[0:00]ایک ہی رات میں ایف بی آر نے پانچ ایس آر او جاری کیے ہیں جس کے بعد انہوں نے پراپرٹی کی جو ویلیویشن ہے وہ پانچ شہروں میں بڑھا دی ہے۔ اب یہ جو پراپرٹی کی ویلیویشن جو ہے وہ بڑھائی گئی ہے اس کا کیا میکنزم ہے؟ یہ کیوں بڑھائی گئی ہے اور اس سے جو ہے وہ کیا ایفیکٹ ہو گا؟ یہ ساری باتیں میں آج آپ کو اپنی ویڈیو میں بتاؤں گا۔ اپنی ویڈیو شروع کرنے سے پہلے میں آپ سے ریکویسٹ کروں گا میرے فیس بک پیج کو لائک کریں یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں دوسرا یہ کہ اگر کسی کو ویلیوشن ٹیبل چاہیے تو نیچے کمنٹ سیکشن میں جو ہے وہ میرے واٹس ایپ چینل کا لنک آ رہا ہے وہاں سے آپ جو ہے وہ اس کو حاصل کر سکتے ہیں۔ تو ایف بی آر نے یہ کیا ہے کہ یہ پانچ شہر ایسے ہیں جس کی ویلیویشن میں جو ہے وہ انہوں نے اضافہ کر دیا ہے بہت زیادہ۔ اب یہ جو ویلیویشن ہے یہ پراپرٹی کے جو ریٹس ہیں اس کے اندر کی گئی ہے۔ اور وہ جن شہروں میں کی گئی ہے اس میں نمبر ون کے اوپر جو ہے وہ ملتان ہے، اس کے بعد سیالکوٹ، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور اسلام آباد۔ اب ان پانچ شہروں میں جو انہوں نے ویلیویشن میں فرق کیا ہے اس کی جو وجہ ہے وہ یہ ہے کہ ادھر جو پراپرٹی کے ٹیکس کو جو کیلکولیٹ کیا جاتا ہے جب کوئی پراپرٹی سیل ہوتی ہے یا پرچیز ہوتی ہے اس میں دو ٹیکسز پے کرتے ہیں۔ ایک جو بائر ہوتا ہے وہ 236K ٹیکس پے کرتا ہے اور جو سیلر ہوتا ہے وہ 236C کا ٹیکس پے کرتا ہے۔ اب ان ٹیکسوں کی جو کیلکولیشن ہے اس کو جو اس کا جو فارمولا ہے وہ اس طریقے سے ہے کہ ایک بندہ جس ریٹ پہ رجسٹری کروا رہا ہے۔ ایک شخص جو ہے وہ ہو سکتا ہے کہ رجسٹری جو ہے وہ او ڈی سی ریٹ پہ کروائے۔ دوسرا جو ہوتا ہے وہ کہتا ہے کہ نہیں یار میں نے ایف بی آر ریٹ کے اوپر کروانی ہے۔ تیسرا کہتا ہے نہیں یار جتنے کی میں پراپرٹی خرید رہا ہوں میں نے اس کو مارکیٹ ریٹ کے اوپر ہی جو ہے وہ کروانا ہے۔ تو یہ جو ویلیوشن ہوتی ہے اس کے اوپر بیسیکلی ہم اس کو ایف بی آر کا ریٹ بھی کہتے ہیں۔ اس پہ 236 کے اور 36 سی جو ہے وہ کیلکولیٹ کرنا ہوتا ہے۔ تو گورنمنٹ اس بات کا جو ہے وہ اصولی فیصلہ کر چکی تھی کہ آئی ایم ایف نے جس طرح کہا ہے کہ آپ جو ایف بی آر کی ویلیو ہے اس کو آپ مارکیٹ ویلیو کے جو ہے وہ ایکولنٹ لے کے آئیں یا اس کے ایٹ لیسٹ 90 فیصد کے پیرامیٹر میں لے کے آئیں۔ تو اسی چیز کو جو ہے وہ انہوں نے امپلیمنٹ کرتے ہوئے پانچ شہروں میں جو ہے یہ پانچوں بڑے شہر ہیں اس کے بعد کچھ چھوٹے شہر رہ جاتے ہیں یا دوسرے شہر ہیں۔ تو اس کے اندر جو ہے انہوں نے ویلیویشن جو ہے وہ اس کی بڑھا دی ہے۔ اب اس سے ہو گا یہ کہ جو 236 کے اور 236 سی کا جو ٹیکس ہے جب وہ کیلکولیٹ ہو گا تو پرسنٹیج تو ابھی انہوں نے انکریز نہیں کی ہے۔ کیونکہ وہ تو 10 جون کو جب بجٹ آئے گا اس کے بعد اس چیز کا فیصلہ ہو گا کہ یکم جولائی سے یہ ریٹس بڑھنے ہیں یا کم ہونے ہیں۔ لیکن اس میں یہ ضرور ہو گیا کہ جو ابھی ال ریڈی ایگزسٹنگ ریٹس ہیں اس کے اندر جو اضافہ ہوا ہے اس سے جو ہے وہ پرسنٹیج میں فرق پڑ جائے گا۔ اب یہ جب لوگ رجسٹری کرواتے ہیں وہ اس چیز کو بھول جاتے ہیں کہ ہم جتنی مرضی کم ویلیو پہ رجسٹری کروا لیں اس کا اب کوئی فائدہ نہیں رہ گیا ہوا۔ یہ بات پریکٹیکلی ختم ہو چکی ہوئی ہے کہ آپ نے اگر ایک کروڑ روپے کی پراپرٹی لی ہے تو آپ اس کی 10 لاکھ پہ ڈی سی ریٹ کی جو ہے وہ رجسٹری کروا لیں گے اور آپ سے کوئی پوچھے گا نہیں۔ جو آپ کا ایف بی آر کا ٹیکس ہے وہ ڈی سی ریٹ سے بہت زیادہ ہو چکا ہوا ہے۔ اور اس کو انہوں نے مرحلہ وار جو ہے وہ اس کے قریب ہی لے کے آنا ہے جو مارکیٹ ویلیو ہے۔ تو ایف بی آر والے یہ کہتے ہیں کہ جی ہمارے مطابق اس پراپرٹی کی ویلیو جو ہے جو ہم نے ویلیویشن ٹیبل جاری کیا ہے۔ اس کے مطابق کم از کم اتنی ہے۔ تو آپ نے اس کو ڈی سی ریٹ کے اوپر جو ہے وہ رجسٹر کیوں کروایا؟ تو وہ جو ڈفرنس آف اماؤنٹ ہوتی ہے لوگوں کو پتہ نہیں چلتا جب وہ رجسٹری کروانے جاتے ہیں کہ جو ان کا ڈی سی ریٹ ہوتا ہے وہ اس کے اوپر تو رجسٹری ہو جاتی ہے اسٹیم ڈیوٹی اور وہ پراپرٹی کی ویلیویشن کیلکولیٹ کر کے۔ لیکن جب ایف بی آر کی ویلیو آتی ہے تو وہ اس کے اوپر سٹیمپ لگتی ہے اور اس کے اندر لکھ دیا جاتا ہے کہ جی یہ پراپرٹی کی ایف بی آر ویلیو اتنی ہے تو اس کے اوپر جو ہے وہ یہ ٹیکس جو ہے وہ کیلکولیٹ ہوتا ہے۔ تو اسی ٹائم پہ جب وہ چالان اس کا جنریٹ ہوتا ہے 236 کے کا یا 236 سی کا کیونکہ یہ دونوں ٹیکسز جو ہے وہ اکٹھے پے ہوتے ہیں بائر اور سیلر کی جانب سے۔ تو اسی وقت اس چالان کی جو کاپی ہوتی ہے وہ جو ٹیکس پروفائل ہوتی ہے اس شخص کی جو پراپرٹی خرید رہا ہے یا ٹیکس جو پراپرٹی بیچ رہا ہے اس کے اگینسٹ جو یہ اپڈیٹ ہو جاتی ہے۔ یعنی ایف بی آر کو اس دن پتہ چل جاتا ہے کہ اس بندے نے یہ یہ پراپرٹی خریدی ہے اور اس شخص نے یہ پراپرٹی جو ہے وہ بیچی ہے۔ تو اس کے بعد جو ہے وہ ایف بی آر اس کو جو ہے وہ اس کی ریٹرنز وغیرہ کو چیک کر کے اس چیز کا فیصلہ کرتا ہے کہ آیا یہ جو پراپرٹی خریدی گئی ہے وہ اس کے ایسٹس بیونڈ مینز تو نہیں ہے۔ یعنی اس نے اپنی امدن سے زیادہ اثاثوں کے چکر میں تو نہیں خریدی یا اس کے علاوہ جو ہے جو اس کی ویلیو بنتی ہے جو اس کی جو ویلیویشن ہے جو اس کی سیل کے حساب سے ہے تو سیل کے اندر جو ہے وہ اس نے جو پراپرٹی یہ ہے اس پہ کوئی کیپیٹل گین ٹیکس تو نہیں لگتا ادر دین 236 سی جو کہ ایک وٹ ہولڈنگ ٹیکس ہوتا ہے۔ تو یہ سارے سنیریو کو ڈائریکٹ تعلق ہے وہ ویلیو کے بڑھنے سے ہے۔ یعنی کہ جیسے ہی پراپرٹی کی ویلیو بڑھے گی جو ایف بی آر کی ویلیویشن ہے تو اسی وقت جو ہے وہ اس کے ٹیکسز میں بھی اضافہ ہو گا۔ ہوپ سو آپ کو یہ ویڈیو پسند آئی ہو گی میرے فیس بک پیج کو لائک کریں یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں تاکہ لیگل ٹاپکس سے ریلیٹڈ اسی طرح ایڈوائس میں آپ سے شیئر کرتا رہوں۔ تھینک یو فار واچنگ۔

FBR issued NOTIFICATION for MASSIVE Property Value increment
Adv Shakeel Ur Rehman
4m 12s1,199 words~6 min read
Auto-Generated
Watch on YouTube
Share
MORE TRANSCRIPTS


