Thumbnail for Para 14 | Khulasa-e-Quran — خلاصہ قرآن پارہ 14 | Inspiring Quranic Summary by Youth Flix

Para 14 | Khulasa-e-Quran — خلاصہ قرآن پارہ 14 | Inspiring Quranic Summary

Youth Flix

36m 39s6,780 words~34 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]کہ کس طرح سے اللہ رب العزت نے پوری کی پوری قوم کو جو کہ اگلام بازی کے گناہ میں مبتلا تھی پوری قوم کو اللہ رب العزت نے فرشتوں کو حکم دیا انہوں نے بستی کو اٹھایا نیچے سے اور اٹھا کر اوپر سے جو ہے وہ اس کو الٹا کر کے پھینک دیا اور پھر ان کے اوپر جو ہے وہ کنکریٹ والے نامزد پتھروں کی بارش ہوئی کہ اپنے اعمال کی بدولت جنت میں داخل ہو جاؤ تو اس کا معنی یہ ہے کہ ایمان کے ساتھ عمل صالح ازحد ضروری ہے اگر ایمان کے ساتھ عمل صالح نہ ہو تو ایمان کسی کام کا نہیں اور عمل صالح کے ساتھ اگر ایمان کی بنیاد موجود نہ ہو تو پھر اعمال صالحہ بھی کسی کام کے نہیں ہیں یہ دونوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں جو اللہ رب العزت نے یہاں ذکر فرمائی تمام علماء کا یہاں پر اتفاق ہے کہ جو شخص کفر کرنے پر مجبور کر دیا جائے مجبورا اس سے کفر کا کوئی کلمہ اس کی زبان سے نکلوایا جائے یا اس سے کوئی ایسا کام کروایا جائے جو کفر پر مبنی ہو لیکن وہ مجبور ہو تو ایسا شخص کافر نہیں سمجھا جائے گا نہ اس کی بیوی کے ساتھ اس کا نکاح ٹوٹے گا نہ اس کو جو ہے وہ استداد کی سزا دی جائے گی نہ ہی اس کے ساتھ دیگر معاملات ہوں گے

[1:03]اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی الہ وصحبہ اجمعین ومن تبعہم باحسان الی یوم الدین رمضان المبارک کی مناسبت سے خلاصہ مضامین قران مجید کے حوالے سے اج ہماری چودھویں نشست ہے جس میں انشاء اللہ تعالی ہم چودھویں پارے کے مضامین کا مختصر طور پر جائزہ پیش کریں گے اس میں ابتداء میں سورۃ الحجر جو ہے وہ ایک ایت کے علاوہ تقریبا باقی ساری سورت اسی میں موجود ہے پھر اس کے بعد جو ہے وہ مکمل سورۃ النحل اس پارے کے اندر موجود ہے ابتدا میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں بسم اللہ الرحمن الرحیم الف لام را تلکا ایات الکتاب و قران مبین الف لام را اللہ عالم بمرادہ یقینا یہ کتاب کی ایات ہیں اور قران مجید ہے جو کہ واضح ہے اس کے بعد اللہ رب العزت فرماتے ہیں چودویں پارے کی پہلی ایت میں ربما یود الذین کفر لو کانو مسلمین بس اوقات ایسا ہوگا قیامت والے دن کہ بہت سارے کافر وہ اس بات کی خواہش کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہو جاتے کاش وہ اسلام قبول کر لیتے اللہ فرماتے ہیں اب ان کو دنیا کے اندر چھوڑ دیجیے کھائیں پئیں فائدہ اٹھائیں اپنی خواہشات کے پیچھے لگے رہیں عنقریب ان کو اس بات کا اندازہ ہو جائے گا جب اللہ رب العزت ان کے سامنے ان کے نامہ اعمال پیش کریں گے اور ایسا ان فیکٹ دنیا کے اندر بھی ہوتا ہے جب ان کی موت اتی ہے کسی بھی شخص کی جو اللہ رب العزت کا نافرمان ہوتا ہے یا اسلام قبول نہیں کرتا اور کافر ہوتا ہے جب وہ مرنے کے قریب ہوتا ہے تو اس وقت اس کی خواہش ہوتی ہے اس کی بہت ساری مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں سب سے بڑا وہ شخص جو اپنے اپ کو جو ہے وہ اللہ کے مقابلے میں پیش کرتا تھا خدائی کا دعوی کرتا تھا فرعون وہ بھی اس کا بھی جب موت کا وقت ایا تو وہ فورا ایمان لانے کی طرف اگیا لیکن اس وقت کا ایمان قابل قبول نہیں ہوگا اسی طرح سے قیامت والے دن یہ جو حسرت ہوگی یہ حسرت جو ہے وہ ان لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں دے گی جیسا کہ اللہ رب العزت نے یہاں پر یہ بات ارشاد فرمائی ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے قران مجید کے حوالے سے اس صورت کے ابتداء میں بہت ساری باتیں ذکر فرمائی ہیں جن میں سے خاص طور پر یہ بات ہے سورہ حجر کی ایت نمبر نائن ہے جس میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں انا نحن نزلنا الذکر وان له لحافظون یقینا ہم ہی اس قران مجید کو اور اس شریعت کو کیونکہ ذکر سے مراد مفسرین نے پوری شریعت جو ہے وہ بیان کی ہے اللہ رب العزت نے فرمایا کہ ہم ہی اس شریعت کو نازل کرنے والے ہیں اور ہم ہی اس کی حفاظت کا بھی ذمہ لینے والے ہیں ہم ہی اس کی حفاظت بھی کریں گے یہ وہ اعزاز ہے جو اللہ رب العزت نے اس سے پہلے کسی بھی شریعت کو عطا نہیں فرمایا بہت سارے اعزازات جیسے اللہ رب العزت نے تکمیل دین فرمائی تو وہ اسلام پر فرمائی اسی طرح سے حفاظت کا ذمہ لیا تو اسلام کا جو شریعت ہے دین دین اسلام کی حفاظت کا ذمہ لیا یہ جو ہے وہ اعزاز چونکہ پہلی امتوں کو نصیب نہیں ہوا پہلی شریعتوں کو حاصل نہیں ہوا جس کا نتیجہ اور نقصان یہ ہوا کہ ان لوگوں نے اپنی شریعتوں کو بدل دیا اور اج نہ تو تورات اپنی اصل شکل میں موجود ہے نہ انجیل اپنی اصل شکل میں موجود ہے اور بلکہ ان لوگوں نے ان دونوں کو ملا کر تورات اور انجیل کو ملا کر ایک بائبل جو ہے وہ بنا دی ہے اور کوئی بھی اپنی اصل شکل کے اندر موجود نہیں ہے جبکہ قران مجید کو دیکھا جائے تو دنیا کے اندر لاکھوں نہیں اربوں کی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کے سینوں میں قران مجید محفوظ ہے جن کے سینوں میں حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ ہیں اور ایک ایک انسان جو ہے وہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہیں جو کہ جن کو اپ شریعت کا قران و حدیث کا انسائیکلوپیڈیا کہہ سکتے ہیں اور وہ نمبرنگ کے ساتھ صحابہ کے نام کے ساتھ جو ہے وہ رجال کی بحث کے ساتھ ہر طرح سے انہوں نے احادیث کو محفوظ کیا ہے اسی طرح سے قران مجید کو محفوظ کیا ہے مختلف قراءات میں قران مجید کو اللہ رب العزت نے حفاظت کا جو ہے وہ بندوبست کیا ہے تو یہ اللہ رب العزت کی طرف سے خاص عطا ہے جو شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے انسان اور جن کی تخلیق کا ذکر کیا ہے ولقد خلقنا الانسان من صلصال من حم مسنون انسان کی پیدائش جس کیچڑ والی اور بدبودار مٹی سے ہوئی ہے اللہ رب العزت نے اس کا تذکرہ فرمایا ہے اور اس کے بعد فرمایا کہ جنوں کو ہم نے اس سے پہلے جو ہے وہ شعلے والی اگ سے پیدا کیا ہے بتانے کا مقصد یہ ہے کہ انسان جب اپنی پیدائش پر غور کرے تو انسان جتنا بھی تکبر کرتا ہے فخر کرتا ہے غرور کرتا ہے اور اس طرح کی جتنی بھی چیزیں انسان کے اندر پائی جاتی ہیں وہ سب ہوا ہو جاتی ہیں لیکن انسان جو ہے وہ اپنی انسان پیدائش کے اوپر غور نہیں کرتا اسی طرح سے اللہ رب العزت نے جنوں کے حوالے سے تذکرہ کیا ہے اور جن چونکہ اگ سے پیدا کیا گیا یہی وجہ ہے کہ اس نے ادم علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار کیا اور کہنے لگا خلقت من خلقتنی من نار خلقت خلقتنی من نار وخلقت من طین اے اللہ مجھے چونکہ تو نے اگ سے پیدا کیا ہے اور ادم کو مٹی سے پیدا کیا ہے اور اد کی اگ کی صفت یہ ہے کہ وہ اوپر کی طرف اٹھتی ہیں جبکہ مٹی کی صفت یہ ہے کہ جب اس کو پھینکا جائے تو وہ نیچے کی طرف جاتی ہے تو اس وجہ سے میں اس سے اعلی ہوں اس سے عرفہ ہوں تو میں کیسے سجدہ کروں یہ تکبر کیا جس کی وجہ سے اللہ رب العزت نے اس کو اپنی بارگاہ سے دھتکار دیا اور اس کو قیامت تک کے لیے راند راند درگاہ قرار دیا اللہ رب العزت نے اس جو ہے وہ تیسرے رکوع میں ادم علیہ الصلوۃ والسلام اور اسی طرح سے ابلیس کے حوالے سے جو اس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا اس کی تفصیلات کا ذکر کیا ہے اللہ فرماتے ہیں اللہ رب العزت نے اس سے کہا یا ابلیس ما کنت مع ساجدین اے ابلیس تو نے سجدہ کیوں نہیں کیا یعنی فرشتوں کے ساتھ تجھے حکم دیا تھا سجدہ کرنے کا لیکن تو نے سجدہ کیوں نہیں کیا تو کہنے لگا اس انسان کو تو نے کیچڑ والی بدبودار مٹی سے پیدا کیا ہے میں اس کو سجدہ نہیں کروں گا تو اللہ رب العزت نے شیطان کو راند درگاہ قرار دیا

[6:36]قیامت تک کے لیے اس کے اوپر لعنت قرار دے دی پھر اس نے مہلت مانگی اللہ رب العزت نے اس کو مہلت دے دی اور اس کے بعد اس نے یہ وعدہ کیا کہ رب بما انی ازین لهم في الارض وغویین اجمعین اے اللہ میں تو گمراہ ہو چکا ہوں اب میں پوری جو ہے وہ انسانیت کو گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا الا عبادک من المخلصین لیکن ساتھ ہی کہنے لگا کہ ہاں تیرے جو مخلص بندے ہوں گے جو خالص تیرے لیے تیری رضا کے لیے اعمال کرتے ہوں گے کوئی دنیاوی ان کے سامنے متم نظر نہیں ہوگا ان کے اوپر میرا اختیار اور کنٹرول اور بس نہیں چلے گا اللہ رب العزت نے فرمایا قال هذا صراط علی مستقیم ہاں یہی وہ میرا سیدھا راستہ ہے جس کے اوپر میرے وہ بندے چلیں گے جن کے اوپر تیرا کسی بھی طرح سے بس نہیں چلے گا الا من اتبعک من الغوین سوائے ان کے جو تیرے اتباع کرنے والے بن جائیں گے

[7:34]وان جہنم لموعودہم اجمعین تو یہ جتنے بھی لوگ ہوں گے تیری اتباع کرنے والے ان سب کا ٹھکانہ جہنم ہے جس کے سات دروازے ہیں اور ان دروازوں میں سے اللہ رب العزت نے ان اہل جہنم کو داخل کریں گے پھر اللہ رب العزت نے اہل جنت کے لیے جنت کا تذکرہ کیا ہے متقین کے لیے اللہ نے فرمایا کہ ان کے لیے جنتیں ہیں جن میں چشمے چلتے ہوں گے اللہ تعالی فرمائیں گے سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ اور یہ ساری اس کے بعد اللہ رب العزت نے تفصیلات ذکر فرمائی ہیں اور ساتھ ہی فرمایا کہ میرے بندوں کو خوشخبری دے دیجیے کہ میں بڑا ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہوں

[8:08]یہ سارا کمپیریزن ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالی کے اس فرمان کا مقصد یہ ہے کہ اگر انسان تھوڑی سی کوشش کر لے اللہ تعالی کی شریعت کے اوپر بھیجی ہوئی شریعت کے اوپر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرے اللہ کو راضی کوشش کرنے کی کوشش کرے تو اللہ کی اللہ کو راضی کرنے کی جو قیمت ہے جو اللہ رب العزت نے متعین فرمائی ہے صرف تنہائی میں بیٹھ کر اللہ رب العزت کو یاد کر کے اپنے گناہوں کو یاد کر کے اللہ سے ڈرتے ہوئے اپنی انکھوں سے ایک انسو مکھ کی جو ہے وہ سر کے برابر اگر بہا دیا جائے تو اللہ رب العزت کی رضا حاصل ہو جاتی ہے اللہ رب العزت ہمیں بھی اس بات کی توفیق عطا فرمائے اس کے بعد اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا اللہ رب العزت کی ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے ذکر کیا اور اس کے ساتھ یہ بات ارشاد فرمائی کہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو جب ہم نے خوشخبری دی تو ساتھ ہم نے یہ کہا مایوس ہونے والوں میں سے نہ ہونا وہ کون ہے جو اللہ رب العزت کی رحمت سے مایوس ہوتا ہے تو ساتھ ہی یہ کہا کہ اللہ رب العزت کی رحمت سے مایوس ہونے والے تو گمراہ لوگ ہوتے ہیں جو ایمان والے ہوتے ہیں وہ اللہ رب العزت کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے پھر اس کے بعد وہ جو فرشتے خوشخبری لے کر ائے تھے ان فرشتوں کو اللہ رب العزت نے لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف ان کی قوم کی طرف عذاب کے لیے بھیجا تھا اس کی تفصیلات کا تذکرہ ہے قوم کے گناہ کا تذکرہ ہے پھر اللہ رب العزت نے ان کو جو سزا دی اس سزا اور اس جو ہے وہ عذاب کا تذکرہ ہے کہ کس طرح سے اللہ رب العزت نے جو ہے وہ اد پوری کی پوری قوم کو جو کہ جو ہے وہ اگلام بازی کے گناہ میں مبتلا تھیں پوری قوم کو اللہ رب العزت نے فرشتوں کو حکم دیا انہوں نے بستی کو اٹھایا نیچے سے اور اٹھا کر اوپر سے جو ہے وہ اس کو الٹا کر کے پھینک دیا اور پھر ان کے اوپر جو ہے وہ کنکریٹ والے نامزد پتھروں کی بارش ہوئی اور اس طرح سے اللہ رب العزت نے ان کو پوری دنیا کے لیے عبرت بنا دیا پھر اس کے بعد اللہ رب العزت نے اس سورت کے اخری رکوع میں اصحاب الحجر کا ذکر کیا ہے پتھر والوں نے انبیاء کی جو ہے وہ تکذیب کی حالانکہ انہوں نے صالح علیہ الصلوۃ والسلام کو جھٹلایا تھا

[10:00]یہ قوم ثمود کا تذکرہ ہے لیکن اللہ نے فرمایا کہ انہوں نے تمام انبیاء کی تکذیب کی تو یہ بات پہلے بھی ہو چکی ہے کہ اگر کوئی شخص ایک نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو جھٹلاتا ہے تو گویا کہ اس نے تمام انبیاء کو جو ہے وہ جھٹلا دیا اور ان کی تکذیب کی تو اللہ رب العزت نے ان کا تذکرہ کیا ہے مدینہ اور تبوک کے درمیان یہ وادی القری ان کا مقام تھا یہاں پر ان کی بستی اباد تھی اللہ نے بطور خاص ان کا ذکر کیا کہ ان کو ہم نے بہت ساری نشانیاں عطا فرمائیں جن کا انہوں نے انکار کیا ان سے اعراض کیا صالح علیہ السلام کو اللہ تعالی نے اونٹنی جیسی نشانی اور معجزہ دیا اس کا بھی انہوں نے انکار کیا اور یہ اتنے مضبوط لوگ تھے کہ اپنے گھر جو ہے وہ پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بنایا کرتے تھے لیکن اللہ تعالی کی طرف سے ان کے اوپر جو ہے وہ چیخ کا عذاب ایا اور اللہ رب العزت نے اس پوری قوم کو وہاں پر ختم فرما دیا اس کے بعد اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ایت نمبر 85 میں وما خلقنا السماوات والارض وما بینا الا بالحق ہم نے اسمان و زمین اور ان کے درمیان جو کچھ بھی پیدا کیا ہے حق کے ساتھ کیا ہے وانت یقینا قیامت جو ہے وہ انے والی ہے اور اللہ رب العزت نے یہاں نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو درگزر کرنے کا حکم دیا ہے اللہ تعالی نے اپنی صفات کا تذکرہ کیا ہے پھر اس کے بعد ارشاد فرمایا ایت نمبر 87 میں ولقد اتیناک من المثانی والقران العظیم ہم نے یقینا اپ کو سب مثانی عطا فرمائی ہیں اور اس کے ساتھ قران عظیم عطا فرمایا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے سب مثانی سے مراد تمام مفسرین کے نزدیک سورہ فاتحہ ہے وہ سورہ فاتحہ سب مثانی کا معنی بار بار دہرائی جانے والی سات ایات جن کو نماز کے اندر بار بار دہرایا جاتا ہے

[11:51]جیسے چار رکعت کی ایک نماز ہے تو چار مرتبہ دہرائی جاتی ہے اگر اس کے ساتھ جو ہے وہ دو سنت ہیں تو اس کے ساتھ اس میں چھ مرتبہ دہرائی جاتی ہے اگر اس کے ساتھ جیسے جیسے سنت کی تعداد بڑھتی ہے تو اس طرح سے ہر ہر رکعت کا حصہ ہے اور نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے بے شمار احادیث کے اندر یہ بات ارشاد فرمائی کہ جس نماز میں سورہ فاتحہ کی تلاوت نہیں کی جاتی وہ جاری نماز ہو وہ سری نماز ہو وہ اکیلے کی نماز ہو وہ جماعت کی نماز ہو وہ نفل نماز ہو وہ سنت ہو وہ فرض ہو وہ نماز جنازہ کیوں نہ ہو جس کے اندر فاتحہ نہیں پڑھی جاتی وہ نماز اللہ رب العزت کے ہاں قابل قبول نہیں ہے

[12:43]اور اپ نے علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا جس میں نماز فاتحہ نہیں پڑھی جاتی وہ نماز ناقص ہے وہ نماز ناقص ہے وہ نماز ناقص ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے اس سورت کے اخر میں اخری رکوع میں نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو حوصلہ دیا ہے اور فرمایا کہ یقینا اپ کا سینہ ان لوگوں کی باتوں سے بڑا تنگ ہوتا ہے

[13:13]لیکن اس کے ساتھ اللہ نے فرمایا ایت نمبر 95 میں اے نبی علیہ الصلوۃ والسلام یہ جتنے بھی لوگ اپ کا مذاق اڑانے والے ہیں اپ کو مجنوں کہنے والے ہیں اپ علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے شریعت کا مذاق اڑانے والے شعائر اسلام کا مذاق اڑانے والے نبی علیہ الصلوۃ والسلام پر استہزا کرنے والے اللہ فرماتے ہیں ہم ان کو کافی ہو جائیں گے اور ان لوگوں کی سزا جو ہے وہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے دور میں بھی موجود ہے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے بذات خود ان لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا جو نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا مذاق اڑاتے تھے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی توہین کرتے تھے اور ایسے لوگوں کا اسلام بھی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمانا چاہتے تھے لیکن ایک جو ہے وہ واقعہ حدیث کے اندر موجود ہے کہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے صحابہ کے سامنے ایک شخص ائے جو کہ عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے رضاعی بھائی تھے انہوں نے وہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا مذاق اڑاتے تھے وہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس اسلام قبول کرنے کے لیے ائے تو صبح سے لے کر شام تک بیٹھے رہے اور اس کے بعد اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا اسلام قبول کیا اور اس کے بعد صحابہ کرام سے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہوا جو اس کو اس کے انجام تک پہنچا سکتا تو صحابہ نے عرض کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپ ہمیں اشارہ تو فرماتے تو اپ نے فرمایا کہ نبی خائن نہیں ہوتا تو اس سے یہ بات سمجھ میں اتی ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا مذاق کرنے والا ان کی توہین کرنے والا کسی بھی قسم کے رحم کا مستحق نہیں ہے اس کی سزا یہی ہے کہ اس کا اس دنیا سے جو ہے وہ اس کے وجود سے اس دنیا کو پاک کر دیا جائے ہاں یہ الگ بات ہے کہ اس کو سزا دینے والا جو ہے وہ کون شخص ہوگا اس کے بارے میں علماء کی فقہی ابحاث موجود ہیں اس کے بعد اللہ رب العزت نے سورۃ النحل کا تذکرہ کیا ہے سورہ نحل کی ابتداء میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا پہلی ایت ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم ا امر اللہ

[15:24]قیامت جو ہے وہ انے والی ہے اس کو جلدی طلب مت کرو جلدی نہ مچاؤ یقینا وہ اللہ رب العزت پاک ہے وہ بلند و برتر ہے جو اللہ تعالی کے ساتھ یہ لوگ شرک کرتے ہیں شرکوں سے اللہ رب العزت پاک اور منزہ ہے بلند و برتر ہے قیامت ا چکی کا معنی یہ ہے ایک تو اللہ رب العزت نے ماضی کے صیغہ کے ساتھ اس کا ذکر فرمایا جس کا معنی یوں سمجھ لیجئے کہ جو چیز انے والی ہوتی ہے وہ بہت ہی قریب ہوتی ہے جیسے کسی کے ساتھ ہم وعدہ کرتے ہیں تو ابھی ہم تھوڑی ہی جو ہے وہ دیر کے لیے تعمل کرتے ہیں تو وہ وعدہ فورا سر پہ پہنچ جاتا ہے

[16:05]تو اسی طرح سے اللہ رب العزت نے یہاں پر یہ انداز اختیار فرمایا ہے کہ یہ سمجھ لو کہ قیامت تو ا ہی چکی ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے انسان کی نطفہ سے پیدائش کا تذکرہ کیا ہے گندے پانی کے قطرے سے انسان کی پیدائش کا تذکرہ کیا ہے اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں اس کے باوجود یہ جھگڑے کرتا ہے اس کے باوجود اپنے اپ کو بہت بڑی کوئی چیز سمجھتا ہے اترتا ہے اس کی ایگو جو ہے وہ دنیا کے اندر کہیں نہیں سماجی پھر اللہ رب العزت نے مختلف جانوروں کی پیدائش اور ان کے ان سے حاصل ہونے والے فوائد کا تذکرہ کیا ہے گھوڑوں کا تذکرہ کیا خچروں کا تذکرہ کیا گدھوں کا تذکرہ کیا ان سے حاصل ہونے والے جو فوائد ہیں اللہ رب العزت نے اسی طرح سے دیگر جو جانور ہیں جو کہ پالتو جانور ہوتے ہیں ان کا تذکرہ کیا صبح شام ان کو لانے لے جانے کی جو ایک سرور ہے جو کہ کسانوں کو حاصل ہوتا ہے اور جو ایک خوشی ان کو نصیب ہوتی ہے اس کا اللہ رب العزت نے تذکرہ کیا ان سے دودھ حاصل ہوتا ہے سواری کے جو ہے وہ استعمال میں اتے ہیں اسی طرح سے ان کی اون سے اور باربرداری کے کام اتے ہیں اور اسی طرح سے حل چلایا جاتا ہے زمینوں کو سیراب کیا جاتا ہے ان سے گرم کپڑے بنائے جاتے ہیں اور یہ ساری کی ساری جو فوائد ہیں اللہ رب العزت نے فرمایا کہ یہ تم جانوروں سے حاصل کرتے ہو یہ سب اللہ رب العزت کے پیدا کردہ نعمتیں ہیں جو اس اللہ رب العزت نے تمہیں عطا فرمائی ہیں پھر اگلے رکوع میں اللہ رب العزت نے سورہ نحل کے رکوع نمبر ٹو میں اللہ رب العزت نے جو ہے وہ مختلف قسم کے پھلوں کا تذکرہ کیا ہے زمین سے حاصل ہونے والی جو نباتات ہیں جو مختلف قسم کی نشانیاں ہیں ان کا تذکرہ کیا ہے زیتون کا تذکرہ ہے اس میں جو ہے وہ انگوروں کا تذکرہ ہے کھجوروں کا تذکرہ ہے تمام قسم کے پھلوں کا تذکرہ ہے اللہ فرماتے ہیں اس کے اندر غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں پھر اللہ رب العزت نے دن و رات کا تذکرہ کیا سورج اور چاند کا تذکرہ کیا اور جو ستارے ہیں ان کا تذکرہ کیا جن سب چیزوں کو اللہ رب العزت نے انسانوں کے فائدے کے لیے مسخر کر دیا ہے پھر اللہ رب العزت نے مختلف قسم کی جو زمین کے اندر مختلف رنگوں کی جو اللہ تعالی نے فصلیں گائی ہیں ان کا تذکرہ کیا ہے پھر سمندر اور سمندر سے حاصل ہونے والی نعمتوں کا تذکرہ کیا اللہ نے فرمایا کہ سمندر جو کتنا بڑا ہے زمین جو ہے وہ چوتھا حصہ ہے جبکہ جو تری ہے یعنی سمندری جو سلسلہ ہے وہ زمین سے تین گنا زیادہ ہے اس کے باوجود اللہ رب العزت جو ہے وہ اس نے اس سمندری طوفانوں سے زمین کو محفوظ رکھا ہوا ہے جب اللہ رب العزت پارٹیکولرلی کسی علاقے میں چاہتے ہیں تو وہاں پر اپنی کسی نشانی کا اظہار کرتے ہیں اور اس سے حاصل ہونے والی سمندروں سے حاصل ہونے والی مختلف قسم کی جو تجارتیں ہیں ان کا تذکرہ کیا زیورات ہیں وہاں سے حاصل ہونے والے موتی ہیں مچھلیاں ہیں اور بے شمار جو فوائد اللہ نے اس کے اندر رکھے ہیں ان کا تذکرہ کیا ہے پھر زمین کے اندر اللہ تعالی نے جو پہاڑ اور نہروں کا سلسلہ چلا رکھا ہے اس کا تذکرہ کیا ہے ایسے ہی جو ستاروں کے اندر اللہ رب العزت نے علامات اللہ فرماتے ہیں جس کے ذریعے لوگ راستے جو ہیں نا وہ ان کو پاتے ہیں اور اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں ایت نمبر 18 میں اگر تم اللہ رب العزت کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو گننا چاہو تو شکر ادا کرنا تو درکنار

[19:46]تم صرف ان نعمتوں کو کاؤنٹ بھی نہیں کر سکتے ہو کاؤنٹ لیس نعمتیں ہیں اللہ رب العزت کی جو اس اللہ رب العزت نے تمہیں عطا فرمائی ہیں اور وہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے اس کے باوجود اللہ فرماتے ہیں جن کو اللہ کے سوا لوگ پکارتے ہیں وہ ایک ذرے کے برابر بھی کوئی چیز پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے نہ صرف یہ کہ پیدا کر نہیں سکتے خود ان کو پیدا کیا گیا ہے بلکہ اللہ فرماتے ہیں وہ مردہ ہیں وہ زندہ نہیں ہیں

[20:23]اور ان کو تو خود نہیں پتا کہ ان کو کب اٹھایا جائے گا اس کے بعد اللہ رب العزت نے رکوع نمبر 10 میں ایک بستی کی طرف اشارہ کر کے اللہ رب العزت نے مجموعی طور پر نافرمان بستیوں کے حالات کا تذکرہ کیا ہے اللہ فرماتے ہیں ان لوگوں سے پہلے بھی بہت سی بستیاں دنیا کے اندر ایسی گزری ہیں جنہوں نے اللہ رب العزت کی نافرمانیاں کیں اپنی جو ہے وہ تدبیریں کیں چالیں چلیں اللہ رب العزت کے خلاف شریعتوں کے خلاف انبیاء کے خلاف انہوں نے مکر کیے نتیجہ کیا نکلا اللہ رب العزت نے اپنے حکم کے ساتھ ان کو نیچے سے اٹھایا اور ان کو چھتوں کے بل نیچے جو ہے نا وہ الٹا کر کے ان کو زمین پہ گرا دیا اور اس کے اوپر اللہ رب العزت کا عذاب ایا ایسی جگہوں سے جہاں سے وہ جانتے تک نہیں تھے اللہ نے فرمایا کہ اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ رب العزت تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کریں گے

[21:19]اس رکوع کے اندر اللہ رب العزت نے اہل جہنم کا تذکرہ کیا ہے وہ لوگ جو اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں جب ان کو فرشتے فوت کریں گے تو وہ فرشتوں کے سپرد اپنی جب روحیں کریں گے تو اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ اس وقت وہ کہیں گے ہم تو کوئی برائی نہیں کرتے تھے اللہ فرماتے ہیں بلکہ اللہ جانتا ہے تم کیا کیا کرتے تھے جہنم داخل ہو جاؤ یہی بدترین ٹھکانہ ہے تمہارا اور اسی کے اندر ہمیشہ ہمیشہ تمہیں رہنا ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے اہل جنت اور ان کے اعمال اور اسی طرح سے ان کو حاصل ہونے والی نعمتوں کا تذکرہ کیا ہے اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ جب ان کو فرشتے فوت کرتے ہیں تو ان کو سلامتی کے تحفے دیتے ہیں اپنے اعمال کی بدولت اج جنت میں داخل ہو جاؤ اگرچہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے فرمان کے مطابق اللہ کی رحمت کے بغیر کوئی بخشا نہیں جائے گا لیکن اس کے باوجود اللہ نے یہاں پر جو یہ بات ارشاد فرمائی کہ اپنے اعمال کی بدولت جنت میں داخل ہو جاؤ تو اس کا معنی یہ ہے کہ ایمان کے ساتھ عمل صالح ازحد ضروری ہے اگر ایمان کے ساتھ عمل صالح نہ ہو تو ایمان کسی کام کا نہیں اور عمل صالح کے ساتھ اگر ایمان کی بنیاد موجود نہ ہو تو پھر اعمال صالحہ بھی کسی کام کے نہیں ہیں یہ دونوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں جو اللہ رب العزت نے یہاں ذکر فرمائی رکوع نمبر 11 ہے جس میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں مشرکین اللہ تعالی کے سامنے یہ بہانہ کریں گے اگر اللہ نہیں چاہتا تو ہم کسی بھی صورت میں اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرتے نہ ہمارے ابا ابا اجداد کرتے نہ ہم کسی چیز کو اپنے اوپر حرام قرار دیتے اللہ فرماتے ہیں یہ بے نمازوں والے بہانے یہ ساری زندگی سے لوگ اسی طرح سے لگاتے ائے ہیں نبیوں کا کام صرف پہنچا دینا ہے اس کے بعد اللہ رب العزت ہے جو ان کے انجام سے ان کو واقف کریں گے پھر اللہ نے فرمایا کہ ہم نے ہر امت کے اندر انبیاء کو بھیجا اور ان انبیاء نے کیا کہا جا کر اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی عبادت سے باز ا جاؤ اللہ کے سوا ہر چیز طاغوت ہے اسلام کے خلاف حرضہ سرائی ہر قسم کی وہ طاغوت ہے ہر وہ طاقت جو اپ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے سے ہٹا دے وہ طاغوت ہے اللہ نے فرمایا کہ یہ مشترکہ دعوت ہے جو تمام انبیاء نے ان کے سامنے پیش کی ہے لیکن اس کے باوجود ان لوگوں کو سمجھ میں نہیں اتی سو اللہ فرماتے ہیں کون ہے جن کو اللہ نے ہدایت دے دی اور کتنے ہی لوگ ہیں جن کے اوپر گمراہی جو ہے وہ ثابت ہو گئی تو زمین کے اندر جاؤ اور دیکھو ان جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا ہے اللہ فرماتے ہیں ایت نمبر 38 میں اللہ کی قسمیں اٹھا کر کہتے ہیں کیا جس کو اللہ نے مار دیا ہے اللہ رب العزت اس کو کبھی زندہ نہیں کرے گا اللہ فرماتے ہیں وعدہ سچا ہے اللہ رب العزت کا لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے ہیں اور اللہ فرماتے ہیں ایت نمبر 40 ہے ہم جب کسی چیز کو کہہ دیتے ہیں تو وہ کام ہو جاتا ہے یعنی ہم کہتے ہیں ہو جا وہ کام ہو جاتا ہے اور اللہ رب العزت کہنے کے بھی محتاج نہیں ہیں اس کو کہنے کی بھی ضرورت نہیں ہے یہ صرف ہمیں سمجھانے کے لیے اللہ رب العزت نے انداز اختیار کیا ہے ایت نمبر 43 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں ہم نے نبیوں کو دنیا کے اندر بھیجا ہے اپ سے پہلے بھی ہے اے نبی علیہ الصلوۃ والسلام وہ سارے کے سارے مرد تھے اور ہم ان کی طرف وحی کرتے تھے اگر تم کسی بات کو نہیں جانتے ہو تو اہل ذکر سے پوچھ لیا کرو اس سے یہ بات سمجھ میں اتی ہے کہ سب سے پہلے تو جو اللہ کے انبیاء ہیں ان سے دین سیکھا جائے پھر اس کے بعد جیسے نبی علیہ السلام نے فرمایا انبیاء کے وارث جو ہیں وہ اللہ رب العزت نے علماء کو بنایا ہے اور علمائے ربانیین جو کہ حقیقت میں شریعت کا علم لوگوں کے سامنے رکھتے ہیں جو حق پر قائم علماء ہیں ان سے دین کو سیکھا جائے یہاں سے جو بات نقطہ سمجھنے والا ہے وہ یہ کہ اکثر عوام الناس اپنی ساری کی ساری جو معاملات ہیں ان کو علماء کے اوپر ڈال کر مولویوں کے اوپر ڈال کر خود بے فکر ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تو مولویوں نے گمراہ کیا اللہ فرماتے ہیں اگر تمہیں کسی بات کا علم نہیں ہے اگر اپ کسی مسئلہ کے بارے میں جو ہے وہ نہیں جانتے جیسے کے بارے میں نہیں جانتے اپ تجارت کے بارے میں نہیں جانتے اپ جو ہے وہ طہارت کے بارے میں نہیں جانتے نماز کے بارے میں عقائد کے بارے میں معاملات کے بارے میں اور علماء سے پوچھنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کرتے تو قیامت والے دن اپ بھی اتنے ہی مجرم ہیں جتنا کہ وہ شخص جو علم رکھنے کے باوجود اپ کو رہنمائی نہیں کرتا ہے اللہ فرماتے ہیں کیا یہ لوگ اللہ تعالی سے اتنے بے خوف ہو گئے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ رب العزت ان کو دھنسانے کا عذاب نہیں دے گا یا اللہ تعالی ایسی جگہوں سے عذاب نہیں لائے گا جہاں سے یہ جانتے تک نہیں ہیں

[26:59]پھر اس کے بعد اللہ رب العزت نے رکوع نمبر 13 پہ ارشاد فرمایا اللہ تعالی کے کیے ہوئے وعدے ان کو پورا کرو اپس میں جو ایک دوسرے کے وعدے ہیں ان کو پورا کرو اپنی قسموں کو نہ توڑو ان کو مضبوط کرنے کے بعد تم توڑ دیتے ہو اللہ فرماتے ہیں اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جو سوت کاتنے میں اتنی محنت کرتی ہے تھوڑی تھوڑی کر کے روئی جمع کرتی ہے پھر اس کی جو ہے نا وہ چھوٹی چھوٹی وہ بالیاں سی نالیاں بناتی ہے پھر ان کے ذریعے جو ہے وہ دھاگا بناتی ہے اور جب وہ دھاگا جب سوت کا بن جاتا ہے تو پھر اس کو توڑ توڑ کے ٹکڑے کر کے پھینک دیتی ہے اللہ فرماتے ہیں اپنے ایمان کے ساتھ یہ والا سلسلہ تم نہ کرو اور اس طرح سے جو ہے نا وہ اللہ رب العزت کے سامنے اپنے اس طرح کے معاملات کو نہ کرو

[27:54]پھر اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں ایت نمبر 95 ہے اللہ تعالی کی ایتوں کو تھوڑی سی قیمت کے بدلے میں نہ بیچو یعنی معنی یہ نہیں ہے کہ زیادہ قیمت کے بدلے میں بھیج دو بلکہ معنی یہ ہے کہ تھوڑے تھوڑے مفادات کی خاطر تم اپنا ایمان بیچ دیتے ہو ضمیر بیچ دیتے ہو اللہ تعالی کے احکام بیچ دیتے ہو فتوے بدل دیتے ہو

[28:18]اللہ فرماتے ہیں جو اللہ کے پاس ہے اگر تمہیں دنیا میں اللہ تعالی کی خاطر کسی مصیبت ازمائش پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑے تو یاد رکھو اللہ کے پاس جو ہے وہ بڑا ہی بہترین ہے جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور جو تمہارے پاس ہے وہ سب کا سب ختم ہو جانے والا ہے

[28:43]اس کے بعد اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں ایت نمبر 98 میں جب قران مجید کی تلاوت کریں تو شیطان مردود سے پناہ طلب کر لیا کریں یعنی اللہ تعالی کی پناہ میں اپنے اپ کو دے دیا کریں جو کہ مردود ہے جس کو اللہ رب العزت نے رد کر دیا ہے

[29:00]یعنی اس کا معنی یہ ہے کہ تلاوت سے پہلے جب اعوذ باللہ پڑھی جائے گی استعازہ کیا جائے گا مختلف الفاظ سے استعازہ کیا جا سکتا ہے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم اعوذ باللہ من حمزه ونفخه ونفثه ان سارے الفاظ سے اعوذ باللہ ان الفاظ سے اعازہ کیا جا سکتا ہے معنی یہ ہے تاکہ زبان دل اور انسان کی نیت قران مجید کی تلاوت سے پہلے اللہ رب العزت کے ذکر کے لیے پاک ہو جائے اس کے بعد اللہ رب العزت نے اگلے رکوع میں رکوع نمبر 20 ہے اس میں اللہ رب العزت نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے من کفر باللہ من بعد ایمان اگر کوئی شخص اللہ تعالی کے ساتھ کفر کرتا ہے ایمان لانے کے بعد اس کے بعد اللہ نے اس کا مزید تفصیلات بتائی ہیں بیچ میں اللہ رب العزت نے فرمایا کہ ہاں وہ شخص جس کو کفر کرنے پر مجبور کر دیا جائے لیکن اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو تو اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں تمام علماء کا یہاں پر اتفاق ہے کہ جو شخص کفر کرنے پر مجبور کر دیا جائے مجبورا اس سے کفر کا کوئی کلمہ اس کی زبان سے نکلوایا جائے یا اس سے کوئی ایسا کام کروایا جائے جو کفر پر مبنی ہو لیکن وہ مجبور ہو تو ایسا شخص کافر نہیں سمجھا جائے گا نہ اس کی بیوی کے ساتھ اس کا نکاح ٹوٹے گا نہ اس کو جو ہے وہ استداد کی سزا دی جائے گی نہ ہی اس کے ساتھ دیگر معاملات ہوں گے البتہ جو کافر ہے ایمان لانے کے بعد پھر بھی کفر کرتا ہے اللہ فرماتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے تو بڑا ہی دردناک عذاب ہے کیونکہ ان لوگوں نے دنیا کو اخرت کے اوپر ترجیح دی ہے اور اللہ ایسی قوم کو ہدایت نہیں دیتا بلکہ اللہ رب العزت نے ان کے دلوں پر ان کے کانوں پر ان کی انکھوں پر موہلے لگا دی ہیں اور یہ لوگ اللہ رب العزت کے نزدیک اللہ فرماتے ہیں یہ غافلوں میں شامل ہو جاتے ہیں ان کے اندر ان کا شمار ہوتا ہے پھر اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر 112 میں ایک بستی کی مثال بیان فرمائی ہے بڑی ہی مطمئن تھی ہر طرح سے ہر جگہ سے ان کے پاس وافر مقدار میں رزق اتا تھا تو انہوں نے کیا کیا اللہ تعالی کی نعمتوں کا انکار کرنا شروع کر دیا اللہ کی نعمتوں کا انکار کیا ہوتا ہے سب سے پہلے اللہ تعالی کی عبادت سے منہ موڑنا اللہ کی نافرمانیاں کرنا شروع کر دینا اللہ کے دین کا انکار کر دینا شریعت کا مذاق اڑانا جس طرح سے اج ہماری قوم زیادہ تر معاشرہ ان برائیوں کا شکار ہو چکا ہے اللہ فرماتے ہیں اس کا نتیجہ کیا نکلا اللہ تعالی نے پوری قوم کو بھوک میں مبتلا کر دیا اللہ نے ان کے امن کی جگہ پہ ان کو بد امنی کا شکار کر دیا ان کی اس ناشکری کی وجہ سے اللہ رب العزت نے ان کے ساتھ کیا تو اس کا معنی یہ ہے کہ ہمیں اج اللہ تعالی کی دی ہوئی تمام نعمتوں کی قدر کرنی چاہیے ورنہ ہم بھی اسی طرح کے عذاب کا شکار ہو جائیں گے جس کا ہم کچھ حصہ جو ہے وہ چکھ بھی رہے ہیں اللہ رب العزت ہمیں اسے محفوظ فرمائے اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر 15 میں حرام کردہ چیزوں کا دوبارہ پھر سے تذکرہ کیا ہے اللہ نے مردار مرا ہوا جانور حرام قرار دیا ہے خون بہہ جانے والا اس کو حرام قرار دیا ہے خنزیر کا گوشت حرام قرار دیا ہے ہر وہ چیز جو اللہ رب العزت کے نام کے علاوہ تقسیم کی جائے بانٹی جائے نذر مانی جائے وہ سب حرام ہے اگر کوئی شخص مجبور کر دیا جاتا ہے کسی وجہ سے اس کو جان بچانا ضروری ہے تو وہ وہ چیز تو کھا سکتا ہے جو اللہ کے نام کے علاوہ والی تینوں چیزوں کے اندر شامل ہے یعنی اللہ کے نام کے علاوہ کسی اور کے نام پہ تقسیم کی جانے والی چیز چونکہ اس کے اندر شرک کی امیزش ہے شرک والی وہ چیز نہیں کھا سکتا البتہ وہ مردار میں سے کچھ کھا سکتا ہے دم مسفوم میں سے کھا سکتا ہے خنزیر کے گوشت میں سے کچھ کھا سکتا ہے اپنی جان بچانے کے لیے لیکن دوسری جگہ جیسے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ وہ حد سے بڑھنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو اس کے بعد اللہ رب العزت نے اس پارے کے اخر میں اخری رکوع میں اللہ رب العزت نے ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا تذکرہ کیا ہے یوں سمجھیے کہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالی نے خراج تحسین پیش کیا ہے ایپریسیشن ہے اللہ تعالی کی طرف سے ابراہیم تھے اکیلے ہی قوم تھے اللہ تعالی کے فرمانبردار تھے مشرکوں میں سے نہیں تھے جیسے یہود و نصاری باور کرواتے ہیں اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے اللہ نے ان کو چنا ان کو ہدایت نصیب فرمائی ان کو سیدھے راستے پر چلایا ان کو دنیا میں بہترین انجام دیا اور اخرت میں بھی اللہ رب العزت نے ان کو اپنے نیکوکار بندوں میں شامل کیا اور اس کے بعد اللہ رب العزت نے ہم سب کو بھی حکم دیا نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے کہ اپ بھی ملت ابراہیمی کی پیروی کیجیے ملت ابراہیمی کا معنی اب یہ نہیں ہے کہ یہود و نصاری اور اسلام کو جو ہے وہ ملا کر ایک مذہب بنا لیا جائے گا جیسا کہ وحدت ادیان کے قائل لوگ اس طرح کی بات کرتے ہیں جن میں بطور خاص غامتی جیسے لوگ ہیں اللہ رب العزت ہمیں ان سے محفوظ رکھے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ دین جو ابراہیم علیہ السلام نے پیش کیا تھا اور وہ یقینا دین اسلام تھا اللہ تعالی کا خالص دین تھا اسی کے اوپر جو ہے وہ اللہ رب العزت نے ہمیں بھی چلنے کا حکم دیا ہے اور ساتھ میں ارشاد فرمایا کہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام مشرکوں میں سے نہیں تھے ایت نمبر 125 میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں ادع الی سبیل ربک بالحکمہ والموعظت الحسنہ اللہ تعالی کے دین کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ بہترین نصیحت کے ساتھ اس طرح سے لوگوں کو بلائیے کہ لوگوں کے اوپر جو ہے وہ دین کی طرف انا ان کو گرا نہ گزرے اگرچہ دین میں داخل ہونے کے بعد جو ہے وہ باقی جتنے بھی دین کی جو سختیاں ہیں دین کے جو معاملات ہیں وہ یقینا ان کا تو اطلاق ان لوگوں کے اوپر ہوگا ان کا امپلیمنٹ ہوگا ان کے اوپر لیکن دین کو دعوت دینے میں دین پہنچانے میں لوگوں کو دین کی طرف راغب کرنے میں دین کے اوپر عمل کروانے میں دین کے جو ہے وہ جو مختلف احکام ہیں ان احکام پر عمل کروانے کی صورت میں ان لوگوں کے اوپر کسی طرح کی سختی نہ کی جائے ان کو جو ہے وہ کسی طرح سے جو ہے وہ مصلحت کے ساتھ اور ہمدردی کے ساتھ بہترین طریقے سے اچھے اخلاق کے ساتھ جیسے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا طریقہ ہے اس انداز سے جو ہے وہ لوگوں کو دعوت دی جائے اور اگر کسی معاملے میں اگر جھگڑا کرنا بھی پڑ جائے تو اللہ فرماتے ہیں کہ اس کو بھی بہترین انداز سے اچھے الفاظ کا چناؤ کر کے اس انداز سے دین کی طرف دعوت دی جائے تاکہ لوگوں کے دلوں میں دین کی محبت پیدا ہو دین کے بارے میں نفرت اور جو ہے وہ منفی جذبات پیدا نہ ہوں اس سورت کے اخر میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو اپ صبر کیجیے اور صبر اللہ تعالی کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہے اپ کفار کے بارے میں زیادہ غمزدہ نہ ہوں مشرکین مکہ کے بارے میں زیادہ غمزدہ نہ ہوں جو وہ چالیں چلتے ہیں ان کے بارے میں اپنے سینے کو تنگ نہ کیجیے یاد رکھیے یقینا اللہ رب العزت تقوی اختیار کرنے والوں کے ساتھ ہے اور اللہ رب العزت نیک لوگوں کے ساتھ ہیں اللہ سے دعا ہے جو کچھ میں نے اپ کے سامنے بیان کیا مجھے اور اپ سب کو سمجھنے عمل کرنے اور اگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے استغفر اللہ ولی ولسائر المسلمین والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript