[0:08]الحمد لله رب العالمين والصلاه والسلام على النبي الامين. آج ہم پڑھیں گے کہ شیخ حافظہ اللہ شیخ صالح الشیخ بڑے قوار علماء میں سے ہیں اور وزیر الشؤون الاسلامیہ بھی رہے ہیں۔ ان کی یہ کتاب ہے۔ تو اس میں انہوں نے تدرج کے متعلق تدرج کا مطلب ہوتا ہے کہ سیڑھیاں چلنا۔ علم کی سیڑھیاں کیا ہے؟ تو شیخ فرماتے ہیں کہ کیفیۃ التدرج والتصیل فی الفقہ یعنی فق میں کیسے طالب علم تدرج حاصل کرے۔ کیسے وہ سیڑھیوں سے چڑھے؟ نمبر ون يبدا الطالب بمتن العمدۃ فی الفقہ لابن قدامہ یعنی وہ بول رہے ہیں کہ طالب علم شروع کرے عمدہ الفقہ سے جو امام ابن قدامہ کی کتاب ہے اور شیخ فرماتے ہیں فی البلاد يبتدئ باي متن من المتون الفقیۃ الفقیۃ من اي مذهب لكن مذہب الحنابلہ ہوا ا اقل المذاهب مخالف او اقل المذاهب مسائل مرجوعہ ٹھیک ہے یعنی شیخ فرما رہے ہیں کہ اگر اپ اس ملک کے نہیں ہیں۔ مطلب سعودی عرب کے یا عرب دنیا میں جدھر فق حنبلی رائج ہے اگر اپ ادھر کے نہیں ہیں لیکن اپ جس ملک میں ہیں ادھر جو فق رائج ہے ادھر کے اپ مذہب کے متعلق فق حنبیہ یعنی فقح ہے مذہبی کی ابتدائی کتاب اپ شروع کریں۔ اور وہ بولتا ہے ہم فقہ حنبلی کو اس لیے زیادہ ترجیح دیتے ہیں کہ اس میں بہت کم ایسے مسائل ہیں جو متکلم فی ہے یا جس میں مرجوح مسائل ہیں۔ اذا سب سے پہلے وہ بولتے ہیں اپ لیں گے عمدہ الفق اور ہر باب ہر مسئلہ ہر کتاب یعنی اس کے اندر ہوتا ہے مثلا باب المیاہ اس کے اوپر اپ تھوڑا جلدی سے گزریں گے اس کی تقسیم کریں گے اس نے کس طرح شروع کی کس طرح ختم کی اور اس کے کیا مسائل ہیں پھر اس کے بعد جا کے اپ استاد کے اوپر پڑھیں گے کی یقرہ الفقی کثیر یقرون الفقہ ولا یعرفون کی یقرونہ بہت سارے لوگ ہیں جو فق پڑھتے ہیں لیکن ان کو پتہ نہیں ہے کہ کیسے پڑھنا ہے۔ فق توحید کی طرح نہیں ہے۔ کیونکہ توحید کے جو مسائل ہیں تصور مسائل سحل مسائل الصفات فی اثبات فیہا تاویل تاویل العلو فی علو القدر و کذا یعنی وہ بولتے ہیں کہ توحید کے جو مسائل ہیں وہ اسان ہیں بنسبت فقہ کے فقہ کے مسائل میں یعنی پیچیدگیاں ہوتی ہے لیکن الفق تصور لیس بالواضح لابد من فہم صور المسائل لتشتہ بمسائل اخری یحتاج منک درس الفقہ الا تو ادیت و انعا یعنی شیخ فرما رہے ہیں کہ فقہ کے جو مسائل ہیں اس کا اپ کے پاس اچھا تصور واضح تصور ہونا چاہیے تاکہ اپ فہما مسئلہ بہت سارے طلبہ فق اس طرح نہیں سمجھ پاتے اس کے مسائل جس طرح سمجھنا چاہیے۔ وہ صرف پڑھتے جاتے ہیں تو اس لیے شیخ فرماتے ہیں اولا کیف تعامل مع المختصر بالسوال والجواب سب سے پہلی چیز اپ کسی بھی مختصر متن کو پڑھیں گے تو اس کو اس کے ساتھ اپ کیسے ڈیلنگ کریں گے؟ سوال جواب کے طریقے پر۔ مثال کے طور پر اپ کہیں گے وہ کہتے ہیں المیاہ ثلاثہ اقسام پانی کے تین قسم ہیں تو اپ پوچھیں گے کم اقسام المیاہ تو جواب دیں گے تین قسم نمبر ون الطہور اپ بولیں گے طہور کا کیا معنی ہے اس کی کیا ڈیفینیشن ہے اس طرح۔ اس طرح اگر اپ ہر سوال کرتے رہیں گے سوال کا جواب ملتا رہے گا تو کیا ہوگا؟ اپ نے فقہ کے ساتھ اس طرح تعامل کیا جیسے کہ اپ ایک استاد کے ساتھ کرے۔ اور وہ جواب دے رہا ہے اور وہ اگر کوئی احتراز کوئی شرط بیان کرے تو اپ پھر سوال کریں گے۔ مثال کے طور پر اگر اس نے کہا کہ البا الماؤ الباقی علی اصلی خلقتہ۔ وہ پانی جو اپنی اصل خلقت میں موجود ہے تو اپ سوال کریں گے مطلقا کیا ہر حالت میں؟ پھر وہ جواب دے گا نہیں اگر وہ کسی چیز کے ساتھ یعنی اختلاط کر جاتی ہے اس کے ساتھ مرج ہو جاتی ہے پھر اس کا فق مختلف ہو جاتا ہے تو شیخ فرماتے ہیں العلم فی الفقہ انما بشی الفقہ کا علم حاصل کرنے کا دو طریقہ یا دو انداز میں ہے اپ نے دو طریقے دو چیزوں سے اپ نے کرنا ہے نمبر ون بتصور۔ مسئلہ کو تصور کرنا مسئلہ کو سمجھنا۔ کہ یہ کس بارے میں بات ہو رہی ہے؟ اس کی گہرائی کیا ہے اس کے کیا مسائل ہیں؟ دوسری چیز شیخ فرماتے ہیں التقاسیم اپ نے فقہی مسائل کو تقسیم کرنا ہے انفع انفع شیء لک فی الفق التقسیم۔ یعنی فقہ میں سب سے زیادہ اچھی اور نفع بخش چیز کیا ہے؟ اپ تقسیم کریں چیزوں کو اپ اس کو مختلف اقسام میں تقسیم کریں۔ تین اقسام ہیں اس طرح اس طرح کر کے ٹھیک ہے نا جی؟ اسی طرح یہ بھی شیخ فرما رہے ہیں لا تهتم فی درس الفقہ بالراجح بال دلیل لانه لا یرید من ان تكون مفتی انت المتعلم يراد من درك الفقہ ان تتصور المسائل الفقہ و تفہم تعبیر اہل العلم الفقہ کیا خوبصورت بات کی ہے؟ شیخ فرماتے ہیں جب اپ فقہی کتاب متن مذہبی پڑھنے لگے۔ ف حنبلی حنفی مالکی شافعی یا مثلا کوئی بھی دوسرا جو فقہ کے متن ہیں اپ جب وہ پڑھنے لگے اپ نے اس میں راجح بالدلیل کا اہتمام اتنا زیادہ نہیں کرنا۔ ابھی اپ کیونکہ ابھی اپ کی یہ مراد نہیں کہ ابھی ابھی پہلی کتاب پڑھ کے مفتی بن جاؤ۔ ابھی جو مراد یہ ہے کہ اپ طالب علم ہیں اپ ابھی پڑھ کے فقہ کے مسائل کو تصور کرنا چاہیے۔ ایمیجینیشن ایمیجینیشن اف فقہی مسائل یو کین امیجن دس مسئلہ کہ پانی اس طرح ہوتا ہے۔ اور اگر ہم اس طرح وضو کریں گے تو اس کا یہ ہوگا اس طرح ٹھیک ہے جی۔ مثال کے طور پر مختصر الزاد زاد المستقنع جو ہے تقریبا زاد المستقنع میں 30 ہزار مسائل ہیں اپ ذرا تصور کریں 30 ہزار مسئلہ ایک کتاب۔ اب ہر ایک کو اگر اپ دلیل سے جانچنے لگیں تو زندگی ختم ہو جائے گی۔ کیا اس سے اچھا یہ نہیں ہے کہ ہم ہمارے پاس اسی لیے ذات کے بہت کم شروحات ہیں۔ تو سب سے زیادہ جو اہل علم کیا یعنی مفید جو طریقہ ہے وہ یہ ہے کہ شیخ فرماتے ہیں کہ اپ ابتدائی متن تاسیسی بنیادی فنڈامنٹل فاؤنڈیشنل بک لیں اور اس کو تصور کریں مثال کے طور پر اب اپ یعنی تصور المسائل کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اپ نے اس مسئلے میں جو بھی کہا گیا اس کو سمجھ لیں نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسئلہ بذات ہی وہ کیا ہے۔ ٹھیک ہے جی؟ پھر شیخ فرماتے ہیں جب وہ کتاب المیاہ باب الطہارہ ختم کر لے۔ تو اپ کتاب بند کریں اور اپنے اپ کو اس کی شرح کریں۔ اپنے اپ کو یہ سمجھائیں۔ اگر اپ دیکھتے ہیں کہ یار میری شرح اچھی ہے۔ میں نے اچھا سمجھا لیا ہے سمجھ گیا ہوں اپ کو پتہ چل جاتا ہے۔ لیکن اگر اپ کو پتہ چلے نہیں یار بہت بری شرح کی ہے میں نے تو اپ کو پتہ چل جاتا ہے کہ اپ کا لیول کیا ہے۔
[7:23]تو شیخ فرماتے ہیں المعلم فی تدریسہ للطلبہ مراعا ما یعنی جو جو استاد طالب علم کو یہ پڑھائے فق اس کو ان چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ نمبر ون سورۃ المسئلہ جو مسئلہ ہے اس کو سمجھنے کی کوشش کروانا۔ دوسری چیز حکم بنا علی ما ذکرہ صاحب الکتاب اس کا حکم کیا ہے؟ واٹ از دا رولنگ ان دس؟ اس صاحب کتاب کے مطابق اس مسئلے میں اس کی رولنگ کیا ہے؟ وہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟ تیسری چیز و بیان انکان لشیخ الاسلام ابن تیمیہ او تلمیذ ابن القیم او احد ائمت الدعوت اختیار فی المسائل مخالف لانہم نخل المذہب فالمسائل المرجوع بینوا اچھا جی۔ تیسری جو شیخ نے ایک بڑی اچھی بات کہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اپ نے اس میں بھی اچھا ایک استاد کیا کرتا ہے کہ شیخ الاسلامی تھے میاں ابن قیم اسی طرح جو ائمہ الدعا وال نجدیا ہے انہوں نے اگر کوئی اس معاملے میں مسئلہ یعنی کوئی حکم مذہب کے خلاف اختیار کی ہے تو اس کا بھی بیان کرنا۔ کیونکہ انہوں نے مسائل کو صحیح طریقے سے جانچ پڑتال کر کے وہ بات کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں کہ پانی کے تین اقسام ہیں تو ہم کہیں گے ابن تیمیہ نے یہ اختیار کیا ہے کہ پانی کے صرف دو قسم ہیں۔ ٹھیک ہے جی۔ تو یہ شیخ فرماتے ہیں ولا تعلیق لا تعلیق المعلم یحتاج لا معرف ما علیہ الفتو فیقول لکا یہ فتوہ شیخل فلانی فی المسال یہ جواب الذی تحتاجہ ٹھیک ہے شیخ فرماتے ہیں کہ ابتدائی طور پر طالب علم کے لیے یہ مناسب نہیں ہے۔ کہ ہم طالب علم کو ہر مسئلے کا دلیل بتائیں اور ہر قول پیش کریں۔ اور اپس میں مناظرہ کروائیں اور اس میں راجح مرجوح کی بات کریں۔ تو وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ مسائل یہ ہذا فی المسائل لا یحتاج الیہ طالب علم الذی یعرف هذه المسائل فی الكتب المطول المعلم لا یعرض كل ما حضره بل يعطيك ما یدفعک و ما يناسب مستواک۔ جو اچھا استاد ہوتا ہے وہ اپ کو ہر وہ چیز نہیں دیتا جو وہ جانتا ہے۔ وہ اپ کو وہ دیتا ہے جو اپ کے لیے نفع بخش ہے اور اپ کے لیول کے مطابق ہے۔ اسی طرح سائر ابواب الفقہ اسی طرح اپ فقہ کے تمام ابواب میں اسی طرح کریں گے۔ ٹھیک ہے جی۔ بعض شیخ فرماتے ہیں اخطاء بعض طلبہ بعض طلبہ کے یعنی غلطیاں کہ بعض طلبہ ایسے ہیں جن کو کچھ مسئلے کی بنیادی اور بڑی بڑی موٹی اور تفصیل باتیں پتہ ہے ایک مسئلے کی۔ پھر اگر اپ اس سے کسی اور مسئلے کے بارے میں پوچھیں گے تو اس کو کچھ بھی پتہ نہیں۔ اور یہ بڑا خلل ہے۔ بڑا گیپ ہے بڑی ویکنس ہے ہمارے طلبہ میں کہ ایک طالب علم ایک مسئلے کو اچھی طریقے سے جانتا ہے باقی سارے شمولیت نہیں ہے۔ اور جامعیت نہیں ہے۔ یعنی اس میں شمولیت نہیں ہے۔ شمولیت کا کیا مطلب؟ یعنی سارے ابواب العلم کو وہ نہیں جانتا۔ وہ پورے ابواب العلم میں سے ایک باریک نقطے کو جانتا ہے اور اسی میں وہ بڑا اپنے اپ کو فن فن مولا اور تیس مار خان سمجھتا ہے حالانکہ اس کو کاکھ نہیں پتہ۔ اسی طرح شیخ فرماتے ہیں کہ جب طالب علم ان علوم اسلیہ سے گزرتے ہوئے جاتا ہے اور جب اس کو مختصات سے وہ گزرتے ہوئے تھوڑا اوپر جاتا ہے۔ تو مثلا مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں تاریخ میں مثلا سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم سیرۃ النبویہ ابن ہشام فی کافی ہے کفایت ہے۔ پھر شیخ فرماتے ہیں طریقہ التدریب النحوی نحو صرف میں بولتے ہیں لابد من النحو لانه لا علم بدون النحو بولتے نحو کے بغیر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ ل المنطق بالنحو فمن يحرم الاعراب بال نطق اختبل یعنی ابن الودی کہتے ہیں کہ بندے کی بات کو نحو سے خوبصورت بنایا گیا۔ جو اعراب سے محروم ہو جائے درحقیقت وہ بات کرنے سے محروم ہو جائے۔ تو اس لیے شیخ فرماتے ہیں لا يصلح ان يكون طالب علم لحان فی كلام یہ بالکل غیر مناسب ہے کہ ایک طالب علم اپنی زبان میں غلطیاں کرے عربی زبان میں۔ تو کیسے ایک بندہ جس کو عربی سمجھ میں نہیں اتی وہ فہم عربی کیسے حاصل کر سکتا ہے؟ ایک طالب علم جو علم کے بڑے بڑے دعوے کرتا ہے اور جب ہم اس کے سامنے کتاب پیش کرتے ہیں یہ لو بیٹا پڑھو وہ پڑھ نہیں پاتا۔ وہ بولتے ہیں شیخ مجھے سمجھ تو ا رہی ہے لیکن مجھے پڑھنا نہیں ا رہا۔ جس کو پڑھنا نہیں اتا اس کو سمجھ میں کیسے ائے گا۔ یہ ایک بنیادی سوال ہے۔ ٹھیک ہے جی تو یہ بہت بڑا خلل ہے اس لیے طالب علم کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ نحو اور صرف اور اعراب سیکھے۔ شیخ سے ہر مسئلے میں ایک استاد رکھے اور استاد سے پورے عربی یعنی پڑھنے کی کوشش کی کوشش کرے اور اعراب کرے۔ اور اسی طرح وہ مثلا نحو پڑھنے کے بعد وہ یاد کرے مثلا حفظ الالفیہ۔ الفیہ کو یاد کریں۔ ٹھیک ہے مثال کے طور پر اھدنا الصراط المستقیم اس کی کیا اعراب ہے الحمدللہ رب العالمین اس کی کیا اعراب ہے یہ ساری چیزیں ایک طالب علم کو انی چاہیے۔ ورنہ یہ بڑا خسارے کا سودا ہے۔ کہ ایک بندے کو یعنی علم علم سے وہ محروم ہو اور خاص کر عربی زبان سے بھی وہ محروم ہو اور اس کو اس کا نہیں پتہ ہو۔ یہ بالکل ہی غیر مناسب اور غیر معقول بات ہے۔ ہم انشاءاللہ اسی پر اکتفا کرتے ہیں اور انشاءاللہ اگلے باب میں اگلے مجلس میں ہم انشاءاللہ طالب العلم والاعتماد بالسنۃ والحدیث کہ طالب علم اور سنت اور حدیث پر کیسے اس کے متعلق بات کریں گے کہ علم الحدیث کے دو قسم ہیں علم ال درایہ علم الروایہ اور علم الروایہ کیا ہے اور طالب علم روایت کے ساتھ کیا کرے درایت کیا ہے رجال الحدیث کیا ہے طبقات الروا کیا ہے حدیث کی تسعیف و تضعیف کیا ہے فقہ الحدیث کے تین اقسام وہ کیا ہیں توحید اللہ احکام اداب عامہ اور پھر اسی طرح اس میں ہم تعریف بتائیں گے اپ کو تعارف کرائیں گے جامع الکبیر سے جامع و صغیر سے اور کنزل العمال سے اسی طرح اپ کو یہ بھی بتائیں گے کہ سنت میں اعتدال ہے نا غلو ہے نا جفا جفا ہے۔ دو انتہا سے بچتے ہوئے ہم کیسے اس سے گزریں گے تو ضرور انشاءاللہ اگلے مجلس میں ہمارے ساتھ رہیے گا جزاک اللہ خیر بارک اللہ فیکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ



