[0:01]ایک زمانے میں، گھنے جنگل کے بیچ ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں، ہینسل اور گریٹل اپنے بابا کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کی ماں اس دنیا میں نہیں رہی تھی اور ان کے بابا اپنے خاندان کا سہارا بننے کے لیے ایک لکڑہارے کی حیثیت سے دن رات محنت کیا کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ حالات مزید سخت ہوتے گئے اور زندگی پہلے سے زیادہ دشوار بنتی چلی گئی۔ آخر کار ان کے بابا نے دوسری شادی کر لی۔ ہینسل اور گریٹل اپنے بابا کے ہاتھوں سے بنائے ہوئے لکڑی کے خوبصورت کھلونوں سے سارا دن خوشی خوشی کھیلتے رہتے تھے۔ مگر ان کی نئی ماں کو اپنے سوتیلے بچوں سے ذرا بھی محبت نہ تھی۔ وہ ہمیشہ یہی سوچتی رہتی تھی کہ ان بچوں سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جائے اور اپنی کھڑکی سے بچوں کو دیکھ دیکھ کر جلتی رہتی تھی۔ ایک رات جب ہینسل اور گریٹل سونے کی تیاری کر رہے تھے تو انہوں نے اپنی سوتیلی ماں اور والد کے درمیان ہونے والی بحث سن لی۔ ہر روٹی صبح سے پہلے ختم ہو جاتی ہے۔ اگر بچے یہ ہارے تو ہم سب بھوکے مر جائیں گے۔ خاموش ہو جاؤ۔ میں اپنے بچوں کو ہرگز نہیں چھوڑوں گا ورنہ میں جیتے جی مر جاؤں گا۔ میں کچھ نہیں جانتی۔ کل ہم کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر بچوں کو گھنے جنگل میں چھوڑ آئیں گے۔ ان کے بابا نے بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر سوتیلی ماں اپنے فیصلے پر اڑی رہی۔ یہ سب سن کر گریٹل کی آنکھوں میں آنسو آ گئے مت رو گریٹل۔ ہم کسی نہ کسی طرح گھر واپس آنے کا راستہ ڈھونڈ لیں گے۔ ٹھیک ہے ہینسل۔ ہینسل اپنی چھوٹی بہن سے بہت محبت کرتا تھا۔ اس رات اس نے بڑی ہوشیاری دکھائی۔ جب سب گہری نیند سو گئے تو وہ آہستگی سے گھر سے باہر نکلا اور جتنے چھوٹے بڑے پتھر اسے مل سکتے تھے انہیں ایک ننھے سے تھیلے میں جمع کر لیا۔ اگلی صبح سب لوگ جنگل کی طرف روانہ ہوئے۔ ان کے بابا نے بچوں سے کہا کہ وہ صرف سیر کے لیے جا رہے ہیں۔ جیسے جیسے وہ گھنے درختوں کے درمیان جنگل کے اندر جاتے گئے ہینسل خاموشی سے راستے میں اپنے تھیلے سے چھوٹے بڑے پتھر گراتا گیا تاکہ واپسی کا راستہ یاد رہے۔ موسم خوبصورت خزاں کا تھا۔ مگر جیسے جیسے درختوں کے پتے جھڑ رہے تھے ویسے ویسے ہینسل اور گریٹل کی زندگی بھی آہستہ آہستہ مشکلوں میں بدلتی جا رہی تھی۔ ہینسل اور گریٹل تم دونوں یہیں بیٹھے رہو، کہیں مت جانا۔ ہم ابھی آتے ہیں۔ اس وقت ان معصوم بچوں کو کچھ یوں محسوس ہوا ہو گا۔ خزاں کی سرد ہواؤں نے یہ سکھا دیا ہمیں کہ ہر اپنا ہمیشہ اپنا نہیں رہتا۔ کچھ لوگ موسموں کی طرح بدل جاتے ہیں اور کچھ ساتھ اندھیروں میں چھوڑ جاتے ہیں۔ اپنی ڈرامہ بازی بند کرو۔ وہ بچوں کو جنگل میں تنہا چھوڑ کر وہاں سے چلے گئے اور دوبارہ واپس نہ آئے۔ جیسے ہی رات چھائی جنگل خوفناک آوازوں سے بھر گیا اور ڈرے سہمے ہینسل اور گریٹل ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئے۔ چلو گریٹل چاند کی روشنی میں راستہ اب صاف نظر آرہا ہے اب ہمیں چلنا چاہیے۔ جب چاند نکلا تو راستے میں بکھرے پتھر چمکنے لگے اور ہینسل اور گریٹل کو گھر واپس جانے کا راستہ دکھانے لگے۔ اپنے بچوں کو دوبارہ دیکھ کر ان کے بابا خوشی اور شرمندگی دونوں محسوس کر رہے تھے۔ مگر سوتیلی ماں نے صرف ایک جھوٹی سی مسکراہٹ دکھائی۔ زندگی ہر گزرتے دن کے ساتھ سخت ہوتی گئی اور دل پر فکر کے سائے گہرے ہوتے گئے۔ ہم مسکراتے تو رہے سب کے سامنے مگر اندر ہی اندر خواب ٹوٹتے گئے۔ ہینسل اور گریٹل کی زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہوتی جا رہی تھی۔ اس رات جب وہ سونے گئے تو ان کی سوتیلی ماں نے چپکے سے باہر سے ان کے کمرے کا دروازہ بند کر دیا تاکہ ہینسل دوبارہ پتھر جمع نہ کر سکے۔ اگلی صبح وہ سب دوبارہ خوبصورت وادیوں اور سنہرے پتوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے جنگل کی طرف روانہ ہوئے۔ مگر ہینسل بہت ہوشیار تھا۔ راستے بھر وہ خاموشی سے اپنی جیب سے روٹی کے ٹکڑے گراتا گیا۔ اس امید کے ساتھ کہ وہ انہیں واپس گھر کا راستہ دکھا دیں گے۔ خضاں کی زرد شاموں نے یہ راز سکھا دیا کہ اپنے بھی وقت آنے پر بدل جاتے ہیں۔ جن ہاتھوں کو تھاما تھا عمر بھر کے لیے وہی ہاتھ بیچ راستے میں چھوڑ جاتے ہیں۔ ہینسل اور گریٹل تم دونوں یہیں بیٹھے رہو، کہیں مت جانا۔ ہم ابھی آتے ہیں۔ ابدی نہ کرو چلو۔ دوپہر ہوتے ہوتے ان کے بابا اور سوتیلی ماں ایک بار پھر بہانا بنا کر وہاں سے چلے گئے اور معصوم بچوں کو دوبارہ جنگل میں تنہا چھوڑ دیا۔ فکر نہ کرو گریٹل اس بار میں نے راستے میں روٹی کے ٹکڑے گرا دیے ہیں جو ہمیں گھر واپسی کے راستے میں مدد کریں گے۔ مگر اس بار واپسی کے راستے کا کوئی سراغ نہ بچا کیونکہ پرندے روٹی کے سارے ٹکڑے کھا گئے تھے اور ہینسل اور گریٹل جنگل میں ادھر ادھر بھٹکتے پھرنے لگے۔ کئی گھنٹوں تک جنگل میں بھٹکنے کے بعد اچانک ان کی نظر ایک عجیب و غریب گھر پر پڑی۔ یہ گھر بہت ہی عجیب ہے میں نے ایسا گھر کبھی نہیں دیکھا۔ اس گھر کی دیواریں بسکٹ کی بنی ہوئی تھیں۔ چھت میٹھی مٹھائیوں سے سجی ہوئی تھیں۔ جبکہ کھڑکیاں چاکلیٹ کی تھیں جن پر رنگ برنگی کریم لگی ہوئی تھیں۔ یہ کیک تو بہت ہی مزیدار لگ رہے ہیں۔ ہاں اور خوشبو کتنی اچھی ہے چلو کھا کر دیکھتے ہیں۔ اپنی ساری تھکن اور خوف کو کچھ دیر کے لیے بھلا کر ہینسل اور گریٹل خوشی خوشی اس عجیب و غریب گھر کی طرف دوڑ پڑے۔ کیونکہ کئی گھنٹوں کی بھوک اور تکلیف کے بعد انہیں پہلی بار امید کی ایک چھوٹی سی روشنی دکھائی دی تھی۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ہر چمکتی ہوئی چیز ہمیشہ خوشی اور سکون نہیں لاتی۔ کون ہے جو میرے پیارے سے میٹھے سے گھر کو کتر رہا ہے۔
[5:55]پیارے سے بچوں آپ دونوں کون ہو اور یہاں کیوں آئے ہو؟ دکھی دل کے ساتھ ہینسل اور گریٹل نے اسے اپنی پوری کہانی سنائی کہ کس طرح ان کی سوتیلی ماں نے ان کے بابا کو جنگل میں انہیں اکیلا چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔ او وہ اکیلے چھوڑ دیے گئے ہو بہت بھوکے ہو گے چلو اندر آجاؤ تمہارے لیے بہت سارا کھانا تیار ہے۔
[6:34]آپ کا بہت بہت شکریہ۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔ کوئی بات نہیں میرا گھر اپ جیسے بچوں کے لیے ہمیشہ کھلا ہے۔ کھانا کھانے کے بعد مزے سے آرام کرو اور سکون سے سو جاؤ۔ دونوں بھائی بہن نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور دن بھر کی تھکن کی وجہ سے ان کی انکھیں بند ہو رہی تھیں اسی لیے وہ فورا سونے چلے گئے۔ شکر ہے ہمیں یہ گھر مل گیا۔ اب میں خود کو بہت زیادہ محفوظ محسوس کر رہی ہوں۔ ہاں شکر ہے۔ اتنی پرسکون نیند کے بعد دونوں بھائی بہن ایک خوبصورت اور حسین صبح کو جاگے۔ جہاں نرم دھوپ کھڑکیوں سے اندر آرہی تھی۔
[7:25]گریٹل اٹھو صبح ہو گئی ہے۔ چلو اس انوکھے گھر میں گھومتے ہیں۔ گریٹل جلدی اؤ دیکھو یہ دروازہ کتنا عجیب ہے۔ اؤ دیکھتے ہیں اس کمرے میں کیا ہے۔ ہاں چلو دیکھتے ہیں کیا ہے اس کمرے میں۔
[7:46]جیسے ہی انہوں نے دروازہ کھولا وہ کمرہ بہت سارے سونے اور جواہرات سے بھرا ہوا تھا اور یہ دیکھ کر دونوں دنگ رہ گئے۔ ارے واہ اتنا سارا خزانہ اس بوڑھی عورت کے پاس کہاں سے آیا؟ چلو دروازہ بند کر دیتے ہیں اس سے پہلے وہ آ جائے۔
[8:08]چلو وہ سامنے والے کمرے میں چل کر دیکھتے ہیں۔ اس کمرے کی حالت دیکھ کر دونوں بہت ڈر گئے اور انہیں پورا گھر عجیب لگنے لگا اسی لیے انہوں نے وہاں سے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ مجھے اب اس گھر سے ڈر سا لگنے لگا ہے۔ چلو یہاں سے نکل چلتے ہیں۔ مگر جیسے ہی وہ وہاں سے نکلنے لگے اس بار ان کے سامنے ایک نہایت خوفناک منظر آ چکا تھا جس نے ان کے پاؤں تلے سے زمین نکال دی۔ ہاہاہاہا ہاہاہاہا ان کے سامنے ایک خوفناک چڑیل کھڑی تھی اسے دیکھتے ہی ہینسل اور گریٹل خوف سے کانپنے لگے دراصل یہ وہی مہربان بوڑھی عورت تھی جو اصل میں ایک خطرناک چڑیل نکلی۔ تم دونوں نے یہاں کھانا کھایا آرام کیا سکون سے سوئے اب میری باری ہے۔ ہاہاہاہا تم تو بہت کمزور ہو اب تم اس پنجرے میں رہو گے جب تک تگڑے اور موٹے نہیں ہو جاتے۔ گریٹل خوف سے یہ سب دیکھتی رہ گئی۔ جبکہ چڑیل نے فورا ہینسل کو پکڑ کر ایک لوہے کے پنجرے میں بند کر دیا۔ پھر چڑیل اپنی خوفناک ہنسی ہنستی ہوئی گریٹل کو زور سے پکڑ کر ایک گندے سے باورچی خانے میں لے گئی۔ تم اپنے بھائی کے لیے خوب کھانا بنا کر اسے کھلاؤ۔ جب وہ موٹا ہو جائے گا میں اسے کھا لوں گی۔ تم کچھ نہیں کھاؤ گی۔ سارا کھانا تمہارے بھائی کے لیے ہے۔ گریٹل خوف سے کانپتی رہ گئی جبکہ چڑیل جا کر ہینسل کے پنجرے کے سامنے بیٹھ گئی تاکہ اس پر کڑی نظر رکھ سکے۔ بیچارہ ہینسل دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ ایک طرف ظالم سوتیلی ماں تھی اور اب دوسری طرف یہ خوفناک چڑیل مل گئی۔ مگر ہینسل نے چڑیل کی بات نہ ماننے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ جیسے ہی چڑیل سو جاتی وہ گریٹل کے لائے ہوئے کھانے کو چپکے سے زمین میں دبا دیتا اور کئی دنوں تک یہی کرتا رہا۔ ایک دن چڑیل اچانک ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ کیونکہ اسے کافی دنوں سے ہینسل پر شک ہونے لگا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اتنا کھانا کھانے کے باوجود ہینسل اب تک کمزور کیوں تھا؟ اتنے دن ہو گئے تم موٹے کیوں نہیں ہو رہے؟ بتاؤ میں تمہاری بہن کی خبر لیتی ہوں ابھی۔ کیا اپنے بھائی کو کھانا نہیں دے رہی؟ وہ اب تک موٹا کیوں نہیں ہوا۔ موٹا ہو یا دبلہ آج تو میں تمہارے بھائی کو کھا جاؤں گی۔
[10:49]تمہارا بھائی اس تندور میں آج پکے گا جاؤ جا کر دیکھو تندور گرم ہوا یا نہیں۔ مجھے نہیں لگتا تندور صحیح سے گرم ہوا ہے۔ آپ خود دیکھ لو۔ ہٹو مجھے دیکھنے دو۔ گریٹل نے اس موقعے پر بہت حوصلے سے کام لیا اس نے رونا دھونا بند کیا اور غصے میں آکر پوری طاقت سے چڑیل کو زور سے دھکا دے دیا۔ اور چڑیل سیدھی بھڑکتی ہوئی آگ میں جا کر جل گئی۔ کبھی کبھی زندگی انسان کو اتنی سخت آزمائشوں سے گزارتی ہے کہ خوف زدہ بچے بھی وقت آنے پر بہادر بن جاتے ہیں۔ پھر گریٹل نے فورا پاس پڑی ایک ہتھوڑی اٹھائی اور بھاگتی ہوئی ہینسل کے پنجرے تک پہنچی۔ جہاں اس نے زور زور سے مار کر پنجرے کا دروازہ توڑ دیا۔ ارے واہ میری بہن تو بہت بہادر نکلی۔ شکریہ بھائی چلو جلدی سے بھاگ جاتے ہیں آگ بہت بھیلنے والی ہے۔ بھاگتے وقت ہینسل کے ذہن میں اچانک ایک خیال آیا اس نے فورا پاس پڑی ایک خالی بوری اٹھائی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ان کی مشکلوں بھری زندگی میں یہ خزانہ شاید ایک نئی امید بن سکتا ہے۔ پھر دونوں بہن بھائیوں نے جلدی جلدی اس میں جتنے سونے کے سکے بھر سکتے تھے بھر لیے۔ جبکہ پیچھے آگ تیزی سے پورے گھر میں پھیلتی جا رہی تھی۔ اس خوفناک گھر سے باہر آنے کے بعد دونوں نے سکون کی سانس لی۔
[12:15]اور ڈھلتے سورج کی سنہری روشنی میں نہر کے کنارے بیٹھ کر پانی پیا اور اپنے چہرے صاف کیے۔ اس شام ان کو اپنی اصل ماں کی بڑی یاد آئی وہ شام کچھ عجیب تھی۔ یہ شام بھی عجیب ہے۔ وہ کل بھی پاس پاس تھی۔ وہ آج بھی قریب ہے۔ کاش ماما زندہ ہوتے ہماری۔ مجھے ان کی بہت یاد آ رہی ہے۔ گریٹل کی بات سن کر ہینسل کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا کیونکہ ماں کی کمی وہ دونوں ہر مشکل لمحے میں شدت سے محسوس کرتے تھے۔ مگر اس خوفناک گھر سے نکلنے کے بعد بھی ان کی مشکلیں ختم نہ ہوئیں۔ کیونکہ وہ اب بھی گھر کا راستہ ڈھونڈ رہے تھے۔ اور بھٹکتے بھٹکتے اونچی پہاڑیوں اور سنسان راستوں سے گزرتے رہے۔ بھائی وہ دیکھو وہ رہا ہمارا گھر۔ زندگی ایک پل درد کا گاؤں ہے اور ایک پل سکھ بھری چھاؤں ہے۔ تھوڑے آنسو ہیں تھوڑی ہنسی آج غم ہے تو کل ہے خوشی۔ زندگی کی یہی ریت ہے۔ ہار کے بعد ہی جیت ہے۔ غم کا بادل جو چھائے تو ہم مسکراتے رہیں۔ اپنی آنکھوں میں آشاؤں کے دیپ جلاتے رہیں۔ آج بگڑے تو کل پھر بنے۔ آج روٹھے تو کل پھر منے۔ وقت بھی جیسے ایک ریت ہے زندگی کی یہی ریت ہے۔ مجھے معاف کر دو میرے بچوں۔ میں نے بہت بڑی غلطی کی۔ اب میں تمہیں کبھی اپنے سے دور نہیں ہونے دوں گا۔
[13:49]بابا میں اپ کی بہت یاد ائی دیکھو بابا ہم صحیح سلامت واپس اگئے ہیں۔
[13:57]ہینسل اور گریٹل نے اپنے بابا کو بتایا کہ کس طرح وہ میٹھے گھر کے جال میں پھنس گئے تھے اور چڑیل کی قید میں رہے۔ پھر ان کے بابا نے بتایا کہ ان کی سوتیلی ماں گھر چھوڑ کر جا چکی ہے۔ اور دونوں نے انہیں وہ سونے کے سکے بھی دکھائے جو وہ اپنے ساتھ لائے تھے۔ تم دونوں کا واپس آ جانا ہی میرے لیے سب سے بڑا خزانہ ہے۔ اس کے بعد ہینسل گریٹل اور ان کے بابا ہمیشہ خوشی خوشی رہنے لگے کیونکہ زندگی اخر کار انہی لوگوں کو سکون دیتی ہے جو ہر مشکل کے بعد بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتے۔ گڈ نائٹ بچوں۔ گڈ نائٹ پاپا۔



