Thumbnail for America Will LOSE This War by Zem TV

America Will LOSE This War

Zem TV

13m 42s2,512 words~13 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Pull quotes
[0:00]کیا اپ تصور کر سکتے ہیں کہ 2026 میں دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ ایک ایسے ملک سے ہار جائے گی جس پر وہ پچھلے 40 سال سے پابندیاں لگا رہا ہے۔
[0:11]یہ میں نہیں بلکہ پروفیسر سائن کا کہنا ہے جن کی ٹرمپ کے حوالے سے دو پریڈکشنز تو سچی ہو چکی ہیں اب تیسری کا انتظار ہے۔
[0:27]یہ کوئی معمولی کانسپریسی تھوری نہیں بلکہ گیم تھوری کے ماہر پروفیسر سائن کی وہ ڈراونی پریڈکشن ہے جو اب تیزی سے حقیقت بنتی جا رہی ہے۔
[0:36]اگر یہ سچی ثابت ہوئی تو اگلے چھ مہینوں میں اپ کے بینک اکاؤنٹ میں پڑا پیسہ کاغذ کی ردی بن کر رہ جائے گا اور دنیا کا نظام ہمیشہ کے لیے بدل سکتا ہے۔
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]کیا اپ تصور کر سکتے ہیں کہ 2026 میں دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ ایک ایسے ملک سے ہار جائے گی جس پر وہ پچھلے 40 سال سے پابندیاں لگا رہا ہے۔

[0:11]یہ میں نہیں بلکہ پروفیسر سائن کا کہنا ہے جن کی ٹرمپ کے حوالے سے دو پریڈکشنز تو سچی ہو چکی ہیں اب تیسری کا انتظار ہے۔

[0:27]یہ کوئی معمولی کانسپریسی تھوری نہیں بلکہ گیم تھوری کے ماہر پروفیسر سائن کی وہ ڈراونی پریڈکشن ہے جو اب تیزی سے حقیقت بنتی جا رہی ہے۔

[0:36]اگر یہ سچی ثابت ہوئی تو اگلے چھ مہینوں میں اپ کے بینک اکاؤنٹ میں پڑا پیسہ کاغذ کی ردی بن کر رہ جائے گا اور دنیا کا نظام ہمیشہ کے لیے بدل سکتا ہے۔

[0:48]اس ویڈیو میں ہم اس سیکرٹ سکرپٹ کو بے نقاب کریں گے جو مین سٹریم میڈیا اپ سے چھپا رہا ہے۔

[0:54]ہم دیکھیں گے کہ کیسے ایران کے 50 ہزار ڈالر کے سستے ڈرونز امریکہ کے ٹریلین ڈالر کے غرور کو مٹی میں ملا رہے ہیں۔

[1:03]اور سب سے بڑھ کر کیا ڈونلڈ ٹرمپ صرف ایمرجنسی وار پاورز یا اپنی ایکسٹینشن کے لیے پوری دنیا کو ایک تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں جس کا راستہ سیدھا سیکرٹ سوسائٹیز اور اینڈ ٹائمز کے ایجنڈا سے نکلتا ہے۔

[1:17]اگلے کچھ منٹوں میں اپ کو سچائی کا وہ پہلو دکھنے والا ہے جس کا شاید دنیا کو اندازہ بھی نہیں ہوگا۔

[1:24]زیم ٹی وی کی ویڈیوز میں ایک بار پھر سے خوش امدید۔

[1:27]ناظرین پروفیسر سائن کی پہلی پیش گوئی یہ تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ الیکشن جیت جائیں گے۔

[1:33]جو کہ بالکل سچی ثابت ہوئی دوسری پیشگوئی یہ تھی کہ ٹرمپ کے پاورز میں اتے ہی امریکہ اور ایران کے بیچ ایک بھیانک جنگ شروع ہو جائے گی اور وہ بھی ہوگئی۔

[1:43]لیکن ان کی تیسری پیشگوئی جس نے سب کے ہوش اڑا دیے وہ یہ تھی کہ اس جنگ میں دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور یعنی امریکہ بری طرح ہار جائے گا۔

[1:54]اور یہ صرف ایک پریڈکشن نہیں ہے اس کے پیچھے کئی لاجیکل ارگیومنٹس بھی ہیں۔

[1:59]اج کی ویڈیو میں ہم اس تیسری اور سب سے خطرناک پیشگوئی کا پورا پوسٹ مارٹم کریں گے اور سمجھیں گے کہ اخر ایک ملٹری سپر پاور ایران سے کیسے ہار سکتی ہے۔

[2:10]پروفیسر سائن جو کہ گیم تھوری اور جیو پولیٹیکل ایونٹس کے بہت بڑے ماہر ہیں۔

[2:15]انہوں نے اپنے نئے انٹرویو میں بالکل کلیئر کر دیا ہے کہ امریکہ کسی بھی صورت میں یہ جنگ نہیں جیت سکتا۔

[2:22]چلیے سیدھا پوائنٹ پر اتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایران اخر اس وقت کہاں کھڑا ہے۔

[2:28]اگر ہم پروفیسر کی ڈیپ انالیسز کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ایران اس جنگ کے لیے پچھلے ایک دو سال سے نہیں بلکہ پورے 20 سال سے تیاری کر رہا تھا۔

[2:38]ان کی اسلامک ریجیم میں اس کو ایک اخری جنگ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

[2:42]جس میں وہ امریکہ کو ایک بڑا شیطان مانتے ہیں۔

[2:46]ایران نے پچھلے سال جون میں ہونے والی جنگ سے بہت زیادہ ایکسپیرینس حاصل کیا۔

[2:51]اس وقت انہوں نے صرف حملہ نہیں کیا بلکہ امریکہ اور اسرائیل دونوں کی طاقت ان کے ڈیفنس سسٹمز کی کمزوریاں اور ان کے حملہ کرنے کے طریقوں کو بہت گہرائی سے اسٹڈی کیا۔

[3:02]ان کے پاس پورے اٹھ مہینے تھے اس نئے حملے کی مکمل تیاری کرنے کے لیے۔

[3:08]اور اس دوران وہ امریکہ کے ساتھ ڈائیلاگ میں ا کر اور کچھ نہیں صرف ٹائم خرید رہے تھے۔

[3:14]سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ایران ڈائریکٹلی لڑنے کے بجائے اپنی پروگز کا بہترین استعمال کر رہا ہے۔

[3:20]ان پروگز میں یمن کے حوثیز، لبنان کی حزب اللہ، پیلسٹائن کا حماس اور عراق اور سیریا کی مختلف شیعہ ملٹینٹس شامل ہیں۔

[3:29]ان سب نے مل کر امریکہ کی مینٹلیٹی اور ان کے لڑنے کے طریقے کو اچھی طرح ریڈ کر لیا ہے۔

[3:36]اب ان کی سٹریٹجی صرف امریکن فوجیوں کو مارنا نہیں بلکہ ان کی ماسٹر سٹریٹجی یہ ہے کہ پوری امریکن ایمپائر اور گلوبل اکانومی کو تباہ کیا جائے۔

[3:46]یہ لوگ ڈائریکٹلی امریکہ سے ٹکرانے کے بجائے ان کنٹریز کو نشانہ بنا رہے ہیں جو امریکہ کی اکانومی کی اصل طاقت ہیں۔

[3:53]یعنی جی سی سی کنٹریز جن میں سعودی عرب، یو اے ای، قطر اور بحرین شامل ہیں۔

[4:00]ایران کی یہ سٹریٹجی کتنی خطرناک اور ویل پلانڈ ہے اس کا اندازہ اپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ وہ صرف ملٹری بیسز پر میزائلز نہیں گرا رہے بلکہ ان عرب ملکوں کے کریٹیکل انرجی انفراسٹرکچر اور پانی کے نظام کو بھی ٹارگٹ کر رہے ہیں۔

[4:14]مڈل ایسٹ کے ان ملکوں میں پینے کے پانی کا کوئی نیچرل ریسورس نہیں ہے۔

[4:18]وہ سمندر کے نمکین پانی کو ڈی سیلی نیشن پلانٹس کے ذریعے پروسیس کر کے استعمال کرتے ہیں۔

[4:24]ان ملکوں کا 60 پرسنٹ سے زیادہ پانی انہی ڈی سیلی نیشن پلانٹس سے اتا ہے۔

[4:30]پروفیسر سائن نے ایک بہت ہی ڈراونی مثال دے کر سمجھایا کہ ایک چھوٹا سا ایرانی ڈرون جس کی قیمت مشکل سے 50 ہزار ڈالر ہوتی ہے اگر وہ سعودی عریبیا کے شہر ریاد کے ایک مین واٹر ڈی سیلی نیشن پلانٹ پر گر جائے اور اسے تباہ کر دے تو اس 10 ملین کی ابادی والے شہر میں صرف دو ہفتے کے اندر اندر پینے کا پانی ختم ہو جائے گا۔

[4:52]ذرا تصور کریں کہ دو ہفتے میں ایک پورا شہر پیاس سے مرنے لگے گا۔

[4:57]اس کے ساتھ ہی ایران نے اس وقت پریکٹیکلی سٹریٹ اف ہرمز جیسے اہم سمندری راستوں کو بلاک کرنا شروع کر دیا ہے جہاں سے ان عرب ملکوں کا 90% کھانا اور اناج اتا ہے۔

[5:10]عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کشیدگی سے صرف تھوڑی بہت مہنگائی ائے گی یا گلوبل اکانومی ڈسٹرب ہوگی۔

[5:16]لیکن اصل میں ایران اس وقت سعودی عریبیا اور یو اے ای جیسے ملکوں کے وجود کو مٹانے کی دھمکی دے رہا ہے۔

[5:24]اور یہاں اپ کا یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ یہ عرب ملک امریکہ کی اکانومی کے لیے بھی ایک ریڈ کی ہڈی کا کام کرتے ہیں۔

[5:32]اس کی اصل وجہ پیٹرو ڈالر کا نظام ہے۔ یہ عرب ملک اپنا ائل دنیا کو ڈالرز میں بیچتے ہیں جس سے ڈالر کی ڈیمانڈ ہمیشہ اوپر ہی رہتی ہے۔

[5:40]پھر یہی ملک ان ڈالرز کو واپس امریکہ کی سٹاک مارکیٹ اور ریل اسٹیٹ میں انویسٹ کر دیتے ہیں۔

[5:46]اج کل امریکہ کی پوری اکانومی اور سٹاک مارکیٹ ارٹیفیشل انٹیلیجنس پر کھڑی ہے۔

[5:52]ان اے ائی ڈیٹا سینٹرز میں سب سے زیادہ ہیوی انویسٹمنٹ انہی گلف اسٹیٹس اور عرب ملکوں کی ہے۔

[5:58]اس جنگ کے چلتے اگر یہ گلف اسٹیٹس اپنا ائل نہیں بیچ پائیں گی تو ظاہر ہے ان کی اکانومی تباہ ہو کر رہ جائے گی۔

[6:06]اور ظاہر ہے پھر وہ امریکہ کے اے ائی سسٹم میں مزید انویسٹمنٹ کرنا بند کر دیں گے۔

[6:12]جس دن یہ عرب انویسٹمنٹ رکی امریکہ کا یہ جھوٹا اے ائی ببل پوری طرح پھٹ جائے گا اور اس کے ساتھ ہی پوری امریکن اکانومی زمین پر ا گرے گی جسے پروفیسر سائن نے اپنی زبان میں ایک فائنینشل پونزی سکیم کا نام دیا ہے۔

[6:27]اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی سب سے ایڈوانس اور طاقتور امریکن فوج ان سستے ڈرونز کا مقابلہ کیوں نہیں کر پا رہی۔

[6:37]اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ امریکن ملٹری کا پورا سٹرکچر اور مائنڈ سیٹ ورلڈ وار ٹو اور کولڈ وار کے زمانے کا بنا ہوا ہے۔

[6:44]کولڈ وار کے دور میں اصل مقابلہ مسل فلکسنگ کا تھا کہ کس کے پاس سب سے مہنگی اور کمپلیکس ٹیکنالوجی ہے۔

[6:51]کون پہلے چاند پر جاتا ہے اور کس کے پاس سب سے بڑے میزائلز ہیں۔

[6:56]امریکہ کا پورا ایئر ڈیفنس سسٹم ایسی ہی مہنگی اور کمپلیکس ٹیکنالوجی پر بیسڈ ہے جس کو بنانے اور چلانے میں اربوں ڈالرز لگتے ہیں۔

[7:05]اس کے برعکس اج کی 21 ویں صدی کی جنگ بالکل بدل چکی ہے۔

[7:10]یہ اے سمیٹرک وار فئر کا دور ہے جہاں ایک بہت سستا ہتھیار ایک بہت مہنگے سسٹم کو تباہ کر سکتا ہے۔

[7:16]حال ہی میں اسرائیل سے انے والی ایک ویڈیو نے پوری دنیا کے ڈیفنس ایکسپرٹس کو حیران کر دیا ہے جہاں ایران کا صرف ایک عام سا بیلسٹک میزائل زمین کی طرف ا رہا تھا اور اس کو ہوا میں روکنے کے لیے امریکہ اور اسرائیل نے 11 الگ الگ انٹرسیپٹر میزائلز فائر کیے۔

[7:34]مگر پھر بھی وہ اسے روک نہیں سکے۔

[7:37]دوسری طرف ایرانی شاہد ڈرونز پوری طرح سے ایران اور رشیا میں ہی بنے ہیں یعنی ان کی سپلائی لائن پر انہیں کسی دوسرے ملک پر ڈیپنڈ نہیں کرنا پڑتا۔

[7:46]شاہد 136 ڈرون جسے گران ٹو بھی کہا جاتا ہے اپنی سادگی اور لو کاسٹ کی وجہ سے ماڈرن وار فیر میں ایک گیم چینجر ثابت ہوا ہے۔

[7:56]ان ڈرونز میں ٹو سٹروک پسٹن انجن ہے جو 185 کلومیٹرز پر ار کی سپیڈ سے 2 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ صرف اور صرف 100 لیٹر فیول میں طے کر سکتا ہے۔

[8:07]اس کو چلانا بھی کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے صرف جی پی ایس کوارڈینیٹس ڈال کر اسے روانہ کر دیا جاتا ہے۔

[8:13]اور کیونکہ یہ بہت لو فلائنگ کرتے ہیں جس کے دو فائدے ہیں۔

[8:18]ایک تو یہ جہاں سے گزرتا ہے خوف پھیلاتا ہوا جاتا ہے اور دوسرا لو فلائنگ کی وجہ سے اس کو انٹرسیپٹ کرنا بھی بہت مشکل ہے۔

[8:25]صرف اٹھ فٹ چوڑا یہ ڈرون 40 کے جی تک بارودی مواد لے کر جا سکتا ہے۔

[8:31]اسے مہنگے انٹرسیپٹر سے روکنا ایسا ہی ہے جیسے گاڑی کو روکنے کے لیے ٹرین کا استعمال کیا جائے۔

[8:37]یو ایس ڈیفنس منسٹر اور جوائنٹ چیف اف سٹاف نے سی این این کو بتایا ہے کہ ایرانی ڈرون امید سے زیادہ بڑا مسئلہ پیدا کر رہے ہیں۔

[8:45]اور انہیں بیلسٹک میزائلز کے مقابلے میں روکنا زیادہ مشکل ہے۔

[8:49]یہ ایک بہت بڑا فائنینشل ڈیزاسٹر ہے۔

[8:52]ایک طرف ایران کا ایک سستا سا ڈرون یا میزائل کچھ ہزار ڈالرز کا ہے جبکہ اس کو گرانے کے لیے امریکہ جو ایک انٹرسیپٹر میزائل چلاتا ہے اس کی قیمت کئی ملین ڈالرز ہے۔

[9:04]جب اپ 50 ہزار ڈالر کے ڈرون کو مارنے کے لیے دو ملین ڈالر کا میزائل چلائیں گے تو یہ جنگ اپ لمبے عرصے تک افورڈ نہیں کر سکتے۔

[9:13]اب امریکہ کے پاس ان مہنگے میزائلز کا سٹاک تیزی سے کم ہو رہا ہے اور انہیں اپنے ایشیا والے ملٹری ریزرووز کو بھی استعمال کرنا پڑ رہا ہے جو انہوں نے چائنہ کے ڈر سے بچا کر رکھے تھے۔

[9:25]یہ اصل میں امریکہ کے اس غرور کے ٹوٹنے کی نشانی ہے جس نے 20 سال سے پوری دنیا پر اپنی بادشاہت قائم کی ہوئی ہے۔

[9:33]اگر یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا تو نہ صرف پیٹرو ڈالر تباہ ہو جائے گا بلکہ دنیا تیزی سے ایک ملٹی پولر ورلڈ کی طرف چل پڑے گی۔

[9:42]جہاں امریکہ کا دنیا پر انفلونس دفن ہو کر رہ جائے گا۔

[9:47]اس سب کے علاوہ ابھی تک امریکہ اور اسرائیل صرف ہوا سے حملے کر رہے ہیں۔

[9:51]لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اج تک دنیا کا کوئی بھی ملک صرف ہوائی حملوں کے ذریعے کسی دوسرے ملک کی حکومت نہیں بدل سکا۔

[9:59]رجیم چینج کے لیے اپ کو ہر حال میں گراؤنڈ ٹروپس کو اتارنا پڑتا ہے۔

[10:04]امریکہ کے ٹاپ افیشلز اور سیکرٹری اف وار کے بیان کے مطابق امریکہ کسی صورت اپنے گراؤنڈ ٹروپس فی الحال ایران بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

[10:14]انے والے چند مہینوں میں امریکہ پر عرب کنٹریز اور اسرائیل کی طرف سے بہت شدید پریشر ائے گا کہ وہ زمینی فوج بھیج کر ایران کے خطرے کو ہمیشہ کے لیے وائپ اؤٹ کر دے۔

[10:25]کیونکہ اگر ان ملکوں کو کچھ ہوا تو امریکہ کا پیٹرو ڈالر بھی ان کے ساتھ ڈوب جائے گا۔

[10:31]تو اب سوال اٹھتا ہے کہ امریکن پریزیڈنٹ ڈونلڈ ٹرمپ ایسی جنگ میں کیوں کود گئے جس کے بارے میں ٹاپ ملٹری کمانڈ نے پہلے ہی وارن کر رکھا تھا۔

[10:40]پروفیسر سائن کے مطابق اس بیوقوفانہ فیصلے کے پیچھے تین بڑے ریزنز ہیں جنہوں نے ٹرمپ کو مجبور کیا۔

[10:47]پہلا ریزن ہے اوور کانفیڈنس۔ حال ہی میں ٹرمپ نے وینزویلا پر جو ایک چھوٹا سا سکسیس فل اپریشن کیا اس سے وہ امریکن ملٹری کی کیپیسٹی کو لے کر اوور کانفیڈنٹ ہو گئے۔

[10:58]بالکل ویسے ہی جیسے ہٹلر نے یورپ کو اسانی سے فتح کرنے کے بعد غرور میں ا کر سوویت یونین پر حملہ کیا تھا جو اخر میں اس کی فوج کی تباہی کا سبب بنا۔

[11:08]دوسرا ریزن ہے پولیٹیکل فائدہ۔ حالانکہ اس جنگ سے امریکہ کا اپنا کوئی فائدہ نہیں ہے لیکن پرسنلی ٹرمپ کو سیاسی اور فائنینشل دونوں فائدے مل رہے ہیں۔

[11:19]سعودی عریبیا اور اسرائیل ان ڈائریکٹلی اس جنگ کے لیے لابینگ کر رہے ہیں۔

[11:23]یاد رکھیں کہ سعودی نے ٹرمپ کے داماد جیرٹ کشینر کے پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ میں دو ارب ڈالرز کی میسو انویسٹمنٹ کی ہوئی ہے۔

[11:32]دوسری طرف اسرائیل کے بڑے فائنینشل بیکرز جیسا کہ میرئم ایڈلسن ٹرمپ کے سیاسی کیریئر کو فنڈ کر رہی ہیں۔

[11:39]بیشک یو ایس کانسٹیٹیوشن کے مطابق پریزیڈنٹ تیسری بار نہیں ا سکتا لیکن میرئم نے کھلے عام کہا ہے کہ اگر ٹرمپ تیسری بار پریزیڈنٹ بننے کے لیے الیکشن لڑتے ہیں تو وہ اسے 250 ملین ڈالرز دیں گی۔

[11:52]یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جنگ کی اڑ میں ڈونلڈ ٹرمپ وار ٹائم پریزیڈنٹ کے طور پر اپنا ٹینیور ایکسٹینڈ کروا لیں۔

[12:00]تیسری وجہ میں پروفیسر نے کھل کر بتایا ہے کہ اگر اپ دنیا کے پرانے لیکس اور ایپسین فائلز کو سٹڈی کریں تو اپ کو سمجھ ائے گا کہ اس دنیا کا نظام اصل میں کچھ سیکرٹ سوسائٹیز چلا رہی ہیں۔

[12:12]ان میں سب سے مشہور گروپ الیمنتی کا ہے جو مزید تین حصوں میں بٹا ہوا ہے۔

[12:17]ایک طرف جیسوٹس ہیں جو ویٹیکن کو کنٹرول کرتے ہیں۔

[12:20]دوسری طرف سیشین فرینکسٹس ہیں جن کا ماڈرن اسرائیل کی پاور سٹرکچر پر ہولڈ ہے اور تیسری طرف فری میسنس ہیں جو امریکہ کے پورے نیشنل سیکورٹی اور ملٹری اپریٹس کو کنٹرول کرتے ہیں۔

[12:33]ان خفیہ اور طاقتور گروپس کا یہ مضبوط عقیدہ ہے کہ اینڈ ٹائمز یعنی اخری زمانے میں مڈل ایسٹ میں ایک عظیم جنگ ہوگی اور ان کے نزدیک اسرائیل کا اس میں شامل ہونا ضروری ہے تاکہ زمین پر ان کا ہیون ان ارتھ قائم ہو سکے۔

[12:49]یہ ایک پہلے سے لکھی ہوئی سپرچول سکرپٹ ہے جس کو یہ لوگ ہر حال میں فالو کر رہے ہیں چاہے اس ایکشن میں کوئی لاجک ہو یا نہ ہو اور چاہے اس کی وجہ سے پوری دنیا کی اکانومی ہی تباہ کیوں نہ ہو جائے۔

[13:03]ان کو صرف اپنے اخری زمانے کے ایجنڈا سے غرض ہے۔

[13:07]یہ تھی پروفیسر سائن کی وہ تیسری پریڈکشن جو اج پہلی دو کے بعد سچی ہونے کے راستے پر نظر ا رہی ہے۔

[13:14]ان سب باتوں کا نچوڑ صرف یہ ہے کہ امریکہ ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے جو اگر قسمت سے بھی جیت جاتا ہے تو پھر بھی یہ امریکہ کے لیے بہت بڑی ہار کہلائے گی۔

[13:25]جس طرح عراق، لیبیا، سیریا اور افغانستان میں ہوا ایران پر حملہ کرنا بھی اپنے پاؤں پہ ہی کلہاڑی مارنے جیسا ہوگا۔

[13:33]اس بارے میں اپ کی کیا رائے ہے مجھے کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیے گا۔

[13:38]امید ہے زیم ٹی وی کی یہ ویڈیو بھی اپ لوگ بھرپور لائک اور شیئر کریں گے۔

[13:42]ملتے ہیں اگلی شاندار ویڈیو میں۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript