[0:00]السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عزیز طالبات امید ہے اپ خیر و عافیت کے ساتھ ہوں گے۔ اج ہماری کتاب جامع ترمذی کا پہلا سبق ہے اور اج ہم اس کتاب کا اغاز کرنے جا رہے ہیں۔ اج ہماری بہت خوش نصیبی ہے کہ احادیث مبارکہ کی اہم کتاب جامع الترمذی جو ہم اج شروع کریں گے۔ احادیث کے اداب کا لحاظ کرتے ہوئے اداب کا لحاظ کرتے ہوئے احادیث کو سنیں گے، پڑھیں گے، یاد کریں گے، کوشش کریں گے دوسروں تک پہنچانے کی، عمل کرنے کی نیت سے سننا ہو انتہائی محبت اور عقیدت کے ساتھ درود شریف پڑھ لیں۔ اللہم صلی علی محمد و علی ال محمد کما صلیت علی ابراہیم و علی ال ابراہیم انک حمید مجید۔ اللہم بارک علی محمد و علی ال محمد کما بارکت علی ابراہیم و علی ال ابراہیم انک حمید مجید۔ سبق شروع کرنے سے پہلے دعا پڑھ لیں۔ اللہ رب العزت ہمیں کتاب کو پڑھنے، سمجھنے میں اسانی عطا فرمائے۔ اور ہمیں اس کتاب کو پایا تکمیل تک پہنچنے کی توفیق عطا فرمائے اور کتاب کے نور سے بہرہ ور فرمائے۔ رب یسر ولا تعسر و تمم بالخیر و بک نستعین یا فتاح یا فتاح یا فتاح۔ چلیں اب اج کا ہمارا سبق خلاصہ اج کے سبق کا میں بیان کرتا ہوں۔ جو اج ہم انشاء اللہ العزیز پڑھیں گے۔ جامع الترمذی جلد اول کا ہمارا پہلا سبق ہے۔ اج کے سبق میں انشاء اللہ العزیز مختصرا امام ترمذی کے حالات دیکھیں گے۔ جامع ترمذی کے نام اور صحائے ستہ میں امام ترمذی کی کتاب جامع ترمذی کا مقام اور مرتبہ دیکھیں گے۔ انشاء اللہ۔ اور انشاء اللہ اج ہی ہم اپنی کتاب کا اغاز کریں گے اور شروع کی احادیث انشاء اللہ العزیز اج ہم پڑھیں گے۔ سب سے پہلے ہم امام ترمذی کے حالات کو مختصر دیکھتے ہیں۔ امام ترمذی کے حالات میں ہم انشاء اللہ مختصرا نام و نسب، طویل نسب ہو، یاد کرنا مشکل ہے۔ اسی طرح ان کی نسبت بستی قریہ کے ساتھ وہ انشاء اللہ اپ خود اس کو مطالعے میں رکھیں۔ لیکن اج ہم جو سبق پڑھیں گے اس کے اندر نام و نسب اور اس کے ساتھ امام ترمذی کا خصوصی امتیاز اور شغف حدیث مبارکہ کے ساتھ۔ تیسرے نمبر پر انشاء اللہ العزیز امام ترمذی کا مسلک کیا تھا؟ اور امام ترمذی کی وفات اور امام ترمذی کی تصانیف۔
[4:01]یہ حالات میں یہ پانچ چیزیں ہیں ہماری۔ سب سے پہلے دوبارہ سن لیں امام ترمذی کا نام و نسب۔ امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی کا خصوصی امتیاز اور شغف حدیث سے اور تیسرے نمبر پر وفات امام ترمذی کا مسلک اور امام ترمذی رحمہ اللہ کی تصانیف۔
[10:21]اگے اگلا ہمارا جو سبق کا عنوان ہے وہ ہے جامع ترمذی کے نام اور صحاح میں ان کا مقام جامع ترمذی کا مقام۔ یہ سن لیں کہ یہ کتاب جامع ترمذی کے نام سے جو معروف و مشہور ہے اس کتاب کے تین نام ہیں۔ یعنی احادیث کی کتب کے جو اپ نے خیر الاصول میں پڑھ لیا ہوگا کتابوں کے نام ہیں سنن ہے۔ اسی طرح صحیح ہے۔
[11:03]پھر اسی طرح جامع ہے اور بھی بہت ساری احادیث کے نام اپ نے پڑھے ہیں۔ یہ جامع ترمذی کے لیے تینوں نام دیے جاتے ہیں۔
[11:16]یہ جامع بھی ہے، سنن بھی ہے، صحیح بھی ہے۔ دوبارہ سن لیں کہ اس کو تینوں نام دیے گئے ہیں۔ جامع، سنن، صحیح۔ جامع نام دینے کی وجہ تو یہ ظاہر ہے کہ اٹھ یہ کتاب احادیث کی اٹھ کے اٹھ مضامین پر مشتمل ہے۔ کہ جو کتاب ان اٹھ مضامین پر مشتمل ہو اس کو حدیث کی کتاب کو جامع کہا جاتا ہے۔ وہ چار اٹھ اٹھ مضامین سیر، اداب، تفسیر و عقائد، فتن، احکام، اشراط و مناقب ہیں۔ یہ اٹھ مضامین ہیں۔ سنن اس کتاب کو اس لیے کہا جاتا ہے کہ فقہی ابواب کی طرز پر احادیث کو جمع کیا گیا ہے۔ ابواب الصلات ہے۔ ابواب الطہارہ ہے ابواب الزکات ہے۔ اسی طرح حج ہے بیوں کے ابواب ہیں فقہی ابواب کی ترتیب پر احادیث کو جمع کیا۔ تیسری جو اس کتاب کو صحیح کہنا ہے۔ وہ امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نے خود اپنی کتاب کو صحیح کے نام سے موسوم کیا ہے۔ چنانچہ امام ترمذی نے یوں کہا: سنفت هذا المسند الصحیح۔ تو اس کتاب کو خود امام ترمذی نے صحیح کے نام سے موسوم کیا۔ اس لیے جامع ترمذی کو تینوں نام سے موسوم کیا جائے۔
[12:56]تو درست ہے جامع بھی ہے صحیح بھی ہے اور اسی طرح سنن بھی ہے۔ اگے ہمارا صحاح میں اس کا مقام اور صحاح میں اس کا مقام۔ جی صحاح ستہ میں امام ترمذی کی امام ترمذی کی مشہور کتاب جامع ترمذی وہ وہ وہ شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے قول کے مطابق یہ چوتھا مرتبہ ہے۔ صحاح ستہ میں جامع ترمذی کا چوتھا مرتبہ ہے سب سے انہوں نے یوں اس کی ترتیب دی ہے۔ بخاری شریف مسلم شریف ابو داود شریف ترمذی نسائی اور ابن ماجہ۔
[14:04]بعض حضرات نے جامع ترمذی کو پانچواں درجہ اور مقام دیا ہے اور انہوں نے یوں ترتیب دیا ہے سب سے پہلے بخاری اور اس کے بعد صحیح مسلم اور نمبر تین سنن ابی داود اور نمبر چار سنن نسائی نمبر پانچ جامع ترمذی اور نمبر چھ سنن ابن ماجہ۔



