[0:00]پہلا سوال میرا ان حضرات سے ہے اس پہ کلپ بنا کے چلا دینا آج میں تھکا ہوا ہوں ذرا صحیح صحیح باتیں کر رہا ہوں تھکا ہوا ہوتا ہوں نا تو بعض دفعہ صحیح صحیح باتیں بھی ہو جاتی ہیں پہلی بات جو یہ کہا کریں نا اہل حدیث حضرت عمر کا یہ سیاسی فیصلہ تھا اس سے بولو یہ بتاؤ یہ سیاست ہے یا تحریف ہے دین میں قرآن بار بار کہہ رہا ہے لما تحرم ما احل اللہ لک جس چیز کو اللہ نے حلال کیا اس کو کیوں حرام کر رہے ہو یہ شہد کے بارے میں ہے کہ نبی نے قسم کھا کے شہد حرام کر دیا تھا حالانکہ وہ ہمیشہ کے لیے حرام نہیں ہوا تھا اور یہاں بیوی جو جس کی حیثیت شہد سے زیادہ ہے وہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو رہی ہے حضرت عمر کے فتوے پہ اور کمال کی بات ہے وہ صحابہ جو حضرت عمر کے ایک جوڑے پہ اعتراض کر رہے ہیں کہ یہ جوڑا آپ کے پاس اتنا لمبا کہاں سے آ گیا مال غنیمت میں تو اتنی بڑی قمیض کسی کو ملی نہیں ہے وہ صحابہ اپنی بیویوں کو حرام کر دیا انہوں نے حضرت عمر کے کہنے پہ حضرت عمر نے حضرت حذیفہ سے کہا کہ یہودی عورت سے نکاح مت کریں صحابی رسول تھے انہوں نے فرمایا کہ اگر حرام ہے تو نہیں کروں گا اور اگر اللہ نے حلال کیا ہے تو پھر کروں گا میں اور کیا انہوں نے نکاح سمجھ میں آ رہی ہے بات حضرت عمر نے فرمایا میں حرام نہیں کر رہا اس سے نکاح میں نقصان ہے کوئی فاسق فاجر نہ ہو تو لوگ فاسق عورتوں سے نکاح شروع کر لیے ایسے مشورہ دیا جاتا ہے تو مشورے کی حد تک تو بہت کچھ ٹھیک ہے بھائی قانون سازی میں حلال و حرام نہیں کیا جاتا شیعہ لوگ یہی تو کہتے ہیں حضرت عمر نے قانون بنایا تین طلاق کو تین کرنے کا لہذا وہ تین کو ایک بھی نہیں مانتے شیعوں والے کام کرو تو بھئی ٹھیک ہے بھائی انہوں نے تو اپنا ہی فلسفہ بنایا ہوا ہے طلاق کا گواہ بھی ہونا ضروری ہے حالانکہ کہیں بھی نہیں ہے قرآن میں کہ طلاق پہ گواہ ہونا ضروری ہے تو یہ دور علم کا نہیں ہے یہ جہالت کا دور ہے اور اس جہالت پہ لیبل کس کا لگایا جاتا ہے قرآن اور سنت تو پہلا اشکال یہ کہتے ہیں کہتے ہیں ایکچولی وہ حضرت عمر کا سیاسی فیصلہ تھا تو آپ نے کیا جواب دینا ہے سیاست میں بیویاں حلال کسی کی بیوی اس پہ حرام میرے بھائی بولو نا نہیں ہوتی نمبر دو کہتے ہیں صحابہ نے ڈر سے بس ان کا خوف تھا اور سیاست تھی صحابہ نے سارے صحابہ نے کوئی ایک صحابی سے ضعیف حدیث بھی نہیں ملتی جنہوں نے رخصتی کے بعد اکٹھی تین طلاق کو ایک کہا ہو ضعیف بھی نہیں ملتی صحیح تو دور کی بات ہے تو وہ کہتے ہیں وہ صحابہ مان گئے بس مجبوری میں صحابہ مجبوری میں اتنا بڑا فیصلہ نہیں مانتے وہ تو اشکال کرتے تھے حضرت عمر کا پہلا خطبہ ہی یہ تھا کہ جب تک سیدھا چلوں ماننا جہاں قرآن و سنت سے ہٹوں سیدھا کر دینا مجھے ایک ایک نے کھڑے ہو کر کہا نا کہ آپ کو سیدھا کر دیں گے حضرت عمر نے دعائیں دیں اس کو حضرت عمر نے قانون بنایا کہ 400 درہم سے زیادہ مہر نہیں ہوگا یہ بالکل سیاسی فیصلہ تھا اس میں کیونکہ قرآن نے مہر کی کوئی مقدار متعین نہیں کی ہے اگر گورنمنٹ یہ سمجھتی ہے کہ اتنا زیادہ مہر لڑکی والے رکھ رہے ہیں کہ لڑکیوں کی عمریں نکل رہی ہیں اس پہ غور کیا جا سکتا ہے کہ کچھ متعین مقدار کر دی جائے یہ سیاسی فیصلہ تھا لیکن ایک عورت نے کہا کہ قرآن کہتا ہے ان اتيتهم إحداهم قنطارا فلا تاخذوا منه شيئا سونے کا پہاڑ بھی مہر میں دیا ہوا واپس مت لو تو اللہ تو سونے کے پہاڑ کا تذکرہ کر رہے ہیں آپ کیسے مہر کی مقدار متعین کر رہے ہیں حضرت عمر جواب دے سکتے تھے کہ اللہ نے یہ تو نہیں کہا کہ سونے کا پہاڑ دو وہ تو ایک مثال دی ہے کہ اگر سونے کا پہاڑ بھی مہر میں ہے تو طلاق کے بعد وہ واپس نہیں لیا جا سکتا لیکن اس کے باوجود حضرت عمر اپنی بات سے پیچھے ہٹ گئے اور فرمایا اخطا رجل وامراتوں عورت نے درست کہا اور مرد سے غلطی ہو گئی نہیں آئی میرا خیال ہے بات حضرت عمر کے بارے میں بخاری میں ہے کان وقافا عند کتاب اللہ قرآن کی جیسے ہی آیت سامنے آتی رک جاتے تھے بس ریورس پیچھے ہو جاتے تھے اللہ کی آیت سن کے تو کیا ان کے سامنے یہ آیتیں نہیں تھی الطلاق مرتان جس کا اہل حدیث لوگ اپنی طرف سے ترجمہ کرتے ہیں کہ طلاقیں دو مہینے میں دو مرتبہ ہیں کہاں سے دو مہینے لگا دیے تم نے یار فان طلقہ فلا تحل له من بعدہ قرآن کہہ رہا ہے تیسری طلاق دے دی بیوی حلال نہیں ہے قرآن نے تو نہیں بتایا کہ اسی وقت دی ہے اگلے مہینے میں دی ہے یہ تو کوئی قید نہیں ہے قرآن میں کہہ رہے نہیں مرتان مرتان مرتبہ ہے نا مرتبہ مرتبہ کا مطلب ایک مرتبہ پھر دوسری مرتبہ حدیث میں آتا ہے بخاری کی حدیث ہے جو 33 مرتبہ سبحان اللہ کہتا ہے نماز کے بعد تو کیا مطلب 33 مہینوں میں 33 مرتبہ سبحان اللہ کہے گا وہ اس لیے بیچارے اللہ معاف فرمائے بس ان کا ہوگا کیا آخرت میں سعودیوں کو فالو کرنے کا نتیجہ ہے یہ یا تو تم اپنا امام اللہ رسول کو بولتے ہو فتوے تم وہاں سے لے کر آتے ہو سعودی عرب میں بھی ہر طرح کے علماء ہیں میجورٹی ان کی ٹھیک ہے فقہ حنبلی کو فالو کرتی ہے لیکن آج کل سکہ چل ان کا رہا ہے جو جمہور امت سے ہٹے ہوئے ہیں یہ تو گورنمنٹ کا کام ہوتا ہے نا کہ اس کو آگے لے ائے کس کو پیچھے لے ائے تو اس لیے زبانوں پہ کنٹرول کیا کرو بھائی وہ میں اس ٹاپک کو جلدی مکمل کر کے پھر آگے چلوں کچھ کام غصے میں ہو جاتے ہیں نارمل روٹین میں نہیں ہوتے وہ میں نے کچھ بیان تھکاوٹ کے لیے رکھے ہوئے ہوتے ہیں تھکاوٹ ہو گئی تو یہ والا بیان کروں گا میں تو پہلی بات سیاسی فیصلہ ہو سکتا ہے یہ ہیں نہیں ہو سکتا یہ تحریف ہے یہ سیاست نہیں ہے بیوی کو حلال حرام کر دینا یہ کیا ہے دین میں بدترین تحریف ہے اور اگر یہ نہیں ہے تو پھر تحریف کسے کہتے ہیں بتا دو بھائی آج کوئی خلیفہ اٹھ کے بولے ایک بھی نہیں ہوتی تو کیا مان لو گے اس کو

Mufti Sahab ka Ahl-e-Hadees se ek sawal | Mufti Tariq Masood | مفتی صاحب کا اہلحدیثوں سے ایک سوال
MessageTV
6m 12s1,129 words~6 min read
Auto-Generated
Watch on YouTube
Share
MORE TRANSCRIPTS


