[0:00]آج کی ویڈیو بہت اہم ہے۔ میں کہتا ہوں بہت زیادہ ہی اہم ہے۔ کیونکہ آج ہم بات کریں گے ایک ایسے فیصلے کی جو آپ کی زندگی پر براہ راست اثر ڈالے گا۔ چاہے اپ کبھی تھانے گئے ہوں یا نہ گئے ہوں۔ آپ کا کبھی پولیس سے واسطہ پڑا ہو یا نہ پڑا ہو۔ یہ خبر آپ کے لیے ہے، آپ کے گھر والوں کے لیے ہے۔ پورے پنجاب کے لیے ہے۔ پنجاب پولیس نے 7 اپریل 2026 کو ایک تاریخی اعلان کیا ہے۔ تمام تھانوں میں بائیومیٹرک تصدیق اب لازمی کر دی گئی ہے۔ یعنی اب بغیر بائیومیٹرک کے بغیر انگوٹھے لگائے تھانوں میں کوئی کام نہیں ہوگا۔ تھانوں میں انٹری ہوتے ہی اپ کو پہلے بائیومیٹرک دینی ہوگی، اس کے بعد باقی کام۔ نہ ایف آئی آر، نہ شکایات، اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی اندراج ہو سکے گا۔ بائیو میٹرک کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوگا۔ تو آج کی اس ویڈیو میں ہم تفصیل سے سمجھیں گے۔ یہ فیصلہ کیا ہے، کیوں لیا گیا ہے؟ آپ پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟ اس کے فائدے کیا ہیں؟ آنے والے دنوں میں اس کے خدشات کیا ہیں؟ اور عام آدمی کو اب کیا کرنا چاہیے۔ آج کی اس ویڈیو میں اس پر ہم تفصیل سے بات کریں گے۔ ویڈیو کو اینڈ تک ضرور دیکھیے کیونکہ ویڈیو کے اینڈ میں میں ایک ایسی بات بتانے والا ہوں۔ جو آج تک اپ کو کسی نے نہ بتائی ہوگی۔ السلام علیکم دوستو میرا نام محمد بلال سلیم ہے۔ میں ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ہوں۔ اس چینل پر لا اور ٹیکس سے متعلق معلومات اور رہنمائی فراہم کرتا ہوں۔ پچھلی ویڈیو میں ہم نے بات کی تھی کہ جو ہمارے پردیسی بھائی ہیں، اوورسیز پاکستانی ہیں، جو پاکستان سے باہر روزی کمانے کے سلسلے میں یا کسی کام کے سلسلے میں گئے ہوئے ہیں اور وہ پاکستان پہنچتے ہیں تو ان کو گرفتار کر لیا جاتا ہے اور ان کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ ان کے اوپر ایف آئی آر ہے یا کسی مقدمے میں وہ مطلوب ہیں۔ ہم نے اس پر بھی تفصیل سے بات کی تھی کہ کن کن مقدمات میں جو ایئرپورٹ ہے اس پر اپ کو گرفتار کیا جاتا ہے اور اپ کو روک لیا جاتا ہے اپ سے تفتیش کی جاتی ہے اور کون سے ایسے مقدمات ہیں جن پر اپ کو نہیں روکا جاتا۔ اس ویڈیو کی تفصیل کے لیے اس کا لنک ڈسکرپشن میں میں دے دیا ہے اپ جا کر اس کو دیکھ سکتے ہیں اور پوری ویڈیو اپ سمجھ سکتے ہیں۔ بڑھتے ہیں آج کی اس ویڈیو کی طرف جس میں ہم نئے قانون جو جاری کیا گیا ہے تھانے کی طرف سے پنجاب پولیس کی طرف سے جو جاری کیا گیا ہے اس پر ہم بات کریں گے۔ دوستو سب سے پہلے ہم سمجھتے ہیں کہ ہوا کیا ہے۔ یہ فیصلہ کیوں لیا گیا ہے اور کب لیا گیا ہے۔ 7 اپریل 2026 کو پنجاب پولیس نے باقاعدہ ایک اعلان کیا ہے۔ کہ پنجاب کے تمام تھانوں میں بائیومیٹرک کا نظام نافذ کیا جائے گا۔ یہ نظام نادرا کے تعاون سے نادرا یعنی نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کے تعاون سے بنایا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ کام کیسے کرے گا اور کیا کام کرے گا؟ بہت ہی آسان طریقے سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرض کریں اپ کا فون چوری ہوگیا۔ اب اپ اندراج کے لیے رپورٹ کروانے کے لیے تھانے کے اندر جاتے ہیں اور اپ کو وہاں روک لیا جاتا ہے کہ رکیے پہلے اپنی بائیومیٹرک تصدیق کروائیے۔ پہلے اس طرح نہیں ہوتا تھا پہلے کیا ہوتا تھا پہلے اپ تھانے جاتے تھے ڈائریکٹ کاونٹر پہ جا کے اپ اپنی ایپلیکیشن دیتے تھے اپ اپنی شکایت درج کرواتے تھے۔ رپورٹ کرواتے تھے۔ اپنا نام بتاتے تھے، اپنا ائی ڈی کارڈ نمبر بتاتے تھے اور جو متعلقہ تفصیل ہوتی تھی اپ وہ بتا دیتے تھے۔ ہوتا یہ تھا کہ وہ کبھی اس کو اندراج کر دیتے تھے اور کبھی فارمیلٹی کے طور پر ہی اپ کو کوئی بہانہ بنا کر اپ کو واپس بھیج دیا جاتا تھا۔ اور بعض اوقات تو کیسز میں ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ نام بھی غلط ڈال دیا گیا ہے کام بھی فرضی ڈال دیا گیا ہے اور اپ کو مطمئن کر کے بھیج دیا گیا ہے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوگا اب اپ تھانے جائیں گے۔ سب سے پہلے اپ کا انگوٹھا لگے گا نادرا سے ویریفیکیشن ہوگی۔ نادرا ایک منٹ کے اندر اندر اپ کی ویریفیکیشن کر دے گا۔ اپ کا نام، اپ کا پتہ، اپ کا ایڈریس، اپ کا شناختی علامت تمام چیزیں اسی وقت سکرین پر شو ہو جائیں گی۔ اور یہ سارا نظام اٹومیٹکلی ہو جائے گا۔ جب تک اپ یہ نہیں کریں گے تب تک نہ اپ کا کوئی اندراج ہوگا، نہ انٹری ہوگی، نہ شکایت درج ہوگی اور نہ ہی کوئی کاروائی اگے بڑھ سکے گی۔ یہی بات پولیس نے کی ہے کہ اب بائیومیٹرک کے بغیر ہر آدمی کے لیے تھانے کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔ اب اہم بات یہ ہے کہ یہ عام ادمی یا شکایت کنندہ کے لیے نہیں ہے بلکہ یہاں پرسن ذکر کیا گیا ہے کہ کوئی بھی پرسن چاہے وہ سائل ہے، چاہے وہ ملزم ہے، تفتیشی ہے، چاہے وہ گواہ ہے۔ جو بھی اس تھانے میں جائے گا اور انٹری ہونے سے پہلے اس کی بائیومیٹرک لازمی ہو جائے گی۔ اور اگر کسی ملزم کو بھی تھانے لایا جائے گا گرفتار کر کے لایا جائے گا تو پہلے اس کی انٹری ہوگی۔
[4:46]اس کا بائیومیٹرک ہوگا اس کے بعد ہی اس کو لاک اپ میں بند کیا جائے گا۔ پہلے اس طرح ہوتا تھا کہ بہت سارے کیسز میں ہم نے دیکھا کہ ملزم کو پکڑ کے لے جاتا تھا اس کی انٹری ہی نہیں ڈالی جاتی تھی اس کی بندی ہی نہیں ڈالی جاتی تھی اس کو نہ تو جو ٹائم ہوتا ہے اس کے اندر پیش کیا جاتا تھا بلکہ اس کو حبس بے جا میں رکھا جاتا تھا اور بہت سارے کیسز میں ہم نے دیکھا کہ عدالت اہلکار اتا تھا اور وہ ا کے موقع پہ دیکھتا تھا اور اس کا اگلا پروسیس جو ہے وہ مکمل ہوتا تھا۔
[5:13]اب ایسا بالکل بھی نہیں ہوگا۔ جیسے ہی گرفتاری ہوگی بندہ تھانے ائے گا انے اندر انے سے پہلے وہ بائیومیٹرک تصدیق ہوگی اس کی انٹری ڈلے گی اور جو پولیس ہے وہ پابند ہوگی کہ اس کو 24 گھنٹے کے اندر اندر متعلقہ جو مجسٹریٹ ہے اس کے پاس پیش کرے گی۔ اس سے فائدہ ایک یہ بھی ہو جائے گا کہ جو ناجائز عام آدمیوں کو گرفتار کر کے حبس بے جا میں رکھا جاتا تھا اب اس سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ اب پنجاب پولیس نے تمام تھانوں کو سات دن کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔ سات دن کے اندر اندر وہ اپنے اعتراضات داخل کروا کے اس اس ارڈر کو امپلیمنٹ کریں گے۔ یعنی کہ 14 اپریل 2026 تک اس کی ڈیڈ لائن ہے۔ تب تک اس تمام تھانوں میں اس کا امپلیمنٹ ہو چکا ہوگا امپلیمنٹ کے لیے اقدامات کر لیے جائیں گے۔ اس کے لیے ہر تھانے میں بائیومیٹرک جس سے کی جاتی ہے وہ اعلی موجود ہونا چاہیے۔ پنجاب پولیس نے یہ ہدایت جاری کی ہیں کہ یہ اعلی ہر تھانے میں پرووائڈ کیا جانا چاہیے۔ 14 تاریخ تک تمام سامان تمام ریکوائرمنٹ جس کے اندر یہ بائیومیٹرک والا اعلی پولیس ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم جسے ہم پی ایس آر ایم ایس بھی کہتے ہیں۔ اس میں بائیومیٹرک کا پورا جو سسٹم ہے وہ ایکٹیو ہو جانا چاہیے۔ تمام تھانوں کے افسران کو یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ جن جن تھانوں میں یہ حالات ابھی تک نہیں پہنچے وہ اس کو ان کا انتظام و بندوبست کریں اور ان کی جو درستگی ہے ان کی جو مینٹیننس ہے اس کو چیک کریں اور اس کی درستگی کی رپورٹ دیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوستو یہ کام اہستہ اہستہ جانے والا نہیں ہے۔ بلکہ یہ امپلیمنٹ ہونے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے اور اس ہفتے تک یہ امپلیمنٹ ہو جائے گا اور لاگو ہو جائے گا۔ اسی لیے انتظامیہ نے سخت تاریخ دی ہے اور سخت اس پر جو ہے وہ نوٹس لیا گیا ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی ابہام یا ڈیلی پوزیشن نہ اختیار کی جا سکے۔ دوستوں سب سے اہم سوال جو ہر ادمی کے ذہن میں ہے کہ یہ ایسا فیصلہ کیوں لیا گیا ہے اس کی ضرورت کیوں پیش ائی ہے؟ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ جس طرح میں نے بتایا کہ پہلے جیلی شناخت ہو جایا کرتی تھی جیلی کیس درج ہو جایا کرتے تھے بندے کے بغیر ہی اس کی انٹری درج کر دی جاتی تھی اور بہت کچھ ایسا ہو جاتا تھا۔ پنجاب میں پہلے یہ ہوتا ہے کہ لوگ جھوٹے نام دے کر جھوٹے پتے دے کر جھوٹے مقدمے بھی درج کرواتے رہے ہیں۔ بائیومیٹرک انے سے کم سے کم یہ سلسلہ رک جائے گا اور کسی نا ناجائز پرچہ نہیں ہوگا کسی جو ہے غیر مظلوم یا ایسے بندے کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی جس نے جرم نہیں کیا ہوگا۔ پہلے جو کلچر تھا کہ وڈیرا یا پھر بڑے لوگ جو ہوتے تھے یا پھر ایسے لوگ جو بااثر لوگ ہوتے تھے۔ وہ کیا کرتے تھے کہ وہ شریف آدمیوں کو غریب آدمیوں کو عام آدمی کو اپنی دشمنی کی بنیاد پر وہ پھنسا دیتے تھے ان کے اوپر ایف آئی آر ہو جاتی تھی ایسے لوگوں کو بھی مقدمے میں گھسیٹ لیا جاتا تھا جو پاکستان میں موجود ہی نہیں ہوتے تھے اوورسیز پاکستانی ہوتے تھے یا پھر روزی روٹی کے لیے پاکستان سے باہر گئے ہوئے ہوتے تھے وہ جیسے ہی پاکستان پہنچتے یا ایئرپورٹ پر پہنچتے ان کو پتہ چلتا ہے کہ ان کا نام تو واچ لسٹ میں ایا ہوا ہے وہ تو اشتہاری ہو چکے ہیں اور وہ کسی ایسے مقدمے میں ملوث کر دیے گئے ہیں جس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوگا اب ڈیٹا بھی کریکٹ رہے گا اب جو جرم ہے اس میں جو غیر شفافیت تھی وہ بھی ختم ہو جائے گی اور اس کے علاوہ وقت کی بچت بھی ہو جائے گی۔ جھوٹی ایف آئی ار سے تحفظ ہو جائے گا۔ مجرموں کی درست شناخت ہو جائے گی۔ پولیس کی جوابدہی میں اضافہ ہو جائے گا اور پولیس پروفیشنل انداز سے مزید اچھے طریقے سے کام کر سکے گی۔ یہ نظام جو پاکستان میں نافذ ہونے جا رہا ہے یہ کوئی انوکھا نظام نہیں ہے۔ اس سے پہلے یہ نظام پورے پاکستان کے علاوہ یو اے ای، عرب امارات اور سعودی عرب وغیرہ میں یہ الریڈی نافذ العمل ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ جیسے بڑے ملکوں میں بھی بائیومیٹرک نظام کے تحت مجرموں کی شناخت ہوتی ہے مجرموں کی جو انٹری ہے وہ کی جاتی ہے۔ اب اہم بات یہ ہے کہ اپ کو کیا کرنا چاہیے عام ادمی کو کیا کرنا چاہیے۔ سب سے اہم بات اپنا شناختی کارڈ کو چیک کریں۔ اگر اس کی ڈیٹ ایکسپائری ہو چکی ہے تو اس کو پہلے نمبر پر اپڈیٹ کروائیں۔ گھبرانے والی اس میں بات نہیں ہے گھبرانا نہیں ہے اپڈیٹ رہنا ہے اپ ٹو ڈیٹ رہنا ہے اور اپنے اپ کو وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل کرنا ہے۔ اگر اپ کے شناختی کارڈ کی ڈیٹ ختم ہو چکی ہے تو اپ فوری طور پر اس کو اگر نہیں کروائیں گے تو جب اگر ضرورت کے ٹائم اپ کو کہیں جانا پڑے گا تھانے میں تو بغیر شناختی کارڈ کے جب تک وہ اپڈیٹ نہیں ہوگا اپ کی بائیومیٹرک نہیں ہوگی جب تک بائیومیٹرک نہیں ہوگی تو سارے کام اپ کے رک جائیں گے۔ اس لیے زیادہ اہم چیز جو ہے کہ وہ اپنے شناختی کارڈ کو اگر اس کی ٹائم ایکسپری ہونے والا ہے تو اس کو اپڈیٹ کروانا لازمی ہے۔ دوستوں آج کی ویڈیو میں جو ہم نے اہم باتیں سیکھی ہیں یا سمجھی ہیں یا جانی ہیں وہ اس کو کبھی مت بھلائیے گا۔ اس پر کوشش کریں کہ اس کو اپنے دوستوں تک شیئر کریں اپنے گھر والوں تک شیئر کریں اپنی فیملی کو بتائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس کے بارے میں انفارم کریں تاکہ ایسا نہ ہو کہ مشکل وقت ائے کسی پر اور وہ غلط رہنمائی کی وجہ سے یا نالج نہ ہونے کی وجہ سے معلومات نہ ہونے کی وجہ سے وہ مشکلات کا شکار ہو جائے۔ ایک تو بندے کے اوپر پہلے برا وقت ہوتا ہے مشکل وقت ہوتی ہے اگے پھر نئی قانون سازی اور نئے رولز اینڈ لا کی وجہ سے بندے کو پھر نئے سرے سے جو ہے وہ اپنے اپ کو دیکھنا پڑتا ہے۔ میری ذاتی رائے میں یہ ایک بہت اچھا قدم ہے اور ایسے اقدامات سے پاکستان کے اندر جرم کی جو شرح ہے اس میں کمی ائے گی اور جو مجرم ہے اس کو پکڑنے میں اسانی ہوگی اور جو غیر قانونی اور غیر ضروری اور جو ناجائز ایف ائی ار ہوتی تھیں وہ اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ جٹا جو دلالی ہوتی تھی جو دلائل وغیرہ درمیانی مڈل مین لوگ کام کرتے تھے پیسے لے لیتے تھے ادھر پولیس سے مل جاتے تھے ادھر درمیان میں یہ کام کرتے تھے ان سے بھی جان چھوٹ جائے گی شفافیت ا جائے گی کام اچھا ہو جائے گا پولیس کے لیے بھی اسانی ہو جائے گی پولیس پہلے بھی اچھی اچھے کام کر رہی تھی اب ان کے لیے مزید اسانی ہو جائے گی اب ان کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ پروفیشنل انداز میں اپنے اپ کو مزید بہتر کر سکے گی اور قوم کی خدمت کے لیے اپنے اپ کو زیادہ اچھے انداز میں پیش کر سکے گی۔ پہلے جو پنجاب پولیس کے اوپر لوگ بات کرتے تھے یا اس قسم کی باتیں ہوتی تھیں اب اس کے اندر بھی کمی ا جائے گی اور ہماری جو پنجاب پولیس ہے وہ ایک مزید بہتر پروفیشنل انداز میں اپنے اپ کو جو ہے وہ پریزنٹ کر سکے گی۔ دوستو اب اپ نے رائے دینی ہے کہ اپ کے نزدیک یہ فیصلہ کیسا ہے۔ اگر اپ کو یہ ویڈیو پسند ہے اپ اس قسم کی ویڈیو پسند کرتے ہیں تو میرے چینل کو سبسکرائب کریں ویڈیو کو لائک کریں اور اس ویڈیو کو دوستوں تک ضرور شیئر کریں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر اپ کے ذہن میں کسی قسم کا بھی کوئی سوال ہے اپ لا سے متعلق کوئی سوال پوچھنا چاہتے ہیں یا پھر ٹیکس سے متعلق کوئی رہنمائی چاہتے ہیں اپ کمنٹ سیکشن میں ضرور پوچھیں۔ میں اپ کو کمنٹس میں رہنمائی بھی فراہم کروں گا اپ کو مکمل تفصیل بھی فراہم کروں گا۔ اس نوٹیفیکیشن کی کاپی اپ کو ڈسکرپشن میں مل جائے گی اپ وہاں سے بھی ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ میرے یو واٹس ایپ چینل کے اندر اپ لنک میں اپ کو دے دوں گا ڈسکرپشن میں اپ میرا واٹس ایپ چینل بھی جوائن کر لیں وہاں پر بھی اپ کو رہنمائی کے ساتھ ساتھ اپ ٹو ڈیٹ انفارمیشن ملتی رہے گی اور اس نوٹیفیکیشن کی ڈیٹیل بھی اپ کو وہاں مل جائے گی۔ ملتے ہیں اگلی ویڈیو میں تب تک کے لیے اجازت دیں بہت شکریہ اللہ حافظ۔



