[0:00]عزیز دوستوں، بزرگوں اور بھائیوں قران مجید، فرقان حمید اللہ تعالی کی لاریب اور بے عیب کتاب ہے۔ قران مجید فرقان حمید میں جتنی باتیں بھی بیان کی گئی ہیں ایک ایک لفظ، ایک ایک حرف ایک ایک جملہ راہ ہدایت کے اتنے سارے راستے کھولتا ہے۔ کہ انسان روشنیاں دیکھتے دیکھتے، حاصل کرتے کرتے اپنے سارے دامن کو کرم سے بھر سکتا ہے۔ قران مجید نے بعض چیزیں ایک دفعہ بیان کیں، بعض کو دو دفعہ بیان کیا لیکن بعض چیزیں قران پاک میں ایسی ہیں جسے بار بار بیان کیا گیا۔ کائنات کے رب نے، کائنات کے مالک نے خلاق عالم نے بعض چیزوں کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا، ان کے تذکرے بار بار کیے۔ اسی طرح بعض شخصیات، بعض انبیاء کرام علیہم السلام ایسے ہیں جن کی حیات مبارکہ کو قران پاک نے متعدد جہتوں سے کئی حوالوں سے بیان کیا۔ بلکہ اگر میں کہوں کہ ان کی سیرت کے کئی عنوانات قران پاک نے مختلف انداز میں بیان کیے تو یہ بات بڑی درست ہوگی۔ حیرت کی بات ہے کہ قران مجید کے 30 پاروں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بار بار اللہ نے ذکر فرمایا ہے۔ سبحان اللہ ان کی باتیں، ان کی گفتگو، ان کا مناظرہ، ان کا اگ میں جانا، ان کا اپنی قوم کو سمجھانا۔ حضرت ابراہیم کی جو رب نے ازمائش کی، اس کا ذکر کرنا 60 سے زیادہ آیات میں ان کا ذکر ہے۔ اور ایک پوری سوره سوره ابراہیم جناب ابراہیم کے نام کی قران پاک میں موجود ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا بیٹے کے لیے دعا مانگنا پھر بیٹے کا پیدا ہونا، پھر بیٹے کا جوان ہونا، پھر اس بیٹے کا وادی غیر ذی ذرعین میں اپنی ماں سمیت حضرت ابراہیم کا چھوڑ کے انا۔ پھر اس بیٹے کا جوان ہونا، پھر اس کا ذبح ہونا ہر چیز ہی قران نے بیان کی۔ پھر حضرت ابراہیم کا رب نے امتحان لیا اس کا ذکر کیا۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نہ یہودی تھے، نہ عیسائی تھے وہ تو مسلمان تھے، ہر مشرک سے جدا تھے۔ بار بار قران پاک نے انہیں حنیف کہہ کے بیان کیا۔ اتنی باتیں بیان کیں اتنا ذکر کیا اتنا حسن ہوا۔ کہ جناب ابراہیم علیہ السلام کی محبت ہر قران مجید کو پڑھنے، سننے، ایمان رکھنے والے کے دل میں بیٹھتی گئی اور پھر حد ہو گئی۔ رب کریم نے فرمایا کہ وتخذ اللہ ابراہیم خلیلا فرمایا اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا گہرا دوست بنا لیا ہے۔ خلیل کا معنی آقا حضرت نے بیان کیا گہرا دوست گہرا اور قربان جائیں میرے رسول کریم نے آقا دو عالم نے نبی رحمت نے سرور سروراں شاہ حسینہ۔ آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں جو تمہارے سامنے موجود ہوں تو میں بھی حضرت ابراہیم کی دعا بن کے ہی ایا ہوں۔ اور حضور فرمانے لگے حضرت ابراہیم کے بالکل مشابہ تم نے دیکھنا ہو نا صورت و سیرت میں تو فرمایا میں سب سے زیادہ حضرت ابراہیم سے ملتا جلتا ہوں۔ اتنی محبت اب مجھے بتائیے حضرت ابراہیم کا یہ والا تذکرہ سن کے مسلمانوں کے دلوں میں ان کا کتنا کوئی پیار بیٹھ جاتا ہوگا۔ کتنی کی محبت چمکتی ہوگی کتنا کوئی رنگ نکھرتا ہوگا۔ اور دل ہیں کہ قران مجید پڑھنے والے کا دل قران کو سمجھنے سیکھنے والے کا دل مائل ہو جاتا ہے حضرت ابراہیم کی طرف ان کی باتیں ان کے تذکرے۔ ان کی گفتگو اور ان کی سیرت کو بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔ محو ہو جانے کو دل کرتا ہے اتنا اللہ نے حضرت ابراہیم سے پیار فرمایا ہے۔ اور متعدد مقامات پر ان کے تذکرے قران پاک میں موجود ہیں۔ ہمارا یہ ذہن ہونا چاہیے ہماری یہ سوچ ہونی چاہیے کہ جن چیزوں کو قران پاک اس محبت کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ ہمارے دلوں میں وہ محبتیں پوری بیٹھ جائیں۔ پوری بیٹھ جائیں۔ ہمارے ہاں مزاج کچھ عرصے سے بنا ہے کہ لوگ کوئی ایسا نام بچے کا رکھنا چاہتے ہیں جو پہلے کسی کا نہ ہو۔ بڑے بڑے نام ڈھونڈ کے لاتے ہیں ان کے معنی پوچھتے ہیں۔ بڑا گہرا جا کے وہ سفر کرتے ہیں اور کوئی خاص نام رکھنا چاہتے ہیں۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ اولادوں کے نام یا صحابہ کے ناموں پہ رکھو یا اہل بیت اطہار کے ناموں پہ رکھو اور زیادہ برکت لینی ہو تو انبیاء کرام کے ناموں پہ رکھو۔ تھوڑا سا پیچھے جائیں اپ تھوڑا سا پیچھے تو ہمارے کتنے بزرگوں کا نام ابراہیم ہوتا تھا۔ کتنوں کا اسماعیل ہوتا تھا۔ کتنوں کا اسحاق ہوتا تھا۔ یہ کتنے ذوق والے لوگ تھے کہ انہوں نے ان تذکروں سے محبت کی ان ناموں سے پیار کیا۔ ان ناموں کو انہوں نے حرذ جان بنایا میں اپ کو ذاتی بات بتاتا ہوں ایک دفعہ مجھ سے کسی نے نام پوچھا تو میں نے کہا کہ بچی کا نام ہاجرہ رکھ لو۔ کہنے لگے یہ تو بزرگ بزرگ عورتوں کا نام ہوتا ہے تو میں نے کہا رکھ لو یہ بھی بزرگ ہو ہی جائے گی ایک دن۔ بھئی بچی نے ہی بزرگ ہونا ہے نا لیکن وہ مطلب یہ تو بزرگوں کے نام ہیں تے وڈیریاں آلا نام ہے تو میں نے کہا کہ اپ دعا کرے نا کہ اللہ تعالی اسے جوان بھی کرے۔ پھر عمر لمبی دے وہ وقت بھی ائے کہ جس میں لوگ اسے بزرگ بھی کہیں۔ ان ناموں کو اب ہم نے کیا نام سمجھ لیا ہے کہ یہ تو وہ بزرگوں کے نام ہیں۔ ان لوگوں کی دلچسپیاں ان لوگوں کا پیار ہماری طبیعت میں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے نا اپنی ساری حیات مبارکہ۔ لوگوں کو دین کا صحیح سبق پڑھاتے گزاری۔ عقائد جو ہوتے ہیں نا ان کی پختگی انسان کو پختہ کرتی ہے۔ جب تک لوگ نظریاتی طور پر پختہ نہیں نا ہوتے وہ زندگی میں کسی شعبے میں بھی مومن بن کے وقت نہیں گزار سکتے۔ لوگوں کا عقیدہ توحید و رسالت اگر پختہ ہو جائے، عقیدہ توحید و رسالت اگر مضبوط ہو جائے تو یہ جتنے لوگ پریشان ہوتے ہیں کہ پتہ نہیں کوئی جادو اگیا ہے۔ پتہ نہیں کوئی سازش ہو گئی ہے پتہ نہیں کوئی نظر لگ گئی ہے پتہ نہیں فلانا میرے خلاف کیا کر رہا ہے۔ ان ساری ازمائشوں سے بندہ باہر ا جاتا ہے عقیدہ ہی بڑا مضبوط ہے۔ اور جب انسان ڈرنے لگ جاتا ہے سانپ سے تو پھر ایک وقت اتا ہے وہ رسیوں سے بھی ڈرتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام ہوں یا جتنے بھی انبیاء کرام گزرے ہیں یا جتنے بھی ہمارے پاس اسمانی وحی کی تبلیغ کرنے والے نبی گزرے ہیں۔ ان سب نے عقیدہ توحید کی مضبوطی لوگوں کو سکھائی۔ کچھ عرصے سے لبرل لوگوں نے اور بعض دین بیزار لوگوں نے اس طرح کر کے دین بیان کرنا شروع کیا ہے۔ کہ ایک پورا فتنہ دنیا کے اندر اگیا ہے وہ فتنہ کون سا ہے عقل کو زیادہ استعمال کرنے کا فتنہ کہ یہ چیز میری عقل نہیں مانتی لہذا میں قبول نہیں کرتا۔ وہ لوگ پھر اہستہ اہستہ دور نکل جاتے ہیں۔ دین اسلام روحانی دین ہے۔ تو بعض عقلی دلائل جن سے بندے کو پوری طور پر سمجھایا جا سکے سکھایا جا سکے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کا بار بار بیان فرماتے۔ دیکھیں رب وہ ہوتا ہے جو حی بھی ہو قیوم بھی ہو۔ رب کی شان یہ ہے نہ اسے نیند اتی ہے نہ اسے اونگ اتی ہے۔ رب کی شان یہ ہے کہ وہ ہر وقت ہر لمحہ ہر گھڑی اپنے بندوں کو دیکھتا ہے۔ وہ ہر ایک کی ضروریات سے اگاہ ہے۔ کسی کو کتنا چاہیے کب چاہیے کیا چاہیے۔ مالک ہر وقت جانتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالی اپنے بندے کے سکھ سے دکھ سے ازمائش سے امتحان سے کامیابی سے ہر چیز سے اگاہ ہے۔ تو رب ہو بھی وہی سکتا ہے۔ کہ جو اتنی طاقتوں کا مالک ہو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ مبارکہ میں نا کچھ لوگ ایسے تھے جو چاند کی پوجا کرتے تھے کچھ سورج کی پوجا کرتے تھے کوئی ستاروں کی پوجا کرتے تھے۔ اللہ کا قران کہتا ہے کہ فلمہ جن علیہ لیل جب حضرت ابراہیم علیہ السلام پر رات کا اندھیرا چھا گیا نا تو را کو کبا انہوں نے نا تارا دیکھا کالا ہذا ربی۔ ستارہ دیکھ کے کہنے لگے اسے میرا رب کہتے ہو۔ کیا یہ رب ہے؟ فلمہ افلا پس جب وہ ڈوب گیا۔ کالا لاحب الافلین کہنے لگے میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ چمکتا ستارہ تم نے اسے خدا کہا اور جب وہ ڈوب گیا تو فرمانے لگے یہ بھی کوئی رب ہو سکتا ہے جو شام کو چڑھے اور سویرے ہو ہی نہ یہ کیسے رب ہو سکتا ہے۔ جب وہ چڑھا ستارہ تو فرمایا اسے میرا رب کہتے ہو جب ڈوب گیا تو فرمایا میں ڈوبنے والوں کو میری سوچ بڑی ہے۔ میرا معیار بڑا ہے۔ میں ڈوبنے والوں کو مانا اسے کیسے خدا مان لوں جو ڈوب بھی جائے پھر کیا ہوا۔ فلمہ القمرا پھر انہوں نے چاند دیکھا بازی گن چمکتا ہوا کالا ربی کہنے لگے اسے میرا رب کہتے ہو۔ فلما افلا پھر وہ بھی ڈوب گیا۔ چاند بھی ڈوب گیا۔ کالا لم یجنی ربی لا من قوم الظالین فرمانے لگے اگر میرا رب مجھے پہلے سے ہدایت نہ دیتا تو میں بھی گمراہ لوگوں میں سے ہو جاتا۔ وہ چاند جو رات کو چڑھا اور سویرے ملا ہی نہیں وہ کیسے خدا ہو سکتا ہے۔ خدا تو وہ ہے۔ کہ جس کو جب پکارو وہ پکار کو سنے۔ وہ میدان میں بھی سنے، وہ گھر میں بھی سنے، وہ اندھیرے میں بھی سنے، وہ روشنی میں بھی سنے، وہ ایسا مالک ہے۔ کہ جس کا دیا ہوا رزق ماں کے پیٹ میں بھی پہنچے اور اس کی دی ہوئی زندگی قبر میں بھی بندے کے ساتھ چلی جائے۔ قبر کے اندر بھی بندہ اٹھ کے بیٹھ جائے خدا کی دی ہوئی توفیق سے وہ رب ہے۔ پھر جب سورج کو چمکتے ہوئے انہوں نے دیکھا۔ کالا ربی ہذا اکبر کہنے لگے کیا اسے میرا رب کہتے ہو یہ تو بڑا بھی ہے۔ سورج تو بہت بڑا ہے۔ اسے رب کہتے ہو فلما افلت پس جب وہ بھی غروب ہو گیا۔ کالا یا قومی انی بری مما تشرکون فرمانے لگے لوگوں میں بری ہوں اس سے جو تم رب کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو میں ان سب سے بری ہوں۔ تو اپ پھر کیا ہیں؟ کہنے لگے انی وجہت وجه الذی فطر السماوات والارض حنیف و من المشرکین کہنے لگے میں نے ہر باطل سے جدا ہو کے اپنا منہ اس رب کی طرف کر لیا ہے۔ جو زمین و اسمان کو پیدا کرنے والا ہے۔ اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ میں نے اپنا منہ اپنے رب کی جانب کیا ہے۔ میں نے اپنی توجہ اس طرف کی ہے جو زمین و اسمان کو پیدا کرنے والا ہے۔ تو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام بار بار اپنی قوم کو نشاندہی کرتے بتاتے۔ کہ یہ جن چیزوں کو تم رب مانتے ہو یہ اس قابل نہیں ہیں۔ اور اپ نے اس کے کئی مظاہر بیان کیے۔ کئی اپ نے ان سے کہا کہ ان بتوں کی پوجا کرتے ہو جو نہ نفع دیں نہ نقصان دیں۔ ان کے سامنے جھکتے ہو نہ تمہاری اواز سنے نہ بات سنے۔ دنیا میں ڈھیر ساری بت پرستی ہے اج بھی۔ اور مسلمانوں کو حاجت ہے کہ وہ قران مجید کی ان ایات کو یاد کریں۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے ان دلائل توحید کو ازبر کریں۔ اقبال کہنے لگے کہ اگرچہ بت ہیں جماعت کی استینوں میں مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ اور کہنے لگے یہ دور اپنے ابراہیم کی تلاش میں ہے۔ صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ اور بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ ہر مقام پر عقیدہ توحید کو بیان کرنے کی حاجت ہے اس حوالے سے کہ پوری دنیا میں تیزی کے ساتھ وہ لوگ۔ جو صرف اور صرف اپنی عقل کی بنیاد پر چیزوں کو سمجھنا چاہتے ہیں وحی کی بنیاد پر نہیں معاذ اللہ وہ دیکھ لیں اپ جگہ جگہ بت پرستی ہو رہی ہے۔ اور بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگ میں میں نے میلاد شریف کے موقع پر دوستوں سے کہا تھا۔ کہ ایسا نہیں ہے کہ وہ لوگ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ بڑے بڑے پڑھے لکھے پی ایچ ڈی سکالر بڑے بڑے ایم فل کے مقالے لکھنے والے ماسٹر کی ڈگریاں رکھنے والے ایسے بے وقوف ہیں۔ کہ خود جا کے کہتے ہیں بت خانے میں معاذ اللہ کہ ایک بت دے دو رنگ یہ والا ہو۔ وزن اتنا کو ہو جگہ اتنی ہے اتنی کو جگہ پہ فیٹ ا جائے۔ اور پھر وہ گھر لے کے جاتے ہیں تو مرمت کرانے بھی لاتے ہیں۔ کہتے ہیں انکھ نکل گئی دوبارہ لگا دو۔ کیسے بے وقوف ہو اس کو معاذ اللہ خدا بنائے ہوئے ہو جس کے بارے میں تمہارا یہ گمان ہے۔ کہ یہ ہمارا رب ہے معاذ اللہ اور تم اس کو مرمت کرانے لائے ہوئے ہو اس کا رنگ اتر گیا رنگ کرانے لائے ہوئے ہو۔ میں اپ یقین کریں کبھی کبھی محو حیرت ہو جاتا ہوں میں سوچتا ہوں ہم لوگوں کو محنت کر کے دین حاصل کرنا پڑتا تو بڑا مشکل تھا۔ بڑے بڑے پڑھے لکھوں کی عقلوں پہ پردے پڑے ہوئے ہیں یہ تو خدا نے رحمت کی ہے۔ پیدا ہی اس ماں کی گود میں ہوئے ہیں جس نے پیدا ہوتے ہی کہا ہے بیٹا پڑھو بالاغلا بمالہ۔ کشف الدجا بجمالہ حسن جمیع خصالہ صلو علیہ و الہ ہمارے ہاں تو لوریاں ہی حضور کی نعتوں کی اللہ تبارک و تعالی کی توحید کی ملی۔ اس پر سجدہ شکر ادا کرنا چاہیے۔ ورنہ بڑے بڑے سمجھدار کہلانے والے لوگ کھڑے ہوئے۔ تو حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تبارک و تعالی نے بڑی عظمت و رفعت و بلندیوں۔ اور شانوں کے ساتھ مالامال فرمایا۔ چونکہ ان کا اتنا زیادہ ذکر ہے قران پاک کے اندر احادیث صحیحہ کے اندر حضور کے مقدس فرامین کے اندر۔ تو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت مبارکہ ہمیں سیکھنی چاہیے۔ ایک تو قران مجید جو ہمیں ان کے تذکرے سناتا ہے بتاتا ہے اس پر ہمیں توجہ دینی چاہیے۔ اور ایک یہ کہ دیکھنا چاہیے کس چیز کے اوپر زیادہ ان کا مزاج تھا۔ تو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ایک بات بڑی خاص ہے۔ وہ یہ ہے کہ ان کا توکل بڑا مضبوط تھا۔ بھروسہ بڑا مضبوط تھا۔ ہمارے ہاں ٹوٹتے بکھرتے لوگوں کے خیالات۔ اور جس چیز سے سب سے زیادہ لوگ پیچھے ہٹتے جا رہے ہیں معاذ اللہ تعالی وہ یقین کی کمزوری ہے۔ عدم اعتماد یعنی اپ نے سوٹ پہن لیا ہے اپ نے اپنی مرضی کا رنگ پسند کیا ہے اپ نے اپنی مرضی کے درزی سے سلوایا ہے۔ اپ نے اپنے طریقے سے اسے استعمال کیا ہے لیکن پھر بھی اپ چاہتے ہیں کہ ہر بندہ کہے بڑا اچھا لگ رہا ہے جب تک سو بندہ نہ کہے طبیعت مطمئن ہی نہیں۔ سارے نہ جب تک کہیں۔ کسی ایک نے کوئی بات کر دی۔ تو جناب اہو سیانا پانا نوجوان پڑھا لکھا وہ کہتا ہے پتہ کرو میں ٹھیک نہیں لگ رہا۔ بھئی اپ چھوڑ دیں۔ اتنے کمزور ہو جائیں گے اپ یہی حال الا ماشاء اللہ خواتین کا ہے۔ اس طرح تو انسان دن بدن کمزور ہوتا ہے۔ 95 لوگوں نے اپ کی تعریف کی چار پانچ لوگوں نے تنقید کر دی تو اتنوں کو تو کرنی بھی چاہیے تھی اگر نہ کرتے تو نظر لگ جاتی۔ دو چار تو ویسے بھی ہونے چاہیے۔ تبھی تو انسان جچتا نظر اتا ہے۔ تو میرے بھائی اتنا زیادہ جو لوگ کمزور پڑ جاتے ہیں توکل سے نکل اتے ہیں۔ اور پھر ذرا حالات خراب ہوئے نہیں۔ ذرا ساری زندگی میٹھا کھانے کو ملا بڑے خوش تھے بڑے اچھے تھے۔ لیکن اس میٹھے میں سے ایک بادام کڑوا نکل ایا صرف ایک بادام۔ تو کیا اپ اس سارے میٹھے کو ہی غلط کہہ دیں گے۔ بھئی نکل ہی اتا ہے کبھی کچھ ایسا ہو بھی جاتا ہے نہ چاہتے بھی ہو جاتا ہے موڈ خراب کر لیں گے اپ۔ حد کر دیں گے میں ایک دفعہ ایک ہوٹل میں تھا۔ دوستوں کے ساتھ کھانے کے لیے انہوں نے پیغام دیا۔ تو پلیٹ اگئی کھانے والی تو وہ تھوڑی صاف نہیں تھی۔ تو صاحب نے تو جلال شروع کر دیا۔ وہ ویسٹ کوٹ سیدھی کرتے جائیں اور کہیں۔ او ہو ہو تمہیں پتہ ہی کوئی نہیں پیسے کس بات کے لیتے ہو۔ بلاؤ مینیجر کو بلاؤ فلانے کو حد نہیں کر دینی۔ تو باقی سب انہیں سمجھا رہے تھے تو میں ہنس رہا تھا۔ وہ اگئے بیچارے تو میں نے ان سے کہا اپ جائیے اللہ تعالی خیر کرے گا ہم ان کو راضی کر لیتے ہیں۔ بات مکمل ہوئی تو مجھے کہنے لگے اپ جو ہنسے ہیں اس سے مجھے غصہ ایا ہے۔ میں نے کہا اپ کو غصہ ہی دلانے کے لیے میں ہنسا تھا۔ او خدا کے بندے چار ہزار روپے کی تو نے روٹی کھانی ہے۔ اور جتنی گھر میں تیری بات مانی جاتی ہے وہ خیال میرا خیال ہے ہمیں پتہ ہی ہے۔ یہ اپ جو جھوٹا انا کا بت بنا رہے ہیں نا جھوٹا یہ اپ کے اندر کی کمزوری کو ظاہر کر رہا ہے کہ اپ کمزور ادمی ہیں۔ اپ کو جھوٹا پریشر ڈال کے عزت بنانے کا شوق ہے۔ اپ باتوں کے سہارے جان بوجھ کے اپنا قد اونچا کر رہے ہیں۔ یہ قد اپ کا ہے نہیں۔ اس لیے کہ قد اونچا ہوتا تو یہ تو ہلکی سی پلیٹ کی بات ہے۔ اور اپ نے ایک ادمی کو جس طرح سے رسوا کر دیا ابھی وہ جائے گا اس کی کلاس لگ جائے گی۔ ہو سکتا ہے اس کی تنخواہ کٹ جائے ممکن ہے بیچارے کو چھٹی ہو جائے۔ اگر اپ کا قد اونچا ہوتا تو پھر رنگ اور ہوتا۔ پھر اپ اسے کہتے ہیں کہ رب میری بڑی معاف کرتا ہے میں بھی کئی لوگوں کی معاف کر دوں گا۔ لیکن یہ تو جھوٹی انا کے لوگوں نے ہمارے اندر وہ جو یقین کی کمزوری ہے ہمارا خیال دیکھو عزتیں اللہ دیتا ہے۔ وہ کہانیاں بنا کے لینی ہے لوگوں کے سامنے اپنا جالی روب پیدا کر کے لینی ہے۔ کبھی بھی یہ کام نہ کریں۔ یہ انسان کو کمزور کرتا ہے۔ اپ کے جانے کے بعد پھر جو اپ پر تبصرے ہوتے ہیں وہ سننے قابل ہوتے ہیں کہ دیکھو یہ اس بندے کی حیثیت ہے۔ کیا کرنا چاہ رہا ہے یہ۔ حضرت ابراہیم کی زندگی میں مضبوط توکل اور یہ ضروری نہیں کہ اپ کے پیچھے ہزاروں لوگ ہی ہوں۔ سینکڑوں لوگ ہی ہوں تو تبھی کام بنتا ہے۔ ہر کام کو جمہوریت کے رنگ میں نہ تولیں۔ عزیز بھائی حضرت ابراہیم کو اگ میں ڈالا جا رہا تھا۔ ایک بندہ بھی ایک بندہ بھی نہیں تھا۔ خدارا غور کرنا او ایک بھی نہیں تھا۔ جو کہتا کہ خلیل کو اگ میں نہ ڈالو لیکن جب منجیک تیار ہو گئی حضرت ابراہیم کو رکھ لیا کبھی تو بندے کا حوصلہ ٹوٹتا ہے نا۔ کبھی تو وہ کمزور پڑتا ہے لیکن یہ نہیں پڑتے یہ خلیل اللہ ہیں۔ جب اپ کو ان شراح صدر ہو جائے۔ اگ میں ڈالا جا رہا ہے جا رہے ہیں او ہو ہو حضرت جبرائیل امین حاضر ہو کے کہتے ہیں چلو کوئی حکم کر دیں۔ فرمانے لگے حکم تو ہے۔ اور جبرائیل تیرے لیے کوئی نہیں۔ خدارا مسلمانوں اس پر کبھی غور کرو۔ ساری زندگی کہا رب راضی ہو جائے۔ رب راضی ہو جائے رب را کبھی خود بھی تو رب سے راضی ہو کے دیکھو نا۔ رضی اللہ عنہم وردو ان اللہ نے مومن کی شان یہ بیان کی ہے کہ اس سے اللہ راضی ہوتا ہے۔ اور وہ اپنے اللہ سے راضی ہوتا ہے۔ صحابہ سے اللہ راضی تھا اور صحابہ بھی اپنے اللہ سے حضرت سفیان سوری دعا مانگ رہے تھے یا اللہ راضی ہو جا یا اللہ راضی ہو جا یا اللہ راضی ہو جا۔ تو حضرت رابعہ بصریہ پردے کے پیچھے تھی انہیں جلال اگیا کہنے لگی سفیان بس کر اپ کہنے لگے رابعہ تجھے کیا ہوا تو کیوں غصہ کر رہی ہے کہنے لگی اپنا رکھ ہاتھ سینے پر اور بتا تو اپنے رب سے راضی ہے؟ تو تو روز کہتا ہے فلاں شے چاہیے فلاں پہلے تو تو راضی ہو نا فرمانے لگی تو ہی اج تک راضی نہیں۔ پہلے تو کہ مالک تو نے جس حال میں رکھا ہے میں راضی ہوں۔ تو راضی ہو وہ تو کریم ہی بڑا ہے تیرے دو انسوؤں سے بھی راضی ہو جائے گا۔ تو ہی نہیں راضی ہو رہا۔ اپ ذرا اس کا ذائقہ لیں۔ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے کہا کوئی حکم فرمایا تیرے لیے کوئی حکم نہیں۔ تو حضرت جبرائیل عرض کرتے ہیں حضرت جبرائیل عرض کرتے ہیں پھر اے خلیل اپ رب سے یہ عرض کر لیں۔ دعا کر لیں۔ وہ تو کریم ہے ابھی بارش برسائے گا یہ اگ گئی۔ کوئی انتظام فرما کریں دعا کبھی تو راضی رہیں نا ہم رب کی تقسیم پر کبھی تو ٹھہرے نا کہ ٹھیک ہے۔ ٹھیک ہے دکھ قبول محمد بخشہ او راضی رہ ان پیارے او کبھی تو کہ نا کہ جے سونا ہی میرے دکھ وچ راضی ہے۔ پھر میں سکھ نوں چولے ڈاواں کبھی تو کہ نا اگر اس نے بیمار کیا ہے تو قبول ہے مجھے بیماری اگر اس نے غربت دی ہے تو قبول ہے اگر نہیں اس نے اولاد دی تو قبول ہے۔ کبھی تو راضی ہو نا حضرت ابراہیم سے جناب جبرائیل نے کہا اللہ سے ہی دعا کر لیں۔ تو پلٹ کے دیکھا حضرت خلیل نے ان کو منجیک میں رکھا گیا ہے۔ اگ میں ڈالے جا رہے ہیں۔ اللہ سے دعا کر لیں۔ تو پلٹ کے دیکھا سامنے اگ ہے۔ اسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ حضرت ابراہیم پلٹ کے کہنے لگے جبرائیل تو بتا رب کو پتہ نہیں اس کا خلیل کس حال میں ہے۔ اسے پتہ ہے کہ نہیں تو حضرت جبرائیل ہر پیغمبر کی بارگاہ میں حاضر ہونے والے عرض کرنے لگے ہاں اسے تو پتہ ہے کہنے لگے جا پھر اگر رب کی رضا یہ ہے نا کہ خلیل اگ میں جائے تو خلیل پورا تیار ہے جانے کے لیے۔ ہماری تیاری ہے۔ پوری تیاری ہے۔ جس حال میں وہ چاہتا ہے ہم اس حال میں رہنے کو تیار ہے۔ او دکھ قبول نے محمد بخشہ۔ بس دعا کرو راضی رہ ان پیارے اگر وہ اس حال میں راضی رکھنا چاہتا ہے تو شکوہ کس بات کا شکوہ کس بات کا ٹھیک ہے۔ اگر وہ چاہتا ہے کہ ہم اگ میں جائیں تو کر لی ہے نا ہم نے تیاری تیاری ہے ہماری تیار ہیں جانے کو ختم ہو گئی بات میرے عزیز کبھی رب چاہی زندگی جی کے دیکھو۔ جو رب چاہی زندگی جیتے ہیں پھر رب کہتا ہے میں انہیں دوست بنایا کرتا ہوں۔ پھر انہیں میں دوست بناتا ہوں پھر ان کے تذکرے قائم رہتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں توکل کا اللہ کی رضا پہ راضی رہنے کا سبق دیا۔ زیادہ باتیں کرنے کا وقت نہیں بچتا۔ ارادہ ہوتا ہے کوئی زیادہ اپ سے گفتگو کی جا سکے۔ پر دامن وقت میں گنجائش تھوڑی ہوتی ہے۔ دو چار باتیں رہ گئی ہیں جلدی سے عرض کرتا ہوں۔ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا اور امام ابو نعیم نے اس کو لکھا ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کو وحی فرمائی تھی۔ کہ اے میرے خلیل اپ نے حسن اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہے چاہے اپ کے سامنے کوئی بھی ہو۔ اور فرمایا رب کریم نے کہ اگر لوگ حسن اخلاق کا مظاہرہ کریں گے تو اے خلیل میں انہیں اابرار کے زمرے میں نیکوں کے زمرے میں داخل کر لوں گا۔ اور فرمایا بے شک حسن اخلاق والوں کے بارے میں میں نے یہ حکم جاری کر دیا ہے۔ کہ جو لوگ دنیا میں اچھے اخلاق کا مظاہرہ کریں گے۔ اے میرے خلیل قیامت کے دن میں انہیں اپنے عرش کا سایہ عطا کروں گا۔ حضور فرماتے ہیں رب نے حکم دیا حضرت ابراہیم کو کہ سامنے کوئی بھی ہو۔ اپ کا اخلاقی رویہ کبھی بھی کمزور نہیں ہونا چاہیے۔ ہم نہ بندہ دیکھ کے اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ میں کسی افیسر کے پاس چلا جاتا ہوں ایک دیندار ادمی سمجھ کے اس نے میری عزت کی اچھی بات ہے۔ کسی کو ضعیف سمجھ کے اس نے عزت کر لی اچھی بات ہے اس کے گھر کا کوئی بڑا اگیا اس نے عزت کی اچھی بات ہے لیکن دو چار جاننے والوں کے ساتھ تو اس نے اخلاق کا مظاہرہ کیا۔ لیکن اگر ایک غریب ادمی اگیا اس کے سامنے اور اس نے کہا کہ اپ اس وقت ہی اگئے چھٹی کا ٹائم ہو گیا ہے۔ کھڑا کیے رکھا بات ہی نہیں سنی۔ تو اب یہ بندہ بااخلاق نہیں یہ تعلق نہیں نبھا رہا ہے۔ اخلاق کا مظاہرہ نہیں وہ مجھے کیوں بااخلاق لگا اپ میں سے کچھ لوگوں کو کیوں لگا کہ ہمارا تعلق تھا۔ جو اخلاق والے لوگ ہوتے ہیں نا ان کا مزاج اخلاق والا ہوتا ہے وہ جو کوئی جاننے والا ہو یا نہ جاننے والا ہو۔ امیر ہو یا غریب ہو اپنا ہو یا بیگانہ ہو۔ وہ چونکہ بندے بااخلاق ہوتے ہیں تو ان کا رویہ سب کے ساتھ ہی حتی کہ دروازے پہ جو خیرات لینے ائے اس کے ساتھ بھی ان کا رویہ اخلاق والا ہی ہوتا ہے۔ حضور فرماتے ہیں رب نے حضرت ابراہیم سے کہا کہ سامنے کوئی بھی ہو۔ اے میرے خلیل اپ نے ہمیشہ مظاہرہ اخلاق کا ہی کرنا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ایک بات اور بہت زیادہ تھی۔ وہ تھا مقام تسلیم و رضا۔ ہر وقت بات ماننا اپنے رب کی رضا کی۔ ہر بات ایک لفظ اپ بڑے ذوق سے پڑھا کرتے تھے حسبنا اللہ و نعم الوکیل۔ کہتے تھے میرا رب ہی میرے لیے کافی ہے اور وہ بڑا ہی کارساز ہے۔ میں نے اپنے مالک کی ہر بات کو ماننا ہے۔ اللہ نے جو والا حکم حضرت خلیل کو دیا نا اسے سونا کر کے صحیح کر کے۔ ہمارے ایک استاد تھے وہ کہا کرتے تھے اپنے شاگردوں کو کہتے تھے پتر لولے لنگڑے کام نہ کریا کرو۔ استاد جی کیا مطلب؟ وہ کہتے تھے کام تنگ ہو کے بھی ہو ہی جاتا ہے اور خوش ہو کے بھی ہو ہی جاتا ہے۔ چہرے پہ شکن ڈال کے بھی ہو جاتا ہے راضی ہو کے بھی ہو استاد کو ستا کے بھی سبق سنائی دینا ہے۔ اور خوش ہو کے بھی تیاری کر کے بھی۔ والد کی بات ماننی ہے اماں نے کام پہ بھیجا مان تو لینا ہی ہے۔ لیکن پہلے کہنا ہے اپ بڑے کو کہتے نہیں ساری ذمہ داریاں میری ہیں ہر بوجھ میرے اوپر ہے۔ ڈیوٹیاں ساری میں نے ہی کرنی ہیں۔ فلانا ایسے ہے فلانا ایسے ہے۔ میں نے خانقاؤں استانوں پہ شاگردوں میں دیکھا ہے۔ لوگ شرطیں رکھ کے فرمانبرداری کرتے ہیں۔ شرطیں رکھ کے کہتے ہیں پہلے میری مرضی کے مطابق نظام ہوں تو پھر میں استانے کا استاد خانے کا فرمانبردار ہوں کیونکہ میری مرضی کا نہیں۔ لہذا میں فرمانبردار یہ لولا لنگڑا نظام ہے۔ جو نظام ہوتا ہے تسلیم و رضا کا اس میں بندہ بس کام جو کرتا ہے تو ہنس ہنس کے ہی کر لیتا ہے۔ پھر بڑا تھکاوٹ والا کام بھی ہو بندہ ہنس ہنس کے کرے تو اسے وہ کام بوجھ محسوس نہیں ہوتا۔ اس کو صحیح کر کے کریں حضرت ابراہیم کی زندگی مقام تسلیم و رضا والی۔ میری اپ حضرات سے گزارش ہے میں کئی جمعوں سے کہہ رہا ہوں اس لیے کہہ رہا ہوں۔ کہ میرے پاس لوگ اتے ہیں۔ دعاؤں کے لیے کہہ دیتے ہیں اچھا ادمی جان کے لوگ بڑے پریشان ہیں غربت، کمزوری، مہنگائی اس کے علاوہ بھی کچھ ازمائش رہتی ہے لوگوں پر۔ ہر ادمی ہی محنت کرتا ہے لیکن ضروری نہیں سب کی محنت باراور بھی ہو۔ اللہ تعالی نے بعض لوگوں کو بعض کا ذریعہ بنایا ہوتا ہے۔ دلوں کو کبھی تنگ نہ کریں۔ طبیعتوں میں کبھی تنگی پیدا نہ کریں۔ اور سب سے ضروری بات جو اس ساری گفتگو کے بعد اپ سے عرض کرنی ہے۔ دنیا داروں سے امیدیں نہ لگائیں۔ غریبوں سے کمزوروں سے عرض کروں گا کہ امیدیں ذریعہ دنیا دار بنیں گے لیکن وہ بھی جب رب چاہے گا۔ اپنی امیدیں۔ اپنے رب کریم سے وابستہ کریں۔ اس لیے کہ رب جب بندوبست کرتا ہے تو پھر بغیر حساب کتاب ہی کرتا ہے۔ وہ سب سے بہترین اہتمام کرتا ہے اپنی ساری ارزؤں کا ساری امیدوں کا ساری خواہشات کا مسکن اپنے مالک کی ذات گرامی کو بنائیں۔ اللہ تبارک و تعالی جب اپنے بندوں کو نوازے گا تو بڑے کرم سے بڑے فضل سے بڑی عطا سے نوازے گا اللہ کریم ہمارے لیے عمل کا راستہ اسان کرے۔ اخر دعوانا الحمدللہ رب العالمین۔

Seerat Hazrat Sayyadina Ibrahim Khalil Ullah Alaihisalam | Complete Khutba e Jumma
Muhammad Ajmal Raza Qadri
27m 54s4,753 words~24 min read
Auto-Generated
Watch on YouTube
Share
MORE TRANSCRIPTS


