[0:00]السلام دوستوں۔ تو مستشرقین یہ دعوی کرتے ہیں کہ قرآن مجید عام مذہبی کتابوں کی طرح ارتقا سے گزرا ہے۔
[0:08]اس میں مسلمان تبدیلیاں کرتے رہے ہیں اور وہ آج یہاں پر پہنچا ہے 1924 کے قاہرو قرآن ایڈیشن کے بعد۔ اس سے پہلے قرآن کئی طرح کے تھے، کئی طرح کے الفاظ تھے وغیرہ وغیرہ۔ اس بات کو ثبوت دینے کے لیے 2019 میں کتاب آتی ہے جس کا نام ہے Corrections in Early Qur'an Manuscripts. By Dr. Daniel Alan Brubaker. پھر اس کتاب کا ایک رد آتا ہے 2020 میں جو یہ رہا۔ Refutations of Daniel Allan Brubaker's "Corrections in Early Qur'an Manuscripts" by Dr. Tayyar Altıkulaç. میں ان دو کتابوں پہ آج بات کروں گا اور پھر آخر میں آپ کو بتاؤں گا کہ میرا اپنا کیا رجحان ہے، میں کیا سوچتا ہوں کہ کیا قرآن بدلا ہے یا نہیں بدلا۔ تو چلیے شروع کرتے ہیں۔ یہ ہیں ڈینیئل بروبیکر صاحب۔ یہ پی ایچ ڈی سکالر ہیں، یہ قرآن مجید کی ریسرچ پہ ریسرچ کر رہے تھے، پی ایچ ڈی کر رہے تھے، پھر یہ ایک اور مستشرق سے ملے جس کا نام ہے کیتھ سمال شاید آپ نے ان کا نام سنا ہو۔ وہ ان کو مبذول کراتے ہیں ان کی توجہ قرآن مجید کے مینو سکرپٹس میں کی گئی تصحیحات سے یعنی کہ کہیں لفظ مٹایا گیا اس کی جگہ دوسرا لکھا گیا وغیرہ وغیرہ۔ تو یہ ان کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے اور پھر یہ تقریبا 12 سال تک ریسرچ کرتے ہیں اور اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرتے ہیں۔ اسی پی ایچ ڈی کے کچھ ایگزیمپلز وہ پبلش کرتے ہیں اس کتاب کے نام سے جو میں نے آپ کو دکھائی 2019 میں۔ واقعی ایک تہلکا مچ جاتا ہے اس سے پہلے کبھی بھی کسی نے قرآن مجید کے مخطوطات پہ یہ ریسرچ نہیں کی تھی۔ اس ریسرچ کے لیے وہ 2011-12 میں ایک سفر بھی کرتے ہیں جس میں وہ قرآن مجید کے مخطوطات دیکھنے اسلامی ممالک کا ایک بہت طویل دورہ کرتے ہیں۔ اس میں ان کی ملاقات استنبول میں توپ کاپی میوزیم میں رکھے ہوئے مخطوطات کے جو کیوریٹر ہیں ڈاکٹر الطیار ان سے بھی ہوتی ہے۔ اور وہ ان کو اپنی یہ کتاب تفسیر کے لیے بھیجتے ہیں چھپنے سے پہلے۔ پھر یہ کتاب آتی ہے 2019 میں اور پھر اس کی ریفیوٹیشن آتی ہے یا رد آتا ہے 2020 میں۔ تو پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ ڈاکٹر ڈینیئل ایلن بروبیکر آخر کہتے کیا ہیں؟ اس سے پہلے آپ یہ سکرین پہ دیکھ رہے ہیں یہ 18 کے الفاظ ہیں۔ یہ ایک گائیڈ ہے قرآن مجید کے پرانے مخطوطات کو سمجھنے کے لیے۔ جیسے میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بتایا ہے کہ قرآن مجید جب لکھا گیا تو وہ صرف 16 یا 18 حروف کو لے کر لکھا گیا تھا۔ اسی کی وجہ سے قراتوں کے اختلاف پیدا ہوئے تھے اور بہت باقی باتیں میں آپ کو بتا چکا ہوں۔ تو اس پہ ایک نظر ڈال لیجیے خاص طور پہ الف اور لام کو دیکھ لیجیے کہ ان کی شکلیں ملتی جلتی ہیں اور ان میں بہت ہی معمولی سا فرق ہے۔ تو یہ دھیان رکھیے گا۔ آگے چلتے ہیں۔ یہ ہیں ڈاکٹر ڈینیئل بروبیکر کے افکار کا خلاصہ۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید 1.6 بلین لوگوں کا مذہب ہے جس نے تاریخ کو، سیاست کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے اور آج بھی کر رہا ہے۔ پرانے مخطوطات قرآنی انتہائی ضروری ہیں کیونکہ یہ اس بات کا ڈاکومنٹڈ پروف ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پہ آخر نازل کیا ہوا تھا۔ دوسری طرف وہ ہماری توجہ اس بات پر بھی دلاتے ہیں کہ قرآن مجید پہ جو اتنی ساری اصلاحات کی گئی ہیں وہ کیوں؟ اصلاح سے مراد یہ ہے کہ اس میں کتابت کی غلطیاں اتنی ساری ہمیں کیوں ملتی ہیں؟ یہ کیوں ملتا ہے کہ پرانے مخطوطات میں الفاظ لکھے گئے ہیں، مٹائے گئے ہیں، کاٹے گئے ہیں اور دوبارہ لکھے گئے ہیں۔ بعض اوقات دو دو، تین تین، چار چار مرتبہ ان ان کے مسودے کو درست کیا گیا ہے۔ ایسا ہمیں کیوں دکھائی دیتا ہے؟ اور دوسری بات وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ جو ہزاروں میں ہزاروں کا لفظ مبالغے میں نہیں کہہ رہا بلکہ یہ ان کا دعوی ہے کہ قرآن مجید کے پرانے مخطوطات میں ہزاروں جگہ پہ یہ اصلاحات یا تصحیح جو ہے وہ کی گئی ہے الفاظ کی۔ یہ صرف قراتوں کا اختلاف نہیں ہو سکتا۔ یہ یقینا اس بات کا اشارہ ہے کہ قرآن مجید کا ٹیکسٹ جو تھا وہ فلیکسیبل تھا۔ میں نے پہلے بھی آپ کو بتایا تھا کہ یہ فلیکسیبلٹی قرآن مجید کے بارے میں ہمیں اسلام کی تاریخ میں بھی ملتی ہے، سب آرف کی حدیث ملتی ہے۔ باقی مترادفات کی باتیں ملتی ہیں کہ الفاظ بدلنے کی اجازت تھی تو شاید بروبیکر صاحب کا دعوی ہے کہ شاید اس لیے قرآن مجید کے الفاظ میں ہمیں اتنی ساری اصلاحات دیکھنے کو ملتی ہیں۔ جو لوگوں نے اپنے اپنے طور پہ کیں۔ اور اس کے بعد وہ یہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید کا متن جو تھا وہ فلیکسیبل رہا، وہ چینجیبل رہا بہت لمبے عرصے تک۔ حتی کہ 1924 میں قاہرو میں العصر یونیورسٹی کے زیر اہتمام قرآن مجید کا ایک سٹینڈرڈ ایڈیشن چھاپا گیا قرات حفص میں اور قرآن مجید 95-96 پرسنٹ جو آج دنیا میں لوگ پڑھ رہے ہیں وہ یہی قرات حفص کا قرآن ہے جو قاہرو میں قاہرہ میں العصر یونیورسٹی نے چھاپا تھا۔ 1924 میں پھر اس کا ایک ریویژن کیا تھا 1936 میں۔ آگے چلتے ہیں۔ تو پہلی بات تو یہ ہے کہ قرآن مجید میں یا کسی بھی مینیو سکرپٹ میں ہاتھ سے لکھی ہوئی کتابوں میں اغلاط کی تین قسمیں ہوتی ہیں جس کو ڈینیئل بروبیکر صاحب بیان کرتے ہیں۔ پہلی قسم ہے ہاپلوگرافی یعنی کہ آپ نے ایک جملہ یا ایک ورڈ مس کر دیا سرے سے اڑا دیا لکھنا ہی بھول گئے۔ دوسری ہے ڈیٹوگرافی یعنی کہ آپ نے کوئی لفظ کو یا کسی جملے کو آپ نے دو بار لکھ دیا۔ اور تیسری ہے پیرابلپسس یعنی کہ جو لکھنے والا ہے اس کی توجہ ہٹ گئی۔ کسی نے بات کر دی کوئی شور ہو گیا وہ مڑا نب میں انک بھرنے کے لیے یا نیا کاغذ لینے کے لیے تو اس کی توجہ بٹ گئی تسلسل ٹوٹ گیا اور اس طرح اغلاط یا غلطیاں مینیو سکرپٹ کے اندر آ گئی۔ یہ کسی بھی مینیو سکرپٹ کے ساتھ ہو سکتا ہے جو ہاتھ سے لکھا گیا ہے۔ آپ کو میں مزے کی بات بتاؤں کہ پہلے جب ہمارے مصنف مسودات لکھتے تھے تو وہ ایک منشی رکھتے تھے ان مسودات کی صفائی کے لیے۔ یعنی انہوں نے لکھ دیا پورا اور اس کے بعد وہ ایک آدمی ہوتا تھا جو کہ ان مسودات کو پڑھتا تھا اور اس کو الگ سے صاف انداز میں لکھتا تھا پھر وہ کاتب کے پاس پہنچائے جاتے تھے۔ تو یہ ہاتھ سے لکھی ہوئی کتابوں میں یہ غلطیاں ہونا ایک عام بات ہے اس میں قرآن مجید کے ساتھ کوئی خاص حیثیت نہیں ہے۔ اب یہ دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر بروبیکر اپنی تحقیق میں بتاتے ہیں کہ جو اغلاط ہیں قرآن مجید میں جن کو صحیح کیا گیا ہے ان کی پانچ یا چھ قسمیں ہیں۔ پہلی ہے 30 پرسنٹ جو اغلاط ہیں وہ درست کی گئیں جب آپ نے لفظ کو مٹا کر یا جملے کو مٹا کر نیا جملہ یا نیا لفظ لکھ دیا۔ پھر ہے کہ آپ نے اس کے اوپر ایک جیسے ہم اردو انگریزی میں بھی دو لفظوں کے بیچ میں اوپر ایک لفظ لکھ دیتے ہیں ویسے آپ نے لکھ دیا یہ تقریبا 24 پرسنٹ کے قریب جو تصحیح ہے مخطوطات میں وہ ایسی ہے۔ پھر بغیر مٹائے آپ نے کسی لفظ کو یا الفاظ کو لکھ دیا یہ 18 فیصد ہے۔ لفظ کو ہی مٹا دیا وہ لفظ ہی غلط تھا آپ نے پورا مٹا دیا تو یہ تقریبا 10 فیصد ہے۔ پہلے لکھے ہوئے الفاظ کو بغیر لکھے ہوئے بغیر مٹائے ہوئے اس کے اوپر ہی لکھ دینا۔ نہیں ہم اردو یا انگریزی میں بھی لکھتے ہیں کہ اس کو بس موٹا سا کر کے لکھ دیا اس کے اوپر یہ اندازا 2 فیصد ہے جو پرانے مخطوطات میں قرآن مجید کے الفاظ کو صحیح کیا گیا ہے۔ اور 16 فیصد اس طرح ہے کہ آپ نے اس لفظ کو کسی طرح چھپا دیا۔ جیسے ہم چھپاتے ہیں وائٹ لگا دیتے ہیں اس کے اوپر یا اس کو گولے گولے بنا کے اس کو کر دیتے ہیں تو اس طرح بھی قرآن مجید کے مخطوطات میں ہمیں یہ چھ طریقے دکھتے ہیں جس سے غلطیاں درست کی گئیں۔ یہ صاحب کون ہیں؟ یہ ہیں ڈاکٹر طیار ان کا آخری نام میں نہیں لینا چاہتا مجھے ترکش نہیں آتی اور یہ ان کی کتاب کا عکس ہے جو انہوں نے چھاپا۔ یہ کوئی معمولی آدمی نہیں ہے۔ یہ سیاست میں بھی رہے اور قرآن مجید کی جو پریزرویشن ہے اس کی اکیڈمی کا ڈائریکٹر بھی تھے۔ ان کا آپ کام دیکھیے۔ یہ چند میں نے صرف تین مصحف لگائے ہیں انہوں نے تقریبا سات یا آٹھ پرانے قرآن مجید کے مخطوطات کو درست کر کے ترتیب کے ساتھ اس پہ بہترین ریسرچ ورک کر کے چھاپا ہے۔ یہ مصحف الشریف کے نام سے آتے ہیں جیسے آپ دیکھ سکتے ہیں برٹش لائبریری کا مخطوطہ ہے جو انہوں نے چھاپا ہے۔ پھر ٹبن جن جرمنی کا مخطوطہ ہے جو انہوں نے چھاپا ہے اور پھر ان کی تفسیر ان کی تصویر کے نیچے جو لگا ہوا ہے یہ حضرت عثمان ابن عفان کے ساتھ جو ایک مشہد الحسینی کا قرآن ہے۔ وہ پورا چھاپا ہے انہوں نے اور ان کا ایک میں آپ کو ایک اگلی ویڈیو میں یا کسی اور ویڈیو میں آپ کو دکھاؤں گا کہ ان کے چھپے ہوئے قران میں نے بھی منگوایا تھا ترکی سے اور واقعی ان کی ریسرچ امپیکبل ہے یعنی کوئی معمولی آدمی نہیں ہے بلکہ اگر آپ میری ذاتی رائے پوچھیں تو میرے خیال سے یہ ڈاکٹر ڈینیئل بروبیکر سے بہت زیادہ اعلی پائے کے عالم ہیں قرآن مجید کے مخطوطات رسم الخط اور اس کی ٹرانسمیشن کے حوالے سے اور یہ ایمان والے آدمی ہیں مطلب یہ ایریلیجس یا ملحد ٹائپ انسان نہیں ہیں یہ باقاعدہ مسلمان ہیں۔ یہ کیا کہتے ہیں؟ یہ ڈاکٹر الطیار کی اس کتاب پہ چند تبصرے کرتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ بتا دیتے ہیں کہ بھئی ہم یہی بات مانتے ہیں جو بات درست ہے تاریخی طور پر بھی ثابت ہے کہ قرآن کا رسم اور اس کی قرات مصحف عثمانی کے تابع ہے۔ جو حضرت عثمان نے قرآن مجید لکھوا کے پھیلائے تھے امت میں تمام قرات بھی اسی سے اسی کے تابع ہیں اور اس کا رسم الخط بھی اس کے تابع ہے۔ پھر وہ یہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر بروبیکر غیر جانب دار محقق نہیں ہیں بس مسلمانوں کو کنفیوز کرنا چاہتے ہیں۔
[9:11]پھر وہ تحقیق کے میتھڈولوجی پر اعتراض اٹھاتے ہیں اور جو اچھے اعتراضات ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ڈاکٹر بروبیکر نے یہ گوارا نہیں کیا کہ وہ ان مخطوطات میں جو غلطیاں ان کو دکھی ہیں اس کو اسی ٹائم پیریڈ کے دوسرے مسودات سے کمپیئر بھی کریں کہ یہ غلطیاں ہیں بھی یا نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ کام نہیں کیا انہوں نے بس جو ان کو مخطوطات میں غلطیاں ملی انہوں نے ان کو جمع کر لیا جو ہزاروں میں ہے اور الطیار صاحب بھی اس کا انکار نہیں کرتے وہ کہتے ہیں کہ واقعی بے شمار غلطیاں ہیں یعنی ہزاروں میں غلطیاں ہیں۔ پھر وہ یہ کہتے ہیں کہ ڈینیئل بروبیکر کی جو دوسری غلطی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی تحقیق کو صرف پہلی، دوسری یا شاید تیسری صدی ہجری یعنی سیون، ایٹ، نائنتھ سینچریز کامن ایرا وہیں تک محدود رکھا۔ انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ جو کتابت کی ایک کا ایک تسلسل چلا آ رہا ہے جو چھاپہ خانہ آنے تک جاری رہتا ہے کہ اس میں ایسی غلطیاں تھیں اور اگر اس میں بھی ایسی غلطیاں تھیں تو ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ یہ قرآن مجید میں ایڈیشن نہیں ہے بلکہ یہ کتابتی غلطیاں ہیں۔ اس کی وہ ایک بہت ہی زبردست دبنگ قسم کی مثال بھی پیش کرتے ہیں جو میں آپ کو دکھاتا ہوں۔ یہ قرآن مجید دیکھیے یہ 1437 کامن ایرا میں لکھا ہوا قرآن ہے۔ یعنی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تقریبا 800، 840 سال کے آس پاس 800 سال کے آس پاس ہے۔ اس میں یہ چار چیزوں پہ نشاندہی کرتے ہیں کہ پہلی والی ہے لیا اس میں لفظ بحق مسنگ ہے کاتب لکھنا بھول گیا۔ دوسرا ہے الغیوب جس کو کاتب نے جب ریویژن کی اپنی لکھے ہوئے کی تو اوپر لکھ دیا۔ یعنی لفظوں کے بیچ میں اوپر لکھ دیا اسے تصحیح کر دی۔ تیسرا ہے شہیدا یہ اصل میں شہید ہے جس کو شہیدا لکھ دیا ہے۔ اور آخر میں ہے سب سے نیچے والا یہ صدقہ ہم ہونا چاہیے اور اس کو بصقہم لکھ دیا ہے جو بھی جو بھی غلط ہے۔ تو یہ دکھا رہے ہیں کہ مخطوطات میں غلطیاں صرف ارلیسٹ مینیو سکرپٹس میں نہیں ہوئی بلکہ جب تک کتابت جاری رہی ہے چونکہ انسانی کام ہے اس میں یہ غلطیاں ویسے ہی ہوتی رہیں۔ اس پہ مزید کام میں کلام میں آگے جا کے کروں گا جب یہ بات پوری طرح کھل جائے گی۔ چلیے۔ اب یہ دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر الطیار نے اپنی کتاب کے لیے کون سے مخطوطات کا انتخاب کیا تو انہوں نے یہ نو مخطوطات کا انتخاب کیا جو بہت ہی مشہور ہیں سوائے ایک کے جس کی مجھے زیادہ ریکمینڈیشن نہیں ملی۔ سب سے پہلا تو توپ کاپی مینیو سکرپٹ ہے جو استنبول میں ہے یہ ساتویں یا آٹھویں صدی کے درمیان لکھا گیا۔ پھر مشہد الحسینی مینیو سکرپٹ ہے یہ ساتویں آٹھویں صدی کے درمیان لکھا گیا ساتویں آٹھویں صدی سے مراد ہے پہلی صدی اور دوسری صدی ہجری۔ سنا مینیو سکرپٹ یہ بہت ہی مشہور ہے یہ تقریبا پہلی صدی ہجری کا ہی مینیو سکرپٹ ہے۔ پیرس مینیو سکرپٹ ہے یہ پورا نہیں ہے لیکن یہ بھی ساتویں آٹھویں صدی کا ہے پھر ٹبن جن مینیو سکرپٹ ہے۔ اس کا ذکر میں نے اپنی پچھلی ویڈیو میں بھی کیا تھا یہ بھی پہلی صدی کا آتا ہے بتایا جاتا ہے کاربن ڈیٹنگ سے لیکن پیلو گرافی سے شاید یہ ساتویں صدی کے شروع کا ہے۔ لندن مینیو سکرپٹ ہے برلن مینیو سکرپٹ ہے توپ کاپی کا مدینہ مینیو سکرپٹ ہے یہ دوسرا مینیو سکرپٹ ہے جو توپ کاپی میں لایا گیا تھا وہاں پہ جنگ چھڑ گئی تھی۔ اور آخر والا جو ہے اس کو یہ ٹی ایم ہے یا ٹی ایم ہے مجھے معلوم نہیں لیکن اس کی بہرحال مجھے مل نہیں سکا کہ یہ کب کا ہے اور تیار صاحب نے بھی نہیں بتایا کہ یہ قرآن مجید کب کا ہے اس کے جو تصویریں میں آپ کو آگے دکھاؤں گا اس کی لکھائی سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شاید لیٹ سیون سینچری یا ارلی ایٹ سینچری کا ہے یعنی وہ خط حجازی اور کہیں کہیں کوفی خط میں وہ اس کی جھلک ملتی ہے اس میں۔ چلیے اب شروع کرتے ہیں ان کریکشنز کو دیکھنا۔ اچھا میں یہ بتا دوں کہ اس کتاب میں 20 ایگزیمپلز انہوں نے دیے ہیں میں 20 تو نہیں دکھا سکتا اپ کو ویڈیو دو تین گھنٹے کی ہو جائے گی۔ میں نے اس میں سے چند پک کی ہیں وہ میں اپ کو دکھاتا ہوں اور پھر ان کا رد دکھاؤں گا۔ تو اچھا اس سے شروع ہونے سے پہلے یہ ایک اور کتاب ہے جو آن لائن اویلیبل ہے اگر آپ اس کو گوگل کریں گے تو اپ کو یہ کتاب مل جائے گی۔ یہ دو افراد نے چھاپی ہے اس میں انہوں نے بہت تحقیق تو بہت عمدہ نہیں کی مطلب اچھی ہے عام سی باتیں ہیں لیکن انہوں نے تصاویر جو دی ہیں پرانے مینیو سکرپٹس کی وہ بہت زیادہ ہیں۔ تو شروع کرنے سے پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ جو قرانک مینیو سکرپٹس کی انہوں نے غلطیاں بتائی ہیں طیار صاحب اور ان صاحبوں نے یہ کیا ہے ان صاحب نے یہ کیا ہے کہ پرانے دوسرے قرآن مجید جو تھے جو اسی ایرا کے تھے اس میں سے وہی آیات ڈھونڈ کے نکالی ہیں اور ثابت کیا ہے کہ یہ غلطیاں غلطیاں نہیں ہیں یہ قرآن مجید کے متن میں تبدیلی نہیں ہے یہ کاتبین کی غلطی ہے۔ چلیے شروع کرتے ہیں۔ یہ دیکھیے آپ پہلی مثال یہ نو آیات ہیں۔ سورہ احزاب سورہ حج سورہ فاطر سورہ نور اور سورہ توبہ۔ اس میں جو کاتب ہے وہ ہر جگہ لفظ اللہ لکھنا بھول گیا یہ ایک قرآن اس میں سے جو میجورٹی ہے وہ ایک ہی قرآن ہے جس کا میں نے پچھلی بار بھی ذکر کیا تھا یہ الفسطاط فسطاط جو شہر ہے اٹھارہ اٹھارہویں انیسویں صدی کے شروع میں وہاں پہ امر بن العاص کی مسجد سے یہ قرآن مجید ملے تھے نپولین نے جب مصر پہ قبضہ کیا تھا اس کے بعد۔
[14:02]تو اس میں وہ یہ بتاتے ہیں جو بروبیکر صاحب ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ کتنی عجیب سی بات ہے کہ کاتب قرآن لکھ رہے ہیں اور وہ لفظ اللہ ہی بھول جاتے ہیں لکھنا یہ کتنی عجیب سی بات ہے اس سے وہ دو نتائج نکالتے ہیں پہلا نتیجہ تو وہی جس کا میں نے پہلے ذکر کیا تھا کہ قرآن مجید کا جو ٹیکسٹ تھا وہ فلیکسیبل تھا اس میں لچک تھی آپ الفاظ آگے پیچھے کر سکتے تھے۔ اور دوسرا وہ یہ کہتے ہیں کہ شاید پہلی دوسری صدی تک قرآن مجید زبانی ٹرانسفر ہوا تھا اس لیے یہ لفظ رہ گئے بیچ میں لوگ بھول گئے کہ انسان ظاہر سی بات ہے بھولتا ہی ہے ہمارے ہاں جو چھ سات سال میں بچے حفظ کر لیتے ہیں اگر وہ دہرائیں نہیں وہ بھول جاتے ہیں اگر میں آپ کو بتاؤں تو ایک عام حافظ جو ہوتا ہے بہت ہی فنامنل حافظ نے یہ عام حافظ وہ روزانہ کم از کم تین پارے دہرانے ہوتے ہیں اسے حفظ تازہ کرنا کہتے ہیں اسے نہیں تو آپ بھول جاتے ہیں تو بروبیکر صاحب کہتے ہیں کہ جب اللہ جیسی میجر چیز کاتبین بھول رہے ہیں تو شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ لکھے ہوئے قرانوں کا رواج کم تھا اور زبانی رواج زیادہ ہوتی تھی اس لیے لوگ بھول گئے یا پھر یہ کہ قرآن مجید کا ٹیکسٹ جو تھا وہ فلیکسیبل تھا۔
[15:05]اچھا اس میں جو یہ آیات ہیں ساری میں نے نو آیات لکھ دی ہیں اپ اس کو بعد میں فرصت سے پڑھ لیجیے گا ہم وقت بچانے کے لیے آگے چلتے ہیں۔ یہ آپ دیکھیے تو الطیار صاحب نے اپنی کتاب ریفیوٹیشن میں پہلی تین جو آیات تھیں صرف ان کا رد کیا ہے۔ تو پہلے وہ دکھا رہے ہیں فرسٹ ایگزیمپل یہ توپ کاپی کا مینیو سکرپٹ ہے اپ دیکھ سکتے ہیں کہ اللہ جو ہے وہ لکھا ہوا نظر ا رہا ہے مین ٹیکسٹ میں۔ دوسرا جو یہ مشہد الحسینی کا مینیو سکرپٹ ہے یہ بھی ساتویں آٹھویں صدی کے ہیں یہ دونوں اس میں اپ کو لفظ اللہ دکھ رہا ہے ایسی تیسری دوسرے اور تیسرے ایگزیمپل میں بھی وہ مخطوط وہ بتاتے ہیں کہ یہ لفظ اللہ قرآن مجید کے ٹیکسٹ میں موجود ہے یعنی کہ باہر سے نہیں آیا یہ یہ ٹیکسٹ میں موجود ہے اس کا مطلب ہے کہ قرآن کا یہ پہلی دوسری ہجری یا سیون ایٹ کامن ایرا میں ہی قرآن کے متن کا حصہ تھا یہ بعد میں نہیں ڈالا گیا یہ بروبیکر صاحب کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ اس سے آگے میں نے جو بقیہ چھ آیات ہیں اس کے میں نے جو ایگزیمپلز دی ہیں وہ دوسری کتاب سے لی ہیں ان سگنیفیکنس اف کریکشن جس کا نام تھا۔ تو یہ دیکھیے یہ قرآن مجید کی ڈیٹ ہے 662 سے 765 تک یعنی کہ پہلی صدی ہجری کے درمیان سے لے کے دوسری صدی ہجری کے 2/3 تک اپ کہہ لیجیے۔
[16:17]تو یہ پہلی جو میں نے بتایا تھا وہ تھیں سورہ احزاب کی تین آیات ہیں جس میں انہوں نے دکھایا تھا یہ سورہ فصلا ہے سورہ فصلا کی آیت نمبر 21 میں اپ کو وہ دکھا رہے ہیں باقاعدہ ہائی لائٹ کر کے لفظ اللہ قرآن مجید کے متن میں لکھا ہوا ہے یہ بعد میں ایڈ نہیں ہوا۔ آگے چلتے ہیں یہ سورہ حج کی چالیسویں آیت ہے یہ بھی خط مائل کا قرآن مجید ہے اور یہ بھی اس کا ٹائم بھی آٹھویں صدی سے کے آس پاس کا ہے یعنی یہ کہ یہ دوسری صدی کے دوسری صدی ہجری کے آخر میں یا پھر تیسری صدی ہجری کے بالکل شروع میں لکھا گیا۔ یہاں بھی اپ دیکھ رہے ہیں کہ اللہ جو ہے وہ موجود ہے وہ متن میں متن کا حصہ ہے وہ۔ یہ ایک اور مثال میں نے لکھی ہے یہ خط مائل کا قرآن مجید ہے یہ بالکل پہلی صدی کا ہے اس کی ڈیٹ اپ دیکھ سکتے ہیں 568 سے 645 تک یہ وہی سنا مینیو سکرپٹ ہے۔ اس کے وہ پیلم سیٹ نہیں اس کے دوسرا پارٹ ہے یہ۔ یہ بھی اپ دیکھ سکتے ہیں کہ اللہ جو ہے وہ لکھا ہوا ہے بالکل شروع میں یعنی پہلی صدی میں ہی اللہ لکھا ہوا ہے اس کے اندر یہ بعد میں ایڈیشن نہیں ہے۔ یہ سورہ فاطر کی آیت ہے یہ ٹبن جن قران ہے اس کا ذکر میں نے پچھلی ویڈیو میں کیا تھا یہ بھی خط مائل میں لکھا ہوا ہے حجازی رسم الخط میں ہے خط مائل اسٹائل میں لکھا ہوا ہے قران اس میں بھی اللہ جو ہے وہ موجود ہے۔ یہ دیکھیے یہ بھی یہ قرآن مجید کی سورہ فاطر ہے اور یہ بھی خط مائل کا ہی قرآن مجید ہے یعنی کہ پہلی دو صدیوں میں اس کی اس کو لکھا گیا اور یہ بھی جو ہے اس میں بھی اللہ موجود ہے۔ یہ قرآن مجید کی جو سورہ ہے سورہ توبہ اس کی 93 آیت میں لفظ اللہ بالکل واضح لکھا ہوا ہے متن میں اور اس کی بھی ڈیٹ ہے بيفور 750 یعنی کہ یہ پہلی صدی ہجری کا ہی قرآن ہے۔ یہ اسی کا قرآن اسی پہلی صدی میں ہی یہ لفظ موجود تھا یعنی قرآن کا متن جو ہے وہ محفوظ تھا پہلی صدی ہجری سے ہی۔ اور یہ جو ہے آخری مثال ہے یہ سورہ توبہ کی 78 آیت ہے یہ بھی خط مائل کا قرآن مجید ہے خط حجازی میں خط مائل اسٹائل میں لکھا ہوا قرآن مجید ہے اس میں بھی لفظ اللہ واضح طور پر موجود ہے یعنی انہوں نے الطیار صاحب نے اس مثال کو تو اڑا کے رکھ دیا کہ جو مثال اپ لے کر ائے ہیں فسطاط کی اس سے پہلے کے قرآن ہیں سارے اور وہ سب دکھا رہے ہیں کہ یہ لفظ اللہ جو تھا وہ لکھا ہوا تھا یعنی کہ یہ کاتب کی بھول ہے یہ ایڈیشن نہیں ہے۔ ایک اور مثال دیکھتے ہیں یہ ہے ایگزیمپل نمبر 5 یہ تھوڑا سا مشکل مثال ہے میں کوشش کرتا ہوں اس کا سمجھانے کی ویسے اس تصویر میں اپ کو صرف تین دکھ رہی ہیں لیکن اس میں اصل میں چار یا پانچ جگہوں پہ مسائل موجود ہیں۔ میں نے اس کے آگے کی ایک اور تصویر لگائی ہے تو پہلے اپ یہ دیکھ لیجیے کہ یہ اللہ ہے سب سے سیدھے ہاتھ پہ اور یہ علیہ کی جگہ آنا تھا۔ اس میں سطروں کا بھی فرق ہے یعنی اللہ کو ایک سطر نیچے لکھا گیا ہے بالکل علیہ کے ساتھ نہیں لکھا گیا۔ پھر یہ جو تیسرا ریڈ باکس ہے یہ الذین ہے جو اوپر سے اس لفظ کے اوپر ہی لکھ دیا گیا ہے۔ پھر ایک اور ہے جس پہ ریڈ باکس نہیں ہے لیکن اگر اپ نیچے دیکھیں گے علیہ کے نیچے تو وہاں پہ اپ کو ایک ڈارک نظر ائے گا یہ بھی بعد کے ایڈیشن ہے یہ یعلمون یا تعلمون ہے جس کو صحیح کیا گیا ہے۔ اور بالکل لیفٹ سائیڈ پہ اپ کو چھوٹا سا ایرو دکھے گا یہاں پہ ایک لفظ ایکسٹرا ہے اس مینیو سکرپٹ میں۔ یہ وہ دکھا رہے ہیں یہ بھی حجازی سکرپٹ کا قرآن مجید ہے یعنی کہ دوسری صدی کے بعد کا یہ خط مائل تو نہیں لگ رہا لیکن یہ کہ یہ اس کے بعد کا ہے۔ یہ اس کی رنگین تصویر ہے جس میں بالکل ہائی لائٹ کی ہوئی ہیں ساری کی ساری سارے کے سارے مسائل یعنی کہ علیہ پہ دائرہ لگا ہوا ہے کہ یہ غلطی تھی دوسری وہ اللہ جو ہے وہ ایک سطر نیچے لکھا ہوا ہے پھر وہ پھر نمبر تین وہ الذین جو ہے وہاں پہ نشان لگا ہوا ہے نمبر تین کا نمبر چار پہ یہ نشان ہے میں نمبر چار پر بات نہیں کروں گا کیونکہ تیار صاحب نے بھی اس پہ کوئی کلام نہیں کیا اس کو انہوں نے ایسے ہی چھوڑ دیا ہے اور اس پہ بروبیکر صاحب نے بھی کوئی خاص اعتراض نہیں اٹھایا ہے۔ وہ مان لیا کہ یہ اسکرائبل ایرر ہے لکھنے والے کی غلطی ہے۔ یہ مزید تفصیل کے لیے اس کی جو پہلی بات ہے اس کو اپ چھوڑ دیجیے بروبیکر صاحب نے تصویر دی ہے اس پہ کوئی بات نہیں کی۔ پھر یہ جو مینیو سکرپٹ ہیز ایکسٹرا ورڈز ہیر تو یہ جو بما کنتم ہے 93 آیت ہے العنام کی 93 آیت ہے یہاں پہ تکفرون باللہ کے لفظ موجود ہیں۔ جو کہ اصل مینیو سکرپٹ میں جو آج ہم پڑھتے ہیں قران اس میں موجود نہیں ہے اور اللہ کو انہوں نے ہائی لائٹ کیا ہے جو درست ہے الذین کو ہائی لائٹ کیا ہے جو کہ درست ہوا ہے۔ اب اس کا رد دیکھتے ہیں یہ چھ قرآن مجید انہوں نے دکھائے ہیں سب سے پہلا اپ پیرس مینیو سکرپٹ ہے خط مائل میں لکھا ہوا ہے پہلی صدی ہجری کا یہ دوسری صدی کے بالکل شروع کا اس میں اللہ ویسے ہی لکھا ہوا ہے اور الذین بھی لکھا ہوا ہے۔ پھر توپ کاپی مینیو سکرپٹ ہے وہ بھی خط حجازی میں ہے دونوں چیزیں وہاں بھی موجود ہیں اور ایسے ہی سیدھے ہاتھ کی طرف جو چار مینیو سکرپٹس ہیں مشہد الحسینی کا توپ کاپی کا ایک دوسرا مینیو سکرپٹ وہ ٹی ایم کا جو مینیو سکرپٹ ہے اس کی ڈیٹ مجھے ناٹ شور کہ وہ کب تھا اور برلن مینیو سکرپٹ جو کہ ساتویں صدی یا آٹھویں صدی کا ہے ان سب میں اللہ الذین ایسے ہی موجود ہے۔ اچھا اس پہ جو علیہ والی بات ہے اس پہ تیار صاحب نے کوئی بات نہیں کی انہوں نے بس کہا ہے کہ اسکرائبل ایرر ہے اس کی دلیل انہوں نے یہ دی کیونکہ یہ بڑا اعتراض ہے کہ جو غلطی ہے وہ بھی اس غلطی کے نیچے ہے۔ صحیح ہوئی ہوئی اس غلطی کے آس پاس صحیح نہیں ہوئی ہوئی اور ہم بات قرآن کی کر رہے ہیں کوئی نظم نہیں ہے کوئی شعر نہیں ہے یہ القرآن کی بات ہو رہی ہے۔ اس لیے تو الطیار صاحب بھی کہتے ہیں کہ دیکھیے پہلے جو قرآن مجید لکھے جاتے تھے وہ کسی انسٹیٹیوشنل بیکنگ کے ساتھ نہیں لکھے جاتے تھے۔ لوگ آپس خود ہی لکھ لیتے تھے اور بغیر کسی ریویژن کے ان کو پھیلا دیا جاتا تھا اس لیے اس طرح کی غلطیاں موجود ہوتی ہیں۔ یہ بہت ہی ویک ارگیومنٹ ہے۔ لیکن خیر چلیے یہ ان کا جواب ہے بہرحال۔ یہ ایک اور ایگزیمپل دیکھیے یہ ہے سورہ مائدہ کی آیت 93 اس میں کافی چیزیں ہو رہی ہیں میں اپ کو بتاتا ہوں۔ تو یہ وعملوا صالحات ثم اتقوا وآمنوا یہ آیت ہے۔ اس میں تبدیلیاں کیا ہیں پہلی بات کہ یہ کاتب نے یہ پورا فریز مس کر دیا۔ پھر اس کو لکھا گیا ہے لیکن پھر ایک اور کاتب نے یہ جو عمل ہے اس کا الف بعد میں لگایا ہے۔ یہ دوسری انک میں ہے اور ان کی تصویر تو اپ خیر نہیں دیکھ سکتے لیکن یہ دوسری انک میں ہے اور یہ بعد میں لگایا ہے جس پہ ریڈ ایرو نشان لگا رہا ہے۔ اس کے اگے یہ جو آمنو ہے جہاں پہ یلو ایرو ہے جو پیلا نشان ہے وہاں پہ الف نہیں لگا ہوا یعنی جو اسکرائبر جو کاتب نے جب تصحیح بھی کی ہے تو اس نے عملو پہ تو الف لگا دیا لیکن آمنو پہ نہیں لگایا۔ اور یہ بہت بعد میں ہوا ہے یعنی کہ اس میں احسن کا لفظ بھی اتا ہے آگے وہاں بھی الف لگا ہوا ہے جو عملو کے الف سے ملتا جلتا ہے لیکن آمنو کا الف پھر بھی چھوڑ دیا گیا تو یہ کافی عجیب سی بات ہے کہ ایک الف اپ نے کیوں چھوڑا جب اپ قرآن مجید کو دوبارہ پڑھنے اس کی تصحیح کرنے کے لیے یہ قرآن بھی خط حجازی میں لکھا ہوا ہے اور یہ یہ میں نے ڈیٹ لگا دی ہے یہ پہلی صدی ہجری کا یہ قرآن ہے۔ اس کو یہ الطیار صاحب جو ہیں یہ پانچ مینیو سکرپٹس لاتے ہیں ہمارے سامنے یہ سارے مینیو سکرپٹس تھوڑے سے نئے ہیں بروبیکر صاحب کے مینیو سکرپٹس سے لیکن آس پاس ہی یعنی 20 سے 50 سال تک کا ہی ڈفرنس ہے۔ اس میں وہ دکھاتے ہیں کہ یہ دونوں چیزیں موجود ہیں یعنی یہ دونوں عملو اور آمنو یہ ویسے ہی موجود ہے جیسے کہ لکھا ہوا تھا اصل قرآن میں مطلب یہ جو ہم آج پڑھ رہے ہیں یہ ایڈیشن نہیں ہے اس کے اندر۔
[23:16]یہ اب یہ شاید آخری میرے خیال سے آخری ایگزیمپل ہے تو یہاں پہ لفظ اصعا یہ لکھا گیا ہے۔
[23:53]یہ بہت امپورٹنٹ ہے اور اس میں بروبیکر صاحب کا اعتراض بہت اچھا تھا جس کو طیار صاحب نے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ یعنی نیچے ایت اپ دیکھ سکتے ہیں میں نے لگا دی ہے کہ جس میں اصا کا لفظ تھا جو انہوں نے لکھ دیا جو بروبیکر صاحب کا جو دوسرا اعتراض یہ تھا کہ یہ جو اصا ہے یہ اور دوسری ایت میں بھی ملتا ہے۔ وہ دوسری آیات میں بھی اصا کا لفظ الگ سے لکھا گیا ہے۔ تو دوسرے قران مجید میں اس میں نہیں جس کو وہ ایگزیمن کر رہے ہیں دوسرے قران مجید میں۔ تو اس کو بہرحال طیار صاحب نے اس کو ایک اسکرائبل ایرر کہہ کے ہٹا دیا اس کا رد انہوں نے اچھا کیا ہمیں چھ مثالیں دی ہیں انہوں نے کہ اصا ایسے ہی موجود تھا۔ اور باقی سارے مینیو سکرپٹ جو ہیں میں اصا ایسے ہی موجود تھا یہ بھی ایڈیشن نہیں ہے تو اب تک طیار صاحب نے بالکل ڈینیئل بروبیکر کے بالکل رد کر دیا ہے ڈاکٹر بروبیکر نے اپنی ویب سائٹ پہ اس کی اس کتاب کی وصول ہونے کی ویڈیو ڈالی تھی 2020 میں۔ پانچ سال ہو گئے ہیں اب آج تک انہوں نے اس کا جواب نہیں دیا۔ یا کم از کم جتنی تحقیق میں نے کی ہے مجھے ان کا جواب نہیں ملا کہ اس کا کیا جواب ہو گا۔ اچھا یہ سلائیڈ ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں یہ اب میں ا رہا ہوں مثال ساری ختم ہو گئی اب میں ا رہا ہوں تبدیلی کی طرف۔ اب اپ بروبیکر صاحب نے ایک ہی یہ مثال پیش کی تھی کہ قرآن مجید میں جو تصحیح جو کی گئی ہے وہ اتنی زیادہ ہے کہ اگر اپ کسی ایک لفظ کو لے لیں کہ بھئی میں ایک لفظ پہ تحقیق کروں گا تو اپ اس پہ بھی پی ایچ ڈی کر سکتے ہیں۔ اب یہ وہ لفظ رزق جو ہے وہ لیتے ہیں اس کے مختلف فارم ہیں یرزقو رزقنا ہم وغیرہ وغیرہ تو وہ اس کی فارمز لیتے ہیں انہوں نے یہ دکھایا ہے کہ صرف اگر میں ایک لفظ کو خاص کر لوں تب بھی میں قرآن مجید کے مینیو سکرپٹس میں صرف اسی لفظ کی بے شمار غلطیاں اور پھر ان کو صحیح کرنا دکھا سکتا ہوں۔ یہ تین یا چار مثالیں انہوں نے دی ہیں۔ میں چوتھی مثال میں رزق نہیں ہے اس کے علاوہ اور بھی غلطیاں ہیں لیکن باقی تین جو مصحف انہوں نے دیے ہیں یہ تینوں کے تینوں میں رزق کا لفظ کا کوئی نہ کوئی ایڈجیکٹو یا ورب فارم میں انہوں نے بتایا ہے کہ یہ غلط لکھا ہوا ہے جس کو بعد میں درست کیا گیا۔ یہ بہت عجیب سی بات ہے اگر اپ اس پہ غور کیجیے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے مان سکتے ہیں کہ قرآن مجید محفوظ ہم تک پہنچا ہے؟ میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے میں اس لیے نہیں کہہ رہا کہ میں خود ایک ملحد ہوں یا ایکس مسلم اپ کہنا چاہیں مجھے میں اس کو بالکل معروضی دلیل کے طور پہ پیش کر رہا ہوں اور بالکل معروضی طور پہ ایمپارشل جتنی میری استعداد ہے ایمپارشل ہو کے اس بات کو میں بیان کر رہا ہوں کہ میرا خیال ہے کہ یہ محفوظیت کی دلیل نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو 20 کریکشنز انہوں نے دی ہیں الطیار صاحب نے اور باقی دو صاحبوں نے بالکل اس کو رد کر دیا ہے یعنی بالکل مٹا دیا ہے اس کو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے اس کے لیکن سوال پھر بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر اتنی غلطیاں ہیں کیوں؟ ہمیں بیت الحکمہ جو امیوں نے قائم کیا تھا عباس نے اس کو بڑھایا جس کو ہم دارالترجمہ کہتے ہیں اس میں بھی انتظام موجود تھا کہ جب عربی فلسفے کی میتھیمیٹکس کی جیومیٹری کی کتابیں ترجمہ ہوتی تھیں تو اس کی کراس چیکنگ ہوتی تھی۔ اس کو کوئی وہ سبجیکٹ جاننے والا اس کو پڑھتا تھا اس کو میں درستگی پیدا کرتا تھا قران کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہے۔ پھر یہ چند غلطیاں نہیں ہیں یہ ہزاروں غلطیاں ہیں۔ دیکھیے غلطیاں ہوئیں۔ جو کچھ مینیو سکرپٹس میں نہیں دی ہوئی لیکن جو مینیو سکرپٹس غلط تھے ان کی ان کی بے فے تبدیلیاں تو لازمی ائی ہوں گی۔ اب ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ نہیں نہیں وہ تو قران مجید زبانی روایت سے پہنچا ہے۔ دیکھیے زبانی روایت سے بالکل پہنچا ہے لیکن جو یاد کرنے والا ہے وہ بھی قران سے دیکھ کر ہی یاد کرے گا۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ہمارے قرا جو ہیں جو آج ہی موجود ہیں آج سے 50 سال پہلے 100 سال پہلے 500 سال پہلے 800 سال پہلے وہ سب دیکھ کے ہی یاد کرتے تھے۔
[27:54]پہلی بات تو کہ وہ بھونگی ہے۔ آٹھ لاکھ الفاظ کسی کے ڈیڈی یاد نہیں کر سکتے۔
[28:05]اور دوسری بات یہ کہ وہ حدیث کا متن یاد نہیں ہوتا تھا اس کے ترک یاد ہوتے تھے یعنی کہ راوی یاد ہوتے تھے۔ تو جو بھی لوگ یاد کرتے تھے حدیث ان کے لکھے میں کتنی غلطیاں ہوئی ہیں وہ تو ہم آج جان نہیں سکتے آج اگر میں اپ کو بتاؤں کہ سیاست کا کی کوئی بھی کتاب اوریجنل ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔ نہ بخاری نہ مسلم نہ ابن ماجہ نہ سنن ابی داؤد نہ مصنف ابن شیبہ کوئی بھی کتاب اوریجنل موجود نہیں ہے۔
[28:40]وہ کاپیز کی کاپیز کی کاپیز ہیں۔ اس میں کتنی غلطیاں ہوئی ہیں کتنی باتیں رہ گئی ہیں کتنے الفاظ ایڈ ہو گئے ہیں کتنے وہ دور ہو گئے ہیں اس لیے مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ حدیث کو جب وحی کہتے ہیں تو آئی ڈونٹ انڈرسٹینڈ لیکن خیر وہ بات دوسری ہوگی۔ تذیہ اگر میں کروں اپنی بات ختم کرتے ہوئے تو حیرانی اس بات پہ ہوتی ہے کہ غلطیاں موجود ہیں بہت زیادہ ہیں ان کو درست کرنے کا انتظام بھی بہت ہی فالٹی سا محسوس ہوتا ہے تو اس لیے قرآن مجید کی محفوظیت میرے نزدیک ابھی بھی میں میرے نزدیک سکالر کی حیثیت سے نہیں ایک عام آدمی کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں۔ ثابت نہیں ہوتی اور دوسری بات یہ کہ یہ جو ہم یہ جو ہم کہتے ہیں کہ قرآن مجید جو تھا وہ شوشے کا فرق نہیں ہے وہ بھی مکمل طور پہ مستند طور پہ وہ ثابت نہیں ہوتا یہ بات البتہ بالکل ٹھیک ہے کہ اس کا متن بنیادی طور پہ 90 پرسنٹ 80-90 پرسنٹ انچینج ہے جو دعوی کسی اور کتاب کے بارے میں بہرحال نہیں کیا جا سکتا۔ چلیے میں اپ سے اجازت لیتا ہوں کوئی سوال ہو تو ضرور کیجیے گا اس ویڈیو میں شاید بہت ساری باتیں میں نے سکپ کر گیا ہوں تو کیونکہ یہ بہت زیادہ مٹیریل ہے لیکن پھر بھی کوشش کروں گا کہ اپ کے سوالات اگر ائیں تو میں ان میں پھر مزید بات تفصیل سے بتا سکوں۔
[33:50]ملتے ہیں کوئی دنوں میں اگلی ویڈیو میں اپنا خیال رکھیے اللہ حافظ۔



