[0:00]یہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ اللہ رب العزت نے اپ کو کہاں پر پیدا کیا ہے پیدا کرنے کے بعد اللہ رب العزت نے اگر اپ کو شعور دیا ہے اور اس شعور کی بنا پر اپ بہتر طرز زندگی اپنا سکتے ہیں تو پھر اپ اللہ تعالی کی پہچان کیوں نہیں کر سکتے وہ لوگ جو ہمیں قران و حدیث سے شریعت سے گمراہ کرتے ہیں وہ بھی بنیادی طور پر ہمارے سامنے دین کا شریعت کا قران و حدیث کا ہی نام لیتے ہیں یہیں سے اپنے دلائل بھی پیش کرتے ہیں تو ہمیں یہ بذات خود سمجھنے کی اور اس کی جو ہے وہ جستجو کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ریسرچ کرنا چاہیے کہ اللہ تعالی کا سیدھا راستہ کون سا ہے جس کے بارے میں اللہ رب العزت نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے اور وہ راستہ یقینا انبیاء کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہے صحابہ کرام کا راستہ ہے جس کے بارے میں اپ نے فرمایا کہ ما انا علیہ و اصحابی اور دوسری بات جو ایک روایت اس حوالے سے معروف ہے لوگ کہتے ہیں کہ ادم علیہ الصلوۃ والسلام نے اسمان میں دیکھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لکھا ہوا تھا اس کو دیکھ کر اپ نے اپنے انگوٹھے بھی چومے اور کہا کہ اس نام کا واسطہ ہے اللہ ہمیں معاف فرما دے یہ روایت من گھڑت ہے ایسی کوئی روایت احادیث ذخیرہ میں موجود نہیں ہے
[1:05]اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی الہ وصحبہ اجمعین ومن تبعہ باحسان الی یوم الدین رمضان المبارک کی مناسبت سے خلاصہ مضامین قران مجید کے حوالے سے اج انشاء اللہ تعالی ہم اٹھویں پارے کے مضامین کو سمجھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں کو بہترین انداز سے گزارنے اور رمضان المبارک میں قران مجید کو سمجھنے اس پر عمل کرنے اور اس کو اگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے اٹھویں پارے کی ابتدا میں پہلی ایت میں اللہ رب العزت یہ بات ارشاد فرماتے ہیں بطور خاص کفار سے متعلق ولو اننا نزلنا الیہم الملائکة وكلمهم الموتی وحشرنا عليهم كل شيء قبلا ما كانوا ليؤمنوا الا ان يشاء الله ولكن اكثرهم يجهلون اگر ہم ان کے سامنے فرشتوں کو نازل کر دیتے ان کے ساتھ مردے بات کرتے اور اسی طرح سے ان کے سامنے ہم ہر طرح کے حشرات الارض کو جمع کر دیتے تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں اس کے باوجود یہ لوگ ایمان نہ لاتے اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے ان کے دلوں پر مہریں لگا دی ہیں تو اب ان کے سامنے کسی بھی طرح کے معجزات اور نشانیاں رکھ دی جائیں اس سے ان لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا جیسے اللہ نے ابتدا میں فرمایا سواء عليهم ا انذرتهم ام لم تنذرهم لا یؤمنون اپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ان کے سامنے یہ برابر ہے یہ ایمان نہیں لائیں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان کے دلوں پر مہریں لگا دی ہیں اس کے بعد اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے کہا فغیر اللہ ابطئ حکم و الذی انزل علیکم الکتاب مفصلہ ایت نمبر ون فورٹین ہے سورۃ الانعام کی تم کیا سمجھتے ہو کہ اب میں اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور فیصلہ کرنے والے کو تلاش کروں جبکہ اس نے تمہارے سامنے کتاب کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے تو یہ تمہاری عقل کیسی ہے تم کس طرح سے تم فیصلے کرتے ہو یعنی عجیب تمہارا سلسلہ ہے کہ تم نشانیوں کو نہیں سمجھتے ہو اللہ تعالی کی قدرت کے جو مظاہر ہیں جو اللہ تعالی نے دنیا کے اندر بہترین اپنی قدرت کے مظاہر فطرت رکھتے رکھے ہیں تم ان کو بھی نہیں سمجھتے ہو اور تم بذات خود بھی بتوں کی پوجا کرتے ہو اور تم اگے نبیوں کو بھی اسی بات کا جو ہے وہ کہتے ہو کہ وہ بھی اللہ تعالی کو چھوڑ کر وہ بھی بتوں کی طرف ا جائیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اللہ رب العزت جس نے کتاب کو نازل کیا جس نے اسمان و زمین کو بنایا اس کو چھوڑ کر کسی اور کو رب بنا لیا جائے اس کے بعد اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں وا ان تطيع اكثر من فی الارض یضلک عن سبيل اللہ اگر اپ اکثر لوگوں کی باتوں کے پیچھے چلیں گے تو یہ اپ کو اللہ تعالی کے راستے سے گمراہ کر دیں گے ہٹا دیں گے ان یتبعون الا الظن وان ہم الا یخرصون اکثر لوگ تو بد گمانیوں کے پیچھے چلتے ہیں جو خیالات ہوتے ہیں صرف انہی کی پیروی کرتے ہیں اس سے ہمیں یہ بات سمجھنے کو ملتی ہے عام طور پر لوگ یہ دلیل پیش کرتے ہیں جی بہت سارے لوگ بہت بڑا معاشرہ اتنی بڑی سوسائٹی کا سارے لوگ غلط ہو سکتے ہیں تو یہاں سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں کہ کبھی بھی کثرت پر فیصلہ نہیں کیا جاتا جو ہے وہ کثرت یا قلت یہ بنیاد نہیں ہے کسی بھی چیز کے معیار کی جیسا کہ اج کل جو ہے وہ جمہوریت اور ڈیموکریسی کا جو ہے وہ راج ہے جگہ جگہ تو اس کی وجہ سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرف زیادہ لوگ ہوں گے وہی ٹھیک ہوں گے تو اللہ تعالی کے نزدیک ایسا کوئی معیار نہیں ہے مگر ایسا ہوتا تو جنگ بدر میں بھی تین سو تیرہ کم تھے اور ایک ہزار زیادہ تھے اسی طرح سے مسلمانوں کی تعداد تقریبا ایسے کم ہی رہی ہے تو اس وجہ سے اللہ رب العزت نے فرمایا اصل جو چیز ہے وہ تو ایمان ہے وہ تو اللہ تعالی کی طرف سے دیے گئے دلائل ہیں کثرت یا قلت یہ معیار نہیں ہے لہذا زیادہ تر جو لوگوں کی تعداد ہوتی ہے وہ گناہوں کی طرف ہی ہوتی ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے حلال جانوروں سے متعلق یہ بات ذکر فرمائی ہے جس پر اللہ رب العزت کا نام لیا جائے ذبح کرتے وقت اس کو جو ہے وہ کھا لیا جائے اور اگر کسی چیز کے بارے میں شک و شبہ پیدا ہو جائے کہ اس پر اللہ تعالی کا نام لیا گیا یا نہیں لیا گیا تو اس کے بارے میں جو ہے وہ
[5:04]ٹیچنگز اللہ تعالی کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہیں کہ اس پر اللہ تعالی کا نام لیا جائے اور اللہ کا نام لے کر اس کو کھا لیا جائے صحیح حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہ اللہ کے رسول بعض اوقات ہمارے پاس کچھ لوگ گوشت لے کر اتے ہیں جس کے بارے میں ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس پر اللہ تعالی کا نام انہوں نے ذبح کے وقت لیا یا نہیں لیا اس سے مراد اصل میں نئے مسلمان ہونے والے کچھ اعرابی ہیں جن کو ابھی اسلام کے بارے میں کمپلیٹلی اویرنس نہیں تھی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کبھی اس طرح کا شک و شبہ ہو تو اس پر اللہ کا نام لے کر اس کو کھا لیا جائے ہاں البتہ اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں جس کے اوپر اللہ تعالی کا نام ذبح کرتے وقت عمدا نہ لیا جائے جان بوجھ کر جس کے بارے جس پر اللہ تعالی کا نام نہ لیا جائے اللہ کے نام کے بغیر اس کو ذبح کیا جائے اس کے بارے میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ اس کا کھانا کسی بھی صورت میں حلال نہیں ہے یہ گناہ کی بات ہے
[6:00]اس کے بعد اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں ایت نمبر 122 میں جیسے مردہ اور زندہ برابر نہیں ہو سکتے اسی طرح سے اللہ فرماتے ہیں کہ کافر اور مومن بھی کبھی برابر نہیں ہو سکتے گویا کہ جو مردہ کافر جو ہے وہ اس کی مثال مردوں کے جیسی ہے جس کے اوپر کوئی چیز اثر نہیں کرتی اس کو کسی بھی طرح کی کوئی دلائل نہ نظر اتے ہیں نہ سنائی دیتے ہیں اور مومن جو ہے وہ زندوں کی طرح ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ اگر ہم اپنے اپ کو ایمان والا سمجھتے ہیں تو ہمیں پھر جو اللہ تعالی کی دی ہوئی دلائل ہیں قران مجید ہے احادیث رسول ہیں صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہمیں توجہ بھی کرنی چاہیے اور اس کے مطابق ہمیں زندگی بھی گزارنی چاہیے ورنہ ہم بھی مردوں کی طرح ہی سمجھے جائیں گے اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں ایت نمبر 125 میں جس کے بارے میں اللہ رب العزت اس کو کوئی بھلائی دینا چاہتے ہیں اس کو اللہ رب العزت جو ہے وہ نیکی کے راستے پہ لگانا چاہتے ہیں تو اللہ تعالی اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتے ہیں اور جس کے بارے میں اللہ رب العزت جس کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں اس کا سینہ اللہ تعالی اسلام کے لیے اللہ تعالی جو ہے وہ اس کا سینہ ایمان کے لیے ایسے تنگ کر دیتے ہیں جیسے کسی شخص کو جو ہے وہ بذات خود اسمان پہ چڑھنا پڑ جائے جتنا وہ مشکل ہے اتنا ہی مشکل ہو جاتا ہے اس کو اسلام کے دلائل نظر نہیں اتے جس طرح سے حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی اگر کسی شخص کو بھلائی دینا چاہیں اللہ جب کسی کے ساتھ کسی نیکی اور بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں تو اللہ اس کے سینے کو دین کے لیے کھول دیتے ہیں اللہ اس کو دین کی سمجھ بوجھ اور سوجھ بوجھ عطا فرما دیتے ہیں تو اس کا معنی یہ ہوا کہ دنیا کے اندر بہترین جو ہے وہ اگر کسی شخص کے ساتھ اللہ تعالی بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں تو اللہ اس کو دین بھی سمجھ دیتے ہیں یعنی دنیاوی مال و متاع اور اس طرح کی چیزیں یہ اللہ تعالی کے نزدیک میں ا رہا نہیں ہے کہ اللہ اس کو زیادہ عطا فرماتے ہیں دنیا زیادہ دے دیتے ہیں مال و متاع زیادہ دے دیتے ہیں صرف زیادہ دے دیتے ہیں ایسا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالی جس شخص کو پسند فرماتے ہیں اللہ اس کو دین کے لیے چن لیتے ہیں اللہ رب العزت ہمیں بھی اپنے دین کے لیے چن لے اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں نیکسٹ رکوع میں ایت نمبر 130 ہے یا معشر الجن والانس الم ياتكم رسل منكم اللہ تعالی نے یہاں پر انبیاء سے متعلق سوال کیا ہے جنوں اور انسانوں سے اللہ تعالی پوچھیں گے کہ بتاؤ کیا تمہارے پاس اللہ تعالی کے نبی نہیں اتے تھے جو تمہیں ا کے میری ایتیں تمہارے سامنے تلاوت کرتے اور اسی طرح سے اج کے دن کے بارے میں تمہیں ڈراتے تو سب اس وقت کہیں گے اے اللہ یقینا انبیاء اتے رہے ہم اس بات کے اوپر گواہی دیتے ہیں لیکن ہمیں دنیا کی زندگی نے دھوکے پہ ڈال دیا اس وجہ سے جو ہے وہ ہم اسلام کی طرف نہیں ا سکے بطور خاص یہ کافروں سے متعلق ہے کہ کافر جو ہیں وہ اس وجہ سے کافر ہو گئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اس وجہ سے اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں
[8:41]یہ اس وجہ سے ہے ایت نمبر 131 میں اس وجہ سے ہے کہ اللہ رب العزت کبھی بھی کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتے جب تک اللہ رب العزت اپنی حجت پوری نہیں کر لیتے یعنی جب تک اللہ رب العزت ان کی طرف اپنا کوئی نبی نہیں بھیج دیتے تو اللہ رب العزت کسی بھی بستی کو صرف غفلت کی وجہ سے بغیر کسی حجت اور دلیل کے اللہ تعالی ان کو ہلاک نہیں کرتے اس کے بعد اللہ رب العزت نے اس رکوع کے اخر میں مشرکین کے کچھ غلط عقائد کا تذکرہ کیا ہے وہ کیا کرتے تھے ایت نمبر 136 ہے
[29:56]ما اور کہتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھاتے تھے کہ ان کو اللہ تعالی کی رحمت نہیں پہنچے گی تم بھی جنت میں داخل ہو جاؤ تم پر کوئی خوف اور کوئی غم نہیں ہوگا تو اللہ تعالی اخر کار اصحاب الاعراف کو بھی جنت میں داخل کر دیں گے پھر جہنم والے جنت والوں کو پکاریں گے اور کہیں گے اللہ نے جو تمہیں پانی اور کھانا دیا ہے کچھ ہمیں بھی اس میں سے دو ہمارے اوپر انڈیل دو تو وہ کہیں گے ان اللہ اللہ نے ان چیزوں کو اہل جہنم پر کافروں پر حرام کر دیا ہے اس کے بعد اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے ہمارے دین کو کھیل تماشا بنایا اور ان کو دنیا کی زندگی میں دھوکے میں ڈالا اج کے دن ہم ان کو بھی اسی طرح سے بلا دیں گے جیسا کہ انہوں نے قیامت کے دن کو بلا رکھا تھا اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں یہ لوگ نہیں انتظار کر رہے مگر قیامت کے انے کا دنیا کے ختم ہو جانے کا ان نشانیوں کے ا جانے کا اللہ فرماتے ہیں جس دن وہ ا جائے گی جب یہ نشانیاں ا جائیں گی پھر یہ حسرت کے ساتھ کہیں گے پھر یہ پکاریں گے ہمارے پاس انبیاء اتے رہے لیکن ہم جو ہے وہ ہم نے بھلا دیا ہم نے ان کی باتوں کی پرواہ نہیں کی اج ہمارے لیے کوئی ہے سفارش کرنے والا یا ہمیں کسی طرح سے واپس لوٹا دیا جائے ہم جا کر دوبارہ اچھے اعمال کر کے ا جائیں پہلے حملوں سے اپنے اپ کو پھیر لیں اللہ رب العزت فرماتے ہیں اب ان لوگوں نے اپنے اپ کو نقصان میں ڈال دیا اب ان سے وہ سب کچھ چھپ گیا جو اس سے پہلے جس کی خاطر ان لوگوں نے اللہ رب العزت کو چھوڑا تھا اس کے بعد اللہ نے فرمایا ایت نمبر 54 میں اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے اسمانوں کو اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر اللہ رب العزت عرش کے اوپر مستوی ہو گیا اللہ عرش پہ مستوی ہو گیا اللہ رب العزت اپنی ذات کے اعتبار سے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے اپنی ذات کے اعتبار سے اللہ رب العزت عرش پر مستوی ہیں اسمانوں کے اوپر اللہ رب العزت کا عرش موجود ہے اللہ اپنی ذات کے اعتبار سے وہاں پر موجود ہیں اور قدرت کے اعتبار سے علم کے اعتبار سے اللہ رب العزت کائنات میں ہر جگہ پر اس کی قدرت اور اس کا علم جو ہے وہ کار فرما ہے کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ رب العزت اپنی ذات کے اعتبار سے ہم میں سے ہر شخص کے ساتھ ہیں یہ عقیدہ درست نہیں ہے قران مجید میں اللہ تعالی نے اسی عقیدے کی نفی فرمائی ہے کہ اللہ تعالی اپنی ذات کے اعتبار سے عرش کے اوپر موجود ہے اور اس کی قدرت اور علم جو ہے وہ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اسی طرح سے امام مالک رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اللہ تعالی کا عرش پر مستوی ہونا یہ بات معلوم ہے اور کیفیت اللہ تعالی کی کیا ہے اس کی ہمیں ضرورت نہیں ہے اللہ رب العزت نے ہمیں اس کے بارے میں بتایا نہیں ہے اور اس کے بارے میں سوال کرنا اس کی جستجو میں پڑنا اور تقدیر کے ان معاملات میں پڑنا فرمایا کہ یہ بدعت کی بات ہے اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں اللہ کو تم اللہ کو بلند اواز سے پکارو یا اہستہ اواز سے پکارو اللہ رب العزت تمہاری پکار کو سنتا ہے لیکن وہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اس کے بعد اللہ رب العزت نے کچھ قوموں کا تذکرہ کیا ہے اس جو ہے وہ پارے کے اخر میں کچھ قوموں کا تذکرہ موجود ہے اسی طرح سے کچھ اگلے پارے کے ابتداء میں بھی کچھ قوموں کا تذکرہ موجود ہے سب سے پہلے اللہ رب العزت نے قوم نوح کا تذکرہ کیا ہے یہ ایت نمبر 59 ہے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا انہوں نے دعوت دی لیکن وہ کہنے لگے کہ ہم تو تمہیں گمراہی میں دیکھتے ہیں حالانکہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ میں گمراہی پر نہیں ہوں مجھے اللہ تعالی نے نبی بنا کر بھیجا ہے اور میں تمہیں اللہ کا پیغام پہنچاتا ہوں لیکن ان لوگوں نے اللہ تعالی کے نبی کے پیغام کو رد کر دیا شرک میں پڑے رہے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ رب العزت نے ان کے اوپر طوفان بھیجا جس کو طوفان نوح کا کہا جاتا ہے دنیا کا سب سے بڑا یہ طوفان تھا اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ نے کشتی میں سوار کرنے ہونے کا حکم دیا اور اپ کے ساتھ جو ایمان لائے تھے ان کو بھی کشتی میں سوار ہونے کا حکم دیا اور باقی پوری قوم کو اللہ رب العزت نے غرق کر دیا اس کے بعد اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں باقی تفصیلات انشاءاللہ اس کی جا کر ہم سورہ ہود میں پڑھیں گے اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں قوم عاد کا تذکرہ کیا ہے اللہ رب العزت نے ہود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالی نے ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا تھا یمن کے پہاڑوں کے پاس جو ہے وہ یہ قوم اباد تھی اور ان لوگوں نے بھی جو ہے وہ ہود علیہ الصلوۃ والسلام کی بات کا انکار کر دیا اور ان کو بھی اعوذ باللہ من ذالک گمراہ کر دیا اور حتی کہ ان کو کہنے لگے کہ ہمارے اوپر وہ عذاب لے اؤ جس عذاب کا تم ہم سے وعدہ کرتے ہو اخر کار یہ ہوا کہ اللہ رب العزت نے اس قوم کو بھی عذاب کا شکار کر دیا بادی تند یعنی تیز قسم کی ہوا کا جو ہے وہ عذاب اللہ رب العزت نے ان کے اوپر بھیجا جو سات دن اور رات اٹھ دن تک وہ عذاب جاری رہا اور اخر کار اس عذاب نے ان لوگوں کو تباہ و برباد کر دیا اس کے بعد اللہ رب العزت نے اس پارے کے اخر میں قوم مدین کا تذکرہ کیا ہے مدین ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے بیٹے یا پوتے کا نام تھا پھر یہ بستی کا نام بھی اسی طرح سے پڑ گیا شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ رب العزت نے ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا تھا اور حجاز کے جو ہے وہ کے پاس جو ہے وہ ایک ما جگہ ہے وہاں پر ان لوگوں کی بستی پڑتی تھی اور شعیب علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اپنی بستی کے لوگوں کو دعوت دی ان لوگوں کے اندر ماپ تول کی کمی تھی اس کی مزید تفصیلات جو ہے وہ ہم انشاءاللہ اگلے پارے میں بھی پڑھیں گے ماپ تول میں کمی کرنا یہ ان لوگوں کا گناہ تھا اور ان لوگوں نے جو ہے وہ شعیب علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے ان کو منع کیا ماپ تول میں کمی کرنے سے لیکن یہ لوگ باز نہیں ائے ان کا الٹا شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کو ہی جو ہے وہ مختلف قسم کے تھانے دینے لگے اللہ رب العزت نے ان کے اوپر جو ہے وہ زلزلہ اور اسی طرح سے ایک زوردار قسم کی چیخ اور اگ کی بارش کا عذاب جو ہے وہ اللہ رب العزت نے ان کے اوپر نازل کیا اور اس پوری بستی کو اللہ رب العزت نے نام و نشان مٹا دیا اللہ سے دعا ہے کہ جو کچھ میں نے اپ کے سامنے بیان کیا ہے مجھے اور اپ سب کو سمجھنے عمل کرنے اور اگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے استغفراللہ العظیم ولکم ولالمسلمین و السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ



