Thumbnail for طالب علم اور علمی بحث | علمی مہارت کا حصول | شیخ سیف اللہ ثناءاللہ by Tilmeaz Institute

طالب علم اور علمی بحث | علمی مہارت کا حصول | شیخ سیف اللہ ثناءاللہ

Tilmeaz Institute

17m 12s1,993 words~10 min read
Auto-Generated

[0:08]الحمد لله رب العالمين والصلاه والسلام على النبي الامين اما بعد اب شیخ اگے فرماتے ہیں طالب العلم والبحث یعنی طالب علم اور بحث کے متعلق شیخ فرماتے ہیں کہ طالب العلم لا بد ان تجتمع عنده ثلاثه اشياء طالب علم کے پاس تین اشیاء یعنی جمع ہونی چاہیے نمبر ون تلقي العلم عن الاشياخ الذين ينفعونه یعنی علم کو حاصل کرنا ان مشائخ اور اساتذہ سے جس سے ان کے لیے فائدہ اور نفع بخشی ہو۔ دوسری چیز القراعه والتوسع في المطالعه کہ انسان پڑھے اور اپنے مطالعے میں وسعت اختیار کرے وسیع کرے۔ تو اسی طرح شیخ فرماتے ہیں تیسرے مسئلے میں بحث المسائل وتحريرها والنظر في كلام اهل العلم فيها باحثا ومدونا كاتبا ما يصل اليه في بحثه یعنی جو مسائل ہیں اس میں بحث کرنا اور اس کو محرر کرنا اور اہل علم کے کلام میں نظر اور غور و فکر کرنا۔ ریسرچ کر کے طور کے اوپر بحث کرنے کے طور کے اوپر اور لکھاری کے طور کے اوپر تاکہ اس کے اندر یہ فائدہ اور یعنی بحث کر سکے۔ شیخ فرماتے ہیں وقدا ذكرنا المسالتين الاولين والان نبين المسالة الثالثة۔ پہلے دو مسئلے ہم ذکر کر چکے ہیں اب ہم تیسرے مسئلے کی طرف آتے ہیں۔ سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بحث ریسرچ جانچ پڑتال کرنے کا کیا فائدہ ہے؟ What is the benefit of research? نمبر ون پہلی بات القوه في العلم وتثبيته یعنی علم میں مضبوطیت سٹرینتھ، طاقت، پاور اور اس علم کو ثابت کرنے میں بڑی مددگار ثابت ہوتی ہے یہ ریسرچ۔ اور اسی طرح یہ بھی یاد رکھیں شیخ فرماتے ہیں کہ طالب علم کو پر اس وقت تک نہیں لگتے جب تک وہ علم کے سما میں اڑ نہ سکے۔ اور علم کے سما میں اڑنے کے لیے آپ کو بحث ریسرچ تحقیق کی ضرورت ہے۔ دوسری جو شیخ نے دوسرا جو فائدہ ذکر کیا ہے وہ ہے اتضا المسائل والوقوف علی معلومات کثیرہ متنوعہ یعنی آپ کے سامنے جو مسائل ہیں وہ کھل کے رہ جائیں گے اور آپ ان مسائل کی باریکیوں کو جاننے لگ جائیں گے اور بہت سارے مختلف المشروب مختلف الفلیورز مختلف المذاق آپ کو معلومات مہیا ہو جائیں گے۔ جو بغیر تحقیق بغیر ریسرچ بغیر بحث کے آپ اس کو نہیں حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی لیے شیخ فرماتے ہیں کہ کتنے ایسے مسائل ہیں کتنے ایسے نکات ہیں کیسے کیسے لطافت سے بھرپور سی پی او میں چھپے ہوئے موتی ہمیں بحث اور ریسرچ کے دوران وہ جواہرات علمیہ ملتے ہیں۔ تو اس لیے طالب علم اگر صحیح طریقے سے بحث و تحقیق کرے تو وہ بہت ہی کم وقت میں یا زیادہ وقت میں بہت زیادہ علم اور معلومات حاصل کر لیتا ہے اور کر پاتا ہے۔ اسی طرح شیخ فرماتے ہیں کہ اگر بندے کے پاس ٹائم ہو تو وہ یہ جو جدید آلات ہیں جو مددگار ثابت ہوتے ہیں کمپیوٹر ہو گئے یا شاملہ وغیرہ وہ اس کے بغیر کرے تو صحیح بات ہے ٹائم لگتا ہے لیکن فائدہ بہت زیادہ ہے۔ جدید جو آلات اور جدید جو نظام اور ریسرچ کا طریقہ اور شاملہ وغیرہ اور آج کل تو اے آئی کا بھی زمانہ ہے۔ اس میں آپ سپیسیفک ریسرچ کر سکتے لیکن اس میں آپ زیادہ فوائد سے مستفیض نہیں ہو پاتے مثال کے طور پر شیخ فرماتے ہیں کے ایک طالب علم سرچ کرتا ہے کتاب البیح میں فق میں کتاب البیح میں ایک مسئلے کو اس کو جب ڈھونڈتا ہے جانچ پڑتال کرتا ہے تو اس کے ذہن میں بیٹھ جاتی ہے۔ لیکن ایک بندہ ایسے ہی پڑھ رہا ہو تو وہ ذہن میں نہیں بورڈ بیٹھتی ہے۔ تو اس لیے طالب علم کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ علم حاصل کرے اور کوشش کرے ریسرچ کرنے کی۔ اسی طرح شیخ فرماتے ہیں تیسرا جو فائدہ ہے الثالصه کہ طالب علم علمی فوائد اور علمی ریسرچ کے دوران اس کو تزکیہ تعبد اور اسی طرح اس کو اللہ تعالی کی یعنی معرفت اللہ تعالی کی صفات اللہ تعالی کے اسماء و صفات اس کے اس معرفت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ حتی کہ ایک طالب علم کئی بار احادیث مبارکہ سے گزرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر درود بھیجتا ہے۔ بولتا ہے صلی اللہ علیہ وسلم قال صلی اللہ علیہ وسلم اب آپ ذرا سوچیے کتنی بار وہ یعنی اللہ کے نبی پر درود بھیجتا ہے اور ثواب جزیل کماتا ہے۔ تو یہ بہت بڑے فوائد میں سے ایک فائدہ ہے۔ اسی طرح اگر آپ دیکھیں تو علماء نے اس کا بھی ذکر کیا ہے کہ جو ریسرچ ہے اس میں یہ فائدہ ہوتا ہے کہ طالب علم کو پتہ چلتا ہے کہ وہ کتنا جاہل ہے۔ کتنا وہ علم سے نابلد ہے۔ کتنی چیزیں ہیں جو اس کو پتہ نہیں ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کو سب کچھ پتہ ہے۔ اسی لیے بعض علماء نے جب امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے پاس ایک ایک شخص آیا اور انہوں نے جا کے جب ان سے پوچھا کہ اے امام احمد یہ جو حدیث ہے ہاں یہ جو یعنی ایک حدیث جب امام احمد لے کے آئے یعنی امام احمد ہاں کے فق کے متعلق بہت ساری کتابیں اب آپ مجھے مجھے کیسے میں پڑھوں؟

[9:40]अगर मसलन में फिक हनबली का माहिर नहीं हूं तो मुझे पता होना चाहिए कि फिक हनबली में कौन से मदारिस है? कौन सी किताब है? कौन सा मुतमद है? कौन सा नहीं है? ये सारी चीजें बहुत जरूरी है वरना तालिब इल्म फिसल जाता है। اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماذا يفعل طالب العلم اذا اراد ان يجمع اقوال العلماء في المساله الفقهيه ایک طالب علم کیا کرے اگر وہ ایک فقہی مسئلے میں علماء کے اقوال کو جمع کرنا چاہتا ہو تو شیخ نے اب آپ کو یہ بتایا ہے مسئلہ مثال دے رہے ہیں اگر ایک بندہ عرفات میں زوال شمس تک یعنی یعنی رہتا ہے تو کیا اس کا جو حج ہے وہ مکمل مانا جائے گا یا نہیں؟

[10:35]اس مسئلے میں شیخ فرماتے ہیں اس میں اختلاف ہے۔ اب سب سے پہلی بات شیخ فرماتے ہیں یہ بہت ضروری ہے کہ آپ اس مسئلے کو خود سمجھتے ہوں۔ آپ کو پتہ ہو کیا مسئلہ ہے پھر آپ نے شیخ سے رکھیں۔ پھر اس کے بعد آپ جا کے دیکھیں گے کہ مذاہب یعنی اربع یا مذاہب خمسہ مثلا مذاہب اربع یعنی مالکیہ، شافعیہ، حنابلہ، حنفیہ۔

[11:01]پھر اگر آپ ایک اور مذہب اضافہ کر دیں المذہب الظاہری۔ پھر شیخ فرماتے ہیں ومذاهب اهل الحديث داخلہ فی مذاهب الائمہ الاربعہ یعنی کیونکہ اہل حدیث کا جو قول ہے وہ یا تو امام رو حنفیہ یا امام مالک یا امام شافعی یا امام احمد ان چاروں میں سے کسی نہ کسی کے ساتھ ان کی بات ملتی ہے۔

[11:37]تو اس لیے بہت ضروری ہے کہ طالب علم یہ جان لے۔ اور اگر اس نے مسئلہ کرنا ہے تو سب سے پہلے وہ الخلاف العالی الخلاف العالی کس کو بولتے ہیں یہ مذاہب اربع یا خمسہ پھر اس کے بعد نیچے اتریں۔ پھر شیخ فرماتے ہیں وہ مباقی یعنی نیچے اترتے ہوئے جائے اور اس طرح اس کو پتہ چلے گا مثال کے طور پر کتاب المغنی امام ابن قدامہ کی المجمو للنووی المحلہ لابن حزم یہ سارے وہ پڑھے۔ پھر اس کو پتہ چلے گا کہ کہ یہ ساری اس موضوع میں کیا یعنی چیز مناسب ہے اور کیا چیز صحیح ہے اور کیا چیز غلط ہے۔ اچھا جی اب شیخ ایک اور سوال پوچھتے ہیں شیخ فرماتے ہیں کہ مثال کے طور پر میں علماء کے فتاوی پڑھ رہا ہوں۔ ہاں اور تو کیا میں ان کے فتاوی کو لے کر اپنے اوپر چسپاں کر سکتا ہوں تو شیخ فرماتے ہیں۔ الفتاوی علی قسمين جو فتاوی ہے وہ دو قسم کے ہیں۔ ایک منہ ما يمكن ان ينطبق على حالته ومنه ما لا يمكن ان ينطبق على حالته یعنی ایک وہ حالت ہے جس میں یعنی بندے کے اوپر وہ جو حالت ہے جو اس کی سمیلیریٹی ہے وہ ایک جیسا ہے فتوی مسئلہ۔ ایک ہے نہیں ایک جیسا نہیں ہے مسئلے میں فرق ہے۔ تو اس حالت میں شیخ فرماتے ہیں کہ اگر جواب سوال ایک جیسا ہو لیکن اگر احوال بھی ایک جیسے ہوں، عرف بھی ایک جیسا ہو تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر احوال اور عرف اور ملک اور اسی طرح سوال ایک جیسا نہ ہو پھر وہ ایک اس کا طریقہ کار الگ ہوگا۔ اسی لیے میں بہت سارے ہمارے احباب کو کہتا ہوں خاص کر کہ بعض فتاوی جنرل سوالات کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ تو اس کی جنرل رولنگ ہوتی ہے اس میں کوئی حرج نہیں لیکن کچھ فتاوی سپیسیفک ہوتے ہیں کیونکہ بندے فتوے میں ایک مفتی جو ہے وہ فتوی پوچھنے والے کی حالت اس کی بہت ساری چیزوں اور کئی ایلیمنٹس کی بنیاد پر وہ فتوی دیتا ہے۔ اگر ہم وہ سپیسیفیکیشن یعنی یہ یہ فتوی مخصوص اس بندے کے لیے ہے۔ اگر ہم اس کو ہر جگہ جنرالائزڈ کریں گے ایک سپیسیفائیڈ فتوے کو ایک مخصوص فتوے کو عام لوگوں کے اوپر چسپہ کریں گے تو اس سے کئی مفاسد پیدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ ہر وقت ہر لمحے نہیں ہے کیونکہ بعض فتاوا جنرل اور عام ہوتے ہیں جیسے کہ میں آپ لوگوں کو بتا چکا ہوں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ علماء کے اختلاف میں اگر ایک مسئلے میں علماء کا اختلاف ہے تو میں کیا کروں؟ تو شیخ فرماتے ہیں الخلاف في الفتاوى موجود من قديم یعنی فتاوی میں اختلاف قدیم زمانے سے موجود ہے اور والخلاف فی العلم ما بين متشدد متساحل موجود من الزمن الاول یعنی خلاف علم میں خلاف جو ہے اختلاف وہ زمان اول سے موجود ہے اس میں کچھ شدت اختیار کر جاتے ہیں کچھ نرمی اختیار کر جاتے ہیں۔

[14:36]تو شیخ فرماتے ہیں کہ اپ دیکھتے ہیں کہ بعض علماء من السلف في مساله و في مساله اخرى لیکن لا تجد من السلف من يشدد في كل شيء لان الكل كان يتحرى الحق حسب ما وصل اليه من الادله والقواعد الشرعيه یعنی وہ کہتے ہیں کہ اپ دیکھتے ہوں گے کہ بعض علماء جو سلف میں سے ہیں وہ بعض دفعہ بعض مسائل میں سختی بعض مسائل میں آسانی اور یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک عالم دین جو سلف میں سے وہ ہر وقت سہل پرستی اور اسان پسندی کا شکار ہو۔ مثال کے طور پر شیخ فرماتے ہیں اگر ہم نے مذاہب فقہیہ لیا تو مثال کے طور پر شیخ فرماتے ہیں ان مذاہب الحنابلہ في العبادات فی ميل احتیاض وہ بولتے ہیں کہ اپ دیکھتے ہیں کہ حنابلہ کے مذہب عبادات میں وہ کیا کرتے ہیں؟ وہ احتیاط زیادہ کرتے ہیں اور براعت ذمہ فی الاحکام اور ذمت کی براعت احکام میں کرنا یعنی وہ چاہتے کہ بس انسان اپنی جان بچا لے۔ تو شیخ فرماتے ہیں کہ لذلك تجد ان مذهب الحنابلة في العبادات فيه نوع من التشدد و مذهب الحنفیہ و المالکیہ و الشافعیہ یعنی اگر اپ اس کو کمپیریزن کریں گے مقارنہ کریں گے مذہب حنفیہ شافعیہ مالکیہ کے ساتھ تو اپ کو نظر ائے گا کہ حنابلہ میں تھوڑی سی شدت ہے۔ لكن في المعاملات تجد ان المساله بالعکس لیکن معاملات میں اپ دیکھیں گے کہ معاملہ عکس برعکس ہے۔ معاملات میں اپ دیکھیں گے کہ مذہب حنابلہ اص اور المذاہب الاخرى اضیق۔ ہم انشاءاللہ اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔ اور انشاءاللہ اگلی نشست میں ہم اس پر بات کریں گے کہ اگر کوئی طالب علم لغت میں ریسرچ کرے یا کوئی طالب علم تاریخ میں ریسرچ کرے یا عقیدے میں یا حدیث میں تو اس میں کیا کریں گے اور وہ کون سی کتابیں ہیں جس پہ علمائے برصغیر نے حدیث کی شرح میں جس کا خیال رکھا تو انشاءاللہ اگلی نشست میں ہمارے ساتھ رہیں اور دیکھتے رہیں۔ جزاکم اللہ خیر بارک اللہ فیکم و السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سبحانک اللہم وبحمدک اشهد ان لا اله الا انت استغفرک واتوب الیک والسلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ فما کان صوابا فمن اللہ وحده وما كان من خطا فمن نفسی والشیطان سبحان ربک رب العزت عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمدللہ رب العالمین

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript