Thumbnail for AQEEDA AL-WASATIYYAH| Class 03 | IBN TEMIYYAH | ABU AHMAD WAQAS ZUBAIR | sabiqoon institute by Sabiqoon Institute

AQEEDA AL-WASATIYYAH| Class 03 | IBN TEMIYYAH | ABU AHMAD WAQAS ZUBAIR | sabiqoon institute

Sabiqoon Institute

34m 11s747 words~4 min read
Auto-Generated

[0:00]على رسول الله.

[0:05]نبينا محمد وعلى اله وصحبه وسلم تسليما كثيرا.

[0:17]اما بعد

[0:21]وقال شيخ الاسلام

[0:28]احمد بن عبد الحليم ابن تيميه رحمه الله تعالى

[1:44]الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسول الامين وعلى اله وصحبه وسلم كثيرا اما بعد فقال شيخ الاسلام ابن تيميه رحمه الله تعالى فهذا عقاد الفرقه الناجيه المنصوره الى قيام الساعه اهل السنه والجماعه وهو الايمان بالله وملاكتبه وكتبه ورسله والبعث بعد الموت والايمان بالقدر خيره وشره

[2:30]آج ہمارا جو سبق ہے اللہ کی توفیق سے ہم پچھلے اس میں اہل السنہ والجماعت یہاں تک ہم پڑھ چکے تھے۔ گویا کہ یہ جو عقیدہ ہم پڑھ رہے ہیں فرقه ناجیه جو نجات پانے والا گروہ یعنی اہل السنہ والجماعت کا عقیدہ ہے۔

[3:59]اور وہ یہ ہے کہ اللہ پر اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر اور تقدیر کے اچھے اور برے ہونے پر ایمان رکھا جائے۔

[4:26]گویا کہ یہ اہل السنہ والجماعت یہ وہ عقیدہ ہے کہ جس میں فرمایا گیا ہے۔ ایمان ویسے تو اس مسئلے پر ایک لیکچر بھی میں نے ریکارڈ کروایا تھا شاید وہ بھی شائع نہیں ہوا۔ تو الایمان لغت اس کا معنی ہوتا ہے التصدیق جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالی سورۃ یوسف میں فرماتا ہے جب یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے آ کر جھوٹ بولا کہ یوسف بھیڑیا کھا گیا تو اس وقت انہوں نے یہ لفظ بولا وما انت بمؤمن لنا یعنی وما انت بمصدق لنا تو یہاں مومن کا لفظ مصدق کے معنی میں ہے۔ مومن کا لفظ مصدق کے معنی میں بولا گیا۔ یعنی آپ گویا کہ ہماری تصدیق نہیں کریں گے۔

[5:50]اسی طرح اس تصدیق کے ساتھ عمل بھی ملا ہوا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بہت تفصیل کے ساتھ اس بات کو بیان کیا ہے کہ ایمان کا معنی اقرار ہے اور اقرار زبان سے بھی ہوتا ہے اور دل سے بھی ہوتا ہے۔ لغوی طور پر اس کا معنی تصدیق ہے لیکن شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی بعض دوسری کتابوں میں جیسا کہ کتاب الایمان میں جو ان کی کتاب الایمان کے نام سے شیخ الاسلام کی دو کتابیں ہیں۔ ایک کتاب الایمان جس کو الایمان الکبیر کہا جاتا ہے۔ اور ایک الایمان الاوسط اس میں تقدیر کے مسائل بہت زیادہ بیان ہیں۔ یہ دونوں الگ چھپی ہوئی ہیں۔ جو کتاب الایمان الکبیر ہے وہ شیخ الالبانی رحمہ اللہ کی تحقیق کے ساتھ چھپی ہے اور الاوسط جو ہے وہ شیخ الالبانی کے شاگردوں میں سے ہیں۔ سمیر الزہری ان کی تحقیق سے چھپی ہے۔ تو شیخ الاسلام کے نزدیک ایمان کا معنی تصدیق اس معنوں میں کہ اقرار کہ اقرار معنی ہے ایمان کا۔

[7:14]اور اقرار جو ہے وہ زبان کا بھی ہوتا ہے اور دل کا بھی۔ زبان کا بھی ہوتا ہے اور دل کا بھی۔

[7:36]یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں تصدیق کے ساتھ یعنی ایمان کے ساتھ عمل کو جوڑ کے بیان کیا گیا ہے۔ قرآن کی اکثر آیات میں ایسا ہی ہے۔ جیسا کہ الاذین امنوا وعملوا الصالحات تو ایمان کے ساتھ عمل کو جوڑ کر بیان اور ملا کر بیان کیا گیا ہے۔ تمام مقامات پر۔

[8:00]یہی وجہ ہے کہ اہل السنہ والجماعت محدثین ایمان کی جو تعریف کرتے ہیں وہ کیا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے وہ ساری عبارات غالبا مجموع فتاوی کی تیسری جلد میں وہ بیان بھی کی ہیں۔ میں ابھی اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا لیکن میں اختصار کے ساتھ یہ بیان کروں گا اور اسی طرح امام آجری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الشریعہ کے اندر بھی ایمان کی جو تعریف آئمہ محدثین کرتے ہیں اس کو بیان کیا ہے۔ اور وہ کیا ہے کہ الایمان قول وعمل۔

[8:44]ایمان قول اور عمل کا نام ہے۔

[8:52]زبان کا قول اور دل کا قول۔

[9:08]زبان کا قول اور دل کا قول۔

[9:15]اور جوارح کا عمل یقینا جو انسان اعمال کرتا ہے وہ ہیں اور دل کا عمل کیا ہے جیسے دل سے خوف کھانا دل سے امید اللہ سبحانہ و تعالی پر لگانا توکل کرنا بھروسہ رکھنا۔ خوف کھانا عبت کرنا۔ یہ سارے وہ اعمال ہیں جو دل کے ہیں ان کا تعلق ظاہری اعضاء سے نہیں ہے۔ ان کا تعلق دل کے ساتھ ہے۔

[9:47]تو گویا کہ محدثین کا جو ایمان کی یہ تعریف ہے یہ بہت ہی زیادہ جامع اور مانع ہے۔ تو فرمایا محدثین کے قول میں کہ الایمان قول وعمل يزيد بالطاعت و ينقص بالمعصيه۔

[34:06]مجھے بہت قوی امید ہے کہ آپ کو یہ بات سمجھ آ گئی ہوگی۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript