Thumbnail for Muhammad ﷺ aur hazrat Khadija Ki Pehli Mulaqat Ka Waqiya | Seerat Un Nabi | Daniyal voice by Daniyal Voice

Muhammad ﷺ aur hazrat Khadija Ki Pehli Mulaqat Ka Waqiya | Seerat Un Nabi | Daniyal voice

Daniyal Voice

29m 33s5,730 words~29 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]ناظرین عرب معاشرے میں قبل از اسلام عورت کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ نکاح کے لیے خود رشتہ بھیج سکتی تھی خاص طور پر اگر وہ خود مختار مالدار یا عمر میں بڑی ہوتی۔ ایک عورت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ائیں اور دریافت کیا کہ کیا اپ شادی کے بارے میں سوچتے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے پاس اتنے وسائل نہیں کہ میں شادی کر سکوں۔ وہ عورت کہنے لگی کہ اگر کوئی مالدار اور شریف عورت اپ سے نکاح کی خواہش رکھے تو تب اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ راضی ہے تو مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں۔ ناظرین گرامی اج کی ویڈیو میں ہم اپ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدہ خدیجہ کی پہلی ملاقات اور شادی کا مکمل واقعہ سنائیں گے لہذا اپ سے گزارش ہے کہ ویڈیو کو اخر تک لازمی دیکھیے گا۔ ناظرین عرب میں یہ دستور تھا کہ جب بھی کوئی قافلہ کامیاب ہو کر واپس لوٹتا تو لوگ شہر سے باہر جشن مناتے قافلے والوں کا استقبال کرتے اور انہیں مبارکباد دیتے۔ قریش کا بھی ایک تجارتی قافلہ کامیابی سے واپس ایا تھا۔ تجارت میں کافی منافع ہوا تھا اسی لیے سب لوگ خوش تھے۔ یہ قافلہ مکہ سے باہر ایک مقام جفہ پر رک گیا کیونکہ وہاں سے اگے کوئی بڑی ابادی نہ تھی اور وہ مکہ سے قریب بھی تھا۔ ہر تاجر نے اپنے غلام کو مکہ بھیجا تاکہ وہ جا کر لوگوں کو خبر دے کہ قافلہ ا رہا ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کا غلام میسرہ بھی یہی کام کرنے والا تھا۔

[1:35]لیکن اس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ درخواست کی کہ یہ تجارت اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ میری مالکن کو خود اپ سے یہ خوشخبری سن کر زیادہ خوشی ہوگی اگر اپ خود جا کر اطلاع دیں تو بہتر ہوگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ٹھیک ہے میں خود چلتا ہوں۔ قافلے کے علاوہ باقی غلام اپنے اپنے راستے روانہ ہو گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چھوٹے سے ٹیلے کے پاس جا کر کچھ دیر کے لیے ٹھہرے۔ میسرہ نے سمجھا کہ شاید اپ ارام فرما رہے ہیں اسی لیے خاموش رہا۔ دوسری طرف مکہ میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا اپنے گھر کی چھت پر اپنی سہیلیوں کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ ریشمی کپڑے کا ایک پردہ تان کر ارام فرما رہی تھیں کہ اچانک انہوں نے اسمان کی طرف دیکھا تو یوں محسوس ہوا جیسے اسمان سے کوئی نور اتر رہا ہو۔ پہلے خیال ایا کہ شاید سورج کی روشنی ہے۔ لیکن حرارت محسوس نہ ہوئی تو حیران ہوئیں۔ غور کیا تو دیکھا کہ پہاڑ کی طرف سے ایک روشن سا قبا یعنی گنبد ظاہر ہو رہا ہے جو سونے یعنی چاندی کا لگ رہا ہے۔ اور اس میں سے قیمتی موتیوں کی لڑیاں چھل رہی ہیں۔ وہ روشنی ایک اونٹ پر سوار مرکوز تھی جو اس مکمل روشنی کے اندر نظر ا رہا تھا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنی سہیلیوں سے پوچھا کہ کیا تم بھی وہی دیکھ رہی ہو جو میں دیکھ رہی ہوں؟ سب نے کہا کہ ہاں ہم بھی یہی دیکھ رہے ہیں۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے غور سے دیکھا تو فرمایا کہ یہ تو میرا اونٹ لگتا ہے اور سوار یہ تو ابو طالب کے بھتیجے لگ رہے ہیں۔ سب حیرت میں تھیں کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ اونٹ تو تجارتی قافلے کے ساتھ شام گیا ہوا تھا۔ کچھ لمحے گزرے تو وہ روشن قبا اہستہ اہستہ غائب ہو گیا اور روشنی بھی کم ہو گئی۔ اب وہ سوار مکہ کی گلیوں میں داخل ہو چکا تھا اور نظروں سے بھی اوجھل ہو چکا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر کا دروازہ بجا۔ میسرہ کا ایک غلام خبر دینے ایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں وہی جو شام کے سفر پر گئے تھے۔ یہ سنتے ہی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا بی اختیار دوڑتی ہوئی دروازے پر ائیں۔ ناظرین یہ پہلا موقع تھا کہ وہ خود اس قدر بے تاب ہو کر دروازے پر گئیں۔

[3:57]اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اندر لے کر ائیں اور فورا پوچھا کہ اپ کب مکہ میں داخل ہوئے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں ابھی ابھی ایا ہوں۔ مسجد تک بھی نہیں گیا۔ صرف اپ کو یہ اطلاع دینے ایا ہوں کہ اپ کا قافلہ باحفاظت واپس ا گیا ہے۔ سامان فروخت ہو چکا ہے اور میسرہ بھی ا رہا ہے۔ اس کے بعد کچھ تجارتی بات چیت ہوئی اور ایک دن حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ قافلہ کہاں ہے؟ اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا کہ جفہ پر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا حیران ہوئیں۔ اپ تو کہہ رہے تھے کہ صبح قافلے سے روانہ ہوئے اور اب یہاں پہنچ گئے ہیں جبکہ جفہ سے مکہ تک کا سفر دو دن میں طے ہوتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کہا وہی سچ ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے مزید سوال نہ کیا۔ لیکن دل میں حیرت ضرور تھی۔ انہوں نے فورا ناشتہ اور روٹی تیار کی اور زمزم کا ایک مشکیزہ بھی منگوایا تاکہ اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کریں۔ پھر جب اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روانہ ہوئے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے نرمی سے کہا اگر اپ کو برا نہ لگے تو میں ایک تجویز دینا چاہتی ہوں۔ اپ واپس قافلے میں جائیں اور قافلے کے ساتھ مکہ میں داخل ہوں۔ علماء بتاتے ہیں کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کا مقصد صرف اتنا تھا کہ وہ اس نورانی منزل کی حقیقت جان سکیں جو انہوں نے صبح اپنی چھت سے دیکھا تھا۔ وہ یہ سمجھنا چاہتی تھیں کہ وہ نور واقعی ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تھا یا کسی اور وجہ سے انہیں نظر ایا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ درخواست قبول فرمائی اور واپس قافلے کی طرف روانہ ہو گئے۔ جیسے ہی اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قافلے میں پہنچے تو میسرہ گھبرا کر اگے بڑھا اور کہا اپ کو بہت دیر ہو گئی۔ سب غلام روانہ ہو چکے ہیں اور اپ اکیلے اطلاع کیسے دیں گے۔ اب جلدی کریں تاکہ ہماری مالکن کو بھی وقت پر خوشخبری مل جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسکرا کر جواب دیا کہ میں تو جا کر حضرت خدیجہ کو اطلاع دے ایا ہوں اور واپس بھی ا گیا ہوں۔ میسرہ حیران رہ گیا۔ لیکن میں نے تو اپ کو اس ٹیلے کے پاس ارام کرتے دیکھا تھا میں نے سوچا اپ سو رہے ہوں گے اسی لیے جگانا مناسب نہ سمجھا۔ بہرحال جب قافلہ مکہ کی طرف روانہ ہوا تو ہر طرف خوشی کی فضا تھی۔ مکہ کے قریب پہنچتے ہی شہر کے گھروں کی جھلک نظر ائی۔ لوگ حیران تھے کہ اس بار کا تجارتی سفر پہلے کی نسبت کتنا کامیاب رہا ہے۔ میسرہ نے قافلے کے ساتھیوں سے کہا کہ میں کئی بار اپ سب کے ساتھ سفر پر گیا ہوں۔ لیکن کبھی اتنا نفع نہیں ہوا۔ اس میں یقینا اس نوجوان کی برکت ہے اور ہمیں چاہیے کہ ہم سب اپنے مال سے کچھ حصہ نکال کر اسے تحفے میں دیں۔ قافلے کے کسی بھی شخص نے اعتراض نہ کیا۔ البتہ میسرہ نے ایک اہم بات کہی کہ یاد رکھیے کہ یہ تحفہ ہونا چاہیے صدقہ نہیں کیونکہ میں نے خود دیکھا ہے کہ وہ نوجوان تحفہ تو لیتا ہے لیکن صدقہ کبھی قبول نہیں کرتا۔ دوسری طرف حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کا دل بے چین تھا۔ انہوں نے ایک بار پھر وہی نور دیکھا جو پہلے بھی نظر ایا تھا اور اب دل کو یقین ہو چکا تھا کہ یہی وہ پاک ہستی ہیں جن کی مدتوں سے میں منتظر تھی۔ اس وقت میسرہ خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس پہنچا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے پوچھا کہ میسرہ میں نے تمہیں ایک خاص کام پر بھیجا تھا۔ تمہیں اس نوجوان کے ساتھ رہنا تھا اور واپس ا کر مجھے بتانا تھا کہ تم نے اسے کیسا پایا۔ میسرہ نے ادب سے سارا سفر نامہ سنایا۔ اس نے بتایا کہ کیسے ایک جگہ سیلاب ایا۔ ایک مقام پر اژدھا راستہ روکنے ایا۔ پھر ایک خشک کنویں سے پانی جاری ہوا۔ درختوں کا سب ہو جانا۔ پتھروں اور درختوں کا سلام کرنا سب کچھ انکھوں نے دیکھا۔ میسرہ نے یہ بھی بتایا کہ راستے میں ایک عیسائی راہب نے اسے الگ سے بلایا اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے لیے ایک خاص پیغام دیا۔ پھر اخر میں میسرہ نے ایک بات پر زور دیا کہ بی بی ایک معجزہ تو ایسا ہے جو میں نے بتانے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ اپ خود اپنی انکھوں سے وہ دیکھ سکتی ہیں۔ وہ نوجوان جب بھی کھانے میں شریک ہوا کھانا اتنا بڑا کہ کبھی کم نہ ہوا۔ وہ کھانا سب کے لیے کافی ہو گیا بلکہ اخر میں بھی ویسا ہی رہتا جیسا شروع میں ہوتا تھا۔ یہ بات حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے دل کو چھو گئی۔ انہوں نے فورا حکم دیا کہ جاؤ انہیں جا کر بلا کے لاؤ اور کہنا کہ کچھ دیر ہمارے دسترخوان پر تشریف رکھیے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تشریف لائے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنے گھر کے تمام افراد قریبی رشتہ دار خدام اور غلام سب کو جمع کر لیا۔ دسترخوان بچھا گیا۔ ایک چھوٹے پیالے میں کھجوریں رکھی گئیں۔ سب بیٹھ گئے اور دل تھام کر دیکھنے لگے کہ اج بھی وہی برکت کا منظر نظر اتا ہے یا نہیں۔ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خدیجہ کے گھر تشریف لائے اور دسترخوان پر بیٹھے تو حضرت خدیجہ نے سب اہل خانہ غلام اور رشتہ داروں کو اکٹھا کر لیا۔ ایک چھوٹا سا پیالہ تھا جس میں کچھ کھجوریں رکھی گئی تھیں۔ برکت کا یہ عالم تھا کہ پہلے کھجوریں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے اٹھائیں۔ سب نے شکم سیر ہو کر کھانا کھایا مگر جب سب اٹھے تو حیرت سے دیکھا کہ کھجوریں اتنی ہی تھیں جتنی شروع میں گویا کھجوریں ختم ہی نہ ہوئیں۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ادب و محبت سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شکریہ ادا کیا۔ اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس اپنے گھر روانہ ہوئے۔ ادھر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا خوشی سے سرشار تھیں۔ انہوں نے میسرہ کو بلایا اور کہا کہ میسرہ تم نے مجھے خوشخبری سنائی ہے جس کا میری زندگی میں کوئی بدل نہیں۔ اج میں تمہیں ازاد کرتی ہوں۔ پھر فرمایا کہ تمہاری بیوی جو میری قریض ہے میں اسے بھی ازاد کرتی ہوں۔ تمہارے بچے جو میرے غلام ہیں وہ بھی ازاد ہیں اور یہ زمین کا ایک ٹکڑا دو اونٹ سونا چاندی یہ سب تمہارے ہیں۔ میسرہ خوشی اور جذبات سے روتے ہوئے بولا کہ یہ سب میرے اقا کی برکت ہے۔ انہی کے وسیلے سے مجھے یہ ازادی ملی ہے۔ اب حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کا دل مطمئن ہو چکا تھا۔ ناظرین اس سے پہلے بھی تین اہم واقعات ان کے دل میں گواہی بن چکے تھے۔ واقعہ نمبر ایک یہ تھا کہ ایک دن حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا اپنے سہیلیوں کے ساتھ خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھی تھیں کہ اتنے میں ایک یہودی عالم وہاں سے گزرا۔ اس نے کہا تم میں ایک عورت ایسی ہے جو انے والے نبی کی زوجہ بنے گی۔ وہ نبی شہر مکہ میں ظاہر ہوگا اور جو عورتیں اس پر ایمان لائیں گی وہ دنیا و اخرت کی ملکہ ہوگی۔ سب عورتوں نے اس عالم کو پتھر مارے مگر حضرت خدیجہ کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کیونکہ وہ پہلے ہی دین ابراہیمی کی طرف مائل تھیں اور ان کے چچا ورقہ بن نوفل جو تورات اور زبور کے بڑے عالم تھے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا ان سے علم بھی سیکھا کرتی تھیں۔ دوسرا واقعہ کچھ یوں ہوا کہ ایک دن حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ایک یہودی عالم کو اپنے گھر دعوت پر بلایا۔ جب وہ ایا تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا بالغ خانے پر تھیں۔ اچانک اس عالم نے نیچے گلی سے گزرتے نوجوان کو دیکھا اور کہا کہ کیا اس نوجوان کو تم بلا سکتی ہو؟ حضرت خدیجہ نے پہچان لیا اور کہا کہ یہ تو ابو طالب کا بھتیجا ہے۔ غلام کو بھیجا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے ائے۔ حضرت خدیجہ پردے میں تھیں۔ یہودی عالم سامنے بیٹھا تھا اور اس نے ادب سے اجازت مانگی کہ کیا میں اپ کے کندھے سے کپڑا ذرا ہٹا کر کچھ دیر دیکھ سکتا ہوں؟ اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دے دی۔ اس نے کندھے سے کپڑا ہٹایا اور مہر نبوت دیکھی۔ وہ خاموشی سے رو پڑا۔ اس نے مہر کو چوما اور پھر اجازت لے کر واپس چلا گیا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے پوچھا یہ تم نے کیا کیا ہے؟ اگر اس کے چچا ابو طالب ہوتے تو شاید تمہیں ہاتھ بھی نہ لگانے دیتے۔ یہودی عالم نے کہا کہ خدیجہ تم جانتی نہیں یہ وہی اخری نبی ہیں جس کا ہم صدیوں سے انتظار کر رہے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انے کے بعد برکت کی یہ کیفیت تھی کہ پہلی کھجور جو اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اٹھائیں وہ دسترخوان پر موجود کھانے کی ایسی برکت کا ذریعہ بنی کہ حضرت خدیجہ کے حکم پر سب لوگ خوب سیر ہو کر کھانے کے باوجود بھی جب دسترخوان سے اٹھے تو ابھی بھی ان کے پیٹ میں کھانے کی گنجائش باقی نہ تھی۔ حضرت خدیجہ طاہرہ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل سے شکریہ ادا کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب واپس اپنے گھر کی جانب روانہ ہوئے تو حضرت خدیجہ نے اپنے غلام میسرہ سے اتنی خوشی کا اظہار کیا کہ فرمایا کہ اے میسرہ جا میں تجھے ازاد کرتی ہوں۔ بہرحال میسرہ خوشی خوشی روانہ ہو گیا اور کہتا جاتا تھا کہ اج مجھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سبب ازادی ملی ہے۔ اب حضرت خدیجہ کے دل کو اطمینان کامل مل چکا تھا۔ کیونکہ اس سے پہلے وہ تینوں واقعات علماء ہو چکے تھے۔ پہلا اس یہودی عالم والا واقعہ دوسرا مہر نبوت والا واقعہ اور تیسرا واقعہ تھا ورقہ بن نوفل کا۔ ورقہ بن نوفل نے ایک تعویذ لکھ کر حضرت خدیجہ کو دیا۔ انہوں نے وہ تعویذ اپنے تکیے کے نیچے رکھ دیا اور خواب میں بشارت دی گئی کہ وہ نبی اخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی بنے گی۔ اب ان تین نشانیوں کے بعد پھر میسرہ کی زبانی راہب کی پیشگوئی اور سفر کے دوران نور نبوت کے چمکنے کی خبر نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کو یقین کی اخری منزل پر پہنچا دیا کہ یہی میرے مقدر کے گوہر ہیں۔ مگر اب ایک سوال حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دل میں تھا کہ اتنی عظیم ہستی سے نکاح کی خواہش کا اظہار کیسے کیا جائے۔ اگر میں نے تاخیر کی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی اور سے نکاح ہو جائے۔ بالاخر انہوں نے اپنی سہیلی نفیسہ کو بلایا اور کہا کہ تم جا کر معلوم کرو کہ کیا ابو طالب کے بھتیجے محمد کے دل میں میرے لیے کوئی خیال ہے؟ یعنی اگر میں رشتہ پیش کروں تو انکار تو نہ کریں گے۔ نفیسہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئیں اور اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا استقبال کیا تو نفیسہ نے عرض کی کہ اپ کی عمر اب نکاح کے قابل ہے۔ کیا اپ نے کوئی نکاح کا ارادہ کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے خیالات اپ کے سامنے ہیں۔ ہاں میرے چچا کہتے ہیں کہ اب تجارت سے کچھ مال ا گیا ہے تو نکاح کا انتظام ممکن ہے۔ نفیسہ نے کہا کہ اگر میں ایک ایسا رشتہ پیش کروں جو حسن و مال اور شرافت میں مکہ میں اپنی مثال اپ ہو تو کیا اپ قبول کریں گے؟ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسکرا کر جواب دیا کہ ہاں نفیسہ نے کہا کہ خدیجہ خود اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو کرنا چاہتی ہیں۔ اگلے دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر تشریف لے گئے۔ اپ نے انہیں احترام سے بٹھایا اور کہا کہ اپ نے تجارت میں خوب نفع کمایا۔ میں اپ کی شکر گزار ہوں اور اپ کا جو حصہ ہے اس پہ اپ کا ارادہ کیا ہے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے چچا کہتے ہیں کہ کچھ اونٹ خریدوں خود تجارت کروں اور باقی مال سے نکاح کا انتظام کیا جائے۔ حضرت خدیجہ بولیں کہ اگر نکاح کے لیے اپ کو ایک ایسا رشتہ پیش کیا جائے جو ہر پہلو سے اپ کے لیے شان شایان ہو تو کیا اپ قبول کریں گے؟ اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرا ارادہ یہی تھا کہ کسی ایسے خاندان میں نکاح کروں جو میرے برابر ہو مگر مجھ سے بلند نہ ہو۔ حضرت خدیجہ نے کہا پھر تو یہ رشتہ اپ کے لیے سب سے مناسب ہے۔ میری ساری دولت جائیداد سب اپ کے نام حبہ ہے میں اپ کی ایک کنیز ہوں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا کہ مجھے اپنے چچا ابو طالب سے بات کرنی ہوگی۔ صبح کا وقت تھا تو بنو ہاشم کے جوان حضرت ابو طالب کے گھر جمع تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچا کے سامنے حاضر ہوئے حضرت ابو طالب نے اپنے بھتیجے کو دیکھ کر کہا کہ اے میرے عزیز اج تمہاری انکھوں میں کچھ خاص بات ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ تم کچھ کہنا چاہتے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہایت ادب سے عرض کیا کہ چچا جان جیسا کہ اپ سے میں پہلے بھی یہ ارادہ ظاہر کر چکا ہوں کہ میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔ ابو طالب نے کہا کہ یقینا ہم بھی یہی چاہتے ہیں مگر میرے بھتیجے تمہارے مقام کے لائق کوئی رشتہ تو ہونا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ چچا جان خوائلت کی بیٹی خدیجہ میرے نکاح کے لیے امادہ ہیں۔ ابو طالب ابھی کچھ سوچ ہی رہے تھے کہ مجلس میں موجود ان کے بھائی ابو لہب بول اٹھا اس کے الفاظ زہر الود تھے۔ کیا اے محمد کیا تم یہ کہہ رہے ہو کہ تم جانتے نہیں کہ خدیجہ کا مقام کیا ہے؟ فلاں بادشاہ فلاں سردار سب کے پیغام وہ رد کر چکی ہے اور تم تمہارے پاس کچھ بھی نہیں۔ تمہارا پیغام کیسے لے کر جائیں؟ سارے قریشی ہماری رسوائی کریں گے۔ ابو لہب کی یہ گستاخانہ باتیں سن کر پیغمبر کے دوسرے چچا حضرت عباس غصے سے اٹھے اور گرج کر بولے کہ اپنی زبان سنبھال لو ابو لہب۔ کیا کمی ہے ہمارے بھتیجے میں؟ جان لو کہ بنو ہاشم کا سب کچھ محمد کے لیے ہے یہ ہمارا فخر ہے اور ہمارا سردار ہے۔ مجلس پر سکوت چھا گیا۔ حضرت ابو طالب نے نرمی سے کہا کہ بھائیو رشتہ ایسے نہیں بھیجا جاتا۔ اگر انکار ہو گیا تو ہماری توہین سمجھی جائے گی۔ بہتر ہے پہلے خدیجہ کی مرضی معلوم کی جائے۔ اب سوال یہ تھا کہ خدیجہ کی رائے کیسی لی جائے۔ مگر اس کا بھی حل نکل ایا۔ حضرت صفیہ جو حضرت ابو طالب کی بہن اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی تھیں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے خاندان سے بھی تعلق رکھتی تھیں۔ خدیجہ کی بھاوج ہونے کے ناطے وہ ان کے گھر گئیں۔ حضرت خدیجہ نے حضرت صفیہ کو بے وقت اتے دیکھا تو فورا سمجھ گئیں۔ حضرت صفیہ نے بات چھیڑی کہ خدیجہ تمہاری شادی کے بارے میں کیا ارادہ ہے؟ حضرت خدیجہ نے جھجکتے ہوئے کہا کہ میں فیصلہ کر چکی ہوں اور میں شادی کروں گی تو صرف تمہارے بھتیجے محمد سے اور میں اس کے لیے پوری طرح سے تیار ہوں۔ یہ سن کر حضرت صفیہ خوشی خوشی واپس ا کر حضرت ابو طالب کو بتاتی ہیں کہ بھائی خدیجہ راضی ہیں۔ تم جو انتظام کرتے ہو جلدی کرو۔ یہ سن کر ابو طالب مطمئن ہوئے۔ قریش کے شریف معزز اور بڑے جوانوں کو جمع کیا گیا۔ ایک باوقار قافلہ تشکیل دیا گیا اور خود ابو طالب کی قیادت میں بنو ہاشم کے یہ معزز افراد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام نکاح لے کر جناب خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر روانہ ہوئے۔ تب تک حضرت خدیجہ کے والد خوائلت وفات پا چکے تھے اور جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح کا ارادہ فرمایا تو اپنے چچا حضرت ابو طالب کے پاس صبح کے وقت پہنچے تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے والد کی وفات کے بعد ان کی نمائندگی ان کے چچا عامر بن اسد کرتے تھے۔ حضرت ابو طالب جب ان کے گھر پہنچے اور رشتہ پیش کیا تو عامر نے کہا کہ خدیجہ اپنی مرضی کی مالک ہیں۔ لیکن میں پہلے سے جانتا ہوں کہ وہ یہ رشتہ قبول نہیں کریں گی کیونکہ انہوں نے بہت سے عالی رتبہ رشتے ٹھکرا دیے ہیں۔ یہ سن کر حضرت ابو طالب اور بنو ہاشم کے سب لوگ غصے اور مایوسی میں واپس لوٹ ائے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کو جب اس بات کی خبر ملی تو وہ بہت پریشان ہوئیں۔ انہیں سمجھ نہ ایا کہ کیا کیا جائے کیونکہ چچا نے انکار کر دیا ہے اور خاندان بنو ہاشم اب دوبارہ کبھی واپس نہیں ائیں گے۔ پریشان ہو کر انہوں نے اپنے چچا ورقہ بن نوفل کو بلایا جو ایک نیک دل سمجھدار اور علمی الہی رکھنے والے بزرگ تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ان سے کہا کہ اب کون ہے جو میرے درد کو سمجھے۔ ورقہ بن نوفل نے مسکرا کر کہا کہ خدیجہ تم نے خود ہی تو سب رشتے ٹھکرا دیے۔ بڑے بڑے بادشاہ سردار تم نے سب کو انکار کر دیا۔ حضرت خدیجہ نے جواب دیا وہ سب مکہ سے باہر کے لوگ تھے۔ میں اپنا شہر نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔ خدیجہ نے کہا وہ سب گمراہ تھے۔ میں ایک ایسے شخص سے شادی نہیں کر سکتی جو گمراہ ہو۔ ورقہ بن نوفل نے سنجیدگی سے فرمایا پھر تو ایک ہی شخص بچتا ہے عبداللہ کا یتیم محمد بن عبداللہ۔ جو نہ صرف مکہ کا شریف ترین انسان ہے بلکہ اللہ تعالی کا برگزیدہ بندہ بھی ہے۔ یہ سن کر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا کہ جب اپ جیسے فہیم شخص کی یہ رائے ہے اب کسی اور رشتے کا تصور نہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ اپ اس نکاح کو انجام تک پہنچائیں۔ ورقہ بن نوفل بولے کہ میں ضرور مدد کروں گا لیکن ایک شرط ہے کہ مجھے مال جائیداد یہ سواری نہیں چاہیے بس وعدہ کرو کہ روز قیامت تم اپنے شوہر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہہ کر میری شفاعت کراؤ گی۔ حضرت خدیجہ نے جواب دیا کہ چچا یہ وعدہ رہا اپ کی شفاعت کی درخواست میں ضرور پیش کروں گی۔ اس کے بعد ورقہ بن نوفل حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے چچا عمر بن اسد کے پاس گئے اور کہا کہ تم نے بنو ہاشم جیسے معزز خاندان کو دروازے سے واپس بھیج کر بڑی غلطی کی ہے۔ اگر وہ تلوار لے کر کھڑے ہو گئے تو مکہ میں کوئی ہمارا ساتھ نہ دے گا۔ ابھی بھی وقت ہے فیصلہ عقل سے کرو۔ جب ورقہ بن نوفل نے عمر بن اسد کو سمجھایا تو وہ گھبرا گئے اور بولے کہ میں نے کسی کی توہین نہیں کی اور نہ ہی کسی کو ذلیل کیا ہے۔ بنو ہاشم نے جو رشتہ بھیجا ہے وہ ایک یتیم کا ہے۔ اگر وہ کسی سردار کا رشتہ ہوتا تو شاید میں قبول کر لیتا مگر یہ عبداللہ کا بیٹا ہے جو مال و دولت نہیں رکھتا۔ پھر مزید کہا کہ ہم پہلے ہی قریش کے کئی بڑے سرداروں کے رشتے ٹھکرا چکے ہیں۔ اگر اب یہ بات مکہ میں پھیل گئی کہ ہم نے سب سرداروں کو رد کر کے ایک یتیم بچے کا رشتہ قبول کر لیا ہے تو سب ہمارے دشمن ہو جائیں گے اور اگر میں راضی ہو بھی جاتا ہوں تو خدیجہ کیسے مانیں گی۔ انہوں نے ہمیشہ بڑے بڑے رشتے ٹھکرائے ہیں۔ ورقہ نے بات کاٹتے ہوئے کہا کہ اے عامر تم غلط سوچ رہے ہو۔ یہ وہ یتیم ہے جسے سارا مکہ صادق اور امین کہتا ہے۔ کوئی ایسا نہیں جو اس کی عزت نہ کرتا ہو۔ اگر کسی اور کا رشتہ ہوتا تو اعتراض ہو سکتا تھا مگر اس پر نہیں۔ اور جہاں تک خدیجہ کا سوال ہے تو وہ تو خود اس رشتے پر دل سے راضی ہیں۔ یہ سن کر عمر بن اسد حیرت زدہ ہو کر بولے کہ اگر خدیجہ واقعی ہی راضی ہے تو اب بات عام ہو گئی ہے۔ میری عزت کیسی رہے گی؟ کوئی ایسا راستہ ہے کہ یہ رشتہ بھی طے ہو جائے اور میری عزت بھی قائم رہے؟ ورقہ بن نوفل نے عمر بن اسد سے وعدہ کیا کہ اگر بنو ہاشم دوبارہ رشتہ لے کر ائیں تو وہ عزت و احترام سے پیش ائیں گے۔ عمر بن اسد کو خدشہ تھا کہ حضرت حضرت خدیجہ نے ان کی رائے رد کر دی تو ان کی عزت مکہ میں مجروح ہو جائے گی کیونکہ وہ حضرت خدیجہ کے چچا کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے ورقہ بن نوفل سے کہا کہ خود جا کر بنو ہاشم کو راضی کرو۔ ورقہ بن نوفل حضرت ابو طالب کے گھر پہنچے جہاں بنو ہاشم کے بزرگ و نوجوان سب جمع تھے۔ ماحول سخت اور پرجوش تھا۔ ابو طالب خاموش بیٹھے تھے۔ ورقہ نے حکمت سے ان سے بات کی اور معذرت پیش کی اور حضرت خدیجہ کی رضامندی اور خاندان کی عزت کا ذکر کیا۔ کہا کہ ابھی تک یہ بات عام نہیں ہوئی اگر اپ اب راضی ہو جائیں تو عزت بچ سکتی ہے۔ ابو طالب مان گئے اور جب وہ راضی ہوئے تو پورا خاندان ان کے ساتھ ہو گیا۔ عمر بن اسد نے بنو ہاشم کا استقبال عزت و وقار کے ساتھ کیا اور رشتہ منظور کر لیا۔ نکاح کی تاریخ قریب ہی رکھی گئی اور رخصتی کے بعد کی یہ بات طے پائی تاکہ مناسب انتظامات کیے جا سکیں۔ کیونکہ حضرت خدیجہ ملائکہ العرب تھیں اور ان کی عزت کا معاملہ بھی تھا۔ نکاح کے دن خاندان خدیجہ نے مختصر لیکن بہترین تقریب کا اہتمام کیا۔ مکہ کے کئی سردار نکاح کی تقریب میں موجود تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک کرسی پر بٹھایا گیا اور ایک طرف حضرت ابو طالب بیٹھے اور دوسری جانب حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے چچا عامر بن اسد اور ان کے ساتھ ورقہ بن نوفل۔ پھر نکاح کی رسم ہوئی۔ حضرت ابو طالب نے خطبہ نکاح پڑھا جس میں توحید الہی انبیاء کرام اور خاندان ابراہیم کی فضیلت کا ذکر کیا گیا اور پھر فرمایا کہ مکہ والو تم جانتے ہو کہ میرے بھتیجے جیسا علم شرافت اور کردار و ہمت کسی میں نہیں۔ ہاں مال کم ہے مگر مال تو دھوکہ ہے عزت و عظمت کردار سے ہوتی ہے۔ اخر میں اعلان کیا کہ میں اپنے بھتیجے محمد کا نکاح خدیجہ بنت خوائلت سے کرتا ہوں۔ پھر حضرت خدیجہ کی طرف سے ورقہ بن نوفل نے جواب دیا اور نہایت خوبصورت خطبہ دیا۔ کہا کہ قریش کے سرداروں کون ہے جو تمہارے خاندان کی عظمت اور عزت کو نہ پہچانے۔ یہ ہمارے لیے اعزاز ہے کہ ہم اپنی بیٹی کا رشتہ تمہارے خاندان میں دے رہے ہیں میں خدیجہ کا نکاح محمد بن عبداللہ سے کرتا ہوں۔ ورقہ بن نوفل نے نکاح کا جملہ مکمل کیا مگر حضرت ابو طالب نے فرمایا کہ ورقہ تم نے جواب دیا مگر خدیجہ کے چچا اور ولی عامر بن اسد کا جواب انا چاہیے۔ ورقہ شاید چاہتے تھے کہ تاریخ میں ان کا نام بھی محفوظ رہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکاح میں میں نے بھی حصہ لیا۔ چنانچہ عامر بن اسد نے نکاح کی منظوری دی اور یوں خوشی کی لہر ہر طرف دوڑ گئی۔ نکاح مکمل ہو گیا۔ حضرت ابو طالب نے اسی وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کا حق مہر ادا کر دیا۔ روایات کے مطابق مہر کی مقدار 20 اونٹ یا ساڑھے 12 انس سونا تھا۔ یا 400 دینار سونے کی اشرفیاں تھیں۔ اسی دن ولیمہ ہوا۔ ایک اونٹ حضرت ابو طالب نے ذبح کیا ایک پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور کئی اونٹ حضرت خدیجہ نے اپنے مال سے نکاح کے بعد بنو ہاشم کو دیے۔ نکاح کے بعد بنو ہاشم اپنے گھر واپس چلے گئے اور رخصتی کے لیے خاندان خدیجہ نے چھ ماہ کی مہلت مانگی تاکہ شایان شان انتظامات کیے جا سکیں۔ مقررہ تاریخ کو جب رخصتی کا دن ایا تو وہ مکہ کی تاریخ کا یادگار ترین منظر بن چکا تھا۔ گلیوں میں مشک و عنبر کا چھڑکاؤ کنزوں کے سروں پر موتی پروئے گئے قیمتی کالین بچھائے گئے اور ہر جانب زیورات اور روشنیوں کی بہاریں تھیں۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کی رخصتی کے موقع پر دو معزز خواتین تھیں۔ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی اور حضرت فاطمہ بنت اسد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چچی۔ ان دونوں نے جناب خدیجہ کو ساتھ لے جا کر حضرت ابو طالب کے گھر میں داخل کیا اور یہی اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گھر تھا۔ رخصتی کے چند دن بعد حضرت خدیجہ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ اب نکاح تو ہو چکا ہے۔ میں اپنا وعدہ پورا کرنا چاہتی ہوں۔ جو کچھ میرا ہے وہ سب اپ کا ہے۔ میری تمام دولت غلام کنزیں جانور تجارت سونا اور چاندی سب اج اپ کے نام۔ میں اپ کی خدمت میں زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔ اور یوں حضرت خدیجہ نے اپنی ساری مال و دولت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے کر دی اور خود کو خادم و مخلص زوجہ کی حیثیت سے پیش کر دیا۔ تاریخ کہتی ہے کہ جس وقت حضرت خدیجہ یہ سارا سامان دولت غلام کنزیں سونا چاندی اور ساری جائیداد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سپرد کر چکی تھیں تو اس وقت ان کے پاس اپنا کچھ نہ بچا تھا۔ وہ واقعی ہی قریشہ وفا بن چکی تھیں۔ کچھ عرصہ نکاح کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خدیجہ کے اس گھر میں منتقل ہو گئے جو اب خود ان کا گھر تھا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خدیجہ کی تجارت کو اگے بڑھایا اور مکہ کے لوگوں نے اپنی انکھوں سے یہ منظر دیکھا کہ اتنی دولت انے کے بعد بھی اس نوجوان کی صداقت و امانت میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔ ناظرین شادی کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے 25 سال ساتھ گزارے۔ 15 سال نبوت سے پہلے اور 10 سال نبوت کے بعد اس مقدس رشتے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تین اولادیں ہوئیں۔ ایک بیٹے کا نام قاسم تھا جن کی ولادت مکہ میں ہوئی اور دو سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ دوسرے بیٹے کا نام عبداللہ تھا جنہیں طیب اور طاہر کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے وہ بھی بچپن ہی میں وفات پا گئے۔ بیٹی کا نام فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل کا ٹکڑا بنی۔ مزید تین بیٹیوں کا بھی ذکر ملتا ہے ام کلثوم رقیہ اور حضرت زینب۔ بعض مورخین کے مطابق یہ بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بطن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹیاں تھیں اور بعض مورخین کا کہنا ہے کہ یہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کی بہن یعنی خالہ کی بیٹیاں تھیں جن کے والد کا نام ابو الہند تھا۔ بہرحال راجح قول یہ ہی ہے کہ یہ بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بطن سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹیاں تھیں۔ ناظرین جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر 50 سال کی ہوئی تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کا انتقال ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنے ہاتھوں سے انہیں جنت المعلی کے قبرستان میں دفن کیا اور یہی وہ سال تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عام الحزن یعنی غم کا سال قرار دے دیا۔ ناظرین جناب خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عمر اس وقت 65 برس تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک یہ عظیم المرتبت خاتون زندہ رہیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی دوسرا نکاح نہ فرمایا۔ یہ وہ عظیم عورت تھیں جنہیں ملائکہ العرب کہا جاتا تھا اور جو عرب کی سب سے بڑی تاجرہ تھیں۔ بے مثال دولت کی مالکہ لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبوت پر ایمان لائیں تو ساری دولت ان کے قدموں میں رکھ دی۔ اور پھر زندگی کی اخری سانس تک اسلام پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دین کی خدمت پر سب کچھ قربان کر دیا۔ یہاں تک کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار حرا میں عبادت کے لیے تشریف لے جاتے تو یہ عظیم بیوی مکہ کے سنگلاخ پہاڑوں پر تنہا چل کر اپنے ہاتھوں سے کھانا لے کر پہنچتی۔ نہ کوئی خادمہ نہ کوئی سواری بس ایک سچی عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک وفاشار زوجہ اور ایک بے مثال مومنہ۔ لاکھوں سلام ہوں ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عظمت پر۔ ناظرین گرامی اگر اپ کو ہماری اج کی یہ ویڈیو اچھی لگی ہے تو اسے لائک ضرور کیجئے گا اور ایسی ہی مزید ویڈیوز دیکھنا چاہتے ہیں تو ویڈیو کو شیئر بھی ضرور کیجئے گا۔ اگر اپ کو ہمارا چینل پسند ایا تو اسے بھی لازمی سبسکرائب کیجئے گا بہت جلد ہم ایک نئی ویڈیو کے ساتھ اپ کے ساتھ ملتے ہیں تب تک کے لیے اپنا خیال رکھیے گا اللہ تعالی اپ کا حامی و ناصر ہو۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript