Thumbnail for Why the U.S.–Iran Agreement Still Faces Major Obstacles? Orya Maqbool Jan by Orya Maqbool Jan

Why the U.S.–Iran Agreement Still Faces Major Obstacles? Orya Maqbool Jan

Orya Maqbool Jan

23m 41s4,511 words~23 min read
AI audio transcription
Transcript source

AI audio transcription

This transcript was generated from the video's audio because no usable YouTube caption track was available. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Pull quotes
[12:16]ٹرمپ کہتا ہے ٹرمپ اون سیچرڈے ٹرمپ ہیلڈ آ فون کال ود دا لیڈرز آف سعودی عربیہ دا یونائیٹڈ عرب ایمیریٹس، قطر، پاکستان، ترکی، ایجپٹ، جورڈن اینڈ بحرین ٹو ڈسکس دا ایمرجینگ ڈیل ود ایران۔
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:04]کہ اس جنگ کو ہم سب لوگ ایران امریکہ وار کہہ رہے ہیں جبکہ ایران کے تمام معاہدات کے اندر اور باقی چیزوں کے اندر یہ ایک پورے کے پورے مڈل ایسٹ کی وار ہے۔ کوئلے کی دلالی کے اندر منہ کالا ہوتا ہے۔ ہم پہلے دن سے کہہ رہے تھے کہ یہ سیز فائر چلتا رہے گا، سٹیٹس کو چلتا رہے گا یہ سٹیٹس کو 1948 سے چل رہا ہے۔ یہ وہ ایسی جنگ ہے کہ جو اور جس کے اندر ہم کسی بھی نتیجے پہ نہیں پہنچ پاتے ہیں۔ پاکستان کا حال بالکل اس وقت اس سے زیادہ نہیں ہو گیا کہ ہم ایک خط لے کے جاتے ہیں اور اس کے بعد اس لیے کہ آتے ہیں اب نہ یہ روٹھا ہوا بھائی مانتا ہے نہ وہ روٹھا ہوا جو ہے دشمن مانتا ہے۔ اسرائیل کہتا ہے صلح مت کرو پوسٹپونمنٹ میں رکھو۔ ٹرمپ کہتا ہے کہ جلدی جلدی میرا وار ٹرافی ملے مجھے 400 کلو گرام یورینیم ملے میں لے کے بھاگ جاؤں۔ ٹرمپ کی ہار ہوگی اور ایران کی جیت ہوگی۔ یہ ٹرمپ کی ہار ہے اور اس کی جیت ہے۔ اب یہ دیکھیں اکارڈ ہو جاتا ہے آپ پہ پریشر کیا آئے گا؟ اور پاکستان جس قسم کے پولیٹیکل ٹرمائل سے گزر رہا ہے پاکستان کو اس وقت بہت سٹرونگ لیڈرشپ کی ضرورت ہے تو اس طرح کے یہاں پر ٹرمائل چل رہا ہے اس ٹرمائل کے اندر مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم محلے کی پڑوس کی آگ جو ہے وہ بھنانے جا رہے ہیں اور ہمارے گھر جو ہے وہ بالکل آگ کے اندر۔

[1:26]السلام علیکم ناظرین آپ دیکھ رہے ہیں پروگرام حرف راز میں ہوں عمر بشیر اور ہمیشہ کی طرح ہمارے ساتھ ہوں گے اوریا مقبول جان صاحب۔ ناظرین اس وقت ڈیل ڈیل کی خبریں ہیں اور اس ڈیل کے متعلق فریم ورک جو ہے وہ تیار کر لیا گیا ہے امریکہ اور ایران کے درمیان وہ ڈیل آل موسٹ فائنل ہو چکی ہوئی ہے یہ کہا جا رہا ہے۔ لیکن کیا وہ ڈیل واقعی ہی کامیاب ڈیل ہو جائے گی اس کے اوپر کوئی فائنل اؤٹ پٹ ہوگا اور وہ جو سیز فائر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کیا وہ سیز فائر ایک فائنل ٹو دی اینڈ آف دی وار کنکلوژن کی طرف جائے گا یا نہیں جائے گا اس پر گفتگو کریں گے لیکن اس ڈیل کے بعد جو مسلم ممالک ہیں خاص طور پہ پاکستان اور سعودی عرب ان کے لیے کیا مسائل اور کیا مشکلات سامنے آئیں گی اس پر گفتگو کریں گے اوریا مقبول جان صاحب ساتھ ہیں السلام علیکم سر۔ جی وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ سر مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے آپ آپ آپ تہران میں ہیں شاید آپ کے بیک گراؤنڈ میں اور یعنی میں تہران جہاں سے نزدیک ہے بس۔ اچھا آپ سے نزدیک اور بہت ساری جگہ بھی نزدیک ہے۔ جی جی۔ اچھا دیکھیں میں کچھ دنوں سے یہاں آیا ہوں وہ ظاہری بات ہے اس پہ میں علیحدہ بات کروں گا۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس جنگ کو ہم سب لوگ ایران امریکہ وار کہہ رہے ہیں۔ ٹھیک ہے۔ اور جبکہ ایران کے تمام معاہدات کے اندر اور باقی چیزوں کے اندر یہ ایک پورے کے پورے مڈل ایسٹ کی وار ہے۔ اور میڈیا کا ہمیشہ دھوکہ یہی ہوتا ہے کہ جس بندے نے جنگ شروع کی ہے اس بندے کا نام نہ لیا جائے۔ اچھا۔ مطلب یہ نہ کہا جائے کہ امریکہ کی شروع کی ہوئی جنگ جو ہے وہ اب کس نتیجے پر پہنچ رہی ہے اور کیا ہے۔ یہ اسرائیل جو تھی اور اس نے کیا کیا تھا اور اسرائیل پہلے کس جنگ میں ایا تھا پھر امریکہ کیسے کھودا تھا؟ تو ایک بات معاہدہ کرتے وقت بھی اور میڈیا کے اندر بھی اور باقی جگہ پہ تبصرہ کرتے ہوئے بھی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ بنیادی طور پر اسرائیل کی جنگ ہے۔ مشرق وسطی میں آگ کی تیلی جو ہے وہ جلائی اسرائیل نے تھی اور وہ اس وقت سے 1948 سے چلتی چلی آ رہی ہے آج 77 سال کے بعد وہ جب چاہتا ہے اس کی لاؤ کو تیز کر دیتا ہے، جب چاہتا ہے جہاں چاہتا ہے حملہ کر لیتا ہے جہاں چاہتا ہے جس کو مار دیتا ہے جس کو اسی کے دوران اس نے ایران کے ساتھ 1979 کے بعد سے ایک کانفلیکٹ کے زون میں آیا ہے۔ ٹھیک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1979 کے بعد پورے کی پوری مسلم ورلڈ کا ایک نقشہ جو ہے وہ بدلنا شروع ہوا ہے۔ جس میں عرب جو تھے وہ ایک طرف ہوتے چلے گئے اور اس کے ساتھ ساتھ ایران والے ادھر ہوتے چلے گئے۔ اب جب سیٹلمنٹ کا وقت آتا ہے تو سیٹلمنٹ میں کان ایک طرف سے ٹرمپ کا پکڑا ہوتا ہے اسرائیل نے کہ تم نے یہ کام نہیں کیا تو خبردار تم نے ڈیل کی۔ دوسرا اس کے بعد ہوتا یہ ہے کہ وہ تمام تر لوبیس جو کہ پرو وار لوگ ہیں وہاں پر بیٹھے جو ہاکش ہوتے ہیں جو اس کے امریکہ کے انہوں نے ٹرمپ کو پکڑا ہوتا ہے۔ وہ آوازیں جو کہ نان وار کی ہیں وہ بہت کم کبھی ٹرمپ جو تھا وہ اینٹی وار ہوتا تھا اس کی آواز بھی اب کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پھر دوسری طرف سے ایران نے کہا ہوتا ہے ہمارے لوگوں کو کہ یہ جنگ صرف سٹیٹ آف ہرمز کی نہیں ہے اس میں لبنان بھی شامل ہے اچھا اس میں ہوسیوں کا وہ جو یمن بھی شامل ہے اس لیے جب تک تم وہ نہیں کرو گے تو یہ نہیں ہوتا۔ اور یہ وہ ایسی جنگ ہے کہ جو اور جس کے اندر ہم کسی بھی نتیجے پہ نہیں پہنچ پاتے ہیں۔ آپ اندازہ کریں کہ پاکستان کا حال بالکل اس وقت اس سے زیادہ نہیں ہو گیا کہ ہم ایک خط لے کے جاتے ہیں اور اس کے بعد اس لے کے اتے ہیں اب نہ یہ یہ روٹھا ہوا بھائی مانتا ہے نہ وہ روٹھا ہوا جو ہے دشمن مانتا ہے۔ کیونکہ ہم تو دشمن اور بھائیوں کے درمیان صلح کرا رہے ہیں نا اگر دو مسلمانوں کے درمیان کرائے کرا رہے ہوتے تب بھی کوئی اللہ تعالی کی نصرت ہوتی ہمارے درمیان اور اللہ تعالی تو ہمارے ساتھ ہوتا ہم تو کفر اور اسلام کی ایک بنیادی جنگ جو ہے اس کے اندر کودے ہوئے ہیں۔ ٹھیک ہے۔ ٹھیک ہے اللہ تعالی اس پہ بھی مدد کرے امن قائم ہو لیکن ہوا یہ ہے کہ آج سے دو دن پہلے جب میں نے پرسوں ویڈیو بنائی تھی اور میں نے کہا تھا کہ ٹرمپ کے مزاج کے اندر ایک بادشاہت ہے۔ اور امریکہ کا صدر واحد ایسا ہے دنیا کا جس کے اندر بادشاہت کا نشہ ہے۔ اور وہ سمجھتا یہ ہے کہ اس دنیا کو اس کے مطابق چلنا چاہیے۔ یہ صرف ٹرمپ کی بات نہیں ہے۔ یہ آپ جارج ڈبلیو بش کی تقریریں اٹھا کے دیکھ لیں۔ یہ آپ اس کے بعد اس سے پہلے جو تھا وہ جو اپنا لنڈن بی جانسن کی ٹرومین کی تقریریں اٹھا کے دیکھ لیں کسی کی بھی تقریریں اٹھا کے دیکھ لیں یہ سارے کے سارے عموما یہی کہتے ہیں کہ ہماری جو دنیا ہے اس کے ساتھ۔ یہ جو ورلڈ آرڈر کا نام ہے نا کہ نیا ورلڈ آرڈر ورلڈ آرڈر انہوں نے قائم کر لیا تھا 1944 میں۔

[6:07]ابھی ساری اس کے اندر جو بہت ساری کیونکہ باتیں دو تین دن کے اندر بہت سارے لوگوں نے کر لی ہوئی ہیں ہم نے معاہدہ کروانا ہے۔ ٹھیک ہے جی اور دو ایک تو یہ ہو گا کہ پہلے ہم سٹیٹ آف ہرمت کھولیں گے ایران والوں نے کہا تھا اور اس کے دوران فری پیسج شروع ہو جائے گا کوئی ٹیکس نہیں لیں گے کوئی لیوی نہیں لیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ امریکہ ہمارے کچھ پیسے جو ہے وہ 25 26 عرب انہوں نے ڈالر رکھے ہوئے ہیں میں وہ ریلیز کرے گا اور تیسرا یہ تھا کہ لبنان میں جنگ بندی ہوگی۔ یہ بنیادی چیز تھی۔ ہم نے جناب مبارکبادیں دینی شروع ہو گئیں۔ پاکستان کے سارے جرنلز یہ وہ اور خاص طور پر مجھے لگتا یہی ہے کہ پاکستان کا جو سب سے انفارمڈ آدمی ہے جو کہ بہت دور ہے شروع شروع میں تو کرتا رہا ہے وہ شہباز شریف صاحب ہیں۔ شہباز شریف صاحب نے بھی ایک ٹویٹ کر دیا اور انہوں نے کہا کہ ود دا گریٹ ہیوملٹی ائی ایم پلیز ٹو اناؤنس دیٹ دا اسلامک ریپبلک آف ایران اینڈ دا یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ الونگ ود دیئر الائیز ہیو ایگریڈ ٹو این ایمیڈیٹ سیز فائر ایوری وئیر انکلوڈنگ لبنان اینڈ ایلس وئیر ایفیکٹیولی ایمیڈیٹلی۔ اس کے اوپر اس کے صرف آدھے گھنٹے کے اندر اندر آپ اندازہ کریں کہ اسرائیل کے اندر جو اس کا ٹائم اف اسرائیل ہے اس نے ٹرمپ وینگ نیو ایران سٹرائیکس ایز ہی سیکس ڈیسیسیو وکٹری نیتن یاہو فروزن اؤٹ آف ٹاکس۔ فروزن اؤٹ کہتے ہیں کہ اس کو باہر بٹھا دیا گیا ہے اور ساتھ اس کو برف کا مد مد بنا دیا گیا ہے۔ کہ بھائی جان چپ ہو جاؤ ہم کر رہے ہیں ہم تمہاری بات کو دیکھیں گے سب کچھ کریں گے۔ جب یہ معاہدہ سامنے آیا تو اس کے بعد آپ اندازہ کریں تو اسرائیل ایک منٹ کو تو چپ رہا۔ لیکن اس نے اپنے جتنے سارے نمائندے تھے ان کو وہاں سے بولنے کے کہا کہ میں میں میں بولنا شروع کر دوں۔ سب سے پہلے لنڈسے گراہم بولا یہ سینیٹر ہے 2003 سے ریپبلکن کا سینیٹر ہے وار ہاک ہے اور یہ ایڈوکیٹ آف انٹروینشنسٹ پالیسی کہ جہاں کچھ ہو رہا ہے وہاں پنگا ضرور لو وہاں انگلی ضرور دو سب کچھ ہے۔ ایٹارنی رہا ہے سب کچھ رہا ہے جان اس بندے نے سب سے پہلے لنڈسے گراہم نے کہا۔ انکلوڈنگ ان فیکٹ ایز آ رزلٹ آف دیز نیگوسیئیشن ٹو اینڈ دا ایرانین کانفلیکٹ اور عرب اینڈ مسلم الائیز ان ریجن ایگریڈ ٹو جوائن دا ابراہم اکارڈ اٹ وڈ میک دس ایگریمنٹ ون آف دا موسٹ کونسیکوینشل ان ہسٹری آف دا مڈل ایسٹ۔ انہوں نے کہا مجھے اندازہ ہو گیا ہے کہ عرب جو ہے نا وہ ہمارے اب یہ کیا ہو گیا ہے کہ اس بات پہ انہوں نے طے کر لیا کہ اب ہم کانفرنس میں شامل ہو جائیں گے۔ سعودی عرب قطر اینڈ پاکستان جوائننگ دا ابراہم اکارڈز وڈ بی بیونڈ ٹرانسفورمیٹو فار ریجن اینڈ ورلڈ۔ اٹ از آ برلیئنٹ موو بائے پریزیڈنٹ ٹرمپ۔ یہ جناب پہلے تو لنڈسے گراہم صاحب نے یہ اس کا اس کا کیا۔ اس سے پہلے بھی اس نے ایک لیا تھا کہ دی ڈیل از سٹرک ٹو اینڈ دا ایرانین کانفلیکٹ جو پرانی بات ہو گئی ہے بیکوز اٹ از بلیف دیٹ دی سٹیٹ آف ہرمت کین ناٹ بی پروٹیکٹڈ فرام دا ایرانین ٹیررازم اینڈ ایران سٹل پوزیسز دی کیپیبلٹی ٹو ڈسٹرائے دا میجر گلف آئل انسٹرکچر دین ایران وڈ بی پرسیوڈ ایز آ ڈومیننٹ فورس ریکوائرنگ آ ڈپلومیٹک سولیوشن۔ یہ انہوں نے پہلے دیا تھا۔ اس کے اوپر ہوا یہ کہ اس کے اوپر سعودی عرب وغیرہ کیونکہ سعودی عرب کو بڑا مسئلہ ہے اپنے لوگوں کا اور وہ سمجھتا ہے کہ ہمارے لوگ تو کہیں گے جی ہم تو ابراہم اکارڈ میں جیسے ہمیں بڑا مسئلہ ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں تو انہوں نے عبدالسلام صالح یہ ان کا وہ بڑا سوشل میڈیا ہے وہ سارا کچھ اس نے لنڈسے گراہم کو میسج دیا۔ میسج فرام دا ہارٹ آف دا ریاض۔ ٹھیک ہے انہوں نے کہا چار کنگڈم اف دا سعودی عربیہ ڈز ناٹ نیڈ لیسنز ان بولڈنس فرام اینی وئیر ہم یہ کھلے کھلے میسج پسند نہیں کرتے سننا کے لیے ٹھیک ہے جی۔ رییممبر آن 22 مئی 2026 ریاض لانچڈ اٹس ہسٹورک انٹرنیشنل کولیژن ود ٹو سٹیٹ سولیوشن انیشیٹو برینگنگ ٹوگیدر 165 نیشنز فرام اکراس دا گلوب ٹو اینڈورس ریکگنائز اینڈ سپورٹ اٹ۔ دس از آور انٹرنیشنل سٹینڈنگ اینڈ دس از آور بولڈنس وچ نیڈز نو اینڈورسمنٹ فرام یو۔ سیکنڈلی دا انٹائر ورلڈ ہولڈز دا کنگڈم ان دا ہائیسٹ ریگارڈ اینڈ ایسٹیم۔ وی بلڈ آور سٹریٹیجک ریلیشنز ود دا ایسٹ اینڈ دا ویسٹ ود بیجنگ ماسکو اینڈ واشنگٹن اینڈ ود دا یورپین یونین برٹین اینڈ ادر انفلوئنشیل انٹرنیشنل پاورز ان اکارڈنس ود آور نیشنل انٹرسٹس اینڈ آور فرم پرنسپلز ناٹ اکارڈنگ ٹو اینی ونز ڈکٹیس۔ اینڈ اف یو ایشو اسٹیٹمنٹ لنکنگ دا کنٹینیوشن آف ریلیشنز اور تھریٹننگ گریو ریپرکشنز یو آر دیئر بائے ان دی موسٹ بلٹنٹ مینر انڈرمائننگ دا ہسٹورک سٹریٹیجک ریلیشن شپ بٹوین دی کنگڈم اینڈ دا یونائیٹڈ سٹیٹس۔ سچ کروڈ لینگویج از ان بکمنگ آف ایلائیز اینڈ وی ایڈریس اٹ اونلی ٹو دوز ہو آر اگنورنٹ آف دی کنگڈمز سٹینڈنگ اینڈ پریسٹیج۔ تھرڈلی: ہو انسپائرڈ یو ٹو آسک اس ٹو جوائن دا ابراہم اکارڈز ایز اف یو ور ڈوئنگ آ فیور اور ڈکٹیٹنگ آور چوائسز لیٹ اس بی کلیر ود یور آور پوزیشن اون دا پیلسٹینین کاز از ناٹ آ بارگینگ چپ اینڈ نیدر تھریٹس نور اینٹائسمینٹس ول سوئے اٹ۔ دیئر ول بی نو پیس وداؤٹ اسٹیبلشمنٹ اف انڈیپنڈنٹ پیلسٹینین سٹیٹ ود ایسٹ جیروشلم ایز اٹس کیپیٹل۔ دس از دی پوزیشن وی ہیو ڈکلیئرڈ ٹو دی ورلڈ اینڈ دس از دی ایسنس آف آور انیشیٹو وچ 165 کنٹریز ہیو ریلائیڈ بہائنڈ وی آر اون دی رائٹ سائیڈ آف ہسٹری اینڈ انٹرنیشنل لیگیٹی میسی از اون آور سائیڈ۔ فورتھلی: آ ورڈ آف فری ایڈوائس بیفور یو تھریٹن اینڈ میک تھریٹس ٹیک آ گڈ لوک ایٹ دی بگر پکچر۔ دی کنگڈم آف سعودی عربیہ ڈراز اٹس سٹرینتھ فرام گاڈ، دین فرام اٹس وائز لیڈرز تھرو آؤٹ سنچریز فرام دی فاؤنڈر کنگ عبداللہ مے گاڈ ہیو مرسی اون ہیم ٹو دی کاسٹیڈیئن آف ٹو ہولی ماسکنگ کنگ سلمان بن عبدالعزیز اینڈ اون ٹو کراؤن پرنس محمد بن سلمان ہو از لیڈنگ ہسٹورک ٹرانسفارمیشن ایل اونگ سائیڈ ہز لائل پیپل اینڈ آل فری پیپل آف دی ورلڈ۔ ریسٹ ایشورڈ دیٹ ہسٹری پروز دیٹ ریاض ہیز نیور باؤڈ ڈاؤن اینڈ ول ناٹ باؤ ڈاؤن ٹوڈے۔ ان کنکلوژن ہسٹری ول رییممبر دوز ہو لیڈ دی ورلڈ ٹوورڈز آ جسٹ پیس اینڈ اٹ ول رییممبر دوز ہو گیمبلڈ اون لینگویج آف تھریٹس اینڈ بلیک میل اینڈ لاسٹ بیٹ ڈو ناٹ مس جج سچوئیشن۔ یہ جب اس نے کہا تو اس کے بعد ان کا والد محترم جو ہے وہ حضرت قبلہ جو ہے وہ ٹرمپ بول

[11:51]ٹرمپ صاحب کہتے ہیں ٹرمپ آسک مسلم لیڈرز ٹو جوائن ابراہم اکارڈز آفٹر ایران وار اینڈز جی اصل جو بات ہے۔ یہ میرے سامنے ان کا وہ سارے کا سارا ایکسس کا مضمون ہے۔ ٹھیک ہے جی بھائی جان یہ جو تم کر رہے ہو آخر میں تم نے اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے۔

[12:16]ٹرمپ کہتا ہے ٹرمپ اون سیچرڈے ٹرمپ ہیلڈ آ فون کال ود دا لیڈرز آف سعودی عربیہ دا یونائیٹڈ عرب ایمیریٹس، قطر، پاکستان، ترکی، ایجپٹ، جورڈن اینڈ بحرین ٹو ڈسکس دا ایمرجینگ ڈیل ود ایران۔

[12:33]اس نے کہا کہ جناب یہ تم کام کرنا ہے پاکستان، قطر، سعودی عرب تم نے اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے۔ اف اٹ ڈزنٹ ورک وی ول بی ود یو ٹو۔ ایس یو ایس افیشل سیڈ۔ کس نے کہا دی آل سیڈ ٹو ان ساروں نے اس کے کیا کہا کہ اگر تمہارا یہ کام پورا نہیں ہوتا یہ معاہدہ نہیں ہوتا تو پھر بھی ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ اب آپ اندازہ کریں کہ ٹرمپ صاحب نے آپ کی پوزیشن کہاں رہنے دی؟ ٹھیک ہے۔ ٹرمپ ٹولڈ دی لیڈرز دیٹ آفٹر دی وار ود ایران اینڈ ہی ایکسپیکٹس آل آف دیم ہو آر سٹل ناٹ پارٹ آف دی ابراہم اکارڈز اور ڈو ناٹ ہیو پیس ایگریمنٹ ود اسرائیل ٹو جوائن اینڈ نارملائز دی ریلیشن ود دی جیوش سٹیٹ۔

[13:11]سٹیٹ۔ لفظ استعمال کیا جیوش سٹیٹ کا۔

[13:16]ٹھیک ہے جی اس کے بعد اس نے کہا ہے ہی فلوٹڈ دی آئیڈیا آف ایران جوائننگ دا ابراہم اکارڈ۔ اچھا۔ ون ڈے۔ بات پاکستان اور سعودی عرب سے بھی آگے نکل گئی ہے۔ اچھا اس کے ساتھ جو سب سے بڑی بات یہ ہوئی ہے کہ ایک وہاں وہاں ان کا جو مائک پامپیو آپ کو پتہ ہوگا اس نے بلوچستان کو بھی شامل کرنے کے لیے کہا تھا اس کانفلیکٹ کے اندر۔ اس کے فورا بعد جو ہے مائک پامپیو نے بھی کہا کہ یہ تم یہ معاہدے کرنے آ رہے ہو دی ڈیل بینگ فلوٹڈ ود ایران سیمز سٹریٹ آؤٹ آف دی وینڈی شرمین رابرٹ میلی بین روڈس پلے بک۔ پے دی ائی آر جی سی ٹو بلڈ آ ڈبلیو ایم ڈی پروگرام اینڈ ٹیررائز دی ورلڈ۔ اس نے کہا تم پیسے دے رہے ہو 26 تاریخ کو 26 کو 26 ارب ڈالر دے رہے ہو تاکہ وہ مزید گولے بھیجے اور مزید لوگوں کو ٹیررائز کرے۔ ایک ان کا بہت مشہور سینیٹر ٹیڈ کروز ٹیڈ کروز۔ اچھا یہ بندہ جو ہے یہ بھی ان لوگوں کو کہ اس نے کہا تھا دوز ہو ہیٹ اسرائیل دے ہیٹ امریکہ۔

[14:14]اچھا اس نے کہا ہے کہ پریزیڈنٹ ٹرمپ ڈیسیین ٹو سٹرائیک ایران واز دی موسٹ کونسیکوینشل ڈیسیین بہت اچھا ڈیسیین تھا۔ آف دا آف دا سیکنڈ ٹرمپ۔ ہی واز رائٹ ٹو ڈو سو اینڈ وی اچیوڈ ایکسٹرا ارڈینری ملٹری اس اس اس۔ پھر اس نے یہ کہا ہے ٹرائی ٹو ڈسٹنس دی پریزیڈنٹ فرام دا پوٹینشل ڈیل۔ اس کو پڑے کرو ٹرمپ جو ہے نا یہ ڈیل کی طرف جو اس کو لے کے جو بھی جا رہا ہے ان کو پیچھے ہٹاؤ۔ یہ آپ کے سامنے میں نے آپ کے سامنے سچوئیشن اب رکھ دی آخری سچوئیشن جو اس وقت انیلسز ہے کیونکہ ٹائم ظاہری بات ہے آپ کے پاس تھوڑا سا لگتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس وقت اکارڈنگ ٹو میمورینڈم انکلوڈز وہ کہتے ہیں کہ میکنزم ان فریزنگ ایرانین ایسٹس اینڈ سکوپ فار سیز فائر ان لبنان۔ ایرانی کہتے ہیں کہ دو چیزوں کے بارے میں امریکیوں نے کچھ ہمیں بتایا نہیں۔ پیسے کیسے ریلیز ہوں گے اور سیز فائر کیسے ہو گا؟ سیز فائر میں بیٹھا ہوا ان کا والد محترم نیتن یاہو جس نے جنگ شروع کروائی تھی ٹھیک ہے اور وہ اس کو الیکشنز آ رہے ہیں وہ کہتا ہے میرے الیکشن سے پہلے پہلے تو یہ اکارڈ نہیں ہونا چاہیے بے شک تھوڑا سا آگے لے جاؤ لڑائی چلتی رہے سیز فائر ایسے چلاتے رہو۔ دوسرا اس نے یہ کہا ہے کہ سکوپ اف دا اکارڈنگ ٹو دا سورسز میمورینڈم انکلوڈ لبنان سیز فائر فریم ورک بٹ اسرائیل از ریپورٹڈلی انکمفرٹیبل ود ایگریمنٹ اینڈ از پشنگ واشنگٹن ٹو انکلوڈ دا لینگویج الوئنگ اٹ ٹو کیری آؤٹ ملٹری اپریشنز ان لبنان انڈر دی جسٹیفکیشن آف رسپانس اف اینی تھریٹ۔ وہ کہتا ہے اس کے اندر یہ لفظ استعمال کرو کہ اسرائیل سیز فائر تو کرے گا لیکن اگر کوئی خطرہ محسوس ہوگا تو وہ حملہ کرے گا لبنان کے اوپر۔ صحیح ہے۔ یہ جب ایگریمنٹ کا پارٹ بن جائے گا تو اسرائیل جب چاہے گا حملہ کر لے گا۔ تہران ہیز انفارمڈ آل میڈیٹرز انکلوڈنگ پاکستان دیٹ اٹ ول ناٹ سائن دا میمورینڈم ان لیس آل کلازز آر فلی ایگریڈ اینڈ گارنٹیڈ۔ پاکستان ریپورٹڈلی سجیسٹڈ موونگ فارورڈ ود ایگریڈ سیکشن وائل پوسٹپونڈنگ کنٹینشیس پوائنٹس بٹ ایران ریجیکٹڈ دیٹ اپروچ ان سسٹنگ دی ڈسپیوٹڈ کلازز آر فنڈامینٹل اینڈ نان نیگوشیبل۔ انہوں نے کہا نا نا یہ تم لوگ کرتے ہو گے صلح صلح یہ کنٹینشن پوائنٹ ہم یہاں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

[16:22]یہ ہے سر صورتحال انٹیلیجنس کی ہیڈ ان کی جو تھی وہ لنڈلی تلسی تلسی گارڈ وہ استعفی دے چکی ہوئی ہے۔ میرا سر کہنا کہنا یہ تھا۔ کہنے کی ایک بات صورتحال یہ ہے کہ کوئلے کی دلالی کے اندر منہ کالا ہوتا ہے۔ اور پتہ نہیں کیوں ہم سکیپ کوٹ بنتے چلے یہ معاہدہ نہیں۔ ہم پہلے دن سے کہہ رہے تھے کہ یہ سیز فائر چلتا رہے گا، سٹیٹس کو چلتا رہے گا یہ سٹیٹس کو 1948 سے چل رہا ہے۔ یہ سٹیٹس کو آج اگر کبھی وہ وہ وہ ویڈیو دیکھیں کہ جو انہوں نے ریلیز کی ہے گولڈا میر وزیراعظم کی اور انوار السادات کی۔ اینڈ مسٹر پریزیڈنٹ ایز ا گرینڈ فادر ایز ا گرینڈ مدر ٹو آ گرینڈ فادر سے آئی گیو یو آ لٹل پریزنٹ فار دا نیو گرینڈ ڈاٹر۔ وہ دونوں جو ہیں ایک میں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور دونوں کھانا کھا رہے ہیں اور وہ کہتی ہے میں ایک دادی ہوں تم ایک دادی تھے وہ کیا ہوا تھا آپ کو پتہ ہے کہ کیمپ ڈیوڈ کے اندر ہوا تھا۔ اور اس کے بعد آپ اندازہ کریں کہ یہ سارے کے سارے وہاں رہ رہے تھے۔ ٹھیک ہے یہ سارے کے سارے 1967 کے اس کے ایگریمنٹ کے ساتھ گولان ہائیٹس اس نے فتح کیے۔ ویسٹ بینک اس نے فتح کیا۔ سارا کچھ اس کے بعد صحرائے صحرائے سینہ میں سے غذا اپنے پاس رکھ لیا باقی صحرائے سینہ کو دے دیا حالانکہ غذا ان کے ساتھ ہونا چاہیے تھا غذا کے ساتھ ان پر کوئی حق نہیں تھا اس وقت آپ کہتے ہیں صحرائے سینہ کے اندر حصہ کاٹ کے غذا کر دیا کیونکہ ان کی پلاننگ تھی کہ وہاں سے ڈیوڈ بن بلوان جو ہے وہ ٹنل نکالے گئے۔ مسئلہ صرف اس وقت یہ پھنسا ہوا ہے کہ اس کی حج کے موسم کے بعد کیا ہوگا؟ کیونکہ کوئی بھی اس وقت نہیں چاہتا کہ لاشیں جو ہیں مسلم ملکوں کے اندر پہنچیں یا کچھ ہو تو وہ معاملہ شروع ہو جائے گا۔ اب منہ کا جو ہے وہ دن 13 12 میں میں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پڑھتا ہوں تو مجھے بہت خوف آنے لگتا ہے آپ نے فرمایا تھا کہ منہ میں قتل عام شروع ہوگا بہت خوفناک قسم کا اور اس کے بعد لڑائی شروع ہو جائے گی ہو سکتا ہے اس سال ہو اگلے سال ہو جو کچھ بھی ہو کیونکہ یہ پوسٹپونمنٹ اسرائیل کہتا ہے صلح مت کرو پوسٹپونمنٹ میں رکھو۔ ٹرمپ کہتا ہے کہ جلدی جلدی میرا وار ٹرافی ملے مجھے 400 کلو گرام یورینیم ملے میں لے کے بھاگ جاؤں۔ ان کا پوائنٹ جو تھا وہ اگلی کرا لیا تھا کہ 60 دن کے بعد ہم یورینیم پہ ڈسکس کریں گے لیکن نیتن یاہو نے یہ کہا ہے نو کبھی کسی طور پر بھی کوئی ڈیل ایسی ہم ماننے کو تیار ہی نہیں جس میں اس ایران یہ نہ کہے کہ میں اپنا نیوکلیئر پروگرام جو ہے اس کو ختم کرنے والا ہوں۔ آپ اندازہ کریں کہ ایران جو ہے ایک انٹرنل ایگریمنٹ جو ہے اس کے تحت اس نے نیشنل پرفولیسن پرفولیسن وہ ایگریمنٹ ختم یا تو انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن ختم ہے یا یہ ختم ہے۔ یہ ہے وہ ساری صورتحال اب ایسی صورتحال کے اندر میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ کرائسز بڑھتا چلا جائے گا۔ اور وہ ٹرمپ ایٹ دا آرٹ آف دی ڈیل مطلب یہ جو ڈیل ہوگی اس میں اگر ایران کو فری آئل ٹریڈ کرنے کی فری ٹریڈ جو ہے آئل کی وہ کرنے کی اجازت مل جاتی ہے اور سٹیٹ آف ہرمز کو ایز اٹ از اوپن چھوڑ دیتا ہے جس طرح پہلے تھی اور اس کے فروزن ایسٹس جو ہیں وہ اس کو ریلیز کر دیے جاتے ہیں اور اکنامک امبارگوز بھی ختم ہو جاتے ہیں تو یہ تو پھر ٹرمپ کی ہار ہوگی اور ایران کی جیت ہوگی۔ یہ ٹرمپ کی ہار ہے اور اس کی جیت ہے۔ ٹرمپ نے خود سب سے پہلے کے سارے معاملے کے اندر 77 سال کے بعد یعنی 44 سال کے بعد آپ کو ایران کو اپنا تیل بیچنے کی اجازت ملے گی وہ سٹیٹ آف ہرمز سے تیل بھی بیچے گا سب کچھ تو ایران تو ود ان ون اور ٹو ایئرز اس لیول کی صورتحال میں بن جائے گا دوسری تیسری چیز جو جس سے ڈرتے ہیں سارے کہ ایران کی جو ویپن انڈسٹری ہے نا جی وہ کسی کو اوپر ڈیپینڈنٹ نہیں ہے۔ ایران خود سب کچھ بناتا ہے۔ اس نے نہ امریکہ سے مدد لینی ہے نہ کسی اور سے مدد لینی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خوف تو یہ ہے کہ پھر تو پروکسیز بھی چلنا شروع ہو جائیں گی اور باقی چیزیں بھی چلیں شروع ہو جائیں گی۔ آپ یہ دیکھیں اکارڈ ہو جاتا ہے تو آپ پہ پریشر کیا آئے گا؟ کہ ایدر تسلیم کرو ورنہ نیوکلیئر پروگرام رول بیک کرو۔ بالکل ٹھیک ہے۔

[20:47]یہ تو اب اب کلیئر ہونا شروع ہو گیا نا بات اور یہ نہیں ہو سکتا وہ نہیں ہو سکتا اپ یہ بات ہمیں ایک سٹرونگ لیڈرشپ کی ضرورت ہو گی پھر اس وقت۔ بڑی سٹرونگ جو کہ ٹرمپ کی اور امریکن کی اور دنیا پوری کی آنکھیں ڈال کر کے کہے گا ہم نہیں مانتے اس چیز کو۔ اور پاکستان جس قسم کے پولیٹیکل ٹرمائل سے گزر رہا ہے پاکستان کو اس وقت بہت سٹرونگ لیڈرشپ کی ضرورت ہے کہ جو آئندہ اگر معاہدہ اول تو معاہدہ مجھے نہیں لگتا آپ کو پتہ ہے 82 دن ہو گئے ہیں میں 82 دن سے کہہ رہا تھا کہ یہ سٹیٹس لٹکتا رہے گا لیکن معاہدہ یا ڈیل والی صورتحال نہیں ہوتی۔ ڈیل دو دفعہ ہوئی ہے۔ ایک ہوئی ہے جس وقت ہوا تھا وہ اپنا وہ کیمپ ڈیوڈ اکارڈ ہوا تھا جس میں فلسطین بھی سارے شامل ہوئے تھے دو ریاستوں والے اور دوسری ڈیل ہوئی تھی جس وقت ابراہم اکارڈ بنا تھا ان دونوں ڈیل میں اسرائیل کا پلڑا بھاری رہا ہے ان دونوں ڈیلوں میں امریکہ کا پلڑا بھاری رہا ہے۔ مس نے تسلیم کیا تھا۔ یو اے ای کے اندر اسرائیل کا پرچم لڑاتا رہا تھا۔ یہ سارے کام جو ہیں اگر آپ کرنے کو تیار ہیں نہ سعودی عرب افورڈ کر سکتا ہے اس کی اس کی پاپولیشن جو ہے اس قسم کی نہیں ہے نہ ہم افورڈ کرتے ہیں اس قسم کے اپریشر بہرحال جو حالات اس قسم کے پاکستان کے اندر ہو رہے ہیں انشاءاللہ جلد میں واپس لاہور اتا ہوں تو اس پہ ہم ویڈیو بھی بنائیں گے اور جو جس طرح کے یہاں پر ٹرمائل چل رہا ہے اس ٹرمائل کے اندر مجھے سمجھ نہیں اتی کہ ہم محلے کی پڑوس کی آگ جو ہے وہ بھنانے جا رہے ہیں اور ہمارے گھر جو ہے وہ بالکل آگ کے اندر۔

[22:21]لڑتے رہیں گلف میں لڑتے ہیں جو مرضی ہمیں کسی نے کوئی ہمیں کسی نے کوئی ا کے شاباش شاباش بھی نہیں ملی۔ بالکل ٹھیک ہے سر۔ میں بتاؤں اگر آج آج فیل ہو جاتی ہے نا یہ لکھ لے میرے الفاظ ٹرمپ سارا پاکستان پہ ڈال دے گا۔ کمبوڈیا پہ ڈالا پہلے بھی افغانستان میں ہارنے کا مدہ جو ہے وہ اسی بات پہ ٹالا تھا افغانستان پاکستان کی وجہ سے افغانستان کی جنگ ہارے۔ سر بہت شکریہ آپ کی قیمتی وقت کا اور جیسے اوریا صاحب کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو جب یہ ڈیل ہو جاتی ہے تو پاکستان کو ایک بڑی مضبوط لیڈرشپ کی ضرورت ہوگی اس ملک کو آگے لے کے جانے کے لیے کیونکہ اگر یہ ڈیل ایران کی فیور میں ہوتی ہے تو یہ بات امریکنز کو بھی پتہ ہے اور باقی دنیا کو بھی پتہ ہوگی کہ جب ایران کو ٹریڈ کرنے کی اجازت مل جائے گی تو ایران کی اکانومی پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگی پھر ایران کے لیے پراکسیز کو سپورٹ کرنا اور دوبارہ سے ایک ویپن کو تیار کرنا کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہو گا۔ تو پاکستان کو اس صورتحال میں بڑا محتاط ہونے کی ضرورت ہو گی۔ اجازت دیجئے انشاءاللہ پھر ملاقات ہوگی ایک نئی ایپیسوڈ کے ساتھ اللہ حافظ۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript