Thumbnail for 31 Surah Luqman | Mukammal Tilawat, Tarjuma or Tafseer | Abdul Habib Attari by Abdul Habib Attari

31 Surah Luqman | Mukammal Tilawat, Tarjuma or Tafseer | Abdul Habib Attari

Abdul Habib Attari

27m 43s4,962 words~25 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
[0:00]Section 1

سورہ لقمان کا تعارف مقام نزول۔ سورہ لقمان ولو ان ما فی العرض تو شروع ہونے والی ایت نمبر 27 اور 28 کے علاوہ مکیہ ہے۔ رکوع اور ایات کی تعدا...

[5:41]Section 2

الذین یقیمون الصلاۃ وہ جو نماز قائم رکھتے ہیں۔ اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ نیک لوگ وہ ہیں جو نماز کو اس کی تمام شرائط...

[7:00]Section 3

اولئک لہم عذاب مہین ترجمہ اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں تاکہ بغیر سمجھے اللہ کی راہ سے بہکا دیں اور انہیں ہنسی مذاق بنا لیں ان کے...

[18:47]Section 4

ہمیشہ ان میں رہیں گے یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور وہی عزت والا حکمت والا ہے۔ ان الذین امنو وعملوا الصالحات بے شک جو ایمان لائے اور انہوں نے...

[22:20]Section 5

خلق اللہ یہ تو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ یعنی اللہ تعالی نے تو اپنی کامل قدرت اور انتہا کو پہنچی ہوئی حکمت سے یہ تمام چیزیں پیدا فرمائی ہیں ج...

[25:47]Section 6

نمبر ایک حضرت لقمان حکیم رضی اللہ تعالی عنہ نمبر دو حضرت نجاشی رضی اللہ تعالی عنہ نمبر تین مؤذن حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ حکمت کی تعری...

Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]سورہ لقمان کا تعارف مقام نزول۔ سورہ لقمان ولو ان ما فی العرض تو شروع ہونے والی ایت نمبر 27 اور 28 کے علاوہ مکیہ ہے۔ رکوع اور ایات کی تعداد اس سورت میں چار رکوع اور 34 ایتیں ہیں۔ لقمان نام رکھنے کی وجہ۔ اس سورہ مبارکہ کے دوسرے رکوع سے اللہ تعالی کے برگزیدہ بندے حضرت لقمان حکیم رضی اللہ تعالی عنہ کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے یہ سورت سورت لقمان کے نام سے موسوم ہوئی۔ سورہ لقمان کے مضامین اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالی اور اس کی وحدانیت پر ایمان لانے نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت کی تصدیق کرنے موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور قیامت کے دن کا اقرار کرنے کے بارے میں دلائل کے ساتھ کلام کیا گیا ہے۔ اور اس سورت میں یہ چیزیں بیان کی گئی ہیں۔ نمبر ایک اس سورت کی ابتدا میں اللہ تعالی کی ہدایت کے دستور اور نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے دائمی معجزے قران پاک کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کا گروہ قران پاک کی تصدیق کرتا ہے۔ اس لیے وہ جنت میں داخل ہو کر کامیاب ہو جائیں گے اور کافروں کا گروہ قران پاک کی ایات کا مذاق اڑاتا اور ان کا انکار کرتا ہے اور اس نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی وجہ سے گمراہی کا راستہ اختیار کیا تو وہ جہنم کے دائمی دردناک عذاب میں مبتلا ہو کر نقصان اٹھائیں گے۔ نمبر دو کائنات کی تخلیق بیان کر کے اللہ تعالی نے اپنی قدرت کا بیان فرمایا ہے۔ نمبر تین اللہ تعالی نے اپنے برگزیدہ بندے حضرت لقمان علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ بیان کیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو کیا نصیحتیں کیں۔ اور اس سے مقصود لوگوں کو ہدایت دینا ہے کہ وہ اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا چھوڑ دیں۔ ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کریں، ہر طرح کے صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے بچیں، نماز قائم کریں، نیکی کی دعوت دیں اور برائی سے منع کریں، تکبر سے بچیں اور عاجزی و انکساری اختیار کریں۔ زمین پر نرمی سے چلیں اور اپنی اوازیں ہلکی رکھیں، نمبر چار اللہ تعالی کی توحید کے دلائل کا مشاہدہ کرنے کے باوجود اپنے اباؤ اجداد کی پیروی میں شرک پر قائم رہنے والے مشرکین کی سرزنش کی گئی۔ اور اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں کا انکار کرنے پر ان کی مذمت بیان کی گئی اور مشرکین کو یہ بتایا گیا کہ نجات کا واحد راستہ اللہ تعالی کی رضا کے لیے اسلام قبول کرنا اور نیک اعمال کرنا ہے۔ نمبر پانچ کفار کے قول اور عمل میں تضاد کو بیان کیا گیا کہ وہ اللہ تعالی کے خالق ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔ لیکن عبادت کا مستحق ہونے میں بتوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ بے شمار دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ عبادت کا مستحق صرف اللہ تعالی ہے اور اس کے علاوہ اور کوئی عبادت کیے جانے کا حقدار ہرگز نہیں ہے۔ نمبر چھ اللہ تعالی کی قدرت پر دن اور رات کے انے جانے سے چاند اور سورج کو مسخر کیے جانے سے اور سمندروں میں کشتیوں کی روانی سے استدلال کیا گیا۔ نمبر سات اس سورت کے اخر میں تقوی و پرہیزگاری کا حکم دیا گیا، قیامت کے دن کے عذاب سے ڈرایا گیا جو کہ ہر صورت ائے گا اور یہ بتایا گیا کہ مخصوص پانچ غیبی چیزوں کا ذاتی علم اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے اور اللہ تعالی ہر چیز سے خبردار ہے۔ سورہ روم کے ساتھ مناسبت سورہ لقمان کی اپنے سے ماقبل سورت روم کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورہ روم کے اخر میں اور سورہ لقمان کی ابتدا میں قران پاک کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ دونوں سورتوں میں اللہ تعالی نے یہ بیان فرمایا کہ مسلمان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور اخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ تیسری مناسبت یہ ہے کہ دونوں سورتوں میں متعدد مضامین مشترک ہیں۔ جیسے اللہ تعالی نے بیان کیا کہ کفار و مشرکین پر جب کوئی مصیبت اتی ہے تو وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں مضطرب ہو کر دعائیں کرتے ہیں۔ اور جب ان سے وہ مصیبت ٹل جاتی ہے تو وہ اللہ تعالی کے ساتھ کفر و شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم ترجمہ اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحمت والا ہے۔ الف لام میم تلك ايات الكتاب الحکیم ہد رحم للمحسنین ترجمہ الف لام میم یہ حکمت والی کتاب کی ایتیں ہیں۔ نیکوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہیں۔ الف لام میم یہ حروف مقطعات میں سے ایک حرف ہے۔ اس کی مراد اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے۔ تلك ایات الکتاب الحکیم یہ حکمت والی کتاب کی ایتیں ہیں۔ اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اس سورت کی ایتیں اس کتاب کی ایتیں ہیں جو حکمت والی ہے اور نیک اعمال کرنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہیں۔ قران کریم کی شان معلوم ہوا کہ قران مجید ایسی عظیم الشان کتاب ہے کہ اس میں فلاح و کامیابی حاصل کرنے کے تمام تر سامان موجود ہیں اور نیک لوگ اس کا دامن مضبوطی سے تھام کر گمراہی اور عذاب سے بچ سکتے ہیں۔ نیز یہ کتاب حکمت کے انمول خزانوں سے مالا مال ہے لہذا مومن کو اسی حکمت و دانش میں مشغول ہونا چاہیے اور اسے چھوڑ کر فضول قسم کے قصے کہانیوں میں لگے رہنا مومن کی شان نہیں۔ الذین یقیمون الصلاۃ ويؤتون الزکاۃ وهم بالاخرۃ ہم یوقنون ترجمہ وہ جو نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور اخرت پر یقین رکھتے ہیں وہی اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔

[5:41]الذین یقیمون الصلاۃ وہ جو نماز قائم رکھتے ہیں۔ اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ نیک لوگ وہ ہیں جو نماز کو اس کی تمام شرائط اور حقوق کے ساتھ ہمیشہ ادا کرتے ہیں۔ اور اپنے مالوں میں فرض ہونے والی زکوۃ اس کے حقداروں کو دیتے ہیں اور وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اعمال کا حساب ہونے اور اعمال کی جزا و سزا میں شک یا انکار نہیں کرتے بلکہ اس پر یقین رکھتے ہیں۔ جن کے یہ اوصاف ہیں وہی لوگ اپنے رب عزوجل کی طرف سے عطا کی گئی ہدایت پر ہیں اور وہی لوگ قیامت کے دن اپنے رب عزوجل کی بارگاہ سے ثواب حاصل کر کے حقیقی طور پر کامیاب ہونے والے ہیں۔ سورہ لقمان کی ایت نمبر چار اور پانچ سے معلوم ہونے والی باتیں۔ ان ایات سے دو باتیں معلوم ہوئیں نمبر ایک ہر عقلمند انسان کو چاہیے کہ وہ نیک لوگوں کے اوصاف اپنا کر حقیقی کامیابی حاصل کرنے والے حضرات میں شامل ہونے کی بھرپور کوشش کرے۔ نمبر دو جب تک اللہ تعالی کسی کو ہدایت نہ دے تب تک وہ ہدایت نہیں پا سکتا لہذا ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالی سے ہدایت طلب کرتا رہے اور نیک اعمال کی توفیق مانگتا رہے۔ ومن الناس من يشتری لہو الحديث لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم ويتخذها ہزوا

[7:00]اولئک لہم عذاب مہین ترجمہ اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں تاکہ بغیر سمجھے اللہ کی راہ سے بہکا دیں اور انہیں ہنسی مذاق بنا لیں ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ ومن الناس من يشتری لہو الحدیث اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں۔ شان نزول یہ ایت نضر بن حارث بن کلدہ کے بارے میں نازل ہوئی جو کہ تجارت کے سلسلے میں دوسرے ملکوں کا سفر کیا کرتا تھا۔ اس نے عجمی لوگوں کے قصے کہانیوں پر مشتمل کتابیں خریدی ہوئی تھیں اور وہ کہانیاں قریش کو سنا کر کہا کرتا تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تمہیں عاد اور ثمود کے واقعات سناتے ہیں اور میں تمہیں رستم، اسفندیار اور ایران کے شہنشاہوں کی کہانیاں سناتا ہوں۔ کچھ لوگ ان کہانیوں میں مشغول ہو گئے اور قران پاک سننے سے رہ گئے تو اس پر یہ ایت نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں تاکہ جہالت کی بنا پر لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے اور قران کریم سننے سے روکیں اور اللہ تعالی کی ایات کا مذاق اڑائیں ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ لہو الحدیث کی وضاحت لہو یعنی کھیل ہر اس باطل کو کہتے ہیں جو ادمی کو نیکی سے اور کام کی باتوں سے غفلت میں ڈالے اس میں بے مقصد و بے اصل اور جھوٹے قصے کہانیاں اور افسانے جادو ناجائز لطیفے اور گانا بجانا وغیرہ سب داخل ہے۔ اس قسم کے الات لہو و لعب کو بیچنا بھی منع ہے اور خریدنا بھی ناجائز۔ کیونکہ یہ ایت ان خریداروں کی برائی بیان کرنے کے بارے میں اتری ہے اسی طرح ناجائز ناول، گندے رسالے، سینما کے ٹکٹ تماشے وغیرہ کے اسباب سب کی خرید و فروخت منع ہے کہ یہ تمام لہو و الحدیث یا ان کے ذرائع ہیں۔ ایت و من الناس من یشتری لہو الحدیث سے معلوم ہونے والے مسائل اس ایت سے تین مسئلے معلوم ہوئے۔ نمبر ایک قران مجید سننے سے اعراض کرنا اور دین اسلام سے روکنے کی خاطر بے فائدہ واقعات، جھوٹی اور بے اصل کہانیاں اور لطیفے وغیرہ سنا کر قران مجید سننے سے ہٹا دینا عظیم ترین جرم ہے اور اس جرم کا مرتکب دردناک عذاب کا حقدار ہے۔ نمبر دو لوگوں کو گمراہ کرنے والے کا عذاب گمراہ ہونے والوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے کیونکہ تمام گمراہوں کا وبال بھی اسی پر پڑے گا۔ نمبر تین اس ایت سے علمائے کرام نے گانے بجانے کی حرمت پر استدلال کیا ہے۔ گانے بجانے کی مذمت اس ایت میں لہو و الحدیث سے متعلق ممتاز مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد گانا بجانا ہے۔ اس مناسبت سے یہاں گانے بجانے کی مذمت پر دو احادیث اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ کا طرز عمل سماعت کیجئے۔ نمبر ایک ترمذی شریف کی حدیث ہے۔ حضرت عمران بن حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ اس امت میں زمین میں دھنسنا، مسخ ہونا اور اسمان سے پتھر برسنا ہوگا مسلمانوں میں سے ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یہ کب ہوگا۔ ارشاد فرمایا جب گانے والیوں اور موسیقی کے الات کا ظہور ہوگا اور شرابوں کو سرعام پیا جائے گا حدیث نمبر دو حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا جو شخص گانا سننے کے لیے کسی باندی کے پاس بیٹھا اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیلا جائے گا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے بچوں کے استاد کی طرف خط لکھا اور فرمایا یہ خط اللہ عزوجل کے بندے عمر امیرالمومنین کی جانب سے سہل کی طرف ہے۔ اما بعد میں نے اپنی اولاد کی تربیت کے لیے اپنی معلومات کی بنا پر تمہیں منتخب کیا ہے۔ میں نے اپنے بچوں کو تمہارے سپرد کر دیا ہے کسی اور غلام یا کسی خاص معتمد کے سپرد نہیں کیا۔ لہذا تم ان کے ساتھ مناسب و بقدر ضرورت سختی کے ساتھ پیش اؤ کیونکہ یہ ان کے اگے بڑھنے کو زیادہ ممکن بنائے گی۔ عام لوگوں کی صحبت اختیار نہ کرنے دو کیونکہ یہ غفلت پیدا کرتی ہے۔ زیادہ ہنسنے سے روکو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مار ڈالتا ہے۔ تمہاری تعلیم سے سب سے پہلے جس چیز کا میرے بچے اعتقاد رکھیں وہ لہو و لعب سے نفرت ہونی چاہیے۔ جس کا اغاز شیطان کی جانب سے ہوتا ہے اور اس کا انجام رحمان کی ناراضگی ہے۔ اصحاب علم میں سے سکہ لوگوں سے مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ لہو و لعب کے الات کا سننا اور ان کا شیفتہ ہونا یہ دل میں اسی طرح نفاق پیدا کرتا ہے جس طرح پانی گھاس اگاتا ہے۔ میری زندگی کی قسم ان مقامات پر حاضر ہونے کو ترک کر کے اپنے اپ کو بچانا دانشمندوں کے لیے زیادہ اسان ہے بنسبت اس کے کہ وہ اپنے دل میں نفاق کو قائم رکھیں۔ جب وہ ان گانوں سے جدا ہوتا ہے تو اسے یقین نہیں ہوتا کہ اس کے کانوں نے جو سنا ہے وہ اس سے فائدہ بھی حاصل کر سکتا ہے۔ ان بچوں میں سے ہر ایک کو قران حکیم کے ایک حصے سے سبق شروع کراؤ وہ اس کی قرات میں خوب مضبوط ہو۔ گانے کی مختلف صورتیں اور ان کے احکام فتاوی رضویہ کی چوبیسویں جلد میں اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے گانا سننے اور سنانے سے متعلق انتہائی تحقیقی کلام فرمایا ہے۔ یہاں اس کا خلاصہ سماعت کیجئے۔ مزامیر یعنی لہو و لعب کے الات لہو و لعب کے طور پر سننا اور سنانا بلا شبہ حرام ہے۔ ان کی حرمت اولیاء اور علماء دونوں کے کلیات عالیہ میں واضح ہے۔ ان کے سننے سنانے کے گناہ ہونے میں شک نہیں کہ اصرار کے بعد گناہ کبیرہ ہے۔ مزامیر کے بغیر محض سننے کی چند صورتیں یہ ہیں۔ نمبر ایک گانے بجانے کا پیشہ کرنے والی عورتوں یا بدکار عورتوں اور محل فتنہ امرودوں کا گانا۔ نمبر دو جو چیز گائی جائے وہ بازیت پر مشتمل ہو۔ مثلا فحش یا جھوٹ یا کسی مسلمان یا ذمی کافر کی مذمت یا شراب اور زنا وغیرہ فاسقانہ کاموں کی ترغیب یا کسی زندہ عورت خواہ امرت کے حسن کی یقینی طور پر تعریف یا کسی معین عورت کا اگرچہ مردہ ہو ایسا ذکر جس سے اس کے قریبی رشتہ داروں کو حیا اور عار ائے۔ نمبر تین لہو و لعب کے طور پر سنا جائے اگرچہ اس میں کسی مذموم چیز کا ذکر نہ ہو۔ یہ تینوں صورتیں ممنوع ہیں اور ایسا ہی گانا لہو و الحدیث ہے اس کے حرام ہونے کی کوئی اور دلیل نہ بھی ہو تو صرف یہ حدیث کل لہو ابن ادم حرام الا ثلاثہ۔ یعنی ابن ادم کا ہر کھیل حرام ہے سوائے تین کھیلوں کے کافی ہے ان تین سورتوں کے علاوہ وہ گانا جس میں نہ مضامین ہوں نہ گانے والے محل فتنہ ہوں نہ لہو و لعب مقصود ہو اور نہ کوئی ناجائز کلام ہو اس سے بھی ان لوگوں کو روکا جائے گا جو فاسق و فاجر اور دنیا کی شہوات میں مست ہوں۔ البتہ نفسانی خواہشات اور برے خیالات سے پاک دلوں والے وہ لوگ جو اللہ والے ہیں ان کے حق میں یہ بغیر الات موسیقی والے سادہ اشعار کا سننا جائز بلکہ مستحب کا یہ تو دور نہیں کیونکہ گانا کوئی نئی چیز پیدا نہیں کرتا بلکہ دبی بات کو ابھارتا ہے۔ جب دل میں بری خواہش اور بے ہودہ الائشیں ہوں تو وہ انہی کو ترقی دے گا اور جو پاک و طاہر ستھرے دل شہوات سے خالی اور اللہ تعالی اور اس کے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت سے بھرے ہوئے ہیں ان کے شوق محمود اور عشق مسعود کو افزائش دے گا۔ ان بندگان خدا کے حق میں اسے ایک عظیم دینی کام ٹھہرانا کچھ بے جا نہیں یہ اس چیز کا بیان تھا جسے عرف میں گانا کہتے ہیں اور اگر حمد و نعت منقبت وعظ و نصیحت اور اخرت کے ذکر پر مشتمل اشعار بوڑھے یا جوان مرد خوش الہانی سے پڑھیں اور نیک نیت سے سنے جائیں کہ اسے عرف میں گانا نہیں بلکہ پڑھنا کہتے ہیں۔ تو اس کے منع ہونے پر شریعت سے اصلا دلیل نہیں۔ حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے خاص مسجد اقدس میں ممبر رکھنا اور ان کو اس پر کھڑے ہو کر نعت اقدس سنانا اور پیارے اقا علیہ الصلوۃ والسلام اور صحابہ کرام کا سننا خود صحیح بخاری شریف کی حدیث سے واضح ہے اور عرب میں ہدی کی رسم کا صحابہ و تابعین کے زمانے بلکہ حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد میں رائج رہنا مردوں کے خوش الہانی کے جواز پر روشن دلیل ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کو ہدی کرنے پر پیارے اقا علیہ الصلوۃ والسلام نے منع نہ فرمایا بلکہ عورتوں کا لحاظ کرتے ہوئے یا انجشتہ روی دا لا تکسر القواریر ارشاد ہوا کہ ان کی اواز دلکش و دلنواز تھی۔ عورتیں نرم و نازک شیشیاں ہیں جنہیں تھوڑی ٹھیس بہت ہوتی ہے۔ غرض دار کار فتنہ کے تحقق اور توقع پر ہے۔ جہاں فتنہ ثابت وہاں حرمت کا حکم ہے اور جہاں فتنے کی توقع اور اندیشہ ہے وہاں صد ذریعہ کے پیش نظر ممانعت کا حکم ہے۔ جہاں نہ فتنہ ثابت نہ فتنے کی توقع تو وہاں نہ حرمت کا حکم ہے نہ ممانعت بلکہ اچھی نیت ہو تو مستحب ہو سکتا ہے۔ بحمداللہ تعالی یہ چند ستروں میں تحقیق نفیس ہے کہ انشاء اللہ عزوجل حق اس سے متجاوز نہیں۔ نوٹ یہاں خلاصے میں کچھ چیزیں ترک بھی کر دی ہیں۔ دین اسلام سے روکنے اور دور کرنے والوں کے لیے سامان عبرت۔ ہمارے معاشرے میں غیر مسلموں اور نام نہاد مسلمانوں کی ایک تعداد ایسی ہے جو لوگوں کو دین اسلام سے دور رکھنے، مسلمانوں کو دین اسلام سے دور کرنے اور اس کا مخالف بنانے کے لیے منظم انداز میں کوششیں کرتے ہیں۔ اور اس مقصد کے حصول کے لیے ان کے پاس ایک بڑا ذریعہ عورت ہے ایسے لوگ اسلامی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں جبکہ یہ خود وہ ہیں جو عورت کے جسم فروشی پر اطمینان محسوس کرتے ہیں اور ماڈل کا نام دے کر اس کی اداؤں کی قیمت لگانے کو روشن خیالی قرار دیتے ہیں یعنی عورت کی حفاظت کی جائے اور اسے گھر بیٹھے ہر چیز عزت کے ساتھ مہیا کرنے کا کہا جائے جیسے اسلام کا حکم ہے تو روشن خیال کہلانے والوں کی طبیعت خراب ہوتی ہے اور بکری گائے کی طرح اس کے جسم یا اس کے علاوہ اس کے ناچ یا اداؤں کو فروخت کے لیے پیش کیا جائے تو ان لوگوں کی نظر میں یہ عورت کو اس کا صحیح مقام دینا قرار پاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام جیسا امن و سلامتی کا داعی مذہب دنیا میں نہیں ہے عورتوں اور بچوں کو جتنے حقوق اس دین میں دیے گئے اور ان کے حقوق کی حفاظت کے جو اقدامات اس دین میں کیے گئے کسی اور دین میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس میں مقرر کی گئی جرموں کی سزائیں انسانوں کی بقا، سلامتی اور معاشرے میں امن و امان کی علمبردار ہیں۔ ایسے تمام لوگوں کے لیے اس ایت میں بڑی عبرت ہے کہ اگر یہ اپنی ان ذلیل حرکات سے باز نہ ائے تو اللہ تعالی کے اس فرمان اولئک لہم عذاب مہین کے مطابق ذلت کے عذاب کے حقدار ہیں۔ واذا تتلی علیہ ایاتنا اللہ مستكبرا كان لم يسمعها كان فی اذنيه وقرا فبشره بعذاب علیم ترجمہ اور جب اس پر ہماری ایتیں پڑھی جاتی ہیں تو تکبر کرتا ہوا پھر جاتا ہے۔ جیسے اس نے ان ایات کو سنا ہی نہیں گویا اس کے کانوں میں بوجھ ہے تو اسے دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو۔ واذا تتلی علیہ ایاتنا اور جب اس پر ہماری ایتیں پڑھی جاتی ہیں۔ ارشاد فرمایا کہ جب کھیل کی باتیں خریدنے والے کے سامنے قران مجید کی ایتیں پڑھی جاتی ہیں تو اس وقت تکبر کرتے ہوئے ایسی حالت بنا لیتا ہے جیسے اس نے ان ایات کو سنا ہی نہیں گویا اس کے کانوں میں کوئی بوجھ ہے جس کی وجہ سے وہ سن نہیں سکتا تو اے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اسے دردناک عذاب کی خوشخبری دے دیں۔ قران مجید کی تلاوت سننے سے متعلق دو احکام یہاں قران کریم کی تلاوت سننے سے متعلق دو احکام سماعت کیجئے۔ نمبر ایک قران کریم ذوق اور شوق سے سننا چاہیے اس کی تلاوت کے وقت دنیاوی کاروبار میں مشغول رہنا اور تلاوت کی پرواہ نہ کرنا کفار کا طریقہ ہے۔ نمبر دو قران عظیم کی تلاوت ہو رہی ہو تو سننا فرض ہے لہذا جہاں لوگ قران شریف سننے سے مجبور ہوں کاروبار میں مشغول ہوں وہاں بلند اواز سے تلاوت نہیں کرنی چاہیے۔ یاد رہے کہ تلاوت قران کے احکام اور تعلیم قران کے احکام میں فرق ہے۔ ان کی معلومات حاصل کرنے کے لیے فقہ کی کتابوں کا مطالعہ فرمائیں۔ ان الذین امنو وعملوا الصالحات لہم جنات نعیم خالدین فیها وعد اللہ حقا و هو العزیز الحکیم ترجمہ بے شک جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے ان کے لیے نعمتوں کے باغات ہیں۔

[18:47]ہمیشہ ان میں رہیں گے یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور وہی عزت والا حکمت والا ہے۔ ان الذین امنو وعملوا الصالحات بے شک جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے۔ کافروں کی سزا ذکر کرنے کے بعد یہاں سے نیک اعمال کرنے والے مسلمانوں کی جزا بیان کی جا رہی ہے۔ چنانچہ اس ایت اور اس کے بعد والی ایت میں ارشاد فرمایا بے شک وہ لوگ جو ہماری ایتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہیں ان کے لیے نعمتوں اور چین کے ایسے باغات ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ ان سے اللہ تعالی کا سچا وعدہ ہے اور اس کی شان یہ ہے کہ کوئی اسے وعدہ پورا کرنے سے روک نہیں سکتا اور اس کا ہر فعل حکمت اور مصلحت کے تمام تر تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ خلق السماوات بغير عمد ترونها والقى في الارض رواسی ان تمید بکم وبث فیها وبث فیها من كل دابہ وانزلنا من السماء ماء فانبتنا فیها من كل زوج کریم ترجمہ اس نے اسمانوں کو ان ستونوں کے بغیر بنایا جو تمہیں نظر ائیں اور زمین میں لنگر ڈال دیے تاکہ زمین تمہیں لے کر ہلتی نہ رہے اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہم نے اسمان سے پانی اتارا تو زمین میں ہر نفیس قسم کا جوڑا اگایا۔ خلق السماوات بغیر عمد ترونها اس نے اسمانوں کو ان ستونوں کے بغیر بنایا جو تمہیں نظر ائے۔ اس ایت میں اللہ تعالی نے اپنی عظمت اور قدرت پر دلالت کرنے والی چار چیزیں بیان فرمائی ہیں۔ نمبر ایک اللہ تعالی نے اسمانوں کو ستونوں کے بغیر بنایا۔ انہیں ستونوں کے بغیر بنانے کا ایک معنی یہ ہے کہ کوئی ستون ہے ہی نہیں اور تمہاری نظر خود اس چیز کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اسمانوں کے ستون تو ہیں لیکن وہ ایسے نہیں جنہیں تم دیکھ سکو اس لیے وہ گویا ایسا ہے جیسے ستونوں کے بغیر ہی بنا ہوا ہے۔ نمبر دو زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے ہیں تاکہ زمین ہلتی نہ رہے۔ اسی لیے اگر پہاڑ نہ ہوں تو زمین تباہ ہو جائے۔ جدید سائنس سے بھی یہی چیز ثابت ہے۔ نمبر تین زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے۔ یاد رہے کہ بعض جانور پانی میں ہیں، بعض زمین پر اور بعض ہوا میں ہیں۔ مگر یہ سب زمین پر ہی ہے کیونکہ پانی زمین پر ہے اور ہوا بھی زمین سے تعلق رکھتی ہے اور پھیلانے سے مراد یہ ہے کہ کچھ جانور کسی جگہ اور دوسرے بعض کسی اور جگہ پیدا فرمائے۔ نمبر چار اللہ تعالی نے اپنے فضل سے اسمان کی طرف سے بارش کا پانی نازل فرمایا اور اس سے زمین میں عمدہ اقسام کے نباتات کے جوڑے پیدا کیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ گھاس اور درخت وغیرہ سب میں نر اور مادہ ہیں۔ نر درخت سے لگ کر جب ہوا مادہ درخت کو چھوتی ہے تو مادہ درخت حاملہ ہو کر پھل دیتا ہے۔ جدید سائنس سے بھی یہ حقیقت ثابت ہو چکی ہے اور جو شخص بھی اللہ تعالی کی ان عجیب و غریب صنعتوں میں غور و فکر کرے گا اس پر اللہ تعالی کی عظمت اور قدرت اشکار ہو جائے گی۔ خلق اللہ فما خلق الذین من دونہ بل الظالمون فی ضلال مبین ترجمہ یہ تو اللہ کا بنایا ہوا ہے تو اے مشرکو تم مجھے کوئی ایسی چیز دکھاؤ جو اللہ کے سوا اوروں نے بنائی ہو بلکہ ظالم کھلی گمراہی میں ہیں۔

[22:20]خلق اللہ یہ تو اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ یعنی اللہ تعالی نے تو اپنی کامل قدرت اور انتہا کو پہنچی ہوئی حکمت سے یہ تمام چیزیں پیدا فرمائی ہیں جنہیں تم بھی دیکھتے ہو اب تم بتاؤ کہ تم لوگ اللہ تعالی کی عبادت کرنے کی بجائے جن بتوں کی عبادت کرتے اور انہیں پوچھتے ہو انہوں نے ایسا کون سا کمال دکھایا ہے جس کی وجہ سے تم نے انہیں عبادت کا مستحق سمجھ لیا اور ان کی پوجا کرنے میں مصروف ہو گئے ان کافروں کا حق سے دور ہونا اور گمراہی میں مبتلا ہونا واضح ہے۔ لقد اتینا لقمان الحکمۃ ان اشکر للہ ومن یشکر فانما یشکر لنفسہ ومن کفر فان اللہ غنی حمید ترجمہ اور بے شک ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی کہ اللہ کا شکر ادا کر اور جو شکر ادا کرے تو وہ اپنی ذات کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو بے شک اللہ بے پرواہ حمد کے لائق ہے۔ حضرت لقمان رضی اللہ تعالی عنہ کا تعارف مشہور مورخ محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ حضرت لقمان رضی اللہ تعالی عنہ کا نسب یہ ہے۔ لقمان بن ناور یا باؤر بن ناور بن تارق حضرت وہب رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے کہ حضرت لقمان رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کے بھانجے تھے۔ جبکہ مفسر مقاتل نے کہا کہ حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی خالہ کے فرزند تھے۔ اپ نے حضرت داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ پایا اور ان سے علم حاصل کیا حضرت داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کے اعلان نبوت سے پہلے فتوی دیا کرتے تھے جب اپ علیہ الصلوۃ والسلام نبوت کے منصب پر فائز ہوئے تو حضرت لقمان رضی اللہ تعالی عنہ نے فتوی دینا بند کر دیا۔ اپ رضی اللہ تعالی عنہ کے نبی ہونے میں اختلاف ہے اکثر علماء اسی طرف ہیں کہ اپ حکیم تھے نبی نہ تھے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت لقمان رضی اللہ تعالی عنہ نبی نہیں تھے بلکہ وہ غور و فکر کرنے والے اور دولت یقین سے مالا مال بندے تھے۔ انہیں اللہ تعالی سے محبت تھی اور اللہ تعالی بھی ان سے محبت فرماتا تھا اور اللہ تعالی نے انہیں حکمت کی نعمت عطا فرمائی تھی ایک مرتبہ دوپہر میں سوتے ہوئے انہیں ندا کی گئی اے لقمان اگر تم پسند کرو تو تمہیں خلیفہ بنا دیا جائے۔ تاکہ تم عدل و انصاف کو قائم کرو انہوں نے ندا کا جواب دیتے ہوئے عرض کی اگر تم مجھے اختیار کا حق ہے تو میں عافیت کو قبول کروں گا اور اس ازمائش سے بچوں گا اور اگر منصب خلافت سنبھالنے کے متعلق قطعی حکم ہے تو میں دل و جان سے حاضر ہوں۔ کیونکہ مجھے اللہ تعالی کے کرم پر یہ بھروسہ ہے کہ وہ مجھے غلطی سے بچائے گا۔ حضرت لقمان رضی اللہ تعالی عنہ کے دو فضائل یہاں حضرت لقمان رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل پر مشتمل دو احادیث سماعت کیجئے۔ نمبر ایک حضرت عبدالرحمن بن یزید بن جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا سودانیوں کے سردار چار ہیں۔ نمبر ایک حضرت لقمان حبشی رضی اللہ تعالی عنہ نمبر دو حضرت نجاشی رضی اللہ تعالی عنہ نمبر تین حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نمبر چار حضرت مہجہ رضی اللہ تعالی عنہ حدیث نمبر دو حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا سودانیوں کی صحبت اختیار کرو کیونکہ ان میں سے تین حضرات اہل جنت کے سرداروں میں سے ہیں۔

[25:47]نمبر ایک حضرت لقمان حکیم رضی اللہ تعالی عنہ نمبر دو حضرت نجاشی رضی اللہ تعالی عنہ نمبر تین مؤذن حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ حکمت کی تعریف حکمت کی مختلف تعریفات کی گئی ہیں ان میں سے چار درج ذیل ہیں۔ نمبر ایک حکمت عقل اور فہم کو کہتے ہیں۔ نمبر دو حکمت وہ علم ہے جس کے مطابق عمل کیا جائے۔ نمبر تین حکمت معرفت اور کاموں میں پختگی کو کہتے ہیں۔ نمبر چار حکمت ایسی چیز ہے کہ اللہ تعالی اسے جس کے دل میں رکھتا ہے یہ اس کے دل کو روشن کر دیتی ہے۔ حضرت لقمان رضی اللہ تعالی عنہ کے حکمت امیز کلمات حضرت لقمان رضی اللہ تعالی عنہ حکمت سے بھرپور گفتگو فرمایا کرتے تھے یہاں ان کے حکمت بھرے تین کلام سماعت کیجئے۔ نمبر ایک لوگوں پر وہ چیز دراز ہو گئی جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے حالانکہ وہ اخرت کی طرف دوڑے جا رہے ہیں بے شک دنیا پیٹھ پھیر رہی ہے تاکہ وہ چلی جائے اور اخرت سامنے ا رہی ہے اور وہ گھر جس کی طرف تم جا رہے ہو اس سے زیادہ قریب ہے جس سے تم نکل رہے ہو۔ نمبر دو علماء کے ساتھ لازمی طور پر بیٹھا کرو اور حکمت والوں کا کلام سنا کرو کیونکہ اللہ تعالی حکمت کے نور سے مردہ دل کو اسی طرح زندہ کرتا ہے جس طرح مردہ زمین کو بارش کے قطروں سے۔ نمبر تین تم اس مرغے سے زیادہ عاجز نہ ہو جاؤ جو صبح سویرے اواز لگاتا ہے جبکہ تم اپنے بستر پر سو رہے ہوتے ہو۔ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حکمت بھرے ارشادات یوں تو سرکار دو عالم علیہ الصلوۃ والسلام کا ہر ارشاد حکمت کے انمول موتیوں سے بھرا ہوا ہے البتہ موضوع کی مناسبت سے یہاں سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے چار حکمت بھرے ارشادات سماعت کیجئے۔ نمبر ایک حکمت کی اصل اللہ تعالی سے ڈرنا ہے۔ نمبر دو جو تھوڑا ہو اور کافی ہو وہ اس سے اچھا ہے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے۔ نمبر تین تقوی اختیار کرو تو لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار ہو جاؤ گے اور قناعت اختیار کرو تو سب سے زیادہ شکر گزار بن جاؤ گے۔ نمبر چار خوش نصیب وہ ہیں جو دوسروں سے نصیحت حاصل کریں۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript