[0:00]ایران کی اس خطرناک جنگ ایران کا سب سے بڑا ویپن پتہ ہے کیا ہے؟
[0:15]نہیں نہیں نہیں، ایٹم بم نہیں۔ بلکہ اس جنگ میں ایران کا سب سے بڑا ویپن ہے۔ The Strait of Hormuz. یہ ہے دنیا میں ایران کی لوکیشن۔ اور ایران کے بالکل پاس سمندر کا ایک چھوٹا سا راستہ ہے یہ دیکھنے میں تو چھوٹی سی جگہ ہے۔ لیکن اصل میں یہ کوئی عام راستہ نہیں۔ کیونکہ یہ چھوٹا سا راستہ آج پوری دنیا کی اکانومی کا سب سے امپورٹنٹ پوائنٹ ہے۔ کیونکہ اس چھوٹے سے راستے کے آس پاس ساری ایسی کنٹریز ہیں جہاں دنیا میں سب سے زیادہ آئل پیدا کیا جاتا ہے۔
[1:17]جیسے کہ کویت عراق بحرین قطر UAE اور ایون سعودی عربیہ اور اسی تیل کی وجہ سے آج یہ ساری کنٹریز دنیا کی سب سے امیر کنٹریز میں سے ہیں۔ ان کنٹریز میں تیل پروڈیوس ہونے کے بعد یہ سارا کا سارا تیل اسی سمندر کے چھوٹے سے راستے کو کراس کر کے پوری دنیا تک پہنچتا ہے۔ جس سے یہ ساری کنٹریز بہت پیسہ کماتی ہیں۔ اور پھر اسی تیل سے پوری دنیا کی اکانومی چلتی ہے۔ ہر دن اس راستے سے دو کروڑ سے بھی زیادہ آئل بیرلز گزرتے ہیں۔ مطلب ہر سال اس راستے سے دنیا میں ٹرلینز آف ڈالرز کا بزنس ہوتا ہے۔ مطلب یہ راستہ دنیا کی اکانومی کے لیے سب سے زیادہ امپورٹنٹ ہے۔ لیکن اس راستے میں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس راستے کے بالکل بیچ میں گزرنے کے لیے ایک بہت ہی تنگ جگہ ہے اور ہر کشتی کو یہاں سے گزر کر جانا لازمی ہے اور یہ چھوٹا سا راستہ صرف اور صرف 40 کلومیٹر ہے اور پچھلے 40 سال سے اس چھوٹے سے راستے پر ایک ہی آدمی کا کنٹرول ہوتا ہے اور وہ ہے ایران کا سپریم لیڈر۔ یہی وہ راستہ ہے جہاں سے آپ کی گاڑی یا موٹر سائیکل تک پٹرول پہنچتا ہے۔ اور اسی راستے کی وجہ سے بسز ٹرینز اور ایون جہاز بھی چلتے ہیں۔ اور اس بات کا ہمیشہ سے ایران کو اچھی طرح پتا ہے۔ اسی لیے جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ایران بار بار امریکہ کو دھمکیاں دے رہا تھا۔ کہ اگر تم نے ہم پر حملہ کیا تو ہم یہ راستہ بند کر دیں گے۔ جس سے پوری دنیا کی اکانومی کو ایک بہت بڑا دھچکا لگے گا۔ لیکن امریکہ ایران کی دھمکیوں سے رکا نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل نے مل کر اپنی پوری طاقت سے ایران پر حملہ کر دیا۔ اور جنگ شروع ہوتے ہی اسرائیل کے 200 فائٹر جیٹس تیزی سے ایران کی طرف روانہ ہوئے۔ اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کر دیا۔ اپنے سپریم لیڈر کو کھونے کے بعد ایران نے بھی امریکہ اور اسرائیل کو جواب دینا شروع کیا۔ اسرائیل کے کئی سٹیز پر میزائلز فائر کیے۔ اس کے بعد ایران امریکہ کے بیسز پر بھی حملے کرنے لگا۔ اور آخر اب جب ایران کا سپریم لیڈر فوت ہو چکا تھا۔ ایران نے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ویپن نکالا جو اس سے پہلے ایران نے کبھی نہیں کیا تھا۔ اچانک ایران کے پاس سٹریٹ آف ہرمز سے جتنی بھی کشتیاں گزر رہی تھیں۔ اچانک ان بڑی بڑی سمندری جہازوں کے ریڈیوز بجنے لگے۔ ان ریڈیوز پر ایران کی نیوی کا میسج چل رہا تھا۔
[4:44]جس میں ایران کی فوج نے ان جہازوں کو حکم دیا کہ آج کے بعد اس سٹریٹ اف ہرمز سے ایک بھی کشتی نہیں گزرے گی۔ اور اگر کسی نے بھی اس راستے سے گزرنے کی کوشش کی ایران کی فوج اسے ایران کی فوج کے اس اعلان کے بعد ان بڑی بڑی کشتیوں نے سٹریٹ اف ہرمز خالی کر دی ہے۔ یہ ساری کشتیاں اب تک سٹریٹ آف ہرمز کے پیچھے پھنس چکی ہیں۔ اور ان کشتیوں میں آئل کے ملینز آف بیرلز پڑے ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے آج کئی کنٹریز کے پاس آہستہ آہستہ آئل اور گیس ختم ہونے والے ہیں۔ اور دنیا کی اکانومی تیزی سے گر رہی ہے۔ اور بڑی بڑی کنٹریز انڈیا، چائنا، جاپان کی اکانومیز بھی ہرٹ ہوئی ہیں۔
[5:39]پاکستان میں بھی اس کی وجہ سے پٹرول آہستہ آہستہ ختم ہونے والا ہے۔ اسی طرح کے حالات بنگلہ دیش میں بھی ہیں۔ اور یہی سب کچھ افریقہ میں بھی ہو رہا ہے۔ اور ایون یورپ میں بھی ایران کے اس ویپن کی وجہ سے پٹرول اور گیس کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
[6:17]مطلب ایران نے اپنی صرف کچھ ہی کشتیوں سے پوری دنیا کی اکانومی کو اس وقت کنٹرول کیا ہوا ہے۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ کہا جاتا ہے ایران نے اس سٹریٹ آف ہرمز کے نیچے بڑے بڑے مائنز لگائے ہوئے ہیں۔ کہ اگر کوئی بھی کشتی ایران کی اجازت کے بغیر سٹریٹ آف ہرمز کے اوپر سے گزرے گی۔ یہ مائنز اس کشتی کو تباہ کر دیں گے۔ اور جن کشتیوں نے اس کے اوپر سے گزرنے کی کوشش کی ہے ایران نے ان پر حملہ بھی کیا ہے۔ ان ساری کشتیوں کو بند کرنے کے بعد ایران نے دنیا کو ایک آفر بھی دی ہے۔ کہ اگر جو بھی سٹریٹ آف ہرمز سے گزرنا چاہتا ہے اسے بس ایک چھوٹا سا کام کرنا ہو گا۔ اس کنٹری کو اپنے ملک سے امریکہ اور اسرائیل کے ایمبیسیڈرز کو باہر نکالنا ہو گا۔ لیکن آج یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے کہ کسی مسلمان لیڈر نے آئل کو ایک ویپن کی طرح یوز کیا ہو۔ کیونکہ آج سے 50 سال پہلے ایک اور مسلمان لیڈر بھی ایسا تھا جس نے تیل کے ویپن کو یوز کر کے پوری دنیا کی اکانومی کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اور وہ مسلمان لیڈر تھا سعودی عرب کا بادشاہ شاہ فیصل۔ آج سے 50 سال پہلے جب امریکہ اور اسرائیل مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑ رہے تھے۔ شاہ فیصل نے بالکل آج کی طرح آئل کو بند کر کے پوری دنیا کے لیڈرز کو اپنے سامنے سر جھکانے پر مجبور کیا تھا۔ اور شاہ فیصل کے 50 سال بعد آج اسی طرح ایران کے سپریم لیڈر نے بھی سٹریٹ آف ہرمز بند کر کے پوری دنیا کی اکانومی کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ لیکن زیادہ خوش ہونے کی بجائے آج ہمیں دنیا کے حالات کو تھوڑا غور سے دیکھنا ہو گا۔ سٹریٹ آف ہرمز بند ہونے کی وجہ سے دنیا کی اکانومی تو گر رہی ہے۔ ٹھیک ہے۔ لیکن یہاں سے آگے اس کے صرف دو ہی بڑے آؤٹکمز ہو سکتے ہیں۔ پہلا آؤٹکم تو یہ ہے کہ ایران اسی طرح آنے والے کئی عرصے تک سٹریٹ آف ہرمز اسی طرح بند رکھے گا۔ جس سے پوری دنیا کی اکانومی اتنی کمزور ہو کہ بڑے بڑے کنٹریز مل کر امریکہ کے پریزیڈنٹ ڈونلڈ ٹرمپ پر اتنا پریشر ڈالیں کہ وہ مجبور ہو کر یہ جنگ ختم کر دیں۔ لیکن دوسرا آؤٹکم تھوڑا خطرناک ہے۔ اس جنگ سے پہلے ہی ایران امریکہ کو دھمکی دے چکا تھا کہ اگر امریکہ نے اس پر حملہ کیا تو ایران یہ سٹریٹ آف ہرمز بند کر دے گا۔ لیکن یہ جانتے ہوئے بھی امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا۔ کچھ لوگ آج یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ امریکہ چاہتا یہی ہے کہ ایران یہ سٹریٹ اف ہرمز بند کرے۔ جس سے پوری دنیا کی اکانومی گرنے لگے اور اب تک وہ ایران جسے پوری دنیا اس جنگ میں ایک ہیرو سمجھتی ہے۔ آہستہ آہستہ پوری دنیا کی اکانومی خراب ہوتے دیکھ کر دنیا کے لوگ اور کنٹریز ایران کے خلاف ہونے لگے۔ اور پھر ڈونلڈ ٹرمپ ایک سپرمین کی طرح اپنی پوری طاقت سے ایران پر حملہ کرے۔ اور دنیا کی اکانومی کو بچا لے اور دنیا اسے ایک ہیرو مانے۔



