ اس کلب کے لوگ انقلاب کے کٹر حمایتی تھے اور انقلاب کے خلاف بولنے والے ہر شخص کو سزائے موت سے کم کسی سزا پر راضی نہیں ہوتے تھے۔ اور اس گروپ کا سربراہ تھا میکسملین روبسپیر۔ جی ہاں وہی روبسپیر جس نے کبھی بادشاہ کی شان میں قصیدہ پڑھا تھا اج وہ بادشاہت کا سب سے بڑا مخالف تھا۔ روبسپیر کے متعلق مشہور تھا کہ وہ کرپٹ ہے نہ ہی کوئی اسے کرپٹ بنا سکتا ہے۔ یعنی وہ کرپشن سے بالکل پاک ہے۔ روبسپیر ابتدا میں لوگوں کو برابری کے حقوق دینے کا زبردست حامی اور سزائے موت کا سب سے بڑا مخالف تھا۔ روبسپیر کو ایک بار جج بھی بنایا گیا تھا لیکن اس نے صرف اس لیے استعفی دے دیا تھا کیونکہ وہ لوگوں کو سزائے موت نہیں دے سکتا تھا۔ اب یہی روبسپیر جیکوبین کلب کو لیڈ کر رہا تھا۔ لیکن اس کے خیالات بدل چکے تھے اور انہی بدلے ہوئے خیالات نے سارے فرانس کو ایک خونی دور میں دھکیل دیا جسے رین اف ٹیرر یا دہشت کا دور کہتے ہیں۔ اور اس دور میں ایک ایسا اعلی بھی سامنے ایا جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اج بھی اس الے کا نام دنیا بھر میں دہشت کی علامت ہے۔ یہ اعلی تھا گلون۔ یہ اعلی ایک فرانسیسی سیاستدان اور ڈاکٹر جوزف اگنس گلون نے ایک جرمن انجینئر ٹوبیٹ شمٹ کے ساتھ مل کر تیار کیا تھا۔ اور اپنے نام پر اس کا نام گلون رکھا تھا۔ یہ لوگوں کو سزائے موت دینے کا اعلی تھا جس میں قیدی کو لکڑی کے شکنجے میں کس کر اس پر ایک بلیڈ گرایا جاتا تھا اور سر کٹ کر سامنے موجود ٹوکری میں گر جاتا تھا۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ گلون جس کا خیال کر کے اج بھی لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں اسے اس لیے بنایا گیا تھا تاکہ لوگوں کو تکلیف دے موت نہ دینی پڑے۔ کیونکہ جس دور میں یہ اعلی بنا تھا اس دور میں سارے یورپ میں لوگوں کو بڑے ظالمانہ طریقوں سے سزائے موت دی جاتی تھی۔ جس میں زندہ جلانے سے لے کر گھوڑوں سے باندھ کر بازو اور ٹانگیں اکھاڑ لینے سمیت کئی غیر انسانی اور خطرناک سزائیں شامل تھیں۔ ایسے میں گلون کو لگا کہ اس نے سزائے موت کا ایسا طریقہ ایجاد کر لیا ہے جس سے کسی کو بھی بہت اسانی سے بغیر تکلیف کے مارا جا سکتا ہے۔ 10 اکتوبر 1789 کو گلون نے اپنے اس الے کے متعلق قومی اسمبلی کو بتایا اور کہا یہ لوگوں کو سزائے موت دینے کا سادہ ترین طریقہ ہے۔ اور پھر فرانس میں ہر مجرم کی گردن گلون سے کٹنے لگی۔ دہشت کے دور میں تو یہ اعلی اتنا زیادہ استعمال ہوا کہ اسے نیشنل ریزر یا قومی اس طرح کا لقب دے دیا گیا۔ اب گلون اپنے شکاروں پر گرنے کے لیے تیار تھا۔ ادھر فرانس کے حالات تیزی سے خراب ہو رہے تھے اور پھر بادشاہ کی ایک غلطی نے جلتی پر تیل کا کام کر دیا۔ ہوا یوں کہ 21 جون 1791 کو بادشاہ لوس دا 16th اپنے محل کے گارڈز کو رشوت دے کر خاندان سمیت فرار ہو گیا۔ اپنے بستر پر اس نے ایک خط چھوڑ دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس کی جان کو خطرہ ہے اور حالات ٹھیک ہونے تک وہ پیرس واپس نہیں ائے گا۔ بادشاہ کے فرار پر عوام بہت زیادہ مشتعل ہو گئے اور یہ افواہیں پھیل گئیں کہ بادشاہ اصل میں غیر ملکی طاقتوں سے مل کر فرانس کی انقلابی حکومت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ ان افواہوں میں کچھ سچائی بھی تھی کیونکہ فرار کے بعد بادشاہ کی منزل سرحدی قلعہ مونٹ میڈی تھا۔ اس زمانے میں اسٹرین ایمپائر کی حدود فرانس سے ملتی تھی اور اسٹریا پر ملکہ میری اینٹونیٹ کے بھائی لیپول دویم کی حکومت تھی۔ ایسی خبریں تھیں کہ مونٹ میڈی کے قلعے میں بادشاہ کے حمایتی جمع ہو رہے ہیں اور اسٹریا کی مدد سے فرانس کے خلاف جنگ شروع کر دیں گے۔ معاملہ جو بھی تھا بادشاہ اپنی منزل تک نہیں پہنچ پایا۔ پیرس سے 180 میل دور ورنیس میں ایک پوسٹ ماسٹر نے اسے پہچان لیا۔ انقلابی فوج نے شاہی خاندان کو گرفتار کر کے واپس پیرس بھیج دیا لیکن اب بادشاہ کی عزت ختم ہو چکی تھی اور لوگ اسے کھلے عام غدار کہہ رہے تھے۔ یہی نہیں فرانس کی انقلابی حکومت نے اسٹریا پر بادشاہ کی مدد کا الزام لگا کر اپریل 1792 میں اسٹریا کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ یوں فرانس ایک ایسے راستے پر چل پڑا جس کا انجام تباہی اور بربادی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ یہ جنگ شروع سے ہی فرانس کو مہنگی پڑی۔ ہم فرینچ ریولوشن کی تیسری اور چوتھی قسط میں اپ کو دکھا چکے ہیں کہ فرانسیسی فوج انقلاب کی وجہ سے بہت کمزور ہو چکی تھی۔ چنانچہ جب اس فوج کا مقابلہ اسٹریا کی ویل ارگنائزڈ فوج سے ہوا تو کئی جگہوں پر فرانسیسی سپاہی لڑائی سے پہلے ہی میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اس دوران جرمن ریاست پرشیا کی فوج بھی فرانس میں داخل ہو گئی۔ فرانس کے علاقوں لانگ وے اور وردون سمیت کئی اہم علاقوں پر اتحادی فوج کا قبضہ ہو گیا۔ پرشیا کے جنرل ڈیوک اف برونزک نے تو یہ اعلان بھی کر دیا کہ اتحادی فوج فرانس کے بادشاہ لوس یا لوئی دا 16th کو عوام کی قید سے رہائی دلا کر اس کی حکومت بحال کرنا چاہتی ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ائندہ جو بادشاہ کا حکم نہیں مانے گا اسے سزا ملے گی۔ جب فرانسیسی عوام کو اس اعلان کا پتہ چلا تو انہوں نے ٹیولری پیلس پر حملہ کر کے بادشاہ کو جان سے مارنے کی کوشش کی لیکن 13 اگست کو قومی اسمبلی کے حکم پر بادشاہ اور ملکہ کو باقاعدہ گرفتار کر کے پیرس کے ایک قید خانے جسے ٹیمپل کہا جاتا تھا وہاں منتقل کر دیا گیا۔ یہی نہیں بادشاہ سے ہمدردی دکھانے پر جنرل لافیٹ کو بھی جو کہ قوم کا ہیرو تھا بے عزت کر کے استعفی دینے پر مجبور کیا گیا اور اخر لافیٹ کو جلا وطن ہونا پڑا۔ 21 ستمبر کو اسمبلی نے بادشاہت ختم کر دی۔ یہ فیصلہ تو درست تھا لیکن وقت کے ساتھ فرانس کے خراب حالات کے پیش نظر انقلابی حکومت سے کچھ ایسے سخت فیصلے بھی ہو گئے جو انقلاب کی روح کے خلاف تھے۔ حکومت نے ملک کا نیا ائین جو کہ 1791 میں بنایا گیا تھا اور جس میں تمام شہریوں کے حقوق کی ضمانت دی گئی تھی اسے معطل کر کے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی ایک کمیٹی بنائی گئی جسے کمیٹی اف پبلک سیفٹی کا نام دیا گیا تھا۔ اس کمیٹی میں پہلے اٹھ اراکین تھے بعد میں ان کی تعداد 12 کر دی گئی۔ اس کمیٹی کو مارشل لاء کے تحت جنگ شروع کرنے اور مخالفین کو سزائیں دینے سمیت ایسے تمام اختیارات دیے گئے جو عام طور پر ڈکٹیٹروں کو ہی حاصل ہوتے ہیں۔ یعنی اب صرف 12 ادمی سارے فرانس پر حکومت کر رہے تھے اور ان کے پاس ایسے اختیارات تھے کہ وہ کسی کی بھی جان تک لے سکتے تھے۔ اور انہوں نے ان اختیارات کا دل کھول کر استعمال بھی کیا۔ روبسپیر اس کمیٹی کا سب سے طاقتور رکن تھا۔ وہ لوگوں کو قائل کرنے اور اپنے ساتھ ملانے کی زبردست صلاحیت رکھتا تھا اور کمیٹی کے زیادہ تر اراکین اس کے ساتھ تھے۔ چنانچہ وہ ایک طرح سے کمیٹی کا ڈیفیکٹو سربراہ بن گیا تھا اور ملک میں من مانے فیصلے نافذ کر رہا تھا۔ روبسپیر سمجھتا تھا کہ انقلاب کو بچانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ معزول بادشاہ کو قتل کر دیا جائے۔ روبسپیر کی اس سوچ کی وجہ یہ تھی کہ فرانس کے حالات انقلابی حکومت کے قابو سے باہر ہو چکے تھے۔ پہلے تو عوام بادشاہ اور اس کے حامیوں پر الزام لگاتے تھے کہ ان کی لوٹ مار کی وجہ سے غریبوں کو روٹی نہیں ملتی لیکن اب وہ نئی حکومت سے پوچھتے تھے کہ اب تو اختیار تمہارے ہاتھ میں ہے تو پھر بھی روٹی سستی نہیں ہو رہی غریب بھوکے مر رہے ہیں اور سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ انقلابی حکومت نے قرضوں میں ڈوبے ہوئے ملک کو اسٹریا اور پروشیا کے خلاف نئی جنگ میں دھکیل دیا تھا۔ بلکہ برطانیہ نے بھی فرانس پر چڑھائی کر دی تھی۔ یعنی حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے تھے تو ان حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے انقلابیوں نے ایک نیا طریقہ اپنایا۔ سارے فرانس میں یہ مشہور کیا جانے لگا کہ معزول بادشاہ جیل میں بیٹھ کر بھی ملک کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔ ملک کے خراب حالات کے ذمہ دار معزول بادشاہ کے حمایتی ہیں جو بادشاہ کو واپس لانے کے لیے غیر ملکی طاقتوں سے مل کر ملک میں روٹی سمیت دوسرے بحران پیدا کر رہے ہیں۔ اس لیے معزول بادشاہ پر غداری کا مقدمہ چلا کر اسے سزائے موت دینی چاہیے۔ یہ حربہ کام کر گیا۔ لوگ ایک بار پھر معزول بادشاہ کو ہی اپنے مسائل کا ذمہ دار قرار دینے لگے اور ہر طرف بادشاہ کو مار ڈالو کی سدائیں بلند ہونے لگیں۔ معزول بادشاہ کے خلاف پورا گراؤنڈ بنانے کے بعد دسمبر 1792 میں لوئی دا 16th کا ٹرائل شروع کر دیا گیا۔ لوئی نے فرار کی جو کوشش کی تھی اسے بھی غداری کے مقدمے میں شامل کر لیا گیا۔ کہتے ہیں لوئی دا 16th کو معلوم تھا کہ اسے ہر صورت میں سزائے موت ہی دی جائے گی پھر بھی اس نے اپنے وکیلوں سے کہا کہ وہ اس کا دفاع کریں اور ہر الزام کا جواب دیا جائے تاکہ فرانس کے لوگ یاد رکھیں کہ ان کا بادشاہ اچھا تھا۔ معزول بادشاہ کو غیر ملکی فوج سے اب مدد کی زیادہ امید نہیں رہی تھی کیونکہ فرانسیسی فوج نے کئی شکستیں کھانے کے بعد بالاخر 20 ستمبر 1792 کو فرانس کے شمال مشرقی علاقے والمی میں پروشین فوج کو شکست دے کر اتحادیوں کو وقتی طور پر فرانس سے نکال باہر کیا تھا۔ چنانچہ انقلابی حکومت نے بے فکر ہو کر معزول بادشاہ کا ٹرائل شروع کیا لیکن لوئے کو کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا بلکہ قومی اسمبلی جو اب نیشنل کنونشن کہلاتی تھی نے ہی اس کا ٹرائل شروع کیا۔ اس وقت معزول بادشاہ کا بدترین دشمن روبسپیر نیشنل کنونشن کا نائب صدر تھا یعنی لوئی کے بچ نکلنے کی کوئی بھی امید نہیں تھی۔ دسمبر 1792 میں ٹرائل شروع ہوا تھا۔ اگلے ماہ یعنی 15 جنوری 1793 سے نیشنل کنونشن میں ووٹنگ شروع ہو گئی کہ معزول بادشاہ کو سزائے موت دی جائے یا نہیں۔ یہ ووٹنگ کئی روز چلی نیشنل کنونشن کے 721 اراکین نے معزول بادشاہ کی زندگی کا فیصلہ کرنا تھا۔ اخری دن ہونے والی ووٹنگ میں نیشنل کنونشن کے 380 اراکین نے سزائے موت کے حق میں اور 310 نے رحم کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 31 اراکین نے ووٹ نہیں ڈالا۔

[14:41]21 جنوری کو بادشاہ کو گلون کی طرف لے جایا گیا لوئی دا 16th کو سزائے موت دی جانے والی تھی لیکن وہ خوفزدہ نہیں تھا۔ وہ ایک بادشاہ کی طرح پورے وقار سے ہزاروں لوگوں کے سامنے سے ہوتا ہوا گلون تک پہنچا۔ اس نے وہاں کھڑے ہو کر کہا کہ وہ اپنے قاتلوں کو معاف کرتا ہے اور اگر اس کا خون بہنے سے لوگوں کو خوشی ملتی ہے تو وہ اس کے لیے بھی تیار ہے۔ اور اسے امید ہے کہ اس کا خون کرنے پر فرانس کے لوگوں پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوگا۔ وہ مزید کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن نیشنل گارڈز نے جان بوجھ کر فوجی میوزک بجانا شروع کر دیا اور بادشاہ کی اواز شور میں دب گئی۔ پھر گلون کے ایک ہی بار نے بادشاہ کا سر تن سے جدا کر دیا۔ معزول بادشاہ کے بعد انقلابیوں نے ملکہ کو بھی معاف نہیں کیا۔ لوئی دا 16th کی موت کے نو ماہ بعد ایک انقلابی ٹربنل میں ملکہ کا بھی ٹرائل ہوا۔ ملکہ کو بھی اپنا انجام معلوم تھا لیکن اس نے اپنا دفاع نہیں کیا اور اپنے ٹرائل کے دوران زیادہ تر خاموش رہی۔ کہا جاتا ہے کہ ملکہ پر قومی خزانہ تباہ کرنے انقلابی حکومت کے خلاف سازشوں اور سکینڈلز کے جتنے بھی الزامات تھے ان میں سے ایک کا بھی ثبوت موجود نہیں تھا۔ انقلابی ملکہ کو انجام تک پہنچانے کے لیے کچھ اخلاقی حدود بھی پار کر گئے۔ انہوں نے ملکہ کے اٹھ سالہ بیٹے لوئی چارلس سے زبردستی عدالت میں بیان دلوایا کہ ملکہ نے اس سے بھی ناجائز تعلقات قائم کیے تھے۔ اس گھناونے الزام پر ملکہ خاموش نہیں رہ سکی اور اس نے الزام کو صرف اپنی ہی نہیں بلکہ عدالت میں موجود تمام ماؤں کی توہین قرار دیا۔ بہرحال فیصلہ طے شدہ تھا ٹرائبل نے کہا کہ ملکہ پر جتنے بھی الزام لگائے گئے ہیں ان میں وہ مجرم ثابت ہوتی ہے چنانچہ اسے سزائے موت سنا دی گئی۔ انقلابیوں کو ملکہ کو مارنے کی اتنی جلدی تھی کہ ملکہ کا ٹرائل صرف دو روز جاری رہا۔ یعنی 14 اور 15 اکتوبر کو 16 اکتوبر کو سزائے موت دے بھی دی گئی۔ وہ ملکہ جو ہمیشہ ارام دہ بگیوں میں سفر کرنے کی عادی تھی اسے لکڑی کے ایک چھکڑے میں بٹھا کر گلون تک لے جایا گیا۔ اس کے بال بھی کاٹ دیے گئے تھے اور اسے مجرموں جیسا لباس پہنایا گیا تھا لیکن وہ بے خوف تھی۔ پورے اعتماد کے ساتھ گلون تک پہنچی اور اپنی جان دے دی۔ اج تک فرانسیسی بادشاہ اور ملکہ کے ٹرائل پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں اور بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔ بہرحال معزول بادشاہ کی موت کے کچھ ہی عرصے بعد فرانس میں دہشت کا دور شروع ہو گیا تھا۔ ویسے تو اس دور میں فرانس میں پہلے سے ہی مسلسل خانہ جنگی اور دہشت کی کیفیت تھی لیکن دہشت کا جو دور روبسپیر نے شروع کیا تھا اس میں سب سے زیادہ قتل عام ہوا۔ یہ دور جولائی 1794 تک جاری رہا اس دور میں فرانس بھر میں بادشاہت کے حامیوں یا حکومت کے مخالفین کو چھکڑوں میں بھر بھر کر گلون تک لے جایا گیا جہاں انہیں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ حد تو یہ تھی کہ اگر کوئی یہ کہہ دیتا کہ اج کا دن بہت خراب گزرا ہے تو یہی سمجھا جاتا کہ وہ حکومت پر تنقید کر رہا ہے اور اس معمولی سی بات کی سزا بھی موت تھی۔ انقلاب کے بعد یہ حکم دیا گیا تھا کہ فرانس میں شہریوں کو روایتی طریقے پر مونسور یا مادام نہیں بلکہ صرف شہری کہا جائے اور جو ایسا نہیں کرتا اسے بھی گلون ہی دیکھنا پڑتا تھا۔ دہشت کے اس دور میں اتنے زیادہ بے گناہ مارے گئے کہ لوگوں کو انقلاب کے نام سے ہی نفرت ہونے لگی۔ روبسپیر اپنے ہوش کھو بیٹھا تھا یہاں تک کہا جاتا ہے کہ وہ سمجھنے لگا تھا کہ اگر اچھے لوگوں پر مشتمل ایک شاندار معاشرہ قائم کرنا ہے تو پہلے پرانے خیالات والے ہر شخص کو قتل کرنا ہوگا۔ اس سوچ نے اسے اس حد تک ضدی بنا دیا تھا کہ جب اس کی اپنی ہی پارٹی کے ایک سینیئر لیڈر نے جو کہ روبسپیر کا قریبی ساتھی رہا تھا روبسپیر کو قتل عام سے روکنے کی کوشش کی تو روبسپیر نے اسے بھی غدار قرار دے کر گلون تک پہنچا دیا۔ اس لیڈر کا نام جارج ڈینٹن تھا۔ جب اسے گلون پر لے جایا گیا تو اس نے عوام کے سامنے کھڑے ہو کر کہا مجھے بس اتنا افسوس ہے کہ میں روبسپیر سے پہلے مر رہا ہوں۔ روبسپیر کو معلوم تھا کہ وہ اپنے ساتھیوں کو مار کر غلط کر رہا ہے۔ اور جارج ڈینٹن کی موت کا منظر دیکھنے بھی نہیں ایا۔ یہ وہ دور تھا جب قتل عام عروج پر تھا اور اب دہشت کے اس دور کو بڑی دہشت کا دور یا گریٹ رین اف ٹیرر کہا جانے لگا تھا۔ ڈینٹن کی موت کے بعد بھی گلون سے قتل عام کا سلسلہ بند نہیں ہوا۔ گلون مسلسل کام کرتا رہا اور انسانوں کی گردنیں کٹتی رہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دہشت کے دور میں کوئی تین لاکھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 17 ہزار کو گلون سے قتل کیا گیا۔ جبکہ اس سے زیادہ لوگ جیلوں میں ہی مار دیے گئے۔ فرانس بھر میں جو قتل عام ہوا وہ اس کے علاوہ تھا۔ پھر روبسپیر سے ایک ایسی غلطی سرزد ہوئی جو اس کے زوال کا بھی سبب بن گئی۔ جولائی 1794 میں ایک روز وہ کنونشن کے سامنے ایا اور اس نے اعلان کیا کہ اس کے پاس غداروں کی ایک نئی لسٹ ہے اور اس لسٹ میں شامل لوگوں کو قتل کر دیا جائے گا۔ لیکن اس نے غلطی یہ کی کہ اس نے کنونشن کے لوگوں کو ان غداروں کے نام نہیں بتائے۔ روبسپیر جس طرح سے لوگوں کو قتل کروا رہا تھا اس نے کنونشن کے لوگوں کو بھی خوفزدہ کر دیا تھا اور اب جب روبسپیر نے غداروں کی فہرست کی بات کی تو ہر کوئی ڈر گیا کہ کہیں لسٹ میں اس کا نام بھی شامل نہ ہو۔ چنانچہ جب اگلے روز روبسپیر کنونشن کے اجلاس میں ایا تو کنونشن کے اراکین نے اسے بولنے کا موقع نہیں دیا۔ انہوں نے فوری طور پر روبسپیر کی کنونشن کی رکنیت بھی ختم کر دی اور اسے غدار قرار دے کر سپاہیوں کو حکم دیا کہ اسے گرفتار کر لیں۔ سپاہیوں نے روبسپیر اور اس کے کئی ساتھیوں کو شہر کے سٹی ہال میں قید کر دیا۔ اب وہی روبسپیر جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ کرپٹ نہیں ہے اور جس نے معاشرے کا گند صاف کرنے کے نام پر بے شمار لوگوں کو قتل کیا تھا وہ خود غداری کے مقدمے میں گرفتار تھا۔ رات بھر روبسپیر اور اس کا گروپ سٹی ہال میں قید رہا صبح سپاہیوں نے ہال کے اندر فائرنگ کی اواز سنی اور دوڑ کر وہاں پہنچے۔ روبسپیر کے ایک ساتھی نے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی تھی۔ ایک شخص کھڑکی سے نیچے کود گیا تھا جبکہ ایک میز پر روبسپیر زخمی حالت میں پڑا تھا۔ اس نے چہرے پر گولی مار کر خودکشی کی کوشش کی تھی وہ زندہ تو تھا لیکن گولی لگنے سے اس کا جبڑا ٹوٹ گیا تھا۔ اسے میز پر اسی حالت میں چھوڑ دیا گیا۔ کنونشن کے اراکین اسے دیکھنے ائے اور اس کے پاس کھڑے ہو کر اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اسے ستم ظریفی کہیں یا قدرت کا انتقام کہ روبسپیر کو زخمی حالت میں اٹھا کر اسی جیل میں لے جایا گیا جہاں ملکہ کو سزائے موت سے پہلے رکھا گیا تھا۔ اس جگہ کو کنسیگری کہتے ہیں اور اج اس عمارت میں عدالتیں قائم ہیں۔ یہاں اس کے بال کاٹ دیے گئے اور پھر گلون پر اسی طرح لے جایا گیا جیسے اس کے حکم پر ہزاروں لوگوں کو لے جایا گیا تھا۔ 28 جولائی کو نیشنل ریزر تیزی سے نیچے ایا روبسپیر کے حلق سے ایک خوفناک چیخ نکلی اور اس کی گردن اڑ گئی۔ اس کی موت پر عوام 15 منٹ تک تالیاں بجاتے رہے۔ اس دن فرانس میں دہشت کا دور ختم ہو گیا قتل عام رک گیا لیکن فرانس میں انقلاب عملی طور پر ناکام ہو چکا تھا۔ انقلابی حکومت اگلے پانچ سال بھی عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں ناکام رہی۔ ان حالات سے نکلنے کے لیے عوام کو ایک مسیحہ کی ضرورت تھی اور خوش قسمتی سے یہ مسیحہ انہیں جلد ہی مل گیا۔ یہ فرانسیسی جزیرے کورسیکا کا رہنے والا ایک جنرل تھا۔ جس نے 1793 میں ساحلی شہر تولون کی لڑائی میں برطانیہ کو شکست دی تھی اور 1798 میں عثمانی ترکوں کو شکست دے کر مصر چھینا تھا۔ برطانیہ سے ہندوستان تک اس کے نام کے چرچے تھے۔ 1799 میں وہ پیرس پہنچا اور نو نومبر 1799 کو اس نے انقلابی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ فرانسیسی عوام کا یہ مسیحہ نپولین بوناپارٹ تھا۔ پانچ سال بعد 1804 میں نپولین بوناپارٹ شہنشاہ بن گیا۔ نپولین کی حکومت اتے ہی انقلاب کا خونی دور اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔ بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ فرینچ ریولوشن ایک ناکام انقلاب تھا اور اس میں بڑے پیمانے پر بے گناہ انسانوں کا خون بہایا گیا۔ حتی کہ انقلاب لانے میں جو لوگ شریک تھے وہ بھی بڑی تعداد میں مارے گئے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ انقلاب اپنے ہی بچے کھا جاتا ہے۔ لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ اس انقلاب نے فرانس اور سارے یورپ کو جمہوریت اور انسانی حقوق کا جو ماڈل دیا اج فرانس سمیت یورپ کے زیادہ تر ممالک اسی پر قائم ہیں۔ اس انقلاب سے ہی متاثر ہو کر کارل مارکس نے کمیونزم کے لیے خونی انقلاب کا تصور بھی پیش کیا تھا۔ فرینچ ریولوشن کی سیریز بھی اج مکمل ہو گئی۔ یہ ہسٹری اف چائنہ کے بعد ہماری دوسری مکمل سیریز ہے۔ اس کے علاوہ اگر اپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ احمد شاہ ابدالی کو سکھوں کے مقابلے میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو یہاں کلک کریں۔ اور اگر اپ کائنات کے چھپے راز جاننے میں دلچسپی ہے تو اس پلے لسٹ کو ٹچ کیجئے اور اگر اپ عثمانی ترکوں کی داستان جاننا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript