Thumbnail for الأربعين النووية | Introduction Promo – Muqaddima | Dr. Maqbool Ahmed by Youth Flix

الأربعين النووية | Introduction Promo – Muqaddima | Dr. Maqbool Ahmed

Youth Flix

13m 59s1,602 words~9 min read
Auto-Generated

[0:00]اربعین کا مطلب ہے 40۔ النوویہ چونکہ امام صاحب کی نسبت نوا قریہ کی طرف ہونے کی وجہ سے النووی مشہور ہوئے تو اس کا نام اربعین نوویہ پڑ گیا۔ کسی کے پاس بہت زیادہ وقت نہ ہو مختصر طور پر وہ دین سمجھنا چاہے تو یہ اربعین نوویہ بہت اہمیت کی حامل کتاب ہے۔

[0:29]الحمد للہ رب العالمین ولا عاقبت للمتقین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم اما بعد آج کا ہمارا یہ پروگرام جس کی ہم ابتدا کرنے جا رہے ہیں۔ وہ ایک حدیث کی کتاب ہے مشہور کتاب اربعین نوویہ۔ امام نووی رحمہ اللہ کی خدمات حدیث میں سے ایک حدیث کی کتاب ہے۔ اس کی ہم سبقا درسا تعلیمی جاری رکھیں گے۔ امام نووی رحمہ اللہ کی اس حدیث کی خدمت اور امام نووی رحمہ اللہ کے کے بارے میں ہمیں جاننا ضروری ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ ساتویں صدی ہجری کے بہت بڑے امام ہیں۔ ان کا نام نامی اس میں گرامی یحیی بن شرف ہے۔ ان کی کنیت ابو زکریا ہے ان کا لقب محی الدین ہے۔ اور ان کا پورا سلسلہ نسب یحیی بن شرف بن مری بن حسن بن حسین بن محمد بن جمعہ بن حزام النووی الدمشقی رحمہ اللہ ہے۔ امام نووی نوا شام کا ایک گاؤں تھا قریہ اس کی نسبت کی وجہ سے انہیں نووی کہا جاتا ہے۔ اور امام نووی رحمہ اللہ محرم کے مہینے میں 631 ہجری کو نوا میں پیدا ہوئے۔ اور امام صاحب کے والدین بھی دین دوست تھے دین سے محبت رکھنے والے تھے۔ امام نووی خود بھی بڑے ذہین فتین اور بہت بچپن سے ہی قابل تھے۔ امام صاحب نے سب سے پہلے قرآن کریم حفظ کیا اور بالغ ہونے سے پہلے پہلے قرآن حفظ کر چکے تھے۔ ماں باپ نے جب دیکھا کہ بچے کا دین کے ساتھ بہت شغف ہے محبت ہے۔ اور بہت ذہین بھی ہیں۔ تو امام صاحب کے والدین نے آپ کو پڑھنے کے لیے دمشق میں بھیج دیا اور وہاں پر آپ وہاں ایک مدرسہ تھا جس کا نام تھا دار الحدیث۔ اس میں زیر تعلیم رہے۔ وہاں کے مشائخ سے حدیث تفسیر فقہ دیگر علوم حاصل کیے۔ اور اسی مدرسے میں مدرسہ دار الحدیث میں ہی پڑھنے کے بعد پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا۔ اور امام صاحب مدرسہ دار الحدیث میں لگ بھگ 25 سال تک حدیث کی تعلیم دیتے رہے۔ شیخ الحدیث کہلائے وہاں اور دین کی خدمت حدیث پڑھانے کی شکل میں کرتے رہے۔ اور امام صاحب کی زندگی نے کچھ زیادہ وفا نہیں کی۔ امام صاحب صرف 45 سال دنیا میں زندہ رہے۔ 631 میں آپ کی ولادت ہے محرم الحرام میں اور 27 رجب 676 میں آپ کی وفات ہے۔ تو 45 سال کی زندگی میں آپ نے تعلیم بھی حاصل کی۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ تصنیف کا کام بھی جاری رکھا۔ اس مختصر عرصہ میں بہت سی تصانیف کیں جس کا ہم آخر میں تذکرہ کریں گے۔ لیکن ان میں سے جو سب سے زیادہ مشہور بھی ہوئی اور جس کو ہم سبقا پڑھنے بھی جا رہے ہیں وہ اربعین نوویہ ہے۔ اربعین کا مطلب ہے 40۔ النوویہ چونکہ امام صاحب کی نسبت نوا قریہ کی طرف ہونے کی وجہ سے النووی مشہور ہوئے۔

[5:04]تو اس کا نام اربعین نوویہ پڑ گیا۔ امام صاحب سے پہلے بہت سے ائمہ نے جیسے ایک رواج چل نکلا تھا احادیث کو جمع کرنے کا۔ اور احادیث کو جمع کرنے کے مختلف طریقے تھے۔ ان طریقوں میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ مختلف مشائخ نے، مختلف علماء نے، مختلف محدثین نے اربعین کے نام سے حدیثوں کو جمع کیا۔ اور اس کے اندر مختلف احادیث کو جمع کیا جس میں 40 حدیثیں ہوتی تھیں۔ اس میں بعض میں اصول کے نام سے بعض نے جہاد کی حدیثوں کو جمع کیا۔ بعض نے جوہد و مواعظ اور بعض مشائخ نے آداب و اخلاق اور بعض نے فضائل الاعمال کو جمع کیا۔

[6:19]تو امام نووی رحمہ اللہ نے جو اربعین نوویہ کا انتخاب کیا وہ ان سب سے الگ تھلگ تھی۔ ان مشائخ نے جو احادیث جمع کی تھیں انہیں احادیث میں سے جو صحیح ترین حدیثیں تھیں۔ خاص طور پر بخاری مسلم کی احادیث اور صحیح حدیثوں کو اربعین میں جمع کیا۔ اور وہ وہ احادیث اربعین میں جمع کیں جن کے اوپر دین کا پورا دار و مدار ہے۔ اساس ہے۔ ہر وہ حدیث ذکر کی کہ جو ایک سے ایک بڑھ کر جس کی اہمیت فضیلت اور مقام اور مرتبہ ہے۔ اس طرح امام صاحب نے 40 حدیثوں کا ایک مجموعہ جمع کیا جس کو ہم اربعین نوویہ کے نام سے جانتے ہیں۔ اور یہ اس کو اتنا قبول عام ملا کہ اس کی بہت سی شروعات کی گئیں۔ صرف اربعین کی اگے شروعات علماء نے کیں۔ اور وہ شروعات میں سے صاحب الکشف الظنون حاجی خلیفہ بن مصطفی رحمہ اللہ نے 70 شروعات کا تذکرہ کیا ہے کشف الظنون کے اندر۔ اور ان میں سے جو سب سے بہترین شرح ہے وہ ابن رجب بغدادی حملی کی ہے۔ اور دیگر شروعات بھی ہیں۔ اردو کے اندر بھی شروعات ہیں اور فارسی کے اندر بھی شروعات ہیں اس اربعین نوویہ کی۔ مولانا ضیاء الدین اصلاحی ماہانہ معارف اعظم گڑھ انڈیا کے ایڈیٹر ہیں۔ انہوں نے بھی اس کی شرح کی ہے۔ اور مولانا عبدالمجید خادم انہوں نے بھی اس کی شرح کی ہے۔ اس طرح دیگر زبانوں میں بھی اس کی شروعات ہیں فارسی کے اندر پنجابی کے اندر اردو کے اندر عربی کے اندر تو شروعات ہیں ہی ہیں۔ تو اس لحاظ سے یہ حدیث کی کتاب جو 40 حدیثوں پر مشتمل ہے اس میں ہر ہر حدیث میں دین کے کسی نہ کسی عظیم و شان فائدے کا تذکرہ ہے۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھنا اس کو سمجھنا اس کو یاد کرنا یہ حدیث سے تعلق بھی واضح کرتا ہے۔ اور احادیث کو ان خاص احادیثوں کو یاد کرنے سے پڑھنے سے ان کو سمجھنے سے احادیث کو سمجھنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ اور امام صاحب کی دیگر کتب بھی ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ امام صاحب امام نووی رحمہ اللہ دین کے کتنے بڑے داعی تھے۔ مبلغ تھے مصنف تھے تھوڑی سی عمر میں بہت سی کتب کے مصنف ہیں مولف ہیں۔ جن کو انہوں نے تصنیف کیا ہے۔ تو ہم اپنے اس مختصر سے کورس کے اندر اربعین نوویہ کی ایک ایک حدیث کی شرح۔ اور سب سے مشہور جو حدیث مسلم شریف صحیح مسلم اس کی شرح منہاج فی شرح صحیح المسلم بن حجاج۔ اور ریاض الصالحین اربعین نوویہ جس کا ہم تذکرہ کر چکے ہیں۔ الاذکار الارشاد فی علوم الحدیث۔ روضہ الطالبین۔ العداع فی المناسک بستان العارفین اور منہاج الطالبین المجموع شرح المهذب۔ یہ اس کو مکمل نہیں کر سکیں تھے اس کو بعد میں مکمل کیا گیا۔ تو یہ ان اتنی اور بہت ساری کتابیں ان کی جن کے یہ مصنف ہیں۔

[10:19]اس کے اندر جو مسائل ہیں احکامات ہیں۔ اس کا تذکرہ کریں گے۔ کیونکہ حدیث کی اہمیت واضح ہے۔ قرآن اگر کوئی سمجھنا چاہتا ہے دین سمجھنا چاہتا ہے۔ تو حدیث کے بغیر دین نہیں سمجھا جا سکتا۔ اور اگر کسی کے پاس بہت زیادہ وقت نہ ہو مختصر طور پر وہ دین سمجھنا چاہے تو یہ اربعین نوویہ بہت اہمیت کی حامل کتاب ہے۔ اگر کوئی طالب علم ان احادیث کو سمجھ لیتا ہے۔ پڑھ لیتا ہے یاد کر لیتا ہے تو اس کے لیے دین پر عمل پیرا ہونا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ کیونکہ دین کی جو بنیادی چیزیں ہیں وہ تو ہر مسلمان پر فرض ہیں کہ وہ سیکھے سمجھے تاکہ اس کو عمل کرنا آسان ہو جائے۔ تو اس سلسلے میں یہ اربعین نوویہ بہت اہم کتاب ہے اور اس سے انسان کی دین سے محبت دین سے تعلق دین سے شغف۔ اور دین پر عمل کرنے کے لیے اس کے لیے اسانی پیدا ہو جاتی ہے۔ اور یہ بات ہے جیسے واضح کی جا رہی ہے۔ کہ دین کو سمجھنے کے لیے دین کی اساس قرآن ہے۔ اس کے بعد احادیث ہیں۔ احادیث کے بعد فتاوی صحابہ ہے۔ فہم صحابہ ہے۔ اس کے بعد باقی چیزیں الاجمال اور قیاس بعد میں آتے ہیں۔ تو قرآن سب سے پہلے نمبر پر ہے قرآن کے بعد حدیث ہے۔ تو قرآن کو سمجھنے کے لیے قرآن مجمل ہے۔ قرآن کو سمجھنے کے لیے حدیث کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم حدیث کو نہیں سمجھیں گے تو قرآن کو نہیں سمجھ سکتے۔ تو اگر ہمارے پاس اتنا ٹائم نہیں ہے کہ ہم بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ، مسند احمد۔ دیگر کتابیں پڑھ سکیں۔ تو کم از کم ہم یہ جو دین کی بنیادی چیزیں ہیں، اساسی چیزیں ہیں۔ وہ جو اس حدیث کے اندر اربعین نوویہ کے اندر مذکور ہیں۔ اس کو پڑھ کر ہم کافی حد تک دین کو سمجھ سکتے ہیں۔ دین پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں۔ اور دین سے احادیث کی صورت میں رہنمائی لے سکتے ہیں۔ تو اس طرح ہم انشاء اللہ آئندہ دنوں میں بھی۔ اسی کتاب کو ایک ایک حدیث کر کے پڑھیں گے۔ حدیث مشکل الفاظ کے معنی۔ حدیث کا ترجمہ پھر اس کی شرح۔ اور آخر میں اس حدیث سے کیا کیا احکامات مستبط ہوتے ہیں۔ کیا احکامات ہمیں اس حدیث سے ملتے ہیں اس کو فوائد الحدیث کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس کا تذکرہ بھی کریں گے انشاء اللہ۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں حدیث کے علم کو حاصل کرنے کی۔ دینی علم کو حاصل کرنے کی اللہ ہمیں توفیق دے۔ اور اللہ تعالی ہمیں قبول فرما لے۔ اور اللہ تعالی ہمیں دین کی سمجھ عطا کر دے۔ اور دین سے محبت کا جو تقاضا ہے اس کو پورا کرنے کے لیے ہمیں وقت نکال کر حدیث کو پڑھنے کی اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ و آخر دعوانا الحمد للہ رب العالمین۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript