[0:01]اے میرے سرداروں میری طرف ایک خط آیا ہے جو جو سلیمان کی طرف سے ہے اور اس میں اللہ کے نام سے آغاز کیا گیا ہے۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اطاعت کے ساتھ حاضر ہو جاؤں۔ ہم طاقتور ہیں اور جنگ کے لیے تیار ہیں لیکن فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اب میں خود اس بادشاہ سلیمان سے ملوں گی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ بلقیس کا واقعہ قرآن مجید کی سورہ النمل میں بیان ہوا ہے۔ اور یہ ایک حقیقی مستند اور قرانی واقعہ ہے۔ روایت کے مطابق حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ کے عظیم نبی اور بادشاہ تھے جنہیں ایسی سلطنت عطا کی گئی تھی جیسی کسی اور کو نہیں ملی۔ انسان، جنات، پرندے اور ہوائیں سب ان کے حکم کے تابع تھے۔ ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے لشکر کا جائزہ لے رہے تھے جس میں انسانوں اور جنات کے ساتھ پرندے بھی شامل تھے۔ تو انہوں نے ہدهد پرندے کو غیر حاضر پایا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر وہ مناسب عذر کے بغیر غیر حاضر ہوا تو میں اسے سخت سزا دوں گا یا ذبح کر دوں گا۔ کچھ ہی دیر بعد ہدهد حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی میں ایک ایسی خبر لایا ہوں۔ میں سبا کی سرزمین سے آیا ہوں جہاں ایک عورت حکومت کرتی ہے۔ اسے ہر طرح کی آسائشیں حاصل ہیں اور اس کا ایک عظیم الشان تخت ہے۔ مگر میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کی عبادت کرتی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہدهد کی بات سن کر فرمایا کہ ہم ابھی دیکھیں گے کہ تو سچ بول رہا ہے یا جھوٹ۔ پھر آپ نے ایک خط لکھوایا جس میں اللہ کا نام لے کر ملکہ کو توحید کی دعوت دی گئی کہ وہ سرکشی چھوڑ کر اللہ کی فرمانبردار بن کر حاضر ہو۔ یہ خط ہدهد کے ذریعے ملکہ بلقیس تک پہنچا۔ جب ملکہ بلقیس نے خط پڑھا تو وہ گھبرا گئی۔ کیونکہ اس نے ایسا پرجلال اور بامہانی خط پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس نے اپنی قوم کے سرداروں اور مشیروں کو جمع کیا اور کہا کہ اے میرے سرداروں میری طرف ایک خط آیا ہے جو جو سلیمان کی طرف سے ہے اور اس میں اللہ کے نام سے آغاز کیا گیا ہے۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اطاعت کے ساتھ حاضر ہو جاؤں۔ اس پر مشیروں نے کہا کہ ہم طاقتور ہیں اور جنگ کے لیے تیار ہیں لیکن فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ مگر ملکہ بلقیس ایک عقلمند، دانا اور دور اندیش حکمران تھی۔ اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی بستی میں آتے ہیں تو اس کو تباہ کر دیتے ہیں اور عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں اس لیے میں پہلے تحفہ بھیج کر دیکھوں گی۔ چنانچہ اس نے کئی قیمتی تحفے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس بھجوائے۔ جب تحفے حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے پیش کیے گئے تو آپ نے فرمایا کہ کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے دیا ہے وہ تمہارے مال سے کہیں بہتر ہے۔ پھر آپ نے ایلچیوں کو واپس لوٹا دیا اور فرمایا کہ اگر وہ اطاعت کے لیے نہ آئے تو ہم ایسی فوج لے کر آئیں گے جس کا وہ مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ جب ملکہ بلقیس کو حضرت سلیمان علیہ السلام کا جواب ملا تو اس نے سمجھ لیا کہ یہ کوئی عام بادشاہ نہیں بلکہ اللہ کا نبی ہے۔ چنانچہ اس نے خود حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونے کا فیصلہ کیا۔ اب میں خود اس بادشاہ سلیمان سے ملوں گی۔ ادھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے دربار میں فرمایا کہ اے میرے درباریوں تم میں سے ایسا کون ہے جو اس کے آنے سے پہلے اس کا تخت یہاں لے ائے؟ ایک طاقتور جن نے کہا میں اس کے آنے سے پہلے اس کا تخت یہاں لے آؤں گا۔ مگر ایک شخص جسے کتاب کا علم تھا اس نے کہا کہ میں پلک جھپکنے سے پہلے اس کا تخت یہاں حاضر کر دوں گا۔ اور فورا ہی تخت حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے موجود تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر گزار ہوں یا ناشکری کرنے والا۔ پھر آپ نے حکم دیا کہ تخت کی ہیت میں کچھ تبدیلی کر دی جائے۔ تاکہ دیکھا جائے کہ ملکہ پہچان پاتی ہے یا نہیں۔ جب ملکہ بلقیس دربار میں پہنچی اور اسے پوچھا گیا کہ کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے؟ تو اس نے بڑی حکمت سے جواب دیا۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے یہی ہو۔ اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے ایک شیشے کے فرش والے محل میں داخل ہونے کو کہا۔ جس کے نیچے پانی بہہ رہا تھا۔ ملکہ نے اسے پانی سمجھ کر اپنے کپڑے سمیٹ لیے۔ تب حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ شیشہ ہے۔ اس منجر نے ملکہ پر گہرا اثر ڈالا اور اسے اندازہ ہو گیا کہ یہ سب اللہ کی قدرت ہے۔ نہ جادو ہے نہ دھوکہ۔ اسی وقت اس کے دل میں ایمان کی روشنی داخل ہوئی اور اس نے کہا اے میرے رب میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اب میں سلمان کے ساتھ اللہ پر ایمان لاتی ہوں۔ اس طرح ایک عظیم سلطنت کی ملکہ جو سورج کی پوجا کرتی تھی اللہ کی توحید کو قبول کر کے مسلمان ہو گئی۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اصلی عزت طاقت، دولت یا حکومت میں نہیں بلکہ اللہ کی اطاعت میں ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت اللہ کے شکر کی مثال ہے اور ملکہ بلقیس کی زندگی عقل، مشاورے، دانائی اور حقن کو پہچان کر قبول کرنے کی اعلی مثال ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ حکمت، دلیل اور حسن اخلاق سے دلوں کو فتح کرتا ہے۔ اور جو شخص سچائی کو پہچان لے اگرچہ وہ کتنا ہی بڑا حکمران کیوں نہ ہو اللہ کے سامنے جھکنے میں ہی اس کی نجات ہے۔

Malka balqees ka imaan Lany ka waqia | Quran Story | ملکہ بلقیس کا ایمان لانے کا واقعہ
Sach Ki Saltanat
5m 54s1,011 words~6 min read
YouTube auto captions
Transcript source
YouTube auto captions
This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.
Use this transcript
Related transcript hubs
Watch on YouTube
Share
MORE TRANSCRIPTS


