Thumbnail for طلبِ علم میں رکاوٹیں | علمی مہارت کا حصول | شیخ سیف اللہ ثناءاللہ by Tilmeaz Institute

طلبِ علم میں رکاوٹیں | علمی مہارت کا حصول | شیخ سیف اللہ ثناءاللہ

Tilmeaz Institute

19m 11s2,559 words~13 min read
Auto-Generated

[0:08]الحمد لله رب العالمين والصلاه والسلام على النبي الامين اما بعد ہم بات کر رہے تھے ان رکاوٹوں کے بارے میں جو طالب علم جس سے ہمکنار ہوتا ہے۔ تو آج ہم جس معوقات اور رکاوٹوں کا ذکر کرنے جا رہے ہیں، ان میں سے جو سب سے پہلی چیز اور سب سے بڑی اور سب سے خطرناک رکاوٹ ایک طالب علم کے لیے وہ ہے سیادت، ریاست، ریلیجس اسٹیٹس کو۔ سیادت اور طاقت اور کرسی کی طلب انسان کو مجبور کر دیتی ہے کہ وہ علم کے بجائے سیاست، سیادت، ریاست کے پیچھے بھاگے، جیسے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، تفقهوا قبل ان تسودوا فقاہت حاصل کرو سیادت کے حصول سے پہلے۔ یعنی سیادت سے مراد کہ انسان ایک سید بن جائے، ایک سردار بن جائے، ایک حاکم بن جائے یا ایک صاحب کرسی بن جائے۔ اور لوگ مختلف ہیں اس میں۔ سیادت میں مختلف چیزیں آ جاتی ہیں۔ مثلاً شادی، والد، شوہر، گھر کا بڑا، مدرسے کا بڑا، اسکول کا بڑا، پرنسپل یا کوئی آفیسر۔ تو فسیادت حجاب عن الاستمرار فی طلب العلم۔ سیادت طلب علم کے راستے میں ایک حجاب اور رکاوٹ کی طرح ہے۔ اسی لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ مثال کے طور پر جب وہ چھوٹے تھے وہ صحابہ سے پوچھا کرتے تھے، صحابہ سے علم حاصل کیا کرتے تھے۔ تو ان کے ایک ساتھی ہوا کرتے تھے وہ کرتے تھے وہ کہتے تھے، اتظن یا عبد اللہ ان الناس یحتاجون الیک۔ اے عبد اللہ تم یہ سمجھتے ہو کہ لوگ لوگوں کو تمہاری ضرورت پڑے گی حالانکہ صحابہ موجود ہیں تم صحابہ سے پوچھ رہے ہو اور یعنی علم کے حصول میں یعنی کوشاں ہو تو کیا آپ کو یہ لگتا ہے کہ لوگ آپ کے محتاج ہوں گے؟ اور یہی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ علم کے سفر میں جاری و ساری رہے۔ یہاں تک کہ وہ ولایات اور علمی مقام میں بہت بلند مرتبے پر فائز ہوئے۔ اور ان کو کوفہ کا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے والی بنایا پھر مکے کا والی۔ لیکن جو علم کا سفر ہے وہ جاری و ساری رہا یہاں تک کہ اس بندے نے جب ابن حضرت کو دیکھا تو کہا یہ وہ بندہ ہے جس کے ساتھ میں ہوا کرتا تھا۔ اس نے علم حاصل کیا میں رک گیا۔ اسی طرح تیسری رکاوٹ جو ہمارے ہاں بڑی یعنی معروف ہے وہ ہے کہ العلم یصرف عن الدعوه و الناس الیوم یحتاجون الدعوه و اما العلم ف لا یحتاجون الی تیسرا جو قول شیخ نے ذکر کیا ہے کہ کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ علم کا حصول دعوت سے مجھے ہٹا رہا ہے اور لوگ آج کل دعوت کے زیادہ محتاج ہیں علم کے اس نے زیادہ محتاج نہیں ہیں۔ تو شیخ فرماتے ہیں و هذا مقدر و حجاب کبیر۔ یہ ایک بڑا حجاب ہے جو ایک غلط فہمی کی بنیاد پر مبنی ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ علم متجزئ پارٹس میں بٹ سکتے ہیں۔ بٹ سکتے ہیں۔ اسی طرح دعوت بھی۔ فالعلم لا یاتی جمیعاً والدعوۃ ایضاً لا تاتی جمیعاً علم بھی یک مشت نہیں آتی اور دعوت بھی یک مشت نہیں آتی۔ طالب العلم اذا علم علم جب طالب علم کو علم کا پتہ چل جاتا ہے تو وہ آگے پڑھاتا ہے۔ اور اللہ کی طرف بلاتا ہے حسب الاستطاعت۔ یہاں تک کہ وہ اپنا میدان جو ہے میدان علم بناتا ہے اور حسب الاستطاعت دعوت و تبلیغ میں لگا رہتا ہے۔ اور اسی میں زیادہ لوگ صحیح راستے پر ہیں۔ اور اس میں شیخ فرماتے ہیں لوگ تین قسم کے ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جو علم کے حصول میں لگے ہوئے ہیں اور لگ گئے ہیں لیکن عطا اور زمن العطا اور آگے علم پھیلانے کا کوئی ان کے ان کا کوئی امپیکٹ نہیں ہے ان کا کوئی اثر نہیں ہے علمی اثر یعنی دعوتی اثر علم تو وہ حاصل کر رہے ہیں۔ دوسرا جیسے کہ آج کل علم کھک نہیں لیکن دعوت و تبلیغ فل کر رہا ہے جاہل مطلق جاہل مرکب ہے۔ اس کو پتہ نہیں کہ اس کو پتہ نہیں اور وہ اپنے اپ کو عالم دین سمجھتا ہے وہ جاہل بندہ جیسے کہ اس کو ہم لوگ الرویبذہ روبیذہ کون ہے؟ الرجل الرجل التاف يتكلم في امر العامه۔ وہ گرا ہوا بندہ وہ جاہل بندہ عوام الناس کے متعلق بات کر رہا ہے ان کو دعوت و تبلیغ کر رہا ہے حالانکہ اس کو کھکھ نہیں پتا۔ جیسے کہ آج کل ہمارے معاشرے میں موٹیویشنل اسپیکر یا کیوٹ اسلامک داعیے۔ جن کو قرآن بھی صحیح طریقے صحیح تلفظ سے پڑھنا نہیں آتا عربی تو دور کی بات۔ بلکہ بعض تو قرآن دیکھ کر بھی صحیح طریقے سے نہیں پڑھنا جانتے۔ تو آپ ذرا سوچئے۔ یہ لوگ جن کے پاس علم کی بنیاد اس طرح نہیں ہے جس طرح ہونی چاہیے۔ ان کو لوگ اسکالر سمجھتے ہیں ماڈرن اسکالر جدید اسکالر۔ اور وہ کہتے ہیں میں مفتی تو نہیں لیکن میری رائے یہ ہے دین میں رائے پیش کرنا ہی فتوی ہوتا ہے۔ تو ان جیسے جھلا سے اللہ ہمیں بچائے۔ تیسری قسم شیخ نے فرمایا الانقطاع للعلم و نشره فی میدان الدعوه۔ علم کی طرف لگ جانا اور اس کو نشر کرنا میدان دعوت میں ہے۔ کیوں کہ علم بنیاد ہے دعوت کی۔ اور جو علم کے بغیر دعوت دیتا ہے وہ سیدھے راستے سے بھٹک جاتا ہے۔ اللہ تعالی نے کیا فرمایا قرآن میں قل هذه سبیلی ادعو اللہ علی بصیره یہ ہے میرا راستہ جس میں میں لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتا ہوں علم کی بنیاد پہ اور بصیرت کیا ہے؟ علم۔ تو اس لیے بہت ضروری ہے کہ انسان علم حاصل کرے اور کچھ لوگ اور بھی اس طرح کی چیزیں سمجھتے ہیں کہ نعوذ باللہ یعنی یعنی جو دعوت صرف موعظہ اور وعظ و تبلیغ اور محاضرات اور لوگوں کے یعنی پنڈوں میں گاؤں میں جا کے عام پبلک لیکچر دینا ہی کہا یہ یہ ہوتا ہے دعوت۔ شیخ فرماتے ہیں هذا خیر صحیح یہ بات درست نہیں ہے لان الانبیاء حکم اکمل الدعاۃ کیونکہ انبیاء سب سے اعلی ترین مثال ہے دعوت و تبلیغ کی۔ تو وہ لوگوں کو توحید بھی سکھاتے، عبادت بھی سکھاتے، اور وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے۔ چوتھا جو شیخ نے ایک یعنی رکاوٹ جس کا ذکر کیا ہے شیخ فرماتے ہیں کہ بعض کہتے ہیں العلم یقص القلب علم انسان کے دل کو سخت کر دیتا ہے کچھ لوگوں کا یہ کہنا تو شیخ فرماتے ہیں اگر علم دل کو سخت کرتا ہے تو یہ بتائیے کون سی چیز علم دل کو نرم کرتی ہے علم کے علاوہ؟ العلم قال اللہ، قال قال رسولہ، قال الصحابہ ھم اولو العرفان۔ یہ ہے علم۔ اللہ کا کلام، اللہ کے رسول کا کلام اور صحابہ کا کلام یہ ہے علم حقیقی بغیر کسی واسطے کے۔ لیکن ہم لوگوں نے علم کسی اور چیز کو سمجھ چکا ہے تو کیا اللہ کا کلام آپ کے دل کو نرم نہیں کرتا؟ کیا اللہ کے رسول کا کلام آپ کے دل کو نرم نہیں کرتا؟ پھر تو آپ کے اوپر پھٹکار پڑ چکی ہے۔ پھر تو آپ کے دل پر مہر لگ چکی ہے۔ تو اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ علم دل کو نرم کرتی ہے نہ کہ سخت کرتی ہے۔ اور اسی طرح بعض اخبار میں یہ بھی ہے فقيه واحد اشد على الشيطان من الف عابد۔ ایک فقہی شیطان کے اوپر زیادہ بھاری ہے 1000 عابد گزاروں کے۔ اس کی استاذ نے کلام ہے لیکن شیخ فرماتے ہیں لیکن ربما يصح موقفا و ظاهر معناه الصحه لان العالم لا يستطيع الشيطان من جهه الشبهات ولا من جهه الاستمرار على الشهوات۔ بولتے ہیں کہ جو عالم ہے شیطان ان کو شہوات یا شبہات سے گھیر نہیں سکتا۔ ہاں کبھی کبھی عالم کچھ شبہ، کچھ شہوات میں پڑ سکتا ہے لیکن وہ پلٹ کے واپس آ جاتا ہے۔ تو علم هو الخشیہ انما علم الخشیہ جسے کہ سلف کہتے ہیں علم خشیت الہی رقت قلبی کا معنی ہے۔ ٹھیک ہے جی۔ اسی طرح شیخ فرماتے ہیں ہو سکتا ہے کہ بندے کے دل میں قد یکون هناك قصوت فی القلب مع العلم بسبب ما الامراض۔ بولتے ہیں ہو سکتا ہے بندے کے دل میں سختی ہو ہاں کچھ بیماریوں کی وجہ سے نمبر ون ان بیماریوں میں سے مرض شہوہ۔ شہوت کی بیماری، شک کی بیماری، شہرت کی بیماری، تکبر کی بیماری، جاہ کی بیماری۔ ہاں تو کچھ لوگ ان بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور پھر کوستے علم کو ہیں۔ اسی طرح بعض لوگ یہ بھی شیخ نے یہ بھی رکاوٹ پیش کی ہے کہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ان العلماء هم اقل الناس او ابعد الناس تاثیر فی الاحداث اذا وقعت وانهم يرغبون الصمت والسلامه ويتركون توجيه الامر۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ علماء سب سے کم وہ لوگ ہیں جو امپیکٹ فل ہوتے ہیں۔ واقعات میں ان کا کوئی امپیکٹ نہیں ہوتا اور وہ ہمیشہ سلامتی اور خاموشی اختیار کرتے ہیں اور امت کو راہ دکھانے سے گریز کرتے ہیں۔ شیخ فرماتے ہیں یہ اس طرح کی باتیں لوگوں کو علم کے حصول سے روکتی ہیں۔ اور امر بالمعروف سے روکتی ہے اور یہ وساوس الشیطان ہے۔ شیخ فرماتے ہیں یہ وساوس الشیطان ہے اور یہ اہل الاھوا کے کلاموں میں سے ہے۔ تاکہ لوگ علماء کی پیروی نہ کریں۔ شیخ فرماتے ہیں وکلما حدثت فتنته منذ زمن السلف الى يومنا هذا فانه یعيب الجاهل على من صمت بصمته۔ بولتے ہیں کہ جب سے فتنے کے زمانے شروع ہوئے ہیں سلف کے زمانے سے تو اس میں فانه یعيب الجاهل على من صمت بصمته۔ تو جاہل جو ہے خاموش رہنے والوں کی خاموشی کو عیب سمجھتا ہے اور شیخ فرماتے ہیں کیا خوبصورت بات کہی ہے خلیفہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے جب انہوں نے صحابہ اور سلف کی بات پیش کی کہ انھم على علم ووقفوا وبصر نافذ کفوا۔ انہوں نے اگر وہ رکے ہیں تو علم کی بنیاد پہ رکے ہیں اور دور اندیشی کی بنیاد پر وہ انہوں نے کفایت شعاری سے کام لیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ بات کرتے ہیں تو علم کی بنیاد پہ بات کرتے ہیں۔ خاموش رہتے ہیں تو بصیرت اور حکمت کی بنیاد پہ کام کرتے ہیں۔ اسی لیے سلف اکثر فتنوں میں خاموش رہا کرتے تھے۔ اور فتنوں سے گریز کیا کرتے تھے اور حالانکہ آج کل کے خلف سب سے زیادہ فتنوں میں باتیں کرتے ہیں سب سے زیادہ پھڈے کرتے ہیں لڑائی کرتے ہیں۔ اسی لیے آپ دیکھتے ہیں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ جو فتنہ خلق قرآن تھا۔ اس میں وہ ان کے کلمات بہت کم ہیں۔ اتنے زیادہ نہیں ہیں۔ ایام الفتن جب فتنہ موجود تھا۔ جو تقریبا 20 سال یا اس سے بھی زیادہ۔ تو اس لیے بہت ضروری ہے کہ ہم علماء کو سمجھیں۔ علماء کیوں خاموش رہتے ہیں اس کو بھی جانیں۔ اس کے متعلق حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے اپنی خوبصورت رسالہ فضل علم السلف علی علم الخلف یہ ضرور پڑھیں کتاب بڑی خوبصورت بہترین کتاب ہے۔ اس میں انہوں نے ایک کا بات کہی ہے کہ کلام السلف قلیل کثیر الفائده وکلام الخلف کثیر قلیل الفائدہ۔ کہ سلف کا کلام کم ہوتا ہے لیکن بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ اور خلف جو بعد میں آنے والے ان کا کلام باتیں بہت زیادہ کرتے ہیں آج کل ہم لوگ بہت باتیں کرتے ہیں موٹیویشنل اسپیکر بہت باتیں فتنہ باز پھڈے لڑائی انقلاب کے نام پر اقامت دین کے نام پر کیا کیا نہیں کرتے۔ باتیں بہت ہیں لیکن فائدہ کم ہے۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ علماء آر دا موسٹ امپیکٹ فل پیپل ان دا سوسائٹی لیکن امپیکٹ فرام دا شرعیہ پوائنٹ آف ویو۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسے کہ حدیث میں فرمایا من را من منکرا فلیغير بيده فان لم يستطع فبلسانه وان لم يستطع فبلسانه وذلك اذن الايمان اگر تم میں سے کوئی برائی کو دیکھے تو اس کو ہم نے ہاتھ سے چینج کرے۔ اگر ہاتھ سے نہیں کر سکتا تو زبان سے اس سے بھی نہیں کر سکتا تو اپنے دل سے اور یہ کم از کم ایمان ہے۔ ٹھیک ہے جی۔ تو اس لیے اہل علم اور طلبہ کو چاہیے کہ وہ امپیکٹ فل ہوں۔ اور فتنہ پیدا نہ کریں اور بغیر علم کے بات نہ کریں۔ اور اہل علم اپنے علم کی بنیاد پر امپیکٹ پیدا کرتے ہیں یا امپیکٹ سے گزرے گریز کرتے ہیں۔ چھٹی جو شیخ نے ایک اور لوگوں کی باتیں پیش کی ہے وہ یہ ہے شیخ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ علم کے لیے بہت سارا وقت عمر چاہیے۔ اور فراغت چاہیے اور زمن چاہیے اور میرے پاس اتنی قدرت اور استعداد نہیں ہے۔ تو شیخ فرماتے ہیں یہ بات درست ہے ایک سائیڈ سے لیکن طالب علم یہ نہیں جانتا کہ علم کی بنیاد پر کیا کیا اس کے لیے دروازے کھل جاتے ہیں۔ شیخ فرماتے ہیں کہ طالب علم اور عالم کا سانس لینا بھی بات کرنا بھی لکھنا بھی ہر چیز چلنا بھی سونا بھی کھانا بھی ہر چیز لکھا جاتا ہے اس کے لیے ثواب۔ تو یہ بہت بڑی بات ہے۔ اس لیے شیخ فرماتے ہیں کہ طالب علم علم کو ایک عبادت سمجھے ایک بوجھ نہ سمجھے اور جب اس کو دنیا کی حقیقت کا پتہ چلے گا تو اس کے نزدیک نزدیک علم کی قدر بہت بڑھ جائے گی۔ اس لیے اپنے وقت کو ضائع کرنے سے گریز کریں اور جتنا ہو سکے انسان علم حاصل کرے اور اس میں ہمارے لیے بہت ساری عبرتیں ہیں۔ اسی لیے بعض شیخ نے ایک اور قول پیش کیا ہے یعنی یعنی رکاوٹوں میں سے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کیا اب اس عالم کے برابر آپ پہنچ جاؤ گے؟ کیا آپ اس مشہور بندے کے تو شیخ فرماتے ہیں یہ بھی شیطانی مثالیں ہیں۔ ڈونٹ کمپیر یور سیلف ود ادرز کمپیریزن نہیں کرنا چاہیے۔ یعنی مشہور لوگوں کے ساتھ کہ یار میں اس کے لیول اس کے لیول تو یہ وساوس الشیطان ہے۔ علم بذاتی محمود ہے علم بذاتی قابل تعریف ہے اور اس کی دنیا و آخرت میں بھی قابل تعریف اس میں چیزیں ہوں گی لیکن علم سے غرض یہ نہیں ہونی چاہیے کہ میں امام الناس بن جاؤں۔ یا میں مشہور بندہ بن جاؤں یا لوگ میری طرف اشارہ کریں۔ نہیں بلکہ یہ فاسد نیت ہے۔ بلکہ اس کی نیت یہ ہو کہ الہی انت مقصودی ورضاک مطلوبی کہ یا اللہ تو ہی مقصود ہے تیری تیری رضا مطلوب ہے تو میں علم حاصل کر رہا ہوں عمل کے لیے تیری رضامندی کے لیے تو اس لیے بہت ضروری ہے کہ طالب علم اپنے اپ کو یعنی مضبوط کرے اور حریص رہے علم نافع کی طرف اور مصروف نہ ہو جائے کیونکہ یہ دنیا کچھ وقت کی ہے۔ آخر میں ختم ہو جانا ہے۔ تو اللہ تعالی ہمیں توفیق دے کہ ہم ان باتوں پر غور و فکر کریں۔ اور عمل کرے اور اسی طرح ہم اس کے اوپر چلیں کیونکہ یہ بہت ہی بہترین اور یعنی اعلی قسم کی باتیں کی گئی ہیں ان شاء اللہ امید ہے کہ اپ لوگوں نے اس سے استفادہ حاصل کیا ہوگا۔ اگر کوئی کمی بیشی یا غلط چیزیں کہی گئی ہوں تو ضرور تنبیہ کرے فما کان صوابا فمن اللہ وحده وما کان خطا فمن نفسی و الشیطان اور اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو وہ میرے نفس اور شیطان کی طرف سے ہے اللہ تعالی ہمیں معاف کرے سبحانک اللہ و بحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک و تو الیک والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript