Thumbnail for Government ISSUED Notification to get Green property certificate by Adv Shakeel Ur Rehman

Government ISSUED Notification to get Green property certificate

Adv Shakeel Ur Rehman

5m 32s1,669 words~9 min read
Auto-Generated

[0:00]گرین پراپرٹی سرٹیفیکیٹ جس شخص کے پاس بھی موجود ہے وہ اس چیز پہ تسلی کر لے کہ اس کی پراپرٹی پہ کبھی بھی قبضہ نہیں ہو سکتا۔

[0:07]گورنمنٹ نے اس چیز کو اتنے احسن طریقے سے ارگنائز کیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی پراپرٹی پہ قبضہ کرنے کا سوچتا ہے لیکن اس شخص کے پاس گرین سرٹیفیکیٹ پراپرٹی کا موجود ہے۔

[0:20]تو اس کی پراپرٹی اتنی محفوظ ہے کہ اس کو کسی بھی حوالے سے جو ہے وہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کو حاصل کرنے کا جو طریقہ کار ہے وہ بڑا سمپل ہے لیکن اس میں اپ کو 10 مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔

[0:30]اگر اپ اس کو جو ہے مکمل کر لیتے ہیں تو اپ کو جو ہے وہ سرٹیفیکیٹ ایشو کر دیا جائے گا۔ یہ ساری تفصیلات میں اج اپ کو ویڈیو میں بتاؤں گا کہ اپ نے وہ سرٹیفیکیٹ کیسے اپلائی کرنا ہے اور کس کو وہ سرٹیفیکیٹ ملے گا، کس کو نہیں ملے گا۔

[0:41]اوورسیز پاکستانی جو کہ کسی بھی پراپرٹی کے مالک ہیں یہاں پہ ان کو تو یہ ویڈیو ضرور دیکھنی چاہیے کیونکہ ان کی پراپرٹیوں پہ سب سے زیادہ قبضے ہوتے ہیں کیونکہ وہ پاکستان سے باہر ہوتے ہیں لوگ ان کی پراپرٹیوں پہ قبضے کر لیتے ہیں۔

[0:54]بعد میں جو ہے وہ ان کے لیے کافی زیادہ پرابلم ہوتی ہے۔ اپنی ویڈیو شروع کرنے سے پہلے میں اپ سے ریکویسٹ کروں گا میرے فیس بک پیج کو لائک کریں یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں۔

[1:03]دوسرا میری اپ سے ریکویسٹ ہے کہ اگر میری ویڈیو سے اپ کے علم میں کوئی اضافہ ہوتا ہے تو لائک کمنٹ اور شیئر ضرور کیا کریں۔

[1:07]اور اس کے علاوہ کسی کو اگر لیٹسٹ فیصلوں کی کاپی چاہیے جو میں اپنی ویڈیوز میں بتاتا ہوں یا اپ کو اس سرٹیفیکیٹ سے ریلیٹڈ جو سٹیپس ہیں اس کے بارے میں اپ کو گورنمنٹ کے نوٹیفیکیشن کی کاپی چاہیے کیونکہ گورنمنٹ نے اس بارے میں جو ہے وہ ڈیٹیل پروسیجر کا جو ہے وہ اعلان کر دیا ہے۔

[1:19]تو نیچے کمنٹ سیکشن میں جو ہے وہ لنک ا رہا ہے میرے واٹس ایپ چینل کا وہاں سے اپ فالو کر کے اپ جو ہے وہ اس کو حاصل کر سکتے ہیں۔

[1:25]اب ا جاتے ہیں اپنے ٹاپک کی طرف کہ گورنمنٹ نے جو گرین پراپرٹی سرٹیفیکیٹ ہے اس کے اجرا کے لیے جو نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے اور اس میں جو انہوں نے سٹیپس بتائے ہیں وہ 10 سٹیپس کون کون سے ہیں؟

[1:34]اس میں نمبر ون کے اوپر یہ سٹیپ ہے کہ اپ نے سب سے پہلے اپنے جو گھر کے پاس اپ کے جو پیلرا کا دفتر ہے وہاں پہ اپ نے اس کو وزٹ کرنا ہے اور وہاں جا کے اپ نے جو گرین سرٹیفیکیٹ پراپرٹی کا ہوتا ہے اس کے ریلیٹڈ جو لوگ کام کر رہے ہیں ان سے جا کے اپ نے ملاقات کرنی ہے۔

[1:47]اور اس میں ایک چیز جو ہے وہ کمپلسری ہے کہ اپ نے جو مالک ہے بیسکلی اس نے ذاتی حیثیت میں جو ہے اس کو سینٹر کو وزٹ کرنا ہے۔ نمبر ٹو کے اوپر یہ ہے۔

[1:54]کہ اپ نے اپنی پراپرٹی کو لے کے تمام تفصیلات جو ہے اس کو فراہم کرنی ہے اور فیس کی ادائیگی کرنی ہے۔ اب پراپرٹی کی تفصیلات میں اپ کی رجسٹری ہے انتقال ہے جو اپ کو جو ہے وہ ٹرانسفر کی گئی ہے جو اپ کے نام پہ ٹرانسفر ہو چکی ہے۔

[2:08]اور وہاں پہ جو بینک اف پنجاب کا کاؤنٹر ہے وہاں جا کے اپ نے جو ہے وہ اس کی فیس پے کرنی ہے۔ یا وہاں سے اپ پی ایس ائی ڈی چالان کا بنوا کے جیس کیش یا ایزی پیسہ کے ذریعے بھی اپ اس کی فیس جو ہے وہ ادا کر سکتے ہیں۔

[2:16]اس کے علاوہ جو ہے وہ اپ ان لائن بھی جمع کروا سکتے ہیں۔ جب یہ اپ پروسیجر مکمل کر لیں گے اس کے بعد نمبر تھری کے اوپر جو سٹیپ ہے۔

[2:20]وہ ہے شناخت کا مرحلہ۔ شناخت کی تصدیق کے اندر اس طریقے سے ہو گا کہ جو مالک ہے اس کا جو ہے وہ اسشناختی کارڈ دیکھا جائے گا اس کا بائیومیٹرک کیا جائے گا اور اس بات کی جو ہے وہ تسلی کی جائے گی کہ جو شخص جو ہے وہ گرین پراپرٹی سرٹیفیکیٹ کے لیے ایا گرین سرٹیفیکیٹ کے لیے اپلائی کر رہا ہے۔

[2:35]وہ شخص اس پراپرٹی کا مالک ہے یا نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جو ہے وہ اس کے موبائل نمبر کی بھی تصدیق کی جائے گی۔

[2:40]اور اس کے ساتھ جو اس کے شناختی کارڈ کے مطابق اس کے والد کا نام ہے یا اس کے لڑکی اگر تو اس کے شوہر کا نام ہے اس کو بھی جو ہے بائیومیٹرک کے ساتھ اس کے فون نمبر کے ساتھ اس کی بھی تصدیق کی جائے گی۔

[2:49]پچار کے اوپر شناخت کا پروسیجر مکمل ہونے کے بعد اس کی ملکیت کی تاریخ کا جو ہے وہ تعین کیا جائے گا کہ یہ جو پراپرٹی یہ شخص کے نام پہ کب ٹرانسفر ہوئی ہے۔

[2:57]ایا اس پراپرٹی پہ کوئی گروی تو نہیں ہے یہ ماڈ گیج یا اس کو جو ہے وہ کسی جگہ پہ گروی رکھوا کے جو ہے وہ قرضہ تو نہیں لیا گیا اس پراپرٹی کے اوپر کوئی سٹے ارڈر موجود تو نہیں ہے اس پراپرٹی کو لے کے کوئی بھی لیٹیگیشن کسی عدالت میں زیر سماعت تو نہیں ہے۔

[3:08]جب یہ ساری تفصیلات مکمل ہو جائیں گی اس کے بعد جو کیس ہے وہ فیلڈ افسر کے جو ہے وہ سپرد کر دیا جائے گا اور اس کے بعد جو پانچواں سٹیپ ہے۔

[3:15]اس کے بعد فیلڈ افسر نے جو ہے وہ اس جگہ پہ جانا ہے جس کی یہ جو ہے وہ گرین سرٹیفیکیٹ اپلائی کیا جا رہا ہے اور وہاں جا کے اس نے لیٹسٹ جو سافٹ ویئر ہے جس میں جی پی ایس جو نیویگیشن ہوتا ہے۔

[3:22]اس کے مطابق اس نے پلاٹ کا مکان دکان جو بھی ہے اس کی اس کو جو ہے وہ انہوں نے اس کا جو ہے وہ رقبے کا جو ہے وہ تعین کرنا ہے کہ اس کی لمبائی کتنی ہے چوڑائی کتنی ہے ڈیپ کتنی ہے گھر بنا ہوا ہے وہاں پہ یا جو بھی اس کی موقع کے اوپر جو چیز موجود ہے اس کے بارے میں اس نے ایک رپورٹ تیار کرنی ہے۔

[3:37]نمبر چھ کے اوپر یہ ہے کہ جب وہ رپورٹ تیار کر لے گا تو اس کے بعد اسی جگہ کے جو دو لوگ ہیں ہمسائے ان کی جو ہے بائیومیٹرک کی تصدیق کر کے ان کے جو ہے وہ بیانات جو ہے وہ قلم بند کیے جائیں گے اور ان کی باقاعدہ اس سارے مرحلے میں تصدیق اور شناعت جو ہے وہ شامل کی جائے گی۔

[3:50]اور اس میں ان سے یہ بھی کنفرم کیا جائے گا کہ اس پراپرٹی کا قبضہ جو ہے واقعی اس شخص کے پاس ہے جس نے اپلائی کیا ہے یا وہ کسی اور کے پاس ہے۔

[3:56]نمبر سات کے اوپر یہ ہے کہ جو گسٹڈ افسر ہے صرف اسی کی جو ہے وہ تصدیق اس میں ڈالی جائے گی یعنی کہ جب یہ رے جو سرور ہے وہ اپنا کام کمپلیٹ کر لے گا۔

[4:04]اس کی سٹیٹمنٹ کی بنیاد کے اوپر جو ہے وہ ایک گسٹڈ افسر جو کہ 17 گریڈ سے کم نہیں ہوگا اس کی جو ہے وہ تصدیق کے ذریعے جو ہے وہ اس کو سسٹم میں شامل کیا جائے گا۔

[4:11]نمبر اٹھ کے اوپر یہ ہے کہ عوامی طور پہ اس کا جو ہے وہ اعلان کیا جائے گا یعنی کہ اخبار اشتیار کے ذریعے اور پیلرا کی جو ویب سائٹ ہے اس کے اوپر جو ہے وہ اس کی باقاعدہ طور پہ تصدیق کے لیے جو ہے ایک پراپر ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے گا۔

[4:24]ایک منادی کی شکل میں یا اپ ایک نوٹس کی شکل میں کہ یہ شخص ہے اس نے گرین سرٹیفیکیٹ کے لیے اپلائی کیا ہے۔ اگر کسی کو اعتراض ہے تو 15 دن کے اندر جو ہے وہ پیلرا کے ضلع دفتر سے جو ہے وہ رابطہ کر سکتا ہے۔

[4:33]اگر 15 دن کے اندر کوئی شخص اس کے اوپر اعتراض داخل نہیں کرتا ہے تو جو یہ گرین سرٹیفیکیٹ اور پراپرٹی کا جو معاملہ ہے وہ اپنے حتمی مرحلے میں جو ہے وہ داخل ہو جاتا ہے۔

[4:43]اس کے بعد نمبر نو کے اوپر جب یہ سارا پروسیجر مکمل ہو جاتا ہے تو جو اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ ہے اس کے پاس یہ کیس جو ہے وہ ریفر کر دیا جاتا ہے۔

[4:50]تو وہ جو اے ڈی سی ار ہے وہ اس کی ساری فائل کا جو ہے وہ اس کے ساتھ مل کے جائزہ لیتی ہے اور وہ پھر جو ہے وہ قبضے کی تصدیق جو ہے وہ سرور کی رپورٹ کی روشنی میں دوسرے نمبر پہ یہ جو افسر ہے ان کی تصدیق کی بیس پہ جو ہے وہ قبضے کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔

[5:01]اور نمبر 10 کے اوپر جو ہے وہ اخری سٹیپ ہے کہ جب یہ ساری چیزیں مکمل ہو جاتی ہیں تو فائنلی جو ہے وہ گرین پراپرٹی سرٹیفیکیٹ اپ کو جاری کر دیا جاتا ہے اور گرین سرٹیفیکیٹ جو پراپرٹی کا ایشو کیا جاتا ہے اس کے بعد وہ اس شخص کی جو ہے وہ ایک حتمی جو ہے وہ فائنل ڈیسٹینیشن بن جاتا ہے کہ اس میں اس کے قبضے کے معاملے کو جو ہے وہ ہمیشہ کے لیے جو ہے وہ سٹ اؤٹ کر دیا جاتا ہے۔

[5:18]یہ ان لائن اویلیبل ریکارڈ ہوتا ہے اور اس کو کوئی بھی جو ہے وہ چینج نہیں کر سکتا تو اگر کوئی بھی شخص اس کو اپلائی کرنا چاہتا ہے تو اس کو یہ 10 سٹیپ سے جو ہے وہ گزرنا پڑے گا۔

[5:27]اور جب یہ سارا مکمل ہو جائے گا تو اس میں اس کو پھر کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیش نہیں ائے گی۔ ہوپ سو اپ کو یہ ویڈیو پسند ائی ہوگی۔

[5:32]میں فیس بک پیج کو لائک کریں یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں تاکہ لیگل ٹاپک سے ریلیٹڈ اس طرح ایڈوائز میں اپ سے شیئر کرتا ہوں۔ تھینک یو فار واچنگ۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript