[0:00]ہمارے یہاں پہ بہت زیادہ لوگ جو ہیں وہ گاڑیوں کا کاروبار بھی کرتے ہیں، گاڑیوں کو انویسٹمنٹ کے لیے خریدتے بھی ہیں، پھر گاڑیوں کو بیچتے بھی ہیں اور اس کے بعد کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک گاڑی جس پرائس پہ ہوتی ہے وہ ڈیفینیٹلی جب سیل ہوتی ہے تو اس میں جو ہے وہ زیادہ اماؤنٹ پہ سیل ہو جاتی ہے تو ہائی کورٹ میں ایک بڑا یونیک کیس آیا جس میں جو ہے وہ ایف بی آر نے ایک شخص کے اوپر ٹیکس لگا دیا کہ بھئی اس شخص نے جو ہے وہ گاڑی لی اس کے بعد اس نے اس کو رکھنے کے بعد اس کو بیچا تو جو اس نے اس کے ڈفرنس جو اس کا اماؤنٹ ہے یعنی 10 لاکھ کی گاڑی ہے 15 لاکھ میں بیچی ہے 5 لاکھ اگر اس نے اس پہ کمایا ہے تو اس کے اوپر اس پہ جو ہے وہ ٹیکس امپوز کر دیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ کے پاس جب یہ معاملہ ایا انہوں نے سارے معاملات کو دیکھا اور اس میں انہوں نے بڑی زبردست جو ہے وہ ایک ججمنٹ دی ہے اور اس ججمنٹ کے اندر جو ہے وہ جو انہوں نے پرنسپل جو ہے وہ لے ڈاؤن کر دیے ہیں کہ کن حالات میں جو ہے وہ گاڑی کی سیل پرچیز پہ ٹیکس لگے گا اور کن حالات میں جو ہے وہ ٹیکس نہیں لگے گا۔ یہ ساری تفصیلات میں اج اپ کو ویڈیو میں بتاؤں گا اپنی ویڈیو شروع کرنے سے پہلے میں اپ سے ریکویسٹ کروں گا کہ فیس بک پیج کو لائک کریں یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں۔ دوسرا میری اپ سے ریکویسٹ ہے کہ اگر میری ویڈیو سے اپ کے علم میں کوئی اضافہ ہوتا ہے تو ایک لائک کر دیا کریں کمنٹ کر دیا کریں شیئر کر دیا کریں اس سے میری کافی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور تیسرا یہ کہ اگر اپ کو اس فیصلے کی کاپی چاہیے تو نیچے ڈسکرپشن میں میرا واٹس ایپ چینل ا رہا ہے اس پہ اپ جو ہے وہ لنک پہ کلک کر کے واٹس ایپ چینل سے جو ہے وہ ججمنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ تو اب ا جاتے ہیں اپنے اصل ٹاپک کی طرف ہوتا کچھ اس طریقے سے کہ ایک شخص جو ہے وہ دو گاڑیاں لیتا ہے لیکن جب وہ اس کو ڈسپوز اف کرتا ہے اور اپنی ٹیکس ریٹرن میں جو پرافٹ شو کرتا ہے وہ ٹوٹل اس کا 1 کروڑ 35 لاکھ روپے کا تھا یعنی کہ اس نے اپنی انکم شو کی ہوئی تھی لیکن اس میں اس کا جو نیٹ پرافٹ تھا گاڑیوں کی پرائس نکالنے کے بعد وہ اس نے 78 لاکھ 80 ہزار روپیہ جو ہے وہ رپورٹ کیا ہوا تھا۔ ایف بی آر کا جو انسپیکٹر ہے وہ ان کو جو ہے وہ اینالائز کرتے ہیں وہ اس پہ جو ہے وہ ٹیکس کیلكولیٹ کر کے امپوز کر دیتے ہیں کہ جی یہ اپ نے جو ہے وہ پرافٹ لیا یہ اپ کا کیپیٹل گین ہے اپ نے چونکہ اس میں منافع کمایا ہے تو اپ کی امدنی کے اوپر جو ہے وہ ہم ٹیکس لگا رہے ہیں۔ اسی طرح جب وہ کمشنر اپیل کے پاس جاتا ہے تو پھر وہ معاملہ جو ہے وہ اس میں سسٹین کیا جاتا ہے اس میں جو ہے وہ ٹیکس جو ہے وہ سسٹین کرنے کے ساتھ ساتھ کہا جاتا ہے کہ بالکل جی اپ کو اس کے اوپر جو ہے وہ ٹیکس دینا پڑے گا کیونکہ یہ اپ کی امدنی ہے۔ تو الٹیمیٹلی معاملہ یہ جب اے ٹی ائی ار کے پاس اتا ہے تو وہ اس ساری سچوئیشن کو دیکھتے ہیں تو اس میں انہوں نے جو ہے وہ جو پرنسپل طے کیا اس میں نمبر ون پہ یہ تھا کہ جو گاڑیاں تھیں وہ اس شخص کے پرسنل یوز کی تھی وہ نان بزنس گاڑیاں تھیں۔ تو اس میں انہوں نے سیکشن 37 کے بارے میں یہ بتایا کہ جو کیپیٹل گین سے ریلیٹڈ ہے کہ یہ صرف اس صورت میں ایپلیکیبل ہوتا ہے جہاں پہ جو انکم ہے وہ ادر وائز جو ہے وہ چارجیبل ٹو ٹیکس نہیں ہے۔ تو اس وجہ سے اس کانسپٹ کو فالو کرتے ہوئے چونکہ وہ سیکشن 37 کی سب کلاس فائیو ہے جس میں پرسنل پراپرٹی یا پرسنل موویبل پراپرٹی جو ہے ادر دین جولری ائٹم اس کو جو ہے وہ سپیسیفیکلی ایکسکلود کیا گیا ہے۔ یعنی کہ اگر اپ گولڈ یا جولری جو ہے وہ اپ ریٹین کرتے ہیں اور اس کو اپ پرچیز کرتے ہیں اور پرچیز کرنے کے بعد افٹر سرٹن پیریڈ اف ٹائم اگر اپ اس کو سیل اؤٹ کرتے ہیں تو جو اپ کو ڈفرنس اف پرائس ہوگا وہ اپ کو جو ہے وہ اپ کی انکم جو ہے وہ کنسیڈر ہوگا اور انکم کنسیڈر ہونے کی وجہ سے وہ اپ کو جو ٹیکس لائبلٹی ہے اس کو بھی انہینس کرے گا اور اپ کو الٹیمیٹلی اس کے اوپر جو بھی ٹیکس کیلکولیٹ ہوگا وہ دینا پڑے گا۔ لیکن اس کی جو ایکسیپشن ہے وہ مووگل پراپرٹی جس میں گاڑی شامل ہے جس میں بائیک شامل ہے یا اس کے علاوہ کوئی اور چیز انکلوڈنگ سلور وہ بھی بیچ میں شامل ہے کہ اگر اپ نے چاندی اپ کے پاس ہے چاندی اپ نے جو ہے وہ سیل اؤٹ کی ہے اس کے اوپر جو گین ہے وہ اس پہ کیلکولیٹ نہیں کیا جائے گا کیونکہ جو ایگزیمپشن ہے وہ سم تمام چیزوں کی حد تک ہے ایکسیپٹ فار گولڈ صرف گولڈ کو جو ہے وہ اس میں کیا جا سکتا ہے چارج جو ڈفرنس کی اماؤنٹ میں ائے گا۔ تو اس وجہ سے انہوں نے اس چیز کو لے ڈاؤن کیا کہ جو اپ کی گاڑی ہے اگر وہ نان بزنس ہے وہ اپ کی پرسنل گاڑی ہے تو اپ نے جتنے مرضی کی دی اور اس کے بعد اپ اس کو جب فروخت کر رہے ہیں تو جتنے مرضی کی اپ فروخت کر رہے ہیں اس پہ اپ کا کسی بھی حوالے سے جو کیپیٹل گین ٹیکس ہے وہ اپلائی نہیں کیا جا سکتا۔ اور اس کی جو بیسک وجہ ہے وہ میں نے اپ کو بتا دیا ہے سیکشن 37 سب کلوز فائو کیونکہ اپ کے پاس اگر پراپرٹی ہے وہ امویبل پراپرٹی ہے اس پہ کیپیٹل گین ٹیکس اس پہ کیلکولیٹ ہونا ہی ہونا ہے کیونکہ اس کا انہوں نے سپیسیفیکلی جو ہے وہ رائٹ جو لاء ہے اس کے اندر رائٹ ڈاؤن کر دیا ہے کہ اپ کو جو ہے وہ ٹیکس دینا پڑے گا پرائس ڈفرنس کے اوپر یعنی اپ نے ایک پراپرٹی پرچیز کی اس کے بعد اپ نے اس کو سیل اؤٹ کیا جو ڈفرنس ہے وہ اگر اپ کا پرافٹ میں ا رہا ہے پوزیٹو میں ا رہا ہے تو اپ کو اس پہ ٹیکس دینا پڑے گا۔ اسی طرح جو ہے وہ اگر اس میں گولڈ ہے گولڈ چونکہ جس حساب سے وہ بڑھ رہا ہے تو اکثر لوگوں نے جو ہے 20 20 تولے 30 30 تولے جو ہے وہ گولڈ اپنا ڈکلیئر کیا ہوا ہے جو کہ ہم 2022 سے منع کر رہے ہیں کہ اپ ڈکلیئر نہ کیا کریں اور اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس کی جو پرائس ڈفرنس ہے وہ اتنی زیادہ ہے کہ اپ 20 تولے اگر ڈکلیئر کر دیتے ہیں اپ نے اس وقت جب 2022 کی اگر ہم بات کریں تو ہو سکتا ہے وہ 20 لاکھ کا ہو یا 25 لاکھ کا ہو لیکن اج کی اگر اپ اس کی قیمت ملٹی پلائی کرتے ہیں 5 لاکھ پلس کے اوپر تو وہ ڈیفینیٹلی اپ کا 1 کروڑ سے اوپر نکل جاتا ہے وہ جو 60 70 80 لاکھ روپے اپ نے کمایا جب اپ گولڈ سیل اؤٹ کرتے ہیں اس میں تو اپ کہتے ہیں جی میں نے 10 تولے سونا بھیج دیا تو 10 تولے کے اوپر اپ کو جو ہے وہ تقریبا 50 لاکھ روپے کا گین جو ہے وہ بڑھ جائے گا اور جو گین ہوگا وہ اپ کی کاسٹ پرائس صرف وہ مائنس ہوگی بیچ میں سے جو اپ کی اوریجنل پرائس ہے۔ تو باقی اپ کو جو ڈفرنس ہے اس پہ اپ کو انکم ٹیکس دینا پڑے گا تو وہ تو ایک ایگزیمپشن اس میں جو ہے وہ ہے ہی ہے لیکن یہ جو گاڑیوں کے معاملات ہیں اس کو جو ہے وہ پراپر انہوں نے فائنلائز کر دیا ہے اور یہ اب رول بن چکا ہے اس کے اوپر لا کلیئر ہے کہ اگر اپ گاڑیاں پرچیز کرتے ہیں اور گاڑیاں اپ جو ہے وہ سیل اؤٹ کرتے ہیں وہ اپ کے پرسنل یوز کی گاڑی ہے تو اس پہ کسی بھی قسم کا جو جو کیپیٹل گین ٹیکس ہے وہ اپ کو نہیں دینا ہے۔ ہوپ سو اپ کو یہ ویڈیو پسند ائی ہوگی میرے فیس بک پیج کو لائک کریں یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں تاکہ لیگل ٹاپکس ریلیٹڈ اس طرح ایڈوائس میں اپ سے شیئر کرتا رہوں تھینک یو فار واچنگ

HIGH COURT DECISION: How much Gain Tax is PAYABLE on SALE of CAR
Adv Shakeel Ur Rehman
5m 23s1,474 words~8 min read
YouTube auto captions
Transcript source
YouTube auto captions
This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.
Use this transcript
Related transcript hubs
Watch on YouTube
Share
MORE TRANSCRIPTS


