[0:03]بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ کس شان سے اللہ نے اتارے ہیں محمد۔ ہر دور میں ہر سب کو پیارے ہیں محمد۔
[0:16]جناب صدر، محترم اساتذہ کرام اور میرے عزیز ساتھیوں السلام علیکم۔
[0:23]ستے علی وقار دنیا میں ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ چاند تھا لیکن بے نور تھا۔
[0:30]تارے تھے لیکن بوجھے بوجھے سے افاق تھا لیکن دبا دبا سا اپنا پر پتھر کڑے ہوئے تھے۔
[0:43]دل اجڑے اجڑے ہوئے تھے۔ خلستان نے پہاڑوں لوٹ گئے چمن ویران کر دیا تھا۔
[0:51]کہ اچانک میرے نبی کی امد ہوئی۔ جنہیں رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا گیا۔
[0:58]وہ رحمت اللعالمین جن کے لعاب سے کنویں چشمے پھولتے ہیں۔ جن کے تباک سے بیماروں کی نظر ٹھیک ہو جاتی ہے۔
[1:07]وہ رحمت اللعالمین جس پر پانی اپنا سائل پڑتا ہے۔ وہ رحمت اللعالمین جس کی پتبوں کو صدیق، عثمان کو غنی، عمر کو فاروق اور علی کو شیر خدا بنا دیتی ہے۔
[1:21]جس کی نسبت فاطمہ کو خاتون جنت، حسین کو سید شفاعت عطا کر دیتی ہے۔
[1:29]میں اس رحمت اللعالمین کی شان کیا بیان کروں؟ مقام محمود جس کے انتظار میں ہے۔
[1:37]جنت سنور کر جس کے انتظار میں ہے۔ وہ اپنے چچا امیر حمزہ کو بھی معاف کرنے والا۔
[1:46]مکہ فتح کر کے عام معافی کا اعلان کرنے والا میرا رب جن کی زلفوں کی قسمیں اٹھائے۔ واللینی ازاد سجدہ۔
[1:57]میرا رب جن کی شہر کی قسمیں اٹھائے۔ وانہ البلہ میڈم۔ جنہیں میرا رب کبھی حبیب کہے کبھی خلیل کہے۔
[2:05]کبھی طہ کہے کبھی یاسین کہے اور کبھی مرسلہ کہے۔ ہاں ہاں سے علی وقار۔
[2:12]اسی رحمت اللعالمین کو امت کے درد میں سجدوں میں روتا ہوا دیکھتی ہوں۔
[2:20]جس طرح لفظ سے لفظ ملتے ہیں نام محمد کے سبب کاش ہم سب مل جائیں اس نام محمد کے سبب۔



