[0:00]افسوس سر سے بیٹے کا سایہ چلا گیا افسوس سر سے بیٹے کا سایہ چلا گیا افسوس سر سے بیٹے کا سایہ چلا گیا بے فکر زندگی کا سہارا چلا گیا بے فکر زندگی کا سہارا چلا گیا رونق تھی جس کے دم سے اس کے مکان میں رونق تھی جس کے دم سے اس کے مکان میں یعنی وہ برکتوں کا خزانہ چلا گیا یعنی وہ برکتوں کا خزانہ چلا گیا افسوس سر سے بیٹے کا سایہ چلا گیا بے فکر زندگی کا سہارا چلا گیا افسوس سر سے بیٹے کا سایہ چلا گیا بے فکر زندگی کا سہارا چلا گیا ماں کے جگر سے پوچھیے آتی ہے یہ صدا ماں کے جگر سے پوچھیے آتی ہے یہ صدا گلشن اجاڑ کر میرا بیٹا چلا گیا گلشن اجاڑ کر میرا بیٹا چلا گیا افسوس سر سے بیٹے کا سایہ چلا گیا بے فکر زندگی کا سہارا چلا گیا افسوس سر سے بیٹے کا سایہ چلا گیا بے فکر زندگی کا سہارا چلا گیا ماں کے جگر سے پوچھیے آتی ہے یہ صدا ماں کے جگر سے پوچھیے آتی ہے یہ صدا گلشن اجاڑ کر میرا بیٹا چلا گیا گلشن اجاڑ کر میرا بیٹا چلا گیا افسوس سر سے بیٹے کا سایہ چلا گیا بے فکر زندگی کا سہارا چلا گیا رونق تھی جس کے دم سے اس کے مکان میں رونق تھی جس کے دم سے اس کے مکان میں یعنی وہ برکتوں کا خزانہ چلا گیا یعنی وہ برکتوں کا خزانہ چلا گیا افسوس سر سے بیٹے کا سایہ چلا گیا بے فکر زندگی کا سہارا چلا گیا افسوس سر سے بیٹے کا سایہ چلا گیا بے فکر زندگی کا سہارا چلا گیا ماں کے جگر سے پوچھیے آتی ہے یہ صدا ماں کے جگر سے پوچھیے آتی ہے یہ صدا گلشن اجاڑ کر میرا بیٹا چلا گیا گلشن اجاڑ کر میرا بیٹا چلا گیا تیرے گلشن کا ایک پھول میں بھی تھا ماں تیرے گلشن کا ایک پھول میں بھی تھا ماں کرکے ظالم ستم ہم کو مرجھایا ماں
[6:01]میری ہر اک ادا تجھ کو یاد آئے گی تیرے آنکھوں سے آنسو بہا جائے گی
[6:18]تیرے آنکھوں سے آنسو بہا جائے گی پر تو اس پر صبر کرنا ہر دم سدا
[6:36]کر کے ظالم ستم ہم کو مرجھایا ماں فانی دنیا ہے یہ فانی سب کچھ یہاں
[6:54]جانا سب کو یہاں سے ہے ایک دن وہاں بے نہ رب کو جواب اپنے اعمال کا
[7:11]کر کے ظالم ستم ہم کو مرجھایا ماں موت برحق ہے سب کو تو آتی ہے یہ
[7:30]موت کا جو مزہ سب کو چکھنی ہے یہ میرے خاطر خدا سے تو کرنا دعا
[7:49]کر کے ظالم ستم ہم کو مرجھایا ماں میری ماں تجھ کو ہمت صبر کی وہ دے
[8:05]اور تجھ کو وہ بہتر صلہ بھی تو دے آنی جانی ہے دنیا یہی فلسفہ
[8:23]کر کے ظالم ستم ہم کو مرجھایا ماں کیوں جان لے لی ظالم حافظ سبحان کی
[8:41]جس کو ملی تھی دولت و عظمت قرآن کی کیوں کر رہے ہیں قتل درندے ہمارے لال
[8:58]ان کی نظر میں کچھ نہیں قیمت ہے جان کی عبدو سبحان لوگوں شہیدوں کا پھول ہے
[9:15]اس کو ملی ہے زندگی عزت کی شان کی گزری نہ ان کی عمر کبھی آہ نہ بان کی



