[0:09]وہی خدا ہے۔ وہی خدا ہے۔ وہی خدا ہے۔ موت کا جو مزہ سبھی کو چکھا رہا ہے وہی خدا ہے۔ موت کا جو مزہ سبھی کو چکھا رہا ہے وہی خدا ہے۔ چکھا رہا ہے وہی خدا ہے۔ جو بات مرنے کے روز محشر اٹھا رہا ہے وہی خدا ہے۔ موت کا جو مزہ سبھی کو موت کا جو مزہ سبھی کو چکھا رہا ہے وہی خدا ہے۔ چکھا رہا ہے وہی خدا ہے۔ تمام بولے یہ جن و انسان یہ اس کی قدرت کا ہے کرشمہ۔ تمام بولے یہ جن و انسان یہ اس کی قدرت کا ہے کرشمہ۔ تمام بولے یہ جن و انسان یہ اس کی قدرت کا ہے کرشمہ۔ جو لفظ کن سے بنا کے دنیا دکھا رہا ہے وہی خدا ہے۔ موت کا جو مزہ سبھی کو موت کا جو موت کا جو مزہ سبھی کو چکھا رہا ہے وہی خدا ہے۔ چکھا رہا ہے وہی خدا ہے۔ ہوئی ہے موسیٰ پہ مہربانی دیا ہے رستہ ہٹا ہے پانی۔ ہوئی ہے موسیٰ پہ مہربانی دیا ہے رستہ ہٹا ہے پانی۔ ہوئی ہے موسیٰ پہ مہربانی دیا ہے رستہ ہٹا ہے پانی۔ فرعون اعظم کو نیل میں جو ڈبا رہا ہے وہی خدا ہے۔ موت کا جو مزہ سبھی کو موت کا جو مزہ سبھی کو چکھا رہا ہے وہی خدا ہے۔ چکھا رہا ہے وہی خدا ہے۔ جی پاک مریم ابھی کواری پھر ائے جبریل پھونک ماری۔ جی پاک مریم ابھی کواری پھر ائے جبریل پھونک ماری۔ جی پاک مریم ابھی کواری پھر ائے جبریل پھونک ماری۔ بن باپ کے جو شکم میں عیسیٰ بنا رہا ہے وہی خدا ہے۔ موت کا جو مزہ سبھی کو موت کا جو مزہ سبھی کو چکھا رہا ہے وہی خدا ہے۔ چکھا رہا ہے وہی خدا ہے۔ ہے علا و اتش کا جل رہا تھا جلا کے نمرود تک رہا تھا۔ علا و اتش کا جل رہا تھا جلا کے نمرود تک رہا تھا۔ علا و اتش کا جل رہا تھا جلا کے نمرود تک رہا تھا۔ اس اگ سے ایک خلیل کو جو بچا رہا ہے وہی خدا ہے۔ موت کا جو مزہ سبھی کو موت کا جو مزہ سبھی کو چکھا رہا ہے وہی خدا ہے۔ چکھا رہا ہے وہی خدا ہے۔ بنائی شداد نے ہے جنت جو چاہہ دیکھوں میں اس کی زینت۔ بنائی شداد نے ہے جنت جو چاہہ دیکھوں میں اس کی زینت۔ بنائی شداد نے ہے جنت جو چاہہ دیکھوں میں اس کی زینت۔ قدم بڑھاتے ہی موت دے کر گرا رہا ہے وہی خدا ہے۔ موت کا جو مزہ سبھی کو موت کا جو مزہ سبھی کو چکھا رہا ہے وہی خدا ہے۔ چکھا رہا ہے وہی خدا ہے۔ وہ کب سے سوکھا پڑا ہوا تھا وہ بوند کو بھی ترس رہا تھا۔ وہ کب سے سوکھا پڑا ہوا تھا وہ بوند کو بھی ترس رہا تھا۔ وہ کب سے سوکھا پڑا ہوا تھا وہ بوند کو بھی ترس رہا تھا۔ حمر کے چٹھی سے نیل کو جو بہا رہا ہے وہی خدا ہے۔ موت کا جو مزہ سبھی کو موت کا جو مزہ سبھی کو چکھا رہا ہے وہی خدا ہے۔ چکھا رہا ہے وہی خدا ہے۔ نظر اٹھا کے تو دیکھ رہبر ہے خوبصورت حسین منظر۔ نظر اٹھا کے تو دیکھ رہبر ہے خوبصورت حسین منظر۔ نظر اٹھا کے تو دیکھ رہبر ہے خوبصورت حسین منظر۔ جو چاند تاروں سے اسمان کو سجا رہا ہے وہی خدا ہے۔ موت کا جو مزہ سبھی کو موت کا جو مزہ سبھی کو
[7:43]وہی خدا ہے۔ وہی خدا ہے۔ وہی خدا ہے۔



