[0:00]بسم اللہ الرحمن الرحیم سپریم کورٹ کا وراثتی جائیداد کے متعلق اہم ترین فیصلہ جس کے اندر ٹائم لیمیٹیشن کی بات ہوئی جس کے اندر یہ بات کلیئر ہو گئی کہ اگر کوئی بہنیں ایک بہن یا زیادہ اپنے بھائی سے اپنے بھائیوں سے اپنی جو جائیداد ہے وراثتی اس کے لیے حق مانگتی ہیں اور وہ بھائی انہیں انکار کرتے رہتے ہیں تو کیا یہ جو انکار ہے اس پہ کوئی ٹائم لیمیٹیشن ہے؟ اگر وہ اگے فروخت کرتے ہیں اور بہنیں چپ رہتی ہیں تو کیا اس کے اوپر ان کی جو اولاد ہے ان کے حقوق ختم ہو جاتے ہیں اگر بہنیں اپنی زندگی میں اپنی پراپرٹی اپنے بھائیوں سے نہیں لیتی چیلنج نہیں کرتی تو کیا بعد میں ان کی جو اولاد ہے ان بہنوں کی وہ اس کا حق جو ہے ان کا ختم ہو جاتا ہے یا ان کو بھی یہ حق دیا جاتا ہے کہ وہ چیلنج بھی کر سکیں اور ان کو ان کی والدہ کا جو ہے حصہ بھی دلوایا جائے۔ اج اسی کے اوپر ہم ایک سپریم کورٹ کا اہم ترین فیصلہ ڈسکس کریں گے۔ میں ہوں مدثر حسن وینس ایڈوکیٹ۔ میری اپ سے ہنبل سبمیشن ہے میری ریکویسٹ ہے۔ میرے چینل کو سبسکرائب ضرور کر دیں۔ بیل ائیکن کے بٹن کو دبا دیں۔ اور اگر یہ ویڈیو اپ کے نالج میں اضافہ کرتی ہے دوسروں کے فائدے کے لیے اسے لائک اور شیئر ضرور کیجیے گا۔ اب یہاں پہ اپنے ٹاپک پر اتے ہیں۔ یہ ایک ایگریکلچر زمین تھی یہ ایک زرعی رقبہ تھا جو کہ 19 کنال 17 مرلے پر مشتمل تھا۔ اس کا جو مالک تھا جائیداد کا وہ عیسی خان تھا عیسی خان کی وفات کے بعد یہ جو رقبہ تھا یہ اس کے بیٹے کو بطور وراثت منتقل ہو گیا۔ اب یہاں پہ کیا ہوا بیٹیاں جو ہے وہ وراثت سے محروم ہو گئی۔ اب بیٹیوں نے اس معاملے کو اس عمل کو چیلنج نہ کیا۔ اب جناب جب یہ تمام رقبہ عبدالرحمن اس مرنے والے کے بیٹے کو ملا تو اس نے اپنے زندگی کے اندر اس میں سے کچھ رقبہ کارپوریشن کو فروخت کر دیا اور اس کے بدلے رقم لے لی۔ یہاں پر بھی بہنوں نے کسی قسم کی کوئی کاغذی کارروائی نہ کی کہیں کسی قسم کی کوئی ٹرانزیکشن کو چیلنج نہ کیا۔ اب اس کے بعد عبدالرحمن بھی وفات پا گیا عبدالرحمن کی جو بقیہ جائیداد بچی وہ اس کے وارثان میں تقسیم ہو گئی۔ پھوپھیوں نے پھر بھی جناب اپنے بھتیجوں کو جب وارثان کو تقسیم ہو رہی تھی وہاں پہ کسی قسم کے عمل کو چیلنج نہ کیا۔ اب جب عبدالرحمن کی اولاد تھی ان کے نام جب زمین لگ گئی وہ جائیداد وراثت بن کے ان کے نام منتقل ہو گئی انہوں نے وقتا باوقتا مختلف لوگوں کو وہ فروخت کرنا شروع کر دی۔ اب ان تمام معاملات کو بھی بہنوں نے مطلب ان اب اولاد کی جو پھوپھیاں ہیں اس عبدالرحمن کی بہنیں انہوں نے اس کو کسی قسم کا کہیں پر بھی چیلنج نہ کیا۔ اسی دوران وہ جو دونوں بہنیں تھیں وہ فوت ہو گئیں۔ اب عبدالرحمن جو بھائی تھا وہ پہلے فوت ہو گیا تو اس کے بعد وہ بہنیں بھی فوت ہو گئیں لیکن اس وراثتی پراپرٹی کو کسی طور پر کسی جگہ پر چیلنج ان بہنوں کی طرف سے نہ کیا گیا نہ بھائی کی زندگی میں نہ بھتیجوں کی زندگی میں۔ تو ایسے ہوا کہ کچھ وہ اپنی زندگی میں فروخت کر گیا کچھ اگے اولاد نے فروخت کر دی۔ تو یہاں پہ ہوا یہ کہ ان بہنوں کی جو اولاد تھی انہوں نے 2004 کے اندر ایک سول دعوی دائر کر دیا اور اپنا حق مانگا۔ عدالت کے اندر ا کے انہوں نے اپنا حق مانگا اور انہوں نے کہا جی ہماری جو والدہ تھیں ان کے جو حصے بنتے ہیں وہ ہمیں دلوائے جائیں۔ اب جب عبدالرحمن کی اولاد نے وہاں پہ جواب دیا اس کیس کا ظاہری بات ہے وہ مدالہ بنے۔ تو انہوں نے وہاں پہ اپنا موقف یہ اختیار کیا کہ یہ کیونکہ عورتیں جو ہماری پھوپھیاں تھیں انہوں نے نہ اپنے بھائی کی زندگی میں اپنے بھائی سے کبھی حق مانگا نہ کہیں کوئی ٹرانزیکشن چیلنج کی۔ اور نہ انہیں کبھی ہم جب فروخت کرتے رہے انہوں نے کبھی ہمارے سے کسی قسم کا کوئی ایسی بات ہوئی نہ ہمارے خلاف کبھی کوئی چیلنج کیا اب کیونکہ وہ وفات پا گئی ہیں اب اتنے سال گزرنے کے بعد یہ ان کی جو اولاد یہاں پہ ا کے ٹرانزیکشن چیلنج کر رہی ہے یہ انکار چیلنج کر رہی ہے اور یہ اپنی وراثت سے حصہ مانگ رہی ہے تو اب کیونکہ ٹائم پیریڈ اتنا گزر چکا ہے کہ لیمیٹیشن اڑے ا رہی ہے اور اس طور پر اب یہ کسی صورت بھی ایسا ان کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا کہ وہ وراثت کے اتنے پرانے معاملات ان کے انتقال توڑے جائیں اور وہ تمام معاملات کو اگے دوبارہ ان کے نام تو اس طرح مطلب کہ لیمیٹیشن اڑے ا گئی اور انہوں نے یہ موقف اختیار کیا مگر سول کورٹ نے ٹرائل کمپلیٹ ہونے کے بعد یہ فیصلہ ان خواتین کی اولاد کے حق میں کر دیا اور وہاں پہ وراثتی انتقال جتنے بھی وہاں پہ جو ہے انتقال ہوئے جتنے بھی اگے فروخت ہوئی زمینیں مطلب وہ ظاہری بات ہے پھر سارے کال عدم قرار دیے گئے اور ان کو کہا کہ یہ جو خواتین تھیں ان کی اولاد کو ان کا حق وراثت جو ہے وہ دلوایا جائے۔ بڑا اہم ترین فیصلہ ہوا سول کورٹ ٹرائل کورٹ سے تو عبدالرحمن کی جو اولاد تھی وہ خواتین کی جو بھتیجے تھے انہوں نے یہ فیصلہ چیلنج کر دیا ڈسٹرکٹ کورٹ کے اندر۔ ڈسٹرکٹ کورٹ نے وہی ٹائم لیمیٹیشن والا جو معاملہ تھا اسی کے اوپر اس نیچے والے جو ٹرائل کورٹ کا فیصلہ تھا اس کو ختم کرتے ہوئے اپنا نیا فیصلہ سنایا۔
[4:50]اس فیصلے کو ہائی کورٹ چیلنج کیا گیا ہائی کورٹ کے اندر بھی یہ فیصلہ برقرار رہا اسی طور پر کہ یہ لیمیٹیشن کا مسئلہ ہے یہاں ٹائم اتنا گزر چکا ہے کہ اب کسی طور کسی صورت میں جو ریلیف جو ہے ان خواتین کی جو اولاد ہے ان کو ریلیف نہیں مل سکتا ان کو وراثتی حق اب نہیں مل سکتا۔ اب ہائی کورٹ کے بعد یہ فیصلہ ہوا سپریم کورٹ کے اندر تو سپریم کورٹ نے یہ انتہائی اہم فیصلہ دیا دونوں پارٹیوں کو ابزرو کیا دلائل سنے اور مختلف اور جو پہلے سپریم کورٹ کے جو کیس لا تھے وہ بھی دونوں فریقین کی طرف سے بطور حوالاجات پیش کیے جن کا اس ججمنٹ کے اندر ذکر بھی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے کے اندر اہم جو ہے پوائنٹ بھی اٹھائے اور اس کے اوپر بڑا زور بھی دیا کہ یہ اس کے اندر دو پوائنٹ بڑے مین جو اٹھائے گئے ایک تھا کہ یہ ایکچول ڈینائل ہے اور دوسرا ایک اس کے اندر تھریٹنڈ ڈینائل ہے کہ ایک کسی کو دھمکی دینا کہ میں اپ کو یہ چیز نہیں دوں گا اورل زبانی کسی کو یہ بار بار کہنا۔ تو یہ جو دو پوائنٹ اٹھائے گئے کہ ایکچول ڈینائل اور تھریٹنڈ ڈینائل۔ اب یہاں پہ بات یہ ہوئی سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر اسی کیس سے ہم مثال لے لیتے ہیں کہ اگر یہ زمین یہ پراپرٹی عیسی خان نے اپنے بیٹے کو دے کر بیٹیوں کو محروم کیا تو کیا بیٹیاں کسی طور پر کہیں انہوں نے چیلنج کیا۔ اب اگر عبدالرحمن جو تھا وہ بھی وراثتی پراپرٹی میں حصہ دار تھا اور بہنیں بھی حصہ دار تھیں اگر تو یہ بہنیں وراثتی اپنی زمین مانگنے اپنے بھائی کے پاس جاتی ہیں بھائی انکار کر دیتا ہے تو یہ اتی ہے ایک دھمکی امیز معاملہ ہوتا ہے کہ ایک بھائی کہتا ہے جی میں اپ کو اپنے اس پراپرٹی میں سے حصہ نہیں دوں گا۔ تو یہ ایکچول ڈینائل نہیں ہے۔ تو جب جب وہ یہ بات کرے گا کہ میں اپ کو پراپرٹی میں سے حصہ نہیں دوں گا تو اس کے اوپر چھ سال کا ٹائم پیریڈ اتا ہے جو کہ ارٹیکل 120 کا بھی ذکر کیا گیا جس کے تحت جو لیمیٹیشن پیریڈ ہے وہ چھ سال ہے۔ مطلب اگر کوئی شخص اپنے ملکیت کے حقوق کو چیلنج کرتا ہے تو اس کو چھ سال کا ٹائم دیا جاتا ہے۔ تو اس میں سپریم کورٹ نے یہ واضح کیا کہ اگر انہوں نے اپنے بھائی سے مطلب ایک مثال کے طور پر اگر ایک یہ عورتیں یا خواتین اپنے بھائی کے پاس گئیں اور بھائی کو کہا 1950 میں کہ ہمیں ہماری وراثت کا حصہ دیا جائے اور اس نے انکار کر دیا۔ تو یہ ایک تھریٹنڈ ڈینائل ہے تو یہ ڈینائل جو ہے یہ اس صورت میں ایکچول ڈینائل نہیں سمجھا جائے گا۔ وہ پھر پانچ سال بعد دوبارہ گئیں بھائی کے پاس کہ ہمیں ہماری زمین ہماری پراپرٹی کا حصہ دیا جائے اس نے پھر انکار کر دیا تو وہ پھر دوبارہ وہیں سے کام شروع ہو جائے گا کہ اب پھر ان کے پاس چھ سال ہیں۔ اس طرح وہ پھر پانچ سال بعد گئیں اس طرح زبانی جب تک وہ جاتی رہیں گی وہ ان کا ٹائم دوبارہ کاؤنٹ ہوتا رہے گا۔ لیکن یہاں پہ یہ ایکچول ڈینائل کہ جب عبدالرحمن نے زمین فروخت کی اس پہ عمل درامد شروع کر دیا کہ جو وہ کہتا تھا کہ میں نہیں دوں گا۔ تو اس نے وہ کام کر کے دکھایا کہ اس نے وہ زمین فروخت کرنا شروع کر دی۔ تو پھر بہنیں پریکٹیکلی کسی فورم پہ نہیں گئیں پریکٹیکلی انہوں نے وہ فورم کہیں اویل ہی نہیں کیا کہیں چیلنج ہی نہیں کی وہ ٹرانزیکشن تو وہ ایکچول ڈینائل ہوا۔ تو اس کے بعد سے پھر وہ چھ سال کا جو لیمیٹیشن پیریڈ تھا وہ شروع ہو گیا۔ تو ایسے عبدالرحمن جو تھا اس نے اپنی زندگی میں یہ معاملات کیے۔ اس نے زمینیں فروخت کیں اس نے کارپوریشن کو فروخت کی اس کے بدلے اس نے مطلب کہ اس کے بدلے اس نے پراپرٹی کے بدلے رقم لی تب بھی یہ خاموشی اختیار کی انہوں نے ٹرانزیکشنوں کو چیلنج نہ کیا۔ پھر اس کی وفات کے بعد وہ وراثت اس کے بچوں میں تقسیم ہو گئی اس کے بیٹوں نے اگے زمین فروخت کی مختلف جگہ پر مختلف اوقات میں ان کو بھی چیلنج نہ کیا گیا۔ تو جب خواتین اس دنیا سے پردہ کر گئیں وراثت ان کی ان کا حق جو ہے اب اولاد کسی طور پر بھی چیلنج نہیں کر سکتی کیونکہ اس میں لیمیٹیشن ا چکی ہے اس طور پر پھر خواتین کو ان کا وراثتی حق سے محروم کر دیا گیا۔ مطلب کہ وہ جو وراثتی حق ان کی اولاد کلیم کر رہی تھی ان کو یہ وراثتی حق نہ مل سکا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک تو لیمیٹیشن اڑے ا گئی اور پھر وہ اپنی زبان اپنی زبانی تو وہ مانگتی رہیں تو لیکن وہ اس کا ایکچول ڈینائل نہ ہوا ایکچول ڈینائل جیسے ہوا جب ٹرانزیکشن چیلنج نہ ہوئی۔ جب زمینوں کو فروخت کیا گیا پراپرٹی اگے منتقل کرنے لگ گئے تو جب بہنیں اپنی حق کے لیے نہ اٹھیں اپنی وراثتی جائیداد کو اس کے حق کی اواز نہ اٹھائی کسی کمپیٹنٹ اتھارٹی کسی فورم پہ نہ گئیں تو پھر ان کو وہ چھ سال گزرنے کے بعد اس فیصلے کے مطابق اب ان کی اولاد کسی طور پر وہ چیلنج نہیں کر سکیں گی وہاں پہ ٹائم لیمیٹیشن پیریڈ ان کا جو ہے ٹائم فیکٹر بہت بڑا مسئلہ بن جائے گا اور اس وجہ سے یہ کیس بھی اس خواتین جو تھیں وہ جو دونوں بہنیں تھیں ان کی اولاد کے وہ حقوق کے وراثت جو تھے وہ ان کو نہ مل سکے۔
[11:26]اب یہاں لیمیٹیشن کی بات اتی ہے تو ایک اور اہم نقطہ بھی یہاں پہ شیئر کرتا جاؤں کہ اگر کسی عورت کو یا خواتین کو ان کے بھائی جو ہیں ان کی وراثتی جائیداد میں سے کوئی ایسا ٹھیکہ دے رہے ہیں کوئی ان کو کرایہ دے رہے ہیں جو کہ کوئی شہری گھر ہو سکتا ہے کوئی زرعی رقبہ ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ اندر ہی اندر سے ان کو اپنی ان کی وراثت سے محروم بھی کر رہے ہیں مطلب کہ وہ فروخت بھی کر رہے ہیں اور عورتوں کو اس کا پتہ بھی نہیں چل رہا خواتین کو ان کا کسی قسم کا کوئی پتہ نہیں تو یاد رکھیے گا ایسی صورت میں لیمیٹیشن جو ہے وہ اڑے نہیں ائے گی۔ کیونکہ یہ جب پتہ چلے گا اس عورت کو کہ مجھے میری وراثت سے محروم کر دیا گیا ہے اس کے بعد یہ چھ سال جو ہے یہ کاؤنٹ ہوں گے۔ تو یہ بڑا اہم نقطہ ہے کہ اپ کو جب پتہ چلتا ہے تو پھر چھ سال اپ کے سٹارٹ ہو جاتے ہیں اگر اپ پھر خاموش رہتے ہیں تو پھر اپ چھ سال بعد اپنا حق وراثت سے معاملات کو اپنا حق لینے سے کھو دیتے ہیں۔ تو مطلب کہ یہ قانون جو ہے یہ بڑا اہم ہے اور اس کو جاننا بڑا اہم ہے۔ یہ جو لیمیٹیشن کا پیریڈ ہوتا ہے لوگ سمجھتے ہیں وراثت کا حق ہم سو سال بھی چیلنج کریں گے سو سال بعد بھی ہمیں ملے گا تو یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اس تمام باتوں کو جو ہے میں کہتا ہوں کہ بالکل رد کرتا ہے اور یہ زور دیتا ہے کہ ہر کیس جو ہے وہ لیمیٹیشن کے اوپر ہوتا ہے لیمیٹیشن ایسی کوئی کیس نہیں ہے جو کہ لیمیٹیشن کے بغیر چل رہا ہو حقوق ملکیت جب بھی اپ چیلنج کریں گے تو اپ کو لیمیٹیشن پیریڈ جو ہے اس کا سامنا کرنا پڑے گا اگر اپ اڑے ائے گی لیمیٹیشن اگر اپ ٹائم پہ اتے ہیں تو ضرور حق ملے گا اگر اپ ٹائم پہ نہیں اتے اپ کو ہی اپ کی اولاد کو بعد میں حق سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔ میں امید کرتا ہوں یہ ویڈیو اپ کے نالج میں اس نے اضافہ کیا ہوگا اپ کے لیے یوز فل ثابت ہوئی ہوگی اگر یہ ویڈیو اپ کو اچھی لگی ہو اسے لائک شیئر ضرور کیجئے گا۔ ایک نئی لیگل ویڈیو نئے ٹاپک کے ساتھ اپ کی خدمت میں حاضر ہوں گا اجازت دیجئے تھینک یو اللہ حافظ۔



