[0:00]اچانک مسافر کی نظر ایک شیر پر پڑی جو رسیوں سے بندھا ہوا تھا۔ جب وہ قریب پہنچا تو شیر بے بسی سے بولا مجھے ازاد کر دو۔ میں تمہاری اس مہربانی کو کبھی نہیں بھولوں گا۔ مسافر کو شیر پر ترس ایا اس نے رسی کھولی اور شیر کو ازاد کر دیا۔ کچھ دن بعد جب مسافر بیٹھا ارام کر رہا تھا اچانک وہی شیر وہاں اگیا اور گہری نظروں سے اسے گھورنے لگا۔ مسافر نے چونک کر پوچھا کیا ہوا تم مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو؟ شیر بولا میری فطرت ہے شکار کرنا اور اس وقت تم میرے لیے سب سے اسان شکار ہو۔ مسافر نے حیرانی سے کہا میں نے تمہیں بچایا تمہیں نئی زندگی دی اور اب تم مجھے ہی کھانا چاہتے ہو۔ بات بڑھ گئی تو دونوں نے فیصلہ کیا کہ کسی تیسرے سے انصاف لیا جائے۔ راستے میں انہیں ایک اونٹ ملا۔ انہوں نے سارا واقعہ اسے سنایا۔ اونٹ بولا انسان ساری زندگی ہم پر بوجھ ڈالتا ہے اور جب ہم بوڑھے ہو جاتے ہیں تو ہمیں مار دیتا ہے۔ میں تو شیر کا ساتھ دوں گا۔ مسافر اور شیر اگے بڑھے اور ایک درویش کے پاس پہنچے۔ درویش نے سارا واقعہ سنا پھر سکون سے کہا میں تبھی فیصلہ کروں گا جب تم پورا واقعہ ویسے ہی کر کے دکھاؤ جیسے اصل میں ہوا تھا۔ چنانچہ مسافر نے شیر کو دوبارہ رسیوں سے باندھ دیا بالکل ویسے ہی جیسے وہ پہلے بندھا تھا۔ درویش مسکرایا اور کہا بس فیصلہ ہو گیا نیکی ہر جگہ نہیں کی جاتی اور جو ازاد ہو کر کاٹنے لگے اسے دوبارہ باندھ دینا ہی سمجھداری ہے۔

Shahbaz Qalandar Or Musafir Ka Waqia #shahbazqalandar #facts
Story Gate
1m 12s270 words~2 min read
YouTube auto captions
Transcript source
YouTube auto captions
This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.
Use this transcript
Related transcript hubs
Watch on YouTube
Share
MORE TRANSCRIPTS


