Thumbnail for Dialogue between Gabriel & Satan Satan in poetry of Iqbal | جبریل و ابلیس ابلیس اقبال کی شاعری میں by Khurram Ellahi Official

Dialogue between Gabriel & Satan Satan in poetry of Iqbal | جبریل و ابلیس ابلیس اقبال کی شاعری میں

Khurram Ellahi Official

16m 10s2,459 words~13 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]اج ہم علامہ محمد اقبال کی شہرا افاق نظم جو بال جبریل میں شامل ہے جبریل علیہ السلام اور ابلیس کا مکالمہ جبریل و ابلیس پڑھنے لگے ہیں اور اس کو سمجھنے لگے ہیں اور اس کو تفصیل سے دیکھنے لگے ہیں اس کا زماں و مکاں کا تعین اگر کر لیں تو یہ ہم شورلی کہہ سکتے ہیں کہ یہ نظم زمیں سے کہیں اوپر اور اسمانوں سے کہیں تھوڑا نیچے جبریل و ابلیس کا مکالمہ ہو رہا ہے اور اس کے زماں کا تعین میں نہیں کر سکتا ہاں مکاں کا کر سکتا ہوں اور اس کے وہ دلائل میں اگے دوں گا یعنی زمیں سے تھوڑا اوپر اسماں سے تھوڑا بیچ کہیں پر جبریل و ابلیس کی ملاقات ہو رہی ہے اور وہ ایک دوسرے سے مخاطب ہیں اور جبریل علیہ السلام ابلیس کو دیکھ کر پکارتے ہیں کہ ہم دم درینہ کیسا ہے جہان رنگ و بو اے میرے پرانے دوست رفیق ساتھی وہ دنیا کیسی ہے جہاں پہ سنا ہے کافی رنگ اور طرح طرح کی خوشبو ہے اب اپ یہاں دیکھیے کہ پرانے ساتھی کی یاد برقرار ہے کیوں کیونکہ جو حق ہوتا ہے وہ بدی کی وجہ سے اپنے رشتے کو متاثر نہیں ہونے دیتا وہ حق ہی نہ رہے وہ خیر رہے ہی نہ کہ اگر وہ باطل سے منہ موڑ لے بدی سے منہ موڑ لے جو ہمیں مولانا روم نے سمجھایا کہ طبیب کا کام تو بیماروں کا علاج کرنا ہے تو جبریل علیہ السلام ابلیس سے مخاطب ہیں کہ اے پرانے دوست پرانے رفیق وہ دنیا جہاں تم رہتے ہو جہاں کئی رنگ ہیں طرح طرح کی خوشبو ہے کیسا ہے وہ جہان وہ زمیں وہ ارتھ وہ انسانوں کی زمین کیسی ہے اگے سے ابلیس جواب دیتے ہیں سوز و ساز درد و داغ جستجو ارزو وہ زمین اچھی ہے ہر چیز کی جستجو کرنی پڑتی ہے تب کہیں ملتی ہے فقط ارزو سے نہیں ملتی یہ جنت جیسی نہیں ہے مگر جب اپ اس ارزو اور جستجو کے درمیان کا فاصلہ طے کرتے ہیں تو لذت بہت محسوس ہوتی ہے جس کو وہ مخلوق نہیں سمجھ سکتی جو بالکل ارام سے بیٹھی رہتی ہے اور تسبیحات کرتی رہتی ہے اور سوز ہے وہ درد ہے جو کئی مسکراہٹوں سے بہتر ہے وہ تکلیف ہے جو انکھ کو بند نہیں ہونے دیتی پہلے سے بھی زیادہ کھول دیتی ہے وہ سوز ہے اس زمین پہ درد ہے درد جو انسانی عقل کا سب سے بڑا رہنما ہے اور داغ ہے یعنی گنہگاروں کی کائنات ہے جو یقین رکھتے ہیں کہ ہم ہمیشہ ایسے نہیں رہیں گے ہم اچھے بھی ہو جائیں گے تو جستجو اور ارزو والی زمیں ہے اور اچھا وقت گزر رہا ہے جبریل علیہ السلام اگے فرماتے ہیں ہر گھڑی افلاک پر رہتی ہے تیری گفتگو کیا یہ ممکن نہیں کہ تیرا چاک دامن ہو رفو اب اپ دیکھیے یہ علامہ نے کتنی گہرائی میں بات کی ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ اوپر اسمانوں میں ابلیس تیری گفتگو رہتی ہے کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم اپ معافی مانگ لیں اور اپ کا جو رتبہ کھو گیا ہے ہم اپ کو دوبارہ دلوا دیں اپ کی صلح ہو جائے اپ معذرت کر لیں توبہ کر لیں اور دوبارہ ہم میں شامل ہو جائیں اور دوبارہ سے اسمانوں میں ہمارے ساتھ رہنا شروع کر دیں اگے سے ابلیس جواب دیتے ہیں اہ اے جبریل علیہ السلام تو واقف نہیں اس راز سے کر گیا سرمست مجھ کو ٹوٹ کر میرا سبو اب یہاں میری گزر ممکن نہیں ممکن نہیں کس قدر خاموش ہے یہ عالم بے کاہ و کو کیونکہ میں نے اپ کو بتایا کہ اب ملاقات زمین پر نہیں اسمانوں کے پاس ہے تو اسمانوں میں اپ جانتے ہیں کتنا اندھیرا ہے کتنے بڑے بڑے ستارے کتنے کتنے ہماری کائنات جتنے بڑے بڑے ستارے چمک رہے ہیں مگر اندھیرا ان پر غالب ہے کوئی اور رنگ نہیں کوئی غالب کی بات نہیں کوئی فیض کا مصرا نہیں کوئی محبوب چھپ کے دوسرے کو دیکھ نہیں رہا کوئی کسی سے ناراض ہو کے چھپ نہیں رہا سب اندھیرے کے سپرد یہاں میری گزر ممکن نہیں مجھے تو زمیں کی عادت ڈل گئی ہے جہاں رنگ ہی رنگ ہیں خزاں اتی ہے اب اسی جگہ بہار بھی اتی ہے اور یہ اوپر کا جو اور یہ اوپر کی خامشی میں کیسے برداشت کروں ان محلات ان جگہوں میں تو اتنی خامشی ہے نیچے جا کے دیکھو وہ بوڑھی ماؤں کو دیکھو جن کے بچے رو رہے ہیں اس کا ایک شور ہے اور وہ ان کو ایسی میٹھی باتیں کہہ کے سلاتی ہیں میں تو اس کو بھی سنتا ہوں انسانوں نے اس جگہ کو ایسا اباد کر رکھا ہے لوگ جب تنگ ا جاتے ہیں کسی کے ظلم سے تو جالب کی نظمیں با اواز بلند پڑھتے ہیں کہ ہم نہیں مانتے یہاں اوپر تو خامشی ہے اور نیچے ہمیں عادت ہے بہت زیادہ خوبصورت اوازوں کی اور پہلا مصرا جو میں نے کہا وہ کہتے ہیں کہ یہ جو میرا مٹکا ہے شراب کا یہ ٹوٹا ہے یعنی میں نے گستاخی کی ہے تو سارا ہوش میرے سپرد ایا میں نے خود کو پہچانا ہے میں نے دور ہو کے خود کو پہچانا ہے میں نے اس فاصلے میں بہت کچھ سیکھا ہے جس کی نا امید سے ہو سوز درون کائنات اس کے حق میں تک نہ تو اچھا ہے یا لا تک نہ تو وہ کہتے ہیں جس کی نا امیدی سے ہے سوز درون کائنات یعنی جس کے نا امید ہونے سے جس کی نا سے پوری کائنات کا کاروبار اگے چلا اگر میں نا نہ کرتا تو ادم علیہ السلام اج جنت میں ہوتے اور ہم سب اپنے اپنے محبوب کو نہ دیکھتے ہم یہ جستجو اور ارزو کی جنگ نہ دیکھتے ہم اپنے اپ کو ائینے میں ہی کبھی نہ دیکھتے ہم یہ جدائی کو کبھی چیرش نہ کر پاتے وی جسٹ ہی بن اپ دیر جس کی نا امید سے ہو سوز درون کائنات میری نا نے پوری کائنات کو ہاں کہنے کا موقع دیا ہے میری نا نہیں تو پوری کائنات کی وہ مشینری کو دھکا دیا ہے اینڈ دا کلائمکس ائی براٹ دیٹ ٹوسٹ ٹو دا سٹوری ایلس ایوری ون بورڈ سب سجدہ کر گئے میں نے نہ کیا پھر ادم کو ورغلایا تبھی تو کہانی شروع ہوئی ہے جس کی نا امید سے ہو سوز درون کائنات تو میری نا بڑی اہم ہے میری نا وہ اندھیرا ہے جو سورج کو کو مفید بناتی ہے وہ میں ہی ہوں جس نے نا اپنے جس نے اندھیرا اپنے نام لگوا لیا ہے تاکہ سورج بھی اپنا کاروبار بیچتا ہے میں نے روشنی دی ہے اسے میرا احسان مند ہونا تھا اور میری نا امید سے میرے نا امیدی سے یہ سارا کاروبار چلا تو اب بتاؤ میرے حق میں تک نہ تو اچھا ہے یا لا تک نہ تو اپ جانتے ہیں یہ قران مجید فرقان حمید کی مشہور اللہ تعالی کی دعوت ہے کہ اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونا ابلیس کہتا ہے میں اس کا انکار ہی نہیں ہوں مگر اگر میں معافی مانگ لوں اگر میں معافی مانگ لوں تو پھر تو سب ریپ اپ ہو جائے گا دا کرٹنز ول رائز اسٹیج نظر ا جائے گا اور وہ انسان سوچیے جو کیو سے غاروں سے نکل کے اج بلند و بالا عمارتوں پہ ہم مارس پر ڈیرے جما چکا ہے اسے کتنا افسوس ہوگا بڑی مشکل سے اسے منایا ہے کہ زمین چھوڑ کے اوپر اٹھو نکلو یہاں سے کہیں باہر بڑی مشکل سے اسے منایا ہے کہ تم ان ائس ایج سے لڑ سکتے ہو بڑی مشکل سے اسے منایا ہے کہ اٹھاؤ اوپر عمارتیں نہیں گرنے گریں گی تم انسان ہو تو بتاؤ جس کی نا امید نے ان کو امید دی ہے تو اگر میں معافی مانگ لوں تو یہ کاروبار تو سارا رک جائے گا جبریل علیہ السلام اگے سے جواب دیتے ہیں کھو دیے انکار سے تو نے مقامات بلند چشم یزداں میں فرشتوں کی رہی کیا ابرو تیرے انکار کی وجہ سے تو نے وہ جو مقامات بلند ہیں اللہ کی قربت ہے وہ جو اتنا تجھے ایک ہائی اسٹیٹس ملا ہوا تھا وہ سب کھو دیا اور تمہاری وجہ سے فرشتوں کو بھی بہت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا کہ تم ہم میں سے تھے اور تم نے انکار کر دیا ابھی اپ یہ یاد رکھیے کہ میں علامہ نے جو ابلیس کو خواجہ اہل فراق کہا ہے اس پر پھر کبھی بات کروں گا وہ علیحدہ مکمل بات ہوگی کہ یہ عاشقوں کے کیا ہم کہیں گے لیڈر کیوں ہے عاشقوں کے رہنما ابلیس کیوں اقبال نے خواجہ اہل فراق کیوں کہا یعنی وہ سب جو اپنے اپنے محبوب سے دور ہیں ان کا رہنما اور راہبر کیوں کہا وہ پھر کبھی بات کریں گے لیکن یہاں دیکھیں جبریل علیہ السلام نے کہا کہ چشم یزداں میں اللہ تعالی و جل کی نظر میں ہم سب کو بہت شرمندگی اٹھانا پڑی یہاں پر ابلیس فائنل جواب دیتے ہیں اور یہ پہلا مصرا میرا فیورٹ ہے مجھے بہت پسند ہے اے میری جرت سے مشت خاک میں ذوق نمو میں نے جرت دی ہے اس انسان کو اس مٹی کے ڈھیر کو میں نے اسے جرت دی ہے کہ یہ ابھرے اور اپنی صلاحیتوں کو لے کر پوری کائنات میں چمکے اے میری جرت سے مشت خاک میں ذوق نمو

[9:09]میرے فتنے جامع عقل و خرد کا تار و پو اور یہ عقل جتنی بڑی بڑی باتیں کرتی ہے سب تانے بانے میں پرووائڈ کرتا ہوں عقل جو اینٹیتھسز دیتی ہے عقل جو انکار میں لذت لیتی ہے عقل جو مزاحمت کرتی ہے سب میں نے ہی تو دیا ہے اپ کہیں ہاں میں کہوں ہاں وہ کیا بات ہوئی کائنات تو اگے چلتی ہے ریزسٹنس کے اصول پہ اینٹیتھسز کے اصول پہ میں نے دیا ہے میں نے اس ادم کو مٹی کے ڈھیر کو مشت خاک کو ذوق نمو اگے بڑھنے کا ترقی کا حوصلہ دیا ہے کہ دیکھو تم نے تو کیا کیا میں نے جو لے کر کس طرح سروائیو کیا تم بھی ہمت کرو اور اگے بڑھو اے میری جرت سے مشت خاک میں ذوق نمو دیکھتا ہے تو فقط ساحل سے رزم خیر و شر اے جبریل علیہ السلام اپ تو وہ دور کھڑے خیر و شر کی جنگ دیکھتے ہیں جو زمیں پہ جاری ہے کہ کب کون اللہ کی طرف گرے گا کون ابلیس کی طرف کون اج بھوکا سوئے گا کون اج پھر بھوکا سوتے ہوئے اللہ سے ہی جڑا رہے گا کون صبر کر لے گا کون ڈاکا اور چوری کرے گا میں تجربہ حاصل کر رہا ہوں میں اس سارے کے سارے اس اس جنگ کے درمیان کھڑا ہوں اس مٹی کو اپنے سر لے رہا ہوں وہ خون جو انسان ایک دوسرے کا کرتے ہیں وہ سب مجھ پر بھی گرتا ہے اپ تو دور کھڑے دیکھتے ہیں ساحل سے اندازہ لگاتے ہیں اس رزم خیر و شر کا یہ جو جنگ زمین پر چل رہی ہے کون طوفاں کے تماچے کھا رہا ہے میں کہ تو اپ تو ساحل پر کھڑے ہیں میں بیچ میں کھڑا وہ سب کچھ دیکھ رہا ہوں وہ جو اپ لوگ گناہ لکھتے ہوئے اپ لوگ تو فاصلے سے وہ گناہ دیکھ رہے ہیں جو انسان کرتا ہے میں تو بیچ میں موجود ہوں وہاں پہ خضر بھی بے دست و پا الیاس بھی بے دست و پا میرے طوفان یم ب یم دریا ب دریا جو ب جو یہ زمین بڑی عجب جگہ ہے یہ مٹی بڑی عجب جگہ ہے یہ مٹی اور پانی کی کائنات بڑی عجب جگہ ہے یہاں تو پیغمبروں کو بھی ازمائشیں کاٹنی پڑتی ہیں اور خضر جیسے دانا بھی خضر علیہ السلام جیسے دانا بھی ان کو بھی کئی کئی سال جواب نہیں ملتے اور الیاس بھی ایسے ہاتھ رکھ کے بیٹھے ہیں حضرت ایوب علیہ السلام کتنا عرصہ بیماریوں سے لڑتے رہے یہ بہت مشکل کائنات ہے وہ یاد ا رہا ہے نا علامہ محمد اقبال نے بال جبریل میں ہی کہا ہے کہ یہ کائنات اباد کرنے کے لیے جو حوصلہ درکار تو فقط انسانوں کے پاس ہے کیونکہ یہاں کی بیماری کو کاٹنا ہے یہاں کے بڑھاپے کو کاٹنا ہے یہاں پہ ساری کائنات کو دیکھتے ہوئے لالچ میں نہیں ہنا نا پوری کائنات ایسے انکھوں کے سامنے مگر غیب پر یقین بھی رکھنا ہے تو اس سے انسان بے دست و پا ہوتا ہے نا کبھی گھبراہٹ اتی ہے نا کبھی اور اگے دیکھیں میرے طوفان یم با یم دریا ب دریا جو ب جو اور دیکھ لو میرے رنگ ہر جگہ تمہیں ملیں گے ہر جگہ میں نے اپنا شر اپنا پیغام پہنچایا ہوا ہے گر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سے قصہ ادم کو رنگین کر گیا کس کا لہو اس شعر پر غور کیجیے کہ ابلیس کو علامہ عاشق کے طور پر تو ہمیشہ مانتے رہے ہیں خواجہ اہل فراق پہ میں نے کہا بات ہوگی جب کہ خل جب بالکل اکیلے ٹائم ملے جبریل علیہ السلام تب اللہ سے پوچھے گا واویلا کر کے سب کے درمیان نہیں عاشق کا پہلا اصول ہے راز داری عشق کا پہلا اصول ہے راز داری میں ایک اہم سوال بھیج رہا ہوں اپ کے ہاتھ اج جبریل علیہ السلام مگر اکیلے میں پوچھے گا گر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سے قصہ ادم کو رنگین کر گیا کس کا لہو میں کھٹکتا ہوں اب ابلیس کہہ رہے ہیں میں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرح

[14:31]اور تو یعنی کہ تو سے مراد جبریل علیہ السلام اور تو فقط اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو میں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرح اور تو فقط اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو اب سوچیے کہ علامہ کیا بات یہاں کر گئے ہیں اور یہ کائنات جو جستجو والی کائنات ہے جہاں محنت کرنی پڑتی ہے یہاں کے باسی یاد رہ جاتے ہیں اور وہ جو قربت میں ہیں پاس رہتے ہیں سارا دن تسبیحات کرتے ہیں لیکن جیسے علامہ نے بال جبریل میں ہی ان کے متعلق کہا ہے نا کہ نہ کر تقلید ہے جبریل میرے جذبو مستی اے جبریل علیہ السلام اپ انسانوں کو اپ لوگ فرشتوں سے انسانوں جیسے کام نہیں ہوں گے ہم زندگی کی مصروفیات کو تھامتے ہوئے بھی اللہ و جل کی عبادات میں کھڑے ہوتے ہیں ہماری بچے بیمار ہوتے ہیں تب بھی ہم اللہ اکبر کہہ کے سامنے چلے جاتے ہیں ہم نے رزق حلال کمانا ہوتا ہے اپنے ذہنی نفسیاتی مسائل سے لڑنا ہوتا ہے یہاں کی سردی گرمی سے بچنا ہوتا ہے اور پھر بھی اللہ اکبر کر کے اپ کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اپ کے لیے تو بہت سہولت ہے یہاں بہت عجب معاملہ ہے اور یہ والا ایمان یقینا افضل ہے جہاں اپ ہر روز کمزور ہوتے ہوئے بھی اس کا نعرہ ضرور لگاتے ہیں جو سب سے زیادہ طاقتور ہے

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript