[0:00]میں مبلغ بنوں سنتوں کا خوب چرچہ کروں سنتوں کا ہو کرم بحر خاک مدینہ الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ وعلی الک واصحابک یا حبیب اللہ الصلوۃ والسلام علیک یا نبی اللہ وعلی الک واصحابک یا نور اللہ اس وقت دنیا بھر سے دعوت اسلامی سے تعلق رکھنے والے ہمارے ذمہ داران اور متعلقین اور اہل محبت کا بہت بڑے پیمانے پر یہ اجتماع ہے اور ہماری یہاں پر اس نشست کا مقصد دعوت اسلامی کا جو مرکزی نعرہ ہے جو ایم ہے اس کے حوالے سے اپنی تربیت کرنی ہے کہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔ جملے مختصر ہوتے ہیں لیکن اس کی ڈیٹیل اپنے اندر بہت سے اسپیکٹس کو لیے ہوئے ہوتی ہے۔ قران نے اتنا فرمایا نماز قائم کرو اقیمو الصلاۃ اب یہ نماز قائم کرنا کیا ہے؟ اس کی ایک پوری ڈیٹیل ہے۔ کیسے کریں گے؟ نماز قائم کرنے کے لیے کیا کیا جائے گا؟ کن باتوں کا خیال رکھا جائے گا؟ کن چیزوں کو چھوڑا جائے گا؟ اسی طریقے سے دعوت اسلامی کا یہ جو سب سے مرکزی نعرہ ہے کہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔ تو یہ چند الفاظ پر مشتمل دعوت اسلامی کے ایک مبلغ کی زندگی کا خلاصہ کلام ہے۔ کہ اس کی زندگی کس نہج پر کس انداز پر چلے گی؟ وہ کیا کرے گا؟ اس حوالے سے ایک حدیث مبارک کا میں نے انتخاب کیا ہے جو بنیادی طور پر تو اپنی اصلاح کے متعلق ہے لیکن ہم اسے ایک تو اس اعتبار سے سنیں اور سمجھیں گے کہ ہمیں اپنے لیے کیا کرنا ہے؟ ہماری زندگی کیسے ہونی چاہیے۔ اور اس کے ساتھ دوسرا یہ کہ ہماری فیملی اور جن لوگوں تک دعوت اسلامی کا پیغام ہم پہنچاتے ہیں دین کی بات پہنچاتے ہیں نیکی کی دعوت پہنچاتے ہیں ان لوگوں میں ہم کیا شے پیدا کرنا چاہتے ہیں؟ کون سا کردار پیدا کرنا چاہتے ہیں؟ ہم انہیں کن چیزوں سے بچانا چاہتے ہیں؟ تو گویا ہمیں کیا کرنا ہے؟ اور ہم نے دوسروں سے کیا کروانا ہے؟ ہم نے کن چیزوں سے بچنا ہے؟ اور ہمیں دوسروں کو کن چیزوں سے بچانا ہے؟ اس کا ایک جو ہے ایک سمری جو ہے وہ میں اپ کے سامنے عرض کروں گا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بادرو بالاعمال فتنا کقطع اللیل المظلم يصبح الرجل مومنا ويمسي کافرا ويمسي مومنا ويصبح کافرا يبيع دينه بعرض من الدنيا مسلم شریف کی حدیث ہے۔ فرمایا اے لوگوں! ان فتنوں کے انے سے پہلے پہلے نیک کاموں میں جلدی کرو۔ جو فتنے تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح ہیں۔ حال یہ ہے کہ ایک شخص صبح کو مومن ہو گا اور شام کو کافر ہو جائے گا۔
[4:34]اور شام کو مومن ہو گا تو صبح کو کافر ہو جائے گا۔ اور ادمی اپنا دین دنیا کے معمولی سے سامان کی خاطر مال کی خاطر بیچ دے گا۔
[4:51]دنیا کی خاطر اپنے دین کو بیچ دے گا۔ اس حدیث مبارک میں مجموعی طور پہ چار باتیں ارشاد فرمائیں۔ پہلی بات فرمائی کہ نیک اعمال میں جلدی کرو۔ دوسری بات فرمائی کہ بڑے شدید قسم کے فتنوں کے زمانے ائیں گے۔ اتنے شدید کہ ایک کے بعد ایک ایک کے بعد ایک اور اتنے بڑے کہ ہر طرف پھیلے ہوئے تو فتنے آئیں گے۔ اور ان فتنوں کا تعلق ایمان کے ساتھ بھی ہو گا اور عمل کے ساتھ بھی ہو گا تیسری بات فرمائی کہ ایک دن کے اندر اندر انسان کا جو ایمان ہے وہ چلے جانے کا اندیشہ ہے۔ کہ صبح مومن ہے تو شام تک ہی کافر ہو جائے۔ اور شام کو مومن ہے تو صبح تک کافر ہو جائے۔ اس کا اندیشہ ہو گا۔ اور ایسا ہو گا۔ اور چوتھی بات یہ ہے کہ دین نگاہوں میں اتنا ہلکا ہو جائے گا۔ اور آخرت نگاہوں سے اتنی اوجھل ہو جائے گی کہ بس دنیا ہی دنیا اور دنیا کا مال ہی اصل مقصود زندگی رہ جائے گا۔ یہ چار باتیں اب یہاں پر ایک ایک کو میں تھوڑی سی تفصیل سے عرض کرتا ہوں سب سے پہلی بات تو اپ یہ یاد رکھیں کہ اس حدیث کا مخاطب کون ہے؟ اس کے ایک مخاطب تو ڈائریکٹلی ہم ہیں۔ کہ ہمیں فرمایا کہ اے لوگوں تم نیک اعمال میں جلدی کرو۔ ورنہ فتنوں کا زمانہ ائے گا اور پھر اندیشہ ہے کہ اس فتنے میں تم پڑ جاؤ۔ اس سے بچو تو اس میں پڑ جاؤ اس سے بچو تو اس میں پڑ جاؤ۔ تو اس کے ایک مخاطب تو ہم ہیں میں اپ اپ میں سے ہر فرد۔ دوسرے نمبر پہ چونکہ ہم پر صرف ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ ہمیں ہمارے دین نے بتایا کہ تم پر تمہاری اور تمہارے اہل خانہ کی ذمہ داری بھی ہے۔ فرمایا يا ايها الذين امنوا قوا انفسكم واهليكم نارا اے ایمان والو! جہنم کی اگ سے خود بھی بچو اور اپنے گھر والوں کو بھی بچاؤ۔ تو اس کا معنی یہ ہوا کہ یہ حکم کہ نیکیوں میں جلدی کرو فتنوں کے انے سے پہلے پہلے یہ ہمیں فرمایا گیا کہ تم بھی بچو اور اپنے گھر والوں کو بھی بچاؤ۔ یہ اس کی ایک جو ایک ایکسٹینڈڈ صورت ہے یہ وہ والی۔ تیسری بات بحیثیت مسلمان بھی اور بحیثیت دعوت اسلامی کے ایک کارکن ہونے کے یا ذمہ دار ہونے کے ہمارے لیے صرف ہماری ذات اور ہماری فیملی نہیں ہے۔ اگر ہم تنظیم کے اعتبار سے دیکھیں تو تنظیم ہمیں ذمہ داری دیتی ہے دوسروں کا دین ایمان بچانے کی کہ دعوت اسلامی ایمان بچاؤ تحریک ہے اور دعوت اسلامی جو ہے وہ سنتیں پھیلانے والی تحریک ہے۔ دعوت اسلامی شریعت کے احکام پہ چلانے والی تحریک ہے تو اب اس اعتبار سے تنظیمی ذمہ داری کے طور پہ ہر ذمہ دار کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ اس نے نیکی کی دعوت پھیلانی ہے اس نے لوگوں کو سمجھانا ہے اس نے لوگوں تک پیغام پہنچانا ہے تو یہ ہماری ذمہ داری اور دینی اعتبار سے یہ حکم بھی ہمارے لیے یوں ہے کہ ہم دوسروں کو اس کی اویئرنس دیں گے۔ کیوں؟ اس لیے کہ ہمیں حکم یہ فرمایا گیا ہے کہ تم بہترین امت ہو جو لوگوں میں ظاہر کی گئی نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو۔ تو اب یہ جو نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس نیکی کے کرنے کا ہمیں حکم ہے وہ نیکی ہم نے دوسروں سے کروانی ہے۔ جس برائی سے بچنے کا ہمیں حکم ہے اس برائی سے ہم نے دوسروں کو بھی بچانا ہے۔
[29:14]تو اس کو باقاعدہ اپنی پہلی ترجیح یہ فرض کفایہ کے درجے میں اس طرح کی چیزیں ہوتی ہیں۔ اور بعض اوقات فرض عین کے اندر ا جاتی ہے۔ تو پہلی بات تو یہ ہے۔ فرمایا کہ فتنوں کے انے سے پہلے پہلے نیکیوں میں جلدی کرو کہ اگر فتنوں کے انے کے بعد نیکیاں نہ کر سکو تو پہلے کا کچھ تو ذخیرہ ہوگا۔
[29:46]فتنوں میں انے کے بعد اگر مثال کے طور پر ایک ادمی کو کہا جائے کہ بھئی جتنا کمانا ہے کما لو جنگ ہونے والی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھئی جنگ کے دنوں میں اگر نہا کما سکو اور دکانیں بند کرنی پڑیں تو پہلے سے کچھ تو ذخیرہ ہو گا تمہارے پاس۔ تو فرمایا فتنوں سے پہلے پہلے نیکیاں کرو تاکہ تمہارے پاس نیکیوں کا ذخیرہ جمع ہو جائے۔ تو یہ تو نہ ہو کہ اگر خدا کی بارگاہ میں جاؤ تو بالکل ہی خالی اور خدا اگر سوال کرے کہ نیکیاں نہیں ہیں تو تم یہ کہو گے یا اللہ فتنے تھے۔ تو کہا جائے گا کہ فتنوں سے پہلے کیا کیا تھا۔ فتنوں کے اندر تو چلیں نہیں کر سکے کسی اعتبار سے اگر یہ ویلڈ ریزن بھی ہے۔ تو فتنوں سے پہلے کیا کیا تھا؟ تب بھی کچھ نہیں کیا تھا۔ تو اس لیے فتنوں سے پہلے پہلے نیکیاں کر لو۔ دوسری بات دوسری بات یہ ہے کہ جب بندہ فتنوں کے زمانے سے پہلے نیکیاں کرتا ہے تو نیکیاں کر کر کے کر کر کے نیکیاں کرنا اس کی عادت بن جاتا ہے۔ اور جب کوئی شے عادت بن جاتی ہے تو پھر اگرچہ ماحول بدل جائے ادمی تب بھی اس عادت پہ عمل کرتا رہتا ہے۔ اور اگر پہلے سے عادت نہیں ہو گی۔ اگر پہلے سے عادت نہیں ہو گی تو معمولی سا عذر بڑا مائنوٹ قسم کا جو ریزن ہو گا نا اس کی وجہ سے بھی بندہ عمل چھوڑ دیتا ہے۔ تو جب تک کوئی شے عادت نہیں بنے گی تب تک اس پر استقامت نہیں ملے گی تو نیکیوں میں جلدی کرو نیکیوں کی عادت بناؤ تاکہ اگر دوسرا کوئی زمانہ ا جائے تو تب بھی تم نیکیاں کر سکو اگر کوئی مشکل رکاوٹ ا بھی جائے تب بھی کر سکو۔ اس لیے جو شخص بڑا پکا نمازی ہو گا نیا سا نماز کا شوق رکھنے والا وہ بیمار بھی ہو جائے گا تب بھی نماز پڑھے گا۔ وہ بستر پہ بھی لیٹا ہو گا تو مسئلہ پوچھے گا کہ وہ جی نماز لیٹ کے پڑھنے کا طریقہ کیا ہے۔ لیکن کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ایک بندہ نماز پڑھتا ہی نہ ہو اور وہ بیمار ہو جائے تو ا کے مسئلہ پوچھے مفت نماز کیسے پڑھنی ہے۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اچھا اسی طرح جس میں نماز کا شوق نہیں ہے بس پڑھ لیتا ہے لیکن اتنا شوق نہیں ہے۔ جیسے ہی بیمار ہو گا چھوڑ دے گا۔ سفر پہ جائے گا وقت مل گیا تو پڑھ لے گا نہیں ملا تو چھوڑ دے گا۔ کیوں؟ اس لیے کہ عادت نہیں۔ تو نیکیوں کی عادت اگر ڈال لیں۔ نیکیوں کی عادت ڈال لیں تو پھر خواہ فتنوں کا زمانہ ا جائے یا علاقہ تبدیل ہو جائے۔ باہر صورت نیکیوں کی رغبت اور نیکیوں کا عمل اس کا باقی رہ جائے گا۔ تو بات یہ ہے کہ پہلے سے عادت بنائیں گے تو بعد میں بھی کر سکیں گے جوانی میں عبادت کی عادت ہو گی تو بڑھاپے میں بھی کر لیں گے۔ اور جوانی میں عادت نہیں ہو گی تو بڑھاپے کے اندر بھی تاش کھیلنے کو دل کرے گا۔ اس میں بھی یہی ہو گا کہ بس بیٹھے رہو نیٹ لے کے بیٹھے رہو لگے رہو۔ تو لہذا نیکیوں کی انسان کو عادت پڑ جاتی ہے تو پھر ہمیشہ کرتا رہتا ہے۔ اور ایک اور چیز کہ جو ہم فتنوں سے خود کو بچا سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ اپنی شرعی اور تنظیمی ذمہ داریوں پر ہمیشہ نظر رکھیں۔ شرعی ذمہ داریاں تمام فرائض و واجبات کو پورا کرنا۔ پھر شرعی ذمہ داری باطنی اور قلبی اعمال کا بجا لانا۔ صبر، شکر، توکل، قناعت اور جو باطنی گناہ ہیں ان سے بچنا۔ پھر شرعی ذمہ داری فرض علوم کا سیکھنا۔ فرض علوم سے ہماری ایک بڑی تعداد ہے جو واقف نہیں ہوتی۔ فرض علوم کا سیکھنا۔ پھر شرعی ذمہ داری اولاد کی تربیت اور گھر والوں کی تربیت۔ اور اسی طرح شرعی اور تنظیمی ذمہ داری کہ جو نیکی کی دعوت کے کام ہیں ان پر اپنی پوری توجہ رکھنا۔ تو جب اپ اپنی ذمہ داریوں کو اچھے طریقے سے ان پہ غور کرتے رہیں گے ان پہ توجہ رکھیں گے تو انشاءاللہ فتنوں کا زمانہ ائے گا بھی تو خدا کے فضل سے ہم اس سے محفوظ رہیں گے۔ اور یہ جو حفاظت ہے ایمان کی اور عمل کی یہ اپنی بھی اپنی فیملی کی بھی اور اس کے علاوہ جو بھی ہم سے وابستہ ہے ان سب کی بھی۔ اس پورے طریقہ کار پر جب عمل ہو گا تو پھر حقیقت میں ہم اس نعرہ لگانے میں سچے ہوں گے کہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔ تو یہ صرف نعرہ نہیں رہے گا بلکہ یہ حقیقی نعرہ ہو گا کہ جس پر عمل درامد بھی ہو گا۔ اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔



