[0:00]تو اللہ تعالی کی طرف سے ایک خاص تدبیر تھی جو یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو سکھائی گئی وہ یہ کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے جو بھی بادشاہ کا پینے کا جو ایک برتن تھا وہ برتن جو ہے وہ بن یامین علیہ الصلوۃ والسلام کے سامان میں رکھ دیا یہ وہ بات ہے جو بہت سے لوگ ہمیں یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایک مومن اور مسلمان کبھی مشرک نہیں ہو سکتا جبکہ اللہ یہ فرماتے ہیں کہ بہت سارے ایمان والے ایسے ہیں جو اللہ پر ایمان رکھنے کے باوجود شرک کرتے ہیں۔ اور یقیناً دلوں کا جو اطمینان ہے دلوں کا جو سکون جو ہے وہ اللہ تعالی کے ذکر میں ہی پنہاں ہے اللہ کے ذکر سے مراد وہ خاص ذکر نہیں ہے جو لوگ جو ہے وہ بعض مرتبہ ویسے ہر طرح کی برائیاں کرتے رہتے ہیں سود بھی کھاتے ہیں اور جو ہے وہ حرامکاریاں بھی کرتے ہیں شراب بھی پیتے ہیں لیکن پھر کیا کرتے ہیں جمعرات کی جمعرات یا کسی ایک دن اکٹھے بیٹھ کر جو ہے وہ ایک آدھ گھنٹہ ذکر کی مجلس منعقد کرتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اب ہمیں دلوں کو سکون مل جائے گا ایسا نہیں ہے۔
[1:12]رمضان المبارک میں خلاصۂ مضامینِ قرآن مجید کے حوالے سے آج ہماری 13 ویں نشست ہے جس میں انشاءاللہ تعالیٰ ہم ابتداء میں سورۂ یوسف کے متعلق اسی طرح سے مکمل سورۂ رعد اور مکمل سورۂ ابراہیم کے مضامین کا جائزہ لیں گے۔ 13 واں پارہ ہے آج کی نشست میں ابتداء میں گزشتہ سے پیوستہ سورۂ یوسف کا ہی مضمون ہے جو اللہ رب العزت نے بیان کیا ہے۔ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام سے متعلق ارشاد فرمایا کہ وہ یوسف علیہ السلام کہتے ہیں میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتا یقیناً نفس تو برائی پر ابھارنے والا ہی ہے سوائے اس کے جس کو اللہ رب العزت اپنی رحمت کے ساتھ بچا لے یقیناً میرا رب بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ مراد اس سے یہ ہے کہ شیطان کے بہکاوے سے بچنا یہ انسان کے بس کی بات نہیں ہے انسان کی بساط نہیں ہے اللہ رب العزت جس کو چاہیں اسی کو ہی شیطان کے بہکاوے سے بچا سکتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ رب العزت نے یہاں یوسف علیہ الصلوۃ والسلام پر اپنا خاص رحم فرمایا لہذا نیکی کرنے کی توفیق ہو یا گناہ گناہ سے بچنے کی توفیق ہو یہ سب اللہ رب العزت ہی کی حکم سے ہوتی ہے لہذا انسان کو ہمیشہ اپنے آپ کو اللہ تعالی کے حکم کا پابند بنانا چاہیے۔ اس کے بعد اللہ رب العزت نے یہ مضمون بیان فرمایا آیت نمبر 55 ہے سورہ یوسف کی ارشاد فرمایا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے آپ کو پیش کیا کہ اب مجھے جو خزانے ہیں ان کے اوپر نگہبان مقرر کر دیجئے بےشک میں ان کو بہترین انداز سے حفاظت بھی کرنے والا ہوں اور اس چیز کو میں جانتا بھی ہوں۔ اگرچہ اپنے آپ کو حکمرانی کے لیے پیش کرنا، مسئولیت کے لیے پیش کرنا یہ احادیث میں اس چیز کی ممانعت ہے لیکن اگر انسان کے اندر یہ صلاحیت موجود ہو قابلیت ہو، ایبلٹی ہو تو پھر اپنے آپ کو پیش کرنے میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے بشرط یہ کہ انسان جو ہے وہ امانت کا حق ادا کرنا اس کے بارے میں جو ہے وہ اخلاص کے ساتھ اس کو ادا کر سکے اور اس کے بارے میں اس کے اندر انسان کے اندر ایبلٹی اور صلاحیت ہو تو پھر اپنے آپ کو پیش کرنے میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے لیکن اس کا حق ادا کرنا انسان کے لیے ضروری ہے۔ اللہ رب العزت نے اس کے بعد یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو بہترین ٹھکانا دیا اس کا ذکر فرمایا ہے آیت نمبر 56 میں اس کے بعد یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے بتائے ہوئے جو بادشاہ کا خواب تھا اس کی تعبیر کے مطابق اب جو ہے وہ قحط سالی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس کے اثرات جو ہے وہ مصر سے ہوتے ہوئے کنعان تک بھی پہنچ چکے ہیں اور صورتحال یہ ہے کہ اب یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے جو بھائی ہیں ان تک بھی قحط سالی کے اثرات پہنچے ہیں اور اب وہ یعنی چونکہ پورے علاقے کو ہی قحط سالی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے تو اب یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے بھائی بھی جیسے باقی لوگ غلہ لینے کے لیے آتے ہیں چونکہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی بتائی ہوئی تدبیر اور تعبیر کے مطابق ان لوگوں نے غلے کو محفوظ کر رکھا ہے تو اب جہاں جہاں لوگوں کو ضرورت پڑتی ہے ان کو پتہ چلتا ہے کہ مصر میں غلہ موجود ہے لہذا وہ قیمتاً یہاں سے خریدنے کے لیے آتے ہیں تو اسی طرح سے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے بھائی بھی یہاں پر آتے ہیں۔ پہچان لیا اگرچہ وہ نہیں پہچان سکے ان کے ذہنوں میں یہی تھا کہ یوسف تو ختم ہو چکا اور یوسف جو ہے وہ اس کا کوئی وجود یہاں پر باقی نہیں ہوگا جب ان کا سامان ریڈی ہو گیا تو یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے چونکہ جب انسان یہ انسان کی فطرت ہے کہ جب کسی سے ملاقات ہوتی ہے تو ایک دوسرے کے بارے میں نو ہو لینے کی کوشش کرتا ہے۔
[4:47]تو اسی طرح سے ان سے متعلق یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے پوچھا کتنے بھائی ہو کہاں رہتے ہو کیا صورتحال ہے یہ ساری چیزیں کنفرمیشن جو ہے وہ ان سے لیں تو اس کے بعد ارشاد فرمایا جب ان کا سامان ریڈی ہو چکا کالو بھائیوں تم یہ بات کہ کہو اور جو ہے نا وہ ہمیش جو تمہارے باپ کی طرف سے جو دوسرا بھائی ہے جو کوئی یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی ماں جائے بھائی تھے یعنی یوسف علیہ الصلوۃ والسلام اور بنیامین علیہ الصلوۃ والسلام ایک ماں سے تھے جبکہ باقی جو بھائی تھے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے وہ دوسری ان کی مطلب روایات کے مطابق ان کی خالہ تھیں۔ تو اس وجہ سے فرمایا کہ جو تمہارے باپ کی طرف سے بھائی ہے اس کو بھی اپنے ساتھ لانا اور اگر تم اس کو ساتھ نہیں لائے اگر تم اس کو ساتھ نہیں لائے تو پھر تمہیں دوبارہ غلہ نہیں ملے گا اور نہ تم یہاں پر آنا۔ اب یہ ایک جو ہے وہ امتحان کی صورت تھی جو ان کے لیے پیدا ہو گئی اور اس کے بعد یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے خاص جو ہے وہ اپنی محبت کے ساتھ جو آپ کے پاس اختیارات بھی موجود تھے اس کے مطابق آپ نے ان کی جو جمع پونجی تھی جو انہوں نے پیسے دیے تھے جو قیمت جو ادا کی تھی غلہ خریدنے کے لیے وہ بھی واپس ان کے سامان میں ڈال دی۔ اب یہ ایک اشارہ تھا کہ جب واپس پہنچیں تو اس رحم دلی اور جو ہے وہ اچھے جذبات کو سلہ رحمی کو اپنے سامنے جو ہے اس کو محسوس کریں اور اس کے بعد اپنے بھائی کو لانے میں آسانی محسوس کریں تو بہرحال ان لوگوں نے اپنے والد کے سامنے یعقوب علیہ السلام کے سامنے جا کے یہ قضیہ رکھا اگرچہ یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام پہلے ہی ایک دکھ جھیل رہے تھے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی جدائی کو برداشت کر رہے تھے۔ اور جن کے بارے میں آپ کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ وہ دنیا میں موجود ہیں یا نہیں ہیں تو اس کے باوجود جو ہے وہ انہوں نے بھائیوں کی اپنے بیٹوں کی جو ہے وہ باتوں کی بات ان سے کچھ معاہدے لیے اور وعدے لینے کے بعد انہوں نے بن یامین علیہ الصلوۃ والسلام کو آپ کے ساتھ بھیج دیا اس کے ساتھ انہوں نے کچھ نصیحتیں فرمائیں۔ ارشاد فرمایا اے میرے بچو ایک دروازے میں سے داخل نہ ہونا مختلف دروازوں سے داخل ہونا اگرچہ میں تمہارے کام تو نہیں آ سکتا اللہ تعالی کا حکم ہی جو ہے وہ فائنل ہوتا ہے جیسا اللہ چاہتا ہے ویسا ہی ہوتا ہے۔
[6:40]اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے تمہیں بھی اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے اور سب کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے لیکن یہ ایک تدبیر ہے جو میرے ذہن میں آئی اور میں نے تمہیں بتا دی۔ اس سے مختلف حکمتیں اس کی ہو سکتی ہیں ایک تو یہ ہے کہ اللہ نہ کرے کہ اگر اگر تمہیں کسی طرح سے کسی وجہ سے جو ہے وہ گرفتار کیا جاتا ہے پکڑا جاتا ہے کوئی اللہ نہ کرے ایسا کوئی انسیڈنٹ ہوتا ہے۔ تو سب لوگوں کے ساتھ نہ ہو کسی ایک کے ساتھ ہو اسی طرح سے دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ جب ایک ساتھ جو ہے وہ بھائی چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں اور ماشاء اللہ خوبصورت ہیں سارے تو یہ بھی تدبیر ہو سکتی ہے کہ سب اکٹھے ہوں گے تو یقیناً بہت سے لوگوں کی نظروں میں آئیں گے اور نظر اور حسد ان چیزوں کا بھی شکار ہو سکتے ہیں تو اس وجہ سے آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو یہ نصیحتیں فرمائیں۔ اب یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس دوبارہ جب یہ پہنچتے ہیں غلہ لینے کے لیے تو اب ان کے بھائی یعنی یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے ماں جائے بھائی اور اسی طرح سے دیگر بھائیوں کے جو ساتھ ہے بن یامین علیہ الصلوۃ والسلام وہ بھی آپ کے پاس پہنچتے ہیں اور جب آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس وہ داخل ہوتے ہیں تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام ان کو اپنا تعارف دیتے ہیں صرف بن یامین علیہ الصلوۃ والسلام کو اور کسی کو نہیں بتاتے اور ارشاد فرمایا میں آپ کا بھائی ہوں اور آپ اس کے اوپر غمزدہ نہ ہوں جو آپ کے ساتھ یہ حسد کی وجہ سے سلسلہ انہوں نے جو آپ کے ساتھ تکالیف کر رکھا ہے اس حوالے سے جو ہے وہ اس کا ذکر کیا۔ اور اس کے بعد جو ہے وہ جب ان کا سامان ریڈی ہوا تو اللہ تعالی کی طرف سے ایک خاص تدبیر تھی جو یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو سکھائی گئی وہ یہ کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے جو ہے وہ اپنا وہ جو بادشاہ کا پینے کا جو ایک برتن تھا وہ برتن جو ہے وہ بنیامین علیہ الصلوۃ والسلام کے سامان میں رکھ دیا اور جب وہ وہاں سے نکلے تو پھر اس برتن کو تلاش کرتے ہوئے جو ملازمین تھے ان میں سے ایک نے آواز لگائی کہنے لگے کہ اے قافلے والو تم میں سے کوئی یقیناً جو ہے وہ چوری کا مرتکب ہوا ہے اور اس نے جو ہے وہ اپنے سامان میں بادشاہ کا پیالہ رکھ لیا ہے وہ کہنے لگے وہ قافلے والے فورا متوجہ ہوئے چونکہ اس میں کنعان سے آیا ہوا مکمل قافلہ تھا۔ جس میں یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے بھائیوں کے علاوہ باقی لوگ بھی موجود تھے وہ فورا متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ کون سی چیز جو ہے وہ تم گم پاتے ہو کہنے وہ انہوں نے جواب دیا ہم بادشاہ کا برتن گم پاتے ہیں اور جو کوئی لے کر آئے گا اس کو ایکسٹرا ایک اونٹ جو ہے وہ غلے کا دیا جائے گا اور میں اس کے اوپر ضامن ہوں وہ کہنے لگے اللہ کی قسم تم جانتے ہو کہ ہم یہاں پر فساد کرنے کے لیے نہیں آئے اور نہ ہی ہم جو ہے وہ چوری کرنے آئے ہیں۔ اس بات پہ وہ یقینا بجا تھے سچے تھے کیونکہ ان کا اس معاملے میں کوئی بھی قصور نہیں تھا یہ اللہ تعالی کی طرف سے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک تدبیر سکھائی گئی تھی بہرحال یہ جو ہے وہ معاملات ان کی کنورسیشن اپس میں رہیں اور اس کے بعد جو ہے وہ نتیجہ یہ نکلا کہ بھائیوں کے دیگر لوگوں کا سامان چیک کرتے کرتے بھائیوں کا سامان چیک کیا اس کے بعد بنیامین علیہ الصلوۃ والسلام کے سامان سے وہ برتن جو ہے اس کو برامد کر لیا گیا۔ اب جیسے ہی وہ برتن برامد ہوا تو انسان کی فطرت ہے کہ فوری طور پہ جو ہے وہ انسان فورا اپنے اپ کو بچانے کے لیے اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے باقی بھائیوں نے بھی اسی طرح سے کیا کہنے لگے ہاں اس کے بھائی بھی اسی طرح سے چوری کی تھی جیسے اس نے چوری کی ہے العیاذ باللہ من ذالک یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات کو سمجھ لیا اور اس کو سمجھ لیا پہچان لیا لیکن ان کے سامنے اس بات کا اظہار نہیں کیا کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں بلکہ فرمایا کہ یہ بات ان کے سامنے نہیں کہی اپنے دل میں یہ سوچا کہ تم نے ہی یوسف کے ساتھ بھی زیادتی کی تھی اور اج تم تم ہی جو ہے وہ اس کے بارے میں بھی اس طرح کی سٹیٹمنٹ دے رہے ہو۔
[10:04]اور اللہ رب العزت زیادہ بہتر جانتے ہیں تم کیا کہہ رہے ہو تو اللہ رب العزت نے یہاں پر یہ ارشاد فرمایا کہ یہ ایک تدبیر تھی جس کے ذریعے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام اپنے بھائی کو وہاں پر روکنے میں کامیاب ہو سکے ورنہ یہ ہے کہ اس قانون کے مطابق کسی بھی صورت میں جو ہے وہ اس کو روکا نہیں جا سکتا تھا تو یہ اللہ تعالی نے دو بھائیوں کو اپس میں اب ملا دیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ اب جب وہ قافلہ واپس نکلا تو بڑے بھائی جو تھے ان کے جو کہ ضامن بن کر ائے تھے بنیامین علیہ الصلوۃ والسلام کو ساتھ لائے تھے ان کے دل میں یہ بات ائی کہ پہلے یوسف کی مرتبہ بھی ایسا ہو چکا ہے ہم اس کو واپس نہیں لے جا سکے اور اج بنیامین کے حوالے سے تو چونکہ ایک انسیڈنٹ ہے اس معاملے میں تو یہ لوگ جو ہے وہ بالکل بھی قصور وار نہیں ہیں تو اس کے دل میں یہ بات ائی کہ اب میں اپنے باپ کی نظروں کا سامنا کیسے کروں گا اخر انسان کا ضمیر انسان کو ملامت کرتا ہے۔ تو کہنے لگے اپنے بھائیوں سے کہا آیت نمبر 81 ہے کہنے لگے کہ میں تو واپس نہیں جاؤں گا تم جاؤ اپنے والد کو جا کر بتا دینا یعنی یعقوب علیہ السلام کو کہہ دینا کہ آپ کے بیٹے نے چوری کی تھی اور ہم نے تو صرف اس بات کے اوپر گارنٹی دی تھی جو ہم جانتے ہیں اور اس غیب کی معاملات میں ہم کسی بھی طرح سے ضامن نہیں بن سکتے اگر آپ کو ہماری بات کا یقین نہیں ہے تو آپ اس بستی والوں سے سوال کر کے دیکھ لیجئے اب یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے جب یہ قضیہ پہنچا جو کہ یقینا آپ علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اندازہ نہیں ہے۔
[11:27]اور پھر اور آپ جو ہے وہ بنیامین علیہ الصلوۃ والسلام کی فطرت سے بھی اچھی طرح واقف ہیں کہ وہ کبھی بھی چوری نہیں کر سکتے تو اس وجہ سے فرمانے لگے فرمانے لگے پھر تمہارے نفسوں نے کوئی بات گڑ لی ہے جیسا کہ پہلے تم نے کیا تھا میں تو صبر ہی کروں گا یقینا وہی بہترین چیز ہے۔ لیکن یہاں پر اب یہ دیکھیے جو بات ارشاد فرمائی وہ یہ کہ مجھے امید ہے کہ اللہ رب العزت ان تمام بیٹوں کو واپس لے آئے گا۔ تمام بیٹوں سے کیا مراد ہے سب سے پہلے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام ہے پھر بنیامین علیہ الصلوۃ والسلام جو ہے وہ چوری کے الزام میں وہاں پر ان کو جو ہے وہ روکا جا چکا ہے اور تیسرا بیٹا وہ ہے جو مصر میں رک گیا ہے اور اس نے کنعان انے سے انکار کر دیا ہے اس وجہ سے کہ میں اپنے باپ کا سامنا کیسے کروں گا تو اب تین تین بیٹوں کی جدائی ہے جن کے بارے میں معلوم نہیں ہے لیکن اللہ تعالی کے بارے میں اندازہ اگر جو ہمیں لگانے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ کہاں کتنا عرصہ ہو چکا ہے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام اپنے بچپن میں جو ہے وہ کھو چکے ہیں لیکن اج بھی یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ جیسے اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا اور یہاں پر اپنے یوسف علیہ الصلوۃ یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اپنے بیٹوں سے کہا کہ جاؤ اپنے بھائیوں کو جا کر تلاش کرو اے میرے بچو جاؤ اپنے بھائیوں کو تلاش کرو اور بلکہ کیا کیا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کا نام لیا اور ان کے بھائی کا نام لیا یعنی اج بھی امید ہے اور ساتھ میں یہ بات ارشاد فرمائی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا اللہ کی رحمت سے مایوس تو صرف کافر ہی ہوا کرتے ہیں جن کا اللہ تعالی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا ایک مومن جس کا رب موجود ہے جو اللہ تعالی کے اوپر یقین اور ایمان رکھتا ہے اس کے زندگی میں مایوسی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں بھی اپنی رحمت کے بارے میں اسی طرح سے پرامید رہنے کی توفیق عطا فرمائے تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے بیٹوں سے کہا جاؤ اور جا کر یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو تلاش کرو اب تیسری مرتبہ پھر یہ اپنے جو ہے وہ غلہ کے حصول کے لیے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پہنچتے ہیں اور جا کر اب بڑی عجیب سی صورتحال اور بڑی جذباتی اور ایموشنل کیفیت پیدا ہوتی ہے جا کر ارشاد فرماتے ہیں جا کر جو ہے وہ یہ بھائی عرض کرتے ہیں۔ اے عزیز مصر ہمارے فیملی کو ہمارے گھر والوں کو بڑی ہی تکلیف نے جو ہے وہ چھو لیا ہے یعنی ایک تو تکلیف قحط سالی کی ہے غلہ کی کمی کی ہے اور اس کے ساتھ جو ہے وہ دوسری جو تکلیف ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے تین بھائی جو اگرچہ کسی معاملے میں ان کا بھی قصور تھا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے لیکن بھائی ہونے کے ناطے سے اخر تکلیف کا سامنا تو ان کو بھی تھا دوسرا بھائی بھی جو ہے وہ غائب ہو چکا ہے تیسرا بھائی جو ہے وہ اس نے جانے سے انکار کر دیا تھا اس کا بھی پتہ نہیں ہے کہ اب وہ کہاں ہے تو اب یہ بڑی ہی عجیب سی اور جذباتی کیفیت کے ساتھ جو ہے وہ وہاں پر پہنچے اور جا کر کہنے لگے ہم بہت ہی تھوڑی سی جو ہے وہ پونجی لے کر ائے ہیں اور اللہ تعالی نے آپ لوگوں کو نوازا ہے لہذا ہم پر صدقہ کیجئے اور ہمارے ساتھ احسان کا پہلو جو ہے اس کو سامنے رکھیے یقیناً اللہ رب العزت صدقہ کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں۔
[14:36]اب جو ہے وہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی یہ جذباتی مناظر دیکھنے کے بعد رہا نہیں گیا تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یوسف کے ساتھ اور اس کے بھائی کے ساتھ تم کیا کرتے تھے جب تم نادان تھے۔ اب یہ بھائی جانتے تھے کہ اس قضیہ کا یوسف کے ساتھ جو سلسلہ ہوا تھا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے سوا اور ہمارے سوا یا پھر اللہ رب العزت ہے ان تینوں کے سوا اس بات کا کسی کو بھی علم نہیں ہے کہ یوسف کے ساتھ کیا ہوا تھا لہذا جیسے ہی انہوں نے سنا کہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام یہ کہہ رہے ہیں یعنی ان کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ یوسف ہیں تو جب انہوں نے سنا کہ تم نے یوسف کے ساتھ کیا کیا تھا تو فورا پہچان لیا کہ اس بات کا علم یا تو یوسف کو تھا یا ہمیں ہے یا اللہ رب العزت کو ہے لہذا ہو نہ ہو یہ ہستی جو ہے وہ یوسف ہی ہو سکتی ہے تو فورا کہنے لگے کیا تم یوسف ہو فرمایا ہاں میں یقیناً یوسف ہی ہوں اور یہ میرے بھائی ہیں بن یامین علیہ الصلوۃ والسلام اللہ رب العزت نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ اور جو اللہ رب العزت سے ڈرتا ہے صبر کرتا ہے تو اللہ رب العزت کبھی بھی نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں فرماتے اب اس کے بعد جو ہے وہ بھائیوں نے معذرت پیش کی اور معذرت پیش کرنے کے ساتھ ہی یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا بڑے تاریخی الفاظ کہے جو آج کے دن تم پر کوئی ملامت نہیں۔ تم سے کوئی شکوہ نہیں اللہ تمہیں بخش دے اور وہ یقیناً بڑا ہی رحم فرمانے والا ہے یہی الفاظ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ مشرکین مکہ نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مظالم کی انتہا کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجبوراً مکہ چھوڑنا پڑا پھر چھوڑنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً 10 سال جو ہے وہ آٹھ سال مدینہ میں گزارے اس دوران بہت سی جنگیں ہوئیں بہت سے معاملات ہوئے کفار نے ہر طرح کی تکلیفیں پہنچانے کی کوشش کی۔ بیشمار مظالم تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو انہوں نے نقصان پہنچایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کو نقصان پہنچایا یہ سب کچھ ہونے کے باوجود اللہ رب العزت نے جب آٹھ ہجری میں مکہ فتح کروا دیا تو اب یہ سارے کے سارے لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم کرتے تھے وہ سارے مجرموں کی صورت میں آپ کے سامنے کھڑے تھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے پوچھا کہ بتاؤ تم کیا امید رکھتے ہو تو کہنے لگے ہمیں ایک کریم ذات سے کرم کی ہی امید ہے۔
[16:55]تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آج میں وہی کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا تھا جاؤ آج کے دن تم پر کوئی ملامت نہیں اللہ تمہیں بخش دے اور وہ یقیناً سب رحم کرنے والوں میں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ اس کے بعد یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قمیض جو ہے وہ بھیجی وہاں سے فرمایا کہ جاؤ یہ لے جا کر میرے باپ کو دے دینا اور اللہ رب العزت جو ہے وہ اس کے ذریعے ان کی بینائی کو واپس لے آئے گا اس سے جو بات سمجھ میں آنے والی ہے وہ یہ کہ انبیاء کے توورکات اگر وہ حقیقت میں انبیاء کے توورکات ہوں تو ان کے اندر اللہ رب العزت کی طرف سے یقیناً برکت ہوتی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چیزوں میں بھی برکت ہے لیکن آج کے دن میں بہت سارے لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے حوالے سے آپ کی قمیض مبارک کے حوالے سے آپ کی پگڑی کے حوالے سے آسا کے حوالے سے بہت ساری چیزیں ایسی لوگوں نے جو ہے وہ فیک بنا رکھی ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے آج کے دن کوئی ایسی چیز کا بظاہر موجود ہونا ممکن نہیں ہے ہاں اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اگر واقعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی چیز آپ کے جسم کا کوئی جو ہے وہ بال یا کوئی آپ کے جو ہے وہ جسم کے ساتھ لگا ہوا کوئی کپڑا اگر آج کے دن بھی موجود ہو تو اس کے با برکت ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیض مبارک جو ہے وہ عبد اللہ بن ابی کے لیے بھی جو ہے وہ عطا کر دی تھی۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ساری چیزیں جو ہوتی ہیں انبیاء کی وہ باعث برکت ہوتی ہیں تو اب اللہ رب العزت نے یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کی بینائی واپس لوٹا دی اور اس کے بعد جو ہے وہ یعقوب یوسف علیہ الصلوۃ والسلام آپ نے فرمایا تھا کہ اپنے والدین کو لے کر اور پوری فیملی کو لے کر یہاں پر ہمارے پاس مصر میں ا جانا کیونکہ قحط سالی بھی ہے اور یقیناً اب اللہ رب العزت نے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک مقام عطا فرمایا ہے۔ وہ سارے کے سارے اب اپنے والد کے پاس واپس ائے اور جو ہے وہ جیسے ہی آپ کے پاس خوشخبری دینے والا پہنچا اور انہوں نے اس قمیض کو آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی انکھوں پر ڈالا تو آپ کی بینائی واپس لوٹ ائی اور اس کے بعد ارشاد فرمایا کیا میں نے تمہیں یہ بات نہیں کہی تھی کہ جو اللہ کے بارے میں میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔
[18:50]پھر وہ سارے کے سارے بیٹے کہنے لگے اے ابا جان ہمارے لیے بخشش کی دعا کیجئے یقیناً ہم سے ہی کوتاہی ہوئی ہے بہترین لوگوں کا یہی طریقہ ہوتا ہے کہ جب کبھی ان سے کوتاہی ہو جاتی ہیں تو وہ فورا جیسے صحیح حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ادم علیہ السلام کی ساری اولاد جو ہے وہ خطا کی پتلی ہے ان سے خطا ہو جاتی ہے غلطیاں ان سے سرزد ہو جاتی ہیں لیکن بہترین غلطیاں کرنے والے وہ ہیں بہترین گناہگار وہ ہیں جو اللہ رب العزت کے حضور توبہ کر لیتے ہیں۔
[19:24]اللہ رب العزت ہمیں بھی توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے تو جب انسان حدیث میں موجود ہے جب انسان اعتراف گناہ کر لیتا ہے پھر اللہ کے سامنے جھکتا ہے توبہ کرتا ہے تو اللہ رب العزت بھی اس کی توبہ قبول فرما لیتے ہیں۔ تو یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا کہ ابھی تو نہیں لیکن تمہارے لیے میں عنقریب توبہ ضرور کروں گا الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ فرمایا ابھی تو نہیں لیکن تمہارے لیے میں عنقریب توبہ ضرور کروں گا۔ وجہ کیا ہے اتنی زیادہ تکالیف جو ہیں وہ اتنے زیادہ دکھ ہیں تکالیف ہیں تو اس کی وجہ سے فوری طور پہ اپنے دل کو اگرچہ نرم کر لیا نرم ہو گیا کہ سب بیٹوں کی اللہ رب العزت نے واپسی ممکن بنا دی ہے لیکن ابھی بھی ظاہر ہے کچھ تکلیف کا سامنا ہے تو اس کی وجہ سے فرمایا کہ یقیناً جو ہے وہ اب میں تم لوگوں کو معاف کر دوں گا اور عنقریب تمہارے لیے اللہ تعالی سے بخشش کی دعا مانگوں گا۔ اب یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام آپ کی اہلیہ آپ کے بیٹے یہ سارے کے سارے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس جب پہنچے ہیں اور جو ہے وہ کیا ہوا اللہ رب العزت نے اس کا نقشہ کھینچا ہے تو اللہ فرماتے ہیں کہ اس دن آپ دیکھیں گے جو مجرمین ہیں ان کو زنجیروں کے اندر جکڑا ہوا ہوگا۔
[20:47]ان کی گند گندک کے تیزاب کی ان لوگوں کی قمیضیں ہوں گی اور اگ ان کے چہروں کے اوپر جو ہے وہ چڑھ چکی ہوگی اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اس لیے ہے تاکہ اللہ رب العزت ہر نفس کو اسی کا بدلہ دے جو اس نے کمایا ہے جو نیکی کرتا ہے اس کو اللہ نیکی کا بدلہ دے گا۔ جو برائی کرتا ہے اس کو اللہ برائی کا بدلہ دے گا اللہ رب العزت بڑے ہی جلد حساب لینے والے ہیں اللہ فرماتے ہیں اس پارے کی جو ہے وہ اس صورت کی اخری ایت میں یہ لوگوں کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے ایک سلائے عام ہے ایک عام منادی ہے لوگوں کو پہنچا دی جائے اور لوگوں کو ڈرا دیا جائے تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور تاکہ وہ جو عقلمند لوگ ہیں وہ اس سے نصیحت حاصل کر لیں اللہ سے دعا ہے کہ جو کچھ میں نے آپ کے سامنے بیان کیا مجھے اور آپ سب کو سمجھ لیں عمل کرنے اور اگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے استغفر اللہ ولکم وللمسلمین
[21:54]پھر واللہ اعلم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ



