Thumbnail for Sharah Al Wiqaya || Lesson 5 || شرح الوقایہ || #Razvidarsgah by Razvi Darsgah

Sharah Al Wiqaya || Lesson 5 || شرح الوقایہ || #Razvidarsgah

Razvi Darsgah

18m 27s14,440 words~73 min read
AI audio transcription
Transcript source

AI audio transcription

This transcript was generated from the video's audio because no usable YouTube caption track was available. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Pull quotes
[6:26]قلنا المذكور بعده حرف الواو فاد المراد فاغسلوا هذا المجموع فلا دلالة له على تقديم غسل الوجه.
[6:26]ہم کہتے ہیں کہ اس کے بعد حرف واو مذکور ہے۔ تو مراد ہے فاغسلوا هذا المجموع فاغسلوا وجوهکم وايديكم الى المرافق وايديكم الى الكعبين اس سے مراد فاغسلوا هذا المجموع ہے۔
[15:15]ترتیب وار وضو فرمایا اعضا کے اندر ترتیب کا لحاظ کیا اس طرح وضو فرمایا اور پھر اس کے بعد فرمایا کہ یہ ایسا وضو ہے جس کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز کو قبول نہیں فرماتا تو
[15:36]حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز کو قبول نہیں فرماتا یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بغیر ترتیب کے اگر کوئی وضو کرے تو وہ وضو درست نہیں ہوگا۔
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:01]بسم الله الرحمن الرحيم واما الترتيب فلقوله تعالى فاغسلوا وجوهكم فيفرز تقديم غسل الوجه فيفرز تقديم الباقي مرتبا لان تقديم غسل الوجه مع عدم الترتيب في الباقي خلاف الاجمعي رہا ترتیب کا فرض ہونا تو وہ اللہ تبارک و تعالی کے قول فاغسلوا وجوهکم کی وجہ سے ہے۔ تو چہرے کے دھلنے کو مقدم کرنا فرض ہوگا اور اس وقت باقی کو بھی ترتیب وار مقدم کرنا فرض ہوگا کیونکہ چہرے کے دھلنے کو مقدم کرنا باقی کے اندر ترتیب کا لحاظ نہ کرنا یہ اجماع کے خلاف ہے۔ امام شافعی علیہ رحمہ کے انہوں نے قول کیا تھا اس کا کہ نیت اور ترتیب یہ دونوں کے دونوں فرض ہیں وضو کے اندر۔ نیت کیوں فرض ہے اس کی وضاحت ماقبل میں ہو چکی ہے اب یہاں سے ترتیب کہ ترتیب وضو کے اندر فرض کیوں ہے؟ تو اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اللہ تبارک و تعالی کے فرمان فاغسلوا وجوهکم کی وجہ سے ہے۔ اس کی وجہ سے ہی ترتیب فرض ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالی نے فاغسلوا وجوهکم کے اندر فا کا استعمال فرمایا ہے اور فا یہ تعقیب بلا تراخی کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ وصل اور تعقیب بلا تراخی کے لیے یعنی اس کا ماقبل جو ہے وہ مابعد سے متصل ہوگا۔ اور ما بعد جو ہوگا وہ ماقبل پر مرتب ہوگا۔ جیسے ہی ماقبل پایا جائے گا تو ما بعد بھی پایا جائے گا تو اس کے ماقبل میں جو ہے وہ اذا قمتم الى الصلاة ہیں۔ اذا قمتم الى الصلاة فاغسلوا وجوهكم تو اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا ہے کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو یعنی جب تم نماز کا ارادہ کرو تو چہرے کو دھلو اپنے چہروں کو دھلو۔ تو اس میں نماز کا ارادہ کرنا یہ فا کا ماقبل ہے اور چہرے کا دھلنا یہ فا کا مابعد ہے۔ تو لازم یہ آئے گا اس ایت کے ذریعے سے کہ جیسے ہی کوئی نماز کا ارادہ کرے تو اس کے بعد سب سے پہلے چہرے کو دھلے۔

[2:57]کیونکہ ان کے درمیان میں اگر کوئی فاصل آ جائے گا تو پھر اس کا معنی ادا نہیں ہوگا فاغسلوا کے فا کا۔ کیونکہ فاغسلوا کا فا چاہتا ہی یہی ہے کہ ان کے درمیان میں کوئی فاصل نہ ائے۔ بلکہ جیسے ہی کوئی نماز کا ارادہ کرے ویسے ہی وہ اپنے چہرے کو دھلے تو اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ چہرے کا دھلنا یہ مقدم ہے۔ وضو کے باقی اعضا کے دھلنے سے پہلے چہرے کا دھلنا ہی فرض ہے۔ تو امام شافعی علیہ رحمہ کا یہ استدلال ہے کہ اس آیت کے ذریعے سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ چہرے کے دھلنے کو مقدم کیا جائے گا۔ پھر اس کے بعد فرماتے ہیں کہ جب چہرے کے دھلنے کا کی تقدیم ثابت ہو گئی ہے تو باقی کو بھی مرتب طریقے پر مقدم کرنا یہ بات ثابت ہو جائے گی اور یہ بھی فرض ہوگا۔ وہ کیسے وہ اس وجہ سے کہ اگر چہرے کے دھلنے کے مقدم کرنے کا قول کیا جائے باوجود اس اور پھر یہ کہا جائے یعنی چہرے کے دھلنے کے مقدم کرنے کا قول کیا جائے اور اس کے باوجود یہ کہا جائے کہ چہرے کا دھلنا تو مقدم ہے لیکن باقی جو اعضا ہیں ان کے اندر ترتیب فرض نہیں ہے تو یہ اجماع کے خلاف ہوگا۔ کیوں؟ امام شافعی علیہ رحمہ فرماتے ہیں کہ ہمارا تو قول یہ ہے کہ تمام اعضا کے اندر ترتیب فرض ہے اور احناف کا قول یہ ہے کہ کسی بھی عضو کے اندر ترتیب فرض نہیں ہے۔ تو یا تو ترتیب فرض ہے یا ترتیب فرض نہیں ہے اور یہ کسی کا قول نہیں ہے کہ چہرے کا دھلنا یہ چہرے کے دھلنے کو مقدم کرنا فرض ہے اور اس کے علاوہ کو نہیں۔ تو ایسا کسی نے قول نہیں کیا ہے۔ تو اس بات پر اجماع ہو چکا کہ یا تو تمام کے اندر ترتیب لازم ہوگی یا کسی کے اندر بھی ترتیب لازم نہیں ہوگی جب اجماع ہو چکا ہے کہ یا تو تمام کے اندر ترتیب ہوگی یا کسی کے اندر بھی نہیں ہوگی تو اب یہ کہنا کہ ایک کے اندر ترتیب ہوگی باقی کے اندر ترتیب نہیں ہوگی ایک کو مقدم کیا جائے گا باقی کو مقدم نہیں کیا جائے گا یہ درست نہیں ہے یہ اجماع کے خلاف ہوگا۔

[5:13]کیونکہ اس بات کیونکہ امام اعظم علیہ رحمہ کا قول یہ ہے کہ اگر کوئی شخص پہرے کو دھلنے کو بھی مقدم کر دے پیروں کے دھلنے کو تو بھی اس کا وضو درست ہے۔ ایسے ہی باقی اعضا ہے۔ تو ان کے نزدیک کسی بھی چیز کو مقدم کر سکتے ہیں کسی کو بھی موخر کر سکتے ہیں۔ اور امام شافعی علیہ رحمہ کے نزدیک چہرے کے دھلنے کو مقدم کرنا یہ فرض ہے اور ایسے ہی باقی تمام کو مرتب کرنا فرض ہے۔ تو اگر کوئی شخص یہ کہے کہ چہرے کے دھلنے کو مقدم کرنا تو فرض ہے لیکن باقی کو مقدم کرنا یا باقی کے اندر ترتیب فرض نہیں ہے تو یہ اجماع کے خلاف ہوگا۔ جب یہ اجماع کے خلاف ہوگا تو یہ بات لازم ائی کہ یہ بات تو پہلے ہی ہم ثابت کر چکے ہیں کہ چہرے کا دھلنا یہ مقدم ہوگا۔ اس آیت کے ذریعے سے ہی۔ اور اگر یہ کہتے ہیں کہ باقی کے اندر ترتیب نہیں ہوگی تو یہ اجماع کے خلاف ہوگا۔ لہذا یہ کہنا پڑے گا کہ باقی کے اندر بھی ترتیب لازم ہے۔ تو جب باقی کے اندر بھی ترتیب لازم ہے اور چہرے کا دھلنا بھی مقدم ہے تو ثابت ہو گیا کہ وضو کے اندر ترتیب جو ہے وہ فرض ہے۔ تمام اعضا کے درمیان میں یہ امام شافعی علیہ رحمہ کا استدلال ہے۔

[6:26]قلنا المذكور بعده حرف الواو فاد المراد فاغسلوا هذا المجموع فلا دلالة له على تقديم غسل الوجه. ہم کہتے ہیں کہ اس کے بعد حرف واو مذکور ہے۔ تو مراد ہے فاغسلوا هذا المجموع فاغسلوا وجوهکم وايديكم الى المرافق وايديكم الى الكعبين اس سے مراد فاغسلوا هذا المجموع ہے۔

[7:01]فلا دلالة له على تقديم غسل الوجه تو چہرے کے دھلنے کے مقدم کرنے پر اس کی کوئی دلالت نہیں ہوگی۔ یعنی اس کا جواب یہ ہے امام شافعی علیہ رحمہ کا جو استدلال تھا کہ چہرے کے دھلنے کو مقدم کرنا یہ فرض ہے اس آیت کی وجہ سے ہی۔ کیونکہ اس کے اندر فا کا استعمال کیا گیا ہے اور فا یہ تعقیب بلا تراخی کے لیے ہے۔ جب فا تعقیب بلا تراخی کے لیے ہے تو چہرے کے دھلنے کو مقدم کرنا یہ فرض ہوگا۔ کیونکہ قیام صلاة کے فورا بعد یہی ہے۔

[7:28]فا کے کو داخل کرنے کے ساتھ ساتھ اغسلوا وجوهکم فرمایا گیا ہے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ فاغسلوا وجوهکم تو ہے لیکن فاغسلوا وجوهکم کے بعد جو ہے اس پر واو داخل ہے یعنی فاغسلوا وجوهکم وايديكم الى المرافق۔ اور ایسے ہی اخر میں وارجلكمل الكعبين ہے۔ تو اس میں واو بھی داخل ہے اسی آیت کے اندر۔ اور واو یہ مطلق جمع کے لیے اتا ہے۔ یہ نہ ترتیب پر دلالت کرتا ہے اور نہ ہی کسی اور چیز پر بس یہ مطلق جمع پر دلالت کرتا ہے۔ جب یہ مطلق جمع کے لیے وضع کیا گیا ہے یہ مطلق جمع پر دلالت کرے گا تو اس کا جو یہاں پر جو عطف کیا گیا ہے وہ مفرد کا عطف مفرد پر کیا گیا ہے۔ یعنی اصل میں عبارت یہ ہوگی فاغسلوا وجوهکم وايديكم الى المرافق وامسحوا برؤوسكم۔ وامسحوا کو نکال دیں فاغسلوا وجوهکم وايديكم الى المرافق وارجلكمل الكعبين۔ تو مطلب یہ ہوگا کہ اپنے چہروں کو اپنے ہاتھوں کو اور اپنے پیروں کو دھلو یہ مطلب نہیں ہوگا کہ اپنے چہروں کو دھلو اور اپنے ہاتھوں کو دھلو اور اپنے پیروں کو دھلو بلکہ یہ مطلب یہ ہوگا اپنے چہروں کو اپنے ہاتھوں کو اور اپنے پیروں کو دھلو۔ یہ تو اردو میں وضاحت کے لیے۔ عربی میں اگر کہیں تو ایسا نہیں ہے کہ فاغسلوا وجوهکم واغسلوا ايديكم واغسلوا ارجلكمل الكعبين ایسا نہیں ہے بلکہ فاغسلوا وجوهكم وايديكم الى المرافق وارجلكمل الكعبين ہے۔ تو ايديكم اور ارجلكوم ان دونوں کا عطف جو ہے وہ وجوهکم پر ہے۔ جب وجوهکم پر ہے تو مطلب یہ ہوا کہ اس مجموعے کو دھلو یعنی ان تینوں چیزوں کو دھلو۔ اور ان تینوں چیزوں کا تعلق جو ہے وہ اغسلوا سے ہے۔

[9:25]جب اغسلوا جس پر فا داخل ہے اسی سے ہی ان تینوں کا تعلق ہے تو مطلب یہ ہوا کہ اگر فاغسلوا کے اندر تقدیم ثابت ہوتی ہے تو تینوں کی تقدیم ثابت ہوگی۔ صرف غسل وجه کی تقدیم صرف وجه کی تقدیم یہ ثابت نہیں ہوگی تینوں کی تقدیم ثابت ہوگی کیونکہ اسی اغسلوا کا تعلق تینوں سے ہے ان کے لیے کوئی الگ سے اغسلوا نہیں ہے۔ غسل جو اغسلوا ہے ایک ہی ہے اور اسی کا تعلق ان تینوں سے ہے اور اسی پر فا داخل ہے۔ جب اس پر فا داخل ہے اور فا تعقیب بلا تراخی کے لیے ہے تو یہ بات اس سے ثابت ہو گئی کہ ان تینوں کو مقدم کرنا یہ ضروری ہے۔ نہ کہ صرف غسل وجہ کو مقدم کرنا ضروری ہے۔ بلکہ ان تینوں کے غسل کو مقدم کرنا یہ ضروری ہے۔ تو جو قیام قیام الصلاة ہے یہ مرتب جو ہے وہ ان تینوں کے غسل پر مرتب ہے۔ ٹھیک ہے۔ تو اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ آیت کے اندر غسل وجہ کی تقدیم آیت سے ثابت نہیں ہوتی ہے۔ فلا دلالة له على تقديم غسل الوجه تو اس کی غسل وجہ کی تقدیم پر اس کی کوئی دلالت نہیں ہے۔ یہ تو ان کا پہلا مقدمہ تھا۔ امام شافعی علیہ رحمہ کا۔ امام شافعی علیہ رحمہ نے جو استدلال کیا تھا اس میں دو مقدمے تھے۔ پہلا مقدمہ تو یہ تھا کہ غسل وجہ کی تقدیم اس آیت سے ثابت ہوتی ہے۔ ٹھیک ہے۔ اور پھر دوسرا یہ تھا کہ جب غسل وجہ کی تقدیم اس آیت سے ثابت ہوتی ہے تو باقی اعضا کے اندر بھی ترتیب ثابت ہوگی۔ یہ دوسرا مقدمہ تھا۔ کیونکہ اگر ایسا کہا جائے کہ غسل وجہ کی تقدیم تو ثابت ہے لیکن باقی اعضا کے اندر ترتیب ثابت نہیں ہے تو یہ اجماع کے خلاف ہوگا۔ یہ امام شافعی علیہ رحمہ کا دوسرا مقدمہ تھا۔ تو اس پہلے مقدمے کا جواب تو یہ ہو گیا کہ اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ غسل وجہ کی تقدیم یہ ثابت ہے۔ بلکہ آیت سے غسل وجہ کی تقدیم ثابت نہیں ہوتی ہے۔ دوسرا مقدمہ جو تھا اس کا جواب دیکھ لیں۔ وان سلم فاستدل المجتهد بهذه الايه لم يكن الاجماع منعقدا فاستدلال الباقي استدلال بلا دلل وتمسك بمجرد زعمه لا بالاجماع وقد رايت في كتبه

[11:46]اگر تسلیم بھی کر لیا جائے بالفرض اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ہاں اپ نے جو کہا کہ اس آیت کے ذریعے سے غسل وجہ کی تقدیم ثابت ہوتی ہے اگر اس بات کو مان بھی لیا جائے تو بھی دوسرا مقدمہ جو ہے وہ درست نہیں ہے۔ کیسے جب مجتہد نے استدلال کیا مجتہد یعنی حضرت امام شافعی علیہ رحمہ جب مجتہد نے یعنی امام شافعی علیہ رحمہ نے جب اس آیت کے ذریعے سے استدلال کیا تو اجماع منعقد ہی نہیں ہوا تھا۔ فاسدلال بالحا ترتيب الباقي استدلال بلا دليل و تمسك بمجرد زعم لا بالاجماع تو اس کا استدلال باقی کی ترتیب پر کرنا یہ استدلال بلا دلیل ہے۔ اور محض اپنے گمان سے تمسک کرنا ہے محض اپنے گمان سے دلیل پکڑنا ہے نہ کہ اجماع کے ذریعے سے۔ یہ جواب ہے اس کا جو انہوں نے یہ کہا کہ جب اجماع منعقد ہو چکا ہے ہمارے اور اپ کے درمیان کہ تمام اعضا کی تقدیم تمام اعضا میں ترتیب یا تو ثابت ہوگی یا تمام اعضا میں ترتیب ثابت نہیں ہوگی۔ کسی کے اندر بھی ترتیب ثابت نہیں ہوگی یا تمام کے اندر ثابت ہوگی یا کسی کے اندر بھی ثابت نہیں ہوگی اس پر ہمارا اجماع ہو چکا ہے۔ اسی کا جواب دے رہے ہیں کہ جس وقت امام شافعی علیہ رحمہ استدلال کر رہے ہیں اس وقت تو اجماع منعقد ہی نہیں ہوا ہے۔ اجماع تو ان کے استدلال کے بعد جب یہ بات وہ ثابت کر دیں گے کہ ہاں ہمارے اور اپ کے درمیان میں اجماع منعقد ہو چکا ہے تب یہ بات ان کی مانی جائے گی اس سے پہلے نہیں مانی جائے گی۔ اور یہاں ابھی تک ان کے اور ہمارے درمیان میں یہ بات ثابت نہیں ہوئی ہے۔ اجماع منعقد نہیں ہوا ہے اس چیز پر کہ یا تو سب کے اندر ہوگی یا کسی کے اندر نہیں ہوگی تو پھر یہ ان کا یہ استدلال کرنا کہ یہ اجماع کے خلاف ہوگا یہ بلا دلیل ہے۔

[13:46]استدلال بلا دلیل ہے اور محض اپنے گمان سے استدلال کرنا ہے۔ یہ دوسرے مقدمے کا جواب ہے۔ وقد رايت في كتبهم الاستدلال بقوله عليه السلام هذا وضوء لا يقبل الله تعالى الصلاة الا به وقد كان هذا الوضوء مرتبا فيفرض الترتيب وقد سح لي جواب حسن وهو ان توضا مرة مرة وقال هذا وضوء لا يقبل الله تعالى الصلاة الا به فهذا القول يرجع الى المرة فحسبوا لا الاشياء الاخر

[14:27]اور میں نے ان کی کتابوں میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے ذریعے سے استدلال کو بھی دیکھا ہے۔ کہ هذا وضوء لا يقبل الله تعالى الصلاة الا به یہ ایسا وضو ہے جس کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز کو قبول نہیں فرماتا ہے۔ اور هذا وضوء مرتبا اور یہ وضو ترتیب وار تھا۔

[15:15]ترتیب وار وضو فرمایا اعضا کے اندر ترتیب کا لحاظ کیا اس طرح وضو فرمایا اور پھر اس کے بعد فرمایا کہ یہ ایسا وضو ہے جس کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز کو قبول نہیں فرماتا تو

[15:36]حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز کو قبول نہیں فرماتا یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بغیر ترتیب کے اگر کوئی وضو کرے تو وہ وضو درست نہیں ہوگا۔

[15:57]تو اس طرح سے شوافع استدلال کرتے ہیں اس حدیث کے ذریعے سے۔ کیونکہ وہ ترتیب وہ وضو جو تھا وہ ترتیب وار تھا۔ تو جب وہ وضو ترتیب وار تھا اور حضور نے فرمایا کہ اس کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرماتا تو یہ بات ثابت ہو گئی کہ اگر کوئی ترتیب وار وضو نہ کرے تو اس کے بغیر تو اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔

[17:54]یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔ اعضا وضو کو۔ تو یہ قول جو ہے وہ صرف مرتو کی طرف لوٹ رہا ہے۔ نہ کہ اس کے علاوہ کی طرف یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھلا اور وضو مکمل فرمانے کے بعد فرمایا کہ اس وضو کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نماز قبول نہیں فرمائے گا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ اس سے مراد مرتو کو لیے لیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ اگر کوئی ایک ایک مرتبہ بھی اعضا کو نہ دھلے تو اس وضو کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔ یعنی اس کا وضو درست ہی نہیں ہوگا۔ اگر ایک ایک مرتبہ بھی کوئی اپنے عضو کو نہ دھلے تب۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript