Thumbnail for SAA, ZAAL & ZUA | Huroof e Lisaviyah | Makharij Series Ep - 13 | Qari Aqib | Urdu/Hindi by Qari Aqib

SAA, ZAAL & ZUA | Huroof e Lisaviyah | Makharij Series Ep - 13 | Qari Aqib | Urdu/Hindi

Qari Aqib

11m 21s1,768 words~9 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:08]رحمۃ اللہ وبرکاتہ پیارے عزیزوں امید کرتا ہوں اپ سب لوگ خیر و عافیت سے ہوں گے جیسا کہ اپ لوگ جانتے ہیں کہ پچھلی والی کلاس میں ہم نے حروف نطقائیہ کے بارے میں پڑھا تھا مجھے امید ہے اپ نے اس کلاس کو پورا دیکھا ہوگا اور سمجھا بھی ہوگا اگر ابھی تک اپ میں سے کسی نے اس کلاس کو نہیں دیکھا ہے تو یہاں پر جو ائی کا بٹن شو ہو رہا ہے اس پر اپ کلک کیجئے اور اس ویڈیو کو شروع سے لے کر اخر تک ضرور دیکھیے لنک اپ کو ڈسکرپشن میں بھی مل جائے گی تو اج کا جو ہمارا ٹاپک ہے وہ ہے حروف لثویہ کے بارے میں اج کی کلاس میں ہم جانیں گے کہ حروف لثویہ کون سے ہیں اور انہیں ہم حروف لثویہ کیوں کہتے ہیں سب سے پہلے اپ اپنی کاپی پر نوٹ کریں حروف لثویہ جو ہے یہ تین حروف ہیں ث ذال ظ تو ان تین حروف کو ہم حروف لثویہ کہتے ہیں اب یہاں پر ایک اور سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ انہیں ہم حروف لثویہ کیوں کہتے ہیں لثویہ جو ہے یہ عربی کا لفظ ہے اور اس کا جو معنی ہے وہ ہے مسوڑھے یعنی مسوڑھوں کے پاس جو اندرونی کنارے ہوتے ہیں اسی جگہ سے جو ہے یہ تین حروف ادا ہوتے ہیں یعنی ث ذال اور ظ یہ ادا اسی جگہ سے ہوتے ہیں اسی وجہ سے ہم ان کو حروف لثویہ کہتے ہیں اس کو بھی اپ اپنی کاپی پر نوٹ کریں اب ہم چلتے ہیں ان کی ادائیگی کی طرف اب جو حروف لثویہ کی ادائیگی ہے وہ یوں ہے اس کو اپ اپنی کاپی پر نوٹ کریں زبان کا سر جب ثنایا اولیاء کے کناروں سے لگتے ہیں تب جا کے ث ذال اور ظ ادا ہوتے ہیں زبان کا سر جب ثنایا اولیاء کے اندرونی کناروں سے لگ جاتا ہے تب جا کے ث ذال اور ظ ادا ہوتے ہیں اب اپ اس ادائیگی کو پہلے اچھے طریقے سے سمجھ لیجئے زبان کا سر کون سا ہوتا ہے جب اپ اپنی زبان کو باہر نکالتے ہیں تو سب سے اگے جو حصہ ہوتا ہے اسے ہم کہتے ہیں راس لسان یعنی زبان کی نوک ٹپ اف دی ٹنگ اسی کو کہا جاتا ہے زبان کا سر جب وہ زبان کا سر کہاں لگے اپ کے اوپر جو دو دانت ہے نا ثنایا اولیاء جنہیں کہا جاتا ہے ان کے کناروں سے جب لگے تب جا کے یہ تینوں حروف ادا ہوں گے اب جو یہ اوپر کے دو دانت ہیں نا ان کے کنارے ہیں کہاں پر یہ سب سے پہلے اپ جان لیجئے اپ اپنا انگوٹھا لیں اس کے بعد اپ اپنے ان دو دانتوں کے ساتھ زور سے لگائیں جب اپ نے زور سے لگایا تو اپ دیکھیں گے یہاں پر پرنٹ اگیا کس کا پرنٹ اگیا اپ کے جو دو دانت ہیں نا ان کے کناروں کا پرنٹ اپ کے انگوٹھے پر ا جائے گا تو انہی کے ساتھ اپ نے کیا کرنا ہے زبان کے سرے کو لگانا ہے تب جا کے یہ تینوں حروف ادا ہو جائیں گے تو ہم پڑھتے ہیں ث ث ذال ذال ظ ظ اب اپ نے ایک بات کا خیال رکھنا ہے جب اپ ان تینوں حروف کو ادا کریں گے زبان کا جو سرہ ہوگا یہ دانتوں سے تھوڑا سا باہر رہے گا کتنا باہر رہے گا بالکل اتنا سا مطلب ایک دانے کے برابر زیادہ زبان کو باہر نہیں نکالنا ہے کوئی اتنا نکالے اتنا نہیں کرنا ہے بالکل تھوڑا سا حصہ جو ہے وہ دانتوں سے باہر رہے گا اور نہ ہی زبان کو اندر رکھنا ہے پورا تو یہ حروف ادا نہیں ہوں گے یاد رکھیے گا زبان کا تھوڑا سا جو حصہ ہے وہ تھوڑا سا باہر رہے گا تھوڑا سا باہر رہے گا ٹھیک ہے تو یہ تینوں حروف صحیح طریقے سے ادا ہو جائیں گے اب اپ نے یہ جانا کہ یہ جو تین حروف ہیں ث ذال اور ظ یہ ایک ہی جگہ سے ادا ہونے والے حروف ہیں لیکن ان کے اندر جو ڈفرنس ہے اس کو اپ نے پہچاننا ہے اگر اپ نے ان کے اندر کے ڈفرنس کو نہیں پہچانا تو قران مجید کے اندر اپ بڑی غلطی کریں گے ان کے اندر جو ڈفرنس ہے وہ تفخیم اور ترقیق کے اعتبار سے ہے یعنی پر اور باریک کے اعتبار سے ہے ث اور ذال جو ہے یہ دونوں مرقق ہے یعنی باریک پڑھے جانے والے حروف ہیں اور حروف مستفلہ کے حروف میں سے اتے ہیں ظ جو ہے یہ مفخم ہے یعنی موٹا پڑھا جانے والا حرف ہے اور حروف مستعلیہ کے حروف میں سے اتا ہے تو یہ چیز اپ نے جاننی ہے ث ذال جو ہے یہ دونوں باریک ہے ظ جو ہے یہ موٹا ہے پر ہے ٹھیک ہے نا اس کو اپ نے یاد رکھنا ہے تو ہم جب ان کو پڑھیں گے نا تو ہم نے ان کے اندر کیا کرنا ہے ان کے اندر ڈفرنس کرنا ہے کیسے کریں گے اواز کے اعتبار سے اواز کو یاد رکھنا ہے جب ہم پڑھتے ہیں نا ث ذال ث ذال دیکھیں اواز کو پہچانئیے ا ا ا ا ا پھر جب ہم ظ پڑھتے ہیں ظ ظ ظ ظ ظ تو اس میں دیکھیے اواز کیسی ہے ا تو اب ملائیے ا ا ا ا ث ذال ظ ث ذال ظ ث ذال ظ اس کو ثانی نہیں پڑھنا ہے کوئی پڑھے گا ث ذال ظ نہیں یہ غلط ہے بالکل ہلکا ث ذال ظ بالکل نرمی سے ادا کرنا ہے کلیئر ہو گیا یہ سمجھ میں اگیا اب ہم چلتے ہیں ان کی مشق کی طرف سب سے پہلے ہم یہاں پر ث کی مشق کرتے ہیں ث جو ہے یہ باریک ہے ٹھیک ہے اس کو باریک پڑھنا ہے اس کو موٹا نہیں پڑھنا ہے تو ہم جیسے پڑھتے ہیں نا ث زبر ث ث زیر ث ث پیش ث ث ث ث اسی طریقے سے حمزہ ث زبر اس حمزہ ث زیر حمزہ ث پیش اس اس اس اس بالکل ہلکا پڑھنا ہے اس کو اپ نے ایسے نہیں پڑھنا ہے کوئی ث کو سین جیسی اواز بنائیں اس اس اس اس طریقے سے نہیں پڑھنا ہے اس اس اس بس زبان کا جو سرہ ہوگا وہ اپ نے ثنایا اولیاء کے کناروں سے لگانا ہے اور زبان کو تھوڑا سا اتنا سا باہر رکھنا ہے تو یہ ادا ہو جائے گا تو ہم پڑھتے ہیں نا جیسے ثمرت ثمرت ثمرت یہاں ہم پڑھتے ہیں ثم ید میتکم ثم میتکم یا جیسے ہم پڑھتے ہیں مثقال مثقال مثقالی نہیں پڑھنا ہے کوئی پڑھے گا مثقالا تو یہ فون والی مثقال نہیں ہے ٹھیک ہے سین کے جیسی اواز نہیں نکالنی ہے مث مث مث مث مثقالی مثقالی مثقالی یہ اپ کو جو ہے کچھ سیکنڈ کے لیے لگے گا کہ یہ شاید اواز ہی نہیں نکل رہی ہے یہ اپ کو سٹارٹنگ میں لگے گا ٹھیک ہے لیکن جب اپ اس کی مشق کریں گے پورا اس کو سیکھ جائیں گے تو انشاءاللہ یہ صحیح طریقے سے پھر ادا ہو جائے گا تو اپ نے پڑھنا ہے مثقالی مثقالی مثقالی کلیئر ہو گیا تو اس طریقے سے اپ نے ث کو ادا کرنا ہے اب ہم چلتے ہیں ذال کی مشق کی طرف ذال جو ہے یہ بھی باریک ہے اس کو بھی باریک پڑھنا ہے تو جیسے ہم پڑھتے ہیں نا ذال زبر ذال ذال زیر ذال ذال پیش ذال ذال ذ ذو اسی طریقے سے حمزہ ذال زبر اذ حمزہ ذال زیر اذ حمزہ ذال پیش اذ

[7:22]اذ اذ اذ اذ نہیں کرنا ہے اگر اپ نے اذ کیا تو یہ ذال بنے گا یاد رکھنا اذ نہیں کرنا ہے از از از نہیں کرنا ہے از از از کلیئر ہو گیا تو اس طریقے سے اپ نے اس کو پڑھنا ہے جیسے ہم قران کے اندر پڑھتے ہیں نا ذالک الکتاب ذالک الکتاب لا ریب ذالک الکتاب یہاں پڑھتے ہیں نا ذہبا ذہبا ذالک الکتاب ذہبا ذہبا ذالک نہیں پڑھتے ہم اپ نے کہیں نہیں سنا ہوگا کہ کوئی ذالک الکتاب پڑھتا ہے

[8:06]ذالک الکتاب یہاں پڑھتے ہیں نا تذہبون تذہبون تذہبون تذ تذ تذہبون تذہبون نہیں پڑھتے ہیں تذہبون بالکل دھینی اواز ہوتی ہے بالکل اس کے اندر جو ہے نرمی ہوتی ہے یا جیسے ہم پڑھتے ہیں نا الذین الذین یؤمنون بالغیب الذین الذین الذین نہیں پڑھنا ہے ذی نہیں پڑھنا ہے بلکہ الذی ذی ذی ذی کلیئر ہو گیا یہاں تک سمجھ میں اگیا اب ہم چلتے ہیں ظ کی مشق کی طرف ظ جو ہے یہ مفخم ہے یہ موٹا ہے یعنی پر پڑھا جانے والا حرف ہے تو اس کو اپ نے موٹا پڑھنا ہے کیسے ظ زبر ظ ظ زیر ظ ظ پیش ظ ظ ظ ظ

[9:07]ہر حال میں یہ موٹا پڑھا جائے گا چاہے اس کے نیچے زیر بھی ہو کیونکہ حروف مستعلہ کے حروف میں سے ہے ظ ظ ظ حمزہ ظ زبر ظ حمزہ ظ زیر ظ حمزہ ظ پیش ظ ظ ظ ظ ظ ظ ظ جیسے ہم قران میں پڑھتے ہیں نا ظالیمین ظالیمین ہم ظالیمین نہیں پڑھتے اپ نے کہیں نہیں سنا ہوگا ظالیمین ہر کوئی کیا پڑھتا ہے ظالیمین ظالیمین جہاں سے اپ نے ث نکالا جہاں سے اپ نے ذال نکالا وہیں سے ظ بھی نکلے گا لیکن اپ نے منہ کو تھوڑا سا بھاری کرنا ہے ظ ظ جیسی اواز ظالیمین ظالیمین یا جیسے ہم پڑھتے ہیں ظلمات ظلمات ظلمات ظلمات نہیں بلکہ

[10:11]ظلمات ظلمات ظلم ظلم مظلوم مظلوم مظلوم اردو میں تو ہم مظلوم پڑھتے ہیں اردو میں تو چل جاتا ہے لیکن عربی میں اگر پڑھنا ہو تو ہم پڑھیں گے مظلوم مظلوم مظلوم ٹھیک ہے یہ ظ کا مخرج ہے تو اس طریقے سے اپ نے اس کو ادا کرنا ہے بالکل اسان ہے تھوڑا سا دھیان رکھنا ہے کون باریک ہے کون پر ہے اس کا اپ نے خیال رکھنا ہے تو قران مجید کے اندر اپ اس کو صحیح طریقے سے پھر ادا کر پائیں گے تو مجھے امید ہے اپ کو یہ کلاس اچھے سے سمجھ میں ائی ہوگی اگر اپ کو اس کلاس سے فائدہ ہوا ہے تو اپ اپنے دینی بھائیوں اور بہنوں میں اس کو لازما شیئر کر دیجئے اور جو لوگ چینل پر نئے ہیں ان سے گزارش ہے کہ ہماری چینل کو لازما سبسکرائب کریں ساتھ میں جو بیل کا ائیکن ہے اس کو بھی پریس کریں تاکہ ہماری جو نئی انے والی کلاسز ہوں گی وہ سب سے پہلے اپ دیکھ سکیں تو مجھے اجازت دیجئے ملتا ہوں انشاءاللہ نیکسٹ ایپیسوڈ میں تب تک کے لیے اپ خوش رہیں سلامت رہیں امن میں رہیں حفاظت میں رہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript