Thumbnail for null by null

18m 51s3,635 words~19 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]اللہ سبحانہ و تعالی کی حمد و ثناء اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کے کلمات کے بعد ہم انشاءاللہ اگے چند باتیں کریں گے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے رمضان کا مہینہ ہمیں کیوں دیا؟ اور رمضان کا مہینہ کس اعتبار سے بہت اہم ہے۔ ہمیں رمضان جیسی نعمت کیوں دی گئی؟ اور رمضان میں روزے رکھنے کا حکم کیوں دیا گیا؟ ہمارا گول کیا تھا؟ ہمارا ٹارگٹ کیا تھا۔ اور کیا ہم نے رمضان اس طرح گزارا کہ ہم اپنا وہ ٹارگٹ اچیو کر چکے اور اگر اچیو کر لیا ہے تو کیا اس کے اثرات ہماری اب ائندہ زندگی پر کچھ مرتب ہو رہے ہیں یا ہم ویسے ہی ہیں جیسے رمضان سے پہلے تھے؟ تو رمضان کی اہمیت کیا ہے؟ کیا پہلی امتوں کو رمضان دیا گیا تھا؟ رمضان کا مہینہ پہلی امتوں کے لیے نہیں تھا۔ اس کی جو بھی فضیلت ہے اہمیت ہے برکت ہے اور اس میں اجر و ثواب اور خیر و بھلائی ہے۔ وہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔ روزے تو پہلی امتوں پر فرض تھے۔ لیکن رمضان کے روزے فرض نہیں تھے۔ تو رمضان کی اتنی اہمیت کیوں ہے؟ رمضان کا تعارف قران نے کیا کروایا ہے؟ کہ رمضان کیا ہے؟ شہر رمضان الذی انزل فیہ القران رمضان کی اہمیت قران کی وجہ سے ہے۔ کہ اس میں قران اتارا گیا۔ پھر اس خاص رات جس میں قران اتارا گیا وہ کون سی رات ہے؟ لیلت القدر۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ لیلت القدر کیا ہے۔ کیا ہے لیلت القدر؟ اس کی تعریف اللہ سبحانہ و تعالی نے کیا بیان کی؟ لیلت القدر خیر من الف شہر لیلت القدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ لیلت القدر بھی کیا پہلی امتوں کو دی گئی؟ نہیں دی گئی۔ یہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے۔ ہمیں اللہ سبحانہ و تعالی نے یہ انعام کے طور پر دی ہے۔ ہم سب سے اخری امت ہیں۔ لیکن ہم پر اللہ سبحانہ و تعالی کے بے پناہ فضل و احسان ہے۔ جن کے بارے میں نہ ہم سوچتے ہیں۔ اور نہ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور نہ ان پر شکر گزار ہوتے ہیں۔ تو لیلت القدر میں کیا ہوا تھا۔ لیلت القدر کو ہزار مہینوں کے برابر کیوں کہا گیا؟ کیونکہ انا انزل فی لیلت القدر۔ لیلت القدر کی اہمیت بھی اسی لیے ہے کہ اس میں قران اتارا گیا تھا۔ یہ قدر والی رات ہے۔ جس میں قران نازل کیا گیا۔ اپ خوش قسمت ہیں جنہیں اللہ سبحانہ و تعالی نے اس سال اس زندگی کے اندر اس سال کا رمضان بھی دیا اور لیلت القدر بھی دی۔ لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے اس رات سے فائدہ اٹھایا ہو۔ اور اس رات کا حق ادا کیا ہو۔ اور اس رات میں اپنے رب کا قرب پایا ہو۔ ایک ہزار مہینے کے برابر ایک رات ہے۔ یعنی اگر کوئی ہزار مہینے تک عبادت کرتا رہے۔ تو اس کا جو اجر و ثواب ہوگا وہ اس شخص کے برابر ہوگا جو اس ایک رات میں عبادت کرتا ہے۔ تو غور کیجئے۔ ہماری یہ راتیں کیسے گزری؟ کیا واقعی ہم نے ہر طاق رات میں عبادت کی؟ یا ہم اس سے محروم تو نہیں رہ گئے؟ کیونکہ جو اس سے محروم رہا وہ کس سے محروم رہا؟ ہر خیر و بھلائی سے محروم رہا۔ گویا اس کے پلے میں کوئی خیر نہیں ائی۔ جو اس سے محروم رہ گیا۔ تو ہم نے رمضان کیسے گزارا؟ اس موضوع پر اج گفتگو کرنے کی ضرورت اس لیے تھی تا کہ ہم یہ دیکھ سکیں کہ ہم نے رمضان کا کتنا حق ادا کیا۔ اور اس نعمت پر کتنا شکر ادا کیا۔ اور کیا اس میں کرنے کے جو کام تھے وہ کیے؟ اور اگر نہیں کیے تو ائندہ سال کے لیے عہد کر لیں۔ کہ اگر اللہ سبحانہ و تعالی ہمیں ائندہ سال موقع دے۔ تو ہم انشاءاللہ پلے باندھ لیں اور پکی طرح اپنے ساتھ عہد کر لیں۔ کہ نہ رمضان اور نہ ہی لیلت القدر اور نہ ہی اس کے قیام اور نہ ہی عبادات اور نہ قران کا تعلق ان پر کوئی کمپرومائز نہیں کرنا۔ اب دیکھیں کہ ہم میں سے کس کی عمر 83 ایرز ہے؟ اور وہ بھی وہ 83 ایرز کے وہ ہم عبادت میں ہی گزارے۔ اب تک کی بھی جتنی زندگی ہمیں ملی ہے اس میں ہماری نمازوں کا حال کیا ہے؟ ہمارے ذکر اذکار کی کیفیت کیا ہے؟ ہماری تلاوت قران کتنی ہے؟ اگر ہم سب غور کریں تو ہم سب کی عبادات کس درجے کی ہے؟ پچھلی امتوں کی عمریں لمبی ہوتی تھیں۔ حضرت نوح علیہ السلام اور اس کے علاوہ جو پیغمبر تھے ان کی عمریں طویل تھیں۔ اب اگر ان میں سے کسی نے ہزار سال عبادت کی ہو۔ تو ہم تو نہیں کر سکتے وہ۔ اور اپ کو یہ معلوم ہے کہ ایک ایک دن اور ایک ایک رات کی عبادت کاؤنٹ کرتی۔ نماز نبی کے شروع میں وہ حدیث اپ نے پڑھی ہوگی جس میں دو لوگ جو اکٹھے اسلام لائے۔ ان میں سے ایک پہلے شہید ہوگیا۔ ایک غزوہ میں شریک و شہید ہوگیا۔ اور دوسرا ایک سال کے بعد فوت ہوا۔ شہید نہیں ہوا فوت ہوا۔ تو ایک صحابی نے دیکھا کہ جو بعد میں ایک سال کے بعد فوت ہوا ہے۔ وہ جنت میں پہلے داخل ہو رہا ہے۔ وہ اگے جا رہا ہے۔ تو بڑے حیران ہوئے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ا کر یہ خواب بیان کیا گیا تو اپ نے فرمایا کیا اس نے ایک سال کے روزے نہیں رکھے؟ کیا اس نے ایک سال کی نمازیں نہیں پڑھیں؟ تو ہر نماز کا ہر سجدہ کاؤنٹ ہوتا ہے۔ ہر رمضان کاؤنٹ ہوتا ہے۔ تو اگر ہمیں اللہ سبحانہ و تعالی یہ موقع دیتا ہے تو یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ یہ اللہ سبحانہ و تعالی کا سراسر ہم پر احسان ہے۔ کہ اس نے ہمیں اتنی بڑی نعمت سے نوازا۔ اور اس پر ہمیں شکر ادا کرنا چاہیے۔ اچھا وہ لمبی عمروں کی بات ہو رہی تھی تو اس کو کمپلیٹ کرتے۔ کہ ہزار مہینے کی عبادت کے برابر۔ 83 ایرز۔ ہم میں سے کسی کی عمر ہزار سال نہیں ہو بھی تو ہم ہزار سال کہاں عبادت کیسے کرنے والے ہیں؟ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو ابھی تک نمازوں پر پوری طرح پختگی خیال نہیں کرتے؟ کتنے لوگ ہیں جنہوں نے عید کے دن ہی فجر کی نماز قضا کر دی۔ یعنی جونہی رمضان ختم ہوا پہلا ہی دن نحوست کا شروع ہوا۔ تو اگر ہر ایک شخص ہر سال 83، 83، 83، 83، 83 کرتا جائے۔ تو اگر اس کو مثلا 80 سال عمر کے ملتے ہیں یا 70 سال وہ عبادت کے قابل ہوتا ہے۔ تو سمجھیں کہ 70 کے ساتھ بھی اگر ہم اس کو ملٹی پلائی کرے 70 ٹائم تو کتنے بن جائیں گے؟ کتنے سال کی بن جائے گی پھر؟ تو کہیں تو قریب قریب پہنچیں گے نا پچھلی امتوں کے۔ تو جس امت پر اللہ تعالی نے اتنا بڑا احسان کیا ہو۔ اس کا کیا فرض بنتا ہے۔ کہ وہ اس احسان کا شکر کیسے ادا کرے؟ اپنی زندگیوں میں حقیقی معنوں میں تبدیلی لانے کے لیے۔ تو رمضان کے روزے کس لیے تھے؟ ون ورڈ، صرف ایک لفظ چاہیے۔ تقویٰ۔ اور تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ۔ کتنا بولتے ہیں ہم یہ لفظ۔ اور رمضان تقویٰ کے لیے ہے۔ تو تقویٰ ہے کیا؟ اپ کیسے کہیں گے کہ مجھے تقویٰ مل چکا ہے۔ میں متقی بن چکی ہوں۔ مجھے رمضان مل گیا مجھے تقویٰ مل گیا۔ تقویٰ کا لفظی معنی ہوتا ہے بچنا۔ بچنا۔ بچتا کون ہے؟ جو محتاط ہوتا ہے۔ محتاط، کانشس۔ تو تقویٰ کیا ہے؟ دراصل محتاط زندگی بسر کرنا۔ کس چیز سے بچنا؟ کس چیز سے بچنا؟ اللہ کی نافرمانی سے، اللہ تعالی کے حق میں کسی بھی طرح کی نافرمانی سے بچنا۔ گناہوں سے بچنا۔ روزے کی حالت میں کھانا کیوں چھڑوایا گیا؟ تاکہ پریکٹس ہو جائے بچنے کی۔ کس چیز سے بچنے کی؟ خواہشات سے اپنی خواہشات کو کنٹرول کر کے کھانے سے بچنے کی پریکٹس کروائی گئی۔ سب سے زیادہ دن میں ہمیں کس چیز کا خیال اتا ہے؟ کھانے کا خیال اتا ہے۔ تو اس پر روک لگا دی گئی بچو، بچو، بچو، اسٹاپ، اسٹاپ، اسٹاپ۔ تم کھانے سے تو بچ گئے۔ تو یہ دراصل کیا تھی؟ تربیت تھی۔ پریکٹس تھی۔ ٹریننگ تھی۔ کہ بچو کس سے؟ حرام سے بھی۔ مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے، غیبت سے، چغلی سے۔ اور کس سے بچو؟ ہر طرح کے گناہوں سے، ہر غلط چیز سے۔ تقویٰ ہوتا کہاں ہے؟ تقویٰ دل میں ہوتا ہے۔ تو دل کہاں ہے؟ سینے میں۔ اس وقت اپ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں دل کہاں ہے؟ اپنے اپ سے پوچھیے میرا دل کہاں ہے؟ جب ہم قران کی تلاوت کرتے ہیں تو اپنے اپ سے سوال کیجئے میرا دل کہاں ہے؟ کیا قران کے اندر ہے کہ یہ اور ہے؟ جب نماز کے لیے کھڑے ہیں تو اپنے اپ سے پوچھیے میرا دل کہاں ہے؟ جب ذکر کیجئے تو پوچھیے میرا دل کہاں ہے؟ کسی کو کچھ دے رہے ہیں کچھ لے رہے ہیں؟ پوچھیے اپنے اپ سے میرا دل کہاں ہے؟ تنہائی میں بیٹھے ہوئے ہیں اکیلے ہیں کوئی پاس نہیں؟ سوچیے، پوچھیے اپنے اپ سے میرا دل کہاں ہے؟ کیونکہ تقویٰ تو دل میں ہے اور اگر دل ہی پاس نہیں تو تقویٰ کہاں ہے پاس؟ وہ جو رمضان میں تقویٰ لیا وہ سارا دل میں رکھا اور دل کو وانڈر اراؤنڈ کرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ تو تقویٰ بھی تو ساتھ ہی چلا گیا نا۔ وہ بھی تو گھوم رہا ہے کہیں اور۔ تو متقی انسان وہ ہوتا ہے۔ کہ جو کیا کرتا ہے؟ اپنے دل پر نگاہ رکھتا ہے۔ کہ میرا دل کہاں ہے۔ رمضان دراصل اپنے اپ کو ڈسکور کرنے کا مہینہ ہے۔ اپنے اپ کو پا لینے کا مہینہ ہے یہ جتنے بھی ریچولز ہیں یہ تو صرف تربیت کے لیے ہے۔ یہ تو ٹولز ہیں۔ مثلا تلاوت کیا ہے؟ تلاوت کرنا عبادت ہے۔ لیکن کیا مقصود ہے؟ مطلوب ہے؟ کہ بس ہم صرف تلاوت کر لیں ہم نے باندھے ہوئے پانچ پارے روز کے پڑھنے ہیں پانچ پڑھ لیے پڑھ لیے۔ مقصد حل ہوگیا؟ اپ نے رمضان میں روزانہ ایوریج کیا اپ نے رکھا اپنا تلاوت کا؟ ایک پارے؟ یہ دو رکھے؟ کتنے رکھے؟ تین رکھے؟ الحمدللہ جس کو جتنی توفیق ہوئی۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ ایک یا دو یا تین پڑھتے وقت ہم نے دل بھی حاضر کیا۔ کچھ یاد بھی رہا کہ کہاں؟ پہلی تراویح کی بات ہے کہ چھ رکعتیں ہوئی۔ تو میرے ساتھ جو خاتون تھی انہوں نے پوچھا یہ اخری رکعت کہاں ختم ہوئی ہے؟ کیونکہ وہ قران کھولنا چاہ رہی تھی۔ تو انسٹنٹ دیکھنا چاہ رہی تھی کہ کہاں ختم ہوئی۔ انہوں نے کہا ہیں کہاں ختم ہوئی؟ اپنے اپ سے میں نے پوچھا ہے کہاں ختم ہوئی؟ تو مجھے شدید احساس ہوا کہ میرا دل کہاں ہے؟ میں کہاں ہوں؟ مجھے کیوں نہیں یاد کہ اخری ایت کہاں ختم ہوئی؟ اگر ہم تلاوت کرنے کے بعد اپنے اپ سے پوچھے کہ کیا پڑھا اج میں نے؟ تو دل پر بھی کچھ ہے کچھ حاضر ہے؟ یہ صرف زبان میں پڑھا اور کبھی کانوں نے سنا اور کبھی کانوں نے بھی نہیں سنا۔ تو پھر سے یہ بے روح ایکسرسائز ہے نا۔ تو سوچنے کی بات ہے نا پوچھنے کی کہ میرا دل کہاں ہے؟ میں پڑھتی تو جا رہی ہوں پڑھ رہی ہوں پڑھ رہی ہوں۔ کیا پڑھ رہی ہوں؟ قیام کس لیے ہے؟ اللہ کے حضور حاضر ہونے کا نام ہے؟ فزیکلی حاضر ہیں۔ دل کہاں ہے؟ قلبی طور پر حاضر نہیں ہے۔ دعا مانگ رہے ہیں؟ کال سے دعا قبول نہیں ہوتی۔ دل اس میں دل لاؤ۔ جو زبان پڑھ رہی ہو دل کو نہیں پتہ کیا مانگ رہے ہیں؟ الحمدللہ اللہ کے فضل سے بہت سی کتابیں اگئی ہیں مارکیٹ میں اور بہت محنت کے ساتھ احاطہ کر لیا ہم نے۔ ساری قرانی دعائیں اجائیں ساری مسنون اجائیں۔ لیکن اکثر کیا ہوتا ہے؟ پھر دوسری طرف اس کا نقصان بھی۔ کہ بعض اوقات ان دعاؤں کو بھی کیسے پڑھ لیتے ہیں جیسے تلاوت کی ہو۔ بس پڑھنی ہے ہم نے کتاب ختم کرنی ہے۔ روز ایک دفعہ پڑھنی ہے تا کہ ساری دعائیں ہو جائیں۔ ہم عام طور پر یہی کہ دعا پڑھ لیں۔ یہ نہیں کہتے دعا کر لیں۔ یا دعا مانگ لیں۔ یہ لفظ نہیں بولتے۔ دعا پڑھ لیں۔ اب جس نے دعا پڑھ لی وہ پڑھ ہی رہا ہے نا بس۔ مانگ تو نہیں رہا۔ مانگنے کی ضرورت ہے نا۔ تو ہمارے مانگنے میں شدت نہیں۔ کیونکہ اس میں دل نہیں دل کہیں اور ہے۔ تو جس چیز میں دل ہوتا ہے اور جس چیز میں یقین ہوتا ہے اور جس چیز کے اندر تڑپ ہوتی ہے اور جس چیز کا کوئی شوق ہوتا ہے۔ پھر اس کی تاثیر ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ تو پھر وہیں سے اپنے اپ سے پوچھیے رمضان کس لیے؟ روزہ کس لیے؟ تلاوت کس لیے؟ صدقہ و خیرات کس لیے؟ حاصل کیا کرنا تھا؟ یہ تو سارے ذرائع تھے ایک منزل تک پہنچنے کے وہ منزل تھی تقویٰ حاصل کرنا۔ اور تقویٰ لے کر اپنے ساتھ رکھنا تا کہ باقی 11 مہینے وہ باقی زندگی کے جتنے بھی معاملات ہیں چاہے عبادات ہیں یا معاملات ہیں ان میں وہ کام ا سکے۔ تو کیا وہ ساتھ ہے؟ کتنی دفعہ ہم رمضان کے بعد غیبت کرتے ہوئے یہ سنتے ہوئے چونکے کہ نہیں۔ یا دل بدمزہ ہوا۔ یا کوئی دل نہیں لگا اس میں یا شوق ہی نہیں ایا۔ اور کیا علامات ہوتی ہے تقویٰ کی؟ علامات دیکھ لیتے ہیں پھر پتہ چل جائے گا کہ ہم متقی ہوئے یا نہیں ہوئے۔ اور کیا علامت ہوتی ہے تقویٰ کی؟ جس کے اندر تقویٰ اجائے اس میں اور کیا اتا ہے؟ وہ کیسا ہو جاتا ہے؟ اس کی کمر جھک جاتی ہے؟ ہیں؟ کیا اتا ہے اس کے اندر؟ گناہ کا احساس شدید ہو جاتا ہے۔ کہ غلط کام کیا ہے۔ یہ یہ غلطی، یہ یہ گناہ ہے۔ یہ اللہ کی ناراضگی۔ رمضان میں کسی نے وش سے سوال کیا کہ ہم بعض اوقات چھوٹا سا گناہ کرتے ہیں سزا کیوں بڑی سی ملتی؟ کیونکہ بعض اوقات یہ ہوتا ہے نا کہ بڑے بڑے سزاؤں کا ذکر ہے قران مجید میں۔ تو میں نے کہا کہ گناہ تو چھوٹا ہوتا ہے۔ لیکن جس کے حق میں ہوتا ہے جس کی نافرمانی ہوتی ہے وہ کتنا بڑا ہے؟ تو جو جتنا بڑا ہوتا ہے اس کی حکم عدولی یعنی اس کا حکم نہ ماننا اس کی بات نہ ماننا اتنا ہی بڑا جرم ہوتا ہے۔ اس پر پکڑ بھی اتنی زیادہ ہوتی۔ کبھی ہم یہ تو نہیں کہتے ہم چھوٹا سا کام کرتے ہیں سبحان اللہ کہتے ہیں اور ایک درخت لگ جاتا ہے۔ دنیا میں تو 50 سال لگتے ہیں ایک درخت بڑا ہونے میں وہاں ایک چند سیکنڈ میں اتنا بڑا درخت لگ جاتا ہے۔ وہ کیوں؟ کیونکہ جس ذات کی اپ تسبیح کر رہے ہیں۔ وہ دنیا کے ہر کام سے بہتر ہے۔ تو اس کا ریوارڈ سب سے بڑا ہے۔ کوئی علامت بتائیے تقویٰ کی۔ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے یہ احساس رہنا ہر وقت نیکی کا کام اسان لگنے لگتا ہے۔ کیونکہ جب انسان بہت سی برائیوں سے بچنے لگتا ہے تو پھر ابیئسلی کچھ چیزوں کے کرنے کا وقت مل جاتا ہے۔ دیکھیں نا جب اپ نے غیبت نہیں کرنی اپ نے کسی کا مذاق نہیں اڑانا اپ نے کسی کا حق نہیں مارنا اپ نے لغو فضول بیکار باتیں نہیں کرنی تو وقت بچے گا نا۔ تو پھر وہ وہ ویکوم ہو گیا نا اس وقت کو کسی اور چیز میں استعمال کرنا ہوگا نا؟ تو پھر فرل اللہ کی کیفیت اندر ائے گی۔ اللہ کی طرف دوڑنے کی بات۔ انسان اخرت اورینٹڈ ہو جاتا ہے۔ اخرت کی یاد ہر چیز کی یاد سے زیادہ انے لگتی۔ قران و سنت کو کانشیئسلی پڑھنے لگتا ہے۔ ایک اور چیز اج اپ گھر جائیے اور قران مجید کھول کے جہاں تقویٰ کا لفظ ا رہا ہے نا۔ وہاں اپ دیکھیے کہ تقویٰ والوں کی کچھ صفات یاد ہو جائیں۔

[14:04]ریمانڈر مل جائے۔ ٹھیک ہے۔ الحمدللہ دل میں وسعت اتی ہے۔ بہت ساری چیزیں۔ لیکن یہ جتنی بھی چیزیں ہم بتا رہے ہیں نا۔ جو بھی باتیں ہم بتا رہے ہیں کہ تقویٰ والے ایسے ہوتے ہیں اور ایسے ہوتے ہیں یہ کچھ تو ہمارے خیالات ہیں۔ سنی سنائی باتیں ہیں۔ کچھ ہم سوچتے اس طرح ہیں۔ لیکن ہماری ہر بات کے لیے دلیل ہونی چاہیے۔ کہ کیا واقعی قران مجید میں بھی یہی کہا گیا ہے؟ کہ تقویٰ والے ایسے ہوتے ہیں؟ تو دلیل کا ہونا بہت ضروری ہے۔ محض باتیں کرنا کافی نہیں ہوتا۔ ومن اصدق من اللہ حدیثا ومن اصدق من اللہ قیلا اللہ سے سچی بات کس کی ہو سکتی ہے؟ کیونکہ معاملہ اللہ کے ساتھ ہے نا۔ ٹھیک ہے۔ اچھا کوئی ایک چیز بتائیے جو اپ نے رمضان کی برکت سے روزے کی وجہ سے چھوڑ دی ہے جو رمضان سے پہلے تک اپ نے تھی اب اپ سے رخصت ہو گئی۔ کوئی ایک چیز بتائیے جو رمضان میں چھڑائی اپ سے؟ غصہ اچھا کوئی پریکٹیکل سی چیز بتائیے کہ جس سے پتہ چلے کہ ہاں واقعی کوئی کام ہوا ہے۔ تقویٰ کا معنی نا بچنا۔ سٹاپ کر دینا۔ چھوڑ دینا۔ کوئی ایک چیز اپ بتائیے جو اپ نے روزے کی برکت سے چھوڑ دی ہو۔ اپنی روزمرہ کی عادات میں سے بھی۔ کہ جو ضروری نہیں تھی اور اپ نے بس ان کو اپنے لیے بہت ایک فرض کا درجہ دیا ہوا تھا۔ ٹائم ویسٹ کرنا یہ بھی جنرل بات ہے۔ ٹائم ویسٹ کرنے میں کون سی ایسا کام تھا جو اپ ٹائم ویسٹر سمجھتی تھی اور اپ نے وہ کام چھوڑا۔ عملی چیز بتائیے کہ مثلا اپ سمجھتی تھی کسی ایک خاص کام کو کہ اس سے میرا وقت ضائع ہوتا ہے تو اپ نے وہ کام چھوڑ دیا اب۔ اب نہیں اپ کرتے وہ۔ یہ ہے چینج۔ اوکے چھوٹے چھوٹے اوقات میں قران پڑھتی تھی اور اب وہ عادت باقی ہے اور اب بھی ان اوقات کو قران پڑھنے میں استعمال کرتی۔ ایک حقیقت یہ ہے کہ جو رمضان جو چینج لاتا ہے۔ وہ صرف رمضان کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اس میں سے کچھ نہ کچھ تو کنٹینیو کرنا ہی چاہیے۔ مومن تو ساری زندگی روزے سے ہوتا ہے۔ کیونکہ ساری زندگی کچھ نہ کچھ ہمیں چھوڑنا ہے۔ کئی خواہشات کو ہمیں کنٹرول کرنا ہے روکنا ہے ان کو۔ جی کوئی ایک پریکٹیکل چیز بتائیے عملی روزمرہ زندگی کی۔ کہ اپ نے وہ کام چھوڑ دیا اب۔ ہاں ویری گڈ، ویری گڈ ایگزیمپل۔ کہتی ہیں کہ میں بار بار اپنے بچوں کو فون کیا کرتی تھی رمضان میں بالکل نہیں کیا۔ ائندہ کیا پروگرام ہے؟ ٹھیک ہے صلہ رحمی کرنی ہے فون کرنا ہے۔ لیکن میں ہمیشہ سوچتی ہوں جب فون نہیں تھا تو کیا تھا؟ تب بھی تو کام چلتے تھے نا ہم نے تو وہ وقت دیکھا ہوا ہے جب فون نہیں تھے اور سیل فون نہیں تھے۔ ایک فون سارے محلے میں ہوتا تھا۔ جس کے گھر ہوتا تھا اس کو سب کو بلا بلا کے کالے اٹینڈ کرانی پڑتی تھی۔ اور اب گھر کے مالک یا گھر کے خادم سب کے ہاتھ میں فون ہے۔ کوئی اس سے مبرا نہیں ہے۔ اور جب فون ہاتھ میں ہو تو پھر ظاہر ہے کہ اپ کو ہر وقت کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہے اس کے ساتھ۔ یہ کہتی ہے کہ بہت بازار میں جانا کپڑا خریدنا تو وہ چھوڑا تو اب اب رمضان کے بعد پھر شروع ہو جائے گا؟ نہیں یس یہ دس از تقویٰ۔ یہ نہیں کہ ضرورت کا کپڑا نہ خریدے ضرورت کا خریدے۔ لیکن ایک ہوتا ہے نا اچھا بور ہو رہا ہے۔ کہیں بھی جائے چلو بازار چلتے ہیں دیکھتے ہیں نئی چیز کیا ائی۔ انہوں نے رمضان میں بالکل ٹی وی نہیں دیکھا۔ اور اب کیا حال ہے؟ پھر شروع ہو گیا رمضان گیا تو ٹی وی اگیا۔ کہتی ہے کہ سات اٹھ گھنٹے ان کے ایوریج دن کے جاتے تھے نیٹ پر۔ رمضان میں بالکل چھوڑ دیا اس کو۔ نیٹ ایک ضرورت ہے۔ لیکن کس حد تک؟ بس وہ جتنی ضرورت ہے۔ کیونکہ جو بھی چیز جتنی فائدہ مند ہے بس اتنی کافی ہے۔ فالتو کی باتیں نہیں۔ غیر ضروری چیزیں نہیں۔ کیسے کم کی؟ مثلا کیا کیا اپ نے؟ کوئی میئر ہو نا اس کو ماپے مثلا اپ نے کہا مجھے جیولری خریدنے کی بہت عادت تھی۔ مثلا میں مہینے میں چار چیزیں خریدتی تھی۔ اور رمضان میں ایک نہیں خریدی اور ائندہ ماہ بھی مجھے ضرورت نہیں کیونکہ میرے پاس پیچھے بہت ہی اکٹھی ہو چکی۔ یہ تو ہے چینج۔ ٹھیک ہے۔ کیونکہ پہلے کی بہت ہے۔ پہلے اس کو استعمال کر لیں۔ کیونکہ بہت دفعہ ہمیں جن چیزوں کے خریدنے کی عادت ہوتی ہے یہ شوق ہوتا ہے اس کو ہم صرف برائے شوق خریدتے ہیں اس کو استعمال کرنے کا وقت بھی پھر بہت کم اتا ہے۔ کیونکہ مثلا ایک چھوٹی سی مثال دیکھیے۔ کہ اپ کی وارڈروب ہے یا کبڈ ہے یا اپ کو کوئی شیلف ہے۔ تو اس میں ایک لمیٹڈ جگہ ہے نا۔ لمیٹڈ ہے۔ اپ نے ایک چیز خریدی لا کے رکھی۔ دوسری، تیسری، چوتھی، پانچویں، چھٹی۔ شیلف کا ایک حصہ سارا بھر گیا۔ پھر اپ خرید کے لا رہے ہیں اب کہاں رکھیں گے؟ یا اس کے اوپر؟ یا اس کے اگے۔ ایسے ہی ہو گا نا۔ پھر لائے، لائے، لائے، لائے، وہ اوپر بھی بھر گیا، سامنے سے بھی بھر گیا۔ اب جب اپ نے کوئی چیز استعمال کرنی ہے۔ پھر کیا کریں گے؟ وہ سارا بکھیڑا اتاریں گے؟ پھر سارے ڈبے کھولیں گے؟ پھر اس کو میچ کریں گے؟ پھر اس میں سے کچھ نکالیں گے؟ پھر پہنیں گے؟ کتنا وقت لگے گا؟ یہی اگر صرف ضرورت کی چیزیں ہوں۔ تو اپ کی شیلفیں بھی خالی اور اس میں سے جب اپ چیز تلاش کرنے لگے تو وہ کتنی دیر میں مل جائے؟

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript