[0:32]الحمد للہ رب العالمین و السلام علی سید الانبیاء والمرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم محترم اور پیارے اسلامی بھائیوں اور مدنی چینل کے ناظرین ہم حاضر ہیں سلسلہ احکام قران میں قران مجید فرقان حمید کی ایات احکام پر گفتگو کی جاتی ہے۔ اج ہم نے انتخاب کیا ہے سورہ بقرہ کی ایت نمبر 180 کا۔ ائیے سب سے پہلے اس ایت مبارکہ کی تلاوت اور ترجمہ سنتے ہیں پھر اس کے مضامین پر اللہ نے چاہا تو گفتگو ہو گی۔
[2:20]آیت مبارکہ کے عنون ذکر ایت مبارک جو وجہ سے منسوخ ہے۔
[2:28]نمبر دو قران پاک میں لفظ خیر کم از کم پانچ معنی میں استعمال ہوا ہے۔ نمبر تین وصیت کی جائز و ناجائز مختلف اقسام۔ نمبر چار وصیت کے فضائل اور مواقع۔ نمبر پانچ وصیت ایک بہتر معاشرتی حل ہے۔ میرے محترم اور پیارے اسلامی بھائیوں اور مدنی چینل کے ناظرین قران ایک سمندر ہے۔ قران علم کا اولین ماخذ ہے۔ اللہ تبارک و تعالی نے قران مجید فرقان حمید میں بہت سارے احکام تدریجا نازل فرمائے۔ یعنی کچھ احکام اس میں بیان کیے گئے کچھ نازل کیے گئے کچھ تفصیل کے ساتھ لازم کیے گئے پھر کچھ اور تفصیل کے ساتھ لازم کر دیے گئے۔ بعض احکام ایسے ہیں کہ پہلے کچھ اور بیان کیے گئے بعد میں ان کی جگہ پر دوسرے احکام بیان کر دیے گئے۔ تو قران مجید کے اندر نص بھی ہے یعنی ایات ناسخ بھی ہیں اور منسوخہ بھی ہیں۔ ناسخ وہ ہوتی ہیں جو نئے حکم پر مشتمل ہوتی ہیں اور منسوخ وہ ہوتی ہیں جو سابقہ حکم پر مشتمل ہوتی ہیں۔ بہت ساری ایات مبارکہ ان کا حکم تو منسوخ ہو چکا لیکن اس کے باوجود ان کی تلاوت کی جاتی ہے۔ قران پاک کا حصہ ہیں ان کی تلاوت کر کے برکتیں حاصل کی جاتی ہیں۔ لیکن ان میں بیان کردہ حکم جو ہے اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہوتا۔ اج جو ایت مبارکہ ہم نے شامل سلسلہ کی ہے۔ یہ ایسی ہی ایک ایت مبارکہ ہے جو منسوخ یعنی جس کا جو حکم ہے وہ منسوخ ہے۔ پہلے یعنی اہل عرب کے اندر یہ معمول تھا کہ لوگ جب انتقال کا وقت قریب انے لگتا تو اپنی من چاہی وصیت کیا کرتے تھے آیت میراث اس وقت تک نازل نہیں ہوئی تھی تو اللہ تبارک و تعالی نے اس قوم کے اندر جو وصیت کا ایک رائج العمل طریقہ تھا اس کے اندر بھی احسان سے کام لینے کا حکم ارشاد فرمایا۔ اب اس وصیت کے اندر احسان یہ ہو سکتا تھا کہ بجائے اس کے کہ یہاں اور وہاں وصیت کی جائے۔ اپنے والدین کو یاد رکھا جائے۔ قریبی لوگوں کو یاد رکھا جائے۔ اور اللہ تبارک و تعالی نے اس ایت مبارکہ میں یہاں تک فرما دیا کہ حقا علی المتقین کہ ان سب چیزوں کا خیال وہی رکھیں گے کہ جو اہل تقوی ہیں۔ تو وصیت کا ایک حکم پہلے بیان ہوا۔ کہ وصیت جو ہے وہ والدین کے لیے کرنی ہے قریبی رشتہ داروں کے لیے کرنی ہے۔ قریبی رشتہ داروں کو نہیں بھول جانا اور اس کے اندر بھی احسان اور بھلائی سے کام لینا ہے۔ لیکن بعد میں یہ حکم منسوخ کر دیا گیا۔
[5:25]کس اعتبار سے منسوخ کیا گیا؟ دو اعتبار سے۔ ایک تو اس اعتبار سے کہ اللہ تبارک و تعالی نے جب ایات میراث نازل فرمائیں تو بہت تفصیل کے ساتھ والدین کا حصہ بھی بیان کیا۔ اقربا کا حصہ بھی بیان کیا۔ بہت سارے مردوں کا بہت ساری عورتوں کا وراثت میں حصہ بیان کر دیا۔ اب کوئی وصیت کرے یا نہ کرے لازمی طور پر وراثت سے ان لوگوں کا حصہ ہو گا کہ جن کا بیان قران مجید فرقان حمید نے کر دیا۔
[7:09]انہیں اصحاب فرائض کہتے ہیں۔ اور وراثت کا اصول یہ ہے کہ اصحاب فرائض جو ہیں وہ افراد ہیں کہ جو سب سے مقدم ہوتے ہیں سب سے پہلے ان کا حصہ ہوتا ہے۔ تو سورہ بقرہ کی 180 نمبر ایت میں جس وصیت کا ذکر ہوا والدین کے لیے وصیت کرنے کا ذکر ہوا یہ ایات میراث نازل ہونے سے پہلے کا تھا۔ جب ایات میراث نازل ہوئی تو اللہ تبارک و تعالی نے خود ان افراد کا حصہ بیان کر دیا کہ جن کا حصہ بیان کیا جانا تھا۔ اس ایت مبارکہ کے اندر جو منسوخ ہونے کا دوسرا پہلو وہ یہ ہے۔ کہ پہلے جب وصیت ہی ہوتی تھی تو اس بات کی ترغیب دی گئی کہ جو قریبی لوگ ہیں والدین کا ذکر کیا گیا۔ ان کے لیے وصیت کی جائے۔ لیکن جب ایات میراث نازل ہوئیں۔ تو اب اس کے بعد یہ حکم بیان کر دیا گیا کہ اللہ تبارک و تعالی نے جن لوگوں کا حصہ بیان کر دیا ہے جنہیں وارث قرار دے دیا ہے۔ اب وصیت ان کے لیے نہیں ہے۔ اب وصیت غیر وارث کے لیے ہے۔
[8:21]حضرت امامہ رضی اللہ تعالی عنہ ارشاد فرماتے ہیں سم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا قول فی خطبہ حجة الوداع کہ حجة الوداع کے موقع پر اپنے خطبے میں اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا ان اللہ قد اتا کل ذی حق حق اللہ تبارک و تعالی نے ہر ذی حق کو اس کا حق دے دیا۔
[8:51]جس کا وراثت میں حق بیان کرنا تھا بیان کر دیا۔ فلا وصیت وارث تو اب جو ہے وارث کے لیے وصیت نہیں ہو گی۔ تو شریعت مطہرہ نے وارث کے لیے جو وصیت ہے وہ ناجائز قرار دے دی۔ وارث کے لیے وصیت اب نہیں ہوتی۔ تو سورہ بقرہ کی ایت نمبر 180 اس میں دو اعتبار سے یہ منسوخ ہے۔ اول اس اعتبار سے کہ اس میں وصیت کرنے کا حکم ہے قریبی لوگوں کے لیے والدین کے لیے بعد میں اللہ تبارک و تعالی نے میراث میں ہی ان کا حصہ بیان کر دیا۔ دوسری بات یہ یہ حکم اس وقت تھا کہ جب وراثت نہیں ہوئی تھی۔ جب وراثت مقرر ہو گئی تو اس کے بعد جن کے لیے وراثت مقرر ہے ان کے لیے وصیت نہیں کی جاتی۔ مثال کے طور پر کسی کا بیٹا ہے، بیٹی ہے۔ جسے وراثت سے حصہ ملنا ہی ہے۔ اب کوئی یہ چاہتا ہے کہ میں اپنے بیٹے کے لیے وصیت کر کر جاؤں۔ یا اب میرے کئی بیٹے ہیں لیکن ایک بیٹے نے زیادہ خدمت کی ہے۔ اس کے لیے میں وصیت کر کر جاؤں۔ یا کوئی ایک بیٹی ہے کسی وجہ سے اس کو زیادہ ضرورت ہے۔ اس کے لیے وصیت کر کر جاؤں تو جن کے لیے قران مجید فرقان حمید نے حصہ بیان کر دیا انہیں اصحاب فرائض کہتے ہیں۔
[10:14]اب وصیت ان کے لیے نہیں ہوتی۔ وصیت ہوتی ہے غیر وارث کے لیے کہ جس کو بطور وراثت کوئی حصہ نہ مل رہا ہو اس کے لیے وصیت ہوتی ہے۔
[10:27]تو یہ تو تھا ہمارا اج کا پہلا نقطہ۔ جس میں ہم نے اس بات پر گفتگو کی کہ یہ جو ایت مبارکہ ہے کس کس اعتبار سے منسوخ ہے۔
[10:39]اپنے دوسرے نقطے کی طرف چلتے ہیں۔ قران مجید فرقان حمید سمندر ہے اور اس کا ہر ہر جو لفظ ہے ومانی کا معنی اور مفاہیم اپنے اندر جو ہے وہ لیے ہوئے ہے۔ اور ایک ایک لفظ کے کئی کئی معنی ہیں۔ جیسا کہ اس ایت مبارکہ میں لفظ خیر استعمال ہوا۔ یعنی فرمایا گیا ان ترک خیرا اگر کوئی خیر چھوڑتا ہے۔ تو یہاں لفظ خیر سے مراد مال ہے۔ یعنی اگر کوئی مال چھوڑتا ہے تو مفسرین نے لکھا کہ قران مجید فرقان حمید میں کم از کم لفظ خیر پانچ معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ایک جگہ پر مال کے معنی میں جیسا کہ یہاں پر اس ایت مبارکہ میں اور بھی کئی ایت مبارکہ میں مثلا وما تنفق من خیر یہ جو سورہ بقرہ کی ایت ہے یہاں بھی لفظ خیر مال کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ بعض جگہوں پر ایمان کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ بعض جگہوں پر فضل کے معنی میں استعمال ہوا ہے بعض جگہوں پر عافیت کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور بعض جگہوں پر اجر اور ثواب کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ تو لفظ ایک ہے لیکن مختلف جگہوں پر مختلف معنی میں اس لفظ کا استعمال ہے اور جو قران پاک کے اس علم سے واقف نہ ہو تو وہ نہ قران سمجھ سکتا ہے نہ ترجمہ کر سکتا ہے نہ قران پاک کی تفسیر بیان کر سکتا ہے۔ تو یہی وجہ ہے کہ قران مجید فرقان حمید کی کی شرح کرنی ہو تفسیر کرنی ہو اس کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ کوئی شخص تھوڑی بہت عربی کی بنیاد پر ایسا نہیں کر سکتا۔ بلکہ اس کے لیے جو اسلاف مفسرین ہمارے گزرے ہیں ان کی رہنمائی بے حد ضروری ہے۔ اگلے نقطے کی طرف چلتے ہیں۔ وصیت کیا ہوتی ہے اور وصیت کی جائز اور ناجائز صورتیں کیا ہیں۔ وصیت یوں سمجھیے کہ ایک یک طرفہ ایگریمنٹ ہے۔ ایک یک طرفہ ایک ایک اٹھایا جانے والا ایک اقدام ہے کہ جس میں ایک شخص مرنے سے پہلے اس بات کا اقرار کرتا ہے اس بات کو موکد اور معیت کر دیتا ہے۔
[13:11]کہ میرے مرنے کے بعد میری فلاں فلاں جو چیز ہے۔ وہ فلاں فلاں کو دے دی جائے۔ تو اس کے انتقال کے بعد حسب شرع کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو۔ تو وہ چیز جس کے لیے اس نے لکھی تھی۔
[13:30]اس کو دے دی جاتی ہے۔ وصیت کی دو صورتیں ہیں ایک وصیت وہ ہے کہ جو نافذ ہوتی ہے۔ ایک وصیت وہ ہے جو باطل ہوتی ہے۔
[13:42]جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ اپنے وارث کے لیے وصیت نافذ نہیں ہوتی باطل ہوتی ہے۔ کوئی اس رشتہ دار کے لیے وصیت کر جاتا ہے۔ کہ جس کو حسب قوانین وراثت میراث ملنی ہی ہے۔ تو اس کے لیے وہ وصیت نافذ نہیں ہوتی۔ ہاں اگر ورثاء بالغ ہیں۔ اور تمام اس بات پر راضی ہیں کہ ٹھیک ہے ہمارے مرنے والے نے اسے دینا چاہیے ہم اس بات پر راضی ہیں۔ تو گویا کہ پھر وہ اپنا حق چھوڑ رہے ہوتے ہیں۔ تو ایسی صورت میں اس وصیت کی بھی نافذ ہونے کی صورت بنتی ہے۔ اس کے علاوہ وصیت کی فقہاء نے چار اقسام بیان کی ہیں۔ ایک وہ وصیت جو واجب ہے۔ وصیت واجبہ دوسری وصیت جو مباح ہو۔ تیسری وصیت جو مکروہ ہو۔ چوتھی وصیت جو مستحب ہو۔ وصیت واجبہ سے مراد یہ ہے کہ بندے کے اوپر جو اللہ تبارک و تعالی کے حقوق باقی ہوں۔ یا حقوق العباد باقی ہوں۔ حقوق العباد میں سے مالی حقوق تو سب سے پہلے بندہ ان چیزوں کی وصیت کرے۔ مثال کے طور پر اس نے لوگوں کا قرضہ دینا ہے۔ لوگوں کے پیسے دینے ہیں۔ لوگوں کی امانتیں دینی ہیں۔ تو اس پر لازم ہے کہ سب سے پہلے تو اپنی زندگی میں ہی فارغ ہو کر جائے۔ اور زندگی میں ہی خلاصی حاصل کر کر جائے۔ لوگوں کو ان کا حق ادا کر کر جائے۔ لیکن اگر ایسا ممکن نہیں ہے۔ تب بھی وصیت کر کر جائے کہ میں نے فلاں فلاں کی جو یہ یہ امانت یہ یہ قرضہ یہ یہ ادائگیاں کرنی ہیں۔
[15:33]اور حقوق العباد کا جہاں معاملہ ہے جہاں بندوں کے مالی حقوق اس کے اوپر عائد ہیں اور اس کے ذمے پر موجود ہیں۔ تو وہاں یہ بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ لوگوں کو گواہ بنا لے۔ تاکہ اس کے ورثاء کے لیے اعتراض نہ کریں کہ نہیں یہ جو وصیت ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں اور ایسی کوئی بات نہیں اور لوگوں کا حق مارا نہ جائے۔
[16:00]تو سب سے پہلے وصیت کے اندر درجہ ہے ان امور کا ان چیزوں کا جو بندے کے اوپر واجب الادا ہے۔ بالخصوص جو لوگوں کے حقوق مالی حقوق واجب الادا ہیں۔ تو ایسی وصیت کا کتنا واجب ہے بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے پاس کیش پیسے نہیں ہوتے یا ایسی روٹین ہوتی ہے۔ کہ سامنے والے کے حوالے سے اطمینان ہوتا ہے کہ ٹھیک ہے یہ اہستہ اہستہ دے دیں گے۔ لیکن جیسے ہی بندے کا انتقال ہوا تو اس کی ساری پراپرٹی اب اس کی ملکیت سے نکل گئی۔ تو اب انتقال کے بعد سب سے پہلا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ تجہیز و تکفین کے اندر جو بھی خرچہ ہوتا ہے وہ پورا کیا جائے گا۔ پھر قرض کی ادائیگی کی جائے گی۔
[16:45]پھر وصیت کی ادائیگی کی جائے گی۔ اور وصیت کی ادائیگی کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ ایک تہائی مال بطور وصیت خرچ ہو سکتا ہے۔ اس سے زیادہ خرچ نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی اپنا سارا مال ادھا مال وصیت کے طور پر لکھ جائے تو وہ نافذ نہیں ہوتا کیونکہ اس سے ورثاء کا حق متاثر ہوتا ہے۔ وہی وصیت نافذ ہوتی ہے۔ جو ایک تہائی مال پر مشتمل ہوتی ہے۔ تو وصیت کی پہلی صورت تو یہ ہے کہ جو اس کے ذمے حقوق ہیں۔ ان کے تعلق سے وصیت کر کر جائے۔ حقوق کا دوسرا درجہ ہے حقوق اللہ۔ مثال کے طور پر اس نے زکوۃ ادا نہیں کی۔ اس کے ذمے باقی تھی۔ اس پہ حج فرض تھا حج بدل کی وصیت کر کر جائے نمازوں کے فدیے کی روزے کے فدیے کی وصیت کر کر جائے۔ تو یہ وہ وصیت ہے کہ جس کا تعلق اولین مرحلے سے ہے۔ وصیت کا دوسرا درجہ ہے مباح وصیت۔ یعنی مثال کے طور پر اس کا کوئی دوست ہے اور وہ بڑا ہی وہ خود بھی کھاتا پیتا ادمی ہے فقیر نہیں ہے۔ محتاج نہیں ہے۔ لیکن یہ اس کے لیے وصیت کرنا چاہتا ہے۔ جائز ہے۔ لیکن اگر یہ وصیت فقراء کے لیے مساکین کے لیے امور خیر کے لیے کی جاتی تو یہ مستحب کہلاتی۔ لیکن اغنیاء کے لیے وصیت کرنا ون تھرڈ کے اندر رہتے ہوئے بہرحال یہ بھی مباح ہے جائز ہے اسے ناجائز نہیں کہا جا سکتا۔ وصیت کی تیسری قسم وہ ہے جسے فقہاء نے مکروہ قرار دیا یعنی گناہ کا کام قرار دیا۔ یعنی اگر اسے زن غالب ہے کہ جن لوگوں کے لیے میں وصیت کر رہا ہوں۔ یہ گناہ پر خرچ کریں گے۔ عیاشیوں میں اڑا دیں گے۔ تو لازم ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے وصیت نہ کی جائے۔ وصیت کی جو چوتھی قسم ہے۔ چوتھی قسم وصیت مستحبہ یعنی غرباء کے لیے فقراء کے لیے مساکین کے لیے چیرٹی کے لیے امور یعنی یہ جو رفاہ عامہ کے کام ہیں ان کے لیے ان چیزوں کے لیے وصیت کر کر جانا یہ مستحب ہے۔ تو وصیت کا فلسفہ یہ ہے کہ ایک انسان جو ہے۔ وہ یہ سوچتا ہے کہ میں نے بہت کچھ دنیا میں اپنے لیے کیا ہے۔ میں کیوں نہ ان لوگوں کے لیے کر کر جاؤں۔ کہ بظاہر ان سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن مجھے ان کے لیے کچھ کر کے جانا چاہیے۔ تو شریعت نے یہاں بھی باؤنڈیشن رکھی ہے۔ یہاں بھی ایک قید رکھی ہے کہ ٹھیک ہے اس کا اپنا مال تھا۔ یہ وصیت کرنا چاہتا ہے۔ لیکن اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ سارا مالی وصیت کر جائے۔ صرف ون تھرڈ کے اندر وصیت کر سکتا ہے اس سے زیادہ وصیت نہیں کر سکتا۔ اگلے نقطے کی طرف چلتے ہیں۔ کہ وصیت کے فضائل اور مواقع۔ بات یہ چل رہی تھی کہ ایک ادمی کتنی وصیت کر سکتا ہے۔ بخاری مسلم میں ایک حدیث پاک حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال اس قدر بیمار ہوا۔ کہ موت کے قریب ہو گیا۔ نبی اکرم علیہ الصلوۃ والسلام میرے پاس عیادت کے لیے تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس مال کثیر ہے۔ اور میری بیٹی کے سوا کوئی وارث نہیں۔ تو کیا میں اپنے پورے مال کی وصیت کر جاؤں۔ نبی اکرم علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا نہیں
[20:32]عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا دو ثلث کی وصیت کر جاؤں فرمایا نہیں۔ عرض کی کیا ادھے مال کی وصیت کر جاؤں ارشاد فرمایا نہیں۔ راوی کہتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ایک تہائی مال کی یعنی ون تھرڈ مال کی وصیت کر جاؤں۔ تو نبی اکرم علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا تہائی مال اور تہائی مال بہت ہے۔
[21:03]تیرا اپنے ورثاء کو غنی چھوڑنا یعنی خوشحال چھوڑنا اس سے بہتر ہے کہ تو نے محتاج چھوڑے۔ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔ بلاشبہ تو اللہ کی راہ میں اللہ کی رضا جوئی کے لیے جو کچھ خرچ کرے گا۔ مگر یہ کہ تجھے اس کا اجر دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ لقمہ جو تو نے اپنی بیوی کے منہ میں اٹھا کر رکھا۔ اس حدیث پاک کے اندر دین اسلام کی جو تعلیمات ہیں۔ ان کا ایک بہت ہی بنیادی فلسفہ بیان ہو جاتا ہے۔ اپ دیکھئے نہ تو ایسا ہے کہ سارا مال ورثاء کے لیے ہی مختص ہو۔ شریعت نے ایک راہ دی کہ ایک تہائی مال ورثاء کے علاوہ پر بھی خرچ ہو سکتا ہے۔ شریعت مطہرہ نے یہ بھی یہاں پر تلقین کی۔ اور یہ راستہ دکھایا کہ کسی کے ذہن میں اگر یہ خیال ہے کہ یہ رشتہ دار میرے میں ان کا کیوں خیال رکھوں۔ میں ان کے لیے کیوں مال چھوڑ کر جاؤں۔ تو شریعت نے اس کی اس سوچ کی مذمت بیان کی۔ اور اس بات کی حوصلہ افزائی کی کہ انسان کو اپنے رشتہ داروں کا خیال ضرور رکھنا ہے۔ اور اگر وہ وصیت کرنا چاہتا ہے تو ایک تہائی مال اس میں اس کا اختیار ہے۔ اس مال میں وصیت کر سکتا ہے باقی حصے میں نہیں کر سکتا۔ دوسری بات یہ کہ ایسا نہیں ہے کہ اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرنا اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا نیکی نہ ہو۔ بلکہ یہ بھی نیکی ہے۔ جو وصیت بندہ کرنا چاہ رہا تھا کہ میں یہ کام کروں اور وہ کام کروں اسے سمجھایا گیا ہے۔ کہ تمہارا اپنے رشتہ داروں پر گھر والوں پر یہاں تک کہ بیوی کے منہ میں جو لقمہ جاتا ہے۔ اس پر بھی اجر و ثواب ملتا ہے۔ تو یہ بھی مواقع خیر ہیں۔ یہ بھی بھلائی کے لائق ہیں یہ بھی احسان کے لائق ہیں۔ بعض اوقات کیا ہوتا ہے کہ ہم کسی چیز کو اپنی سوچ سے اور اپنے زاویے سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ہمارا زاویہ تو کہاں رہا۔ جب شریعت کی تعلیمات ہمارے لیے اتر ائیں تو اب شریعت کی تعلیمات کی پیچھے ہی ہمیں چلنا پڑے گا۔ انہیں فالو کرنا پڑے گا۔ بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ رشتہ دار بڑا ہی برا سلوک کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اولاد والدین کا خیال نہیں رکھتی۔ اولاد چھوڑ جاتی ہے۔ دغا دے دیتی ہے۔ بڑھاپے کا سہارا نہیں بنتی۔
[23:46]خبر گیری نہیں کرتی۔ پوچھنے نہیں اتی۔ یا وہ رشتہ دار کہ جو وراثت میں جن کا حصہ بن رہا ہوتا ہے۔ بندہ یہ سوچتا ہے کہ میں نے مجھے کیا لینا ان سے۔ میں ان کے ساتھ کیوں بھلائی کروں۔ نہیں یہ غلط سوچ ہے۔ رشتہ داری ایک ایسا موقع ہے۔ ایک ایسا مرحلہ ہے۔ ایک ایسا مطلب کہ تعلق ہے کہ جو ختم نہیں ہو سکتا۔ رشتہ داری کا تعلق ختم نہیں ہو سکتا۔ رشتہ داری کا جب تعلق رہنا ہے نسب کا تعلق رہنا ہے تو وراثت کے جو قوانین ہیں ان کا دارومدار الفت اور محبت پر نہیں ہے۔ رشتہ داری پر ہے۔ یعنی ویسے تو رشتہ داری کے اندر الفت محبت ہوتی ہے۔ لیکن اگر کوئی مثال کے طور پر بیٹا والد سے جو ہے وہ بالکل ہی باقی ہو چکا ہے۔ یا کوئی بیٹی ایسی ہے جو نافرمان ہو چکی ہے۔ یا بیوی ایسی ہے کہ شوہر کی کوئی خدمت نہیں کی۔ تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ جناب اب وراثت میں اس کا حصہ نہیں ہے۔ دو طرح کے معاملات اللہ تبارک و تعالی نے ہمارے لیے رکھے ہیں۔ ایک وہ معاملات جو اس دنیا کے اعتبار سے ہیں۔ جو ظاہری اعتبار سے ہیں اور ایک وہ ہیں جو اخرت کے اعتبار سے ہیں۔ اگر کوئی کسی رشتہ دار کے ساتھ بھلائی سے پیش نہیں اتا۔ برا سلوک کرتا ہے۔ بیوی شوہر کی حق کو ادا نہیں کرتی۔ اولاد والد کی حق کو ادا نہیں کرتے یا والدین کی حق کو ادا نہیں کرتے۔ تو انہیں قیامت کے دن جوابدہ ہونا پڑے گا۔ ایسا نہیں ہے کہ انہیں مطلب کہ کھلی چھوٹ ہے جو چاہے کریں۔ لیکن وراثت کی جو بنیاد ہے وہ رشتہ داری پر ہے۔ اصحاب فرائض کے لیے جو حصہ قران پاک نے بیان کر دیا وہ حصہ انہیں ضرور ملے گا۔ اور کوئی یہ سوچتا ہے کہ نہیں میری خدمت نہیں کی تو میں محروم کر دوں انہیں یہ سوچ درست نہیں ہے۔ یہ دنیا کا ایک نظام ہے۔ اللہ تبارک و تعالی نے ہمیں عطا فرمایا ہے۔ ہمیں اسی کو فالو کرنا پڑے گا۔ ہمیں اتنا اختیار دیا ہے کہ ایک تہائی مال کے اندر ہم اپنی رائے مسلط کر سکیں۔ اپنی رائے کو اختیار کر سکیں۔ اپنی رائے کو ترجیح دے سکیں۔ اس کے علاوہ ہمیں اختیار نہیں ہے۔ تو یوں وصیت اس لیے وصیت کی طرف جانا۔ اور اس لیے سارا مال کہیں اور خرچ کرنا کہ وارث محروم ہو جائے۔ شریعت مطہرہ نے اس کی مذمت بیان کی ہے۔ وارث کو محروم کرنے کے لیے اپنے مال کو خرچ کرنا یا پورے مال کی وصیت کرنا یہ ہرگز جائز نہیں ہے۔
[26:23]بہت ساری شریعت مطہرہ کی تعلیمات ایسی ہیں کہ نبی اکرم علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے معاشرے کے اندر جو بہتری ہے اس کے حوالے سے ہمیں ارشادات ارشاد فرمائے ہیں۔ جیسا کہ ایک حدیث پاک میں ہے۔ نبی اکرم علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ مرد و عورت اللہ عزوجل کی اطاعت و فرمانبرداری 60 سال تک کرتے ہیں۔ یعنی ایک بطور مبالغہ بیان کیا۔ کہ کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں کہ جو 60 60 سال تک اللہ تعالی کی اطاعت میں فرمانبرداری میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ پھر جب ان کے موت کا وقت قریب ا جاتا ہے۔ تو وہ وصیت کے اندر ضرر پہنچاتے ہیں رشتہ داروں کو۔ تو فرمایا ان کے لیے دوزخ کی اگ واجب ہو جاتی ہے۔
[27:45]تو دیکھا اپ نے مذمت بیان کی گئی ان لوگوں کی کہ جو اپنے کسی وارث کو نہ دینے کے لیے وصیت کرنا چاہتے ہیں۔ اب دیکھیں کیسا پاکیزہ نظام ہے اگر کوئی شخص یہ وصیت کرتا ہے بالفرض کہ میری ساری پراپرٹی مسجد کی ہے مدرسے کی ہے شریعت کہتی ہے کہ ایسی وصیت پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔ صرف اسی وقت جائز ہے۔ کہ ایک تہائی جو اس نے وصیت کی ہے اس میں سے ایک تہائی خرچ کیا جائے گا باقی ورثاء کا ہو گا۔
[29:20]ورثاء کا جو حق ہے وہ نہیں مارا جا سکتا وہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ وصیت ایک بہترین معاشرتی حل ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ شریعت ایک نظام کا نام ہے۔ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ ایک ایسا نظام ہے جس نے ہمیں انفرادی حیثیت سے زندگی گزارنا ہمارے لیے اسان کیا۔ اور جو ہمارا معاشرہ ہے اور جو ہماری ایک اجتماعی زندگی ہے اس اجتماعی زندگی میں بھی شریعت مطہرہ قدم قدم پر ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ شریعت مطہرہ نے ہمیں بہت سارے امور دیے بہت سارے نظام دیے بہت سارے طریقے دیے مختلف مطلب کہ زندگی کے حصوں میں ہم ان پر عمل کرتے ہیں۔ وصیت ایک ایسا ہی طریقہ ہے۔ جس میں ایک انسان یہ کہتا ہے کہ میں میرے مرنے کے بعد میرے مال کا اتنا حصہ فلاں فلاں کو دے دیا جائے۔ ایک بات تو کلیئر ہوئی کہ وارث کے لیے وصیت نہیں ہوتی۔ جس کو بطور وراثت نہیں مل رہا ہوتا اس کے لیے وصیت ہوتی ہے۔ وہ اس کے محلے کے غریب افراد بھی ہو سکتے ہیں۔ اس کے دور کے رشتہ دار بھی ہو سکتے ہیں۔ مسجد بھی ہو سکتی ہے۔ مدرسہ بھی ہو سکتا ہے۔ چیرٹی کے کام بھی ہو سکتے ہیں جہاں مسلمانوں کو فائدہ پہنچتا ہو۔ تو وصیت جو ہے وہ فلا اور بہبود کے لیے ایک بہت ہی موثر چیز ہے۔ ہمارے معاشرے کی ترقی کے لیے ایک بہت ہی موثر چیز ہے۔ اور کئی ایسے مواقع ہوتے ہیں کہ بعض رشتہ دار ایسے ہوتے ہیں کہ جن کو وراثت سے حصہ نہیں مل رہا ہوتا۔ مثال کے طور پر اگر بیٹا موجود ہے تو پوتے کا حصہ نہیں ہوتا۔ اب بڑی ہی دلچسپ صورتحال پیش اتی ہے۔ کہ مثال کے طور پر زید کا انتقال ہوا اس کے چار بیٹے تھے۔ اور ایک بیٹے کا انتقال زید کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا۔ مثال کے طور پر اس بیٹے کا نام بکر تھا۔ بکر کا انتقال زید کی زندگی میں ہو گیا تو اب وراثت تو اس کے لیے ہے نہیں۔ اگر بکر زندہ ہوتا زید کی موجودگی میں زید کا انتقال ہوتا اور وہ زندہ ہوتا بکر تو وراثت میں اس کو حصہ ملتا۔ بکر بعد میں انتقال کر جاتا تو اس کی جو اولاد ہے۔ بیوی بچے ان کو حصہ ملتا۔ لیکن اگر زید کی زندگی میں اس کا بیٹا ایک بکر انتقال کر جاتا ہے۔ اس کے یتیم بچے بھی ہیں۔ لیکن زید کے تین اور بیٹے بھی ہیں۔ تو اب وراثت کے قوانین یہ کہتے ہیں کہ جب بیٹے موجود ہیں تو بیٹوں کی موجودگی میں پوتے کو حصہ نہیں مل سکتا۔ اور اس بیٹے کو کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ یہ وراثت کے قوانین ہیں۔ یہ وہ قوانین ہیں۔ جو ہمارے فقہاء نے بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ اب اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ جو یہ جو بیٹے ہیں جو زندہ ہیں جو روبرو صحت ہیں۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ ایک بندہ جب زندہ ہوتا ہے تو صحت کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ بیمار بھی ہو سکتا ہے۔ تو یہاں ایک منظر کشی میں کر رہا ہوں۔ کہ یہ زندہ ہیں کما سکتے ہیں۔ اپنے مطلب کے بال بچوں کی پرورش کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کو وراثت سے حصہ ملا۔ ایک عقلی اعتراض یہ کیا جاتا ہے۔ کہ وہ یتیم بچے جن کا باپ انتقال کر گیا۔ دادا کی وراثت سے ان کو کچھ نہیں مل رہا۔ تو شریعت مطہرہ نے ان کے لیے ایک بڑا ہی اچھا نظام مقرر کیا ہے۔ کہ جب دینی معلومات ہوں گی تو ہم جو بہتر حل ہے اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اور اگر ہمیں دینی معلومات حاصل نہیں ہوں گی۔ تو ہمارے سامنے کوئی بہتر حل بھی فائدے کا سامان نہیں بن سکتا۔ حل اس کے لیے شریعت مطہرہ نے یہ دیا ہے کہ دادا کو یہ چاہیے۔ کہ جب ایسی صورتحال ہے کہ رشتہ داروں کی یہ پوزیشن ہے کہ اس کے بیٹے کو جو ہے وہ حصہ جو ملنا تھا وہ تو اب نہیں ملے گا۔ اس کا انتقال پہلے ہی ہو گیا۔ اور اس کی وجہ سے جو اس کے بچے ہیں یا بہو ہے۔ ان کو بھی کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ تو وہ ان کے لیے ایک تہائی میں سے وصیت کر جائے۔ کہ بھئی بطور وراثت تو ان کو کچھ نہیں مل رہا۔ لیکن اتنے فیصد سے جو ایک تہائی کے اندر اندر ہو۔ میرے مرنے کے بعد میرے مال کا اتنا حصہ ان کو دے دیا جائے۔ تو یہ ایک طریقہ ہے ان افراد کی مالی معاونت کا مالی طور پر ان کی مددگار بننے کا وصیت کے ذریعے ان کی خبر گیری کرنا ممکن ہے۔ اسی طریقے سے بیٹی کا انتقال ہو جاتا ہے۔ زندگی میں اس کی بھی اگر بچے ہیں ان کے لیے بھی وصیت کی جا سکتی ہے۔ تو وہ افراد کہ جن کو بطور وراثت کچھ نہیں مل رہا ان کے لیے وصیت کی جا سکتی ہے۔ اسی طریقے سے امور خیر ہیں۔ رفاہ عامہ کے کام ہیں۔ مسجد مدرسہ ہے۔ بندہ جو ہے وہ بعض اوقات بہت کچھ سوچتا ہے۔ بہت کچھ کرنا چاہتا ہے کہ میں نیکی میں حصہ لوں میں بہت سارے لوگ دین کی خدمت کرتے ہیں۔ دین کی خدمت میں مشغول عمل رہتے ہیں۔ میں بھی کچھ حصہ ملاؤں۔ لیکن زندگی گاڑی اتنی تیز ہوتی ہے کہ وہ حصہ نہیں ملا پاتا۔ پھر ایک ایسا موقع اتا ہے کہ بھئی سوچتا ہے کہ میرے رشتہ دار بھی امیر ہیں غنی ہیں۔ میرے بال بچے بھی امیر ہیں غنی ہیں اور وراثت سے انہیں بہت کچھ مل جائے گا۔ اگرچہ کہ غنی ہیں پھر بھی بہت کچھ مل جائے گا وراثت سے تو اس کے لیے ایک موقع ہوتا ہے کہ وہ ون تھرڈ حصے کے اندر اگر وصیت کر جائے لیکن وصیت اسی وقت کارگر ہو گی اسی وقت موثر ہو گی جب اس کے الفاظ ایسے ہوں گے کہ جو وصیت پر مشتمل ہوں علماء سے رہنمائی لے لی جائے۔ کہ وصیت کن الفاظوں سے ہوتی ہے۔ وصیت کا ڈاکومنٹ کیسے بنتا ہے۔ وصیت کو قانونی حیثیت کیسے دی جاتی ہے۔ یہ نہ ہو کہ وصیت تو کر دی جائے بعد میں ورثاء کسی کو پاس سے کھڑا نہ ہونے دیں۔ تو وصیت کی جو تقاضے ہیں وہ دنیا میں بندہ پورے کر جائے اور کسی نیک مقصد کے لیے اپنا پیسہ جو ہے وہ مختص کر کر چلا جائے۔ تو یقینی طور پر اس کے مرنے کے بعد وہ پیسہ صدقہ جاریہ کا سامان بن سکتا ہے۔ دو ایک دو ایسے اسباب ہیں۔ کہ جن کے ذریعے بندہ اس طرح کے کاموں میں حصہ لے سکتا ہے۔ ایک ہے وقف کرنا وقف اپنی زندگی میں ہوتا ہے۔ کوئی بندہ اپنی مسجد زمین اپنی کوئی دکان کوئی مکان کسی مسجد کے لیے مدرسے کے لیے یتیموں کے لیے بھوکوں کو کھانا کھلانے کے لیے غرباء اور فقراء کی کے علاج معالجے کے لیے مختص کر دیتا ہے۔ تو اس کے دو طریقے ہوتے ہیں وقف کے بھی ایک یہ ہوتا ہے کہ بھئی یہ میرا مکان ہے یا میری دکان ہے یا پراپرٹی ہے یہ وقف اس طور پر ہے کہ اس کی جو امدنی اور کرایہ ہے یہ جاتا رہے گا۔ اس اس مد کے اندر۔ تو یوں وقف ہوتا ہے وقف اپنی زندگی میں ہوتا ہے۔ دوسرا یہ ہوتا ہے کہ یہ وقف ہے اس کو بھلے بیچ کر جو ہے وہ یعنی یہ وقف ہے اس کو باقی رکھا جائے۔ یا پھر اس کو بیچ کر تبدیل کر دیا جائے اس کی پھر مختلف صورتیں ہوتی ہیں۔ جو وصیت ہوتی ہے وہ مرنے کے بعد ہوتی ہے۔ یعنی وقف کا جو تصرف ہے وہ بندہ زندگی میں کر لیتا ہے۔ وصیت ایک ایک ایسی ایکٹیویٹی ہے جس کا تعلق بندے کے مرنے کے بعد ہوتا ہے۔ یعنی بندہ یہ لکھ کر یا یہ کہہ کر جاتا ہے۔ کہ یہ جو چیز ہے یا یہ جو اتنی اتنی اماؤنٹ ہے یا یہ فلاں فلاں جو چیز ہے میرے مرنے کے بعد فلاں فلاں مد میں خرچ کی جائے۔ اب پھر وہ حسب وصیت خرچ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ یاد رکھیے کہ وصیت کی ایک قسم وہ ہے کہ جس کا احادیث مبارکہ میں بہت زیادہ جس کی تاکید بیان کی گئی۔ اور اس بات کی تاکید بیان کی گئی کہ بندہ جو ہے اس سے کسی حال میں بھی غفلت نہ کرے۔ اس سے مراد محدثین نے فرمایا وہ وصیت ہے۔
[38:05]کہ اصل میں موت کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا۔ موت کسی بھی لمحے ا سکتی ہے۔ کاروباری دنیا کے اندر لین دین چل رہا ہوتا ہے۔ اور بعض اوقات بندے کو پتہ ہوتا ہے لیکن اس کی اولاد کو نہیں پتہ ہوتا۔ اس کے رشتہ داروں کو نہیں پتہ ہوتا۔ اس کا کس کس سے لین دین چل رہا ہوتا ہے۔ پھر انتقال کے بعد ایک تنازع ہوتا ہے۔ ایک فساد برپا ہوتا ہے۔ تو اولین درجہ اس کا یہ ہے کہ جب بھی کسی سے لین دین ہو ادھار کے اندر کچھ لینا ہو یا کچھ دینا ہو۔ دونوں ہی صورتوں کے اندر اس کو لکھ لیا جائے۔ اس کو قلم بند کر لیا جائے تاکہ ایک دستاویز کے طور پر ایک ثبوت کے طور پر یہ بات موجود ہو کہ اس نے کس کس کا دینا تھا۔ اخرت میں وہ وبال نہ ائے۔ اور اس نے کس کس سے لینا تھا تاکہ وہ پیسہ کوئی کھا نہ جائے۔ اور اس کے جو ورثاء کو ملنا تھا وہ حق نہ مارا جائے۔ تو یوں کوئی بھی لین دین کا معاملہ ہو۔ اس کو لکھتے رہنا چاہیے وقتا فوقتا اپنے جو بھی کاروبار کو سنبھالتا ہے۔ اولاد میں سے اسے اعتماد میں لیتے رہیں۔ اسے بتاتے رہیں۔ گھر والوں کو بتاتے رہیں۔ اس کی کاپی تیار کر کر رکھیں۔ اس کی اطلاع دیتے رہیں۔ موت اچانک اتی ہے۔ کسی بھی لمحے ا سکتی ہے۔ تو وصیت کے جو قوانین ہیں وصیت کا جو نظام ہے۔ وصیت کا جو سسٹم ہے وصیت کے جو احوال ہیں ویسے تو بہت وسیع ہیں تفصیلی ہیں جامع ہیں۔ ایک ان کا اجمالی تعارف تھوڑا سا خلاصہ اج سورہ بقرہ کی۔ ایت نمبر 180 کے تحت میں نے اپ کے سامنے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے اللہ تبارک و تعالی ہمیں شریعت مطہرہ پر مکمل طریقے سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہماری خواہشات کو ہماری چاہتوں کو ہماری مرضی کو شریعت مطہرہ کے تابع کر دے۔ ہم مطیع اور فرمانبردار بن جائیں۔ اور جو شریعت مطہرہ کی تعلیمات ہیں اسے ہی ہم مقدم سمجھیں۔ اس کو ہی ہم فالو کریں۔ امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔



