[0:06]مغرور درخت۔ ایک وقت کا قصہ کہ وہاں ایک بیا بان کے بیچو بیچ دو درخت اگے ہوئے تھے۔ ایک تھا انجیر کا درخت اور ایک تھا ام کا۔ عام کا درخت فطرت سے ہی حلیم اور ہس مکھ تھا۔ ہر پتھ جھڑ کے موسم میں پرندے اتے اس کے پھل پر چونچ مارنے۔ گوریا اس کی ٹہنیوں پر گھونسلہ بناتی۔ اور چڑیاں اس کے لیے گانے گاتی۔ درخت خوشی خوشی سبھی پرندوں کا استقبال کرتا اور ان کے ساتھ گن گناتا۔ وہ ایک فراک دل درخت تھا۔ وہ مسافروں کو سایہ دیتا اور جب اندھی برپا ہوتی تو وہ مضبوطی سے کھڑا ہوتا۔ پر انجیر کا پیڑ بالکل بھی فراف دل نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ اپنی بن ٹھن پر توجہ دیتا۔ وہ بہت زیادہ مغرور تھا اور اسے غرور تھا اپنے قد پر۔ اس نے کبھی کسی پرندے کو اپنے اوپر ارام نہیں کرنے دیا اور اس کے سائے میں جب بھی کوئی بیٹھتا وہ اس پر اپنے سوکھے پتے گرا دیتا۔ تمہیں کس بات کا اتنا غرور ہے۔ ہر درخت کا اپنا سایہ ہوتا ہے سمجھے۔ ایسا کیا؟ تو پھر انہیں میرے سائے میں بیٹھنے کی کیا ضرورت ہے؟ جانتے ہو کیوں؟ کیونکہ ہر درخت میری طرح عمدہ سایہ نہیں ہوتا۔ تم سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اے دفعہ ہو جاؤ۔ وہاں اس عام کے درخت کے پاس جاؤ۔ تم سب میرے بالوں کے سٹائل کو بگاڑ رہے ہو۔ لیکن تمہارے تو بال ہی نہیں ہیں۔ ٹھیک ہے۔ پھر تم میرے پتوں کے سٹائل کو گڑبڑا رہے ہو۔ کیا اب تم خوش ہو؟ چلو بھی انجیر۔ وہ صرف اپنے گھونسلوں کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ تم کبھی خود پر پرندوں کو بیٹھنے نہیں دیتے۔ وہ بہت ہی خوبصورت ہیں اور وہ بہت سریلے نغمے بھی گاتے ہیں۔ ہاہا بےکار کے نغمے اور برائے مہربانی کوئی میرے پتوں کے نزدیک نہ پھٹکے۔ وہ میرے خوبصورت ٹہنیوں کو خراب کر دیں گے۔ تم بے شک انہیں خود پر بیٹھنے دو۔ تم میرے سے ناٹے ہو اور تم ویسے بھی کچھ خاص نہیں لگتے۔ رکو زبان سنبھال کے۔ جو بات تم کر رہے ہو وہ بہت ہی بےہودھی بات ہے انجیر۔ او کوئی بات نہیں بریزی۔ مجھے ٹھس نہیں پہنچی۔ ناٹا ہونا کوئی بری بات تو نہیں ہوتی۔ میں جو ہوں اس سے بہت خوش ہوں۔ دن گزرتے گئے اور ام کے درخت اور انجیر کے درخت کے درمیان کچھ نہیں بدلا۔ جبکہ عام کا درخت پورا دن مسکراتا اور گنگناتا رہتا۔ انجیر کا درخت کسی سے مخاطب نہیں ہوتا۔ م ایک دن شہد کی مکھیوں کا ایک جھنڈ بیا بان میں ایا۔ ملکہ مکھی نے انجیر کے درخت کو دیکھا اور وہ اس سے متاثر ہوئی۔ او یہ درخت کافی بڑا اور مضبوط ہے۔ یہ ہمارے چھتے کے لیے معقول رہے گا۔ ہم یہاں اپنا چھتہ تعمیر کریں گے۔ مافی چاہوں گا۔ کس نے کہا کہ تم بنا سکتے ہو۔ مجھے اپنی پوری ٹہنیوں پر تمہاری وہ چپچپی شہد نہیں چاہیے۔ اور تم سارا دن دھن دھناتی رہو گی۔ میرے پاس کرنے کو بہتر کام ہے۔ تم ایک درخت ہو۔ ایک ہی جگہ پر جڑ سے جڑے رہتے ہو۔ تمہارے کہنے کا کیا مطلب ہے کہ تمہارے پاس بہتر کام ہے؟ جو کچھ بھی ہو۔ تم یہاں شور غل کرنے والی بھن بھناتی مکھیاں نہیں لاؤ گی۔ دیکھو انجیر وہ شہد کی مکھیاں ہیں۔ شہد کی مکھیاں قدرت کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ انہیں ہمیشہ درختوں کی ضرورت ہوتی ہے اپنے چھتے تعمیر کرنے کے لیے۔ اگر ہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کریں گے تو قدرت میں توازن کیسے قائم رہے گا بتاؤ بھلا؟ ہاں۔ اگر قدرت میری ٹہنیاں برباد کرنا چاہتی تو وہ مجھے اتنا مضبوط اور اتنا خوبصورت کبھی نہیں بناتی۔ میں قدرت کی ایک خوبصورت تخلیق ہوں۔ اس لیے میں قدرت کی خاطر خود کو بہت ہی خوبصورت بنائے رکھنے والا ہوں۔ اور تم مجھے تقریر کر رہے ہو۔ اگر تمہیں قدرت کا اتنا ہی خیال ہے تو تم انہیں رکھ لو۔ تم ان مدھومکھیوں کو خود پر ایک چھتہ بنا لینے دو۔ لیکن مجھے ان سب سے بخش دو۔ عام کے درخت کو انجیر کے درخت کے ان الفاظوں سے بہت ٹھس پہنچی۔ پر اس نے اس کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔ اس نے شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کو پکارا اور ان سے کہا کہ انجیر کے بجائے وہ اس کی ٹہنیوں پر چھتہ بنائیں۔ او تم اتنے فراغ دل ہو۔ ہم تم پر اپنا چھتہ تعمیر کرنا پسند کریں گے۔ تمہاری جانب کتنی میٹھی خوشبو اتی ہے۔ شکریہ میری ملکہ میری عزت افزائی کرنے کے لیے۔ شہد کی مکھیوں نے اپنا چھتہ عام کے درخت پر بنایا اور سکون سے رہنے لگے۔ عام کے درخت کے لیے کوئی رکاوٹ پیش نہیں ائی۔ نہ ان کے بھن بھنانے سے نہ ان کے شہد کی چپ چپاہٹ سے۔ دوسری طرف انجیر کے درخت نے لوگوں پر چلانا مسلسل جاری رکھا۔ اے تمہاری گفتگو مجھے راس نہیں ارہی۔ تھوڑا خاموش ہو جاؤ۔ تم پرندے اتنا زیادہ چہچہاتے ہو۔ کیا تمہارے لیے ہمیشہ نغمے گانا ضروری ہے۔ میں اسے اور برداشت نہیں کر سکتا۔ کچھ ہفتوں بعد دو لکڑہارے بیا بان میں ائے۔ انہیں گھر بنانے کے لیے لکڑی کی ضرورت تھی۔ انہوں نے عام کے درخت کو دیکھا اور اسے کاٹنے کا فیصلہ کیا۔ انہیں وہ اپنے کام کے لیے بالکل معقول لگے۔ پر ان میں سے ایک نے کچھ دیکھا۔ رکو یہ کیا ہے؟ یہ ایک مدھومکھی کا چھتہ ہے۔ یہ ہمیں ڈنک مارے گی اگر ہم نے ان کے درخت کو کاٹا۔ او ہاں چلو کوئی اور عام کا درخت تلاش ہے۔ لکڑہارے اگے گئے اور انہوں نے انجیر کا درخت دیکھا۔ انہیں وہ بہت پسند ایا اس کے اونچے قد کی وجہ سے۔ چلو اس کے تنے کے سب سے نچلے حصے سے شروع کرتے ہیں۔ اور اس طرح لکڑہار انجیر کے درخت کو کاٹنے لگے۔ انجیر کا درخت رونے لگا۔ وہ بیا بان چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا تھا۔ اچانک اسے پرندے اور چڑیاں یاد انے لگیں۔ اچ اس میں درد ہوتا ہے۔ وہ میرا کیا کرنے والے ہیں؟ عام کا درخت یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اس نے شہد کی مکھیوں کو پکارا سنو شہد کی مکھیوں کیا تم میں سے کوئی ہے وہاں پر؟ کہو اپ کیا ہوا؟ انجیر مصیبت میں ہے ہمیں اس کی مدد کرنی چاہیے۔ اوو معاف کرنا وہ بس خود کے بارے میں ہی سوچتا ہے۔ وہ بیا بان کی ہر چیز پر ہمیشہ ناراض رہتا ہے۔ تو ہم اس کی مدد کیوں کریں؟ بالکل اسی سبب سے جس سے میں نے اسے تمہاری مدد کرنے کے لیے کہا تھا۔ پر اس نے ملکہ کی مدد نہیں کی تھی۔ اس بات میں تو میں شہد کی مکھیوں کے ساتھ ہوں عام۔ انجیر ہمیشہ خود پر اتنا غرور کرتا رہتا ہے اگر اس نے خود پر شہد کی مکھیوں کا چھتہ بننے دیا ہوتا تو لکڑہاروں نے اسے اکیلا چھوڑ دیا ہوتا۔ اسے کچھ نہیں ہوتا۔ اسے وہی مل رہا ہے جس کے وہ قابل ہے۔ نہیں بریزی۔ انجیر نے ہمارے ساتھ جیسا بھی سلوک کیا ہو۔ ہمیں اس کے ساتھ ویسا نہیں کرنا چاہیے۔ صرف اس لیے کہ کوئی ہم سے گستاخی کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں بھی اس سے گستاخی کرنی چاہیے۔ یہ بیا بان ہم سب کا ہی گھر ہے۔ ہم انجیر کو اس حال میں نہیں چھوڑ سکتے جب اسے ہماری سب سے زیادہ مدد چاہیے۔ ام صحیح کہہ رہا ہے۔ ہمیں انجیر کی مدد کرنی ہوگی۔ اؤ میرے دوستو باہر اؤ۔ انجیر کے پیڑ کو ہماری سہا کی ضرورت ہے۔ تمام شہد کی مکھیاں چھتے سے باہر نکل کر ائیں اور لکڑہاروں کی طرف اڑی۔ وہ ان کے کانوں اور انکھوں کے پاس بھن بھنانے لگیں۔ ا مجھے کچھ نظر نہیں ا رہا ہے۔ کیا کہا تم نے اب مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا ہے۔ ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا یہ مکھیاں ہمیں ڈنک مار رہی ہیں بہت دردناک ہوگا۔ چلانا بند کرو تم وہ ہو جو جسے سنائی نہیں دیتا۔ میں نہیں چلو یہاں سے نکلتے ہیں چلو۔ لکڑہاروں کے جانے کے بعد انجیر کا درخت اپنے سلوک کے لیے بہت شرمندہ ہوا۔ میں بہت شرمندہ ہوں مکھیوں۔ میرے اس طرح سے پیش انے کے باوجود بھی تم لوگوں نے میری مدد کی۔ ہمارا شکریہ نہ ادا کرو۔ آپ کا شکریہ کرو۔ تم کبھی اس سے بات نہیں کرتے۔ تم ہمیشہ اس سے گستاخی سے پیش اتے ہو۔ پر وہ ہی ہے جس نے ہمیں منایا تمہاری مدد کرنے کے لیے۔ سچ مچ۔ عام میں بہت شرمندہ ہوں۔ مجھے اپنی غلطی کا علم ہو گیا ہے۔ ہم سب میں صلاحیتیں ہیں۔ ہم سب اپنے اپنے طریقوں میں خاص ہیں۔ میں کبھی غرور نہیں کروں گا اور کبھی کسی کی اس طرح سے بےعزتی نہیں کروں گا۔ مہربانی کر کے تم سب مجھے معاف کر دو۔ انجیر کے درخت نے اپنا سبق سیکھ لیا تھا۔ اس دن کے بعد سے وہ کبھی چیخا نہیں ہوا پر یا چڑیاں پر۔ وہ عام کے درخت کے ساتھ گاتا اور اس نے خود پر چڑیوں کو گھونسلہ بنانے دیا۔ انجیر کا درخت اور ام کا درخت ہمیشہ سچے دوست بنے رہے۔
Watch on YouTube
Share
MORE TRANSCRIPTS



