[0:00]ماہ رمضان مبارک میں اکثر لوگ جو نماز تہجد ادا کرتی ہیں۔ اسی طرح جو خواتین نماز تہجد ادا کرتی ہیں۔ اس میں بہت بڑی غلطی کرتی ہیں۔ جس وجہ سے ان کی نماز تہجد ہوتی نہیں ہے۔ اور ان کو اس بات کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ وہ پڑھی جا رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم نماز تہجد بھی پابندی کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ لیکن ہمیں برکتیں نہیں مل رہی ہوتی۔ ہمیں وہ تاثیر نصیب نہیں ہو رہی ہوتی۔ تو تہجد پڑھنے کا صحیح طریقہ کیا ہے وہ اپ کو عرض کرنے لگا ہوں کیونکہ اس میں نیت کیسے کرنی ہے؟ اس کا وقت کون سا ہے؟ اس میں رکعتیں کتنی پڑھنی ہیں؟ خاص مسئلہ کہ تہجد کے لیے سونا ضروری ہے یا نہیں۔ یہ تمام تفصیلات اپ کو بتانے لگا ہوں۔ تاکہ اپ کی نماز تہجد درست ہو جائے۔ جب نماز تہجد درست ادا کریں گے تو پھر اپ کو اس کی برکتیں بھی ملیں گی۔ اپ کا چہرہ بھی روشن ہو گا۔ اپ کی زندگی بھی سوورے گی۔ اپ کو انعامات بھی ملیں گے۔ اپ کی دعاؤں کی قبولیت بھی ہو گی۔ خاص کر جو نماز تہجد پڑھنے والے لوگ ہوتے ہیں ان کی دعائیں بڑی قبول ہوتی ہیں۔ اس لیے اگر اپ صحیح طریقے سے نماز تہجد ادا نہیں کر رہے تو پھر اپ مجھ سے طریقہ سیکھ لیں۔ تاکہ اپ نماز تہجد کی وہ تمام برکتیں حاصل کر لیں۔ کیونکہ اس میں کچھ مسنون دعائیں بھی ہوتی ہیں جو ہم نے تہجد کی نماز کو ادا کرنے کے فورا بعد پڑھیں تو اللہ تعالی کی رحمتیں چھما چھما ہمارے اوپر برسنے لگ جاتی ہیں۔ کیونکہ یہ وہ گھڑیاں ہوتی ہیں نا کہ جس میں ہماری اللہ تبارک و تعالی دعاؤں کو قبول فرما لیتا ہے۔ ہماری حاجتیں قبولی ہوتی ہیں۔ اب نماز تہجد کیونکہ اسلام کی نہایت اہم عبادت ہے۔ اور یہ بابرکت عبادت ہے جو رات کے اخری حصے میں ادا کی جاتی ہے۔ اب یعنی کہ اپ سحری کے وقت اٹھتی ہیں یا اپ اٹھتے ہیں جو کوئی بھی ہیں خواتین اپنے گھر میں نماز تہجد ادا کر رہی ہیں یا مرد حضرات بھی گھر میں، گھر میں نماز تہجد ادا کر رہے ہیں یا مسجد میں۔ جہاں بھی اپ ادا کریں۔ طریقہ اس کا اپ نے یہی رکھنا ہے جو میں اپ کو عرض کرنے لگا ہوں۔ اس میں اگر ایک ہی سورت یاد ہے تو اپ اس کو کیسے پڑھیں گے؟ کیا اس کے اندر سورت اخلاص ہی پڑھنا ضروری ہے یا کوئی دوسری سورتیں بھی ہم پڑھ سکتے ہیں؟ تو دیکھیے میں اپ کو ایک ایک بات ایک ایک چیز ایک ایک حصہ سمجھانے کی کوشش کروں گا۔ تاکہ اس کے بعد اپ کو کسی بھی اور کی طرف جانا ہی نہ پڑے۔ کسی سے کوئی مسئلہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہو۔ اپ کو مکمل نماز تہجد اپنی انگلیوں پہ یاد ہو جائے۔ کہ بھئی ایسے پڑھنی ہے۔ اس کا یہ وقت ہے۔ اس کے لیے سونا ہے یا نہیں؟ اس کے لیے کون سی سورتیں یاد ہونی چاہیے؟ کون سی دعائیں پڑھنی ہیں۔ بس یہ اتنا سا کام ہے۔ اگر اپ اس طرح یہ ادا کرتے ہیں تو انشاءاللہ کیونکہ یہ نماز اللہ تعالی کے خاص بندوں کا شیوہ ہے۔ قران و حدیث میں اس کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے۔ تہجد کی نماز انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے۔ دل کو سکون ملتا ہے، گناہوں کی معافی کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس لیے ہم نماز تہجد پر یعنی قران مجید میں بھی اللہ تعالی نے اپنے نیک بندوں کی یہ صفات بیان فرمائی ہے کہ وہ راتوں کو کم سوتے ہیں۔ اپنے رب کے حضور قیام کرتے ہیں۔ سورت بنی اسرائیل میں دیکھ لیں۔ ارشاد باری تعالی ہے کہ رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھا کرے۔ یہ اپ کے لیے زائد ہے۔ امید ہے کہ اپ کا رب اپ کو مقام محمود پر فیض فرمائے گا۔ تو اس سے ہمیں پتہ چل رہا ہے کہ تہجد کی نماز یہ بڑی ہی فضیلت کی حال ہے۔ تو اس لیے ہم روزے کے لیے تو ہم نے اٹھنا ہے۔ تو ہم ماہ رمضان میں یہ ترتیب بنا لیں۔ یہ طریقہ بنا لیں کہ ہم نے پہلے دو رکعتیں پڑھنی ہیں یا چار پڑھنی ہیں یا چھ یا اٹھ۔ کتنی رکعتیں نماز تہجد میں پڑھی جاتی ہیں۔ اب کیونکہ ماہ رمضان یہ کوئی عام مہینہ نہیں ہے۔ اس کی ہر رات ہی ہر گھڑی ہر لمحہ ہی اتنا برکتوں کے ساتھ بھرا ہوا ہے نا کہ اس میں اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا کہ اقا بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ جب ماہ رمضان کا رات ہوتی ہے اور اللہ تبارک و تعالی اس وقت بندوں سے فرماتا ہے۔ کوئی میرا بندہ مجھ سے مانگنے والا میں اس کو عطا کر دوں۔ اس میں 300 رحمتوں کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ اللہ نے اب بندوں کے لیے 300 رحمتوں کے دروازے کھول رکھے ہیں۔
[3:51]اب وہ بڑے خوش نصیب لوگ ہوں گے جو نماز تہجد ادا کریں گے۔ اور 300 رحمتوں کے کھلے ہوئے سے وہ اللہ کی رحمت اور انوار و تجلیات کو حاصل کر لیں گے۔ دیکھیے یہ ماہ رمضان ہے۔ یہ امت محمدیہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مغفرت کا پیغام دیتا ہے۔ کہ ہر رات 60 ہزار گنہگاروں کی بخشش ہو جاتی ہے۔ تو اگر اپ چاہتے ہیں ایک ہی دن کی تہجد سے اور ایک ہی روزے سے اپ کو اللہ تبارک و تعالی ان بخشے ہوئے لوگوں میں شامل فرما دے تو پھر اپ سنجیدگی کے ساتھ اخلاص کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے اللہ کو راضی کرنے کی نیت سے اپ اس طرح یہ عبادت کر لیں تاکہ اپ کو یہ تمام کے تمام انعام مل سکے۔ دیکھیے رمضان کی ہر رات میں جیسے میں نے کہا ہے کہ اعلان ہوتا ہے کہ بھئی اللہ کی رحمت اس وقت 300 دروازے کھلے ہیں۔ جلدی رب سے مانگ لو۔ رب فرماتا ہے کوئی میری بارگاہ سے بخشش مانگنے والا تاکہ اس کو بخش دیا جائے۔ ہے کوئی میری بارگاہ میں توبہ کرنے والا تاکہ اس کی توبہ کو قبول فرما لے۔ ہے کوئی سوال کرنے والا تاکہ اس کا سوال پورا کیا جائے۔ یہ بار بار اللہ اعلان فرما رہا ہے۔ فرشتوں کے ذریعے اب اس لیے قسمت والوں کو ہی یہ مقدر والوں کو یہ موقع نصیب ہو گا کہ وہ نماز تہجد کو ادا کریں گے۔ اور پھر اسی طرح اللہ تعالی کی رحمتوں کو حاصل کر لیں گے۔ اب نیت پہلے ہم نیت کی بات کرتے ہیں۔ نیت اس کی یہ ہے کہ دو رکعت نماز صلاۃ یعنی اپ دو رکعت نماز تہجد بندگی اللہ تعالی کی منہ طرف خانہ کعبہ کے اللہ اکبر۔ جو نیت ہے یہ دل کے ارادے کا نام ہے۔ اگر زبان سے ہمیں چاہیے کہ ہم زبان سے یہ الفاظ جو میں نے اپ کو بیان کیے ہیں کوئی مشکل نہیں ہے۔ یاد ہو جائیں گے۔ دو رکعت نماز صلاۃ تہجد یعنی دو رکعت صلاۃ تہجد بھی کہہ سکتے ہیں۔ دو رکعت صلاۃ تہجد بندگی اللہ تعالی کی۔ یا اپ کو اسان کر دوں تو دو رکعت نماز، نماز تہجد بندگی اللہ تعالی کی منہ طرف خانہ کعبہ کے اللہ اکبر۔ تو اس طرح اپ نے نیت کر کے اپنے کانوں کو ہاتھ لگا لینے بالکل یہ سادی سی نیت ہے۔ اس میں کوئی مشکل نہیں ہے۔ کوئی ایسے الفاظ نہیں جو اپ کو یاد نہ ہو سکے۔ نماز کی جگہ صلاۃ کا نام بھی لے سکتے ہیں نماز بھی کہہ سکتے ہیں۔ تو دونوں الفاظ میں نے اپ کے سامنے ذکر کر دی ہے۔ یہ صحیح طریقہ ہے نیت کا۔ تو نیت دیکھیے انل اعمال بال نیت تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے۔ اس کا وقت جو شروع ہوتا ہے نا اصل تو خاص وقت اس کا یہی ہے۔ اج کل جو چل رہا ہے وہ جب تہجد جب اپ روزے کی سحری کے لیے اٹھتے ہیں نا اس وقت اپ اس کو ادا کریں۔ یعنی رات کے اخری حصے میں اس کو ادا کرنا یہ سب سے افضل ترین ہے۔ کیونکہ اس وقت اللہ تبارک و تعالی کی رحمتیں چھما چھم برس رہی ہوتی ہیں۔ اللہ تعالی کے نوری ملائکہ زمین پر ہوتے ہیں۔ اللہ کا پیغام لے کر یعنی بندوں کا پیغام لے کر اللہ کی بارگاہ میں وہ جاتے ہیں۔ تو اس لیے اپ جب اس وقت مانگیں گے تو پھر فرشتے اپ کا پیغام لے کر اللہ کی بارگاہ میں جائیں گے اللہ پاک اپ کو عطا فرما دے گا۔ تو اس سادی سی بات جس کو یہ بات سمجھ میں ا گئی الحمدللہ پھر وہ کبھی تہجد چھوڑتا ہی نہیں ہے۔ اس کی زندگی میں یہ رچ جاتی۔ دیکھیے میرے اقا نے فرمایا میرے اقا نے یہ بھی نماز تہجد کی اہمیت ہے نا کہ نماز کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے اقا علیہ الصلوۃ والسلام۔ فرمایا کہ فرض نماز کے بعد سب سے افضل جو نماز ہے وہ نماز تہجد ہے۔ ایک حدیث پاک میں اللہ تعالی ہر رات اسمان دنیا پر لزول کرتا ہے۔ کون ہے مجھ سے مانگنے والا؟ جیسے کہ میں نے اپ کو پہلے عرض کی۔ اسی لیے تہجد کی نماز دل کو نور سے بھر دے گی۔ اگر اپ چاہتے ہیں اپ کا دل نور سے بھر جائے اپ کا وجود نور سے بھر جائے۔ اپ کے دل میں نرمی ا جائے۔ عاجزی اور اللہ کی محبت پیدا ہو جائے۔ تو یہ نماز انسان کو گناہوں سے بھی بچاتی ہے۔ نیکیوں کی طرف راغب کرتی ہے۔ رات کے تہائی حصے میں کی گئی دعا اللہ کی بارگاہ میں فورا قبول ہو جاتی ہے۔ کیونکہ تہجد پڑھنے کا طریقہ جس کو ا گیا اس کی پھر ہر نماز ہی قبول ہو جاتی ہے۔ اب نیت اپ نے کر لی۔ نیت کے بعد اب اپ نے اس کو یہ سمجھنا ہے کہ رات کے کون سے حصے میں پڑھیں۔ وہ میں نے اپ کو بتایا رات کا اخری حصہ۔ یعنی کہ اب جو اذان کا وقت ہے نا نماز فجر کے وقت جو ہمارے ہاں چل رہا ہے۔ وہ پانچ 21 پر کسی کے 20 ہیں کسی کے 21 ہیں 25 تک چل رہا ہے۔ تو اپ اس سے پہلے پہلے یعنی رات کو دو بجے تین بجے چار بجے ساڑھے چار بجے پانچ بجے بھی تہجد ادا کر سکتے ہیں۔ یہ جو دو تین گھنٹے ہوتے ہیں نا یہ بڑے ہی اہم اور بڑے قیمتی ہوتے ہیں۔ یعنی سحری کے وقت جب اپ اٹھے ہیں تو اپ سب سے پہلے باوضو ہو جائیں۔ خواتین کو بھی چاہیے کہ وہ باوضو ہو جائے۔ نماز تہجد ادا کریں۔ اس کے بعد اپنی سحری کا اہتمام کریں۔ اور اس سے اگر سحری کرنے کے بعد ٹائم کیونکہ بعد میں نہیں بچتا اس لیے وہ تھوڑا 10 منٹ پہلے اٹھ جائے۔ اور یہ نماز تہجد ادا کریں۔ اس کے لیے سونا جو ہے نا یہ شرط ہے۔ سوئے بغیر نماز تہجد نہیں ہوگی۔ اس لیے کہ سونا اس نماز کے لیے شرط ہے۔ اب یہ شرط ہی نہیں پوری کریں گے تو پھر نماز تہجد ادا نہیں ہو گی۔ ایک مسئلہ تو یہ ہے۔ دوسرے نمبر پر جہاں ہم غلطی کرتے ہیں تو ہماری نماز تہجد نہیں ہو رہی ہوتی۔ وہ کون سی بات ہے؟ ایک تو بات یہ ہے کہ اب لوگ ساری ساری رات جاگ رہے ہوتے ہیں اور وہ کہتے ہیں چلو بھئی ٹھیک ہے اب ہم تہجد بھی پڑھ لیتے ہیں روزہ بھی رکھ لیتے ہیں۔ بس ہماری نماز ہو۔ پھر ان کے وہ تہجد نہیں البتہ نفل ہو جاتے ہیں کہ ان کو ثواب نفلوں کا ملتا ہے جو تہجد کا مقام ہے جو درجہ ہے وہ ان کو نصیب نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالی کے حبیب نے فرمایا حضور کیونکہ یہ نماز کبھی ترک فرماتے ہی نہیں تھے۔ حتی کہ بیماری کی حالت میں بھی اپ بیٹھ کر تہجد ادا کر دیتے ہیں۔ اپ طویل قیام فرماتے قران کی تلاوت کرتے روتے ہوئے اللہ سے دعا مانگتے تھے۔ یہ عمل امت کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ صحابہ کرام کا بھی یہی معمول تھا۔ اپ تہجد کی بہت پابندی کرتے تھے۔ راتوں کو اٹھ کر لمبے قیام قران پڑھتے اللہ سے گریہ زاری کرتے۔
[9:42]ان کی کامیابی اور عظمت کا بڑا سبب تہجد کی پابندی بھی تھی۔ اس لیے نماز تہجد دنیاوی فائدے بھی دیتی ہے۔ اس سے روحانی فائدے ہی نہیں بلکہ دنیاوی زندگی میں بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔ اس سے ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے۔ پریشانیاں ختم ہوتی ہیں۔ انسان کے معاملات اسانی کے ساتھ جو حل ہو جاتے ہیں۔ جو شخص تہجد کا عادی ہو جاتا ہے وہ زندگی میں ہر میدان میں کامیاب ہوتا ہے۔ وہ کبھی ناکام ہوتا ہی نہیں ہے۔ تہجد پڑھنے والوں کے مختلف ایمان فروز واقعات ہمارے سامنے موجود ہیں کہ جو لوگ تہجد پڑھتے تھے کیسے اللہ ان کی مدد فرماتا ہے۔ اس لیے اگر اپ نے دو رکعت نماز تہجد کی نیت کر لی تو اب میں اگے اپ کو اس کے بارے میں سمجھاتا ہوں کہ اپ نے پہلی رکعت کیسے پڑھنی ہے دوسری رکعت کیسے پڑھنی ہے اور اپ نے کم سے کم کتنی رکھنی پڑھنی ہے۔ تو اس کی ترتیب ذرا سمجھ لیں۔ اس کا وقت میں اپ کو عرض کرتا چلوں کہ اس کا وقت عیشہ کی نماز کے بعد یعنی جب عیشہ کی نماز اپ ادا کر لیتے ہیں اس کے بعد اپ چاہے ایک گھنٹہ ادھا گھنٹہ 20 منٹ بھی سو کے اٹھ پڑے ہیں نا تو اپ تہجد پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن جو اس کا افضل ترین وقت ہے وہ میں نے اپ کو عرض کر دی ہے کہ وہ افضل وقت کون سا ہے۔ اس لیے اس کی افضل رکعتیں بھی بتاؤں گا۔ کہ کتنی پڑھنی اپ کے لیے بہتر ہے اور کتنی صوفیہ اللہ والے بزرگ پڑھتے تھے۔ پھر اللہ کا قرب ملتا تھا۔ اس لیے اپ نے پڑھنی ہے تو پھر اچھے طریقے کے ساتھ پڑھیں تاکہ اپ کو یہ تمام دیکھیے حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ جن کو فاروق اعظم بھی کہا جاتا ہے۔ راتوں کے گشت کے دوران نا لوگوں کے حالات بھی دیکھتے اور تہجد کا اہتمام بھی فرماتے۔ ایک مرتبہ اپ نے ایک گھر سے قران کی اواز سنی۔ ایک بوڑھی عورت تہجد میں اللہ سے دعا مانگ رہی تھی۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی یہ سن کر رو پڑے۔ فرمایا کہ یہی لوگ امت کی اصل طاقت ہیں جو راتوں کو اپنے رب سے لو لگاتے ہیں۔ حضرت امام حسن بصری کا واقعہ ہمارے سامنے موجود ہے کہ اپ رحمتہ اللہ تہجد کی بہت پابندی کرتے تھے۔ اپ فرماتے تھے کہ میں نے صالحین کو دیکھا کہ وہ رات کی عبادت کو دنیا کی ہر نعمت پر ترجیح دیتے تھے۔ ایک شخص نے اپ سے پوچھا کہ ہم تہجد کے لیے کیوں نہیں اٹھ پاتے۔ اپ نے فرمایا تمہارے گناہوں نے تمہیں باندھ رکھا ہے۔ یہ واقع ہمیں گناہوں سے بچنے اور تہجد کی اہمیت کا سبق ہے۔ اس لیے جو لوگ کہتے ہیں ہم سے اٹھا نہیں جاتا۔ ہم بڑی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی بارگاہ میں توبہ کریں۔ اب یہ بھی ان کو میں طریقہ بتا رہا ہوں۔ کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر نہ تین دن مسلسل 313 مرتبہ وہ یہ کلمات پڑھیں۔ استغفراللہ استغفراللہ استغفراللہ۔ اللہ پاک کیونکہ ماہ رمضان کا مہینہ ہے نا اگر عام دن ہوتے تو میں اپ کو کہتا کہ اس کو 40 دن پڑھیں یا اس کو اپ 21 دن پڑھیں لیکن اب کیونکہ ماہ رمضان کی تو برکتیں ہیں نا اس کی بھی شان ہے نا اس کی بھی عظمت ہے۔ تو اس حساب سے اپ نے بالکل مختصر تعداد میں یہ پڑھ لیا۔ بالکل تین دن اور تین دنوں میں اپ کا مقدر سمرے گا۔ پھر اپ کا تہجد کو دل بھی کرے گا۔ اپ کی پابندی بھی ہو جائے گی۔ اس لیے میں اپ کو وہی چیزیں عرض کر رہا ہوں جس کی تاثیر ہم نے دیکھی ہے۔ جس کے ذریعے رب کی رحمتیں اتی ہوئی ہم نے دیکھی ہیں۔ اس لیے دوستوں ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں شدید پریشانی میں مبتلا تھا۔ کسی نے مجھے تہجد کی پابندی کا مشورہ دیا۔ کہتے ہیں کہ میں نے مسلسل 40 دن تہجد ادا کی۔ اللہ سے دعا مانگتا رہا۔ اللہ نے میری مشکل اسان فرما دی۔ اس واقعے سے میں پتہ وہ تو جناب عام دنوں کے 40 دن تھے۔ اب اپ صرف تین دن میں اپنی ہر حاجت پوری کروا سکتے ہیں۔ اپ اپنی ہر مشکل اسان کروا سکتے ہیں۔ تین دن میرے بتائے ہوئے طریقے کیا ہے میرا اپنا نہیں ہے۔ یہ بزرگوں کا اللہ والوں کا بتایا ہوا طریقہ ہے۔ کہ اپ نماز تہجد اس طرح ادا کریں۔ اور تہجد کے وقت نا ہماری خصوصی دعا بھی ہوتی ہے۔ جو لوگ اس دعا میں اپنا نام شامل کروانا چاہتے ہیں۔ 10 بار درود پاک پڑھیں۔ کمنٹ میں نام لکھیں۔ انشاءاللہ ان کو دعاؤں میں بھی شامل کیا جائے گا۔ دیکھیے نماز تہجد یہ ایک عزم عبادت ہے۔ تو اس لیے جو مسلمانوں کے لیے سعادت کا باعث ہے۔ ہمیں چاہیے ہم اس مبارک عبادت کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کے ساتھ ساتھ اس کو پابندی کے ساتھ پڑھیں۔ تو اللہ تعالی ہمیں توفیق عطا فرمائے ہماری دعائیں قبول فرمائے تو اس لیے تہجد کا وقت عیشہ کی نماز کے بعد شروع ہو جاتا ہے۔ فجر سے پہلے تک یعنی فجر کی اذان سے پہلے تک اس کا وقت رہتا ہے۔ رات کا اخری حصہ تہائی حصہ سب سے افضل ہے۔ میں یہ بات اس لیے بار بار عرض کر رہا ہوں تاکہ اپ کو پتہ چل جائے۔ اب اس کے لیے اپ نے نماز پڑھنے کا طریقہ سننا ہے۔ بڑی توجہ کے ساتھ میں رکعتیں بھی عرض کرتا ہوں۔ اس میں سورت اخلاص کو کتنی بار پڑھنا ہے؟ کیسے پڑھنا ہے؟ یہ بھی بتاتا ہوں۔ اگر اور سورتیں اتی ہیں تو وہ اپ نے کیسے پڑھنی ہے؟ یہ سنتے جائیے گا۔ اب کیونکہ ہم اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اس کے اندر جو اہم اہم سوال ہیں ان پر ہم بات کر رہے ہیں۔ تو اب اپ نے تکبیر تحریبا کہہ کر ہاتھ باندھ لیے۔ یعنی اپ نے جب نیت کی تو اس کے بعد اللہ اکبر کہہ کر اپ نے اپنے ہاتھوں کو باندھ لیا۔ اب اپ نے ثنا پڑھنی ہے یعنی سبحان اللہ و بہ حمدکا تبارک اسمکا وجدکا ولا الہ غیرک اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین ایاک نعبد و ایاک نستعین اهدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیهم غیر المغضوب علیهم ولا الضالین امین یہاں امین بھی کہیں گے۔ اب میں نے دیکھیے یہاں اگے سورت ملانے سے پہلے تک مکمل اپ کے سامنے پڑھ کر اپ کو سنا دی ہے۔ تو یہاں تک امید کرتا ہوں اپ کو ایک ایک بات کی سمجھ ائی۔ یہ دو دو رکعتیں کر کے ادا کرنی ہے۔ بہت سارے لوگ کہتے ہیں ہم چار پڑھ سکتے ہیں نہیں بھائی دو پڑھنے کا یہ اپنا ہی مزہ ہے اور دو پڑھنا ہی سب سے افضل ہے اور دو ہی پڑھنی چاہیے۔ لیکن دو دو کر کے اپ پڑھیں تاکہ اپ کو مکمل اس کا فائدہ حاصل ہو۔ اس لیے کہ تہجد جو ہوتی ہے نا یہ کیونکہ اللہ تعالی کو بہت زیادہ پسند ہے۔ فرض نمازیں تو فرض ہیں۔ لیکن یہ جو تہجد کی نماز ہے یہ اپنے اندر ایک تاثیر اور طاقت رکھتی ہے۔ تہجد میں پڑھے جانے والی اسان سورتوں میں سورت فلق ہے سورت ناس ہے سورت کوثر ہے اور سورت اخلاص ہے۔ یہ چار سورتیں انتہائی اہم ہے۔ اگر کسی کو قران مجید کی اور سورتیں یاد ہیں تو وہ باقی بھی پڑھ سکتا ہے۔ لیکن سورت اخلاص یعنی قل ھو اللہ احد سورت فلق سورت ناس سورت کوثر۔ یہ اتنی مبارک سورت ہے نا یہ چار سورت میں اب ان کا طریقہ بھی بتاتا ہوں کہ یہ تقریبا ہر شخص کو یاد ہوتی ہے۔ ان کو پڑھنا کیسے ہے؟ یہ بات بڑی اہم ہے کیونکہ اس کے ذریعے نا بیماریوں سے شفا مل جائے گی۔ رزق میں برکت اور کثرت دونوں چیزیں نصیب ہو گی۔ گھریلو زندگی میں سکون ا جائے گا۔ گناہوں کی معافی مل جائے گی۔ تو کیونکہ اس میں مانگی گئی دعا رد نہیں نا ہوتی ہر دعا قبول ہو جاتی ہے۔ اس لیے تو اس کا یہ حصہ جو میں اب اپ کو بتانے لگا ہوں یہ اپ کے لیے سننا سمجھنا انتہائی اہم ہے۔ اس لیے اپ نے دوستوں اس بات کو ضائع نہیں کرنا۔ اس لیے کہ یہ موقع ہر ایک کو نہیں ملتا یہ ویڈیو ہر ایک تک نہیں پہنچے گی۔ اس لیے جن کو اپ جانتے ہیں نا ان تک یہ پہنچائیں۔ اس کو شیئر کریں تاکہ بہت سارے لوگوں کو فائدہ ہو سکے۔ لوگ غلطی نہ پڑھتے رہیں۔ لوگ صحیح ادا کریں۔ اور اللہ تعالی کی بارگاہ سے اپنے لیے جو ہے وہ انعامات حاصل کریں۔ دیکھیے سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالی یعنی حضرت علی المرتضی کا یہ معمول تھا کہ جنگوں اور عدالتی معاملات کے باوجود تہجد کی پابندی کرتے تھے۔ روایت میں اتا ہے کہ اپ رات کے وقت سجدے میں دیر تک روتے رہتے اور فرماتے اے دنیا مجھے دھوکہ نہ دے میں تجھے تین طلاقیں دے چکا ہوں۔ یہ الفاظ دنیا سے بے رغبتی اور اخرت کی تیاری کا بہترین نمونہ۔ ایک تاجر کا سبق ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک نیک تاجر شدید قرضے میں ڈوب گیا تھا۔ وہ لوگ جو قرضے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کسی بزرگ نے اسے مشورہ دیا کہ 40 دن باقاعدگی سے تہجد ادا کرے۔ اس نے اخلاص سے عمل کیا۔ تہجد میں روتے ہوئے دعائیں مانگتا رہا۔ کچھ ہی عرصہ بھی گزرا تھا کہ کاروبار بھی سنبھل گیا۔ قرضے بھی اتر گئے۔ اب وہ لوگوں کو سرمایہ تقسیم کرتا ہے لوگوں میں رزق اپنا تقسیم کرتا ہے۔ پر اس کا رزق دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ کم نہیں ہو رہا ختم نہیں ہو رہا۔ یہ اس کی برکتیں ہیں۔ وہ کہتا تھا کہ میری زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ تہجد ہے۔ اس لیے اپ بھی اگر اس کو تہجد کو اپنا سرمایہ صرف یہ رمضان کا مہینہ بنا کے دیکھیں۔ یہ اپ کی زندگی بدل کے رکھ دے گی۔ اب اپ نے جب یہاں تک امین تک پڑھا ہے نا تو اگے اپ کوشش کرنی ہے۔ اگر یہ سورتیں اپ کو یاد ہیں تو اپ پہلے پڑھیں گے ان اطین الکوثر پھر اپ پڑھیں گے سورۃ الاخلاص۔ پھر پڑھیں گے سورۃ فلق پھر پڑھیں گے سورۃ ناس۔ تو اگر یہ چار سورتیں اپ کو یاد ہیں تو اپ ہر رکعت میں یہ چار سورتیں پڑھتے جائیں۔ اگر یہ چار سورتیں یاد نہیں ہیں تو پھر اپ سورت اخلاص تو سب کو یاد ہے نا اس کو اپ ہر رکعت میں تین بار پڑھیں۔ ٹھیک ہے اس کو تین بار ماہ رمضان میں پڑھیں گے تو 70 قران پڑھنے کے برابر ثواب ہے۔ بعض نے کہا 10 سے لے کر 700 گنا تک اس کو ثواب ملے گا۔ کیونکہ عام دنوں میں جب ہم اس کو تین بار پڑھتے ہیں تو ایک قران پڑھنے کا ثواب ہے۔ جب ماہ رمضان میں اس کو پڑھتے ہیں تو جو تعداد میں نے عرض کی اس کے برابر ثواب ہے۔ تو اب اندازہ کیجئے گا جس بندے کے نام اعمال میں اتنا ثواب لکھا جائے وہ کس قدر خوش نصیب نہیں ہو گا؟ وہ کس قدر مقدر والا نہیں ہو گا؟ اسی طرح اپ چاہیں ہر رکعت کے اندر تین تین مرتبہ سورہ اخلاص کو پڑھ لیں۔ تو یہ ٹھیک ہے۔
[19:54]اگر اپ کو جو ترتیب باقی بتائے یہاں ایک بات بڑی اہم ہوتی ہے۔ یہ ہوتا ہے کہ تہجد میں جب ہمیں کوئی سورت یاد ہوتی ہے نا تو قران مجید کی ترتیب کو دیکھنا ہوتا ہے۔ جو پہلے سورت ہو اس کو پہلے پڑھنا ہے جو بعد میں ہو اس کو بعد میں پڑھنا ہے۔ یہ بات بڑی اہم ہے۔ اکثر لوگ غلط کر جاتے ہیں۔ وہ پہلے سورت ناس کو پڑھتے ہیں پھر سورت کلولہ سورت اخلاص پڑھ دیتے ہیں۔ تو یہ غلط کر دیتے ہیں۔ یہاں بھی پھر ان کی نماز نہیں ہوتی۔ تو جو ترتیب پہلے اگر سورت اخلاص اپ کو یاد ہے نا تو اپ اس کو پہلے پڑھیں۔ سورت ناس یاد ہے اس کو اپ دوسری رکعت میں پڑھ لیں۔ یا ایک رکعت میں دونوں سورتیں پڑھنا چاہتے ہیں تو پہلے سورت فلق پڑھیں پھر سورت ناس پڑھ لیں۔ یعنی ترتیب کا خاص خیال رکھنا ہے۔ جو قران مجید کی پہلے سورت اتی ہے اس کو پہلے پڑھنا ہے۔ جو بعد میں اتی ہے اس کو بعد میں ہی پڑھنا ہے۔ اس ترتیب کے ساتھ پڑھیں گے تو الحمدللہ اپ کی نماز تہجد بھی قبول ہو گی۔ اور اپ کو اس کی چاشنی اور روشنی بھی ملے گی۔ اب بات کرتے ہیں کتنی رکعتیں پڑھنی ہے۔ یہ بات تو کلیئر ہو گئی نا کہ اپ نے کون سی سورتیں کیسے پڑھنی ہیں۔
[21:03]تو یہاں اپ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں اس لیے میں نے اپ کو یہ اس لیے دوستوں ویڈیو کو اگے پہنچائیں۔ دوست یہ صدقہ جاریہ ہے۔ جتنے لوگوں تک اپ پہنچائیں گے الحمدللہ ان کا بھی فائدہ ہو گا اپ کو بھی ثواب ملے گا۔ کسی ایک نے بھی عمل کر لیا۔ اپنی نماز صحیح ادا کر لیں۔ تو اپ کو بھی ثواب ملتا رہے گا۔ اور دعاؤں میں بھی ضرور اپنا نام شامل کروایا کریں۔ جیسے میں نے کہا ہے 10 بار درود پاک پڑھیں کمنٹ میں نام لکھ دیں۔ انشاءاللہ کیونکہ دیکھیے ایک ماں کی قبولیت کی دعا۔ ایک ماں کا بیٹا بری صحبت میں پڑ گیا تھا۔ اج ماں یہ شکایت کرتی ہے۔ وہ ہر رات تہجد میں اللہ سے اس کی ہدایت کی دعا کرتی تھی۔ تو اس کے بیٹے کے دل میں تبدیلی ا گئی۔ وہ نمازی بن گیا۔ ماں کہتی تھی رات کے سجدوں نے میرا گھر بچا لیا ہے۔ اور اپ پھر کہیں گے کہ واقعی ہی نماز تہجد نے ہماری زندگی بدل دی ہے۔ تو اس سے دل نرم ہو جاتے ہیں۔ گناہوں سے نفرت ہو جاتی ہے۔ دعاؤں میں اثر ا جاتا ہے۔ چہرے پر نور اتا ہے۔ معاملات اچھے ہو جاتے ہیں۔ اس لیے دوستوں یہ بات جو ہے اس کو ایسے ضائع نہ۔ اب میں بات کرتا ہوں کہ اپ نے کتنی رکعتیں پڑھنی ہے۔ اس کی دو رکعتیں سے لے کر اپ اٹھ رکعت نماز پڑھیں۔ یعنی کہ دو سے لے کر اٹھ رکعت تک۔ تو اگر اپ اٹھ پڑھیں گے تو یہ سب سے زیادہ بہتر اور افضل ہے۔ اس کی تاثیر اور برکتیں اپ کو جلدی نمایاں طور پہ نظر ائیں گی۔ اپ کے چہرے پہ جھلکتی ہوئی اپ کو اپ کے چہرے پہ نور ائے گا۔ اپ کی دعاؤں میں قبولیت اور اپ کی ہر حاجت پوری ہونے لگ جائے گی۔ اپ اپنے لیے دعا کریں گے یا کسی کے لیے دعا کریں گے۔ اپ کی ہر دعا کو۔ اب اخری اہم مسئلہ جو اپ کو بتانے لگا ہوں۔ اب یہاں ساری باتیں اپ نے سن لی لیکن اگر ایک یہ کام نہیں کیا تو سمجھ لیں اپ نے تہجد کی پوری عبادت میں بہت بڑی نیکی کو ضائع کر دیا۔ اب کیونکہ تہجد کی نماز پڑھنے کے بعد اپ نے کون سی تسبیحات پڑھیں تو اپ کی اللہ تعالی اپ پر کرم فرما دے۔ اپ کو رحمتیں اور اپ کو فضل کی بارش مل جائے اور اپ کا گھر مال و دولت سے اپ کو ہمیشہ کی محتاجیوں سے بچ جائے اللہ کا کرم اپ کو ملے۔ دیکھیں حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں مشہور ہیں کہ 40 سال تک عیشہ کے وضو سے فجر کی نماز ادا کرتے۔ رات بھر قیام کرتے قران کی تلاوت فرماتے گریہ کرتے لوگ کہتے اپ کے چہرے پر تہجد کا نور نمایاں تھا۔ امام شافعی کو دیکھ لیں۔ ایک حصہ علم کے لیے، ایک حصہ عبادت کے لیے، ایک حصہ احرام کے لیے، تہجد میں اتنا روتے کہ داڑھی انسوؤں سے تر ہو جاتی۔ شدید ازمائشوں اور قید کے باوجود تہجد نہیں چھوڑتے تھے۔ امام احمد بن حنبل کتنے بڑے بزرگ ہیں فرماتے کہ رات کی عبادت مومن کی طاقت ہوتی ہے۔ تو اسی لیے اگر اپ طاقت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو صوفیہ اللہ والوں کی یہ باتیں سن لیں۔ اپ کی اواز میں حضرت عبداللہ ابن مسعود اپ کی اواز میں قران کی تلاوت بہت دلنشین تھی۔ رات کو تہجد میں قران پڑھتے تو لوگ خاموشی سے سننے لگتے اور رونے لگتے۔ حضرت رابعہ بصری کو دیکھ لیں۔ رات بھر عبادت کرتی فرماتی ہیں اللہ میں تیری عبادت نہ جنت کے لالچ میں کرتی ہوں نہ جہنم کے خوف سے بلکہ صرف تیری محبت میں کرتی ہوں۔ اللہ کی محبت کے لیے اللہ کی رضا کے لیے کریں۔ ایک شخص نے قید پڑھا اس نے تہجد پڑھ کر دعا کی۔ اللہ بارش دے اللہ نے بارش عطا کر دی۔ حضرت عثمان بن عفان کو دیکھ لیں۔ ایک رکعت میں پورا قران پڑھ لیتے تھے۔ رات کو لمبے قیام کرتے خاموشی سے اللہ سے راز و نیاز کی باتیں کرتے تھے۔ ایک بیمار شخص نے جب تہجد شروع کی اللہ نے صحت عطا کر دی۔ تو ایک غریب مزدور نے جب پڑھا تو اللہ تعالی نے رحمتیں رحمتیں کر دی۔ تو اس لیے دوستوں اب اپ نے اس ترتیب کے ساتھ اخر میں اپ نے سو تسبیح درود پاک کی سو مرتبہ استغفراللہ اور اپ نے سو مرتبہ سورۃ اخلاص کو اپنا نا۔



