[0:03]السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اللہ رب العزت نے ہم سب کو رمضان کے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائی۔ تراویح پڑھنے کی توفیق عطا فرمائی۔ قران مجید کی تلاوت کی توفیق عطا فرمائی۔ اور دوسری عبادات اللہ رب العزت نے توفیق عطا فرمائی۔ اللہ نے قران مجید کی اس ایت میں یہ نظام بتایا کہ انسان زندگی میں جو کوئی عمل کرتا ہے۔
[1:15]اگر وہ اچھا عمل ہوتا ہے تو اس کا ثواب اللہ تعالی اخرت میں عطا فرماتا ہے۔ اگر یہ انسان سے گناہ سرزد ہو جاتا ہے تو اس کی سزا اللہ اخرت میں دیتا ہے۔ روزہ رکھا اپ نے اس کی جزا اللہ تعالی خود عطا فرمائیں گے۔ صوملی وازہ بھی روزہ میرے لیے ہے میں اس کی جزا خود دوں گا اخرت میں۔ روزے دار باب ریان سے داخل ہوں گے جنت میں جنت کے ایک دروازے کا نام ریان کا معنی خوب سیراب کرنے والا۔ تو یہ بندے نے دنیا میں بھوک پیاس محسوس کی تھی۔ اب اس بندے کو اخرت کے اندر ایسے دروازے سے جنت میں داخل کیا جائے گا کہ پھر اس کو کبھی پیاس نہیں لگے گی ہمیشہ ہمیشہ۔ یہ سب اللہ تعالی اخرت میں عطا فرمائے گا۔ جو اج کی نشست میں بات عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالی انسان کے اعمال کا اثر دنیا میں دکھاتا ہے۔ اجر اللہ اخرت میں دیتا ہے۔ یہ اثر اور اجر دونوں میں فرق ذہن میں رکھنا ہو گا۔ اجر اخرت میں اور اچھے اعمال کا اثر اللہ دنیا میں دکھاتا ہے۔ برے اعمال کے اثرات بھی دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں گناہوں کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں وہ ایک الگ موضوع ہے۔ اس پر علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے ایک کتاب پوری لکھی۔ الدواہ شافی ایک ایک گناہ کا لکھا کہ کس گناہ کا اثر دنیا میں کیا ہوتا ہے اخرت میں تو ہے عذاب۔ وہ ایک الگ موضوع ہے۔ اج کی نشست میں صرف یہ عرض کرنا ہے کہ انسان جو نیک اعمال کرتا ہے۔ اس کا اجر اللہ اخرت میں عطا فرماتا ہے لیکن نیک اعمال کے اثرات اللہ دنیا میں انسان کو دکھاتا ہے۔ ظاہر کر کے چھوڑتا ہے۔ اپ نماز پڑھیے اللہ تعالی نے قران مجید میں بتایا کہ نماز پڑھنے کے اثرات انسان کی زندگی میں اس کی انکھوں کے سامنے اس کے اوپر ظاہر ہوتے ہیں۔ اکیسویں پارے کی پہلی ایت پڑھیے گا۔ اقامت انصلات۔ نماز قائم کیجئے۔ صلوۃ تنہا عن الفحشا والمنکر کیونکہ نماز بے حیائیوں اور برائیوں سے روکتی ہے۔ کہاں دنیا میں اخرت میں بہت سیدھی سی بات دنیا میں یہ اللہ نے خود اثر بتایا ہے۔ انسان نماز پڑھتا ہے وہ بے حیائیوں برائیوں سے یہ نماز اس کو روکتی ہے اس کا اثر دنیا میں ظاہر ہوتا ہے۔ ایک صحاب ائے وہ کہنے لگے کہ نماز تو میں پڑھتا ہوں۔ اس موضوع پر بات جمعے میں چلی۔ کہ نماز کے اثرات ہوتے ہیں۔ کہنے لگے جی کہ اپ نے تو بڑا زور دیا کہ نماز بے حیائیوں برائیوں سے روکتی ہے لیکن مجھے تو نہیں روکتی۔ کسی اور کا بھی نہیں کہا۔ یعنی میں ادھر نماز پڑھتا ہوں ادھر سے بے حیائی گناہ کے کام بھی مجھ سے ہوتے ہیں وہ یوں کہنا چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ میں یہ کہوں گا کہ ہماری نمازیں ایسی نہیں رہیں ان میں تاثیر نہیں رہی ان کے اندر خوش و حضو نہیں رہا ہماری وہ نمازیں نہیں ہوتی اس لیے اثر نہیں ہوتا۔ ان کا خیال تھا میں یہ جواب دوں گا۔ اس جواب کا مطلب کیا ہے؟ لوگ کیا سمجھتے ہیں؟ لوگ کہتے ہیں ٹھیک ہے نماز بھی پڑھتے رہو وہ بھی کرتے رہو کیونکہ ہماری نمازیں میں یار کی نہ ہو سکتی ہیں نہ ہوں گی چلو وہ بھی کرتے رہو یہ بھی کرتے ہو۔ لیکن ان کو جو جواب دیا نا اس کو ان کو اس جواب کی توقع نہیں تھی۔ جب انہوں نے کہا نا کہ میں نماز پڑھتا ہوں مجھے تو نماز بے حیائیوں برائیوں سے نہیں روکتی۔ تو میں کانپتے رہ گیا۔ اس لیے کہ اللہ قران میں کہہ رہا ہے کہ الصلات تنہا عن الفحشا والمنکر کہ بے شک نماز بے حیائیوں سے برائیوں سے روکتی ہے۔ اور یہ بندہ میرے سامنے بیٹھ کے کہتا ہے مجھے نہیں روکتی۔ میں کانپا کیوں ہل کیوں گیا اندر سے اس لیے کہ اللہ نے قران میں کہا ہے ومن اللہ اللہ سے زیادہ کون سچا ہو سکتا ہے۔ اللہ کہہ رہا ہے روکتی ہے نماز بے حیائیوں برائیوں سے یہ کہتا ہے مجھے نہیں روکتی۔ اب ان صاحب سے پوچھا میں نے کہا اپ نماز پڑھتے ہیں کہتا ہے جی ہاں اپ غور سے سنیے گا یہ اپ کے ساتھ بھی ہو گیا۔ جو جواب دینے لگا ہوں۔ میں نے کہا اپ نے نماز پانچ وقت پڑھتے ہیں کہتا جی ہاں میں پانچ وقت نماز پڑھتا ہوں میں نے کہا ابھی کون سی نماز پڑھی کہتا ہے جمعے کی نماز میں نے کہا میرے پیچھے جمعے کی نماز پڑھی کہتا ہے جی ہاں میں نے کہا ابھی خطبہ سنا کہتا ہے جی ہاں کوئی تقریر بھی سنی ہے کبھی سوال کر رہا ہوں۔ ان کا اچھا اپ نے میرے پیچھے جمعے کی نماز پڑھی کہتے جی ہاں میں نے کہا یہ جمعے کی نماز میرے پیچھے پڑھتے ہوئے اس دوران اپ نے کون کون سا بے حیائی کا کام کیا اور کون سا برا کام کیا۔ کہنے لگا توبہ توبہ توبہ اپ کے پیچھے نماز پڑھتے میں نے ایک بھی حیائی کا کام برا کام نہیں کیا تو میں نے کہا نماز نے روک لیا نا بے حیائیوں برے کاموں سے۔ اتنی دیر تک روکا جتنی دیر اس نے نماز پڑھی۔ من اسبک اللہ سے زیادہ کون سچا ہو سکتا ہے اللہ کہتا ہے نماز روکتی ہے بے حیائیوں برائیوں سے۔ اس لیے میں نے عرض کیا اپ سب کے ساتھ ہوا اپ جتنی دیر تراویح پڑھتے رہے جتنی دیر نمازیں پڑھتے رہے اللہ نے روکا بے حیائیوں برے کاموں سے اور جو نوجوان خاص طور پر نوجوان کی بات کروں گا کہ جو نوجوان پانچ وقت نماز پڑھنے کی فکر کرتا رہا رمضان میں۔ صرف یہ فکر کہ میں نے پانچ وقت نماز پڑھنی ہے اس نے اپنے بدن کو اپنے کپڑوں کو پاک رکھا صرف نماز پڑھنے کی فکر نے اس کو سینکڑوں گناہوں سے بچائے رکھا۔ نماز اپنا اثر دکھاتی ہے۔ اپ جتنا مرضی زور لگا لیں۔ نماز بے حیائیوں برائیوں سے روکتی ہے اس دنیا میں۔ انسان کے اعمال کا اثر اللہ دنیا میں دکھاتا ہے۔
[7:21]یہ انسان زکوۃ دیتا ہے صدقات دیتا ہے۔ اس کا اثر اللہ دنیا میں دکھاتا ہے اخرت میں ثواب ملے گا انشاءاللہ۔ دنیا میں اثر دکھاتا ہے۔ اللہ نے قران میں کہا ہے۔ اللہ سود کو مٹاتا ہے صدقات زکوۃ کو بڑھاتا ہے یہ انسان زکوۃ ادا کرتا ہے بظاہر مال کم ہوتا ہے اللہ بڑھا کے دکھاتا ہے۔ برکت دکھا دے۔
[7:51]یہ انسان روزہ رکھتا ہے اللہ نے خود قران میں کہا کہ اس پر اس کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ روزے کا ثواب اخرت میں۔ اس کے اثر اللہ دنیا میں ظاہر کر کے دکھاتا ہے۔ جو روزے کی فرضیت کی ایت ہے اس میں اللہ نے وہ اثر بھی بتایا ہے۔ یا ایہ الذین امنوا علیکم تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ متقی بن جاؤ۔
[8:29]کہاں دنیا میں اخرت میں بہت اسان سی بات دنیا میں۔ روزے کا اثر دنیا میں ظاہر ہوتا ہے کہ انسان متقی بن جاتا ہے پرہیزگار بن جاتا ہے۔ گناہوں سے بچنے والا بن جاتا ہے۔ کتنا متقی بن جاتا ہے یہ روزے کے اندر۔ تقوی کا اثر دیکھیے گا۔ کہ بند کمرے کے اندر اپ میں سے ہر ایک کے ساتھ ہوا ہے یہ۔ ہر ایک پر یہ تقوی کے اثرات ظاہر ہوئے ہیں۔ کہ بند کمرے کے اندر اپ میں سے ہر ایک کو کئی بار موقع ملا کھانے کا پینے کا۔ پھل بھی رکھے ہوتے تھے۔ پانی بھی رکھا ہوتا تھا۔ کھانے کی چیزیں رکھی ہوتی تھیں۔ اللہ کی نعمتیں گھر میں موجود ہوتی تھی۔ کوئی دیکھ بھی نہیں رہی ہوتا کوئی دیکھ بھی نہیں رہا ہوتا۔ کوئی اسے مراد کوئی انسان اس کے باوجود اپ نے تنہائی میں بھی حلال چیز نہیں کھائی۔ تنہائی میں بھی حلال پانی نہیں پیا۔ صرف یہ ارادہ یہ نیت کہ میں نے صبح سے لے کے شام تک کھانا پینا نہیں ہے۔ اس روزے کی نیت نے بند کمرے کے اندر ہم سب کو حلال کھانے سے روکا پورا مہینہ اللہ نے تربیت کر دی ہے۔ اے بندے بند کمرے کے اندر حلال کھانے سے جس قوت ایمانی نے تجھے پورا مہینہ روکے رکھا حلال کھانے سے حلال پینے سے۔ وہ قوت ایمانی وہ قوت ارادی باقی گیارہ مہینے بھی تجھے حرام سے روک سکتی ہے تو کہہ نہیں سکتا کہ میں مجبور ہوں بے بس ہوں۔ اللہ نے تربیت کی انسان کی انسان کو متقی بنایا۔ روزے کا اثر تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ۔ دوسرا اثر اللہ نے بتایا ان ایات میں تاکہ تم شکر گزار بندے بن جاؤ۔ روزہ رکھتا ہے انسان اس کے اندر سے شکر نکلتا ہے۔ جب تک نعمتیں انسان کے پاس ہوتی ہیں انسان شکر نہیں کرتا جب نعمتیں تھوڑی دیر کے لیے روک لی جاتی ہیں پھر انسان کے دل سے شکر نکلتا ہے ایک گھونٹ پانی پی کے ایک کھجور کھا کے۔ اس وقت خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بتایا یہ روزے دار کو جو خوشی ہوتی ہے یہ دنیا میں حاصل ہوتی ہے۔ اخرت میں خوشی ہے اور۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں روزے دار کے لیے دنیا کی خوشی بھی بتائی اخرت بھی اب دیکھیے گا روزے دار پر کیا اثر ہوتا ہے روزے کا دنیا میں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ روزے دار کو دو خوشیاں نصیب ہوتی ہیں۔ ایک خوشی افطار کے وقت ظاہر ہے دنیا میں۔ روزے کا اثر دنیا میں ظاہر ہوتا ہے کہ اپ کو افطار کے وقت خوشی ہوتی ہے۔ اور یہ افطار کے وقت جو خوشی ہوتی ہے اپ کو پورا مہینہ خوشی ہوتی رہی ہے یہ کھانا کھلنے کی خوشی نہیں ہوتی تھی یہ کچھ اور خوشی ہوتی تھی۔ اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد جس خوشی کا ذکر فرمایا وہ غور سے سننے والی ہے۔ کہ روزے دار کو دو خوشیاں نصیب ہوتی ہیں۔ ایک خوشی افطار کے وقت دنیا میں اور ایک خوشی اس کو ملے گی رب سے ملاقات کے وقت جنت میں۔ جو جنت کی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت دیدار الہی۔ جنت خود اپنی زبان سے کہے گا اللہ اب اس کے بعد کسی چیز کی ضرورت نہیں رہی۔ اتنی بڑی نعمت اس روزے دار کو ملے گی۔ روزے کا اثر دنیا میں ظاہر ہوتا ہے۔ یاد رکھ لیجیے گا اپ کسی کو سلام کرتے ہیں نا ہر نیک عمل کا اثر ہوتا ہے۔ دنیا کے اندر اخرت میں ثواب ملتا ہے اپ کسی کو سلام کرتے ہیں اس کا اثر ہوتا ہے۔ صرف سلام اس کا اثر دنیا میں ظاہر ہوتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اثر بتایا ہے۔ یہ انسان کسی کو کھانا کھلاتا ہے۔ اس پر اثر ہوتا ہے دنیا میں۔ یہ انسان کسی کو ہدیہ تحفہ دیتا ہے۔ اپ عیدی دیں گے بچوں کو۔ اس کا اثر ہوتا ہے دنیا میں۔ اخرت میں اللہ ثواب دے گا اجر دے گا انشاءاللہ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صحابہ سے کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں تم کرو تو تمہیں اپس میں محبت ہو جائے۔ صحابہ نے کہا بلا یا رسول اللہ ارشاد فرمائیے۔ فرمایا اسلام ایک دوسرے کو خوب سلام کیا کرو ایک دوسرے کو کھانا کھلایا کرو اس سے محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ اپ دوسرے کو سلام کیجئے اس سے محبت پیدا ہوگی دنیا میں اخرت میں بہت اسان سی بات دنیا میں۔ معلوم ہوا سلام کرنے کا اثر دنیا میں ظاہر ہوتا ہے۔ اپس میں محبت پیدا ہوتی ہے۔ نفرت ختم ہوتی ہے۔ ناراضگی دور ہوتی ہے۔ اپ دوسرے کو کھانا کھلائیے۔ سادہ سا کھانا کھلا دیجیے۔ چھ می ایک تھوڑی سی کھلا دے تھوڑی سی مٹھائی کھلا دے ایک کھجور کھلا دے۔ کھانا کھلا دو۔ اپس میں محبت پیدا ہوگی دنیا کے اندر اثر ہوتا ہے کھانا کھلانے کا اثر۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو اسے محبت پیدا ہوتی ہے دنیا میں اثر ظاہر ہوتا ہے۔ اور دوسرا اثر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جامع ترمذی کی حدیث میں بتایا۔ تم ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو تحفہ دیا کرو کیونکہ ہدیہ اور تحفہ یہ پرانے غصے کو اندر سے نکال کر باہر رکھ دیتا ہے۔ سچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دو رشتہ دار ناراض ہو۔ دو دوست ناراض ہو۔ قطع تعلقی سے بچنے کے لیے تین کام کر لیجیے بس۔ اللہ اس کو راضی کر کے چھوڑے گا سچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک اس کو سلام کرتے رہیے۔ کتنا ناراض ہو بندہ کتنا رشتہ دار ناراض ہو۔ کوشش کر کے دیکھ لیں اج سے ایک سلام کر کے ایک اس کو کھانا کھلا دیا کریں۔ ایک اس کو ہدیہ تحفہ کبھی کبھی دے دیا کریں۔ اس کا سارا غصہ ختم ہو جائے گا نفرتیں ختم ہو جائیں گی۔ نیک اعمال کے اثرات ہوتے ہیں انسان کی زندگی میں۔ اللہ دکھاتا ہے۔ یہ انسان بچپن میں کوئی عمل کرتا ہے اللہ اس کا اثر جوانی میں دکھاتا ہے یہ جوانی میں کوئی کام کرتا ہے خود اپنی زندگی میں اللہ اس کا اثر خود اس کے بڑھاپے میں دکھاتا ہے نیک اعمال کا اثر۔ یہ زندگی میں نیک اعمال کرتا ہے اللہ ائندہ نسلوں میں اس کے اثرات دکھاتا ہے یہ اللہ کا نظام ہے۔ بچپن میں نیک عمل کرتا ہے اللہ اس کا اثر جوانی میں دکھاتا ہے۔ ایک بچہ مدرسے میں جاتا ہے استاد صاحب اس کو کہتے ہیں پڑھو بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ وہ الف باسا پڑھاتے ہیں پھر پوچھتے ہیں بیٹا کوئی سورتیں یاد ہیں چھوٹی چھوٹی سورتیں بچوں سے پوچھتے ہیں اپ کو کوئی صورت بھی یاد ہے داخلے کے وقت۔ تو بچہ کہنے لگا مجھے پندرہ پارے زبانی یاد ہے۔ الف باسا دیکھ کر نہیں پڑھ سکتا۔ کہتا ہے مجھے پندرہ پارے زبانی یاد ہے۔ باپ نہیں تھا انتقال ہو چکا۔ ماں کو بلایا تاریخ کا حصہ ہے ماں کو بلایا۔ یہ کیا ہے اس کو تو الف باسا دیکھ کر نہیں یاد۔ پندرہ پارے زبانی یاد۔ ماں کہتی ہاں یہ ٹھیک کہتا ہے۔ ماں کہتی ہے مجھے پندرہ پارے زبانی یاد تھے۔ تو میں جب اس کو سلاتی تھی لوری دیتی تھی تو بجائے گانے اور گیت اور نغمے سنانے کے میں ہل ہل کے قران پڑھا کرتی تھی۔ اس کو وہ پندرہ پارے زبانی یاد ہوتے تھے۔ پریشان نہ ہوئیے گا اچھا مولا یہ اونچی اونچی باتیں نہ کیا کریں اتنی پندرہ پارے یاد ہو گئے۔ اگر یہ باتیں اونچی لگیں تو اپنے گھروں میں جا کر اپنے بچوں کو دیکھیے چھوٹے چھوٹے نرسری کے جی کے بچوں کو پندرہ پندرہ انگلش کی پوینز یاد ہیں جس کا ترجمہ بھی اس کو نہیں اتا۔ بی اے پاس بھی اس کا ترجمہ نہیں کر سکتا۔ جس پر ہم نے محنت کی ہے وہ بچوں نے حاصل کر لیا ہے فکر نہ کریں۔ کوئی اونچی باتیں نہیں ہیں۔ مشکل مشکل انگلش کی اپ میں یاد ہیں ہمارے بچوں کو نہیں اتا تو کلمہ نہیں اتا۔ نماز نہیں اتی۔ محنت نہیں ہوئی۔ لیکن جہاں محنت ہوتی ہے کہ ماں ایسی پندرہ پارے اس کو زبانی یاد وہ لوڑیاں دیتی تھی اثر کیا ہوا بچے کو یاد ہو گیا۔ ایک اثر تو یہ ہوا۔ بچے کو یاد ہو گیا۔ میں نے کہا بچپن کے اعمال کا اثر اللہ جوانی میں ظاہر کر کے دکھاتا ہے یہی بچہ جب جوان ہوا تو ہمارے بزرگوں کی تصوف کے سلسلے میں بہت بڑے بزرگ خواجہ بختیار کاکی رحمہ اللہ یہ ان کا بچپن تھا۔ یہ ان کا بچپن تھا یہ بچہ بڑے ہو کر خواجہ بختیار کاکی رحمہ اللہ بنا۔ جب ماں ایسی بچے ایسے جب بچپن ایسا جوانی ایسی اللہ اثر کر کے دکھاتا ہے۔ لا کر دیکھیے اپنے بچوں کو نماز کی طرف لا کر دیکھیے اپنے بچوں کو اچھے اخلاق کی طرف ان کے اعمال کا اثر ظاہر ہو گا ان کی زندگی میں۔ میں نے عرض کیا جوانی میں انسان اعمال کرے اچھے اس کا اثر اس کے بڑھاپے میں خود اس کے بڑھاپے میں ظاہر ہوتا ہے۔ حدیث سنانے لگا ہوں۔ جامع ترمذی کی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
[18:22]جو نوجوان کسی بوڑھے کی عزت اس کے بڑھاپے کی وجہ سے کرتا ہے۔ جو نوجوان کسی بوڑھے کی عزت اس کے بڑھاپے کی وجہ سے کرتا ہے۔ اللہ اس نوجوان کے بڑھاپے میں ایک نوجوان کو مقرر کر دیتے ہیں جو اس کی عزت کرتا ہے۔ مکافات عمل ہے۔ اللہ کا نظام۔ اللہ کا نظام۔
[18:48]انسان کی جوانی کا عمل اچھے اعمال اس کے اثرات خود اس کے بڑھاپے میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اج انسان چاہتا ہے کہ میرے مال میں اضافہ ہو میری عمر میں اضافہ ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے طریقے بتائے دیکھیے گا نیک اعمال کے اثرات کیا ظاہر ہوتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے رزق میں اضافہ کیا جائے اور اس کی عمر میں تاخیر یعنی اس کی موت میں تاخیر یعنی عمر میں اضافہ کیا جائے۔
[19:28]جو بندہ یہ پسند کرتا ہے اس کے رزق میں اضافہ کیا جائے اور اس کی عمر میں تاخیر یعنی اس کی موت میں تاخیر یعنی عمر میں اضافہ کیا جائے۔
[19:50]تو اسے چاہیے وہ صلہ رحمی کرے رشتوں کو جوڑ کے رکھے۔
[19:57]وہ رشتوں کو توڑتا ہے اللہ اس کو توڑ دیتا ہے۔ یہ حدیث حدیث قدسی۔ جامع ترمذی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے رحم لفظ رشتہ کو۔ لفظ رحم کو میں نے رحمن سے بنایا ہے۔ رحمن میں بھی رحم ہی۔ میں نے رحم یعنی رشتے کے لفظ کو میں نے رحمن سے بنایا۔ جو اس کو جوڑ کر رکھتا ہے میں اس کو بھی جوڑ کر رکھتا ہوں اللہ کہہ رہا ہے حدیث قدسی میں اس کو بھی جوڑ کے رکھتا ہوں اور جو رشتوں کو توڑتا ہے میں اس کو بھی توڑ کے رکھ دیتا ہوں۔
[20:42]معلوم ہوا جو رشتوں کو جوڑتا ہے اللہ اس کو جوڑ کے رکھتا ہے۔ اور رشتوں کو جوڑنے کے لیے تین بنیادی اصول اپس میں سلام کرتے رہیں۔ اپس میں ایک دوسرے کو کھانا کھلاتے رہیں اپس میں ایک دوسرے کو ہدیہ تحفہ دیتے رہیں۔ جو بندہ یہ تین کام کرتا ہو وہ ترک تعلق کا ارتکاب نہیں کر رہا بلکہ صلہ رحمی کا ارتکاب کر رہا ہے۔ بہت اسان بات دین بہت اسان۔ اور پھر یہ بندہ اپ کے ذہن میں بھی ائے گا کہ جی یہ تو عمر میں اضافہ اور رزق میں اضافہ یہ کیسے یہ تو جو ہونا تھا وہ ہو چکا جو طے ہونا تھا وہ طے ہو چکا عمر بھی طے ہو چکی رزق بھی طے ہو چکا اضافہ کہاں سے تو بعض محدثین نے لکھا کہ اس سے مراد جو ہے وہ برکت ہے خیر ہے۔ لیکن ایک محدث نے تو کھل کے لکھا کہ نہیں جو شخص صلہ رحمی کرتا ہے جو رشتوں کو جوڑ کے رکھتا ہے۔ واقعی اس کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے اس کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے اب سوال ہوا کہ وہ تو تقدیر میں طے ہو چکا تھا اضافہ کہاں سے ہو گا۔ تو محدث نے جواب یہ لکھا محدث نے لکھا یہ بات درست ہے کہ تقدیر میں لکھا ہوا تھا کہ اس بندے کی اتنی عمر اس بندے کا اتنا رزق لیکن تقدیر میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ یہ صلہ رحمی کرے گا رشتوں کو جوڑ کے رکھے گا اس لیے اس کی رزق میں بھی اضافہ کر دیا جائے اس کی عمر میں بھی اضافہ کر دیا جائے تو یہ اضافہ بھی تقدیر میں لکھا ہوا ہے۔
[22:06]تبدیلی نہیں ہوئی۔ پہلے سے لکھا ہوا تھا۔ اور اخیر میں اللہ نے جو قران مجید میں اصول بتایا یہ والا کہ انسان زندگی میں جو اعمال کرتا ہے اس کے اثرات اس کی زندگی میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اخرت میں اللہ اجر و ثواب دیتا ہے ایک ہی ایت میں اللہ نے بتایا جو شروع میں تلاوت کی اللہ نے توفیق دی۔ اصول بتایا اللہ نے قران میں یہ والا۔ جو کوئی مرد یا عورت نیک اعمال کرتا ہے اس حال میں کہ وہ ایمان والا ہو۔
[23:01]ایمان والا نہیں ہے تو نیک اعمال کرتا ہے اس کا بدلہ اللہ دنیا میں دے دیتا ہے اخرت میں کچھ نہیں۔ نجات کے لیے ایک ایمان ضروری ہے ایک عمل ضروری ہے۔ جو بندہ تم میں سے مرد ہو یا عورت ہو نیک اعمال کرے گا اس حال میں کہ ایمان والا ہو۔
[23:20]تو ہم اس کو پاکیزہ زندگی دنیا میں دیں گے۔
[23:28]ہم اس کو دنیا میں پاکیزہ زندگی دیں گے۔ اور اس کے اعمال کا بہترین بدلہ اس کو اخرت میں عطا کریں گے۔ ایک ہی ایت میں اللہ نے بتایا کہ انسان دنیا میں بھی نیک عمل کرتا ہے اللہ اس کا اثر ظاہر کرتا ہے۔ یہ انسان دنیا میں جو عمل کرتا ہے گناہ کرتا ہے اس کے بھی اثرات وہ اج کا موضوع نہیں۔ اس کے لیے الگ کتابیں لکھی بہت ساری وہ الگ موضوع اج کے خوشی کے موقع پر صرف یہ موضوع کہ بندہ اچھے عمل کرتا ہے اس کا اثر ہوتا ہے۔ اپ کسی کو سلام بھی کرتے ہیں اس کا اثر ہوتا ہے۔ اپ کسی کو کھانا بھی کھلاتے ہیں اس کا اثر ہوتا ہے۔ اپ کسی کو ہدیہ دیتے ہیں اس کا بھی اثر ہوتا ہے اپ نماز پڑھتے ہیں اس کا بھی اثر ہوتا ہے اپ روزہ رکھتے ہیں اس کا بھی اثر ہوتا ہے ہر نیک عمل کا اللہ نے اثر رکھا ہے دنیا کے اندر اخرت میں اجرہ۔ اللہ رب العزت ہمیں ساری زندگی نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ اس کے اثرات اللہ دنیا میں عطا فرمائے۔ اور اخرت میں اس کا اجر و ثواب عطا فرما دے اور اللہ سب کے روزوں کو سب کی نمازوں کو سب کی تلاوت کو اللہ سب کچھ قبول فرما لے۔ اب عید الفطر کی نماز کا وقت ہوا چاہتا ہے اس کا طریقہ بتا دیں پھر اس کے بعد صفحے ترتیب دے لیجئے گا۔ عید الفطر کی نماز اس کی نیت کر لیجئے گا کہ میں دو رکعت عید الفطر کی چھ واجب تکبیروں کے میں یہ نماز ادا کرتا ہوں امام کے پیچھے اور پھر اس کے بعد اپ نماز کا طریقہ بہت اسان سا ہے۔ سب سے پہلے امام اللہ اکبر تکبیر تحریمہ کہیں گے اپ ہاتھ باندھ لیں گے تکبیر تحریمہ کہہ کے سبحان اللہ بھی پڑھیں گے امام بھی پڑھے گا۔ اس کے بعد امام تین دفعہ اللہ اکبر کہے گا کانوں تک ہاتھ اٹھائیں گے اور اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ کو چھوڑ دیں گے تین مرتبہ۔ تیسری مرتبہ کے بعد ہاتھ باندھ لیں گے۔ پھر امام صورت فاتحہ پڑھے گا سورت پڑھے گا ایک رکعت مکمل کرے گا رکوع سجدہ کر کے پھر امام جب کھڑا ہو گا تو پہلے امام صورت فاتحہ پڑھے گا۔ پھر سورت پڑھے گا۔ پھر رکوع میں جانے سے پہلے تین تکبیرات کہے۔ اسی طرح ہاتھ اٹھا کر تین دفعہ چھوڑ دیں گے اور چوتھی تکبیر پہ اپ رکوع میں چلے جائیں گے سجدہ کریں گے تشہد پڑھیں گے نماز مکمل ہو جائے گی۔ تو بالکل جیسے جمعے کی نماز پڑھتے ہیں ویسے ہی ہے۔ فرق کتنا ہے؟ پہلی رکعت میں صورت فاتحہ سے پہلے تین تکبیریں۔ اور دوسری رکعت میں رکوع میں جانے سے پہلے تین تکبیریں بس اسان سی بات۔ اور پھر اس کے بعد خطبہ ہوتا ہے خطبہ سننا واجب ہے خطبہ دینا سنت ہے اور اس کے بعد دعا پھر اس کے بعد عید کی نماز۔



