[0:00]میرا پیر میرا پیر میرا پیر میرا پیر میرا پیر میرا پیر امام
[0:41]میرا میٹھے میٹھے اسلامی بھائیوں اج 26ویں شب ہے اور دعوت اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ میں میرے شیخ طریقت امیر اہل سنت محسن اہل سنت
[1:08]اس وقت فیضان مدینہ میں موجود ہیں اور نہ جانے کہاں کہاں یہ سن بھی رہے ہوں گے کیونکہ میرے امیر سنت
[1:24]دعوت اسلامی کے مدنی کاموں میں مصروف عمل ہیں تو آج ہم امیر سنت
[1:41]پیر روٹھ جائے نا تو پھر جو کامل مرید ہوتا ہے اس کی تو یہ کیفیت ہوتی ہے اگر اس کو پتہ چل جائے کہ میرا پیر مجھ سے روٹھ گیا ہے تو بزرگوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس کی کیفیت ایسی ہو جائے جیسے اس کے جسم سے روح نکل گئی ہو اور وہ پیر کو منانے میں لگ جائے اور جب تک پیر مانے نا وہ اس کے در کو چھوڑے نہیں اب وہ مریدی کہاں رہی اب پیر کو منانے کی پڑی کس کو ہے پیر کی رضا کی کس کو پڑی ہے تو جس طرح دیگر اعمال میں ہماری کمزوری واقع ہوئی نا اس طرح طریقت میں بھی کمزوری واقع ہو گئی ہے اب بڑے رو دھو کر لجاجت کے ساتھ گناہوں سے تائب ہوتے ہوئے پیر کی بارگاہ میں حاضر تو ہوتے ہیں پھر پیر تو پیر ہوتا ہے وہ تو اپنا تو پھر میرا مرشد تو میرا پیر ہے اس کا تو انداز ہی کچھ نرالا ہے اس کو تو یہاں تک دیکھا کہ پیر کو مرید کیا منانے آئے گا میں نے تو اس پیر کو دیکھا ہے کہ مریدوں کو منانے کے لیے ان کے گھروں پر جاتا ہے قربان جاؤں اپنے پیر پر واقعی میرا پیر میرا میرا پیر میرا میرا پیر میرا امام کتابوں کی جو باتیں پڑھی ہیں اس کے جو خلاصے ہیں نا اس طرح کا ذہن یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جب پیر کا فیض ملتا ہے نا تو مرید ترقی کرتا ہے مرید ترقی کرتا ہے مرید ترقی کرتا ہے ترقی کرتے کرتے اسے بعض اوقات یہ وہ وہ منزلیں پاتا ہے کہ جس کا اس کو گمان بھی نہیں تھا یہ سب کے سب مرید کی ازمائشیں ہوتی ہیں اور پھر بعض وہ منزلیں آتی ہیں جسے مرید سمجھتا ہے کہ مجھے کچھ مل گیا کھو جاتا ہے وہاں مگر یہ جہاں کھویا یہ اس کی منزل نہیں ہے کتابوں میں لکھا ہے کہ اس کی جو منزل تھی معرفت الہی وہاں سے نجات آتی ہے اے مرید ان مناظروں میں مت کھو جا یہ تیری منزل نہیں ہے تیری منزل اگے ہے ابھی فدا ہوتا جا اپنے پیر پر فدا ہوتا جا پیر پر جب تو پیر پر فدا ہوتا شروع ہو جائے گا اور جب تو اس مقام پر پہنچے گا کہ تو مرید ہو کر اپنے پیر پر فدا ہوگا پھر تیرا پیر تجھے فنا فی الرسول کے درجے پر پہنچائے گا ارے تو پہلے فنا فی شیخ تو ہو جا میرے امیر فرماتے ہیں میرے اعلی حضرت پر میری آنکھیں بند ہیں کیا فرمایا میرے اعلی حضرت پر میری آنکھیں ہیں تو میرے مرشد پر میری آنکھیں نکل گئی ہو اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی پھر تھا مارا مارا نہ تھا کوئی سہارا میرے غریب پرور نوری والا میرا پیر میرا پیر امام میٹھے میٹھے اسلامی بھائیوں اج 26 تو کر میں پھرتا تھا مارا مارا میرا اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو اللہ اے غور تو کرو سوچو تو سہی کہاں کہاں مارے مارے پھرتے تھے کہیں سینما گھروں میں مارے مارے پھرتے تھے کہیں تفری گاہوں میں مارے مارے پھرتے تھے کہیں باہر سڑکوں بازاروں میں مارے مارے پھرتے تھے کہیں فحاشی کے اڈوں پر مارے مارے پھرتے تھے میرا پیر میرا پیر میرا پیر میرا پیر میں جب بھی تھکا تو کر میں تھا مارا مارا میں جب بھی تھک ہے مارا میرا حوصلہ بڑھایا میرے غریب پرور اللہ



