Thumbnail for Mjhe Baccha nahi Chahiye | COMPLETE ROMANTIC LOVE STORY IN URDU HINDI | PAKEEZAH AANCHAL NOVELS by Aanchal Love Stories

Mjhe Baccha nahi Chahiye | COMPLETE ROMANTIC LOVE STORY IN URDU HINDI | PAKEEZAH AANCHAL NOVELS

Aanchal Love Stories

28m 34s4,999 words~25 min read
Auto-Generated

[0:01]میں میڈیکل کی اسٹوڈنٹ ہوں لیکن سچ یہ ہے کہ یہ سب کچھ کبھی میرا خواب نہیں تھا اج جو کچھ میرے ساتھ ہوا اس نے جیسے میرے اندر کا سکون چھین لیا میں اج بھی اس لمحے کو یاد کرتی ہوں تو دل کانپ اٹھتا ہے جب میں غلطی سے لیبر روم میں چلی گئی مجھے لگا کہ شاید کسی عام وارڈ میں جا رہی ہوں مگر جیسے ہی اندر قدم رکھا ایک عورت کی درد بھری چیخ نے میرے قدم روک دیے وہ عورت بری طرح تڑپ رہی تھی اس کی حالت دیکھ کے میرا دل جیسے سینے میں جم گیا اس کی سانسیں ٹوٹ رہی تھیں اور وہ بار بار درد سے کراہ رہی تھی وہاں موجود نرس مسلسل اس کے شوہر کو برا بھلا کہہ رہی تھی کمبخت کو لگتا ہے اور کوئی کام نہیں ہے چار سال میں چوتھا بچہ ہے مجھے تو لگتا ہے اس مرتبہ یہ عورت مر جائے گی نرس کی باتیں سن کر میرا دل مزید دہل گیا میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک عورت کو ماں بننے کے لیے اتنا درد برداشت کرنا پڑتا ہے وہ عورت جب تڑپ رہی تھی تو مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ تکلیف میرے اپنے جسم میں اتر رہی ہو میری سانس رکنے لگی میں وہاں ایک لمحہ بھی نہیں رک سکی اور جلدی سے باہر نکل آئی جیسے ہی میں باہر آئی میری نظر اس کے شوہر پہ پڑی وہ لمبا چوڑا مضبوط سا ادمی تھا اسے دیکھ کر مجھے اس پہ غصہ ایا کہ کیسے یہ اپنی بیوی کو اس حال میں چھوڑ کر کھڑا ہے پھر مجھے پتہ چلا کہ وہ فوجی ہے اور یہ سن کر میرا دل عجیب طرح سے کانپ گیا کیونکہ مبشر بھی تو ارمی جوائن کر چکا تھا اور اس کی ٹریننگ ختم ہوتے ہی میری رخصتی طے تھی میں ابھی انہی خیالوں میں تھی کہ وہ فوجی اپنے دوست سے بات کرنے لگا وہ موچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہہ رہا تھا ہم فوجیوں کی طاقت ہر عورت نہیں سہہ سکتی پہلی ہی رات میں میں نے اپنی بیوی کو پریگننٹ کر دیا تھا اس کی بات سن کر میرا دل جیسے رک گیا وہ ہنسا اور بولا میری بیوی تو شادی کی رات ہی مجھ سے معافی مانگ رہی تھی اور اب ہر سال بچہ پیدا کرنے سے معافی مانگتی ہے اب اس میں ہمارا کیا قصور کھائے پیے جان بنائے ہٹی کٹی ہو جائے تاکہ یہ درد نہ جھلنے پڑے لیکن خیر مجھے کیا مجھے تو بس خواب میں ایک بابا جی نے بتایا تھا کہ اگر سات بچے پیدا کرو گے تو بڑے افسر بنو گے بس اب تو میرا یہی پلان ہے کہ سات بچے پیدا کر کے ہی رہوں گا ہم فوجی فیملی پلاننگ نہیں کرتے اس کی باتیں سن کر میرے ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے میری سانسیں تیز ہو گئیں اور میرے ذہن میں صرف ایک ہی خیال گونجنے لگا مبشر وہ بھی تو فوجی ہے کہیں وہ بھی ایسا ہی نہ ہو اسی خوف نے میری نیندیں اڑا دیں میں رات بھر کروٹیں بدلتی رہی اور دل ہی دل میں دعا کرتی رہی کہ یا اللہ مبشر واپس نہ ائے مجھے خود اپنے اس خیال سے ڈر لگ رہا تھا مگر خوف اس سے کہیں زیادہ بڑا تھا ایک تو میں پہلے ہی میڈیکل بے دلی سے پڑھ رہی تھی یہ بھی مبشر کی خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں میں نے تو روتے دھوتے پری میڈیکل کیا تھا بس رٹے مار کر پاس ہو گئی تھی میرا رٹا اچھا تھا اس لیے نمبر بھی اچھے ا گئے تھے مگر دل کبھی اس طرف نہیں لگا تھا میں جس یونیورسٹی میں پڑھ رہی تھی وہاں ہاسپٹل بہت قریب تھا اس لیے ہمیں اکثر وہاں لے جایا جاتا مریضوں کے بارے میں بتایا جاتا مگر اس دن جو میں نے دیکھا اس نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا حالانکہ گائنوکالوجی میری فیلڈ بھی نہیں تھا مگر پھر بھی میں ڈر گئی اس واقعے کے بعد مجھے تین دن تک بخار رہا ہر بار انکھ بند کرتی تو وہی منظر سامنے ا جاتا وہ عورت کی چیخیں اس کا درد اور وہ فوجی کی اواز ہم فوجی فیملی پلاننگ نہیں کرتے

[3:49]مجھے ڈر لگنے لگا تھا کہ مبشر بھی ویسا ہی ہوگا اور پھر بچہ پیدا کرنا نہیں نہیں میں نے دل ہی دل میں کہا مجھے شادی نہیں کرنی مجھے کبھی بچہ نہیں چاہیے وقت گزرتا گیا مگر وہ خوف میرے اندر کہیں بیٹھ گیا چند ماہ بعد جب مبشر کی ٹریننگ ختم ہوئی اور وہ واپس ایا تو میں باغ میں پانی دے رہی تھی مجھے پودوں کے ساتھ وقت گزارنا پسند تھا شاید وہی ایک چیز تھی جو مجھے سکون دیتی تھی اچانک مجھے محسوس ہوا کہ کوئی مجھے دیکھ رہا ہے میں نے سر اٹھایا تو سامنے مبشر کھڑا تھا دو سال بعد میں اسے دیکھ رہی تھی وہ پہلے سے زیادہ مضبوط لگ رہا تھا اس کی شخصیت بدل چکی تھی اس نے مجھے دیکھا اور مسکرا کر کہا السلام علیکم سحرش میں نے بھی اہستہ سے جواب دیا وعلیکم السلام مگر میرے لہجے میں وہ پہلے والی اپنائیت نہیں تھی وہ کچھ لمحے مجھے دیکھتا رہا پھر بولا ادھر اؤ میرے پاس میں نے فورا نظریں جھکا لیں اور پانی دیتے ہوئے کہا مبشر بھائی اپ کو نظر نہیں ا رہا میں باغ میں پانی دے رہی ہوں میں نے جان بوجھ کے خود کو مصروف ظاہر کیا کیونکہ اب میں اس کے قریب جانے سے ڈرتی تھی کیونکہ اب میں صرف اسے نہیں دیکھتی تھی میں اس کے اندر ایک اور چہرہ دیکھتی تھی ایک فوجی کا چہرہ جس کی اواز اب بھی میرے کانوں میں گونجتی تھی ہم فوجیوں کی طاقت ہر عورت نہیں سہہ سکتی میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا اور میں نے پانی کا پائپ مزید مضبوطی سے پکڑ لیا میں نے نظریں جھکائے ہی کہا اب اپ اندر جائیں تائی ماں اپ کا انتظار کر رہی ہوں کی مگر جیسے ہی میں نے یہ جملہ مکمل کیا تو میں نے محسوس کیا کہ مبشر کے چہرے کے تاثرات بدل گئے ہیں اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے اور اگلے ہی لمحے اس کی اواز سنائی دی یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا میں تمہیں بلا رہا ہوں ادھر اؤ اور یہ بھائی بھائی کیا لگا رکھا ہے تم نے جانتی نہیں ہو نکاح ہو چکا ہے ہمارا میں باہر ٹریننگ کے لیے کیا چلا گیا اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ ہمارا نکاح ہی گڈا گڈی کا کھیل بن گیا ہوش میں رہ کر بات کیا کرو اس کا لہجہ یک دم گرجدار ہو گیا تھا اور میں واقعی گھبرا گئی تھی میں نے کبھی مبشر کو اس انداز میں بات کرتے نہیں دیکھا تھا اج تک وہ ہمیشہ نرمی سے بات کرتا تھا میرے نخرے اٹھاتا تھا اور اج وہی شخص میرے سامنے ایک بالکل مختلف روپ میں کھڑا تھا اس کے چوڑے وجود اور بدلے ہوئے انداز نے مجھے پہلی بار اس سے ڈرا دیا تھا میں بے اختیار اس کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی اور دھیمی اواز میں کہا جی کہیے اس نے مجھے غور سے دیکھا اور بولا دیکھو جب میں بلایا کروں تو شرافت سے ا جایا کرو مجھے اگے سے جواب دینے والی لڑکیاں بالکل پسند نہیں ہیں اس کا سخت لہجہ میرے دل کو لگا تھا مجھے اچھا نہیں لگا تھا کہ وہ مجھ سے اس طرح بات کرے میں نے کبھی ہمت کر کے کہہ دیا اپ مجھ سے کیسے بات کر رہے ہیں اپ کو پتہ ہے مجھے اس انداز میں بات سننے کی عادت نہیں ہے میں اپنے ماں باپ کی لاڈلی تھی اور بچپن سے مبشر ہمیشہ میرے نخرے اٹھاتا ایا تھا اس لیے اس کا یہ بدلا ہوا انداز میرے لیے ناقابل برداشت تھا اس نے میری بات سن کر ایک گہری سانس لی اور بولا میرے اسی لہجے کی عادت ڈالو اب میں کوئی عام انسان نہیں ہوں میں ارمی افیسر ہوں اور جانتی ہو ہماری زندگی کتنی سخت ہوتی ہے ہمیں لوگوں کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر ان کی جان نکالنے کا ہنر سکھایا جاتا ہے اس کے الفاظ سن کر میرے دل میں ایک انجانا سا خوف پھر سے جاگ اٹھا وہی لیبر روم والا منظر میرے سامنے گھوم گیا اور اس فوجی کی اواز میرے کانوں میں گونجنے لگی ہم فوجیوں کی طاقت ہر عورت نہیں سہہ سکتی میں نے بے اختیار اپنے ہاتھ مضبوطی سے اپس میں بھیج لیے مبشر نے پھر کہا چلو اندر جاؤ تمہیں پتہ ہے نا سردی کا موسم شروع ہونے والا ہے اور تمہیں ٹھنڈ ضرورت سے کچھ زیادہ ہی لگتی ہے ہر بار سردی انے سے پہلے تم بیمار ہو جاتی ہو وہ میری عادتوں سے اچھی طرح واقف تھا واقعی مجھے سردی بہت لگتی تھی اور نومبر شروع ہونے والا تھا ہوا میں خنکی بڑھ گئی راتیں ٹھنڈی ہو چکی تھیں دن ہلکے گرم تھے میں خاموشی سے اپنے پورشن میں ا گئی مگر میرے دل میں ایک عجیب سا بوجھ تھا کچھ دیر بعد مبشر بھی اندر ا گیا اور اس نے امی یعنی نورین بیگم کو سلام کیا خیرت دریافت کی امی تو اسے دیکھ کر خوشی سے نہال ہو گئی تھیں وہ ویسے بھی اپنی ارمی کی وردی میں بہت اچھا لگ رہا تھا پہلے سے کہیں زیادہ پرکشش اور بااعتماد اور اوپر سے میرا رشتہ بھی اس کے ساتھ تھا کچھ ہی دیر میں شائستہ بیگم بھی نیچے ا گئیں کیونکہ انہیں پتہ چل گیا تھا کہ مبشر اچانک ا گیا ہے کھانا سب نے ہمارے ہی گھر کھایا اور زیادہ تر امی نے ہی بنایا تھا جب میں ٹیبل پر بیٹھی تو میں نے محسوس کیا کہ مبشر جان بوجھ کر بات چھیڑ رہا ہے وہ کہنے لگا چچی اپ نے اتنا تکلف کیوں کیا امی مسکرا کر بولیں بیٹا کوئی بات نہیں دو سال بعد تو تم ائے ہو میں نے سب کچھ تمہاری پسند کا بنایا ہے پھر اس نے اچانک کہا چچی اس میں سے سحرش نے کیا پکایا ہے امی ہنسنے لگیں ارے اس کمی کو کیا اتا ہے سارا دن کتابیں ہی پڑھتی رہتی ہے اسے ابھی کھانا بنانا نہیں اتا مجھے امی کی بات بری لگی مگر میں خاموش رہی مبشر نے مجھے ایک نظر دیکھا اور بولا چچی اسے کھانا وانا سکھائیں کیونکہ میں پورے دو مہینے کی چھٹیوں پر ایا ہوں اور ان دو مہینوں میں مجھے رخصتی چاہیے اس کی بات سنتے ہی مجھے زور کا اچو ایا اور میں کھانسنے لگی امی نے فورا پانی دیا میں نے ایک گھونٹ پیا مگر میرے حلق میں جیسے کانٹے الگ گئے تھے میں فورا اٹھ کر وہاں سے چلی گئی پیچھے سے امی کی ہنسی سنائی دی شاید وہ سمجھ رہی تھیں کہ میں شرما گئی ہوں مگر حقیقت کچھ اور تھی اور کبھی امی کہہ رہی تھیں امی تو اس کی میڈیکل کی پڑھائی کبھی مکمل نہیں ہوئی اتنی جلدی شادی کیسے ہو سکتی ہے مگر مبشر نے کہا جتنی اچھی پڑھائی اپ کی بیٹی کرتی ہے مجھے سب پتہ ہے بمشکل پاس ہوتی ہے بس اپ اسے کھانا سکھائیں کیونکہ میری ڈیوٹی جوائن ہونے والی ہے پتہ نہیں ٹرانسفر کہاں ہو اور کب واپسی ہو اس لیے میں چاہتا ہوں کہ شادی ہو جائے پھر شائستہ بیگم نے بھی کہا کہ اب رخصتی کر دینی چاہیے یہ سب باتیں جب میرے کانوں تک پہنچیں تو میرے قدم جیسے ڈگمگا گئے مجھے پتہ چلا کہ مبشر تو پورے ارادے کے ساتھ ایا ہے یہاں تک کہ تاریخ بھی طے ہو چکی ہے ڈیڑھ مہینے بعد شادی ہے یہ سن کر میرے دل میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی میں نے فورا وہی سوچنا شروع کر دیا کہ جیسے مبشر بدل گیا ہے پہلے سے زیادہ سخت ہو گیا ہے کہیں شادی کے بعد وہ بھی ویسا ہی نہ ہو جیسا وہ فوجی تھا جو اپنی بیوی کو ہر سال بچہ پیدا کرنے پہ مجبور کرتا تھا یہ سوچتے ہی میرے پیٹ میں عجیب سی گرہیں پڑنے لگیں درد کی لہریں اٹھنے لگیں میری ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی پھیل گئی میرا دل بہت تیزی سے دھڑکنے لگا میں نے خود سے کہا نہیں نہیں میں بچہ پیدا نہیں کر سکتی مجھے بہت ڈر لگتا ہے اتنا درد میں کیسے برداشت کروں اور یہ فوجی یہ تو ادھی سب سے پہلے بچہ پیدا کرنے کی بات کرتے ہیں جب بھی یہ گھر ائیں گے انہیں یہی چاہیے ہوگا نہیں بابا نہیں میں یہ سب نہیں کر سکتی میں بری طرح گھبرا گئی تھی میرے ہاتھ ٹھنڈے ہو رہے تھے سانسیں تیز ہو رہی تھیں اور دل جیسے سینے سے باہر نکلنے کو تھا مجھے پہلی بار اپنی انے والی زندگی سے ڈر لگ رہا تھا اور میں خود کو اس خوف سے نکالنے کی کوئی راہ نہیں ڈھونڈ پا رہی تھی کمرے میں جلے پاؤں کی بلی بنی ہوئی تھی میں چکر کاٹ رہی تھی اور ساتھ ساتھ اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی کہ کسی طرح یہ رخصتی کینسل ہو جائے پھر میں نے اپنی والدہ سے کہا امی میری میڈیکل کی پڑھائی ابھی رہتی ہے میں بیچ میں اپنی پڑھائی نہیں چھوڑ سکتی مبشر بھائی کے ساتھ کیا مسئلہ ہے شادی کہاں سے بھاگی جا رہی ہے یا میں کہاں سے بھاگ رہی ہوں دو سال بعد شادی کر لیں میری بات سن کر امی نے جیسے ہی میرے منہ سے مبشر بھائی سنا تو میرے سر پہ ایک چپت ماری اور غصے سے بولیں جاہل لڑکی شوہر ہے تمہارا یہ نہ ہو کہ تم اسے بھی مبشر بھائی مبشر بھائی کہتی پھروں ایک تھپڑ لگا دے گا وہ تمہیں جانتی ہو نا اب وہ پہلے جیسا مبشر نہیں رہا یہ دو کلو کا ہاتھ ہے اس کا ایک تھپڑ بھی پڑ گیا نا تو تمہارے ہوش ٹھکانے ا جائیں گے امی نے مجھے ڈرانے کے لیے کہا مگر اب میں خود اس پہ غور کرنے لگی تھی کہ اس کا بھرا چوڑا سینہ اور باڈی بلڈرز جیسے مسلز میں نے خود کو ائینے میں دیکھا تو میں واقعی اس کے سامنے کچھ بھی نہیں لگ رہی تھی وہ مجھے کیسے سنبھالے گا میرے ذہن میں فورا وہی لیبر روم والا منظر ا گیا جہاں وہ عورت چیخ رہی تھی اور اس کا فوجی شوہر لمبا چوڑا کھڑا تھا اور چار سال میں چوتھا بچہ میرے دل کو جیسے جھٹکا لگا میں نے دل پہ ہاتھ رکھ کر لاحول ولا پڑھنا شروع کر دیا جیسے جیسے شادی کے دن قریب ا رہے تھے میری حالت خراب ہوتی جا رہی تھی شاپنگ ہو رہی تھی اور میں ہر وقت پریشان رہتی تھی پھر میری ایک دوست نے مجھے ایک عجیب سا واقعہ سنا دیا کہ جس فوجی کی بیوی کی ڈیلیوری میں نے دیکھی تھی اس کی بیوی کی موت ہو گئی کیونکہ اس کے شوہر نے چالیس دن پورے ہوتے ہی پرہیز نہیں کیا تھا اور وہ شدتیں برداشت نہ کر سکی یہ سن کر میرا خوف اور بھی بڑھ گیا مجھے لگا کہ جو اس عورت کے ساتھ ہوا وہی میرے ساتھ بھی ہوگا میں تو اندر سے بالکل ٹوٹ گئی کبھی میری بھوک ختم ہو گئی اور میں نے یونیورسٹی جانا بھی چھوڑ دیا میڈیکل کی پڑھائی مجھے بوجھ لگنے لگی کبھی اب امی مجھے باورچی خانے میں کھڑا کر دیتی تھیں اور کہتیں چلو مبشر کی پسند کے کھانے بنانا سیکھو میں باورچی خانے میں کھڑی ہو کر منہ بناتے ہوئے کہتی امی یہ بھی کوئی بات ہے میں کیوں سیکھوں وہ تو ٹریننگ میں جو ملتا ہے کھا لیتے ہیں اور میں تو اس سے اچھا پکا لیتی ہوں مگر امی میری ایک نہ سنتی وہ مجھے پلاؤ بنانے کا طریقہ سمجھا کر چلی جاتی اور میں سوچتی کہ شاید میں کچھ غلط بنا دوں تو مبشر شادی سے ہی انکار کر دے گا مگر یہ چال بھی ناکام ہو گئی بلکہ الٹا مجھے ڈانٹ پڑ گئی کہ تم کچھ بھی ٹھیک نہیں کر رہی ہو بہرحال میں نے سوچا کہ مجھے مبشر سے بات کرنی چاہیے اس لیے میں نے نہ وقت دیکھا نہ مناسب وقت کا خیال کیا رات کے تین بجے میں سیڑھیاں چڑھ کے اوپر گئی اس کا کمرہ سامنے تھا وہ اس وقت تہجد کی نماز کے لیے اٹھ چکا تھا ٹریننگ میں اس کی عادت بنی ہوئی تھی ٹھنڈے پانی سے نہا کر وہ نماز پڑھ چکا تھا اور ابھی لیٹنے ہی لگا تھا کہ دروازے پہ دستک ہوئی اس نے دروازہ کھولا تو مجھے سامنے دیکھ کر وہ حیران رہ گیا اس نے گھبرا کر پوچھا سحرش تم اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو میں اوپر تو ا گئی تھی مگر اسے دیکھ کر خود گھبرا گئی میں میں مجھے اپ سے بات کرنی ہے میں نے جھجکتے ہوئے کہا اس نے سخت لہجے میں کہا اس وقت کیا بات کرنی ہے بولو میں نے دل مضبوط کر کے کہا میں اپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی یہ سن کر وہ ایک لمحے کو خاموش رہ گیا اور پھر حیرت سے بولا شادی نہیں کرنا چاہتی شادی تو میری تم سے ہو چکی ہے میں نے فورا وضاحت دی میرا مطلب ہے رخصتی نہیں کرنا چاہتی میں اپ کے کمرے میں نہیں انا چاہتی

[16:02]اس نے مجھے گھور کر دیکھا اور پوچھا کیوں نہیں انا چاہتی اس کے سوال پہ میں نے جو جواب دیا وہ میری اپنی زبان سے بھی مشکل سے نکلا میں نے کہا مجھے ڈر لگتا ہے بچے پیدا کرنے سے مجھے درد سے ڈر لگتا ہے مجھے وہ سب نہیں چاہیے اس کی انکھوں میں ایک لمحے کو خاموشی ائی پھر وہ اہستہ سے بولا میں تو ایسے ہی کروں گا مجھے تو بچہ پیدا کرنے کے لیے ہی شادی کرنی ہے میں فیملی پلاننگ نہیں کروں گا ہر سال بچہ ہوگا اس کی بات سن کر میری ٹانگوں سے جان نکل گئی وہی خوفناک منظر میرے سامنے ا گیا میں روتی ہوئی اپنے کمرے میں ائی اور ساری رات ڈر کے مارے جاگتی رہی اس کے بعد میں نے مبشر کا سامنا کرنا تقریبا چھوڑ دیا

[16:55]دن تیزی سے گزرتے گئے اور پھر مہندی کا دن ا گیا میں پیلے جوڑے میں بیٹھی ہوئی تھی مگر میری حالت ایسی تھی جیسے جان نکل رہی ہو مبشر میرے پاس ا کر بیٹھ گیا میں فورا پیچھے ہٹ گئی وہ مجھے دیکھ کر مسکرایا اور بولا کیا بات ہے سحرش ڈر لگ رہا ہے میں نے اہستہ سے سر ہلا دیا اس نے نرمی سے کہا ہاں تو ڈر تو لگنا بھی چاہیے میں تمہیں دیکھ رہا ہوں تمہاری نازک سی جان اور میری شدتیں تم کیسے برداشت کرو گی اس کی یہ بات سن کر میرا دل اور زیادہ کانپ گیا وہ جھک کر میرے قریب ایا اور اہستہ سے بولا بس ایک رات ہے کل رات تم دلہن بن کر میرے کمرے میں ہوگی اس کی سرگوشی میرے کانوں میں اتر رہی تھی مجھے دل کی دھڑکن اتنی تیز محسوس ہو رہی تھی جیسے ابھی سینہ پھٹ جائے گا مبشر جان بوجھ کے میرے قریب بیٹھا تھا اور کان میں جھک جھک کر ایسی باتیں کہہ رہا تھا جن سے میری جان نکل رہی تھی مجھے تو ابھی سے تمہاری حالت دیکھ کے ڈر لگ رہا ہے کہیں تم بے ہوش ہی نہ ہو جاؤ اس کے لہجے میں عجیب سا مزہ تھا لیکن میرے لیے وہ مذاق نہیں تھا میرے اندر ایک خوف بیٹھتا جا رہا تھا میں نے بمشکل خود کو سنبھالتے ہوئے اس کی طرف دیکھا مگر میری اواز کپکپا رہی تھی میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی مجھے بچے پیدا نہیں کرنے کہ شاید میرے الفاظ سن کر اسے ترس ا جائے مگر وہ الٹا مسکرا دیا ارے ایسے کیسے ہوگا بیگم صاحبہ میں تو چاہتا ہوں میرے جڑواں جڑواں بچے ہوں اور میں انہیں ارمی میں بھیجوں بڑے بڑے خواب دیکھ رکھے ہیں میں نے تمہارے ساتھ اس کی باتیں میرے دل پہ بھاری پتھر کی طرح گر رہی تھیں اور میں مہندی کے فنکشن میں بھی چپ چاپ انسو صاف کر رہی تھی مجھے کچھ سمجھ میں نہیں ا رہا تھا کہ میں کیا کروں میں اندر سے ٹوٹ رہی تھی مہندی ختم ہوئی تو میں کسی طرح سے اپنے کمرے میں پہنچی مگر میرے دل کی گھبراہٹ ختم نہیں ہو رہی تھی اسی وقت اس کا فون بار بار بج رہا تھا مگر میں نے نہیں اٹھایا پھر اس کے میسجز انے لگے یار نیند نہیں ا رہی میرا بیڈ کاٹ کھانے کو دوڑ رہا ہے یہ کل کا دن کب ائے گا کب تم میرے پاس اؤ گی اور میں نے فورا موبائل بند کر دیا میرے ہاتھ ٹھنڈے ہو رہے تھے اور میں جلدی جلدی دعا پڑھنے لگی مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میرا دم گھٹ رہا ہو میں پڑھتے پڑھتے ہی نیند میں چلی گئی اگلے دن گھر میں افرا تفری تھی وقت کیسے گزرا مجھے کچھ پتہ نہیں چلا ادھا دن پارلر میں گزر گیا میں دلہن بنی تو واقعی خوبصورت لگ رہی تھی مگر میرے اندر کا خوف ختم نہیں ہو رہا تھا ہال میں پہنچ کر مجھے برائیڈل روم میں بٹھا دیا گیا ڈھول کی اوازیں سن کر میرا دل جیسے باہر ا رہا تھا کچھ دیر بعد مجھے سٹیج پر مبشر کے برابر بٹھا دیا گیا وہ مجھے دیکھ رہا تھا اور اس کی نظریں مجھ سے ہٹ نہیں رہی تھیں اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا جو ٹھنڈا پڑ چکا تھا مجھے لگ رہا تھا جیسے میری سانسیں رک رہی ہوں وہ میرے کان کے قریب ا کر بولا اج تو تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو مجھے نہیں لگتا اج میں تمہیں سونے دوں گا میں تمہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں اس کی باتیں میرے اندر خوف بڑھا رہی تھیں اور میرا چہرہ پہلے ہی زرد پڑ چکا تھا رخصتی کے وقت میں امی سے لپٹ کر بہت روئی حالانکہ مجھے صرف ایک کمرہ بدلنا تھا مگر میرے اندر عجیب سا ڈر تھا امی مجھے سمجھا رہی تھیں کہ بیٹا کیا ہو گیا تم تو دوسرے شہر میں بھی نہیں جا رہی ہیں لیکن مجھے خود بھی سمجھ نہیں ا رہا تھا کہ میں کیوں رو رہی ہوں مبشر خاموش کھڑا تھا مگر میں جانتی تھی وہ سب سمجھ رہا ہے اخر کار مجھے اس کے کمرے میں لے جایا گیا میں ایک کونے میں بیٹھ گئی اور میرا جسم کانپ رہا تھا تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور وہ اندر ایا اس کے چہرے پہ ایک سخت سا تاثر تھا جیسے وہ جان بوجھ کے اپنے اپ کو بدل رہا ہو وہ ا کر میرے سامنے بیٹھ گیا میں فورا پیچھے ہٹ گئی اس نے مجھے دیکھا اور بولا دیکھو میں غصے کا بہت تیز ہوں میری کسی بات پہ اختلاف نہ کرنا ورنہ میں برداشت نہیں کرتا اور جانتی ہو ہم ارمی والے اپنی ٹینشن بیویوں پہ نکالتے ہیں اس کی باتیں میرے اندر خوف کی دیواریں کھڑی کر رہی تھیں میں نے ہاتھ پیچھے کرنے کی کوشش کی مگر اس نے میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا میرے ہاتھ برف کی طرح ٹھنڈے ہو گئے تھے وہ بولا تم نے خود ہی کہا تھا کہ بچے نہیں چاہئیں لیکن میں چاہتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ تم میرے بچوں کی ماں بار بار بنو بار میری انکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا مجھے لگا جیسے میں گر جاؤں گی اور پھر سب کچھ گھومنے لگا میری ٹانگوں سے طاقت ختم ہو گئی اور میں اہستہ اہستہ اس کی گرفت میں بے ہوش ہو گئی میں کب سے سانس روکے مبشر کی باتیں سن رہی تھی مگر اس کی باتوں نے مجھے اتنا خوفزدہ کیا کہ میری ٹانگوں سے جان نکلنے لگی اور پھر میں واقعی بے ہوش ہو گئی مجھے نہیں پتہ میں کتنی دیر ایسے ہی پڑی رہی لیکن جب میری انکھ بند تھی تو مجھے مبشر کی گھبرائی ہوئی اوازیں سنائی دے رہی تھیں عروش کیا ہوا ہے تمہیں وہ میرے رخسار تھپتھپا رہا تھا مگر میں ہوش میں نہیں ا رہی تھی شاید میری حالت اس کے مذاق سے زیادہ خراب ہو چکی تھی اس نے ایک دم گھبرا کے کہا شٹ عروش مجھے نہیں پتہ تھا تم اتاری ایکٹ کرو گی وہ تیزی سے کمرے سے باہر گیا اور پانی لے کر ایا اور میرے چہرے پہ چھینٹے مارنے لگا مگر میں پھر بھی ہوش میں نہیں ا رہی تھی پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر نبض دیکھی اور کچھ دیر خاموش رہا اس نے گہری سانس لی اور شاید سمجھ گیا کہ میں ٹھیک ہوں بس خوف کی وجہ سے بے ہوش ہوئی ہوں اس نے اہستہ سے میرے زیورات اتارے اور دراز میں رکھ دیے میرا بھاری عروسی لباس مجھے مزید بے چین کر رہا تھا اس لیے اس نے احتیاط سے میرا دوپٹہ اور کچھ پنز ہٹائے اور مجھے ارام سے سیدھا کیا پھر وہ میرے قریب ہی بیٹھ گیا اور اہستہ سے مجھے دیکھنے لگا کچھ دیر بعد وہ وہیں لیٹ گیا میرا سر اس کے قریب تھا مگر میں تب بھی بے خبر تھی صبح جب میری انکھ کھلی تو مجھے اپنے کندھے پہ کسی کا وزن محسوس ہوا میں نے دھیرے سے انکھیں کھولیں تو مبشر میرے اتنے قریب تھا کہ میں گھبرا کر ایک دم پیچھے ہٹ گئی میری اس حرکت سے اس کی بھی انکھ کھل گئی اس نے مجھے دیکھ کر کہا توبہ ہے لڑکی میری رات برباد کر دی تم نے میں نے کیا کچھ نہیں سوچا تھا تمہیں میرا ہاتھ اس نے اہستہ سے میری گردن کے قریب رکھا اور انگلیاں ہلانے لگا میں پھر سے کانپ گئی اور منمناتے ہوئے کہا اب اپنا ہاتھ پیچھے کریں ایسے کیسے کروں پیچھے میری بیوی ہو میں نے تم سے شادی اس لیے نہیں کی کہ دور رہوں اس کی باتیں مجھے مزید گھبرا رہی تھیں اس نے اہستہ سے مجھے قریب کیا اور کہا ارے بھئی تمہیں کیا لگا تھا شادی ہو گئی ہے تو سب ختم اب تو اصل زندگی کی شروع ہوئی ہے میں تم سے دور کیسے رہوں گا میں نے اپنے ہاتھ اس کے سینے پہ رکھ کر اسے پیچھے کرنے کی کوشش کی مگر وہ زیادہ مضبوط تھا اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے اور قریب کر لیا میں گھبرا کر بولی میرا دم گھٹ رہا ہے میں مر جاؤں گی ابھی سے مرنے کی باتیں ابھی تو کچھ بھی نہیں ہوا اس کی بات سن کر میری سانس رکنے لگی مگر اسی وقت دروازے پہ دستک ہو گئی وہ فورا مجھ سے دور ہٹا اور میں نے پہلا سکون کا سانس لیا وہ غصے میں بولا شٹ اس وقت کون ہے باہر سے اواز ائی حمدان بیٹا ناشتہ تیار ہے تیار ہو جاؤ میں فورا کپڑے بدلنے چلی گئی اور وہ پیچھے سے مجھے دیکھتا رہا اور بولا اج تو بچ گئی ہو مگر رات کو اگر بے ہوش بھی ہو گئی تو بھی تمہیں نہیں چھوڑوں گا میں اس کی بات سن کر میں اور بھی گھبرا گئی اور جلدی سے کمرے سے نکل گئی ناشتے کے بعد میں سارا وقت امی کے پاس بیٹھی رہی کیونکہ مجھے مبشر کے اشارے سمجھ میں ا رہے تھے کہ وہ مجھے کمرے میں بلانا چاہتا ہے مگر میں اس سے بچ رہی تھی رات کو ولیمے کے بعد جب میں دوبارہ کمرے میں ائی تو میرے اندر پھر وہی خوف ا گیا وہ پہلے سے وہاں بیٹھا تھا مجھے دیکھ کر مسکرایا اور بولا اج تو کل سے زیادہ خوبصورت لگ رہی ہو میں نے کوئی جواب نہیں دیا وہ میرے قریب ایا اور اہستہ سے بولا اب کیوں ڈر رہی ہو تمہیں کھا تو نہیں جاؤں گا مگر اس کی انکھوں میں وہی شرارت تھی جس سے میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا اس نے میرے قریب بیٹھ کر میرا ہاتھ پکڑا اور کہا سحرش میری بات سنو میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں دوں گا بس تمہیں سمجھنا ہوگا کہ اب ہم ایک رشتے میں ہیں میں بہت نروز تھی میں نے کہا مجھے بچہ نہیں چاہیے مجھے بہت ڈر لگتا ہے اس نے میری بات سن کر اہستہ سے کہا کچھ بھی نہیں ہوگا سب عورتیں کرتی ہیں تم بھی کر لو گی اس نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی مگر میرا خوف ختم نہیں ہو رہا تھا میں نے سر جھکا لیا وہ میرے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگا بس ارام سے رہو سب ٹھیک ہو جائے گا گھنٹوں وہ مجھے سمجھاتا رہا اور اخر کار میں خاموش ہو گئی مگر اندر سے ابھی بھی کانپ رہی تھی پھر اس رات اس نے مجھے بہت نرمی سے اپنے قریب رکھا مجھے کسی بھی طرح کی تکلیف نہیں ہونے دی مگر میرا دل ابھی بھی بے چین تھا اگلی صبح میری انکھ کھلی تو میں اس کے پہلو میں تھی اور اس کا ہاتھ میری کمر پہ تھا میں گھبرا کر ہٹنے لگی تو اس نے انکھیں کھول کر مجھے دیکھا اور مسکرا کر بولا اتنی بھی کیا جلدی ہے سحرش میں نے خود کو سنبھال کے کہا نو بج رہے ہیں وہ ہنس پڑا اور بولا میں نے امی سے کہہ دیا ہے کہ اج ہم لیٹ اٹھیں گے اب مجھے بھی وقت دو میں پھر سے اس سے دور ہونے لگی تو اس نے میری کلائی پکڑ کر مجھے اپنی طرف کھینچ لیا اور میں سیدھا اس کے سینے سے جا لگی وہ اہستہ سے بولا تم بہت بھاگتی ہو لیکن اج نہیں وہ پھر میرے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا سحرش میں ارمی افیسر ہوں تم سے ہار نہیں مانتا اور تم میری وائف ہو اب تمہیں میری عادت ڈالنی ہوگی میں اس کی بات سن کر مزید گھبرا گئی اور کچھ نہیں بولی بس اس کے سینے سے لگی رہی مگر میرا دل ابھی بھی زور زور سے دھڑک رہا تھا شادی کو تین ماہ گزر چکے تھے اس روز میں اپنے کمرے میں بیٹھی اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی کہ مبشر کی کال ا گئی اس کی اواز میں غصہ بھی تھا اور بے چینی بھی تھی میں نے فون کان سے لگایا تو وہ فورا بول پڑا تمہیں ذرا شرم نہیں اتی سحرش تین دن سے تم نے کوئی بات نہیں کی میں یہاں بارڈر پہ بیٹھا تمہاری فکر میں پاگل ہو رہا ہوں اور تمہیں کوئی پرواہ ہی نہیں ہے اس کی بات سن کر میرا دل زور سے دھڑکا اور میں گھبرا گئی میں نے کہا میں ٹھیک نہیں ہوں مجھے بہت مسئلہ ہو رہا ہے

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript