[0:00]کہ یہ حدیث اس پائے کی ہے اس کی اتنی ضرورت ہے کہ اس کو ہر حدیث کی کتاب کے ہر باب سے پہلے اس کو ذکر کیا جائے۔ اس لیے نیت کا خالص ہونا، نیت کا صحیح ہونا کسی بھی عبادت سے پہلے وہ ضروری ہے۔ عبادت میں اور عادت میں اگر فرق کوئی چیز کرتی ہے تو وہ نیت کرتی ہے۔ وہ قول یہ ہے لا ينفع قول الا ب عمل ولا ينفع عمل الا بنيه
[0:37]الحمدللہ الحمدللہ رب العالمین الحمدللہ الذي قال اقرا باسم ربك الذي خلق. خلق الانسان من علق اقرا ربک الاکرم الذي علم بالقلم علم الانسان ما لم یعلم. اللھم صلی وسلم علی عبدك نبیك حبیبك محمد وعلی الہ واصحابہ ومن تبعھم بااحسان الی یوم الدین اما بعد عن امیر المومنین ابی حفص عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم یقول انما الاعمال بالنیات وانما لكل امرئ ما نواه فمن کانت هجرته إلى الله ورسوله فھجرته الى الله ورسوله ومن كانت هجرته لدنيا یصیبھا او امراہ یمکھھا فھجرته الى ما ہاجرہ الیہ. اخرجہ البخاری رحمہ اللہ و مسلم رحمہ اللہ۔ یہ حدیث مبارکہ جو اپ نے ابھی سماعت فرمائی، جس طرح کہ ہم نے اس سے پہلے پروگرام میں واضح کیا تھا کہ ہم اربعین نوویہ درسا پڑھنے جا رہے ہیں۔ تو اج اس کی یہ پہلی حدیث ہے اخلاص نیت کے موضوع سے۔ یہ حدیث اس کا ترجمہ و تشریح مشکل الفاظ کے معانی اور فوائد بیان کرنے سے پہلے اس کے بارے میں یہ بتاتا چلوں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ حدیث مبارکہ اپنی جامع صحیح کے اندر سب سے پہلی حدیث ذکر کی ہے۔ امام مسلم نے بھی اس کو ذکر کیا ہے۔ امام ابن ماجہ امام نسائی امام ترمذی صحیح ابن حبان صحیح ابن خزیمہ دیگر جتنی بھی احادیث کی کتابیں ہیں، مجموعہ ہے سب نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔
[3:24]بلکہ جو حدیث کا مجموعہ ہے اس میں بار بار یہ حدیث ائی ہے۔ تقریبا 70 سے زیادہ مرتبہ اس کی تعداد بنتی ہے جو حدیث کی کتابوں میں یہ حدیث ائی ہے۔ امام ترمذی نے امام عبدالرحمن مہدی رحمہ اللہ کا قول ذکر کیا ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس پائے کی ہے۔ اس کی اتنی ضرورت ہے کہ اس کو ہر حدیث کی کتاب کے ہر باب سے پہلے اس کو ذکر کیا جائے۔ تو اسی کے پیش نظر امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو سب سے پہلے ذکر کیا ہے۔ اور یہی نظریہ لے کر امام نووی رحمہ اللہ نے جب اربعین نوویہ کا مجموعہ جمع کیا تو اس میں سب سے پہلے اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔ کیونکہ یہ بہت ہی اہمیت کی حامل حدیث ہے۔ تو ہم سب سے پہلے اس حدیث سے مشکل الفاظ کے معانی بیان کریں گے اس کے بعد اس کا ترجمہ بیان کریں گے۔ تو یہ حدیث انما الاعمال کلمہ انما حصر کا معنی دیتا ہے۔ جس کے معنی تاکید ہے اور بے شک یقینا کے معنی میں یہ استعمال ہوتا ہے۔ اعمال عمل کی جمع ہے۔ نیات نیات نیت کی جمع ہے اور نیت دل کے ارادے کا نام ہے۔ قصد کا کرنا مراد نیت ہے۔ اور یہ نیات بہت کم احادیثوں کے اندر ایا ہے۔ زیادہ تر انما الاعمال بالنیہ مفرد استعمال ہوا ہے۔ نوا ما نوا نوا کا معنی ہے جو اس نے نیت کی ہجرت فمن كانت هجرته لفظ ہجرت کا معنی ہے ترک کرنا چھوڑنا۔ لفظی معنی اس کا ترک کرنا چھوڑنا ہے۔ اور اس سے مراد یہ ہے تر کو دارالکفر الی دارالاسلام۔ دار کفر کو چھوڑ کر دار اسلام کی طرف ہجرت کرنا، وطن قربان کرنا اس کو ہجرت کہتے ہیں۔ یصیبھا پہنچ جائے گا اس کو ینکھھا ینکھ نکاح کرے گا وہ۔
[6:14]ف ہجرتہ الى ما ہاجرہ علیہ۔ اور جس کی طرف جس نیت سے جس نے ہجرت کی ہو گی اسی کا اس کو اجر و ثواب ملے گا۔
[6:29]اب اگر ہم اس کے ترجمے کی طرف اتے ہیں تو ان امیر المومنین ابی حفص یہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کا لقب تھا امیر المومنین ابی حفص ان کی کنیت تھی نام ان کا تھا عمر ابن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کیا فرما رہے تھے انما الاعمال بالنیات۔ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے و انما لكل امرئ بے شک یقینا ہر ادمی کے لیے وہ ہے جس کی وہ نیت کرتا ہے۔ فمن كانت ہجرتہ الى اللہ و رسول جس کی ہجرت کی نیت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے۔ تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی۔ ومن كانت هجرته للدنیا جس نے ملک چھوڑا ہو گا جس نے ہجرت کی ہو گی دنیا کے لیے یصیبھا اس کو وہ پہنچ جائے گا اس کو وہ مل جائے گا۔ او امراہ ینکھھا یا جس نے اگر کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہجرت کی ہو گی تو اس کو وہ مل جائے گی۔ فہجرتہ الا ما ہاجرہ علیہ۔ تو ہجرت جس نے جس مقصد کے لیے کی ہو گی اس کو اسی کا اجر ملے گا اسی کا ثواب ملے گا۔ یہ حدیث مبارکہ کو سب سے پہلے ذکر کرنے کا مقصد اور ہر محدث نے ہر مصنف نے حدیث کے اندر اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔ امام نووی نے بھی رحمہ اللہ نے اس کو ذکر کیا ہے۔ کیونکہ یہ یہ حدیث ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اعمال کا دار و مدار اعمال کی قبولیت کی سند، اعمال کے قبول ہونے کا دار و مدار اس کی نیت پر ہے۔
[8:48]اعمال صالحہ و فاسدہ بن نیات۔ اچھے اور برے اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے۔ اعمال مقبول او مردودۃ بن نیات۔ اعمال کا اللہ کے ہاں قبول ہونا یا رد ہونا اس کا دار و مدار بن نیت پر ہے۔ اس لیے نیت کا خالص ہونا، نیت کا صحیح ہونا کسی بھی عبادت سے پہلے وہ ضروری ہے۔ عبادت میں اور عادت میں اگر فرق کوئی چیز کرتی ہے تو وہ نیت کرتی ہے۔ اس لیے سب سے پہلے نیت کو خالص کرنا چاہیے۔ یہاں اس حدیث میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر ایک ادمی اتنا بڑا عمل سرانجام دیتا ہے۔ اپنے گھر بار کو چھوڑتا ہے، اپنی زمین جہاں وہ پیدا ہوا تھا، جہاں اس کا بچپن گزرا تھا، جہاں اس کے ماں باپ ہیں، جہاں اس کی یادیں وابستہ ہیں، اس کو اگر وہ چھوڑتا ہے اور اس کی نیت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے تو پھر تو اس کو اجر ملے گا۔ اگر اتنا بڑا کام اپنے ملک کو چھوڑنا، اپنے شہر کو چھوڑنا، اپنے وطن کو چھوڑنا، کسی اور غرض کے لیے ہے، دنیاوی فائدے کے لیے ہے، شادی کے لیے ہے، کاروبار کے لیے ہے، دنیا کے لیے ہے تو پھر اس کو اس ہجرت کا ثواب نہیں ملے گا جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہے وہی اس کو ملے گا۔ تو اس حدیث کو اپ اس طرح بھی سمجھ سکتے ہیں کہ اعمال بھلے جتنا بھی بڑا کیوں نہ ہو اگر نیت خالص نہیں ہے اگر نیت اللہ کے لیے نہیں ہے اگر نیت اللہ اور اس کے رسول کی رضامندی حاصل کرنا نہیں ہے۔ تو بڑے سے بڑا عمل بھی اس کا ضائع جائے گا، رائیگاں جائے گا، اس کا اس کو اجر و ثواب نہیں ملے گا۔ کیونکہ اللہ ان اللہ لا ینظر الی صورکم ولا الی اجسامكم ولا ینظر الی قلوبکم و اعمالکم۔ تو اللہ دلوں کو دیکھتا ہے تمہارے عملوں کو دیکھتا ہے۔ تو نیت دل کے ارادے کا نام ہے۔ ان نیت محل القلب۔ نیت کا جو محل ہے وہ دل ہے۔ دل میں کس ارادے سے اپ یہ کام کر رہے ہیں۔ اپ جو بھی نیکی کر رہے ہیں جو بھی کام کر رہے ہیں اپ کا مقصد کیا ہے مطلب کیا ہے اپ چاہتے کیا ہیں کیا اللہ کو راضی کرنا مقصود ہے یا دنیا والوں کو راضی کرنا اپ کا مطمع نظر ہے۔ یا اپ ریاکاری کے لیے شہرت کے لیے دکھلاوے کے لیے دنیا کے لیے اپ کر رہے ہیں یا اللہ کے لیے کر رہے ہیں۔ اللہ کو تو وہ عمل پسند ہے اگر وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو اگر وہ اللہ کے لیے ہے تو اللہ کو وہ پسند ہے۔ اگر عمل جتنا بھی بڑا ہو اگر وہ اللہ کے لیے نہیں ہے تو اللہ کے ہاں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ ہم بہت سی مثالیں دے سکتے ہیں کہ اگر ایک ادمی کنواں خدواتا ہے اور اس کی نیت یہ ہے کہ اس سے امامت الناس کو فائدہ ہو پانی میسر ہو پانی ملے
[12:18]تو اس کے اس کنویں کا اس کو اجر و ثواب ملے گا جب تک کہ وہ کنواں باقی رہے گا یہ صدقہ جاریہ ہے۔ کیونکہ صدقہ جاریہ دنیا سے جانے کے بعد بھی انسان کو اس کا اجر و ثواب ملتا رہتا ہے۔ اگر وہی کنواں کوئی دشمنی کے لیے خدواتا ہے کہ میں کنواں کھودوں میرا دشمن یہاں سے گزرے اور وہ اس میں گر جائے۔ بھلے اس سے لوگ پانی پیتے رہیں لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں لوگوں کو پانی میسر ائے لوگوں کو پانی کی سہولت ملے۔ لیکن جو اس نے نیت کی تھی کہ میرا دشمن اس میں گرے یا لوگوں کو نقصان پہنچے یا کسی پڑوسی کے لیے یہ نقصان دہ ثابت ہو۔ تو اس کے اس عمل عمل دونوں نے ایک کیا ہے۔ مگر ایک کو ثواب مل رہا ہے دوسرے کو ثواب نہیں مل سکتا۔ ایسے ہی اگر ایک ادمی گھر میں کمرہ بناتا ہے اور کمرہ بناتے ہوئے اس کے گھر میں ایک ونڈو رکھتا ہے کھڑکی رکھتا ہے اور دو لوگ مکان بناتے ہیں اور دونوں اسی طرح ونڈوز رکھتے ہیں۔ ایک کی نیت یہ ہے کہ اس سائیڈ میں مسجد ہے اور مسجد میں اذان کی اواز ائے گی اور وہ میرے کانوں تک پہنچے گی اور میں وقت پر نماز ادا کروں گا مسجد میں جا کر۔ تو دوسرا یہ کہتا ہے کہ میں نے کھڑکی یہاں پر اس لیے رکھی ہے کہ ویسٹ اوپن ہے۔ ادھر سے مجھے ہوا ائے گی کمرہ خوبصورت لگے گا روشنی ائے گی۔ تو کام دونوں نے ایک کیا ہے۔ لیکن ثواب پہلے والے کو ملے گا دوسرے والے کو صرف روشنی ملے گی اور اللہ کی قدرت دیکھیے کہ دوسرے والے کو بھی روشنی بھی ملے گی خوبصورتی بھی ملے گی ویسٹ اوپن ہونے کی وجہ سے اس کو ہوا بھی ملے گی دونوں چیزیں اس کو ملیں گی۔ اگر نیت اللہ کے لیے کر لی جائے تو اللہ تعالی دونوں چیزیں دیتا ہے اور بہت کچھ دیتا ہے۔ اسی طرح دین کے کام ہیں اور عبادات ہیں اس میں اللہ کے لیے کرنا چاہیے ہر کام۔ خالص لوجہ اللہ کرنا چاہیے۔ کہ اگر وہ اللہ کی رضا کے لیے ہے اور چھوٹا کام بھی ہے۔ تو اس کا بہت بڑا اجر مل سکتا ہے بہت بڑا اجر ہو گا۔ اور اگر بڑا کام ہو اور نیت اس کی خالص نہ ہو تو اس بڑے کام کا بھی اسے کچھ نہیں ملے گا۔ یہاں پر وہ حدیث جو مشہور حدیث ہے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بخاری مسلم کے اندر روایت ہے صحیح روایت ہے۔ کہ ان سے پوچھا گیا کہ اپ کوئی ایسی حدیث سنائیں جو جس کے بارے میں اپ بہت مطمئن ہیں اپ نے خود سنی ہے اللہ کے رسول سے اپ نے صلی اللہ علیہ وسلم سے اپ نے سنی ہے۔ تو جب وہ حدیث بیان کرنے لگتے تھے اس حدیث کے اندر جو ایک بہت بڑا میسج ہے اس کی وجہ سے اس کو سامنے رکھ کر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ وہ حدیث املا کرنے سے پہلے وہ حدیث سنانے سے پہلے وہ حدیث بیان کرنے سے پہلے خوف اور ڈر کی وجہ سے ان پر غشی طاری ہو جاتی تھی اور بے ہوش ہو جاتے تھے اور گر جاتے تھے۔ وہ حدیث کیا ہے اس کے اندر تین لوگوں کا تذکرہ ہے۔ عمل بہت بڑے بڑے ہیں۔ ایک قاری قران ہے عالم دین ہے۔ ایک مجاہد ہے۔ اللہ کے راستے میں شہید ہونے والا ہے۔ اور ایک سخی ہے۔ اللہ کے راستے میں اپنا مال پانی کی طرح بہانے والا ہے۔ جب اللہ تعالی ان تینوں سے پوچھے گا تو وہ یہی کہیں گے کہ ہم نے تو یا اللہ میں نے تو ادھی زندگی پڑھنے میں لگا دی پھر پڑھانے میں لگا دی اور دوسرا کہے گا یا اللہ ہر انسان کو جان سب سے زیادہ پیاری ہوتی ہے وہ میں نے تیرے راستے میں قربان کر دی۔ اور تیسرا کہے گا مال ہر بندے کو دنیا میں بہت عزیز ہوتا ہے۔ میں نے مال خرچ کیا پانی کی طرح بہایا اللہ تینوں کو کہے گا اس وجہ سے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ وش کھا کر گر جاتے تھے کتنے عظیم عمل ہیں کتنے بڑے بڑے عمل ہیں۔ قاری قران ہونا، عالم دین ہونا، شہید ہونا اور اپنا مال اللہ کے راستے میں خرچ کرنا مگر اللہ کہے گا کدبتہ۔ پہلے کو کہے گا تو جھوٹ بولتا ہے دوسرے کو بھی تیسرے کو بھی پہلے والے کو کہے گا اللہ تعالی تو نے تو قران اس لیے پڑھا تھا لیقال قاری وقد قیل۔ لوگ تو یہ قاری کہیں تیری شہرت ہو تیرا ولولہ تیرا نام گونجے لوگوں کے ہاں وہ ہو چکا دنیا میں قد قیل۔ میرے پاس تیرے لیے کچھ نہیں میرے لیے تو کیا ہی نہیں تھا یہ سب کچھ۔ تو نے تو دنیا کے لیے کیا تھا شہرت کے لیے کیا تھا۔ فیمس ہونے کے لیے کیا تھا میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ اور فرشتوں کو کہا جائے گا اس کو گھسیٹو اور گھسیٹتے ہوئے اسے اوندھے منہ کر کر جہنم میں پھینک دو۔ اور اسی طرح شہید کو کہا جائے گا اسی طرح سخی کو کہا جائے گا۔ عمل کتنا بڑا ہے نیت خالص نہیں ہے۔ اور نیت اگر خالص ہو جیسے حدیث میں اتا ہے کہ اگر ایک ادمی جہاد کی شہادت کی نیت کرتا ہے تڑپ رکھتا ہے دن رات دعا کرتا ہے کہ اللہ اسے شہادت کی موت دے دے اور اس اپنے اس نیت میں اور اپنے اس قول میں سچا ہے وہ۔ تو اگر اسے موت بستر پر بھی اتی ہے گھر میں بھی اتی ہے چارپائی پر بھی اتی ہے تو اللہ تعالی اس کی نیت اس کی تڑپ اس کی خواہش کی وجہ سے اللہ تعالی اسے شہادت کا درجہ عطا کرے۔ شہادت کا مرتبہ اسے ملے گا کیونکہ اس کی نیت خالص تھی اللہ کے لیے تھی۔ اس لیے ہمیں یہ حدیث سامنے رکھنی چاہیے ہر نیک کام کرنے سے پہلے ہر عبادت کرنے سے پہلے کہ وہ کام اللہ کے لیے ہو۔ ل وجہ اللہ اللہ کی رضا کے لیے ہو دنیا کے لیے نہ ہو۔ تو پھر وہ کام ہمیں نفع دے گا دنیا میں بھی اخرت میں بھی۔ ایک قول ہے وہ مختلف صحابہ کی طرف منسوب ہے کہ وہ قول یہ ہے لا ینفع قول الا بعمل و لا ینفع عمل الا بنيه۔ کہ قول اگر کوئی بات کرتا ہے انسان کچھ کہتا ہے تو وہ اس وقت تک اس کے لیے مفید نہیں ہو گا جب تک کہ اس پر عمل نہیں کرے گا۔ عمل اس وقت تک اس کے لیے مفید نہیں ہوگا جب تک اس کی نیت خالص نہیں ہو گی۔ اور تیسری جگہ پر فرمایا کہ نہ قول فائدہ دے گا نہ فعل فائدہ دے گا نہ نیت فائدہ دے گی۔ جب تک کہ یہ تینوں چیزیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق نہ ہوں گے۔ تو یہ چیز بھی ہے کہ قول بھی ہونا چاہیے اس کے ساتھ عمل بھی ہونا چاہیے اور نیت بھی خالص ہونی چاہیے اور وہ عمل بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہونا چاہیے۔ اب دیکھیں نا کہ یہاں ہجرت کتنا بڑا عمل ہے اور اس کی اگر کوئی ادمی ہجرت کرتا ہے اور وہ ہجرت کی نیت اس کی یہ ہے کہ مجھے دنیاوی فائدہ حاصل ہو تو اس کو اس کا کچھ نہیں ملے گا۔ اور اگر وہی ادمی نیت اللہ کے لیے کرتا ہے۔ وہ ہجرت اس کی اللہ کے لیے ہے۔ اور انشاء اللہ اس کو دیگر فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ ایسے ہی اگر ایک طالب علم دین اس لیے پڑھتا ہے کہ لوگوں میں وہ شہرت حاصل کرے۔ لوگوں کے ساتھ مناظرے کرے اس کا چرچہ ہو اج تو یہ بیماری بہت زیادہ ہے۔ میرے فالور بڑے ہیں لوگوں میں میں فیمس ہوں اور میری شہرت ہو اگر علم اس لیے حاصل کرتا ہے۔ تو وہ علم اس کے لیے وبال ہو گا۔ اس لیے علم حاصل کرنے سے پہلے یہ نیت ہو کہ اللہ تعالی اس سے مجھے خود کو اپنے اپ کو با عمل بنانے کی اور پھر اس علم کو دوسروں تک پہنچانے کی توفیق دے اور میری دنیا بھی اچھی ہو جائے اور اخرت بھی سنور جائے۔ اگر اس نیت کے لیے ہے تو پھر تو فائدہ مند ہے۔ اگر کچھ اور مقصد ہے تو پھر اس کے لیے یہ نقصان دہ ہے۔ تو اس لیے نیت سب سے پہلے خالص کرنی چاہیے اللہ کے لیے اس کے بعد دیگر فوائد جو ہیں وہ وہ بعد کی بات ہیں۔ تو اخر میں اگر ہم اس حدیث کے جیسے کہا تھا کہ ہم کچھ فوائد یعنی اس حدیث سے احکامات کیا استمبات ہوتے ہیں اس سے ہمیں فوائد کیا حاصل ہوتے ہیں۔ تو اس میں سب سے پہلے فائدہ سب سے پہلا فائدہ تو ہمیں یہ ملتا ہے کہ عمل میں اخلاص ہونا یہ قبولیت کی شرطوں میں سے ایک شرط ہے۔ اگر اخلاص نہیں ہے تو وہ عمل قبول نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالی تو خالص چیزوں کو پسند کرتا ہے۔ جو کام اللہ کے لیے ہو گا اللہ اسے پسند کرتا ہے تو اس کا اسے اجر و ثواب بھی ملے گا۔ اور دوسرا اس سے یہ فائدہ ملتا ہے کہ ہم ریاکاری سے اپنے اپ کو بچائیں۔ کیونکہ ریاکاری سے بڑے بڑے دکھلاوے سے شہرت کے لیے کیے ہوئے کام سے بڑے بڑے اعمال بھی ضائع ہو جاتے ہیں ان کا ثواب بھی ختم ہو جاتا ہے۔ اور یہ بھی ہمیں پتہ چلتا ہے کہ نیت دل کے ارادے کا نام ہے۔ تیسرا فائدہ یہ کہ نیت دل کے ارادے کا نام ہے زبان سے نیت مشروع نہیں ہے۔ الا یہ کہ جہاں جیسے حج کے لیے نیت کے الفاظ وارد ہیں احادیث کے اندر وہاں ہم الفاظ سے نیت کریں گے۔ باقی جتنی بھی عبادات ہیں اس کے لیے الفاظ ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔ بلکہ الفاظ اگر ادا کریں گے تو بدعت کے زمرے میں بھی جا سکتے ہیں۔ تو اس لیے وہاں پر صرف دل سے نیت کرنی ہے زبان سے نیت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور مومن پر لازم ہے کہ جتنی بڑی یہ نیت یہ عظیم الشان ہے۔ تو اس کا پورا یقین ہونا چاہیے کہ جب اس نے عمل کر لیا ہے اچھی نیت سے تو اس کا اس کو ثواب بھی ملے گا دنیا میں بھی اور اخرت میں بھی۔ اور نیت پانچواں فائدہ اس کا یہ ہے کہ نیت ہر عمل کا اہم رکن ہے۔ اساس ہے۔ اور اس کے اعمال کے ثواب کا دارومدار اور انجام کار کا دارومدار اس کی نیت پر ہے۔ تو انسان دیکھ لے کہ اس نے نیت کیسی کی ہے اس کی نیت کیا ہے کس مقصد کے لیے وہ کام کر رہا ہے۔ وہی اس کو ملے گا جس مقصد کے لیے اس نے وہ کام کیا ہے۔ تو یہ ہماری پہلی حدیث ہے اربعین نوویہ کی جس کا عنوان ہم دے سکتے ہیں اخلاص نیت۔ اور اس کا ترجمہ مشکل الفاظ کے معانی تشریح اور اخر میں ہم نے فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالی ہمیں دین کو احادیث کو سمجھنے کی اور سمجھ کر اخلاص کے ساتھ اس پر اللہ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ واخر دعوانا الحمدللہ رب العالمین۔



