Thumbnail for null by null

55m 13s7,871 words~40 min read
Auto-Generated

[0:00]یہ عربوں کے پاس چھوڑ دیا گیا۔ اس وقت جو بادشاہ ہیں شاہ حسین اردن کے ان کے دادا۔ سب سے بڑے غدار وہی تھے۔ لہذا ان کو اس علاقے کی بادشاہت دے دی گئی۔ اس کے بعد نجف سے ایک تحریک اٹھی ہے وہ سعودی جو خاندان ہے وہ نجف سے اٹھا۔ نجف میں اس وقت کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ تو صرف ریت کے تودے تھے اور کچھ بھی نہیں۔ لہذا ادھر کسی استعماری قوت کو دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ وہ تو بعد میں تیل برامد ہوا اور اس کی حیثیت ہو گئی اور یہ امارات کا علاقہ جو ہے اس کی دنیا میں اب گویا کہ یوں سمجھیے کہ جو سب سے زیادہ اہم علاقے ہو سکتے ہیں روئے عرضی کے نقشے پر ان میں سے ایک وہ ہو گیا لیکن یہ اس وقت کی بات میں کر رہا ہوں کوئی حیثیت نہیں تھی لہذا اس کو چھوڑ دیا گیا۔ یہ ہے تاریخی پس منظر یہ لکیریں جو کھینچی گئی ہیں یہ ایک ملت اسلامیہ کو جو قومیتوں میں تقسیم کیا گیا پھر نعرے لگوائے گئے المصری الشام الشامی اب شامی ایک علیحدہ قوم ہو چکے ہیں مصری ایک علیحدہ قوم ہو چکے ہیں عراقی ایک علیحدہ قوم ہو چکے ہیں یہ ساری تقسیمیں استعمار کی پیدا کردا ہیں اس کا کوئی تعلق اسلام کے ساتھ نہیں ہے۔ اب ضرورت تو اس بات کی تھی کہ استعمار کے پنجے جب یہاں سے کچھ ہٹے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک دور ایا۔ امریکہ ابھرا ہے دنیا کی عالمی سطح پر سیاست میں۔ اس کے ہاں کچھ ازادی کے تصورات تھے۔ اس نے بھی سپورٹ کیا۔ برطانیہ کمزور ہو چکا تھا وہ اتنے بڑے علاقے کو اب ہولڈ نہیں کر سکتا تھا۔ ہندوستان بھی ازاد ہوا۔ پھر یہ کہ اور دوسرے علاقوں سے بھی اس کو پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ استعمار کے پنجے جس طرح بھی ہوئے ان کے سینوں سے عربوں کے سینوں سے جو ہیں گویا کہ وہ ہٹے۔ لیکن امریکہ نے ایک اپنی بہت بڑی حکمت عملی جو اختیار کی۔ عالم عرب کے سینے میں اسرائیل کا خنجر پیوست کر دیا۔ تاکہ یہ کبھی ازاد نہ ہو جائیں۔ ہمارے انگوٹھے تلے رہیں۔ ہماری پالیسی گورن کرے۔ یہ استعمار کا دوسری جنگ عظیم کے بعد جہاں برطانوی استعمار، فرانسیسی استعمار رفتا رفتا یہ ہٹنے شروع ہوئے۔ صدر ناصر نے انگریزوں کو اٹھا کر پھینکا میری ٹرینین میں اور دوسرے جگہوں سے الجزائر نے ازادی حاصل کی فرانس سے۔ اطلویوں سے بھی جو ہے لیبیا والوں نے ازادی حاصل کی۔ یہ ہو گیا۔ لیکن ایک خنجر پیوست کر دیا گیا اسرائیل کا سینہ عرب۔ اس صورتحال میں ظاہر بات ہے کہ ایک تو بڑی ائیڈیل پوزیشن تھی کہ پورا عالم اسلام متحد ہو۔ لیکن وہ تو بہت دور کا خواب معلوم ہوتا ہے۔ علامہ اقبال سے بڑا کوئی نقیب نہیں ہے ملت اسلامی کی وحدت کا۔ ایک ہو مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے نیل کے ساحل سے لے کر تا بخا کے کاش کر۔ لیکن انہیں بھی اپنے لیکچرز میں کہنا پڑا کہ اس وقت جو صورتحال ہے۔ پورے عالم اسلام کی ایک وحدت بن جانا تو تقریبا ناممکن نظر ا رہا ہے۔ اگر کسی طرح ایک کامن ویلتھ اف مسلم نیشنز وجود میں ا جائے تو بھی بڑی کامیابی ہوگی۔ لیکن اس سے بھی پہلے یہ تو زیادہ اسان تھا کہ عالم عرب ایک وحدت کی شکل اختیار کر لے۔ یہ تو ایک قوم ہے۔ اکثر و بیشتر ایک نسل یا زائد از دو نسلیں کہہ دیجیے۔ شمالی افریقہ میں بربر نسل بھی ہے باقی تو سب عرب ہیں۔ یہ پورا عالم ایک نسل، ایک زبان، پورے اتنے رقبے کے اوپر بولے جانے والی ایک زبان۔ یہ تو ایک ہو جائیں۔ افسوس یہ ہے کہ اس کا ایک ہو جانا ایک شخصیت ابھری تھی۔ جو مذہبی مزاج کی شخصیت تھی۔ جو دینی مزاج کی حامل شخصیت تھی۔ اگر اس کی قیادت میں عالم عرب متحد ہو جاتا تو واقعتا ایک بہت بڑا جو ہے مرحلہ وہ طے ہو جاتا پوری عالمی ملت اسلامیہ کی ایک وحدت اختیار کرنے کا۔ وہ شخصیت تھی شاہ فیصل شہید کی۔ اور اس لفظ کے ساتھ ہی اپ کے ذہن میں اگیا ہوگا کیوں انہیں شہید کر دیا گیا۔ کس نے کیا کرایا؟ کہاں سے تعلیم حاصل کر کے ایا تھا وہ جس نے شہید کیا شاہ فیصل شہید کو۔ اس کی گردن پر کون سوار تھی وہ یہودی لڑکی کہ جس کے فوٹو بھی شائع ہوئے کہ گردن پر اٹھائے کھڑا ہوا شہزادہ اپنی ایک یہودی دوست کو، لڑکی کو۔ اور وہی ہے کہ جس نے جا کر پستول سے شہید کیا ہے۔ جان میں اچھی طرح جان لیجئے جیسے بارہا میں نے عرض کیا ہے کہ حضرت عمر کو شہید کرنے والا کہنے کو ابو لولو فیروز تھا لیکن اس کے پیچھے پورا ایرانی نسل پرستی کا جو پورا پس منظر ہے اسے تو ہر شخص جس کی ذرا بھی نگاہ جو ہے جو صرف جو صرف منظر کو نہ دیکھ رہی ہو پس منظر کو بھی دیکھنے والی ہو۔ وہ تو جان لے گی کہ ابو لولو فیروز ایک شخص کا نام نہیں تھا۔ وہ ایران کا انتقام تھا عالم عرب سے۔ بالکل اسی طریقے سے یہ یہ امریکی استعمار کا ہتھکنڈا تھا۔ اسے محسوس ہوا۔ شاہ فیصل مذہبی مزاج کا شخص یہ ابھر رہا ہے۔ اور یہ شاہ فیصل کی حکمت عملی کا ذرا اپ اندازہ کیجیے۔ لاہور میں سمٹ کانفرنس ہوئی اس میں وہ ائے۔ سب سے ٹاورنگ پرسنلٹی پورے اس وقت عالم اسلام کے شاہ فیصل کی تھی۔ اور وہ گویا کہ ایک بہت ہی جس کو کہا جائے کہ ایک بہت ایلڈرلی ایک بزرگانہ ایک شخصیت جو ہے اور انہوں نے اپنی دولت کے دروازے عرب میں وہ مشہور تھے کہ نہایت خصیص اور بخیل انسان ہے۔ اس لیے کہ وہاں وہ خرچ کرتے تھے حساب کتاب کے ساتھ۔ لیکن ان کے خزانے کھلے ہوئے تھے عالم اسلام کے لیے ادھر بھی مدد ہے ادھر بھی مدد ہے ادھر بھی کام ہو رہا ہے ادھر بھی کام ہو رہا ہے۔ پھر انہوں نے تیل کا ہتھیار استعمال کر کے ایک دفعہ امریکہ کو دن میں تارے دکھا دیے تھے۔ لہذا ان کا ہٹایا جانا سین سے یہ امریکی استعمار کے لیے لازم تھا۔ اب لے دے کر رہ گئے کون سیکولر مزاج کے لوگ۔ پہلی اٹیمپٹ جمال عبدالناصر نے کی۔ ناکام ہو گیا۔ قذافی صاحب نے کوشش کی کہ وہ ان کی جانشینی حاصل کر لے ناکام ہو گیا۔ اب ایک تیسری شخصیت صدام حسین کی۔ ملہد ہے۔ اسلام سے کوئی سروکار نہیں۔ باع کا فلسفہ سیکولرزم پلس عرب نیشنلزم یہ اصول ہے۔ لیکن یہ ہے کہ یہ شخصیت ابوبکر ایسی ائی ہے کہ اس سے اس وقت یہ جان لیجئے میں امریکہ میں بھی عربوں سے مل کر ایا ہوں۔ سعودی عرب میں بھی اب میں وہ دیکھ ایا ہوں۔ نوجوان نسل جو ہے عربوں کی۔ پورا جو دوسرے عرب ممالک ہیں جہاں پر کہ مذہب کا اتنا چرچا ہی نہیں ہے۔ پورا فلسطینی عرب، جارڈن کے عرب، شامی عرب عوام وہ سب کے سب صدام کے پیچھے ہیں ایسے اس لیے کہ انہیں نظر ا رہا ہے کہ ایک شخص پھر ایسا پیدا ہو کر سامنے اگیا ہے جو شاید عالم عرب کو پھر یونائیٹ کر دے۔ اور یہ ہے اصل وہ شے کہ جو امریکہ کے لیے کسی صورت میں قابل قبول نہیں۔ دولت کے یہ ذخائر خلیج کی یہ دولت سیال سونا اور اس کے ذخیرے اور یہ کسی طریقے سے یہ امریکہ کے زیر اثر نہ رہے۔ یہ ہے وہ شے جو اسے برداشت نہیں ہے۔ وہ کوئی عربوں کی کی محبت میں نہیں ایا ڈھائی لاکھ فوج لے کر۔ وہ کوئی شاہی عرب جو خاندان ہے سعودی اس سے اس کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ کوئی پتہ نہیں کہ وہ خود ان کو ہٹا دے اور وہاں پر کوئی جمہوری ڈھانچہ جو ہے وہاں پہ کھڑا کروا دے خود امریکہ۔ اس لیے کہ سعودی عرب میں میں دیکھ ایا ہوں۔ حالات اگرچہ ظاہر بات ہے کہ زیادہ گہرائی میں تو وہاں جانے کا موقع ہی نہیں ہوتا۔ بہت ہی مستبد حکومت ہے۔ لیکن صاف نظر ا رہا ہے کہ اس وقت دونوں طبقے نوجوانوں کے جو ہیں وہ شاہی اس خاندان کے شدید خلاف ہو چکے ہیں۔ جو وہاں پر جدید مثقف طبقہ ہے۔ جدید تعلیم یافتہ جو باہر پڑھ کر ایا ہے امریکہ میں اور کہیں اور اور وہ کثیر تعداد میں اب وہ صاف سوال کر رہے ہیں کہ یہ بلینز اینڈ بلینز اف ڈالرز کے جو ہمارا خرچہ اتا تھا ہمارے ہتھیاروں کے ارڈر جاتے تھے وہ کہاں گئے؟ کل 65 ہزار فوج۔ اور عرب کے پاس سعودی عرب کے پاس اتنے ٹینک بھی نہیں ہیں جتنے کہ یمن جیسے غریب ملک کے پاس ہیں۔ تو ہمارا روپیہ یہ گیا کہاں؟ یہ ایک سوال ہے جو ہر شخص کے ذہن کے سامنے ہے۔ اب ہمیں اپنے معاملات کو خود سنبھالنا ہوگا۔ اسی طریقے سے جو مذہبی طبقہ ہے اور وہاں ہیں بڑی تعداد میں مذہبی طبقہ نوجوان۔ جن میں بڑا جذبہ ہے اور ان کا وہ جوش جہاد انہیں جہاد افغانستان تک لے کر ایا ہے۔ سینکڑوں عرب نوجوان یہاں جو ہیں شہید ہوئے ہیں۔ اپنے ملک میں تو انہیں بولنے کی بھی کوئی امکان نہیں ہے۔ لیکن یہاں وہ جذبہ جو اندر اندر پروان چڑھ رہا ہے۔ وہ جذبہ انہیں لایا ہے اور افغانستان کی سنگلاخ وادیوں کے اندر انہوں نے جام شہادت نوش کیا ہے۔ وہ طبقہ بھی شدید مخالف ہو چکا ہے۔ کہ انہوں نے امریکیوں کو بلا کر ان میں یہودی بھی ہیں۔ عیسائی تو ہیں ہی ہیں یہودی ہیں۔ یہودی عورتیں ہیں۔ جو کچھ اب وہاں بے حیائی اور بے پردگی کے مناظر نظر ا رہے ہیں۔ یہ سرزمین عرب میں نے امریکہ میں تقریر سنی ہے اسنا کے جو فائنل ان کا ایک سیشن تھا اسلامک سوسائٹی اف نارتھ امریکہ جس میں میں مدعو کیا گیا تھا اور اسی لیے میں نے یہ سفر کیا تھا۔ ایک نوجوان نے جو تقریر وہاں پر کی ہے واقع یہ ہے کہ میں حیران رہ گیا اس کی جرت کا۔ اس نے کہا کہ حضور نے فرمایا تھا کہ جزیرہ نمائے عرب میں دو دین جمع نہیں ہو سکتے۔ اور اج شاہی خاندان کی صرف اپنی حکومت کو بچانے کے لیے امریکیوں کو اتنی بڑی تعداد میں بلا لیا گیا ہے جن میں موبائل چرچ بھی ہیں۔ موبائل سنے گوز ہیں۔ یہودی مرد اور عورتیں جو ہیں دھن دھناتے پھر رہے ہیں اج عرب کی سرزمین پر۔ لہذا جو مذہبی طبقہ ہے وہ اس پر شدید رد عمل جو ہے اس کے اندر پایا جاتا ہے۔ یہ حالات ہیں جو میں اپ کے سامنے چاہتا تھا کہ رکھوں۔ یہ وہ شامت اعمال ہے۔ ایک طرف یہ کہ وہ شخصیت جو ہے صدام حسین کی وہ کوئی پسندیدہ شخصیت نہیں ہے۔ لیکن یہ ہے کہ اس شخصیت کو تقویت دینے والے بھی تو یہی لوگ تھے۔ انہیں خطرہ تھا ایران کے انقلاب سے کہ کہیں اسی قسم کا کوئی انقلاب ہمارے ہاں نہ ا جائے۔ لہذا انقلاب ایران کو ایکسپورٹ نہ ہونے دیں اس لیے انہوں نے اسی صدام حسین کو بلینز اینڈ بلینز اف ڈالرز کی مدد دی ہے۔ اج وہی ہے عربی کی تو ایک کہاوت بھی ہے سم من کلبک یاکلک اپنے کتے کو کھلا پلا کے موٹا کرو کسی روز تم ہی کو کاٹے گا۔ اج وہ تو انہیں کاٹ رہا ہے۔ لیکن یہ کہ اس کا جو علاج تجویز ہوا ہے وہ انتہائی خوفناک ہے۔ ڈھائی لاکھ امریکی وہ استعمار کے پنجے جو بمشکل عالم عرب کے سینے سے جو گڑے ہوئے ہوئے تھے اس استعمار نے مشکل ہٹے تھے کہ ایک دم اب وہاں پر خبریں ا رہی ہیں۔ فرانسیسی بھی ا رہے ہیں برطانوی بھی ا رہے ہیں۔ کہاں کہاں سے فوجیں ا رہی ہیں۔ اور وہاں پر ڈھائی لاکھ جو صرف امریکن ارمی کا اس میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ تو پہنچ چکی ہیں۔ اور جو بھی ہوگا وہاں پر جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے اس قدر خوفناک سین ہیں۔ میں نے بہت سے حضرات واقف ہوں گے کئی مرتبہ میں نے حوالہ دیا ہے مولانا سید حامد میاں رحمہ اللہ کا۔ انہوں نے ایک دفعہ مجھے بتایا تھا کہ احادیث میں جو قرب قیامت کے حالات و واقعات کی پیشنگوئیاں ہیں۔ ان میں یہ ہے کہ وہ جو اخری جنگ ہونی ہے جو کہ دجال کے خلاف ہوگی مسلمانوں کی اور جس میں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول ہوگا جس کے سلسلے میں اس سے پہلے ایک جنگ ہوگی بہت خوفناک، بہت خوفناک۔ اور عجیب الفاظ ان کے یہ تھے کہ اس میں ایک طرف مسلمان اور عیسائی اور یہودی تینوں ہوں گے۔ یہ بات سمجھ میں نہیں اتی تھی کہ مسلمان اور یہودی ایک جگہ کیسے جمع ہو سکتے ہیں؟ اج وہ نقشہ نظر اگیا ہے اج اسرائیل، امریکہ، سعودی عرب اب یہ ایک ہیں۔ بلکہ چلتے ائیے مصر، اسرائیل، سعودی عرب اور جو بھی ان کے حواری ہیں وہ سب ایک صف میں کھڑے ہیں۔ اور ان کے اوپر سیادت کس کی ہے؟ امریکہ کی۔ وہ نشہ اگیا ہے۔ اور اس جنگ کے سلسلے میں مولانا حامد میاں رحمہ اللہ نے مجھے بتایا تھا کہ حدیث میں الفاظ ائے ہیں۔ اتنے لوگ ہلاک ہوں گے، اتنے لوگ ہلاک ہوں گے، اتنے لوگ ہلاک ہوں گے کہ ایک پرندہ سینکڑوں میل تک اڑتا ہوا چلا جائے گا اور اسے سوائے لاشوں کے اور کچھ نظر نہیں ائے گا۔ یہ نقشہ خاکہ بدہن تلا ہوا ہے، کھڑا ہوا ہے۔ جو بھی ہوگا کیمیاوی جنگ، کیمیاوی مارشل، کیمیکل وارفیئر اور پھر ایٹامک وارفیئر۔ جس کی کھلی دھمکی دی جا چکی ہے۔ کبھی کوریا کے بارے میں اندیشہ تھا کہ یہ درندے خدا کی دھرتی کو کوریا کی غریب بستی کو ناگاساکی بنا کے چھوڑیں گے ہیروشیما بنا کے چھوڑیں گے۔ اج وہ صورتحال جو ہے عالم عرب پر ہارٹ اف دی عرب لینڈ اس پر یہ صورتحال بالکل تلی کھڑی ہے۔ اس میں ہمیں کیا کرنا چاہیے میں نے یہ چاہا کہ پورا پس منظر اپ کے سامنے ہو۔ صرف وقتی سا کوئی ایک نعرہ وقتی سی کوئی ایک خبر اس کے حوالے سے ایک جذبات کا معاملہ۔ پورا ایک پس منظر سامنے رکھیے اب وہ اپ کو شاید میری باتیں جو ہیں وہ سمجھ میں ا جائیں۔ نمبر ایک ہمیں کسی صورت اس جنگ میں امریکہ کے گھڑے کی مچھلی نہیں بننا چاہیے۔ امریکہ اسلام کے تحفظ کے لیے نہیں ایا۔ امریکہ حرمین کی حفاظت کے لیے نہیں ایا۔ امریکہ اپنے مفادات عالمی مفادات کے تحفظ کے لیے ایا ہے۔ اور زیادہ سے زیادہ اپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ سعودی شاہی خاندان کی حفاظت کے لیے ایا ہے۔ اور بڑا عمدہ مضمون چھپا تھا پچھلے بلکہ ابھی تک تو وہ تازہ ہی ہے جب تک نیا نہیں اتا ندا میں۔ جس کا عنوان تھا عربوں کا چھرا اور عربوں کا گدھا۔ سارے پیسے بھی انہیں سے لے رہے ہیں۔ 12 بلین ڈالر کا ایک چیک لے کر گیا تھا جیمز بیکر۔ اندازہ تو کیجیے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی حیرت ہو کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔ دو ماہ قبل اس کا تصور نہیں ہو سکتا تھا۔ اتنی بڑی قوت امریکہ کی تباہ کن قوت اور جمع ہو جائے گی عرب کے اندر۔ لیکن یہ کہ وہ قاص بھی عربوں ہی کی ہوگی۔ ان ہی کا چھرا ان ہی کا لالا۔ ہمیں کرنا یہ چاہیے۔ اللہ تعالی ہماری حکومت کو ہمارے سیاستدانوں کو ہمارے ذمہ دار لوگوں کو ہدایت دے۔ وہ امریکہ کے گڑھے کی مچھلی نہ بنے اس کے تحفظ کے لیے یا شاہی خاندان کی حفاظت کے لیے بہت کچھ انہوں نے عیش کر لیے کافی عیش کر لیے۔ باقی یہ کہ اب جو کچھ ہونا ہے وہ ہونا ہے۔ حرمین شریفین کو تو خود عرب کے لوگ کہتے ہیں کہ کوئی خطرہ نہیں ہے۔ سارا جھگڑا تو وہ تیل کی دولت کا ہے۔ وہ تیل کی دولت جو ہے وہ شمال مشرقی کونے کے اندر ہے۔ بلکہ یہ کہ جو رد عمل پیدا ہوا عالم اسلام میں اور سعودی عرب میں خود اس کے مذہبی نوجوانوں میں امریکی فوجوں کی امد کے خلاف اس کا جواب دیا گیا رابت عالم اسلامی کی طرف سے کہ یہ جو بھی جنگ کا محاذ ہے اور جو فوجیں ہیں یہ حرمین سے تو 1500 کلومیٹر دور ہے۔ تو حرمین کو تو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ خطرہ ہے امریکہ کے عالمی مفادات کو۔ اج اپ کو معلوم ہے دنیا دو طبقوں میں بٹی ہوئی ہے دی رچ اینڈ دی پور۔ یہ جو اقوام ہیں جو چھ سات قومیں شمار ہوتی ہیں دنیا کی دولت مند قومیں ان کے لیے خطرہ ہے کہ یہ یہ اگر ہم ان کا جو سب سے بڑا ذریعہ ہے اس کا سنت کا یہ تیل اگر اس کو کچھ ہو گیا تو ان کی سب کی اکانومی جو ہے وہ دم دھڑم سے زمین پر ا جائے گا۔ وہ بھی برابر ہو کر رہ جائیں گے دنیا کے دوسرے ملکوں کی یہ اس کی حفاظت کے لیے ائے ہیں۔ ہمارے نوجوان کو اج میں سوچتا ہوں کاش کہ ہمیں معلوم ہو ہمیں وہ تاریخ دورانی نہیں چاہیے۔ کہ ہم نے پہلی جنگ عظیم میں انگریزوں کے استعمار کے پنجے گڑوانے کے لیے اپنی جانیں دیں۔ پنجاب کا نوجوان پنجاب کا مسلمان سپاہی بھی جا کر ایلن بی کو قبضہ دلوانے کے اندر اور بغداد پر قبضہ کرانے میں اس کا اس کے تعاون کیا اس کی مدد کی۔ کیا اج بھی وہی تاریخ اپنے اپ کو دہرائے گی۔ اج ہمارا فوجی جائے گا وہاں پر امریکہ کے تحفظ کے لیے اس کے مفادات کے تحفظ کے لیے۔ پہلی بات یہ ہے کہ یہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ ہونا کیا چاہیے؟ پہلی کوشش یہ ہو کہ یہ بین الاسلامی معاملہ بنے۔ مسلمان امت ائے امریکی فوجیں جائیں فرانسیسی جائیں برطانوی جائیں۔ ہاں اس صورت میں میں کہتا ہوں پاکستان کا ایک ایک بچہ وہاں جا اور اپنی جان قربان کر دے۔ اس لیے کہ یہ قران کا حکم ہے۔ مسلم کے دو گروہ لڑ پڑے تو تم صلح کراؤ اور اگر ایک فریق زیادتی پر تلا رہے اڑا رہے تو اب سب مل کر اس سے جنگ کرو۔ یہاں تک کہ اسے اللہ کے حکم کے اگے جھکا دو۔ پھر اگر وہ اللہ کا حکم مان لے صلح پر ا جائے تو پھر عدل و قس کے ساتھ ان کے درمیان صلح کراؤ۔ یہ ہمیں حکم ہے مسلمانوں کا حکم ہے۔ لیکن یہ کہ یہ امریکی ا رہے ہیں اور امریکی استعمار اور امریکی مفادات اور اس کے لیے جو ہے پاکستان کا مسلمان سپاہی بھی جائے میرے نزدیک کسی صورت میں صحیح نہیں ہے۔ مطالبہ بھی ہو رہا ہے۔ اج ہی غالبا ایک انٹرویو ایا ہے شاہ حسین کے بھائی جو ہیں حسن بن طلال ان کا انہوں نے بھی یہی کہا ہے کہ اس کو مسلمانوں کو اپس میں اس معاملے کو طے کرنا چاہیے اس قضیے کو۔ امریکی فوجوں کو یہاں سے فورا واپس جانا چاہیے اور یہی بات میں یقینا تائید کروں گا تحسین کروں گا یہی موقف ایران کا ہے۔ ایران عراق کے خلاف جو بین جو یو این او کے سینکشنز ہیں کہتا ہے ہم اس کی پابندی کریں گے۔ لیکن امریکہ کو یہاں سے نکلنا چاہیے۔ یہ مسلمانوں کا اپنا معاملہ ہے وہ اپس میں طے کریں۔ پاکستان کو بھی یہی موقف اختیار کرنا چاہیے پوری قوت کے ساتھ اس میں کوئی بھی اگر کمزوری ہو رہی ہے تو درحقیقت یہ گویا کہ ہم امریکی استعمار کے ہاتھ میں اس کا حال ہے کار بن کر کھلونا بن کر استعمال ہو رہے ہیں جو کہ ہمیں کسی صورت میں نہیں کرنا چاہیے۔ اگر یہ بھی ناکافی ہو۔ تو دوسرا ایک اور مرحلے کا حل موجود ہے۔ اس سے براڈر سطح پر کہ غیر جانبدار ممالک اگر کوئی ہے۔ ان کو بھی اس قضیے کے اندر شامل کیا جائے۔ ایک تحریک تھی کسی زمانے میں کافی بڑی تھی لیکن یہ کہ وہ بھی اگر اس کے اندر شامل ہو جائیں۔ لیکن امریکہ، رشیا یہ تو ظاہر بات ہے سپر پاورز ہیں۔ ان کے مفادات ہیں عالمی اور گلوبل مفادات ہیں۔ لہذا اول تو یہ ہونا چاہیے کہ بین الاسلامی معاملہ بنا کر اس صورت میں جیسا کہ میں نے عرض کیا ہماری پوری فوج بھی جائے اللہ پر توکل کر کے۔ پاکستان کا محافظ اللہ ہوگا۔ اگر اللہ کے ایک حکم کے اوپر عمل کرتے ہوئے مسلمان یہاں سے جائیں اور جا کر وہاں پر جو ہے اپنی جانیں دینے کو تیار ہو جائیں۔ لیکن اگر یہ اس میں بھی کافی نہ ہو تو جو بھی غیر جانبدار ممالک ہیں ان کو بھی اس معاملے کے اندر شریک کیا جا سکتا ہے۔ بدرجے اخر اگر پاکستانی فوج جائے وہ صرف حرمین شریفین کے گردوں نہوا میں ان کو ڈپلوائے کیا جانا چاہیے۔ اگر خدانخواستہ وہاں پر کوئی انچ انے کی شکل پیدا ہو جائے۔ تو اس کی اے عرض پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہم اس کے لیے مسلمانوں کو تیار رہنا چاہیے۔ اس لیے کہ بہرحال جہاں تک عرض پاک کی حرمت کا تعلق ہے وہ ہمارے ایمان کا جز ہے۔ باقی برطانوی مفادات، امریکی مفادات، صنعتی ممالک کے مفادات یا کسی شاہی خاندان کے مفادات یہ شاہی خاندان یہ تو گرتی ہوئی دیواریں ہیں جانا ہے اج نہیں تو کل۔ لیکن یہ کہ اصل معاملہ ہے امت کا اصل معاملہ ہے امت مسلمہ کا۔ اصل معاملہ ہے حرمین شریفین کا۔ لہذا ان دونوں چیزوں کو لازما گڑمڑ نہ کریں۔ اپ حضرات کے علم میں ہے کہ اس سے پہلے ایران کی طرف سے بار بار مطالبہ ہوا۔ کہ حرمین کو بین الاسلامی کنٹرول میں دے دیا جائے اور سعودی عرب کا اس کے اوپر سے جو انتظامی عمل دخل ہے ختم کر دیا جائے میں نے کبھی تائید نہیں کی۔ اس لیے نہیں کی کہ میرا مشاہدہ ہے میں گیا ہوں بارہا۔ سعودی عرب کی حکومت نے چاہے خود بھی بڑے بڑے محل بنائے ہیں لیکن حرمین کی خدمت کے اندر بھی کوئی کمی نہیں رہی۔ اس پر انہوں نے اربوں ڈالر انہوں نے اس پر بھی خرچ کیا ہے۔ اس کے اوپر انہوں نے اس حج کے انتظامات پر پوری حکومت جو ہے وہ اپنے اپ کو لگائے رکھتی ہے۔ لہذا اس اعتبار سے کوئی کمی کی بات نہیں وہاں پر ائی کہ جس کے لیے ضرورت ہو کہ ان کا عمل دخل وہاں سے ختم کیا جائے۔ لیکن یہ صورتحال اب جو پیدا ہو گئی ہے یہ بالکل مختلف ہے اسے اس کے کنٹیسٹ کے اندر دیکھا جانا چاہیے اور اسی کے حوالے سے میں نے چند رائے اپ کے سامنے رکھی ہے۔ اب ائیے پاکستان کی طرف جو ہمارا اصل مسئلہ ہے۔ اس کے تو ہم سب سے بڑے ذمہ دار ہیں اس کی بھلائی ہے تو برائی ہے تو۔ اس میں خیر اتا ہے تو وہ بھی ہماری کوشش اس کے لیے ضروری ہے اور کوئی شر پیدا ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی ہم پر ائے گی۔ اس کے ضمن میں چند باتیں عرض کر رہا ہوں۔ شدید ترین خطرہ ہے جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں کہ بھارت حملہ کرے گا۔ مجھے تو تقریبا یہ رائٹنگ ان دی وال کے مانند ایک فیصلہ نظر ا رہا ہے بلکہ اج میں کسی سے کہہ رہا تھا۔ کہ اگر اب نہیں تو پھر کبھی بھارت حملہ نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے سیچویشن بالکل رائٹ ہے۔ دو مرتبہ ایکسرسائز کر چکا ہے وہ خاص ٹارگٹ بنا کر حیدراباد کو۔ اور اس کے پیش نظر سندھ میں جو بھی خلفشار ہے اس سے اس کے علم میں ہے۔ جو بھی تصادم ہے۔ اب بھی اگرچہ اس وقت کی جو ہماری اندرونی سیاست ہے یہ اس کا کرشمہ سامنے ایا ہے۔ کہ جی ایم سید صاحب کو ایگزونوریٹ کیا جا رہا ہے۔ ان کو اب محب وطن کا خطاب دوبارہ دیا جا رہا ہے۔ وہ شخص کہ جس نے اسلام کے خلاف انتہائی زہریلی باتیں کی ہیں۔ وہ شخص جس کی کتاب اب پاکستان ٹوٹ جانا چاہیے وہ لاکھوں کی تعداد میں ہندوستان سے چھپ کر ائی ہے یہاں تقسیم ہوئی ہے۔ اج اسے سن دی جا رہی ہے۔ یہ ہے ہماری اندرونی سیاست کے کرشے میں اس پر تفصیل سے نہیں جانا چاہتا۔ لیکن اس اس کی دیکھیے۔ وہ جو علامہ اقبال کا شعر ہے کہ بت کرے میں برہمن کی پختہ زناری بھی دیکھ۔ دیکھ کعبے میں شکست رشتہ تسبیح شیخ اور بت گدے میں برہمن کی پختہ زناری بھی دیکھ کہ نظر یہ ا رہا ہے کہ اس نے رہا ہوتے ہی پہلا بیان یہ دیا ہے کہ ہماری پہلی ترجیح یہ ہے کہ پاکستان ٹوٹ جائے۔ اور ہندوستان کے ساتھ ہم ایک انڈیپینڈنٹ اسٹیٹ کی حیثیت سے کنفیڈریشن قائم کریں۔ سندھو دیش کنفیڈریشن ود انڈیا انڈیپینڈنٹ اف پاکستان۔ پھر دوسری ترجیح بھی یہ تھی تیسری اخری ترجیح یہ ہے کہ پاکستان کو پانچ ریاستوں میں تقسیم کر دیا جائے اور ایک لوز کنفیڈریشن ہو بس اس کے سوا کچھ نہیں۔ پانچویں بھی وہ اردو والوں کے لیے نہیں مہاجرین کے لیے نہیں۔ ان کے لیے تو ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔ پانچویں بھی پنجاب میں سے کاٹ کر سرائیکی صوبہ بنایا جائے اور سندھ میں تو بہرحال اردو بولنے والوں کو سندھی بن کر رہنا ہوگا۔ یہ اس شخص کا رہائی کے بعد بھی بیان ہے جسے اپ سن دے رہے ہیں کہ وہ محب وطن ہے اور وہ غدار نہیں ہے۔ وہ پاکستان کا مخالف نہیں ہے۔ بہرحال یہ حالات جو ہیں انتہائی خوفناک ہیں ہمارے۔ اج کشمیر میں جو صورتحال ہے ہندوستان کے لیے انتہائی تشویش ناک ہے۔ جو بدنامی اس کو مل سکتی تھی مل چکی ہے۔ اور یہ اپ نے دیکھ لیا وہ امریکہ بہادر جو ڈیڑھ دو لاکھ ادمی لے کر پہنچ گیا سعودی عرب میں اس نے انگلی تک نہیں اٹھائی ہے کہ کشمیر میں بھارت کیا کر رہا ہے۔ یہ ہے ان کی ڈبل سٹینڈرز۔ یہ ہیں ان کی بے ایمانیاں۔ کہ بھارت جو کچھ کر رہا ہے وہاں۔ اج اگر ظلم ہو رہا ہے کویت میں عراقیوں کے ذریعے پورے ورلڈ ٹیلی ویژن پر سی این این پر فلاں پر اور اخبارات میں اج بھی ایک لمبا مضمون میں نے اخبار میں پڑھا ہے۔ لیکن یہ ہے کہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے وہاں کہیں تذکرہ نہیں ہو رہا۔ یہ ہے دنیا کے اندر دیانت اور امانت اور شرافت کا حال اور بین الاقوامی سیاست جو ہے اس کے ڈبل سٹینڈرز۔ لہذا جو بدنامی بھارت کو ا سکتی تھی وہ ا چکی ہے۔ ہندوستان سے ایک نوجوان مسلمان صحافی دہلی سے ائے تھے۔ نئی دنیا ایک پرچہ نکلتا ہے اس کے اس کے طرف سے وہ دورہ کر کے گئے ہیں مجھ سے بھی لاہور میں ملے تھے تقریبا ایک مہینہ ڈیڑھ مہینہ ہوا۔ ان کے الفاظ سن کر میں کانپ گیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ بھارت کی حکومت اس کے اوپر تلی ہوئی ہے کہ چاہے ایک ایک اور اخری کشمیری کو بھی ہلاک کرنا پڑے وہ کشمیر کے اندر کبھی بھی کوئی معاملہ جو ہے کشمیر کی ازادی یا کشمیر کو پاکستان کے لیے جانے کے لیے تیار نہیں۔ کیا بگڑے گا اس کا؟ اپ سمجھیے کہ اگر 80 90 کروڑ قوم کی ایک قوم ہے ایک کروڑ ادمی ختم ہو جائے۔ ان کا ان کا دل تو جو ہے اس پہ دکھے گا نہیں۔ حال ہمارا یہ ہے کہ ہم تو کوئی چیلنج بھی نہیں کر سکے۔ ہم تو اپنی صفائی دیتے رہے کہ نہیں نہیں نہیں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں ہے ہم نے کچھ نہیں کیا ہے۔ ہم ہمارا کوئی اس کے اندر عمل دخل نہیں ہے بس یہی ہماری ڈپلومیسی کا شاہکار رہا ہے۔ یہ حال ہے پاکستان کا۔ لہذا بھارت کا وہ معاملہ جو ہے میں نے جیسا کہ اپ کے سامنے مختلف فیکٹرز گنوا دیے تھے اندرونی اس کی سیاست اندرونی خلفشار وہ تو اب ا کر رہے گا۔ اللہ یہ اللہ یہ کہ اللہ تعالی کے قبضہ قدرت میں ہر شے ہے وہ ٹال دے تو ٹال دے۔ مجھے اقبال کا وہ شعر یاد ا رہا ہے تقدیر تو مبرم نظر اتی ہے وہ لیکن ویران کلسہ کی دعا ہے یہ ٹل جائے۔ ہم تو دعا کریں کہ یہ ٹل جائے وقت لیکن یہ ہے کہ تقدیر مبرم نظر ا رہی ہے اس حالت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ نمبر ایک یہ کہ سب سے اہم شے ہے قومی یکجہتی۔ اور قومی یکجہتی کے اعتبار سے انتہائی خوفناک مرحلہ ا رہا ہے انتخابات کا۔ انتخابات میں تو کچھ نہ کچھ فساد کچھ نہ کچھ دنگا کچھ نہ کچھ ہنگامہ ایک دوسرے کے خلاف کیچڑ ایک دوسرے کے خلاف الزامات بوچھاڑ یہ تو بڑھتے ہیں۔ بھارت میں بھی قتل و غارت گری ہو جاتی ہے کچھ نہ کچھ۔ لہذا یہاں پر بھی پیر پگاڑا صاحب جو ہمیشہ سے کہتے چلے ا رہے ہیں فیملی پلاننگ فیملی پلاننگ اج پھر ان کا جملہ اگیا ہے کہ شاید اس انتخابات میں فیملی پلاننگ کے ذریعے سے کوئی بہت بڑا کام ہو جائے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے اب تک یہ کہا ہے کہ انتخاب کسی صورت میں پوسٹ پون نہیں ہونے چاہیے۔ اب بھی میں یہ کہتا ہوں۔ کہ اگر تو انتخابات کا بدل صرف ایک ایرو مارشل اللہ ہے تو پھر مارشل اللہ سے تو بہتر ہے کہ وہ انتخابات ہوں چاہے اس میں کوئی خلفشار بھی ہو۔ اس لیے کہ مارشل اللہ کا مطلب جو ہے وہ تو سندھ کے اندر ایک ناگزیر دھماکہ ہو جائے گا تباہ کن خوفناک اور پھر بھارت کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی کیا کرایا اسے سارا معاملہ سندھ کے اندر سے مل جائے گا۔ مارشل اللہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے وہ بات جو سن 80 میں میں نے 18 اگست 1980 کو کہی تھی ضیا الحق مرحوم سے اج پھر اسی بات کی میں تکرار کر رہا ہوں اغاز کر رہا ہوں۔ مارشل اللہ پاکستان کے لیے سوسائیڈل ہے۔ لیکن ایک الٹرنیٹ سامنے ایا ہے۔ ایک تو پشاور ہائی کورٹ کا ورڈکٹ اگیا۔ اور یہ کہ کچھ اور لوگوں کی طرف سے بھی باتیں ائی ہیں۔ ایک دو دن ہوئے ہیں جنگ میں دو اہم سرخیاں تھیں۔ اور وہ بڑے اونچے حلقہ جو ہمارا فوج کا اونچا حلقہ ہے اس کی طرف سے اگرچہ نام کسی کا نہیں تھا۔ ایک تو یہ کہ مارشل اللہ یہاں کسی صورت نہیں لگے گا۔ دوسرے یہ کہ کوئی قومی حکومت کی تشکیل جو ہے اگر کسی طرح ہو سکتی ہو تو وہ اس وقت کا حل ہے۔ اور وہ اسی شکل میں ممکن ہے اگر تو الیکشن اپ پوسٹ پون کرتے ہیں اور اسمبلیاں پرانی بحال نہیں کرتے تو پھر تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا کانسٹیٹوشن ایبروگیٹ ہو گیا اور اس کا الٹرنیٹ سوائے ایک مارشل اللہ کے اور کوئی نہیں ہے۔ لیکن اگر صدر اسحاق صاحب ہمت کرنے ملک کے حالات کو دیکھ کر جو اس وقت صورتحال ہے جو خطرات ہیں بارڈر پر ان کو دیکھتے ہوئے یا تو یہ کہ عدالتوں کے ذریعے سے اسمبلیاں بحال ہو جائیں۔ اس میں حکومت زیادہ رکاوٹ نہ ڈالے۔ یا یہ کہ خود صدر اسحاق صاحب واپس لے سکتے ہیں قدم تو واپس لے لیں۔ لیکن یہ کہ تمام پارٹی سے یہ پہلے عہد لے لیا جائے کہ وہ ایک قومی حکومت کی تشکیل کریں گی۔ یہ وہ بات ہے اپ کو یاد ہوگا مرزا اسلم بیگ صاحب انہوں نے بالکل شروع میں سن 88 کے الیکشن کے بعد کہا تھا کہ نیشنل گورنمنٹ فارم کی جانی چاہیے۔ اس وقت تو کسی نے دھیان نہیں دیا پیپلز پارٹی بڑے نشے میں تھی۔ اس کو خاص طور پر سندھ میں جس طرح کا واک اوور ملا تھا اس کا ایک نشہ تھا اس کے دماغ پر اس لیے وہ سوچنے پر تیار نہیں ہوئی لیکن یہ کہ وہ جو ایک فارسی میں کہا جاتا ہے کہ ہرچہ دانہ کنا کن نہ نا دا لے ایک بات خراب یہ بسیاں۔ لیکن ازازیل نامی ایک جن تھا جو ایک تو جن ہونے کی نسبت سے فرشتوں سے کچھ نہ کچھ مماثلت تھی قرب تھا۔ دوسرے علم میں زہد میں عبادت میں اتنا اونچا تھا اتنا اونچا تھا اتنا اونچا تھا کہ یہ ملائکہ ہی کے صف میں شامل تھا۔ اس نے علم بغاوت بلند کر دیا۔ جب حکم دیا گیا کہ سجدہ کرو ادم کو اب یہ دیکھیے کس قدر یہ اہم مضمون ہے اپ کو سوچتے اپ سوچتے ہوں گے یہ باتیں اج پہلی مرتبہ ہمیں اس طرح سنائی جا رہی ہے۔ یہ باتیں تو علم میں اتی نہیں ہیں۔ وجہ کیا ہے اپ کو دلچسپی نہیں ہے ان چیزوں سے جدید تہذیب نے ان چیزوں کی اہمیت کو زیرو کر دیا۔ قران میں اہمیت کا کیا عالم ہے بھئی سات جگہ یہ مضمون قران میں ایا ہے۔ کہ فرشتوں کو ہم نے حکم دیا سجدہ کرو ادم کو سب نے سجدہ کیا۔ سارے کے سارے کل کے کل سب نے مل کر سجدہ کیا ادم کو۔ اللہ کے حکم کی فورا تعمیل کر دی۔ الا ابلیس۔ ابواستکبروا ک من الکافرین۔ ابلیس نے نہیں کیا انکار کیا استکبر کیا ڈبل اور اس کو سورہ کہف میں بیان کر دیا گیا یہ اس لیے کہ وہ اصل میں جنات میں سے تھا اگرچہ شامل تو تھا فرشتوں میں اس وقت۔ من الجن ففشق عن ربہ وہ اصل میں جنات میں سے تھا اس وجہ سے وہ اپنے رب کے اس فیصلے کے خلاف کھڑا ہو گیا۔ سرکشی کی اس نے یہ معاملہ اتنا اہم ہے اب اپ سمجھیے کہ سات مرتبہ۔ سورہ بقرہ، سورہ اعراف، سورہ حجر، سورہ بنی اسرائیل، سورہ کہف، سورہ طاہ، سورہ صاد چھ مکی سورتوں میں ذکر ہے یہ۔ اور ایک مدنی سورت سورہ بقرہ۔ ان میں سے اکثر مکامات پر پھر جب اللہ نے کہا کہ اچھا تم نے یہ سرکشی کی ہے اور ہمارے حکم کی خلاف ورزی کی ہے تو یہاں سے نکل جاؤ دفع ہو جاؤ تو مردود۔ مردود ملعون۔ ان علیک لعنت یوم الدین۔ اب تجھ پر لعنت رہے گی میری قیامت کے دن۔ اس نے کہا اچھا پروردگار پھر مجھے ذرا مہلت دے دے۔ رب انظرنی الی یوم یبعثون۔ قیامت تک میری زندگی طویل کر دے۔ انظرنی کہہ دیا اچھا جاؤ تمہاری یہ درخواست بھی ہم نے قبول کی۔ اس نے کہا پروردگار اب میں اس ادم کو بھی گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ اور ادم کی نسل کو تباہ کر دوں گا۔ انتہائی شدید چیلنج کے انداز میں یہ قران مجید میں چار پانچ مرتبہ میں نے صرف دو جگہ سے اپ کو اس وقت کوٹ کر کے سنایا تھا۔ سورہ اعراف میں اللہ تعالی فرماتے ہیں قال اس پر ابلیس نے کہا تو اے رب جو تو نے مجھے گمراہ کیا ہے۔ مجھے ذلیل کر دیا۔ مجھ پر فوقیت دے دی اس کو میں اس سے بہتر ہوں۔ بنایا تو نے مجھے اگ سے اور اس کو بنایا مٹی سے۔ پھر مجھ سے مطالبہ کہ میں سجدہ کروں اور میں نے سجدہ نہیں کیا تو اب تو نے مجھے ملعون قرار دے دیا ہے۔ کہا اس کی قسم ہے کہ میں ان سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ تو اے رب تیری عزت تیرے جلال کی قسم ہے میں ان سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ الا عبادک المخلصین سوائے ان میں سے وہ کچھ لوگ جنہیں تو خالص اپنا بندہ بنا لے۔ جنہیں تو اپنا بندہ بنا لے۔ کچھ لوگوں کو اللہ چن لیتا ہے۔ تمہیں چن لیا ہے۔ وہ بچیں گے جن کو تو اپنی خاص امان میں لے لے گا۔ باقی میں سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ یہ ہے اصل دنیا میں نوع انسانی کا ابدی دشمن ازلی سے ابدی تک۔ اور اس میں نوٹ کیجئے کہ اس کی اصل بنیاد کیا ہوئی دو لفظ تکبر اور حسد۔

[39:31]استکبر تکبر کیا۔ میں اس سے بہتر ہوں میں اس سے بہتر ہوں۔ یہ ساری بس کی گانٹھ یہی ہے۔ سب سے بڑی گمراہی کی وجہ یہی ہے۔ اسی لیے کہا ہے حدیث میں نہیں جہنم میں ہرگز وہ شخص کبھی بھی داخل نہیں ہو سکے گا جس کے دل میں رائے کے دانے کے برابر بھی تکبر تکبر سب سے بڑا۔ اللہ فرماتا ہے یہ تکبر یہ تو میری چادر ہے کوئی شخص تکبر کرتا ہے تو گویا میری چادر گھسیٹ رہا ہے میرے کندھے سے۔ عرب میں کسی شخص کی توہین کرنی ہوتی تھی تو اس کی چادر گھسیٹتے تھے۔ ننگا کر دیا گیا ہے یہ میری دائی ہے۔ یہ میری چادر ہے یہ جامہ مجھے زیب دیتا ہے۔ مجھ پر راستہ ہے۔ اور حسد ادم کو جو مرتری عطا ہو گئی اس حسد کی اگ میں وہ جلا ہے۔ اور اس کا انتقام دینا چاہتا ہے ادم سے بھی ادم کو بھی گمراہ کی جنت سے نکلوایا ویسے نکلنا تو انہیں تھا ہی مشیعت یزدی نے لیکن فوری طور پر۔ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی تو کروائی ہے۔ ادم نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اور گمراہ ہوا۔ عارضی طور پر یہ دوسری بات ہے۔ توبہ کر لی اللہ نے توبہ قبول فرما لی معاف کر دیا۔ کوئی مستقل جو ہے وہ نسل انسانی پر اس گناہ کا اثر متوارث طور پر نہیں ا رہا ہے ختم ہو چکا معاملہ ہوا تھا ہو گیا۔ ادم نے اپنے رب سے کلمات توبہ سیکھ کر توبہ کی اللہ نے توبہ قبول کر لی اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا رحیم ہے۔ اور توبہ کی شان یہ ہے جب وہ قبول ہو جائے اللہ کی جناب میں تو گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہوتا ہے جیسے اس نے کبھی گناہ کیا ہی نہیں۔ لیکن بہرحال وہ گمراہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ حضرت ادم اور حوا کو بھی اور نوع انسانی کی عظیم اکثریت عظیم اکثریت عظیم اکثریت عظیم اکثریت اس کے دام میں ائی ہوئی ہے یا نہیں۔ کتنے ہیں وہ اللہ کے بندے مخلصین اللہ کے بندے کتنے جو واقعتا خالصتا اللہ کے بندے بن گئے۔ جنہیں اللہ نے اپنا بنا لیا۔ اپنا قرار دے دیا۔ اب اس کے ساتھ نوٹ کیجیے اس ابلیس کے ساتھ ایک فوج بھی ہے جسے قران مجید میں کہا گیا ہے یہ اس کی پارٹی ہے۔ حزب شیطان یہ اکیلا ہی نہیں ہے وہ تو عزازیل ہے اس کی طویل ترین عمر اللہ نے دے دی وہ تو قیامت تک رہے گا۔ باقی بھی جنات جو ہیں ان کی نسل میں سے یا اس کی نوع میں سے اس کی نسل میں سے۔ جنات کی عمریں انسانوں کی عمروں سے زیادہ ہیں بہت زیادہ۔ لیکن پھر بھی اتنی نہیں ہے یہ خاص ہے اس کا معاملہ کہ اس نے کہا پروردگار مجھے دے دے مہلت اس وقت تک تاکہ میں ثابت کر کے دکھا دوں۔ کہ جسے تو نے یہ خلافت دی ہے یہ اس کا اہل نہیں ہے پروف کر دوں گا۔ ان کی اکثریت کو شکر گزار نہیں پائے گا۔ وہ ابلیس جو ہے وہ ریکروٹ کرتا ہے اپنے فوجی اول تو خود جنات جو اس کے نمبر ایک لشکر ہے۔ قران مجید میں اس کا اشارہ دیا گیا ہے کہ وہ تمہیں دیکھتا ہے وہ اور اس کے قبیلے کے لوگ جہاں سے کہ تم انہیں نہیں دیکھتے۔ دیکھو لوگو اے انسانوں وہ ابلیس لعین عزازیل اور جو اس کے قبیلے کے لوگ ہیں جنات ہیں وہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں تاکتے ہیں اور حملہ کرتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے۔ وہ غیر مرئی ہیں انویزیبل ہیں تمہیں نظر نہیں اتے۔ ویزیبل دشمن کا واق تو روک لو گے انویزیبل کا کیسے روکو گے۔ وہ تمہیں دیکھتا ہے وہ اور قبیلے کے لوگ اکیلا ہی نہیں ہے وہ تو تمہیں تاکتا ہے تم پر حملہ کرتا ہے گھات میں لگ کر جو ہے تمہارے اوپر حملہ کرتا ہے وہ بھی اور اس کے ساتھ اس کے قبیلے کے لوگ جنات بھی جیسا کہ تم انہیں نہیں دیکھتے لیکن اس کے علاوہ وہ انسانوں میں سے بھی ریکروٹ رنگروٹ بھرتی کرتا ہے وہ جو ہے ان کو اپنے پاس رکھتا ہے فوج کے اندر۔ جس کی سب سے بڑی مثال کیا ہے سورہ مجادلہ میں اللہ تعالی نے منافق حالانکہ وہ کون تھے بظاہر حضور کا کلمہ پڑھنے والے۔ حضور کے پیچھے نماز پڑھنے والے اسلام کا دعوی کرنے والے۔ ان کو اللہ فرماتا ہے یہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ یہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ وہاں مقابلے میں ایا ہے یہ اللہ کی پارٹی ہے۔ اللہ کی پارٹی کے لوگ جو اس کے مخلص بندے ہیں وہ اللہ کی پارٹی ہے۔ اور جو شیطان کے مرید بن گئے۔ اس کے ہاتھ پر بیعت کر لی لہذا وہ اس شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ چاہے وہ انسان ہو چاہے جن تو انسانوں میں سے بھی اس کے حزب میں اس کی پارٹی میں اس کے ایجنٹ ہیں اور بہت بلکہ بہت سے تو ایسے ہیں کہ جو جنات کے بھی کان کر دیں۔ ان کو بھی شیطنت سکھا دے پڑھا دے۔ لیکن اب ایک بات سمجھیے ایک دنیا میں نسل اور قوم بھی ایسی ہے جو ایک خاص وقت سے بحیثیت مجموعی میں اس قوم ابلیس کی ایجنٹ بن گئی۔ وہ کون ہے وہ یہودی یہ یہودی قوم جو ہے اس میں ایک تو کچھ یہ کہ ان کی فطرت کے اندر یہ تھا کہ ہم ہیں اصل انسان باقی انسان جو ہیں وہ انسان نما حیوان جن کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ ہم ہیں اصل انسان ہم ہیں اللہ کے بیٹے بڑے چہیتے ہیں لاڈلے ہیں۔ یہ باقی دنیا باقی انسان ہماری چراگاہ ہے جیسے چاہے چریں۔ جس طرح چاہے ہڑپ کر دیں۔ یہ ہمارے لیے ہم ڈومینیٹ کریں گے اور یہ درحقیقت ہمارے اللہ کار ہے۔ ایک تو اس اعتبار سے یہ انسانیت کی دشمنی ان کی گھٹی میں پڑ گئی اس غلط خیال کی وجہ سے۔ ہم تو بخشے بخشائے ہیں وی ار دی چوزن پیپل اف دی لارڈ ہمیں تو اللہ اگر جہنم میں داخل بھی کرے گا تو صرف چند دن باقی اصل میں تو ہم تو اللہ کے پسندیدہ ہیں۔ اس کے بیٹوں کے مانند ہیں بڑے چہیتے ہیں لاڈلے ہیں۔ یہ باقی دنیا باقی انسان ہماری چراگاہ ہے جیسے چاہے چریں۔ جس طرح چاہے ہڑپ کر دیں۔ یہ تو ان کا پہلے سے مستقل معاملہ تھا۔ لیکن اس کے بعد ان کی تاریخ میں ایک اور وہ ایا جب حضرت مسیح علیہ السلام ان میں مبعوث کیے گئے۔ یہ 14 سو سالہ تاریخ کا کلائمیکس ہے یہود کی جب کتاب انہیں دی گئی تھی تورات حضرت موسی کے ذریعے وہ 14 سو قبل مسیح کا واقعہ ہے۔ اس وقت سے لے کر اللہ کا وہ فضل ان پر ہوا وہ فضل ان پر ہوا کہ کوئی ایک لمحہ ایسا نہیں ایا 14 سو برس میں کہ ان کے ہاں کوئی نہ کوئی نبی موجود۔ یہ تار ٹوٹا ہی نہیں دو سے شروع ہوا موسی ہارون علیہ السلام اور 14 سو برس کے بعد پھر اخری دو ہیں عیسی اور یحیی علیہ السلام۔ یوں سمجھ لیجئے اور اس کے درمیان یہ تار ہے۔ اور اس تار میں کوئی ایک لمحہ ایسا نہیں ایا کہ کوئی نبی موجود اس میں اتار چڑھاؤ بہت سے ائے اس کا وہ میرا موجود نہیں ہے اس وقت۔ قبل مسیح کی تاریخ جو ہے وہ میرا موضوع نہیں ہے۔ قران مجید میں سورہ بنی اسرائیل کے پہلے رکوع میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کی طرف کتاب میں فیصلہ کیا کہ تم زمین میں دو مرتبہ فساد کرو گے اور بڑے سرکشی سے سرکشی کرو گے۔ دو مرتبہ ان پر عذاب کے کوڑے برسے۔ پہلے اشوریوں کے ذریعے سے جو شامی تھے۔ سیرینز اشوری کہلاتے تھے۔ پھر بابلیوں کے ذریعے سے یعنی عراقیوں کے ذریعے سے بیبیلونیا نام تھا عراق کا پہلے ان پر بہت بڑی بڑی تباہیاں ائی ہیں اللہ تعالی کی طرف سے عذاب ائے۔ اس کے بعد پھر دوسرے دور میں دوسرا اقتدار کا دور ایا حرس ہستیاں بڑھ گئی تو پہلے گریکس کے ذریعے سے یونانیوں کے ذریعے سے اور پھر رومیوں کے ذریعے سے پسوایا گیا۔ یہ دور گزر چکے تھے ان پر دو عروج کے دور اور دو زوال کے دور۔ میری چھوٹی سی کتاب ہے۔ تنظیم اسلامی کا تاریخی پس منظر شاید چھ سات روٹیک کی ہوگی۔ اس کو اپ دیکھیں گے تو اس میں اس کا پورا نقشہ اپ کو مل جائے گا۔ ویسے تو یہ کہ میری جو ذرا بڑی کتاب ہے۔ سابقہ اور موجودہ مسلمان امتوں کا ماضی حال اور مستقبل اس میں میں نے ان پر ان معاملات کو بڑی تفصیل سے بھیجا ہے۔ بہرحال یہ جو دور تھا ان کا 14 سو سالہ وہ اونچ نیچ سے ہوتا ہوا جب ایا ہے حضرت مسیح کی بعثت پر۔ تو ان کی شرارت کی انتہا یہ ہو گئی کہ اللہ تعالی نے مسیح کو رسول بنا کر بھیجا۔ رسول بنی اسرائیل حضرت موسی اور حضرت عیسی کے درمیان رسول کوئی نہیں ہے سب نبی ہیں۔ حضرت موسی رسول تھے اور حضرت عیسی رسول تھے درمیان میں داؤد ہوں سلیمان ہو یا سعیا ہو زکریا ہو یہ سب نبی ہے۔ یحیی نبی ہے۔ رسول نہیں۔ لہذا وہ شہید کر دیا گئے۔ رسول شہید نہیں ہو سکتا قتل نہیں ہو سکتا۔ لیکن عیسی اور موسی کے درمیان 14 سو برس ان کے جو ہیں۔ اس کا کلائمیکس ہے حضرت مسیح علیہ السلام کی بعثت۔ اور حضرت مسیح علیہ السلام کو جسے اللہ نے اپنی روح قرار دیا۔ روح اللہ کا کلمہ حضرت مریم کو دیا اللہ کا کلمہ عظیم ترین معجزات انہوں نے کیا کہا؟ یہ ولد الزنا ہے حرامزادہ ہے نقل کفر کفر نباشد۔ یہ جادوگر ہے یہ مرتد ہے یہ واجب القتل ہے۔ اصل حکومیت اس وقت رومیوں کی تھی حکومت لیکن انہوں نے انہیں اٹونومی دے رکھی تھی اپنے مذہبی معاملات تم خود طے کر سکتے ہو تو کہا اس وقت کا جو ان کا ہیڈ ربائی تھا سب سے بڑا اس کی عدالت نے فیصلہ کیا مسیح کو سولی چڑھا دیا جائے۔ پائلیٹ اس پونٹیس اس کے پاس ان کے عرضداشت پہنچ گئی یہ ہمارا مذہبی یہ مرتد ہے یہ کافر ہے یہ جادوگر ہے یہ واجب القتل ہے اسے قتل کرو سولی چڑھاؤ۔ خیر وہ لمبی بات ہو جائے گی اس نے تو اپنے ہاتھ دھوئے کہ صاحب ہمارے پاس کوئی جرم نہیں ہے اس کے خلاف۔ تم کہتے ہو تو ٹھیک ہے سولی چڑھا دو۔ یہ دوسری بات ہے کہ اللہ نے حضرت مسیح کو اٹھا لیا اسمان پر۔ ان کی جگہ وہ شخص سولی چڑھا جس نے غداری کر کے گرفتار کروایا تھا جوڈاس اس کیاری اور اس کی شکل اللہ نے بدل دی حضرت مسیح کی تھی حضرت مسیح کو فرشتے اٹھا کے اوپر لے گئے۔ وہ زندہ اسمان پر اٹھا لیے گئے۔ اور یہ ساری تفاصیل نہ قران میں ہیں نہ حدیث میں یہ انجیل میں ہے لیکن انجیل کون سی؟ برناباس کی انجیل اف دی لارڈ اکارڈنگ ٹو سینٹ برناباس یہ حواریین مسیح میں سے تھے۔ لیکن عیسائی ان کو تسلیم نہیں کرتے ان کی بائبل کو صحیح نہیں مانتے کینونیکل نہیں مانتے۔ 100 انجیلیں تھیں 104 تھی جن میں سے چار چنی ہیں انہوں نے یہ متی اور جان اور مرکس مارکس یہ ہیں یہ چار انجیلیں ہیں انہوں نے تسلیم کی ہیں کہ یہ کینونیکل ہیں یہ تو ہیں حقیقی باقی جو ہیں 100 اس کو وہ تسلیم نہیں کرتے ان میں سے ایک ہے یہ برناباس اس میں یہ تفصیل ہے۔ کہ اللہ تعالی نے اس شخص کی جوڈاس کی یہودا جوڈاس اس کو انگریزی میں کہتے ہیں۔ اس کی شکل بدل دی حضرت مسیح کی سی وہ گرفتار ہوا وہ سولی چڑھا۔ وہ غدار تھا غداری کی سزا اسے ملنی تھی وہ مل گئی۔ اللہ نے مسیح کو فرشتے چار اٹھ لے ہیں جس کوٹھڑی میں حضرت مسیح مقیم تھے ایک باغ کے اندر گوش تھے اس کی چھت پھٹی ہے چار فرشتے ائے ہیں حضرت مسیح کو اٹھا کر لے گئے ہیں چھت برابر ہو گئی ہے اس کے بعد وہ شخص پکڑا گیا ہے۔ بہرحال حضرت مسیح کو اللہ نے اٹھا لیا اسمان پر لیکن وہ دن ہے کہ اس قوم کو اب مغضوب علیہم قرار دے دیا گیا۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript