[0:00]راولپنڈی کی ہواؤں میں آج کچھ مختلف تھا۔ ایک جوش تھا، جذبہ تھا۔ لوگ اپنے لیڈر کی تقریر سننے کے لیے جمع ہو رہے تھے۔ خاموشی اتنی تھی کہ لگتا نہیں تھا ہزاروں لوگوں کا مجمع اکٹھا ہو چکا ہے۔ لیکن اس خاموشی کے بیچ ایک طوفان جنم لے رہا تھا۔ وہ اسٹیج پر آئے، اپنے مخصوص انداز میں ابھی دو لفظ ہی ادا کیے تھے۔
[0:33]برادران ملت یہ جملہ مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ اس نے اپنا کام کر دکھایا۔
[0:46]گولیوں کی دو آوازیں آئی اور سب کچھ ختم ہو گیا۔ قائد کا جانشین اپنی ہی سرزمین پر اپنے ہی خون میں لت پت تھا۔ اور پھر مزید گولیوں کی آوازیں ایک کے بعد دوسری گولی فائر ہونے کی آواز اور قاتل کو موقعے پر ہی مار دیا گیا۔ کیوں؟ کیا کوئی سپاہی جذبات سے بے قابو ہو گیا تھا یا پھر کوئی ایسا تھا جو کچھ چھپانا چاہ رہا تھا۔ یہ صرف ایک قتل نہیں تھا، ایک پزل تھا ایک ایسا معمہ جس کے تانے بانے واشنگٹن سے ماسکو، کابل سے دلی بلکہ خود پاکستان کے پاور کوریڈورز تک بھی جاتے تھے۔ کیونکہ جس نے بھی قاتل کا پتا چلانا چاہا اس کا انجام موت بنا۔ آخر انہیں کیوں قتل کیا گیا؟ کیا وہ انٹرنیشنل پاورز کے گیم کا نشانہ بنے یا انہیں ملک کی نظریاتی روح کی حفاظت کرنے کی سزا دی گئی؟ یہ راز تو شاید کبھی نہیں کھلے گا لیکن اگر آپ نے سمجھنا ہے تو ہمیں اس شخص کو سمجھنا ہوگا جو پاکستان کا پہلا محافظ تھا۔ قائد ملت، شہید ملت لیاقت علی خان۔
[1:57]اس کہانی کا آغاز ہوتا ہے ہندوستان کی ایک ریاست کرنال سے جہاں 1895 میں ایک نواب خاندان میں ایک بچہ پیدا ہوا نام رکھا گیا نوابزادہ لیاقت علی خان۔ اس بچے کے لیے دنیا کا ہر آرام، ہر سکون، ہر سہولت موجود تھی۔ والد بہت بڑے جاگیردار تھے۔ زمینیں میلوں تک پھیلی ہوئی تھیں۔ انفلوئنس تھا، پاور تھی اور زندگی کا راستہ بالکل کلیئر تھا۔ آکسفورڈ سے تعلیم، والد کی جاگیر سنبھالنا اور برٹش راج کے وفادار نواب کی طرح ایک لگژری لائف گزارنا۔ لیاقت علی خان کو بہتر ایجوکیشن ملی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن اور اس کے بعد انگلینڈ میں آکسفورڈ سے قانون کی ڈگری۔ سب آپشنز کھلے تھے۔ چاہتے تو انگلینڈ میں رہ کر ایک کامیاب وکیل بنتے یا واپس آ کر اپنی جاگیر سنبھالتے۔ لیکن ان کے دل میں تو کچھ اور ہی چل رہا تھا۔ سمجھیں ایک آگ لگی ہوئی تھی۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے مستقبل کی آگ۔ 1923 میں جب وہ ہندوستان واپس آئے تو ہر روایت ہر ٹریڈیشن کو توڑ ڈالا اور شامل ہوگئے آل انڈیا مسلم لیگ میں جو تب ہندوستان میں مسلم رائٹس کی سب سے بڑی آواز تھی۔ یہ بہت بڑا فیصلہ تھا خصوصاً ایک نوابزادے کے لیے جن کا خاندان انگریزوں کا وفادار تھا۔ لیکن بیٹا ایسی پارٹی میں شامل ہو گیا جو برٹش راج کو چیلنج کر رہی تھی۔ سمجھیں یہ ایک بغاوت تھی۔ اور اس زمانے میں بغاوت بہت ضروری تھی۔ بہر حال دنیا آگے بڑھتی رہی اور 40s میں حالات بدل گئے۔ پاکستان کا آئیڈیا دماغوں سے نکل کر زبانوں پر اور اب زبان سے آگے بڑھ کر کاغذ پر آ چکا تھا۔ لیکن تب تک قائد اعظم محمد علی جناح اچھی طرح جان چکے تھے کہ وہ ایک بکھری ہوئی فوج کے لیڈر ہیں۔ مسلم لیگ ایک سیاسی پارٹی سے زیادہ پاور فل جاگیرداروں اور صوبائی لیول پر بڑے ناموں کا ایک الائنس تھی جن میں سے ہر شخص کی اپنی پرسنل امپائر تھی اور اس کی اپنی لوئیلٹیز تھیں۔ جیسے بنگال میں حسین شہید سہروردی تھے۔ ایک کریزمیٹک لیکن ایسے ان ریلائیبل لیڈر جن کے اپنے خواب تھے۔ پنجاب جو پاکستان کا دل بنا تھا، یونینسٹ پارٹی کے وفادار جاگیرداروں کا گڑھ تھا جو مسلم لیگ کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ سمجھیں قائد ایک ایسے سپریم کمانڈر تھے جن کی فوج کے جرنیل آپس ہی میں لڑ رہے تھے۔ یہاں انہیں ایسے چیف آف اسٹاف کی ضرورت تھی جو اس فوج میں ڈسپلن قائم کرے۔ ایسا بندہ جس پر وہ آنکھیں بند کر کے بھروسہ کر سکیں۔ اور یہیں پر پاکستان کی ہسٹری کی سب سے بڑی پہیلی نے جنم لیا۔ قائد اعظم نے ہر پاورفل لیڈر کو چھوڑ کر لیاقت علی خان کو چن لیا۔ لیکن کیوں؟ ایسا نوابزادہ جن کا اپنا کوئی گڑھ نہیں جو سہروردی کی طرح دھواں دار تقریریں کرنے والا نہیں جو پنجاب کے جاگیرداروں جیسی پاور نہیں رکھتا لیکن پھر بھی لیاقت علی؟ کیوں؟ یہاں آپ قائد کے ویژن کو دات دیں۔ اس کی پہلی وجہ یہ تھی کہ لیاقت علی خان آؤٹ سائیڈر تھے۔ ان کا تعلق یو پی سے تھا۔ اس لیے وہ پنجاب، بنگال یا سندھ کی دھڑے بندیوں سے بالاتر تھے۔ وہ کسی کے آدمی نہیں تھے۔ وہ صرف لیگ کے آدمی تھے۔ پھر ایک اور وجہ بھی ہے۔ سیاست میں موجود ہر شخص کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ اس کی کچھ اپنی خواہشیں بھی ہوتی ہیں لیکن لیاقت علی خان کی ایک ہی خواہش تھی جناح کا ویژن۔ ایک ایسے وقت میں جب ہر شخص اقتدار کا بھوکا تھا لیاقت علی خان کی سب سے بڑی طاقت یہ تھی کہ انہیں کسی چیز سے غرض نہیں تھی۔ وہ سیلف لیس آدمی تھے اور پاکستان کو ایسے ہی بندے کی ضرورت تھی۔ ایک اور وجہ، وہ ایک خاموش آدمی تھے۔ جب دوسرے لیڈرز عوام میں تقریریں کر کے تالیاں بٹور رہے تھے۔
[5:49]لیاقت علی بیک گراؤنڈ میں اپنا کام کر رہے تھے۔ وہ سارے کام جو نان گلیمرس تھے جو کوئی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اور پھر آل انڈیا کانگریس نے اپنا سب سے بڑا جال بچھا دیا۔ 1946 کے الیکشن کے بعد جب انڈیا میں عبوری حکومت بنی تو سردار ولبھ بھائی پٹیل نے بڑی چالاکی سے فنانس منسٹری مسلم لیگ کو آفر کر دی۔ یہ بہت ہی خطرناک آفر تھی۔ سمجھیں زہر کا پیالہ تھا۔ کیونکہ اتنی مشکل اور کمپلیکس منسٹری چلانے میں ناکامی کا مطلب تھا مسلم لیگ کسی کام کی نہیں۔
[6:24]ان میں کوئی صلاحیت، کوئی کیپبلٹی نہیں۔ سمجھیں یہ ایک چیلنج تھا اور قائد اعظم نے یہ چیلنج قبول کیا اور اپنے سب سے قابل بندے کو میدان میں اتار دیا۔ جی ہاں لیاقت علی خان کو۔ اور پھر انہوں نے جو کیا وہ کانگریس نے خوابوں میں بھی نہیں سوچا ہوگا۔ وہ تو سمجھ رہے تھے کہ یہ لیگی کچھ نہیں کر سکتے لیکن مسلم لیگ نے ایک ایسا بجٹ بنا کر پیش کر دیا جس نے کانگریس کی چولیں ہلا دیں۔ لیاقت علی خان نے جو بجٹ پیش کیا اسے تاریخ میں پوئرمینس بجٹ کہا جاتا ہے۔ ایک ایسا بجٹ جس کا ٹارگٹ اصل میں امیر آدمی تھا۔ انہوں نے کانگریس کی بنیادوں پر ڈائریکٹ اٹیک کر دیا۔ کیونکہ تب بڑے بڑے انڈسٹریلسٹ کانگریس کے فائنسرز تھے۔ جیسے برلا اور ٹاٹا وغیرہ۔ ان پر بھاری ٹیکس لگا دیا گیا۔ پھر ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے کانگریس پارٹی کو وزارت خزانہ کا منہ دیکھنا پڑتا۔ تب انہیں اندازہ ہوا کہ ان سے بڑی غلطی ہو چکی ہے۔ لیاقت علی خان نے اپنا سیاسی ماسٹر اسٹروک کھیلا اور کانگریس کو اندر سے توڑ دیا۔ ایک طرف کانگریس کے امیر حامی چیخ اٹھے تو دوسری طرف بجٹ نے غریبوں اور کسانوں کو ریلیف دے کر مسلم لیگ کو ان کا ہیرو بنا دیا۔ کانگریس بری طرح پھنس گئی۔ اگر بجٹ کی مخالفت کرتی تو غریب دشمن کہا جاتا اور قبول کرتی تو اپنے ہی فائنسرز کو تباہ کر دیتی۔ اس سے بھی بڑھ کر ایک بات کانگریس کو اچھی طرح سمجھ آ گئی۔ کہ وہ مسلم لیگ کے ساتھ تو بالکل کام نہیں کر سکتی۔ یوں لیاقت علی خان کے ایک بجٹ نے متحدہ ہندوستان کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی۔ پاکستان کا راستہ اب بالکل صاف تھا۔ اور پھر 14 اگست 1947 کا دن آ گیا۔ دنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک ابھرا۔ پاکستان۔ اور اس نئی ریاست کے آرکیٹیکٹ تھے دو لوگ قائد اعظم محمد علی جناح اور پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان۔ اور دونوں کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان شروع ہو گیا۔ ایک کے بعد دوسرا چیلنج۔ لاکھوں مہاجرین ملک میں آ رہے تھے۔ انہیں آباد کرنے کا مسئلہ۔ ملک فائنینشلی زیرو تھا۔ اسے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا مسئلہ۔ کشمیر میں جنگ شروع ہو چکی تھی۔ وہاں لڑنے کا مشکل ترین فیصلہ۔ ایک کے بعد ایک مصیبت کھڑی ہو رہی تھی۔ اور پھر قائد اعظم کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔ پاکستان یتیم ہو گیا لیاقت علی خان اکیلے رہ گئے۔ کشتی طوفاں کی زد میں تھی اور وہ اکیلے کپتان تھے۔
[8:49]11 ستمبر 1948 کی اس رات لیاقت علی خان اکیلے رہ گئے۔ ایک سے بڑھ کر ایک چیلنج تھا جو سامنے منہ کھولے کھڑا تھا۔ تاریخ کی سب سے بڑی اور سب سے خونی ہجرت ہو رہی تھی۔ لاکھوں لوٹے پوٹے، بے حال، زخمی اور بھوکے مسلمان پاکستان آ رہے تھے۔ جنہیں آباد کرنا پاکستان کیا دنیا کے کسی ملک کے بس کی بات نہیں تھی۔ لیکن لیاقت علی کی ایک اپیل پر پوری قوم نے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیے اپنی روٹی آدھی کر لی اور مہاجر بھائیوں کو گلے لگا لیا۔ یہ حکومت کی نہیں، لیاقت علی خان کی نہیں، سمجھیں پوری قوم کی مشترکہ کامیابی تھی۔ دوسرا مسئلہ تھا خالی خزانہ۔ پاکستان بن تو گیا تھا لیکن حقیقت یہ تھی کہ جیب میں کچھ نہیں تھا۔ جب پہلا بجٹ بنایا گیا تو حالت یہ تھی کہ سرکاری ملازمین کو تنخواہ دینے کے پیسے نہیں تھے۔ ملک کا بٹوارہ ہوا تھا، اثاثوں کا بھی بٹوارہ ہونا تھا لیکن بھارت نے پاکستان کے حصے کے 55 کروڑ دینے سے انکار کر دیا۔ صرف اس لیے کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ پاکستان پیدا ہوتے ہی دم توڑ جائے۔ اس نے ایکونومیکلی ہی نہیں ملٹریلی بھی پاکستان کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ جوناگڑھ اور حیدر آباد پر قبضہ کر لیا۔ کشمیر میں فوجیں اتار دیں اور پاکستان کو ایک دو راہے پر پہنچا دیا۔ اب کیا ہوگا؟ ایک ملک جس کے پاس نہ فوج تھی، نہ پورے ہتھيار، نہ وردی اور نہ ہی کوئی کمانڈ اسٹرکچر وہ اپنی شہ رگ کیسے دشمن کے ہاتھ میں چھوڑ دے؟ لیکن لیاقت علی خان نے یہاں ایک زبردست فیصلہ کیا۔ قبائلیوں اور رضاکاروں کو کشمیر کی آزادی کے لیے بھیجا اور پھر انٹرنیشنل فورمز پر بھی مسئلہ کشمیر کو اٹھایا۔ یہ انہی کی کوشش تھی کہ بالاخر اقوام متحدہ نے کشمیر میں ریفرنڈم کروانے کا حکم دیا۔ وہ قراردادیں منظور کیں جو آج بھی بھارت کے قبضے کے خلاف سب سے بڑا ثبوت ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا بحران لیاقت علی خان ملک کو ہر طوفان سے نکال لائے لیکن ایک چوتھا اور شاید سب سے بڑا طوفان بھی اٹھ رہا تھا۔ ایک ایسا طوفان جس کا مقابلہ ہتھیاروں سے نہیں نظریات سے کرنا تھا۔ آئیڈیالوجیز سے کرنا تھا۔ لیاقت علی کو فیصلہ کرنا تھا کہ اس دنیا میں پاکستان کس کے ساتھ ہوگا۔ سرخ ریچھ کے ساتھ یا امریکن ایگل کے ساتھ۔ ایک ایسا فیصلہ جو پاکستان کی تقدیر بدلنے والا تھا۔
[11:15]قائد اعظم کی وفات اور لیاقت علی خان کی پاکستان کو بچانے کی جنگ یہ تو چل ہی رہا تھا لیکن اس زمانے میں دنیا میں ایک اور خطرناک طوفان اٹھ رہا تھا۔ کولڈ وار یعنی سرد جنگ۔ دو سپر پاورز، دو ایٹمی طاقتیں، دو مخالف آئیڈیالوجیز پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھیں۔ ایک طرف امریکہ کا کیپیٹلزم اور دوسری طرف روس کا کمیونزم۔ یہ ایک ایسا کھیل تھا جس میں نیوٹرل رہنا تو سمجھیں کسی بھی ملک کے لیے خودکشی تھی۔ خاص طور پر پاکستان جیسے ملک کے لیے جو نیا بھی تھا، غریب بھی اور دفاعی لحاظ سے بہت کمزور بھی۔ لیاقت علی خان جانتے تھے کہ انہیں کسی ایک پاور کو چوز کرنا ہوگا۔ انہیں کسی ایک کا ہاتھ پکڑنا ہوگا۔ لیکن کس کا؟ یہ تھا سب سے بڑا سوال۔ پہلی آفر آئی سوویت یونین سے 1949 میں اس نے لیاقت علی خان کو ماسکو آنے کی دعوت دی۔ یہ ایک بہت بڑا اور ان ایکسپیکٹڈ اعلان تھا۔ پاکستان کے اندر لیفٹ کی پارٹیز، ترقی پسند ادیب اور سوشلسٹ تو سمجھیں خوشی سے جھوم اٹھے۔ ان کے لیے تو یہ ایک ریولوشنری الائنس تھا۔ وہ تو چاہتے تھے کہ پاکستان امریکہ کے سامراجی کیمپ میں نہ جائے اور مزدوروں اور کسانوں کے نجات دہندہ سوویت یونین کا دوست بن جائے۔ لیکن لیاقت علی خان کی سوچ مختلف تھی۔ وہ صرف ایک سیاستدان نہیں تھے پاکستان کے آئیڈیالوجیکل فاؤنڈر بھی تھے۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ صرف ایک دورا نہیں ہوگا۔ پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ ایک طرف سوویت یونین تھا ایسی ریاست جو خدا سے انکاری تھی۔ جو مذہب کو عوام کے لیے افیون سمجھتی تھی۔ جس نے اپنے ہی ملک میں لاکھوں مسلمانوں کی مسجدوں پر تالے لگا دیے۔ سنٹرل ایشیا کے مسلم علاقوں کی بخارا اور سمرقند جیسے عظیم شہروں کی اسلامک آئیڈینٹی کو بری طرح کچل دیا تھا۔ کیا لیاقت علی خان کو اس طرف جانا چاہیے تھا؟ ابھی کچھ مہینے پہلے ہی تو لیاقت علی خان نے قرارداد مقاصد منظور کی تھی۔ ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی تھی جہاں حاکمیت صرف اللہ تعالی کی ہے۔ راستہ بالکل کلیئر تھا۔ آپشن بالکل واضح تھا۔ ایک ایسا ملک جو دنیا کی پہلی اسلامک ریپبلک بن چکا ہو وہ ایک خدا بیزار سپر پاور کا اتحادی نہیں بن سکتا تھا۔ یہ ایک نظریاتی خودکشی ہوتی۔ اس لیے انہوں نے فیصلہ کر لیا۔ وہ فیصلہ جو بالکل عقل کے مطابق تھا۔ انہوں نے سوویت یونین کے بجائے امریکہ کا دعوت نامہ قبول کر لیا۔ اور مئی 1950 میں امریکہ کا تاریخی دورہ کیا۔ مخالف آج بھی اس دورے کو پاکستان کی غلامی کا اسٹارٹ کہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ لیاقت علی خان نے پاکستان کو امریکی کیمپ میں بھیج دیا۔ لیاقت علی خان نے امریکہ کو صرف فوجی امداد کے لیے نہیں چنا تھا بلکہ ایک ایسے اتحادی کے طور پر چنا تھا جس کا نظریاتی دشمن ایک ہی تھا یعنی کمیونزم۔ امریکن کانگریس میں تقریر کرتے ہوئے لیاقت علی خان نے صاف کہا ہم یہاں بھیک مانگنے نہیں آئے۔ ہم دو آزاد اور خود مختار قوموں کے درمیان دوستی کا رشتہ قائم کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے امریکہ پر واضح کر دیا کہ پاکستان کسی کا غلام نہیں بنے گا۔ انہوں نے کوریا کی جنگ میں اپنی فوج بھیجنے کا پروپوزل ریجیکٹ کیا اور اسرائیل کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کیا۔ بلکہ اپنا وہ مشہور جملہ بھی کہا جینٹلمین! اور سول از ناٹ فار سیل۔
[14:37]آپ کیا سمجھتے ہیں یہ فیصلہ آسان تھا؟ بہت سمپل تھا؟ نہیں بالکل نہیں۔ سمجھیں یہ ایک جوا تھا جس نے پاکستان کو ویسٹ کے بلاک کا حصہ تو بنا دیا مگر سوویت یونین اور پاکستان کے اندر موجود اس کے حامیوں کو ہمیشہ کے لیے اپنا دشمن بنا لیا۔ لیاقت علی خان نے اپنی قوم کو کمیونزم کے خطرے سے تو بچا لیا لیکن وہ خود ایک نئے اور زیادہ خطرناک میدان میں کود پڑے تھے۔ The line of faith. جب بھی کوئی نیا ملک بنتا ہے تو اس کی سرحدیں صرف زمین پر نہیں کھینچی جاتی۔ سب سے اہم لکیریں اس کی روح، اس کی آئیڈنٹٹی اور اس کی آئیڈیالوجی کی ہوتی ہیں۔ قائد اعظم کے انتقال کے بعد یہ ذمہ داری لیاقت علی خان کے کندھوں پر تھی۔ کہ پاکستان کی نظریاتی سمت کون سی ہوگی؟ سوال بہت بڑا تھا۔ پاکستان کیسا ملک ہوگا۔ کیا یہ ایک سیکولر ریاست ہوگی جیسے انڈیا میں بن رہی تھی۔ یا یہ ایک ایسی اسلامی ریاست ہوگی جس کی مثال جدید تاریخ میں نہیں ملتی۔ پاکستان کے لبرل، سیکولر اور کمیونسٹ قائد اعظم کی 11 اگست کی تقریر کا حوالہ دیتے تھے۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے، آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے۔ ان کے نزدیک پاکستان کا مستقبل ایک ایسی ریاست بننا ہے جہاں مذہب ہر آدمی کا ذاتی معاملہ ہو۔ مگر دوسری طرف خیال کچھ اور تھا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا۔ جب نعرہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ لگا ہے تو آئین قرآن و سنت کے علاوہ کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر پاکستان کو سیکولر ہی بنانا تھا تو انڈیا سے الگ ہونے کی کوئی تک نظر نہیں آتی۔ اب راستے تین تھے۔ ایک راستہ ویسٹرن اسٹائل کی سیکولر ڈیموکریسی کا، دوسرا اسلامی ریاست کا اور تیسرا اور سب سے خطرناک راستہ تھا۔ سوویت یونین کے ملحدانہ کمیونزم کا جس کے حامی پاکستان کے اندر بہت تھے۔ یہاں تک کہ فوج میں بھی موجود تھے۔
[16:38]ان حالات میں لیاقت علی خان اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ جو بھی فیصلہ کریں گے وہ تاریخ کا دھارا بدل دے گا۔ اور پھر انہوں نے راستہ چن لیا۔ 12 مارچ 1949 کو اسمبلی کے سامنے قرارداد مقاصد پیش کر دی۔ یہ صرف کچھ جملے نہیں تھے سمجھیں ایک نظریاتی اعلان جنگ تھا۔ قرارداد کا پہلا جملہ تھا حاکمیت صرف اللہ تعالی کی ہے۔ سمجھیں پہلے جملے نے ہی سیکولر اور کمیونسٹ لابییز میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں۔ یہ ویسٹرن ڈیموکریسی کے اس تصور پر بھی ڈائریکٹ اٹیک تھا کہ حاکمیت عوام کی ہے۔ لیاقت علی خان کا کہنا تھا کہ نہیں عوام حاکم نہیں امین ہیں۔ اصل حاکم تو اللہ ہے۔ صرف اسمبلی کیا پورے ملک میں طوفان برپا ہو گیا۔ کچھ غیر مسلم اراکین نے اسے جمہوریت کا قتل قرار دیا۔ اسے پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن کہا۔ بلکہ لیفٹ سے تعلق اٹھنے والے مسلمان ممبرز بھی پیچھے نہیں رہے۔ میاں افتخار الدین نے کہا یہ تھیوکریسی یعنی ملوکیت کی طرف پہلا قدم ہے۔ لیکن لیاقت علی خان ڈٹے رہے۔ کہا پاکستان مغرب کی نقالی نہیں کر سکتا! جہاں کے لوگ آج بھی ایک ایسے نظریے کی تلاش میں ہیں جو جوان کی روحانی پیاس بجھا سکے! ہمیں وہ نظریہ 1400 سال پہلے مل چکا ہے! انہوں نے واضح کیا کہ یہ قرارداد کسی مائنورٹی کے خلاف نہیں بلکہ ایسا فریم ورک ہے، جس کے اندر مسلمان اور غیر مسلم دونوں اپنے عقیدے کے مطابق آزاد زندگی گزار سکیں گے! لیکن یہ وہ فیصلہ تھا جس نے پاکستان کے اندر موجود سرخوں کو آگ لگا دی۔ اور وہ لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کرنے لگے۔ کیونکہ ان کی پیش کردہ قرارداد صرف ایک آئینی ڈاکومنٹ نہیں تھا۔ پاکستان کے ان نظریاتی دشمنوں کے خلاف وہ ڈھال بھی تھا جو ملک کو اس کی اسلامی روح سے الگ کرنا چاہتے تھے۔ یہی نہیں یہ قرارداد تاریخی طور پر بھی ایک انقلابی قدم تھا۔ خلافت راشدہ کے بعد مسلمانوں کی تاریخ میں پہلی بار کسی جمہوری ریاست نے کسی بادشاہ کی مرضی سے نہیں عوام کی تائید سے بننے والی ریاست نے اپنی بنیاد اس اصول پر رکھی تھی کہ قانون قرآن و سنت کے مطابق بنے گا۔ یہ بہت بڑی ڈویلپمنٹ تھی جس کا پورا کریڈٹ لیاقت علی خان کو جاتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی روح کا سودا ہونے سے بچا لیا۔ لیکن اس فیصلے نے ان کے بہت سے خطرناک دشمن بنا دیے تھے۔ وہ دشمن جو اسلامی پاکستان نہیں بلکہ ایک سرخ پاکستان دیکھنا چاہتے تھے۔ لیاقت علی خان نے پاکستان کی نظریاتی جنگ کا آغاز کر دیا تھا۔ لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کی حکومت کے اندر ان کی ناک کے نیچے ایک بغاوت جنم لے رہی ہے۔ ریاست کی بے رحم مشینری اپنا کام کر رہی ہے۔ اور اس مشینری کے دو پارٹ تھے۔
[19:30]بیوروکریسی اور فوج۔ بیوروکریسی میں یہ وہ لوگ تھے جو خود کو پاکستان کا اصل مالک سمجھتے تھے۔ غلام محمد، چوہدری محمد علی، اسکندر مرزا یہ برٹش راج کے تربیت یافتہ آقا تھے جو سیاستدانوں کو نا تجربہ کار اور جذباتی سمجھتے تھے۔ یہ بیوروکریٹس لیاقت علی خان کی عوامی سیاست کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ وہ ایک کنٹرولڈ نظام چاہتے تھے۔ ایک ایسا نظام جس کی لگام ان کے ہاتھ میں ہو۔ وہ لیاقت علی خان کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرتے۔ فائلوں کو دباتے اور ان کی پالیسیوں کو اندر سے سیبوٹاج کرنے کی کوشش کرتے۔ دوسرا اور زیادہ خطرناک پارٹ تھا فوج کا بلکہ اس کی بڑھتی ہوئی بھوک کا۔ 1951 میں جب جنرل ایوب خان پہلے پاکستانی کمانڈر انچیف بنے تو فوج نے پہلی بار پاور کا مزا چکھا۔ وہ اب صرف سرحدوں کی محافظ نہیں رہنا چاہتی تھی اس سے آگے بڑھ کر کچھ حاصل کرنا چاہتی تھی اور اس کی یہ بھوک سب سے پہلے ظاہر ہوئی راولپنڈی سازش کیس میں۔ جن آفیسرز نے سازش کی وہ لیاقت علی خان کی کشمیر پالیسی سے تنگ تھے۔ وہ کشمیر میں فل اسکیل وار چاہتے تھے جبکہ لیاقت علی خان اس مسئلے کا کوئی ڈپلومیٹک سلوشن ڈھونڈ رہے تھے۔ اور پھر لیاقت علی خان کو اس سازش کا پتا چل گیا اور انہوں نے اسے بے رحمی سے کچل دیا۔ اور فوج کو واضح پیغام دے دیا کہ سیاست میں مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
[21:00]لیکن اس ایک قدم نے فوج کے ایک پاورفل دھڑے کو لیاقت علی خان کا دشمن بنا دیا۔ کمانڈر انچیف ایوب خان بظاہر حکومت کے وفادار تھے لیکن وہ اندر ہی اندر اپنی طاقت بڑھا رہے تھے۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ ڈائریکٹ ملٹری ریلیشنز بنانے کی اجازت لی اور پینٹاگون کے ساتھ ان کا ذاتی رابطہ ہو گیا۔ اب لیاقت علی خان مکمل طور پر گھر چکے تھے۔ باہر دنیا کی دونوں سپر پاورز انہیں اپنا مہرہ بنانا چاہتی تھیں اور اندر نظریاتی دشمن یعنی کمیونسٹ ان کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔ اور خود ان کی حکومت کے اندر بھی بیوروکریسی اور فوج جیسے دونوں پاورفل عناصر انہیں اپنے راستوں میں رکاوٹ سمجھتے تھے۔ لیاقت علی خان کو اندازہ ہو چکا تھا کہ ان کا صرف ایک ہتھیار ہے عوام۔ وہ ملک میں پہلے عام انتخابات کی تیاری کرنے لگے تاکہ عوام کا مینڈیٹ حاصل کر کے ایسے تمام عناصر کا مقابلہ کر سکیں۔ لیکن ان کے دشمن بھی جانتے تھے اگر لیاقت علی خان الیکشن جیت گئے تو وہ بہت زیادہ پاورفل ہو جائیں گے۔ وقت تیزی سے ختم ہو رہا تھا اور شطرنج کی بساط پر آخری چال چلنے کی تیاری ہو رہی تھی۔
[22:09]کچھ دن صرف تاریخ نہیں ہوتے ان میں تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں۔ انسان کی تقدیر کے اور ہاں قوم کی تقدیر کے بھی۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسا ہی ایک دن تھا 16 اکتوبر 1951۔ جس روز پاکستان کے سارے دشمن ملک کے باہر بیٹھے چال باز، نظریاتی مخالف اور محلاتی سازش کرنے والے ان سب کے مفادات ایک جگہ پر آ کر مل گئے۔ کہاں؟ راولپنڈی کے کمپنی باغ میں۔ اس دن عوام کا سمندر تھا جو قائد ملت کو سننے کے لیے آیا تھا۔ لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کے بیچ و بیچ اسی ہجوم میں ایک کالی بھیڑ بھی موجود ہے۔ ایک ایسا منحوس سایہ ہے جو اس ملک کے وجود پر پڑنے والا ہے۔ اس کا نام تھا سید اکبر ببرک۔ یہ کون تھا؟ سرکاری کہانیوں کے مطابق ایک افغان شہری جسے افغانستان سے نکال دیا گیا تھا اور اب وہ پاکستان میں ایک پناہ گزین کے طور پر رہ رہا تھا۔ بظاہر ایک مذہبی جنونی لگتا تھا لیکن کیا کوئی غریب پناہ گزین تنہا تنہا اپنے بل بوتے پر اتنا بڑا قدم اٹھا سکتا تھا؟ یا وہ صرف ایک مہرہ تھا جس کو چلانے والا ہاتھ کوئی اور تھا۔ شام چار بجے لیاقت علی خان اسٹیج پر آئے۔ ان کے چہرے پر ایک غیر معمولی سکون تھا۔ پھر مائیک پر آئے اور ابھی پہلا جملہ بھی مکمل نہیں کر پائے تھے کہ وہ منحوس آواز گونجی۔ دو گولیوں کی آواز قاتل نے لیاقت علی خان کے سینے میں گولیاں اتار دی تھیں۔ انہیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہیں ہو سکے۔ ان کے آخری الفاظ تھے اللہ پاکستان کی حفاظت کرے۔ اور عین اسی وقت اسٹیج سے نیچے وہ ہوتا ہے جو پاکستان کی ہسٹری کا سب سے بڑا معمہ ہے۔ قاتل پکڑا گیا لیکن اس سے پہلے کہ اس سے پوچھا جاتا کہ اسے کس نے بھیجا؟ اس نے ایسا کیوں کیا؟ ایک انسپیکٹر محمد شاہ نے اسے گولیوں سے بھون دیا۔ ایک دو نہیں کئی گولیاں فائر کیں اور یوں ثبوت مٹ گیا۔ وہ زبان ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی جو کھلتی تو بہت کچھ دنیا کے سامنے آ جاتا۔ کونسپرسی تھیوریز کی شکل میں۔ تحقیقات کا اعلان کیا گیا اور جو ہوا کسی مذاق سے کم نہیں تھا۔ رپورٹیں بنی لیکن سامنے کچھ نہیں آیا۔ کیوں؟ کیونکہ جب انویسٹیگیشنز مکمل ہوئیں تو اس کی فائلیں لے جانے والے اہم ترین افسر اعتزاز الدین کا جہاز کریش ہو گیا۔ کوئی زندہ نہیں بچا اور فائلز بھی جل کر راکھ ہو گئیں۔ میسج بالکل کلیئر تھا۔ اس راز کو کبھی مت کھولنا۔ لیکن راز کبھی مرتے نہیں ہیں وہ تو تھیوریز کی شکل میں زندہ ہو جاتے ہیں۔ کونسپرسی تھیوریز کی شکل میں۔ تئوری نمبر 1: سرخ انتقام۔ کیا کے جی بی نے پاکستان کو امریکی کیمپ میں جانے کی سزا دی؟ قاتل کا تعلق بھی افغانستان سے تھا جو اس وقت سوویت یونین کے انفلنس میں تھا۔ تئوری نمبر 2: امریکی چال۔ کیا لیاقت علی خان امریکہ کے لیے بھی ناقابل اعتبار ہو گئے تھے؟ کیا ایران میں آئل انڈسٹریز کو نیشنلائز کرنے کے معاملے پر ان کا آزاد اسٹینس امریکہ کو پسند نہیں آیا؟ کیا امریکہ ایسا کمزور پاکستان چاہتا تھا جسے کنٹرول کرنا آسان ہو؟ تئوری نمبر 3: اندر کی سازش۔ قاتل کے سائے اتنی دور نہیں بہت قریب تھے۔ کیا یہ طاقتور بیوروکریٹس اور فوجی جرنیلوں کا کھیل تھا جو ایک مجبور عوامی لیڈر کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے تھے؟ وہ لوگ جنہوں نے لیاقت علی خان کی موت کے بعد اس ملک کی لگام سنبھالی کیا وہی ان کے قاتل تھے؟ کیا سچ ہے کیا جھوٹ ہے شاید ہمیں کبھی پتا نہ چل سکے۔ سید اکبر کے پیچھے کون تھا؟ گولی کس نے چلوائی تھی؟ لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ اس ایک قتل نے پاکستان کا مقدر بدل دیا۔ یہ صرف ایک شخص کی موت نہیں تھی پاکستان نے جمہوریت کے قتل کی پہلی اور سب سے خطرناک واردات تھی۔ عوام رو رہے تھے اور کامیاب سازش کرنے والوں کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ لیاقت علی خان کی موت نے پاکستان کی سیاست میں ایسا ویکیوم پیدا کر دیا تھا ایک ایسا لاوارث تخت چھوڑ دیا تھا۔ جس پر جھپٹنے کے لیے گدھ پہلے سے تیار بیٹھے تھے۔ یہ اس عوامی جمہوریت کا قتل تھا جس کی بنیاد لیاقت علی خان رکھنا چاہتے تھے۔ تبھی ان کے بعد پاکستان کی باگ ڈور عوام کے نمائندوں کے ہاتھ سے نکل گئی اور ملک کی قسمت کے فیصلے بند کمروں میں ہونے لگے۔ پاکستان کی روح پر ایک ایسا زخم لگا جو آج تک نہیں بھر سکا۔ The unfinished story. آخر ہم لیاقت علی خان کو تاریخ کے کس خانے میں رکھیں؟ ان کی لیگیسی کیا ہے؟ یہ کوئی سمپل کہانی نہیں یہ ایک پہیلی ہے۔ لیاقت علی خان نے ناممکن کو ممکن بنایا۔ ایسی قوم کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا جس کے پاس کچھ نہیں تھا۔ انہوں نے پاکستان کی روح کو کمیونزم سے الحاد سے بچایا۔ اسے ایک نظریاتی قلعہ بنا کر دیا۔ لیکن دوسری طرف کیا ان کے بیوروکریسی پر بہت زیادہ ڈیپینڈ کرنے کی وجہ سے پاکستان میں جمہوریت کمزور ہوئی اور پاکستان میں آمریت کا دروازہ کھلا؟ ایسے بہت سے سوالات ہیں جو آج بھی ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ لیاقت علی خان کی کہانی ملک کی تاریخ کا ایک نامکمل چیپٹر ہے۔ سمجھیں ایک ایسی بلڈنگ ہے جسے مکمل ہونے سے پہلے ہی گرا دیا گیا۔ ان کی لیگیسی ان کی کامیابیاں یا ناکامیاں نہیں۔ ان کا اصل ورثہ ہے ان کی نامکمل کہانی۔ ان کی موت کے ساتھ پاکستان نے صرف اپنا پہلا وزیراعظم نہیں کھویا شاید اپنی معصومیت بھی کھودی۔
[27:44]اپنا جمہوری راستہ بھی کھو دیا۔ ان کی زندگی اور موت پاکستان کی وہ پہلی اور نا سلجھنے والی پہیلی ہے جس کا جواب ملے تو شاید ہمیں اپنے آج کے تمام مسائل کا جواب بھی مل جائے۔



