[0:00]ایک چھوٹا سا پلین دو ادمی اور ایک ایسا مشن جو نہ صرف جان لیوا تھا بلکہ اج کے دن بالکل ناممکن لگتا ہے۔ لاس ویگس کے ہوٹل کے مالک کا عجیب سپنا کہ ایئر پلین کو بنا زمین چھوئے گھنٹوں نہیں، دنوں نہیں بلکہ مہینوں تک ہوا میں ہی رکھنا ہے۔ یہاں صرف فیول کا مسئلہ ہی نہیں تھا۔ یہ کہانی ہے نیند کی کمی، دسمبر کی سردی اور زندگی موت کے بیچ ایک نازک بیلنس رکھنے کی۔ لیکن سوال یہ ہے کیا یہ دونوں پائلٹس واقعی یہ ناممکن لگنے والا ریکارڈ توڑ پائے یا ان کا پلین ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نیلے اسمان میں کہیں غائب ہو گیا۔ اتہاس میں ہوا ایک ایسا عجیب واقعہ جو اج کتابوں میں کہیں کھو چکا ہے۔ زیم ٹی وی کی ویڈیوز میں ایک بار پھر سے خوش امدید۔ ناظرین، 1956 میں وارن بیلے نامی شخص نے لاس ویگس میں اپنا ایک ہوٹل کھولا جو شہر کے دوسرے بڑے کسینوز اور ہوٹلز سے کافی الگ تھا۔ کیونکہ یہاں سیدھے سادھے دیہاتی لوگ اتے تھے۔ حسیندہ نامی یہ ہوٹل اتنا مہنگا نہیں تھا۔ اور یہی وجہ تھی کہ عام لوگ یہاں جانا پسند کرتے تھے۔ پر کیونکہ پرافٹ کافی کم تھا تو وارن بیلے اپنے ہوٹل کی مشہوری کے لیے نئے نئے ائیڈیاز سوچتا رہتا تھا۔ ایک دن بوب ٹم نامی اس کے ایک ارمی پائلٹ دوست نے اسے مشورہ دیا کہ اگر کوئی ورلڈ ریکارڈ توڑا جائے تو یہ حسی انڈا کی اچھی خاصی مشہوری کروا سکتا ہے۔ اس کا اشارہ ایک ایسے پلین کو اڑانے کا تھا جو بنا زمین کو چھوئے دنوں نہیں بلکہ مہینوں تک اڑتا رہے۔ یہ ائیڈیا وارن کو کافی اچھا تو لگا پر کیا واقعی یہ ہوٹل کی مشہوری کروا سکے گا یا نہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ ممکن کیسے ہوگا۔ یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے کہ جب ہوائی جہاز ایجاد ہوا تو پہلے اس کے فلائٹ ٹائم کو سیکنڈز میں ریکارڈ کیا جاتا تھا۔ پائلٹس اور میکینکس کے لیے یہی امپورٹنٹ تھا کہ ایک ہوائی جہاز ہوا میں کتنی دیر تک اڑ سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جہاز ایڈوانسڈ ہوتے گئے اور ان کا فلائٹ ٹائم بھی۔ اور ایک وقت ایسا ایا کہ بات فیول ٹینک پر ا کر رک گئی۔ یعنی جتنا بڑا فیول ٹینک ہوگا اتنا زیادہ فلائٹ ٹائم۔ 1923 میں اس مسئلے کو یو ایس ارمی نے ایک پلین کو ہوا میں ہی دوسرے پلین سے ریفیول کر کے حل کر دیا۔ بس اس کے بعد اینڈورینس فلائٹ کا پہلا ریکارڈ فورن ہی توڑا گیا۔ پہلا ورلڈ ریکارڈ ایک ڈی ایچ فور بی پلین نے ہوا میں نو دفعہ ری فیول کر کے لگاتار 37 اورز تک فلائی کر کے توڑا۔ اس کے بعد یہ ورلڈ ریکارڈ توڑنے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ امریکہ کو اینڈورینس فلائٹ کا بخار چڑھ چکا تھا اور صرف 1929 میں یہ ریکارڈ پانچ بار توڑا گیا۔ پر جس وقت بوب ٹم یہ ائیڈیا وارن کو دے رہا تھا اس وقت تک اس ورلڈ ریکارڈ کا زور کافی ٹوٹ چکا تھا۔ کیونکہ اب بات جہاز کے انجن یا فیول ٹینک کی حدوں کی نہیں بلکہ انسان کی جسمانی حدوں کو ٹیسٹ کرنے کی تھی۔ بوب ٹم ایک ایسا ورلڈ ریکارڈ توڑنے کی بات کر رہا تھا جو 1949 میں دو نیوی پائلٹس نے ایئرونکا سیڈان نامی جہاز 46 دنوں تک ہوا میں رکھ کر بنایا تھا۔ اور ان کا جو مقصد تھا وہ میڈیا میں کافی ہائی لائٹ بھی ہوا۔ حسیندہ کے مالک وارن بیلے کو یہ ائیڈیا اپنے ہوٹل کو پروموٹ کرنے کے لیے کافی اچھا لگا اور اس نے بوب ٹم سے ہی ریکویسٹ کی کہ وہی اس مشن کو پورا کرے۔ کیونکہ اخر کار بوب ٹم ایک جانا مانا ورلڈ وار ٹو کا پائلٹ رہ چکا تھا۔ ٹم سب سے پہلے مکیرن فیلڈ ایئر پورٹ گیا وہاں سے ایک سیسنا 172 جہاز خریدا اور ایک میکینک بھی ہائر کیا۔ تاکہ پلین کو اینڈورینس فلائٹ کے لیے موڈیفائی کیا جا سکے۔ سب سے پہلے انہوں نے کو پائلٹ کی سیٹ ہٹا دی کیونکہ اگر ٹم کو ایک مہینے سے زیادہ ہوا میں رہنا تھا تو اس کو ضرور ایک کو پائلٹ بھی چاہیے ہوگا۔ اور یہ دونوں پائلٹس شفٹس میں پلین اڑائیں گے۔ ایک پائلٹ کنٹرولز سنبھالے گا تو دوسرا کو پائلٹ کی جگہ پر رکھے فارم پیڈ پر سوئے گا۔ انہوں نے پیچھے والی رو کی بینچ بھی ہٹا دی جس کی جگہ صرف ایک اٹھ اسکوائر فیٹ کا سٹوریج بنایا گیا۔
[4:25]جس میں ضروری سامان رکھا جا سکے اور کیبن کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا سنک بھی فٹ کیا گیا تاکہ کبھی کبھی چار فٹ اونچے کیبن میں کسی طرح ایک سپونج باتھ بھی لیا جا سکے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک 95 گیلن کا بیلی ٹینک بھی انسٹال کیا۔ تاکہ پلین کے ونگز کے علاوہ ایک ایکسٹرا فیول ٹینک بھی ہو۔ اس بیلی ٹینک میں فلائٹ کے دوران فیول بھرنے کے لیے ایک الیکٹرک ونچ بھی انسٹال کی گئی جو فیول پائپ کو اوپر کھینچ پائے گی۔ انہوں نے کو پائلٹ کا دروازہ ہٹا کر اس کی جگہ ایک فولڈنگ دروازہ لگایا جو بیلی ٹینک کے فیول پورٹ تک پہنچنے کا اسان راستہ دے گا۔ اج کے دور میں اڑتے ہوئے پلین سے لٹکنا صرف موویز میں دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن اس دور میں یہ عام سی بات تھی۔ یہاں تک کہ 1950ز تک ایریل سٹنٹ مین نے بہت سے ایسے سین کیے جس میں دوران پرواز ایک پلین سے دوسرے میں جانا ہوتا تھا۔ ری فیولنگ کو کم سے کم خطرناک بنانے کے لیے کو پائلٹ کے دروازے کے باہر ایک فولڈ ہونے والا چھوٹا سا پلیٹ فارم بھی بنایا گیا۔ تاکہ اس کے اوپر کھڑے ہو کر پائپ کو بیلی ٹینک کے پورٹ سے کنیکٹ کیا جا سکے۔ اور یہ پلیٹ فارم پلین میں واحد ایسی جگہ تھی جہاں سیدھا کھڑا ہوا جا سکتا تھا۔ ورنہ سیسنا 172 کے اندر صرف بیٹھنے یا لیٹنے کی جگہ ہو سکتی تھی۔ انہوں نے پلین کے انجن میں بھی کافی چینجز کی اور پلین کے باہر بڑا بڑا حسیندہ لکھ دیا۔ جو کہ اس پورے مشن کا سب سے اہم مقصد تھا۔ اب باری تھی ٹیسٹ فلائٹس کرنے کی۔ 1958 کی گرمیوں میں ٹیسٹ فلائٹس کا اغاز ہوا پر مسئلے ایک کے بعد ایک جنم لینے لگے۔ ٹم نے پہلے جو کو پائلٹ ہائر کیا تھا ان دونوں کی اپس میں بنتی نہیں تھی۔ ٹیسٹ فلائٹس کے دوران اکثر دونوں کسی نہ کسی بات پر ایک دوسرے سے اختلاف کرتے رہتے تھے۔ پہلی ٹیسٹ فلائٹ ناکام ہوئی، دوسری بھی ناکام اور تیسری میں دونوں کا ایسا جھگڑا ہوا کہ ٹم نے کو پائلٹ کو جاب سے نکال دیا۔ مسئلہ پلین کے انجن میں موجود ایگزوسٹ والو میں تھا جو کہ بار بار گرم ہو رہا تھا۔ انہوں نے تین بار مشن کو لانچ کیا تھا پر بری طرح سے ناکام رہے۔ اوپر سے جس وقت وہ نیا ورلڈ ریکارڈ بنانے کے لیے اپنی ناکام ٹیسٹ فلائٹس کر رہے تھے اسی وقت ڈیللیس کے اوپر جم ہیتھ اور بل برکاٹ نامی پائلٹس اسی سیم سیسنا 172 جہاز پر 50 دن ہوا میں رہ کر ایک نیا ورلڈ ریکارڈ بنانے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ ٹم نے دسمبر تک جہاز کے تمام مسئلے حل کی اور اخر کار فورتھ دسمبر 1958 کو حسی انڈا اپنی چوتھی اٹیمپٹ کے لیے مکیرن فیلڈ سے ٹیک اف کر گیا۔ اس وقت انٹرنیشنل فیڈریشن اف اٹو موبائل یعنی ایف اے ائی کے افیشلز بھی وہاں موجود تھے جو مشن پر نظر رکھ رہے تھے۔ فروڈ کے الزامات سے بچنے کے لیے ٹم اور اس کا نیا کو پائلٹ جون کک ٹیک اف کر کے واپس رن وے پر ائے تاکہ ایک چیز کار پلین کے ٹائرز پر ایک سپیشل وائٹ پینٹ کر سکے۔ اگر تو انہوں نے کہیں چھپکے سے لینڈ کرنے کی کوشش کی تو یہ وائٹ پینٹ اتر جائے گا اور ورلڈ ریکارڈ کاؤنٹ نہیں ہوگا۔ 12 گھنٹوں کے بعد جب پہلی بار ری فیولنگ کا وقت ایا تو دونوں پہلے سے ایک طے شدہ روڈ کے اوپر ائے جہاں ایک ریفیولنگ ٹرک پہلے سے موجود تھا۔ جیسے ہی پلین روڈ کی سیدھ میں ایا تو ٹرک ڈرائیور نے اپنا فل ایکسیلریٹر دبا دیا۔ اس وقت پلین کو اپنی کم سے کم سپیڈ پہ فلائی کرنا تھا جو کہ 100 کلومیٹرز پر ار تھی۔ کیونکہ ٹرک اس سے زیادہ تیز نہیں چل سکتا تھا۔ جب حسی انڈا ٹرک سے صرف 20 فٹ اوپر ا گیا اور دونوں اپس میں الائن ہو گئے تو کو پائلٹ نے ونچ نکال کر نیچے پھینک دی۔ ٹرک میں موجود ورکرز نے اس ونچ پر پائپ لگایا اور پھر ونچ کو اوپر کھینچ لیا گیا۔ یہ پائپ بیلی ٹینک کے پورٹ سے کنیکٹ کیا گیا اور پھر ٹرک کو اشارہ دیا کہ وہ فیول پمپ کو ان کرے۔ اگلے تین منٹوں تک حسی انڈا اور ٹرک بالکل ساتھ ساتھ تھے۔ اس دوران اگر چھوٹی سی بھی کوئی غلطی ہوئی یا دونوں میں سے کسی کی بھی سپیڈ کم یا زیادہ ہوئی تو اس کا انجام صرف موت تھا۔ جب بیلی ٹینک بھر گیا تو کو پائلٹ نے پائپ نکال کر واپس نیچے پھینکا اور اگلے 12 گھنٹوں کے لیے دوبارہ اسمان میں اڑ گئے۔ اگر ان کو 50 دنوں کا ورلڈ ریکارڈ توڑنا تھا تو یہی پروسیس کم از کم 100 بار ریپیٹ کرنا ہوگا۔ ٹم اور کک کچھ دنوں تک لاس ویگاس کے اوپر ہی فلائی کرتے رہے۔ تاکہ اگر جہاز میں کوئی مسئلہ ہو تو لینڈنگ سٹرپ قریب ہی ہو۔ لیکن جب سب ٹھیک لگنے لگا تو انہوں نے کیلیفورنیا کے ویران میدانوں کے اوپر بھی کافی وقت گزارنا شروع کیا۔ زیادہ اونچائی پر فیول ایفیشنسی بہتر ہو جاتی ہے مگر ٹمپریچر بھی فریزنگ ہو جاتا ہے۔ اور حسی انڈا کے دروازوں میں موڈیفیکیشن کی وجہ سے اس کی انسولیشن اب اچھی نہیں تھی۔ تو ٹھنڈ سے بچنے کے لیے انہوں نے زمین کے قریب ہی فلائی کرنے کا ارادہ کیا۔ کم اونچائی پر نظارے تو اچھے ہوتے ہیں پر رات کے وقت پہاڑ اور بادل جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ دونوں پائلٹس کی ساتھ رہ کر اب اچھی دوستی ہو چکی تھی۔ دونوں فارغ ٹائم میں بکس پڑھتے، ایکسرسائز کرتے اور گپ شپ میں وقت گزارتے تھے۔ دن میں دو مرتبہ ری فیولنگ کا فائدہ اٹھا کر صرف فیول ہی نہیں بلکہ ضرورت کی دوسری چیزیں بھی اوپر کھینچ لیتے تھے۔ جیسا کہ پانی کے کنٹینرز، انجن ائل اور حسی انڈا کے شیفس کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا۔ یہاں اپ کے ذہن میں بھی سوال اٹھ رہا ہوگا کہ جو کھانا وہ کھاتے تھے وہ اخر جاتا کہاں تھا۔ یعنی وہ ٹوائلٹ کہاں کرتے تھے؟ انہوں نے پلین میں ایک فولڈنگ کیمپ ٹوائلٹ سیٹ رکھی تھی جس کے نیچے ایک ویسٹ بیگ لگا ہوتا تھا۔ ویسٹ سے بھرا یہ پلاسٹک بیگ اصل میں وہ کیلیفورنیا کے ویران میدانوں کے اوپر خالی کرتے تھے۔ یہ بات کبھی انہوں نے خود نہیں بتائی پر کو پائلٹ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی نے بتائی تھی۔ اب ٹم اور کک کو ہوا میں 36 دن گزر چکے تھے۔ انہوں نے اپنی نیو ایئر ایوننگ بھی جہاز میں ہی گزاری پر تھکن اور ٹینشن کے اثرات نظر انے لگے۔ یہ دونوں چھوٹے سے پلین کیبن میں بہت تنگی کا سامنا کر رہے تھے۔ پلین انجن کی اواز میں ان کی نیند بھی صحیح سے نہیں ہو رہی تھی۔ ایک رات ایسا ہوا کہ ٹم کنٹرولز پہ بیٹھے بیٹھے ہی سو گیا اور یہ کو پائلٹ کی شفٹ شروع ہونے کے صرف چند منٹ پہلے ہی ہوا۔ حیرت انگیز طور پہ اگلے ایک گھنٹے تک ٹم کی انکھ نہیں کھلی اور جہاز صرف اٹو پائلٹ کے دم پر سیدھا فلائی کرتا رہا۔ جب ٹم کی انکھ کھلی تو پلین ایک انجان جگہ پر ایک کینین کے اندر لو الٹیٹیوڈ پر فلائی کر رہا تھا۔ اگر کچھ منٹ اور تک ٹم کی انکھ نہیں کھلتی تو جہاز کسی پہاڑی سے جا ٹکراتا۔ کیونکہ اٹو پائلٹ کی ذمہ داری پلین کو صرف سیدھا رکھنے کی تھی نہ کہ ابسٹیکل سے بچانے کی۔ 12 جنوری کو یعنی ڈے 39 پر پلین میں ایک گمبھیر مسئلہ ہو گیا۔ پلین کا جنریٹر فیل ہو گیا یعنی اب ریڈیو، لائٹس، ہیٹر اور بیلی ٹینک سے فیول کو ونگز میں پمپ کرنے کا سسٹم کام نہیں کرے گا۔ گراؤنڈ کرو نے ایک چھوٹا ونڈ ٹربائن اوپر بھیجا پر یہ صرف اتنی الیکٹریسٹی جنریٹ کر سکتا تھا کہ ریڈیوز چل سکے۔ بچے ہوئے دنوں میں فیول کو مینولی ہاتھ سے پمپ کرنا پڑا۔ لائٹس نہ ہونے کی وجہ سے رات کے وقت ری فیولنگ کا پروسیس بھی بہت مشکل ہو گیا۔ خاص طور پر جب نیا چاند تھا۔ اس مسئلے کو انہوں نے ونچ پر ایک فلیش لائٹ باندھ کر حل کیا تاکہ گراؤنڈ کرو کو نظر ا سکے کہ پائپ کہاں اٹیچ کرنا ہے۔ اور ری فیولنگ ٹرک کے 300 فٹ اگے ایک دوسری ٹرک چلائی گئی جس پر سرچ لائٹ لگی تھی۔ اب مسئلے دن بدن مزید بڑھنے لگے۔ پلین کا فیول گیج خراب ہو گیا ٹیکو میٹر فیل ہو گیا اور انجن میں کاربن جمنا شروع ہو گیا۔ جیسے ہی 23rd جنوری کو ریکارڈ توڑنے کا وقت قریب ایا حسی انڈا کو اخر کار وہ پبلسٹی ملنی شروع ہوئی جو حسی انڈا کے مالک بیلے چاہ رہا تھا۔ بیلے نے ہر بڑے شہر کے اوپر سے گزرنے کا ایک شیڈیول بنوا کر اخباروں میں پبلش کروایا تاکہ لوگ پلین کو دیکھ سکیں اور اس ہسٹورک مومنٹ کو کور کر سکیں۔ ایک دفعہ اس نے پورا ایک الگ پلین فوٹو گرافرز سے بھر کر بھیجا جو حسی انڈا کے ساتھ اڑا اور کچھ یادگار تصویریں بھی کھینچ سکا۔ اس مومنٹ کو بہترین بنانے کے لیے کو پائلٹ کک نے پلین سے باہر نکل کر ونڈ سکرین صاف کرنے کا ناٹک بھی کیا۔ اخباروں نے یہ تصویر چھاپی اور پورا ملک اس ہسٹورک فلائٹ پر دھیان دینے لگا۔ 23rd جنوری کو شام 3:52 پی ایم پر حسی انڈا نے 50 دن کا بنایا ہوا ریکارڈ توڑ دیا۔ لیکن جتنی محنت اور مشکلات انہوں نے یہ ریکارڈ توڑنے میں کاٹی تھیں ٹم اور کک نے فیصلہ کیا کہ وہ فی الحال لینڈ نہیں کریں گے جب تک چل سکتا ہے ایسے ہی چلتا رہے۔ اور ایسے انہوں نے مزید 14 دن ہوا میں گزار دیے۔ اخر کار پلین اب اور زیادہ فلائی کرنے کے قابل نہیں بچا۔ سیونتھ فیب 1959 والے دن پورے 64 ڈیز 22 اورز 19 منٹس اور فائیو سیکنڈز تک ہوا میں رہنے کے بعد انہوں نے فائنلی مکیرن فیلڈ کے کنٹرول ٹاور سے لینڈنگ کی پرمیشن مانگی اور پلین کو لینڈ کر لیا۔ لینڈنگ کے وقت پریس کا ہجوم جمع تھا اور ملک بھر سے لوگ یہ ہسٹورک مومنٹ دیکھنے ایئر پورٹ پر ائے تھے۔ اس میں سپورٹرز، ریکارڈ افیشلز، جرنلسٹ، ٹم کی وائف اور بچے اور حسی انڈا ہوٹل کا پورا سٹاف شامل تھا۔ ٹم اور کک کی حالت اتنی خراب تھی کہ وہ اپنے دم پر پلین سے اترنے کے قابل بھی نہیں تھے۔ افیشلز نے بھی کنفرم کیا کہ وائٹ ٹائر پینٹ بالکل انٹیکٹ تھا یعنی پلین سچ میں بنا لینڈ کیے 64 دنوں تک ہوا میں ہی رہا۔ 2015 میں ایف اے ائی نے پائلٹڈ اینڈورینس ریکارڈز کو افیشلی بند کر دیا۔ کیونکہ اس میں جانی نقصان کا خدشہ بڑھتا جا رہا تھا۔ مطلب ٹم اور کک کا یہ ورلڈ ریکارڈ اب ہمیشہ کے لیے ان بریکیبل رہے گا۔ سیسنا 172 جس میں یہ ورلڈ ریکارڈ بنایا گیا تھا مکیرن انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے ٹرمینل ون کے بیگیج کلیم ایریا میں لٹکا ہوا اج بھی لوگوں کو اپنی کہانی سنا رہا ہے۔ امید ہے زیم ٹی وی کی یہ ویڈیو بھی اپ لوگ بھرپور لائک اور شیئر کریں گے۔ اپ لوگوں کے پیار بھرے کمنٹس کا بے حد شکریہ۔ ملتے ہیں اگلی شاندار ویڈیو میں۔



