Thumbnail for “Silence Your Mind: How to Stop Overthinking & Inner Chatter!” by Professor Dr Javed Iqbal

“Silence Your Mind: How to Stop Overthinking & Inner Chatter!”

Professor Dr Javed Iqbal

11m 48s1,712 words~9 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Pull quotes
[0:01]میرے دماغ میں ہر وقت خیالات چلتے رہتے ہیں دماغ کبھی سکون میں نہیں رہتا میں جب سوؤں تو سوتے وقت بھی میرا دماغ چلتا رہتا ہے
[0:18]ہر وقت مختلف اندیشے مجھے ستاتے رہتے ہیں ایسی باتیں جو ہوئی نہیں ہیں وہ ذہن میں اتی رہتی ہیں
[0:25]یا ہو گئی ہیں تو وہ پھر مجھے ان کا صدمہ جو ہے وہ بار خیالات کی شکل میں دماغ میں چلتا رہتا ہے
[0:32]یہ بہت کامن کمپلینٹ ہے بہت کامن پرابلم ہے اس موضوع پر جب بھی کوئی بات کی جاتی ہے
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:01]میرے دماغ میں ہر وقت خیالات چلتے رہتے ہیں دماغ کبھی سکون میں نہیں رہتا میں جب سوؤں تو سوتے وقت بھی میرا دماغ چلتا رہتا ہے

[0:14]اور ایک پریشانی جو دماغ میں اٹک گئی ہے وہ خیال اتے رہتے ہیں

[0:18]ہر وقت مختلف اندیشے مجھے ستاتے رہتے ہیں ایسی باتیں جو ہوئی نہیں ہیں وہ ذہن میں اتی رہتی ہیں

[0:25]یا ہو گئی ہیں تو وہ پھر مجھے ان کا صدمہ جو ہے وہ بار خیالات کی شکل میں دماغ میں چلتا رہتا ہے

[0:32]یہ بہت کامن کمپلینٹ ہے بہت کامن پرابلم ہے اس موضوع پر جب بھی کوئی بات کی جاتی ہے

[0:40]تو اگر فرض کریں ایک ورک شاپ ہے یا ایک لیکچر ہے تو میں نے دیکھا ہے کہ اس مجمعے میں اکثریت کو یہ پرابلم ہے کہ یہ میرے خیالات چلتے رہتے ہیں

[0:50]تو اس لیے یہ ویڈیو بہت ہیلپ کرے گی مجھے امید ہے مجھے بھی بہت ان باتوں نے ہیلپ کیا

[0:58]تو اپ اس کو سنیے گا غور سے توجہ سے ہو سکتا ہے اس سے اپ کا ایک بہت بڑا مسئلہ حل ہو جائے

[1:04]دیکھیں بات سنیں ہمارے جسم کے ہر عضو کا ایک کام ہے اب کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ دیکھیں میری انکھیں تو دیکھتی رہتی ہیں

[1:14]میری انکھیں تو دیکھیں میں ادھر دیکھ رہا ہوتا ہوں تو میری انکھوں کو دروازہ نظر ا رہا ہوتا ہے میری انکھوں کو کیمرہ نظر ا رہا ہوتا ہے

[1:21]اس طرح کوئی یہ نہیں شکایت کرتا کہ دیکھیں میرا کان سن کیوں رہا ہے یہ تو دیکھیں اس کو اواز ا رہی ہے باہر کے یہ دیکھیں شور کی اواز ا رہی ہے بارش کی اواز ا رہی ہے

[1:29]کوئی یہ نہیں کہتا دل کیوں چل رہا ہے کوئی یہ نہیں کہتا کہ گردے جو ہیں وہ پیشاب کیوں بنا رہے ہیں جگر جو ہے وہ کیوں کیمیائی کام کر رہا ہے

[1:38]تو لیکن دماغ جو ہمارا برین ہے اس کے بارے میں ہمیں شکایت ہے کہ یہ کیوں سوچ رہا ہے تو دماغ کا تو کام ہی سوچنا ہے

[1:45]سوچ اور تھاٹ تو ہی انسان کی زندگی کے پورے کے پورے نظام کو چلانے والی ہے

[1:52]پھر اخر ہماری شکایت دماغ سے کیوں ہے جو ہمیں شکایت ہے وہ یہ نہیں ہے کہ دماغ کیوں سوچتا ہے

[1:59]صرف ایک بات یاد رکھیے ہماری شکایت یہ ہے کہ ہمارا دماغ کا سوچنا ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے

[2:08]ورنہ تو دماغ ہمارے جسم کا سب سے بڑا موثر کنٹرولنگ ہماری اللہ کی جو نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے ویسے تو ایک ناخن بھی اللہ کی نعمت ہے بال بھی اللہ کی نعمت ہے

[2:21]مگر ہمارے جسم کے اعضاء میں جو دماغ ہے یہ جو سپر سپر ایکسٹرا سپر سپر سونک کمپیوٹر ہے اور یہ جو سارے اتنے 38 بلین نیوران ہمارے دماغ کے اندر موجود ہیں یہ تو اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے

[2:35]تو صرف مسئلہ یہ ہے کہ تربیت نہ ہونے کی وجہ سے اور کچھ مشقیں نہ کرنے کی وجہ سے

[2:42]ہمارے جو سوچنے کا عمل ہے یہ سوچنے کا عمل ہمارے اختیار سے باہر ہو جاتا ہے

[2:49]اور جب یہ ہمارے اختیار سے باہر ہوتا ہے تو تب ہمیں تکلیف ہوتی ہے مثلا اپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگوں کو راشے کی بیماری ہوتی ہے

[2:57]ان کے ہاتھ ایسے ایسے ہل رہے ہوتے ہیں تو اب یہ ہاتھ کا کام ہی ہلنا ہے موو کرنا ہے پکڑنا ہے لیکن جب یہ ہمارے کنٹرول کے باہر ہو جاتے ہیں تو پھر ہمیں تکلیف ہوتی ہے

[3:08]تو اسی طرح پہلی بات تو یہ سمجھیے کہ ہمیں دماغ کے سوچنے سے کوئی شکایت نہیں ہے ہمیں شکایت اس بات سے ہے کہ دماغ کا سوچنا ہمارے کنٹرول کے باہر کیوں ہے

[3:20]اچھا اب ایک بات ہو گئی دوسرا اپ یہ دیکھیے کہ ہمارے دماغ میں یہ جو سوچنے کا عمل ہے یہ اصل میں ایک الیکٹریکل عمل ہے

[3:28]جو ہمارے نیوران ہیں ان میں بجلی کا کرنٹ دوڑتا ہے اور وہ جو کرنٹ دوڑتا ہے اس کے ساتھ پھر ایک نیوران دوسرے نیوران کو کرنٹ دیتا ہے دوسرا تیسرے کو دیتا ہے اور جو متعلقہ نیوران جب اپس میں ایک خاص قسم کے کرنٹ کے ساتھ موو کرتے ہیں تو ایک خاص قسم کا خیال پیدا ہوتا ہے

[3:46]اور جب ہمارے دماغ میں خود بخود سرکٹ بننا شروع ہو جاتے ہیں تو ان سرکٹس کی وجہ سے ہمارے دماغ میں خیالات انے شروع ہو جاتے ہیں

[3:55]اور ہمارے دماغ کی ڈفرنٹ قسم کی ایکٹیویٹیز ہیں جو کہ ایکٹیویٹیز ہوتی ہیں یہ دوسری بات میں نے بتائی میں کوشش کر رہا ہوں کہ میں بہت سمپل کر کے اپ کو سمجھاؤں

[4:05]تیسرا اب اپ ایک غور کیجئے ایک بات میں سمجھاؤں گا پھر ان کو ملا کے کچھ نہ کچھ مطلب اس کا نکالیں گے

[4:10]تیسری بات یہ ہے کہ فرض کریں اپ شکار کرنے جا رہے ہیں اور اپ کے ہاتھ میں بندوق ہے

[4:17]اور اپ ایک فرض کریں کسی جانور کا شکار کر رہے ہیں اور کوئی جھاڑی میں سرکتا ہوا جانور نظر ا رہا ہے اور اپ اس کو دیکھ رہے ہیں تو اپ کیا کریں گے مکمل فوکس اس کے اوپر کریں گے

[4:30]مکمل فوکس کریں گے اپ کے ذہن میں صرف وہی خیال ا رہا ہوگا اور وہی خیال اپ کو فوکس کرے اور جب یہ اپ کو خیال ا رہا ہوتا ہے تو ہمارے جسم کے اندر جتنے بھی کیمیکل ہیں وہ کیمیکل سارے کے سارے فائٹ اور فلائٹ والے ہوتے ہیں

[4:46]یعنی کارٹیسول پروڈیوس ہو رہا ہوتا ہے ایڈنلین پروڈیوس ہو رہی ہوتی ہے اور نارڈلین پروڈیوس ہو رہی ہوتی ہے

[4:53]یہ والے جو ساری چیزیں ہیں نا اس کو انگریزی میں کہتے ہیں فائٹ اور فلائٹ کہ اپ نے یا بھاگنا ہے یا لڑائی کرنی ہے کوئی

[5:00]تو یہ اس قسم کے کام اور اس میں ہمارا دماغ جو ہے وہ جلدی جلدی نا فائر کر رہا ہوتا ہے سپارک کر رہا ہوتا ہے

[5:06]کیونکہ ہم ایک ہی چیز کے اندر پھنسے ہوئے ہوتے ہیں ایک ہی خیال کے اندر پھنسے ہوئے ہوتے ہیں اب یہ والی کیفیت جب ایک انسان کی عادت اور فطرت بن جائے

[5:15]کہ وہ ایک ہی خیال میں پھنسا ہوا ہے میں نے تو قرضہ دینا ہے میں نے تو قرضہ دینا ہے میرا قرضہ کیسے اترے گا میرا قرضہ کیسے اترے گا یا یہ خیال اس کے ذہن میں ا رہا ہے میرے ساتھ تو بہت زیادتی ہو گئی ہے میری تو شادی بہت غلط ہو گئی ہے میری تو بیوی میرے ساتھ عمل میرے ساتھ صحیح یعنی رویہ نہیں رکھتی

[5:30]یا میرا خاوند نہیں رکھتا یا یہی خیال ا گیا ہے میری اولاد صحیح نہیں ہے میری اولاد صحیح نہیں یا یہ خیال ا گیا ہے کہ مجھے تو جاب پراپر نہیں ملی میرا باس بالکل ٹھیک نہیں ہے تو وہی خیال ا گیا تو اپ پورے جسمانی طور پر

[5:43]اور اپ کے جتنے ہارمون اور کیمیکل ہیں وہ سارے کے سارے ہمیشہ فائٹ اینڈ فلائٹ میں رہیں گے اور اپ کا دماغ جو ہے وہ ادھر ادھر ادھر ان کے بے ہنگم قسم کے وہ یعنی ڈسچارجز کرنا شروع کر دے گا اپ کے دماغ کے اندر اور یہی وہ کیفیت ہے جس کی شکایت کا میں نے سب کو ذکر کیا ہے

[6:02]اچھا اب ان کو اپنے قابو میں لانے کے لیے جو سب سے اہم چیز ہے وہ یہ ہے غور سے سنیے گا وہ یہ ہے کہ ہم کسی طریقے سے

[6:15]ان خیالات کے بارے میں اویر ہو جائیں ہم ان خیالات کو دیکھ سکیں بالکل اس طریقے سے جیسے میں یہاں بیٹھا ہوا اس کرسی کو دیکھ رہا ہوں ان کتابوں کو دیکھ رہا ہوں

[6:29]یعنی ایز این اؤٹ سائیڈر اپ ان خیالات کو دیکھنا شروع کر دیں لہذا جب بھی اس طرف کے خیالات ائیں اگر ہم مشق کر کے ان خیالات کو دیکھنا شروع کر دیں

[6:43]اور یہ کہیں کہ اب میرے ذہن میں یہ خیال ا رہا ہے کہ میں اپنا قرضہ کیسے اتاروں گا اور یہ میرے ذہن میں خیال ا رہا ہے اس خیال کی وجہ سے مجھے پریشانی ہو رہی ہے

[6:57]جوں ہی اپ یہ کرنا شروع کریں گے تو پہلا کام یہ ہوگا کہ اپ کو یہ لگے گا کہ خیال اور ہے اور میں اور ہوں

[7:07]خیال مجھ سے مختلف ہے میں اس سے مختلف ہوں خیال سے اور جوں ہی اپ ایسا کریں گے تو اپ اپنے اپ کو خیال کے ساتھ اپ شناخت قائم نہیں کریں گے اپنی

[7:19]خیال کے ساتھ اپنے اپ کو ائیڈنٹیفائی نہیں کریں گے اور وہ خیال ائیں گے مگر اپ کو اثر انداز نہیں ہوں گے

[7:29]پتہ نہیں میں یہ سمجھا سکا ہوں کہ نہیں سمجھا سکا تھوڑی سی مشق کے ساتھ غور سے ان خیالات کو ایسے دیکھیں جیسے اپ کی انکھوں کے سامنے کچھ لوگ گزر کے جا رہے ہیں

[7:38]ایک لمبا ادمی ایک پتلا ادمی ایک موٹا ادمی ایک نیلے کپڑوں والا ایک سفید شلوار قمیص والا تو اپ ان کو ایسے ابزرو کرتے جائیں

[7:47]اور تھوڑی سی مشق کے ساتھ اپ کو یہ چیز سمجھ میں ا جائے گی ایک بات ایک اور اس سے بھی اسان مشق یہ ہے

[10:40]کہ اگر فرض کریں بہت زیادہ اپ کو ایگزائٹی کا اور پینک کا ہو رہا ہے اور خیالات بہت زیادہ ا رہے ہیں

[10:47]تو اپ جسٹ اپنے دل کو دیکھیں دیکھنے کی کوشش کریں پھر انکھیں بند کریں اور اس دل کو دیکھتے رہیں

[11:01]ظاہر ہے اپ کو نظر تصور میں ہی ا رہا ہوگا نا صرف باڈی کے اس ارگن کی طرف دیکھتے رہیں

[11:10]چونکہ اپ پوری توجہ سے یہاں دیکھ رہے ہیں تو اپ کا دماغ بیک وقت دو کام نہیں کر سکتا اس کے دماغ سے خیالات نکل جائیں گے

[11:18]اور تھوڑی دیر میں ہی اپ محسوس کریں گے کہ اپ کے دل کی دھڑکن جو ہے وہ نارمل ہو گی

[11:22]اپ کو اپنی پورے جسم کے اندر ایک سکون محسوس ہوگا اور ایک کام محسوس ہوگا

[11:27]لہذا مختصر بات اس ویڈیو کا خلاصہ یہ ہے کہ جوں ہی اپ اس کیفیت میں جائیں تو وہ خیالات جو اپ کے قابو سے باہر ہیں ان کو قابو کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپ کسی طریقے سے اپنے دماغ کو لمحہ موجود میں لے ائیے

[11:41]اور جوں ہی اپ لمحہ موجود میں ائیں گے دماغ ایک اور کام میں لگ جائے گا اور خیالات اس میں نہیں ائیں گے

[11:48]یا وہی خیالات ائیں گے جو اپ خود لانا چاہیں گے

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript