[0:06]بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم میرا نام فرقان قریشی ہے اور آج آج اپ دی اینڈ اف ٹائم سیریز کی دسویں قسط دیکھنے والے ہیں آج کی قصہ ایک انتہائی اہم ٹوپک کا آغاز ہو رہا ہے۔ دجال کے ٹوپک کا
[0:23]اور اج کی پوری قسط میں ہم دجال کے متعلق سات بڑے سوال ڈسکس کرنے والے ہیں۔ نمبر ایک کہ فتنہ دجال اخر ہے کیا؟ اسے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا فتنہ کیوں کہا گیا ہے؟
[0:38]نمبر ٹو کہ دجال کا قران پاک میں ذکر ہے یا نہیں؟ اور اگر نہیں ہے تو کیوں نہیں ہے؟ نمبر تین کہ دجال کب نکلے گا وہ کہاں سے نکلے گا اور اس کے نکلنے سے پہلے کون کون سی نشانیاں اس کی امد کو مارک کریں گی؟
[0:56]پھر نمبر چار کہ دجال دیکھنے میں کیسا ہوگا؟ جب ایک عام انسان اس پر نظر ڈالے گا تو اسے کیا کیا دکھائی دے گا؟ نمبر پانچ کہ اس کے پاس ایسی کون سی طاقتیں ہوں گی کہ جو آج تک اور کسی فتنے کے پاس نہیں ہوئیں؟
[1:13]نمبر چھ کہ دجال کا دور اس دنیا میں کل کتنے سال تک رہے گا؟ اور نمبر سات کہ تمام تر طاقتیں ہونے کے باوجود وہ کون سی ایسی پانچ باتیں ہیں کہ جو چاہ کر بھی دجال نہیں کر سکے گا۔
[1:28]آج کی یہ قسط ایک طرح سے دجال کا ایک انتہائی تفصیلی تعارف ہوگی اور جو کچھ بھی میں اپ کو بتاؤں گا وہ تمام معلومات صرف اور صرف انشاءاللہ صحیح احادیث کے ذریعے ہی ہوں گی۔
[1:41]چنانچہ اس ویڈیو کے پورا ہونے کے بعد کم سے کم دجال کے کونسپٹ کو اپ انشاءاللہ سمجھ جائیں گے۔ البتہ اگلی قسطوں میں ہم پھر ایون کے مزید گہرائی میں جا کر اس کی ایک ایک چیز ڈسکس کریں گے تو چلیں ائیں پھر شروع کرتے ہیں ہم اج کی یہ قسط۔
[1:57]لیکن اس سے پہلے ایک مرتبہ دل کی گہرائیوں سے ہم اپنے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر درود و سلام بھیجتے ہیں۔ اور فتنہ دجال سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتے ہیں۔
[2:10]اور اب اتے ہیں ہم سب سے پہلے سوال پر کہ فتنہ دجال اخر ہے کیا؟ صحابی رسول حضرت عمران ابن حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ ادم علیہ السلام کی تخلیق سے لے کر قیامت تک۔
[2:28]دجال سے زیادہ سنگین اور کوئی فتنہ نہیں ہو گا۔ اپ نے یہ بھی فرمایا کہ نوح علیہ السلام کے بعد کوئی نبی ایسا نہیں گزرا کہ جس نے اپنی قوم کو فتنہ دجال سے ڈرایا نہ ہو۔ اور میں بھی اس فتنے سے تمہیں خبردار کرتا ہوں۔
[2:44]نوح علیہ السلام اور ان کے بعد کے تمام انبیاء فتنہ دجال سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے۔ یہ تمام الفاظ احادیث میں اسی طرح سے موجود ہیں۔ رہا سوال یہ کہ حضرت نوح علیہ السلام ہی کے زمانے سے کیوں ان سے پہلے کیوں نہیں؟
[3:01]تو ان تفصیل میں ہم انشاءاللہ اگلی ویڈیوز میں جائیں گے۔ ہاں یہاں ایک سوال ہم ضرور ڈسکس کریں گے کہ کیوں دجال کا فتنہ اخر اس قدر سنگین کیوں ہے؟
[3:11]دیکھیے دجال نے انسان کی تینوں بنیادی چیزوں یعنی اس کے ایمان پر اس کی عقل پر اور اس کے رزق پر ایک ساتھ بھیاک وقت اٹیک کرنا ہے۔
[3:22]ایمان پر اس طرح کہ اس نے ڈائریکٹ سیدھا سیدھا رب ہونے کا دعوی کر دینا ہے۔ حضرت ابو قلابہ رضی اللہ تعالی عنہ بتاتے ہیں کہ میں نے مدینہ میں ایک ادمی کو دیکھا کہ جس سے چاروں طرف سے لوگوں نے اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔
[3:31]جب میں نے غور کیا تو پتہ چلا کہ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صحابی تعلیم دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ لوگوں تمہیں گمراہ کر دینے والا ایک شخص ایسا بھی ائے گا یعنی دجال۔
[3:54]کہ جس کے سر کے پیچھے راستے ہوں گے اور حدیث کے مطابق تین مرتبہ اپ علیہ السلام نے ایسا فرمایا کہ اس کے سر کے پیچھے راستے ہوں گے اور وہ یہ دعوی کرے گا کہ میں ہی تمہارا رب ہوں۔
[4:07]اللہم مستعان پھر اس کا دوسرا حملہ انسانی عقل پر ہونا ہے اور وہ کیسے۔
[4:13]کیونکہ اس کے پاس ایسی غیر معمولی صلاحیتیں ہوں گی کہ جو انسانی عقل سے مکمل طور پر باہر کی چیزیں ہیں۔ مثال کے طور پر مردوں کو زندہ کر دینا۔
[4:24]اپ کو پتہ ہے کہ کئی صدیوں سے میڈیکل سائنس مردوں کو زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کبھی الکمنگ کے ذریعے اور کبھی لاشوں پر خفیہ تجربات کے ذریعے۔ پھر 18 سینچری کہ جب بجلی کی ایجاد ہوئی اور سائنسدانوں نے دیکھا کہ بجلی کا جھٹکا دینے سے مردہ جانوروں کے جسم ٹوچ کرتے ہیں۔
[4:39]تو اس وقت انہوں نے سمجھا کہ شاید بجلی ہی زندگی کا راز ہے۔ لہذا ایک یورپین سائنٹسٹ لوئیجی گیلانی نے درجنوں مینڈکوں پر تجربات کیے اور پھر 19ویں اور 20ویں اور 21ویں صدی میں ماڈرن میڈیکل سائنس کے جو کبھی ڈیفیبلیٹر اور کبھی دوسرے طریقوں سے کسی مردہ شخص کو واپس زندگی میں لانے کی کوشش کرتی ہے لیکن موت کے بعد ایک مرتبہ دماغ بند ہو جائے۔
[5:01]شٹ ڈاؤن ہو جائے تو پھر ایسے شخص کو واپس لانا آج تک ممکن نہیں ہو سکا۔ لیکن دجال یہ کام کر کے دکھائے گا۔ اور جب ہم اس کی اس طاقت کی ڈیٹیلنگ کریں گے تو اپ دیکھیں گے کہ کس طرح اس کا دو ٹکڑے کیا ہوا مردہ شخص زندہ ہو کر ہستا ہوا چلتا چلا ائے گا۔
[5:28]اور پھر تیسرا حملہ انسان کے رزق پر۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ اسمان کو حکم دے گا تو بارش برسے گی۔ وہ زمین کو حکم دے گا تو فصلیں اگیں گی۔ وہ خزانوں کو حکم دے گا تو وہ زمین کی گہرائیوں سے نکل کر شہد کی مکھیوں کی طرح اس کے پیچھے پیچھے چلتے چلے جا رہے ہوں گے۔
[5:50]اس کے ساتھ روٹیوں اور گوشت کا ایک پہاڑ اور پانی کی ایک نہر ہوگی اور اپ علیہ السلام نے فرمایا کہ بدترین قحت کے دور میں کہ جب جانوروں اور جانداروں کی ایک کثیر تعداد مر چکی ہوگی۔
[6:03]تو اس وقت دجال ایک دیہاتی سے پوچھے گا کہ اگر میں تمہارے اونٹوں کو زندہ کر دوں تو۔ اگر میں تمہارے لیے ان کا دودھ اور گوشت کئی گنا بڑھا دوں تو۔ تو پھر کیا تم مجھے اپنا رب مان لو گے؟
[6:17]تو وہ دیہاتی اپ امیجن کریں کہ اتنی بڑی افر سن کر ایک خوابیدہ سی کیفیت میں کہے گا کہ ہاں اور دجال واقعی اس کے اونٹ پہلے سے زیادہ صحت مند اور پہلے سے زیادہ جوان کر کے اس کے سامنے لے ائے گا۔
[6:33]اور یہ سب دیکھ کر وہ دیہاتی وہیں پر اس کے سامنے سجدے میں گر پڑے گا۔ تو یہ ہوگا دجال کا رزق کے ذریعے حملہ۔ اور حضرت حسان ابن عطیہ رحمتہ اللہ علیہ۔
[6:44]ایک روایت لاتے ہیں کہ لوگوں میں دجال کے فتنے سے بچنے والے لوگ صرف اور صرف 12 ہزار مرد اور سات ہزار عورتیں ہوں گی۔
[6:54]ان کے علاوہ تمام لوگ اس کے فتنے کا شکار ہو چکے ہوں گے۔ لہذا یہ تمام باتیں مل کر دجال کو انسانی تاریخ کا سب سے سنگین اور شدید ترین فتنہ بنا دیتی ہیں۔
[7:07]اب دوسرا سوال کہ کیا دجال کا قران پاک میں کوئی ذکر ہے؟ اور اگر نہیں ہے تو کیوں نہیں ہے؟
[7:14]قران پاک میں نام کے ساتھ تو دجال کا ذکر کہیں پر بھی نہیں ہے اور اس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ لیکن ایک بہت سمپل اور سیدھی سادی سی وجہ یہ ہے۔
[7:24]کہ اگر قران کریم میں دجال کا نام کے ساتھ ذکر ا جاتا کہ دیکھو دجال نامی ایک فتنہ ائے گا۔ اور وہ تمہارے اونٹ اور مردے زندہ کرے گا۔ تو اپ خود تصور کریں کہ پھر تو اسے پہچاننا بہت ہی اسان ہو جاتا۔
[7:40]پھر تو دجال تاریخ کا سب سے سنگین فتنہ ہی نہ رہتا کیونکہ ہر مسلمان اسے پہچان لیتا۔ جبکہ ازمائش کی شدت تو ہوتی ہی تب ہے کہ جب ازمائش پردے میں ہو رہی ہو۔
[7:51]کئی لوگ تو یہ کہہ کر کہ قران میں تو دجال کا ذکر ہی نہیں ہے یہ کہہ کر وہ دجال کو پہچان ہی نہیں پائیں گے اور بالاخر وہ اس کے فتنے کا شکار ہو جائیں گے۔ بلکہ ایسا ہونا بھی ہے۔
[8:04]لوگوں نے دجال کا انکار کرنا بھی ہے۔ ایک مرتبہ حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے خطبے میں فرمایا تھا۔
[8:13]کہ اس امت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے کہ جو رجم کا انکار کریں گے۔ پھر کچھ لوگ ایسے ہوں گے کہ جو قبر کے عذاب کا انکار کریں گے۔
[8:23]اور پھر کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے کہ جو دجال کا انکار کریں گے حالانکہ وہ سچ ہے۔ اور اس حوالے سے تو ڈائریکٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ایک حدیث بھی موجود ہے۔
[8:34]کہ لوگ دجال کے تذکرے سے غافل ہو جائیں گے یہاں تک کہ ممبروں پر بیٹھے ائمہ تک اس کا ذکر کرنا چھوڑ دیں گے۔ اور قران پاک میں نام کے ساتھ دجال کا ذکر نہ ہونا اس ازمائش کی سختی اور اس سے پیدا ہونے والی کنفیوژن کی انٹینسٹی دکھاتا ہے۔
[8:53]لیکن پھر بھی علامہ ابن حجر عسقلانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب فتح الباری میں سورہ انعام کی 158 نمبر ایت۔
[9:03]کہ جس میں ایک پیشنگوئی ہے کہ جس دن اپ کے رب کی کوئی بڑی نشانی ا پہنچے گی۔ تو اس دن کسی ایسے شخص کا ایمان لانا اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا کہ جو پہلے سے ہی ایمان نہ رکھتا ہو۔
[9:17]تو ابن حجر اس ایت کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ تین نشانیاں ایسی ہیں کہ جن کے ظاہر ہونے کے بعد ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
[9:24]پہلی نشانی دابۃ الارض اس پر ہم انشاءاللہ بعد میں گفتگو کریں گے۔ پھر دوسری نشانی سورج کا مغرب سے نکلنا اور اس پر بھی ہم دجال کے ٹوپک پہ بعد گفتگو کریں گے۔ اور تیسری نشانی ہے دجال انٹ سیلف۔
[9:39]تو کچھ سکالرز کا ماننا ہے کہ الانعام کی اس ایت میں دجال کی طرف اشارہ موجود ہے لیکن پھر بھی نام کے ساتھ دجال کا ذکر نہ ہونے کی ایک وجہ ابھی میں نے اپ کو بتا دی۔
[9:50]اوکے اب ویسے تو قیامت سے پہلے ایک نہیں بلکہ کئی دجالوں نے انا ہے۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا۔
[9:57]کہ قیامت تب تک قائم نہیں ہوگی جب تک 30 قذاب اور دجال نہ نکل ائیں۔ اور ان میں سے ہر ایک کا دعوی یہ ہوگا کہ وہ ہی اللہ کا رسول ہے۔
[10:07]یعنی کہ محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کہ جو اللہ کے اخری نبی ہیں ان کے بعد جس کسی نے بھی دعوی نبوت کیا وہ انہی 30 دجالوں اور کذابوں میں سے ایک ہوگا۔ اور سیریز کے شروع میں میں نے اپ کو بتایا بھی تھا۔
[10:24]کہ سکالرز اب تک 24 کذابوں اور دجالوں کو ائیڈنٹیفائی کر چکے ہیں لیکن جس دجال کی بات ہم اج کرنے والے ہیں۔ یہ عام طور پر جسے المسیح الدجال کہہ کر ریفر کیا جاتا ہے۔
[10:37]وہ اخری اور سب سے بڑا دجال ہو گا کہ جس نے نبوت کا نہیں بلکہ ڈائریکٹ لوگوں کے رب ہونے کا دعوی کر دینا ہے۔ اب تیسرا بڑا سوال کہ دجال اخر نکلے گا کب؟
[10:48]تو اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ دجال کا خروج قسطنطنیہ کی فتح کے بعد ہوگا۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ الملہمت الکبری یعنی عظیم خون ریزی۔
[11:01]پھر قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کا خروج یہ سب سات مہینوں کے اندر اندر ہو گا۔ یہ واقعات حدیث میں اتا ہے کہ ہار میں پروئے ہوئے موتیوں کی کسی لڑی کی طرح ہوں گے۔ کہ جب ایک واقعہ وقوع پذیر ہو چکا تو اس کے بعد فورا دوسرا پیش ا جائے گا۔
[11:19]قسطنطنیہ کی فتح کہ جسے ہم پچھلی قسطوں میں کور کر چکے ہیں اسے فتح کرنے والے مسلمان ابھی سٹل قسطنطنیہ میں ہی ہوں گے یعنی اج کے استنبول میں۔ اور ان کی تلواریں زیتون کے درختوں کے ساتھ لٹک رہی ہوں گی اور وہ ایک ایسے مال غنیمت کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔
[11:37]کہ جیسا انہیں پہلے کبھی ملا نہیں ہوگا۔ اور وہ اپنی ڈھالوں کو اس سامان کے ساتھ بھر رہے ہوں گے۔ کہ اس وقت انہیں اچانک ایک چیختی ہوئی اواز سنائی دے گی کہ سنو تمہارے پیچھے تمہارے گھروں میں دجال نکل ایا ہے۔
[11:53]اور یہ لوگ اچانک سے مال غنیمت کو چھوڑ کر کھڑے ہو جائیں گے۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ میں ان کے نام بھی جانتا ہوں میں ان کے باپوں کے نام بھی جانتا ہوں اور میں ان کے گھوڑوں کے رنگ بھی جانتا ہوں۔ اور وہ دس گھڑ سوار اس وقت روئے زمین کے سب سے بہترین شاہ سوار ہوں گے۔
[12:47]لیکن جب وہ شام پہنچیں گے تو انہیں پتہ چلے گا کہ وہ چیختی ہوئی اواز تو محض جھوٹ بول رہی تھی۔ لیکن ان کے شام پہنچنے کے بعد پھر واقعی دجال کا خروج ہو جائے گا۔ لہذا انسانی شکل میں دجال کا خروج قسطنطنیہ کی فتح کے بعد ہونا ہے۔
[13:04]اور یہاں سے اب ہم اپنے اگلے بڑے سوال کی طرف اتے ہیں کہ تو پھر دجال کا حلیہ کیا ہوگا؟ وہ دیکھنے میں کیسا ہوگا؟
[13:13]تو اللہ کے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دجال کم سے کم دو مرتبہ اپنی اصل شکل میں دکھایا گیا ہے۔ ایک تو معراج کی رات۔
[13:24]نبی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ معراج کی رات مجھے دجال دکھایا گیا اور دوسری مرتبہ ایک خواب میں کہ جو اپ علیہ السلام خانہ کعبہ کے قریب سو رہے تھے تو اس خواب میں اپ علیہ السلام نے دیکھا کہ انتہائی حسین و جمیل اور خوبصورت شخص ہیں کہ جن کے بال ان کے کندھوں تک ہیں اور ان کے بالوں سے پانی ٹپک رہا ہے۔
[13:45]اور انہوں نے دو ادمیوں کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے ہیں اور وہ تینوں افراد خانہ کعبہ کے گرد طواف کر رہے ہیں۔ اور اپ علیہ السلام کو بتایا گیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام ہے۔
[14:00]لیکن اسی خواب میں پھر اپ علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک اور ادمی ہے کہ جو عیسی علیہ السلام سے کچھ فاصلے پر ہے ایک موٹا اور بدصورت ادمی کہ جس کے بال سخت اور مڑے ہوئے یعنی کرلی گھنگریالے ہیں اور اس کا رنگ ریڈش یعنی سرخی مائل ہے۔
[14:16]جبکہ اس کی ایک انکھ اس کی دائیں انکھ اس کی رائٹ ائی وہ خراب ہے اور وہ ایسی ہے کہ جیسے پھولا ہوا خشک انگور ہوتا ہے اور وہ لیٹرلی انگور ہی کی طرح سبز بھی ہوگی۔
[14:30]حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالی عنہ سے مرفوع مروی ہے یعنی کہ انہوں نے ڈائریکٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ اس کی ایک انکھ سبز شیشے یا کونچ کی طرح ہوگی۔
[14:42]اور اس خواب میں وہ بھی عیسی ابن مریم ہی کی طرح دو ادمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر عیسی علیہ السلام کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ اور نبی علیہ السلام کو واضح بتایا گیا کہ یا رسول اللہ یہ ہی دجال ہے۔
[14:57]ان احادیث کے علاوہ بھی مختلف مواقع پر اور وقتا فوقتا اللہ کے نبی نے دجال کے حلیے کے متعلق بہت ساری معلومات دی ہیں مثلا یہ۔
[15:07]کہ اپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کے سر کے بھال الجھے ہوئے ہوں گے ایسے کہ جیسے کسی درخت کی ٹہنیاں ہوتی ہیں۔ یا پھر کسی جانور کی ان کے بال ہوتے ہیں۔
[15:18]پھر ایک اور حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان معمول سے زیادہ کشادگی ہوگی یعنی کہ اس کی ٹانگوں کے درمیان ڈسٹینس ایک ایوریج انسان سے زیادہ ہوگا۔
[15:30]پھر ایک اور حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی گردن چوڑی ہوگی جبکہ اس کی پیشانی کے بال یعنی کہ فور ہیڈ کے بال اڑے ہوئے ہوں گے کہ جیسے اگے سے گنجا ہوگا۔
[15:40]اور اس کی انکھیں کہ جو شاید اس کا سب سے پرومیننٹ فیچر ہیں۔ ایک انکھ تو ابھی ہم نے دیکھا کہ ناکارہ ہوگی اور دیکھنے میں کسی پھولے ہوئے سبز انگور کی طرح ہوگی۔ مگر دوسری انکھ کہ جو اس کی ریگولر انکھ ہوگی۔
[15:53]وہ نہ تو بہت ابھری ہوئی ہوگی اور نہ ہی بہت دھنسی ہوئی مگر ایسے کہ جیسے چمکتا ہوا کوئی سفید موتی ہوتا ہے۔
[16:03]اور اس کا ایک اور پرومیننٹ فیچر یہ کہ اس کے ماتھے پر اس کی دونوں انکھوں کے درمیان یا تو کا فا را لکھا ہوگا یا پھر لفظ سے کافر کا مکمل لفظ کہ جسے ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ مومن پڑھ سکے گا۔
[16:20]اور پھر اس کے ساتھ ہر زبان ہوگی۔ اس حدیث کے دو مطلب لیے گئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس کے ساتھ ہر زبان بولنے والا شخص ہوگا یا پھر یہ کہ وہ لٹرلی ہر زبان میں بات کرنے کے قابل ہوگا اسے ہر زبان بولنا اتی ہوگی۔
[16:35]اور فائنلی کتاب الفتن کی ایک روایت سے یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ اس کی کلائیوں یعنی اس کے فور آرمز کا اوپری حصہ باریک جبکہ وہ حصہ کہ جو ہاتھ کے پاس ہوتا ہے وہ موٹا ہوگا۔
[16:47]یعنی کہ اس کا جسم یوں سمجھ لیں کہ دیکھنے میں کچھ حد تک ڈیفارم محسوس ہوگا۔ تو یہ دجال کا مکمل حلیہ ہے کہ جو ہمیں مختلف روایات کو ایک جگہ اکٹھا کرنے سے پتہ چل جاتا ہے۔
[17:00]اور اب اپ کو اندازہ ہو رہا ہوگا کہ دجال ایوینچولی ایک انسان کی شکل میں ہی ائے گا۔ اس کی شکل و صورت کے بارے میں احادیث بہت واضح ہیں۔
[17:08]لیکن جیسے ہٹلر ایک شخص کا نام تھا مگر نازیزم اس نظام کا نام تھا کہ جس نے ہٹلر کو طاقت دینے میں مدد دی تھی ویسے ہی دجال ایک شخص ہو گا لیکن یس اسے طاقت دینے کے لیے کسی نہ کسی قسم کے نظام کا بھی نفاذ ضرور ہوگا کہ جسے ہم اج کی زبان میں دجالی نظام کہہ دیتے ہیں۔
[17:30]دجال اور اس کے نظام کو ملا کر سمجھنے سے فہم میں اضافہ ہوتا ہے لیکن ان دی اینڈ دجال ایک شخص ہوگا۔ کہ جس کی مکمل جسمانی ڈسکرپشن احادیث کے اندر مل جاتی ہے۔
[17:43]اب دجال کے خروج سے پہلے کچھ بہت واضح نشانیوں نے ظاہر ہونا ہے اور ویڈیو کے اس حصے کے اندر ہم انہی نشانیوں کو ڈسکس کرنے والے ہیں۔
[17:53]سب سے پہلی نشانی تو میں اپ کو بتا چکا ہوں کہ قسطنطنیہ کی فتح ہے لیکن دوسری نشانی نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ دجال کے خروج سے تین سال پہلے ایک عظیم قحت سالی کا اغاز ہو گا۔
[18:04]ایک انتہائی شدید ڈراؤٹ کا ان تین میں سے پہلے سال اسمان ون تھرڈ بارشیں اور زمین ون تھرڈ نباتات کو پیدا کرنا روک لیں گے یعنی اپ یوں سمجھ لیں کہ دنیا کی کل خوراک کا 33 پرسنٹ پیدا ہونا بند ہو جائے گا۔
[18:24]دوسرے سال اپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اسمان دو تہائی بارشیں اور زمین دو تہائی نباتات کو روک لے گی۔ یعنی کہ دنیا کی کل خوراک کا 66 پرسنٹ پیدا ہونا بند ہو جائے گا جبکہ تیسرے اور اخری سال۔
[18:38]اسمان مکمل طور پر اپنی بارشوں کو اور زمین مکمل طور پر اپنی نباتات کو روک لے گی۔ اور ہر پاؤں اور کھر والے جاندار کی عظیم تعداد ہلاک ہو جائے گی۔
[18:50]اللہم مستعان امیجن کریں کہ پوری دنیا میں ایک ایسا قہت ائے گا کہ نہ تو پورا سال بارشیں ہوں گی اور نہ ہی زمین سے کچھ پیدا ہو رہا ہو گا۔
[19:02]اور پھر اپنے خروج کے بعد دجال انہی کہن زدہ ڈیسپریٹ لوگوں میں سے ایک دیہاتی کے پاس ائے گا اور اس سے پوچھے گا کہ اگر میں تیرے مرے ہوئے اونٹوں کو زندہ کر دوں تو۔
[19:13]اگر تیرے جانور پہلے سے زیادہ طاقتور اور صحت مند ہو کر تیرے سامنے ا جائیں تو کیا پھر تو مجھے اپنا رب مان لے گا؟
[19:22]اور جب وہ دیہاتی اسباب میں سر ہلا دے گا تو دجال اس کی یہ دونوں خواہشات پوری کرے گا اور وہیں دجال کے سامنے سجدے میں گر پڑے گا۔
[19:32]اس واقعے کی شدت کو اس کے پورے میگنیٹیوڈ کے ساتھ صرف وہی شخص سمجھ سکتا ہے کہ جس نے کبھی جانور رکھے ہوں۔ شہر کے لوگوں کے لیے سمجھنا تھوڑا سا مشکل ہے۔
[19:43]لیکن دیہاتی زندگی میں جانوروں کے ساتھ باقاعدہ ایک ایموشنل ریلیشن شپ ہوتا ہے۔ جانوروں کے نام رکھے جاتے ہیں اس سے باتیں کی جاتی ہیں۔ جب وہ بیمار ہو جائیں تو سارے گھر والے پریشان ہو جاتے ہیں تو ایسے میں دجال۔
[19:57]کسی ڈیسپریٹ دیہاتی سے اس کے تمام جانور واپس لانے کا وعدہ کرے تو امیجن کریں کہ اسے تو وہ کسی مسیحا سے کم نہیں لگ رہا ہوگا۔
[20:07]قہت کے بارے میں یہ حدیث سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رو پڑے تھے اور جب اپ علیہ السلام نے پوچھا کہ تم کیوں رو رہے ہو؟
[20:17]تو ایک صحابی نے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں ایک باندی ہے کہ جو ابھی اٹا گوندھ رہی ہوتی ہے تو بھوک کے مارے میرا کلیجہ چر رہا ہوتا ہے تو اس شدید قہت میں لوگوں کا کیا عالم ہو گا؟
[20:31]پھر اسی قہت کے بارے میں تابعی حضرت ارتاط رحمتہ اللہ علیہ کہ جو صحابی حضرت ابو دردا رضی اللہ تعالی عنہ کے سٹوڈنٹ بھی تھے بتاتے ہیں کہ قہت سالی اس قدر شدید ہو گی کھانے کی اس قدر قلت ہو چکی ہوگی کہ لوگ شہر چھوڑ کر گاؤں اور جنگلوں کی طرف نکلنا شروع ہو جائیں گے۔
[20:48]لیکن وہاں بھی انہیں کھانے کے لیے صرف خاردار جھاڑیاں ہی میسر ہو سکیں گی۔ پھر قہت کے علاوہ دجال کے خروج کی ایک اور نشانی کہ چمیلی یعنی جیسمین کا پھول سوکھ جائے گا۔
[21:03]یہ ایک بڑی حیرت انگیز نشانی ہے لیکن اس کی تفصیل یوں ہے کہ ایک مرتبہ ابو دردا رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک ارابی ایا۔ نبی علیہ السلام کے زمانے میں ارابی ان لوگوں کو کہا جاتا تھا کہ جو شہروں نہیں بلکہ صحراؤں پہاڑوں اور دیہاتوں میں رہا کرتے تھے اور ایک خانہ بدوش یعنی نو میڈ زندگی گزارتے تھے۔
[21:22]تو اس وقت ابو دردا رضی اللہ تعالی عنہ کے گرد کافی سارے لوگ بیٹھے ہوئے تھے تو ارابی نے ان سے پوچھا کہ اپ میں سے ابو دردا کون ہے؟ لوگوں نے اشارہ کیا۔
[21:33]تو ارابی نے سیدھا سیدھا سٹریٹ فارورڈ یہ سوال کر دیا کہ بتائیں دجال کب ائے گا؟ اپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے دوبارہ پوچھا تو اپ نے فرمایا کہ اللہ ہمیں معاف کرے یہ سوال مت پوچھا کرو۔
[21:46]تو کہنے لگا کہ میں اپ سے کوئی دولت تو نہیں مانگ رہا بلکہ علم کی ایک بات پوچھ رہا ہوں تو اس پر پھر ابو دردا رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا کہ جب تم دیکھ لو کہ اسمان سے بارش کا ایک قطرہ تک نہیں ٹپکا اور زمین بالکل خشک اور چٹل ہو چکی ہے۔
[22:02]اور چمیلی کا پھول خشک ہو چکا ہے تو اس وقت دجال کا انتظار کرنا کہ وہ صبح کو نکلے یا پھر شام کو۔
[22:11]اوکے چمیلی کا پھول بیسکلی ایک جینس کا نام ہے کہ جس کی تقریبا ڈھائی سو اقسام ہوتی ہیں اور موتیا بھی انہی ڈھائی سو اقسام میں سے ایک قسم ہے کہ جس سے پھر گجرے وغیرہ بنتے ہیں۔
[22:24]اب چمیلی میں ایسا خاص کیا ہے کہ جو دجال کے ساتھ لنک ہو سکتا ہے؟ دیکھیے چمیلی کی خوشبو ویسے تو بہت حسین ہوتی ہے اور پھر اس کے کچھ میڈیسنل فوائد بھی ہوتے ہیں۔
[22:35]مثلا نیند کو بہتر کرنے میں جیسمین ائل کا استعمال ہوتا ہے۔ لیکن چمیلی کا پھول اپنے اندر ایک سمبولک میننگ بھی رکھتا ہے۔
[22:44]صدیوں سے چمیلی کا پھول پاکیزگی محبت اور انوسنس معصومیت کی علامت رہا ہے اور اسی لیے تقریبا پوری دنیا میں اور بالخصوص ہمارے ریجن یعنی سب کانٹیننٹ میں دلہنوں کے سنگھار کے لیے گجروں وغیرہ میں چمیلی کا پھول خاص طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔
[23:02]کیونکہ یہ پاکیزگی اور معصومیت کی ایک گلوبل علامت ہے تو بالخصوص اس کے خشک ہو جانے کا ایک سمبولک میننگ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پاکیزگی اور معصومیت کا دور اب پورا ہو چکا اور دھوکے اور دجل کا دور اب شروع ہونے والا ہے۔
[23:20]ویسے اس مورل ڈیکلائن کے متعلق یہ بات ایک اور حدیث سے بھی پتہ چل جاتی ہے کہ دجال کے خروج سے پہلے کا کچھ عرصہ۔
[23:28]انتہائی دھوکے کا وقت ہوگا۔ کہ جس میں سچے کو جھوٹا جبکہ جھوٹے کو سچا گردانا جائے گا۔ بددیانت کو ایماندار جبکہ ایماندار کو بددیانت سمجھا جائے گا۔ اور لوگوں میں گرا پڑا بدزبان شخص بڑی بڑی باتیں کرے گا۔
[23:45]اسی اخلاقی زوال سے متعلق ایک اور نشانی کہ جو دجال کی امد کو مارک کرے گی کہ جس دن دنیا دو خیموں میں تقسیم ہو جائے۔ کہ جن میں سے ایک خیمہ ایمان والوں کا ہو گا کہ جس میں کوئی نفاق نہیں ہوگا۔
[23:59]اور دوسرا خیمہ نفاق والوں کا ہو گا کہ جس میں کوئی ایمان نہیں بچے گا۔ تو نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ بس اس دن انتظار کرو کہ دجال اس دن ظاہر ہو جائے یا پھر اس سے اگلے دن۔
[24:10]پھر ایک اور نشانی کہ جو کتاب الفتن میں موجود ہے اور خاصی حیرت انگیز ہے۔ اور اس نے حضرت ابراہیم ابن ابلہ رحمتہ اللہ علیہ نے روایت کی ہے کہ بیسان نامی وہ شہر۔
[24:21]کہ جس کے متعلق دجال نے تمیم داری سے ایک سوال بھی کیا تھا۔ وہ واقعہ ہم انشاءاللہ ڈیٹیلنگ کے دوران ڈسکس کریں گے۔
[24:30]تو بیسان میں ایک بچہ پیدا ہو گا کہ جس کے جسم پر چار ہتھیاروں یعنی تلواروں ڈھال برچھی اور ایک چھری کے نشانات ہوں گے۔ یا پھر ان جیسی مارکنگز بنی ہوں گی۔ بیسان اس دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔
[24:41]اور اج بھی یہ شہر اسرائیل میں بیتشان نام سے ایگزسٹ کرتا ہے۔ تو یہ کچھ نشانیاں تھیں کہ جو دجال کی امد کے وقت کو مارک کرتی ہیں۔
[24:54]لیکن وہ کون سی جگہ ہوگی کہ جہاں سے دجال خروج کرے گا؟ یہاں سے اب چیزوں کو تھوڑا سا سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ایک کمپلیکس سوال ہے۔
[25:04]سب سے پہلی بات کہ دجال کے لیے ٹیکنیکلی خروج کا لفظ استعمال ہوتا ہے کیونکہ وہ الریڈی اس دنیا میں موجود ہے۔ ایک صحابی اسے مل بھی چکے ہیں دیکھ بھی چکے ہیں۔
[25:15]اور بہت مستند احادیث مثلا حضرت ابو ہریرہ اور فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی احادیث سے تو بڑی ہی وضاحت کے ساتھ پتہ چل جاتا ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ دجال۔
[25:25]نہ تو شام کے سمندر میں ہے اور نہ ہی یمن کے سمندر میں بلکہ جو بھی وہ ہے وہ مشرق کی طرف سے ہو گا وہ مشرق کی طرف سے ہو گا وہ مشرق کی طرف سے ہوگا۔ اور یہ فرماتے ہوئے نبی علیہ السلام نے مشرق کی طرف اشارہ بھی کیا تھا۔
[25:42]لہذا تو کویسچن از کہ مشرق میں کس جگہ پر؟ ایک حدیث میں اپ علیہ السلام نے مشرق کی ایک جگہ کا بالخصوص نام لے کر ذکر فرمایا ہے۔
[25:52]کہ وہ مشرق کی ایک زمین سے نکلے گا کہ جسے خراسان کہتے ہیں۔ اور پھر خراسان میں بھی اپ علیہ السلام نے اسپیشلی ایک جگہ کو نومینیٹ کیا تھا۔ اصبھان کو۔
[26:05]یہ حدیث عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حذیفہ ابن یمان رضی اللہ تعالی عنہ کو سناتے ہوئے کہا تھا کہ دجال اصبھان کی ایک یہودی عورت کے ہاں پیدا ہوگا یا پھر اصبھان کی ایک ایسی جگہ سے نکلے گا۔
[26:20]کہ جو یہودیہ کہلاتی ہے۔ یہ حدیث سن کر حذیفہ ابن یمان رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا کہ عبداللہ کیا یہ بات تم نے رسول اللہ سے خود سنی تھی؟
[26:28]تو اپ نے فرمایا کہ ہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی تھی۔ اور اس حدیث کے اخر میں ایک فٹ نوٹ کے طور پر امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ اس حدیث کی تمام اسناد صحیح ہیں۔
[26:41]تو یہاں پر پھر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اصبھان وہی شہر ہے کہ جسے ہم اج کا اصفہان کہتے ہیں؟ تو اس کا جواب ہے کہ ہاں۔
[26:50]اصبھان سینٹرل ایران کے ایک صوبے اصفہان ہی کا پرانا نام ہے۔ اور شافعی سکول اف تھاٹ کے ایک بہت بڑے محدث تھے امام ابو نعیم الاصبهانی کہ جن کے متعلق ان کے دور کے علماء کہا کرتے تھے کہ حدیثیں سننا اور جمع کرنا ہی ابو نعیم کی خوراک ہوتی ہے۔
[27:09]بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی نشانیوں پر ایک شہرا افاق کتاب ہے اور سیرت پڑھنے والے ہر شخص نے اس کتاب کا نام سن رکھا ہے دلائل النبوت لی نعیم۔
[27:22]تو اس کتاب کے مصنف بھی یہی امام ابو نعیم الاصبهانی ہیں۔ اور انہوں نے اصفہان کی تاریخ پر پوری ایک کتاب لکھی تھی کتاب التاریخ الاصبهان۔ کہ جس سے پتہ چل جاتا ہے کہ اصفہان اسی موجودہ اصفہان ہی کا ایک پرانا نام ہوا کرتا تھا۔
[27:39]اور اگر اپ نقشے کے بھی حساب سے دیکھیں تو اصفہان واقعی مدینہ شہر کے مشرق میں اتا ہے۔ لیکن سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک پیدائش سے پہلے کے زمانے میں کہ جب ایران سٹل پرشیئن ایمپائر کا ایک حصہ ہوا کرتا تھا۔
[27:57]تو اس وقت ایمپائر کے بادشاہ یزد گرد کی بیوی شوشن دختر نے اصفہان میں ایک ایسی بستی بسائی تھی کہ جسے اس وقت لٹرلی یہودیہ کہا کرتے تھے۔ ایک جویش سیٹلمنٹ ایک طرح کا جویش کوارٹر کہ جہاں اس وقت یہودیہ ابادکار رہا کرتے تھے۔
[28:15]تو یہ بڑی ایک دلچسپ بات ہے کیونکہ عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی میں نے یہی نام لے کر یہ حدیث روایت کی تھی کہ دجال اصفہان کی یہودیہ سے خروج کرے گا۔
[28:27]لیکن یہاں پہنچ کر تھوڑی سی ایک کمپلیکسٹی پیدا ہو جاتی ہے۔ کہ جب تمیموداری نے دجال سے ملاقات کی تھی تو انہوں نے اسے سمندر کے اندر ایک جزیرے میں بندھا ہوا دیکھا تھا۔ جبکہ اصفہان میں نہ تو کوئی سمندر ہے اور نہ ہی کوئی جزیرہ۔
[28:43]بلکہ یہ تو سینٹرل ایران میں مکمل طور پر لینڈ لاکڈ ایک صوبے کا نام ہے۔ پھر دوسری کمپلیکسٹی کہ اصفہان کے علاوہ ایک صحیح روایت اور بھی ہے کہ جو اس وقت حدیث کی سات بڑی کتابوں میں موجود ہے۔
[28:57]کہ دجال شام اور عراق کے درمیان ایک راستے سے نکل کر ائے گا۔ اب ایسے میں کہ جب دونوں روایات صحیح ہوں۔
[29:06]تو ایسے موقع پر محدثین ایک ایسی میتھوڈالوجی کا استعمال کرتے ہیں کہ جسے تطبیق کرنا کہتے ہیں۔ یعنی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کو ملا کر ایک ساتھ دیکھنا۔ اور ان دس کیس تمام روایات کو سامنے رکھتے ہوئے پھر علماء یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔
[29:24]کہ دنیا میں تو دجال کا خروج شام اور عراق کے درمیان موجود ہے ایک راستے کے ذریعے ہوگا۔ لیکن پھر پوری طاقت سے اس کا ظہور اصفہان کے اس جویش کوارٹر سے ہو گا کہ جہاں سے پھر اس کے ساتھ پوری ایک فورس نکلے گی۔ ابھی میں اسے بھی ایکسپلین کروں گا۔
[29:41]چنانچہ یہاں تک ہو گیا ہے سوال کا جواب کہ وہ کب اور کہاں سے نکلے گا اور اب ایک بہت اہم سوال کہ اس کے پاس اخر کیا کیا طاقتیں ہوں گی۔
[29:50]اب جو کچھ بھی میں اپ کو بتانے والا ہوں یہ اس کی طاقتوں کا صرف ایک اوورویو ہے جبکہ ان میں سے ایک ایک طاقت کی تفصیل ہم انشاءاللہ اگے انے والی قسطوں میں کریں گے۔
[30:01]لیکن ایک بات جان لیں کہ دجال کی کوئی اپنی اوقات نہیں ہے۔ بلکہ اس کے پاس جو بھی طاقت ہو گی۔ وہ ہماری ازمائش کی خاطر دی گئی ہوئی ہو گی۔ مثال کے طور پر ابلیس۔
[30:12]بائے ہیم سیلف اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ لیکن ہماری ازمائش کی خاطر اسے قیامت تک کی مہلت دی گئی ہے۔ اسی طرح بھی میں اپ کو دجال کی طاقتوں کے متعلق جو کچھ بھی بتانے والا ہوں۔
[30:25]اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے کہ وہ انہیں ال بائے ہیم سیلف حاصل کر سکے۔ لیکن ہماری ازمائش کی خاطر اسے کچھ ایسی طاقتیں دی جائیں گی کہ جو کسی اور فتنے کو نہیں دی گئی۔ اور ان طاقتوں میں سب سے پہلی اور واضح طاقت ہے۔ فورسز اف نیچر کے اوپر کسی طرح کا کنٹرول۔
[30:45]مسند احمد کی حدیث ہے کہ وہ اسمان کو حکم دے گا تو بارش برسے گی۔ مسلم شریف کی حدیث ہے۔
[30:52]کہ اس کے حکم پر نہ صرف بارش برسے گی بلکہ زمین بھی اپنی فصلیں اگائے گی۔ اور جامع ترمذی کی حدیث ہے۔
[31:00]کہ ان زمینوں میں چرنے والے جانور جب اپنی چراگاہوں سے اپنی میڈو سے واپس ائیں گے۔ تو پہلے سے زیادہ بڑے کوہان پہلے سے زیادہ پر گوشت جسم اور پہلے سے زیادہ دودھ لے کر واپس ائیں گے۔ فورسز اف نیچر پر اس کا دوسرا کنٹرول صحیح مسلم کی حدیث ہے۔
[31:16]کہ وہ کسی کھنڈر یا پھر بیابان زمین سے گزرتے ہوئے اسے حکم دے گا کہ اپنے خزانے نکال۔ تو اس زمین کے تمام خزانے باہر نکل کر اس کے پیچھے پیچھے اس طرح چل پڑیں گے کہ جیسے شہد کی مکھیاں اپنی ملکہ مکھی کے پیچھے چلتی ہیں۔
[31:34]فورسز اف نیچر پر کنٹرول اس کی اتنی بڑی طاقت بن جائے گا کہ کتاب الفتن میں ایک حدیث اتی ہے کہ اس کے ساتھ کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے کہ جو کہیں گے کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ غلط ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ کذاب ہے۔
[31:48]ہم شہادت دیتے ہیں کہ یہ کافر ہے لیکن ہم صرف اس لیے اس کے ساتھ ہیں تاکہ ہم کھانا کھا سکیں۔ تاکہ ہمارے جانور اس کی چراگاہوں میں پتے چر سکیں۔
[32:00]امیجن کریں کہ خوراک اور فورسز اف نیچر پر کنٹرول کس طرح اسے لوگوں کے سامنے ایک مسیحا بنا کر پیش کرے گا۔
[32:07]بائے ویز یہ نام تو اس کے لیے اب بھی استعمال ہوتا ہے المسیح الدجال یا پھر مسایا وغیرہ۔ پھر حضرت مغیرہ ابن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ بتاتے ہیں۔
[32:17]کہ دجال کے متعلق نبی علیہ السلام سے جتنا میں پوچھا کرتا تھا اتنا کوئی اور صحابی نہیں پوچھتا تھا۔ تو ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے مجھ سے پوچھا کہ مغیرہ تمہیں دجال کے متعلق کیا چیز اتنی زیادہ پریشان کرتی ہے؟
[32:28]یعنی تم اس کے بارے میں اتنا کیوں دریافت کرتے ہو؟ تو میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ پانی کی نہریں اور روٹیوں کے پہاڑ ہوں گے۔
[32:42]تو اپ نے فرمایا کہ ہاں ہوں گے۔ لیکن یاد رکھنا کہ وہ اللہ کے نزدیک بالکل ہی بے وقت ہوگا۔ پھر فورسز اف نیچر پر کنٹرول کا اندازہ اپ اس روایت سے لگا لیں کہ جو کتاب الفتن میں موجود ہے۔
[32:55]کہ اس کے پاس ایک ایسی طاقت ہوگی کہ وہ دو پہاڑوں کو لڑنے کا حکم دے گا۔ اور وہ پہاڑ اس طرح لڑنا شروع ہو جائیں گے کہ جس طرح بیل یا پھر مینڈھے لڑتے ہیں۔
[33:05]یعنی ایک دوسرے کو ٹکریں مار مار کر یہاں تک کہ وہ انہیں پھر سے واپس اپنی جگہ چلے جانے کا حکم دے گا اور وہ دونوں پہاڑ واپس اپنی جگہ پر چلے جائیں گے۔ امیجن دیٹ۔
[33:20]پھر فورسز اف نیچر ہی میں سے ہوا ابن ماجہ کی حدیث ہے۔ کہ زمین میں اس کے سفر کرنے کی رفتار ایسی ہو گی کہ جیسے کوئی بادل ہو کہ جسے ہوا اڑا کر لے جائے چلی جا رہی ہے۔
[33:34]اس حدیث سے کچھ سکالرز یہ بھی اخذ کرتے ہیں کہ بادلوں کی طرح ہواؤں پر سفر اس کے کسی جیٹ جہاز کی طرف ایک اشارہ ہو سکتا ہے۔ ہو بھی سکتا ہے اٹ از پوسیبل۔
[33:45]لیکن پہاڑوں کی لڑائیاں کروانا اسمان سے بارشیں کروانا اور زمین سے فصلیں اور خزانے نکلوانا یہ سب کچھ سیمز ا لوٹ مور پاورفل دین فلائنگ ان سمپل جیٹ۔
[33:57]پھر دوسری طاقت نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کے پاس جنت اور جہنم جیسی دو چیزیں ہوں گی۔ لیکن جسے وہ جنت کہے گا۔ وہ درحقیقت جہنم اور جسے وہ جہنم کہے گا وہ درحقیقت جنت ہو گی۔ دجال کی ان دو چیزوں کی شکل و صورت تک کی بھی تفصیل مل جاتی ہے۔
[34:15]مسند احمد اور مجموع الزوائد والی احادیث سے پتہ چل جاتا ہے کہ وہ دونوں چیزیں دیکھنے میں نہروں کی طرح ہوں گی۔ جسے وہ جنت کہے گا وہ دیکھنے میں ایسی ہو گی کہ جیسے دھوئیں والی کوئی نہر ہوتی ہے۔
[34:30]اور جسے وہ جہنم کہے گا وہ کسی سرسبز باغ والی نہر کی طرح ہوگا۔ کنفیوزنگ رائٹ۔ بائے ویز غور کریں کہ اس کی یہ دونوں چیزیں۔ نہروں کی طرح یعنی پانیوں والی ہوں گی۔ اینڈ ائی ریلی ریلی ہوپ کہ اپ کو وہ سیریز یاد ہو گی کہ جس کے اندر ہم نے پانیوں میں چھپے ہوئے رازوں کے متعلق گفتگو کی تھی۔
[34:52]پھر اس کی ایک اور طاقت کہ جو واقعی خاصی پریشان کن ہے کہ وہ کچھ لوگوں کے پاس جا کر انہیں اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دے گا۔ مگر وہ لوگ اس کو ریجیکٹ کر دیں گے۔
[35:03]لیکن صبح ہونے سے پہلے پہلے ان لوگوں کا سبھی کچھ تباہ و برباد ہو چکا ہو گا۔ وہ لوگ بھی باقیوں کی طرح قہت سالی میں مبتلا ہو چکے ہوں گے اور صبح ہونے سے پہلے ہی ان کے بھی تمام جانور مارے جا چکے ہوں گے۔
[35:18]یعنی کہ دجال کے پاس یہ طاقت بھی ہو گی۔ کہ اپنے ریجیکٹ کرنے والوں کے پاس وہ کچھ بھی نہیں رہنے دے گا۔ حسان ابن عطیہ رحمتہ اللہ علیہ بتاتے ہیں۔
[35:30]کہ لوگ خوفزدہ ہو کر جنگلوں اور پہاڑوں کی طرف بھاگ کھڑے ہوں گے۔ زیادہ تر لوگ بلکان کے پہاڑوں کی طرف چلے جائیں گے اور ان جنگلوں میں اتنے زیادہ لوگ پہنچ جائیں گے۔
[35:40]کہ جنگلی جانور جنگل سے نکل کر نیچے میدانوں میں ا جائیں گے۔ اس روایت سے مزید پتہ چلتا ہے۔ کہ صرف 12 ہزار ادمی اور صرف سات ہزار عورتیں۔
[35:50]ایسی ہوں گی کہ جو دجال کے فتنے سے بچ سکیں گے۔ پھر مردوں کو زندہ کرنے کی طاقت۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ وہ ایک ادمی کو قتل کرے گا اور پھر لوگوں کی انکھوں کے سامنے اسے زندہ کر کے پوچھے گا۔
[36:06]کہ کیا یہ کام یعنی مار کر زندہ کرنے والا کام پروردگار کے علاوہ کوئی اور کر سکتا ہے؟ اللہ اکبر۔
[36:17]اب اپ کو احساس ہو رہا ہے کہ ادم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک تمام کی تمام انسانی تاریخ میں دجال سے زیادہ شدید اور سخت فتنہ کوئی اور قرار کیوں نہیں پایا؟
[36:29]ابن ماجہ میں اتا ہے کہ وہ بھرپور جوانی والے ایک شخص کو بلائے گا اور اس کے دو ٹکڑے کرے گا۔ اور وہ دونوں ٹکڑے ایک دوسرے سے اتنی دوری پر ہوں گے کہ جتنا دور کمان سے نکلا تیر جا کر گرتا ہے۔
[36:41]اور پھر اس کا نام لے کر بلائے گا تو وہ شخص زندہ ہو کر ہستا ہوا واپس اتا دکھائی دے گا۔ البتہ یہاں پر ایک بات کی جو اپ نے یاد رکھنی ہے۔
[36:51]کہ اپنے پورے 439 دنوں میں یعنی کہ جتنے دن وہ اس دنیا میں رہے گا۔ اتنے دنوں میں صرف ایک مرتبہ ایسا ہو گا کہ وہ ایک ایکچول مردے کو زندہ کر دے۔
[37:02]یہ واحد مرتبہ ہوگی کہ ایک واقعی مر چکا انسان زندہ ہوگا ورنہ باقی ہر مرتبہ وہ ایکچول زندہ نہیں بلکہ زندہ کرنے کا ایک دجل ایک دھوکہ دکھائے گا۔ ابھی میں اس پر بھی اتا ہوں۔
[37:17]لیکن دس ون ٹائم وہ واقعی ایک شخص کو مار کر زندہ کرے گا۔ تھوڑی دیر تک ہم اس پر دوبارہ واپس ائیں گے۔ پھر اس کی اگلی طاقت کہ اس کا فتنہ کسی ایک ملک یا کسی ایک شہر تک نہیں بلکہ عالمگیر یا گلوبل ہوگا۔
[37:31]حدیث میں اتا ہے کہ پانی کا کوئی گھاٹ ایسا نہیں بچے گا کہ جہاں تک اس کی سلطنت نہ پہنچ جائے۔ اور پھر اس کی ایک مشہور شے کہ جس کی ٹرو نیچر تو صرف اللہ تعالی ہی جانتے ہیں۔ وہ ہے اس کا گدھا۔
[37:46]نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کے پاس ایک ایسا گدھا ہوگا کہ جس کے دونوں کانوں کی لمبائی 40 ہاتھ ہو گی۔ ایک اور روایت میں 70 با کی لمبائی بھی اتی ہے کہ جو تقریبا 140 فٹ بنتی ہے۔
[38:00]اور مستدرک سے پتہ چلتا ہے کہ وہ صرف اور صرف گدھے کی سواری کرے گا۔ اس حوالے سے ابو طفیل رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ گندگی کے اوپر گندگی ہوگی یعنی کہ اس کا گدھا بھی گندگی اور اس گدھے پر بیٹھتا ہوا دجال بھی گندگی۔
[38:13]لیکن اس گدھے کا سائز حیرت انگیز حد تک بڑا ہوگا۔ انتہائی جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بتاتے ہیں۔
[38:24]کہ اس کے گدھے کے کان 70 ہزار کو اپنے نیچے ڈھانپ لیں گے۔ 70 ہزار انسانوں کو یا 70 ہزار شیطانوں کو یہ ہم نہیں کہہ سکتے کیونکہ روایت میں صرف 70 ہزار کا لفظ ہے۔
[38:36]البتہ یہ ایک بہت مشہور کونسپٹ ہے کہ دجال کا گدھا کسی قسم کا کوئی جہاز ہوگا۔ ایسا کہنے کی وجہ شاید اس کے کانوں کی لمبائی والی روایت ہے کیونکہ وہ تقریبا اتنی ہی بنتی ہے جتنا کسی جہاز کے دونوں پروں کے درمیان کا ونگ سپین ہوتا ہے۔
[38:52]مثلا ایربس اے تھری 20 اس کا ونگ سپین تقریبا اتنا ہی ہوتا ہے۔ یعنی کہ 120 فٹ اور پھر دجال کا تیزی کے ساتھ سفر کرنا پوری دنیا میں سفر کرنا شاید یہ وہ وجوہات ہیں کہ اکثر لوگ اس کے گدھے کو ایک جیٹ جہاز سے تشبیہ دے دیتے ہیں۔
[39:09]ہو بھی سکتا ہے۔ دیکھیے میری عادت نہیں ہے کسی کو غلط کہنے کی۔ میں صرف اپنی محنت اپنی ریسرچ کو اپ کے سامنے رکھتا ہوں اور پھر فیصلہ اپ کے اوپر چھوڑ دیتا ہوں۔
[39:19]چنانچہ بظاہر لگتا بھی یہی ہے کہ دجال کے گدھے کا مطلب شاید کوئی بہت تیز رفتار جیٹ ہو گا۔ لیکن ایک بات یاد رکھیے گا۔
[39:29]کہ اگر تشبیہ سواری کی ہی دینی ہوتی تو پھر گدھے کے بجائے اونٹ کا لفظ اتا کیونکہ عرب میں سواری کی پرائمری علامت گدھا نہیں بلکہ اونٹ یا گھوڑا ہوا کرتا تھا۔
[39:40]تو اگر تشبیہ سواری کی دینا مقصد تھا تو پھر گدھے کے بجائے یوں اتا کہ اس کا اونٹ یا گھوڑا اتنا تیز رفتار ہو گا۔ دوسری بات کہ ہر چیز کو تشبیہ سمجھ لینا بھی۔
[39:55]بعض اوقات سچائی تک پہنچنے سے روک دیتا ہے۔ مثلا اپ کو پتہ ہے کہ امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی علامت ایک گدھا ہے۔
[40:00]کیونکہ گدھا عام ادمی کی محنت اور اس قوت برداشت کو دکھاتا ہے۔ اور ڈیموکریٹک پارٹی سے امریکہ کے کچھ بڑے سیاسی نام نکلے ہیں۔ مثلا پریزیڈنٹ کینیڈی مثلا پریزیڈنٹ بل کلنٹن۔
[40:13]بریک اوباما جو بائیڈن ہیلری کلنٹن یہ سب ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھتے تھے بلکہ موجودہ پریزیڈنٹ ڈونلڈ ٹرمپ بھی کسی زمانے میں ڈیموکریٹک پارٹی ہی کا بیچ یعنی گدھے کا بیچ پہنتے تھے۔
[40:27]لیکن پھر بعد میں انہوں نے ریپبلکن پارٹی جوائن کر لی تو جو لوگ تشبیہ دینے پر یقین رکھتے ہیں انہوں نے تو یہ بھی تشبیہ دے دی تھی۔
[40:34]کہ دجال ڈیموکریٹک پارٹی سے نکلے گا کیونکہ ان کا نشان ایک گدھا ہے۔ لہذا ہو سکتا ہے کہ اس کا گدھا واقعی کوئی جہاز ہو لیکن اگر اپ دجال کو اس کی مکمل طاقتوں کے ساتھ دیکھیں۔
[40:47]تو اپ کو اندازہ ہوگا کہ وہ لٹرلی ایک غیر معمولی مگر اصلی گدھا بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک بہت زبردست وجہ ہے ابھی۔ یاد کریں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات اسمانوں پر گئے تھے۔
[41:01]اور اپ کو انتہائی تیزی کے ساتھ وہ سفر کروایا گیا تھا۔ اپ نے فرمایا تھا کہ جہاں تک نظر جاتی تھی وہاں تک ہمارا اگلا قدم ہوتا تھا۔
[41:12]تو اپ علیہ السلام کا یہ سفر کس پر ہوا تھا؟ براق نامی ایک جانور پر۔ اور براق کی ڈسکرپشن نبی علیہ السلام نے کیا دی تھی؟
[41:20]14 احادیث میں براق کی ڈسکرپشن ملتی ہے کہ وہ گدھے سے تھوڑا بڑا سفید رنگ کا ایک جانور تھا۔ کہ جس کی چار ٹانگیں تھیں۔ اور اس کا سم یا قدم وہاں پڑتا تھا کہ جہاں تک اس کی نگاہ جاتی تھی۔
[41:34]اور پھر اس پر سوار ہو کر نبی علیہ السلام مکہ سے بیت المقدس تک ائے تھے۔ تو دجال کہ جس نے ہر قسم کا دعوی کرنا ہے نبوت کا بھی اور ربوبیت کا بھی۔
[41:45]کہ جس نے انبیاء علیہم السلام کو کاپی کرنے کی بھی کوشش کرنی ہے تو یہ بہت ممکن ہے کہ ان واقعات کی نقل کرتے ہوئے وہ بھی ایک ایسا ریئل گدھا لے ائے کہ جو انتہائی تیزی کے ساتھ سفر کرتا ہو گا۔
[42:00]اور جس کے دونوں کان انتہائی لمبے ہوں گے اور میبی وہ اس دنیا کا بھی نہ ہو۔ اور پھر اس پر بجلی کی سی رفتار کے ساتھ سواری کر کے دجال لوگوں کو امپریس کرنے کی کوشش کرے گا۔
[42:12]اوکے فورسز اف نیچر کے علاوہ اس کی ایک بہت بڑی طاقت مین پاور بھی ہو گی۔ انس ابن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اصفہان کے 70 ہزار یہودی اس کے ساتھ ائیں گے۔
[42:26]کہ جن کے جسموں پر سبز رنگ کی تلسانی چادریں ہوں گی۔ ایک اور روایت میں سبز کے علاوہ کالے رنگ کی چادروں کا ذکر بھی مل جاتا ہے۔ اور یہ تلسانی وہ خوبصورت چادریں ہوتی ہیں کہ جن کے بارڈر پر ریشم کا کام ہوا ہوا ہوتا ہے۔
[42:40]اور چونکہ ان سب کے سب یہود نے یہ چادریں پہنی ہوں گی تو یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ ان کا کسی طرح کا کوئی یونیفارم ہو گا۔ اور پھر ان سب کے ہاتھ میں چمکتی ہوئی تلواریں ہونی ہیں۔
[42:52]عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ بتاتے ہیں کہ جو ان 70 ہزار کا ہراول دستہ ہو گا یعنی کہ اس عظیم لشکر کو لیڈ کرنے والے جنگجو وہ چیتوں سے زیادہ تیز اور چیتوں سے زیادہ بیباک ہوں گے۔
[43:04]اور صرف 70 ہزار یہودی ہی نہیں۔ بلکہ نبی علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ مدینہ ایک بہترین سرزمین ہے۔ دجال اس میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ لیکن جب وہ اس کے قریب ائے گا۔ تو احد کے پہاڑ پر کھڑا ہو کر اپنے ساتھیوں سے کہے گا۔ کہ کیا تم اس سفید محل کو دیکھ رہے ہو؟
[43:22]وہ احمد کی مسجد ہے یعنی کہ مسجد نبوی۔ لیکن جب وہ شہر میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا۔ تو مدینہ کے ہر راستے پر تلواریں اٹھائے ہوئے فرشتوں کو کھڑا ہوتا پائے گا یہاں تک کہ شہر سے رخ پھیر کر وہ مدینہ سے باہر۔ اس کی شور زدہ زمین یعنی مدینہ سے باہر کسی سیلی لینڈ بنجر اور غیر زرخیز زمین کی طرف چلا جائے گا۔
[43:45]اور وہاں جا کر اپنا رواق یعنی خیمہ لگائے گا وہاں کیمپ کرے گا۔ تو اس وقت مدینہ کی سرزمین تین مرتبہ لرزے گی یہاں تین زلزلے ائیں گے۔
[43:57]اور مدینہ میں موجود ہر منافق مرد اور ہر منافق عورت اس سے نکل کر باہر دجال کے ساتھ شامل ہو کر اس کا لشکر بن جائیں گے۔ اس دن کے لیے نبی علیہ السلام نے ایک نام بھی بتایا تھا کہ وہ دن یوم الخلاصہ کا دن ہوگا یعنی کہ خلاصی کا دن۔
[44:14]کیونکہ اس دن مدینہ اپنے تمام میل کچیل کو نکال کر باہر کر دے گا۔ اصفہان کے یہودی مدینہ کے منافقین اور ان کے علاوہ میں نے اپ کو بتایا تھا کہ اس کے ساتھ کئی لوگ ایسے بھی ہوں گے۔
[44:26]کہ جو یہ بات جانتے ہوں گے کہ وہ جھوٹا اور کذاب ہے لیکن پھر بھی وہ اس کے ساتھ ہوں گے تاکہ بھوک سے کہیں مری نہ جائیں۔ لیکن روایت میں اتا ہے۔
[44:36]کہ جب اللہ کا غضب نازل ہوگا تو اس کا نشانہ پھر وہ لوگ بھی بن جائیں گے کہ جو سب کچھ جانتے اور بھوجتے ہوئے بھی اس کا ساتھ دے رہے تھے۔
[44:47]پھر اس بڑی مین پاور کے علاوہ اس کے پاس ایک انتہائی عظیم ڈیمونک پاور بھی ہونی ہے۔ یعنی شیطانی دنیا کی طاقتیں۔ غور سے یہ حدیث سنیں۔
[44:57]حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہ بتاتی ہیں کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا بدترین قہت کے زمانے میں کہ جب جانوروں اور جانداروں کی ایک عظیم تعداد مر چکی ہو گی تو اس موقع پر دجال ایک دیہاتی سے پوچھے گا کہ اگر میں تمہارے اونٹ زندہ کر دوں تو۔
[45:15]کہ اسے صرف اس ایک ادمی پر قدرت دی جائے گی۔ کہ انہیں قتل کر کے زندہ کر سکے لیکن ان کے علاوہ کسی اور پر بھی اسے واقعی زندہ کرنے کی قدرت حاصل نہیں ہو گی۔
[45:26]باقی سب اس کا دجل ہو گا۔ چوتھی چیز کہ جو وہ نہیں کر سکے گا۔ چار مساجد ایسی ہیں کہ جن میں وہ داخل نہیں ہو سکے گا۔
[45:33]دو تو اپ نے دیکھ لی کہ مسجد نبوی اور مسجد حرام یعنی خانہ کعبہ جبکہ باقی دو مسجدیں مسجد اقصی اور مسجد طور حدیث میں اتا ہے کہ زمین کے ہر گھاٹ تک اس کی رسائی ہو گی مگر یہ چار مساجد ایسی ہیں کہ جن کے اندر وہ کبھی نہیں جا سکے گا۔
[45:52]اور اخری چیز کہ جو وہ کبھی نہیں کر سکے گا۔ وہ ہے حضرت عیسی علیہ السلام کا سامنا عیسی ابن مریم علیہ السلام کو دیکھتے ہی اس نے بھاگ کھڑے ہونا ہے۔
[54:03]وہ ایون کہ لڑائی کرنے کی بھی کوشش نہیں کرے گا کیونکہ اسے پتہ ہوگا کہ ہی وڈنٹ سٹینڈ اے چانس۔
[54:10]تو یہ تھا دجال کا ایک تفصیلی تعارف اور اب انے والی قسطوں میں ہم اس کی کچھ عجیب و غریب طاقتوں کی انشاءاللہ مزید تفصیل میں بھی جائیں گے۔
[54:20]ہم اس شخص کو بھی ڈسکس کریں گے کہ جس کے متعلق کافی سارے صحابہ کو یقین تھا کہ ہو نہ ہو یہی دجال ہے۔ ہم اس واقعے کو بھی دیکھیں گے۔ کہ جس میں ایک صحابی حادثہ۔
[54:30]اصل دجال کو زنجیروں میں بندھے ہوئے ایک جزیرے پر دیکھ لیا تھا۔ مگر اج کی قسط بس یہیں تک اور اب اپ نے انشاءاللہ دو کام ضرور کرنے ہیں۔
[54:43]کہ ایک تو اس ویڈیو کو پلیز لائک کر دیجیے گا۔ تاکہ یہ اہم اور ضروری معلومات ہماری یوٹیوب فیملی کے باقی ممبرز تک بھی پہنچ جائیں اور دوسرا یہ کہ نیچے کمنٹ سیکشن میں لکھے میرے پینچ کمنٹ میرے ٹاپ کمنٹ کو ایک مرتبہ ضرور پڑھ لیجئے گا۔
[54:58]کیونکہ سیریز کو اسی طرح خوبصورتی کے ساتھ جاری رکھنے کے لیے اس کمنٹ میں میری طرف سے اپ سب کے لیے ایک بہت ضروری پیغام ہے۔ شکریہ اور اللہ حافظ۔



