Thumbnail for Eid Ul Filter Speech| special Eid Ul Filter Byan | بیان عید الفطر مولانا یوسف خان جامعہ اشرفیہ لاہور by Baaq Islamic Media

Eid Ul Filter Speech| special Eid Ul Filter Byan | بیان عید الفطر مولانا یوسف خان جامعہ اشرفیہ لاہور

Baaq Islamic Media

30m 14s3,792 words~19 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Pull quotes
[15:00]اللہ نے اداب یاد رکھ لیجیے گا اگر انسان اللہ کے حکم کے مطابق زندگی گزارنے کی عادت ڈال لے تو اللہ اللہ کے حکم کے مطابق زندگی گزارنے کو اسان بنا دیتا ہے
[18:31]میں میرے اندر اتنی ول پاور نہیں ہے کہ میں گناہوں کو چھوڑ دوں ایسے انسان نے رمضان میں روزہ رکھا اور رمضان میں روزہ رکھ کر وہ انسان جو یہ سمجھتا تھا کہ میں گناہوں سے نہیں بچ سکتا
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونؤمن به ونتوكل عليه ونعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سيئات اعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له ونشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له ونشهد ان سيدنا ومولانا محمدا عبده ورسوله صلى الله عليه وسلم اما بعد فاعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم من عمل صالحا من ذكر او انثى وهو مؤمن فلنحيينه حياه طيبه ولنجزينهم اجرهم باحسن ما كانوا يعملون وقال تبارك وتعالى شهر رمضان الذي انزل فيه القران هدى للناس وبينات من الهدى والفرقان فمن شهد منكم الشهر فليصم ومن كان مريضا او على سفر فعده من ايام اخر يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر ولتكملوا العده ولتكبروا الله على ما هداكم ولعلكم تشكرون وقال النبي صلى الله عليه وسلم من صام رمضان ثم اتبعه سته من شوال كان كصيام الدهر صدق الله وصدق رسوله النبي الكريم اللہ رب العزت اپ سب کو رمضان کے روزے مبارک فرمائے

[2:30]قران مجید کی تلاوت مبارک فرمائے تراویح پڑھنا مبارک فرمائے اور اللہ رب العزت اس پر ہم سب کو شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اس لیے کہ اج عید الفطر ہے اور فطر کہتے ہیں روزہ کھولنا عید الفطر کا معنی ہوا روزہ کھولنے کی عید اور عید خوشی کے موقعے کو کہتے ہیں معلوم ہوا اج روزے مکمل ہو گئے اج عید کا دن ہے اب ایسی صورت میں یہ انسان شکر ادا کرے اور یہ انسان سارا رمضان اللہ کی عبادت کرتا رہا اللہ کی بندگی کرتا رہا اللہ نے اس انسان کو پیدا ہی اس لیے کیا تھا کہ یہ انسان اللہ کی بندگی کرے اللہ نے خود قران مجید میں فرمایا ما خلق الجن والانس الا لیعبدون ہم نے جنات اور انسانوں کو نہیں پیدا کیا مگر صرف اس لیے تاکہ وہ میری عبادت کرے عبادت کا مطلب ہم ترجمہ کرتے ہیں بندگی بندگی کا معنی کہ یہ انسان اللہ کا بندہ بن جائے کہ جو اللہ کہے وہی مانے بس یہی بندگی ہے اس کے علاوہ کچھ بندگی نہیں ہے عبادت کس کو کہتے ہیں کہ یہ عبد بن کر رہے عبد عربی میں غلام کو کہتے ہیں غلام وہ ہوتا ہے جو نہ اپنے مال کا مالک ہوتا ہے نہ اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہے غلام تو مال مالک کا مالک ہوتا ہے مالک کی ملکیت میں ہوتا ہے جس طرح مالک کہتا ہے ویسے ہی کرتا ہے عبادت ہے ہی یہ انسان کی پوری زندگی عبادت کہ یہ زندگی کے 24 گھنٹے میں اللہ کی بات مان کر چلے اللہ کہے کہ اب سو جاؤ تو یہ انسان سو جائے رات کو قران نے قران میں کہا وجعل الليل سكنا کہ اللہ نے رات کو سکون کا ذریعہ بنایا ہے وجعل النهار معاشا اور اللہ نے دن کو روزگار کا وقت بنایا ہے تو جب اللہ کہے سو جاؤ تو یہ سو جاتا ہے اس کا سونا بھی عبادت اللہ کہتا ہے جاگ جاؤ اب سحری کا وقت ہو گیا سحری کھاؤ تو سحری کھانا بھی عبادت خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جتنے دن اپ سحری کھاتے رہے سمجھیں کہ اپ عبادت کرتے رہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا تسحرو فان فیہا برکہ تم سحری کھاؤ اس میں برکت ہوتی ہے پھر جب صبح کی اذان ہو گئی تو اللہ نے کہا بکلو و اشربوا حتى يتبين لكم الخيط الابيض من الخيط الاسود من الفجر ثم اتموا الصيام الى الليل پھر تم کھاؤ پیو ساری رات یہاں تک کہ جب صبح صادق ہو جائے فجر کی اذان ہو جائے کھانا پینا بند کر دو بندے نے کہا بالکل ٹھیک ہے اب نہیں کھاؤں گا عبادت جونہی اس نے کہا میں اب نہیں کھاؤں گا نیت کر لی سحری کے وقت میں اب نہیں کھاؤں گا کب تک اللہ نے کہا ثم اتموا الصيام الى الليل پھر تم روزوں کو پورا کرو رات تک جب اس نے روزے کو پورا کیا رات تک روزہ پتہ ہے کیا تھا کھانا نہیں پینا نہیں یہ صبح سے لے کے شام تک اس نے کھایا نہیں پیا نہیں کیونکہ اللہ نے کہا تھا تم کھاؤ پیو یہاں تک کہ صبح صادق ہو جائے ثم اتموا الصيام الى الليل پھر روزے کو رات تک پورا کرو سارا دن کچھ نہیں کھانا اس بندے نے کچھ نہیں کھایا تھا تو عبادت بات کو بڑے غور سے سمجھنا ہے اللہ کہے سو جاؤ تو سونا عبادت اللہ نے کہا بیدار ہو جاؤ تو بیدار ہونا عبادت اللہ نے کہا کھاؤ تو کھانا عبادت سحری کے وقت کھانا عبادت اللہ نے کہا مت کھاؤ سارا دن یہ پتہ کہتا ہے بالکل ٹھیک ہے نہیں کھاؤں گا اب نہ کھانا کیا ہے عبادت

[7:33]کوئی عبادت بذات خود عبادت نہیں ہے جب تک کہ وہ اللہ کے حکم کے مطابق نہ ہو بڑے غور سے بات کو سمجھنا ہے اس بات سے انسان کی زندگی بدل جائے گی انسان کی زندگی کا مقصد سمجھ میں ائے گا کہ اللہ نے انسان کی زندگی وہ سے لوگ پوچھتے ہیں ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے اللہ نے قران میں خود بتایا ما خلقت الجن والانس الا لیعبدون میں نے انسان اور جنات کو صرف اس لیے پیدا کیا تاکہ وہ میری عبادت کرے میری بات مان کر چلے تو انسان کی زندگی کا مقصد کیا اللہ کی بات مان کر چلنا خلاص اور کوئی زندگی کا مقصد نہیں کہ اللہ نے خود بتایا زندگی کا مقصد اللہ کا کہنا مان کر چلنا

[8:29]بظاہر کوئی عبادت عبادت نہیں جب تک کہ وہ اللہ کے حکم کے مطابق نہ ہو اپ نماز کو لے لیجئے نماز پڑھنا کتنی عبادت سب کو پتہ ہے لیکن یہ انسان اس کو اللہ نے روکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دیکھو تین وقت تم نے سجدہ نہیں کرنا تین وقت سجدہ نہیں کرنا جب سورج نکل رہا ہو تو سجدہ نہیں کرنا کیوں اس وقت وہ لوگ سجدہ کرتے ہیں جو سورج کی پوجا کرتے ہیں یعنی اریہ مذہب کے لوگ مجوسی وہ لوگ سجدہ کرتے ہیں تم ایمان والوں نے اس وقت سجدہ نہیں کرنا

[9:29]اور جب سورج بالکل سر پہ ہوتا ہے اس وقت بھی سجدہ نہیں کرنا اس وقت بھی مجوسی لوگ سورج کی پوجا کرتے ہیں جس وقت وہ مشرک عبادت کرتے ہیں اس وقت تم نے عبادت نہیں کرنی اب یہ بندہ سورج کے طلوع ہوتے وقت نماز پڑھ رہا ہو تو تمام علماء کہیں گے یہ حرام کام کر رہا ہو یہ سورج کے غروب عین غروب کے وقت نماز پڑھ رہا ہو تمام علماء کہیں گے یہ حرام کام کر رہا ہے اپ بھی کہیں گے میں نماز پڑھ رہا ہوں نماز حرام کام کیسے ہو سکتی ہے اس کا جواب یہ دیا جائے گا کہ یہ اللہ کے حکم کے مطابق نہیں پڑھ رہا بات کو بڑے غور سے سمجھنا ہے ہم جو عمل اللہ کے حکم کے مطابق کریں گے وہ عبادت ہو گی اور جو اللہ کے حکم کے خلاف کریں گے وہ گناہ ہو گا چاہے وہ نماز ہو یہ نماز بھی سورج غروب کے وقت پڑھے گا یہ سجدہ کرے گا سورج کے طلوع ہوتے وقت بظاہر یہ اچھے کام کر رہا ہو لیکن اللہ کے حکم کے مطابق نہیں کر رہا روزہ رکھنا کتنی بڑی عبادت کہ اللہ نے کہا الصوم لی وانا اجزی بہ یہ روزہ میرے لیے ہے اس کی جزا میں خود دوں گا اتنا بڑا عمل لیکن یہ اس انسان کو منع کر دیا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے پانچ دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا

[11:10]ایک دن عید الفطر کا چار دن عید الاضحی کے بڑی عید ائے گی انشاءاللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لا تصوم فی هذه الایام فانها ایام ضیافت اللہ تم عید کے دنوں میں روزہ نہ رکھو کیونکہ یہ اللہ کی ضیافت اور اللہ کی میزبانی کے دن ہیں اب اللہ کہتا ہے عید کے دن کھاؤ اور یہ بندہ اگر کہے کہ میں عید کے دن روزہ رکھوں گا تو یہ حرام کام کرے گا حالانکہ روزہ رکھنا بہت بڑی عبادت لیکن اج عید کے دن روزہ نہیں رکھنا اج کھانا پینا ہے عبادت اج کھانا پینا عبادت اس لیے بات کو بڑی توجہ سے سمجھنا ہے انسان کا جو کام اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق ہو گا وہ عبادت ہو گی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف ہو گا وہی گناہ بن جائے گا

[12:13]اپ جانور کو ذبح کرتے ہیں گوشت کھاتے ہیں جب ذبح کرتے ہیں کیا جانور کو تکلیف نہیں ہوتی خون بہتا ہے جانور کو تکلیف ہوتی ہے لیکن اپ اللہ کا نام لے کر بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر جانور کو ذبح کرتے ہیں گوشت کھاتے ہیں وہی گوشت حلال ہوتا ہے لیکن جانور کو تھوڑی سی تکلیف پہنچانا ویسے حرام ہے جانور کو ویسے تکلیف پہنچانا اللہ کے حکم کے بغیر یہ تھوڑی سی تکلیف پہنچانا بھی گناہ کا سبب ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا حساس بنایا کہ ایک صحابی جانور پر سواری پر جانور پر بیٹھے بیٹھے باتیں کر رہے تھے تو نبی صلی اللہ حدیث بہت مستند حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذرا اتر کر بات کر لیں تاکہ اتنی دیر جانور کو ارام مل جائے تکلیف ذرا سی بھی جانور کو دینا حرام ہے لیکن اللہ جب کہہ دے کہ تم جانور ذبح کرو وہی عبادت بن جاتی ہے یہ انسان اپنے خون کو خود بہائے اپنی جان کو خود ضائع کرے اسے خودکشی کہتے ہیں اسے خودکشی کہتے ہیں حرام لیکن یہی انسان جب جہاد میں جا کر اپنا خون بہاتا ہے تو یہ بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہو جاتا ہے کیوں اللہ کے حکم کے مطابق جان استعمال کرتا ہے اللہ کے حکم کے مطابق مال استعمال کرتا ہے اج یہی انسان اپنے مال کو اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرے اس کو ثواب ملتا ہے اور یہ انسان اللہ کے حکم کے خلاف مال کو استعمال کرے وہی استعمال کرنا گناہ بن جاتا ہے سمجھیں کہ ثواب کیا ہوتا ہے ثواب کا کام کیا نیکی کیا ہوتی ہے گناہ کیا ہوتا ہے نیکی اور گناہ کے فلسفے کو سمجھیے گا نیکی وہ کام جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق ہو گناہ جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف ہو اج وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے کہ اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے تو ہم زندگی کے ہر مرحلے کو اللہ کے حکم کے مطابق بنا لیں جس طرح اپ نے رمضان میں پورا مہینہ اپنے اپ کو اللہ کے حکم کے مطابق رکھا اب اس وقت نماز پڑھنی ہے اپ نے نماز پڑھی اس وقت کھانا کھانا ہے اپ نے کھانا کھایا اس وقت کھانا نہیں کھانا اب اپ نے کھانا نہیں کھایا اس وقت افطار کرنا ہے اپ نے افطار کیا

[15:00]اللہ نے اداب یاد رکھ لیجیے گا اگر انسان اللہ کے حکم کے مطابق زندگی گزارنے کی عادت ڈال لے تو اللہ اللہ کے حکم کے مطابق زندگی گزارنے کو اسان بنا دیتا ہے

[15:18]انسان اللہ کے حکم کے مطابق زندگی گزارنے کو عادت بنا لے تو اس کے لیے اللہ کے حکم کے مطابق زندگی گزارنا اسان ہو جاتا ہے یہ تربیت اللہ نے رمضان میں کی رمضان کے شروع میں ماشاءاللہ موسم بہت شاندار ہے لیکن اس کے باوجود کھانے پینے کو دل کرتا تھا چائے پینے کو دل کرتا تھا شروع کے روزوں میں کیونکہ 11 مہینے سے کھانے پینے کی عادت پڑی ہوئی تھی لیکن جب روزہ رکھا ایک ہفتہ 10 دن تو روزہ رکھنا اسان ہو گیا یعنی کھانا پینا چھوڑنا اسان ہو گیا باقی روزے ماشاءاللہ اپ حضرات کے بڑے ارام سے گزرے ہیں اج عید کا دن ہے کیا اپ میں سے ہر ایک کے ساتھ ایسا نہیں ہو رہا ہو گا کہ اب جائیں گے عید کی نماز کے بعد اور جا کر کھانا شروع کریں گے کوئی چیز سامنے ائے گی سب سے پہلے خیال ائے گا روزہ اج عید کے دن کھانا مشکل ہو جائے گا اپ کے لیے کیوں اب نہ کھانے کی عادت پڑ گئی سامنے ائے گی چیز روزہ پھر ایک دم نہیں نہیں اج تو عید کا دن ہے کھانا ہے اج سارا دن ایسا ہی ہو گا انشاءاللہ کیوں اب نہ کھانے کی عادت پڑ گئی تو کھانا کھانا مشکل ہو گیا اللہ نے ہمیں سمجھایا کہ اے انسان بڑے غور سے اللہ نے کیا تربیت کی ہے روزے کے اندر عبادت کی تربیت اللہ نے کیسے کی ہے اے بندے جب تجھے کھانے پینے کی عادت تھی تو کھانا چھوڑنا مشکل تھا اور جب نہ کھانے کی عادت پڑ گئی تو اب کھانا کھانا مشکل ہو گیا اللہ نے انسان کی تربیت کی کہ اس انسان کو رمضان کے اندر اللہ نے سکھایا اس کی عملی تربیت کی اللہ نے کہ اس انسان کو شروع میں کھانے پینے کی عادت تھی تو کھانا چھوڑنا مشکل تھا اب رمضان میں نہ کھانے کی عادت پڑ گئی عید کے دن کھانا کھانا مشکل ہو گیا اللہ نے پتہ ہے کیا تربیت کی اس انسان کی اے انسان اگر تجھے نیک کام کرنے کی عادت پڑ جائے تو نیک کام چھوڑنا مشکل ہو جائے اور اگر تجھے گناہ نہ کرنے کی عادت پڑ جائے تو گناہ کرنا مشکل ہو جائے اور یہ اللہ نے تربیت کی یہ انسان جو کہتا پھرتا ہے میں بڑا کمزور ہوں میرے اندر اتنی ول پاور نہیں ہے میرے اندر اتنی قوت ارادی نہیں ہے میں گناہ کی زندگی کو نہیں چھوڑ سکتا او گناہ ہو جاتے ہیں مجھ سے جو انسان معاشرے کا یہ سوچتا رہا کہ میں بڑا کمزور ہوں میں عبادت وغیرہ زیادہ نہیں کر سکتا

[18:31]میں میرے اندر اتنی ول پاور نہیں ہے کہ میں گناہوں کو چھوڑ دوں ایسے انسان نے رمضان میں روزہ رکھا اور رمضان میں روزہ رکھ کر وہ انسان جو یہ سمجھتا تھا کہ میں گناہوں سے نہیں بچ سکتا

[18:55]ایسے انسان نے روزہ رکھ لیا اس نے رکھ لیا روزہ ماشاءاللہ رمضان کا

[19:16]اس انسان کو پورے رمضان بند کمرے میں کئی دفعہ حلال کھانا حلال پھل حلال پانی اس کے سامنے پڑا ہوا تھا بند کمرے میں اس نے روزے کی حالت میں نہیں کھایا اس سے پوچھیے کیوں نہیں کھایا بند کمرے کے اندر کیوں نہیں کھایا اس کا جواب پتہ ہے کیا تھا میں نے روزہ رکھا ہے یعنی اللہ سے اتنی نیت کی ہے اتنی نیت کی اتنا ارادہ کیا ہے اے اللہ میں صبح سحری کے وقت سے لے کر غروب افتاب تک کھاؤں گا نہیں پیوں گا نہیں بس اتنی سی بات تھی کوئی اس پر پولیس والا نہیں کھڑا تھا کوئی اس پر فوجی گن لے کر نہیں کھڑا تھا کہ تم کھاؤ گے تو یہ ہو جائے گا کچھ بھی نہیں یہ اکیلا تھا تنہا تھا اس کمرے کے اندر سامنے حلال کھانا حلال پینے کی چیزیں رکھی رہیں سارا مہینہ اس نے حلال نہیں کھایا اس نے حلال پھل نہیں کھایا بند کمرے کے اندر اس گئے گزرے انسان سے جو یہ کہتا پھرتا ہے نا میرا ایمان بڑا کمزور میرا بڑا ایمان کمزور ایمان کمزور اندر کچھ نہیں ہوتا یہ خود اس نے بنایا ہوا ہے یہ خود اس نے بنایا ہوا ہے ایسی باتیں بناتا ہے ورنہ اس کے اندر ایمانی قوت موجود کیسے اس بند کمرے کے اندر اس نے حلال نہیں کھایا باہر نکلے اپ اس سے پوچھیں کیوں نہیں کھایا وہ کہے گا میرا روزہ ہے اپ پتہ ہے اگے سے کیا کہیں اس گناہگار بندے کو جو گناہ 11 مہینے نہیں چھوڑتا تھا اس کو کہے کوئی نہیں دیکھ رہا تھا کھا لیتے بند کمرہ تھا کہہ کے تو دیکھیں اس بندے کو اندر کوئی نہیں تھا کھا لیتے وہ پھل پی لیتے وہ پانی یہ معاشرے کا گیا گزرا بندہ بھی کہے گا اللہ دیکھ رہا تھا گیا گزرا بندہ میں کسی بہت بڑے نیک بندے کی بات نہیں کر رہا گیا گزرا بندہ بھی کہے گا کہ اللہ دیکھ رہا ہے اور اس کے دل میں تھی یہ بات کہ اللہ دیکھ رہا ہے تبھی تو نہیں کھایا اس نے بند کمرے میں کاش کہ روزے کے اندر بند کمرے کے اندر جس طرح اس کو یقین ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے اگر باقی 11 مہینے میں بھی یہ یقین پیدا ہو جائے کہ اللہ دیکھ رہا ہے تو بندہ بندہ بن جائے اللہ نے تربیت کی اس روزے کے اندر ایک ایک روزہ دار کی اللہ نے تربیت کی اے انسان تجھے جس چیز نے بند کمرے کے اندر حلال کھانے سے روکا اس پورے ایک مہینے میں اے میرے بندے جس چیز نے تجھے تیری نیت تیری نیت تیرا ارادہ جس چیز نے تجھے بند کمرے کے اندر پورے مہینے حلال کھانے سے روکا وہی نیت وہی قوت ارادی باقی 11 مہینے میں حرام سے بھی روک سکتی ہے یہ انسان یہ نہیں کہہ سکتا میں بے بس ہوں جی نہیں اللہ نے اس کے اندر طاقت رکھی ہے کہ یہ چاہے تو حرام کھانے سے رک سکتا ہے یہ چاہے تو حلال کھانے سے رک سکتا ہے اس لیے اللہ نے انسان کو جو روزے کی عبادت عطا فرمائی اس کے ذریعے تربیت کی اور اج شکر کا دن ہے اج شکر کا دن ہے عید الفطر ہے یعنی روزہ کھلنے کی عید روزہ کھلنے کی عید اج صدقہ فطر بھی دینا ہے کہ اگر کوئی کوتاہی ہو گئی اللہ اس صدقہ فطر کے ذریعے وہ بھی پوری کر دے گا یہ شکر کا دن ہے اور اللہ نے قران مجید میں سورۃ البقرہ کی ایت 185 میں جہاں اللہ نے رمضان اور اس کے اندر انے والی نعمتوں کا ذکر کیا تو اخر میں اللہ نے کہا کہ ان سب نعمتوں کا مقصد تھا شکر تاکہ بندے کے اندر شکر پیدا ہو جائے ایت پڑھنے لگا ہوں دیکھیے اللہ نے اس میں کس کس چیز کا ذکر کیا اور اخر میں اللہ نے کہا کیا کہا شہر رمضان الذي انزل فيه القران ہدى للناس وبينات من الهدى والفرقان فمن شهد منكم الشهر فليصم ومن كان مريضا او على سفر فعده من ايام اخر يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر ولتكملوا العده ولتكبروا الله على ما هداكم ولعلكم تشكرون اللہ نے اس ایت میں ذکر کیا شہر رمضان الذي انزل فیہ القران رمضان کا مہینہ وہ جس میں اللہ نے قران نازل کیا شہر رمضان رمضان کا وہ مہینہ الذي انزل فیہ القران جس میں اللہ نے قران نازل کیا اور پھر اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ رمضان کا مہینہ وہ کہ جس میں قران نازل کیا جس میں روزہ رکھنے کو کہا کیوں لعلکم تشکرون تاکہ یہ شکر ادا کرے اور پھر اس شکر ادا کرنے کا طریقہ کہ یہ انسان اللہ کی بات کو مان کر چلے پھر اللہ نے انسان کو سمجھایا کہ میں اس ایک ایک عمل کے بدلے میں ایک ایک عمل کے بدلے میں اپ کو میں اتنا ثواب عطا کروں گا اور اتنی نعمتیں دوں گا جس کو اج سمجھنا بہت ضروری ہے یہ انسان جب نعمتیں اللہ کی دی ہوئی استعمال کرتا ہے شکر ادا کرتا ہے تو اس کے اعمال کا ثواب کتنا بڑھ جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد یہ رمضان کے روزے تو فرض لیکن اس کے بعد جو شوال کے چھ روزے ہیں وہ رکھنا سنت غیر موکدہ کہ اپ روزے رکھے تو اپ کو ثواب ملے گا نہیں رکھیں گے تو گناہ نہیں ہوگا لیکن رمضان کے روزے رکھنے کے ساتھ

[26:48]اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے قران مجید میں فرمایا من جاء بالحسن فله عشر امثالها جو بندہ ایک نیک کام کرتا ہے اللہ اس کو دس نیک کاموں کا ثواب عطا فرماتا ہے اپ دن بھر پانچ نمازیں پڑھتے ہیں ہر نماز کا ثواب دس نمازوں کے برابر تو ہر روز اپ کو پانچ نمازیں پڑھنے پر 50 نمازوں کا ثواب ملتا ہے الحمدللہ فرض بھی پہلے 50 نمازیں ہوئی تھی اب اللہ نے قانون بنا دیا من جاء بالحسن فله عشر امثالها جو بندہ نیک کام کرے گا اللہ اس کو 10 نیکیوں کے برابر ثواب عطا فرمائے گا اب توجہ فرمائیے گا اس نے رمضان کا ایک روزہ رکھا اس کو دس روزوں کا ثواب ملا اس اللہ کے فرمان کے مطابق جب اس نے یہ 30 روزے 29 روزے رکھے تو اس کو 300 روزوں کا ثواب ملا یہ کل 360 روزوں کا ثواب ملا تو سارا سال روزے رکھتا ہے اللہ رب العزت ہم سب کو جو رمضان میں اللہ نے تربیت عطا فرمائی اس تربیت کو انسان اللہ توفیق دے ساری زندگی جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور پھر اس کے بعد اللہ نے یہ جو عید کی نماز ہمارے لیے رکھی یہ بھی شکر کا ایک طریقہ ہے جس میں انسان تکبیرات پڑھتا ہے اللہ کی بڑائی بیان کرتا ہے اور اس کو ہم کس طرح ادا کریں گے ابھی عید کی نماز کس طرح پڑھیں گے بہت اسان طریقہ سب سے پہلے امام صاحب عید کی نماز پڑھانے لگیں گے اپ نیت فرما لیں گے کہ میں عید کی نماز پڑھتا ہوں مع چھ زائد واجب تکبیرات کے امام کے پیچھے بس یہ نیت دل کا ارادہ اس کے بعد امام اللہ اکبر کہیں گے اپ بھی اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لیں گے پھر اپ سبحانک اللہم پڑھیں گے پھر اس کے بعد امام صاحب تین دفعہ تکبیر کہیں گے کانوں تک اپ ہاتھ اٹھائیں گے اللہ اکبر کہہ کر ہاتھوں کو چھوڑ دیں گے پھر اس کے بعد امام صاحب سورہ فاتحہ پڑھیں گے سورۃ پڑھیں گے پھر اس کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے تین مرتبہ تکبیر کہنی ہے اللہ اکبر کہہ کر کانوں تک ہاتھ اٹھا کر چھوڑ دینا ہے پھر امام صاحب جب چوتھی تکبیر کہیں گے رکوع میں چلے جائیں گے اس طرح نماز رکوع سجدے کے بعد دوبارہ جب اٹھیں گے تو امام صاحب پہلے سورہ فاتحہ پڑھیں گے سورۃ پڑھیں گے پھر اس کے بعد جب چوتھی تکبیر کہیں گے رکوع میں چلے جائیں گے اس طرح نماز رکوع سجدے کے بعد مکمل ہو جائے گی پھر اس کے بعد امام خطبہ دیں گے اپ دونوں خطبے سنیں گے دعائیں مانگیں گے اور یوں عید کی نماز مکمل ہو جائے گی گویا کہ عید کی نماز کا اسان ترین طریقہ یہ ہے بالکل اسی طرح جیسے اپ جمعے کی نماز پڑھتے ہیں نیت کا فرق ہے جس طرح جمعہ کی نماز پڑھتے ہیں ویسے بالکل فرق صرف اتنا ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے تین مرتبہ تکبیر کہی جائے گی اور دوسری رکعت میں رکوع میں جانے سے پہلے تین دفعہ تکبیر کہی جائے گی بس اتنی سی بات ذہن میں رکھیں گے تو عید کی نماز سب حضرات کو سمجھ میں اگئی وقت ہو چکا مکمل بر وقت نماز کھڑی ہو رہی ہے اپ حضرات صفیں درست فرما لیجیے اور عید کی نماز کی نیت کر لیجیے خطبہ انشاءاللہ بعد میں

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript