Thumbnail for AQEEDA AL-WASATIYYAH | IBN TEMIYYAH | ABU AHMAD WAQAS ZUBAIR | sabiqoon institute | عقیدۂ واسطیہ by Sabiqoon Institute

AQEEDA AL-WASATIYYAH | IBN TEMIYYAH | ABU AHMAD WAQAS ZUBAIR | sabiqoon institute | عقیدۂ واسطیہ

Sabiqoon Institute

44m 54s5,089 words~26 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Pull quotes
[0:12]وان خير الحديث كتاب الله وخير الهدي هدي محمد صلى الله عليه واله وسلم وشر الامور محدثاتها وكل محدثه بدعه وكل بدعه ضلاله
[0:34]اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم فأعلم انه لا اله الا الله استغفر لذنبك
[0:55]عقیدت توحید اس کی اہمیت کے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں اپنی خالص عبادت اور عبادت میں توحید کو مدنظر رکھتے ہوئے عبادت کے لیے کیا ہے۔
[11:33]اچھا اچھا وہ تو کہہ رہے ہیں کہ میری اواز ٹھیک ہے چلیں بارک اللہ فیکو جی تو ابراہیم علیہ السلام کے متعلق میں عرض کر رہا تھا
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله

[0:12]وان خير الحديث كتاب الله وخير الهدي هدي محمد صلى الله عليه واله وسلم وشر الامور محدثاتها وكل محدثه بدعه وكل بدعه ضلاله

[0:34]اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم فأعلم انه لا اله الا الله استغفر لذنبك

[0:55]عقیدت توحید اس کی اہمیت کے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں اپنی خالص عبادت اور عبادت میں توحید کو مدنظر رکھتے ہوئے عبادت کے لیے کیا ہے۔

[1:17]جیسا کہ سورہ ذاریات میں اللہ تعالی فرماتا ہے: وما خلقت الجن والانس الا ليعبدون سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما اس آیت تفسیر میں فرماتے ہیں۔ بہت سے مفسرین نے ان کا یہ قول نقل کیا ہے۔ جیسا کہ امام طبری نے اور دوسرے بڑے امام نے کہ یہ اللہ تعالی نے وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون تو یہاں پر الا لیعبدون ہے اس کا معنی ہے الا ليوحدون کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو فقط اپنی خالص توحید کے لیے پیدا کیا ہے۔ یعنی عبادت کرنا صرف مقصود نہیں بلکہ ایسی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے جس میں خالص توحید ہو۔ تو توحید کی اہمیت اور اس کی ضرورت ہر انسان اور ہر بندے کی ذمہ ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔

[2:38]عقیدہ سیکھنا اپ اس سے بھی اندازہ لگائیں کہ کس قدر اہم ہے کہ اللہ نے عالم عالم میں ہم سب کو جمع کر کے اور ان کی روحوں سے یہ پوچھا تھا کہ الست بربکم کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ تو سب نے یہ کہا کہ بلا شہیدنا کیوں نہیں اے اللہ رب ہیں اور ہم بھی اس کے باوجود جب یہ کائنات کا اغاز ہوا اور ہر ایک نے اپنے وقت پر دنیا میں انا شروع کیا تو اللہ تعالی نے رسولوں کے سلسلے کو انبیاء کے سلسلے کو جاری کیا اور ہر نبی و رسول کا فرض یہ تھا کہ وہ دنیا میں اکر اسی سب کی یاددہانی کروائے فلقد بعثنا فی کل رسول الا عبد اللہ و الطاغوت ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا اور اس نے یہی کہا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو صحیح بخاری میں ایک حدیث صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الانبیاء اخوت العلات ام شتتا کہ انبیاء علاتی بھائی ہیں۔ بھائیوں کی تین قسمیں ہیں۔ ایک علاتی، ایک اخیافی اور شکیقی بھائی۔ شکیقی بھائی جن کے ماں باپ ایک ہوں۔ اخیافی جن کی ماں ایک ہو، باپ مختلف ہو۔

[4:53]اور علاتی بھائی جس میں باپ ایک ہو اور مائیں مختلف ہوں۔ الانبیاء اخوت العلات تو انبیاء علاتی بھائی ہیں۔ یعنی ان کی بنیاد ان کی دعوت دعوت کا نقطہ اور دعوت کی یکتائی اور یکسانیت وہ بالکل دو تین نہیں ہے بلکہ ایک ہے۔ وہ کیا ہے؟ ان عبد اللہ و الطاغوت ما لكم من اله غيره تمہارا کوئی بھی الہ اللہ کے علاوہ کوئی نہیں۔ یہ تمام انبیاء کی دعوت تھی۔ ہاں شریعت کے امور میں احکامات میں کچھ نہ کچھ تبدیلی واقع ہو سکتی ہے اس لیے فرمایا ام شتتا لیکن دعوت ایک ہے اور اس کی حیثیت اور اس کی ضرورت اپ ان تمام امور سے جان سکتے ہیں۔ اپ اس سے بھی اندازہ لگائیں کہ دعوت توحید اور توحید کی اہمیت کس قدر ہے کہ اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مبعوث کیا تو مکہ مکرمہ میں تھے اپ اور 13 سال تک اپ نے دعوت توحید کا کام کیا۔

[6:19]قابل ذکر چیز ہے میں نے دی مکی دور میں دعوت توحید کو عام کیا اس کے باوجود جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا اور اپ مدینہ تشریف لے ائے تو مدینہ میں سورہ محمد اتاری گئی۔ سورہ محمد اتفاقی طور پر مدنی سورت ہے۔ تو اللہ تعالی فرماتا ہے فاعلم انه لا اله الا الله و استغفر لذنبک اے نبی گو کہ اپ نے 13 سال تک اللہ تعالی کی وحدانیت توحید کی تھی۔ اس قدر اہم ہے کہ ابھی بھی اپ علم حاصل کیجئے جانیے پہچانیے تعارف لیجئے کہ انه لا اله الا الله اللہ وحدہ لا نے توحید کس قدر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو 13 سال مکی زندگی میں توحید کی دعوت دینا کے بعد بھی اس کی ذمہ داری اب بھی حاصل کرنے کی ضرورت ہے اللہ کے علاوہ کوئی نہیں اپ جانتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام نے پوری زندگی توحید کی دعوت دی توحید کی طرف لوگوں کو بلایا بلکہ اگر اپ انبیاء رسول کی دنیا میں تو ہر نبی رسول کو جہاں توحید کی دعوت لے کر بھیجا گیا وہاں ناپ تول کی کمی کی جو برائی تھی اس کو روک تھام کے لیے بھیجا گیا لیکن ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ ابراہیم اللہ اکبر بتوں کو اور شر کو ختم کرنے نہیں بھیجا تھا اور توحید کو اور توحید کے اس بات کے لیے بھیجا تھا یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پوری زندگی اللہ کی توحید اور اس کی دعوت کا بھی اپنے گھر میں اپنے والد کو یا حتی عبادت کیوں نہیں کرتے جو کہ لا سمن ولا یوزع ولا یعنی نہ تو سن سکتا ہے نہ دیکھ سکتا ہے نہ اس کی مدد کر سکتا ہے یا ان کا کوئی بھی فائدہ نہیں کر سکتا اور کبھی اپنی قوم کے ساتھ کبھی بتوں کو توڑ کر کبھی سورج کو اور کبھی چاند کو اور کبھی ستاروں کو کبھی ایسے کبھی ایسے کبھی ڈیلونڈے پر کبھی ان کے پہنچ کر اس سے ابراہیم علیہ السلام نے توحید کا کام کیا۔ گویا اللہ تعالی نے السلام و علیکم شیخ اپ کی اواز بہت زیادہ کٹ رہی ہے شیخ جی جی

[9:33]پتہ نہیں اپ کی اواز بہت زیادہ کاٹ رہا ہے شیخ

[10:00]میں نے یہی تو کیا ہے لیکن اب بتائیں مجھے ذرا بہتر ہوئی ہے یا

[11:17]السلام و علیکم ورحمتہ اللہ جی شیخ اب بہتر ہے شیخ جی بہتر ہے شیخ

[11:33]اچھا اچھا وہ تو کہہ رہے ہیں کہ میری اواز ٹھیک ہے چلیں بارک اللہ فیکو جی تو ابراہیم علیہ السلام کے متعلق میں عرض کر رہا تھا

[11:48]کہ کہ ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے گویا کہ فقط اپنی توحید کی دعوت لے کر دے کر بھیجا گیا۔ اور اسی کے لیے انہوں نے پوری زندگی یعنی لگا دی یہاں تک کہ اپنے والد اپنی قوم اور دربار و عیوان جہاں بھی انہیں موقع ملا توحید کی دعوت کو عام کیا۔ گویا کہ ائمہ نے ان کو امام الموحدین یا امام الحنفاء بھی ذکر کیا ہے۔ کہ اس قدر توحید کی دعوت کو عام کیا۔ اور ان کے راستے کو ہمیں بھی اور ہمارے پیغمبر محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ اپ ان کے راستے کی پیروی کریں۔ فتتبع ملت ابراہیم حنیفا کہ اپ ملت ابراہیم کے کی پیروی کیجئے۔ ابراہیم علیہ السلام کے راستے کی پیروی کیجئے۔

[14:11]یہاں پر مفسرین تڑپ اٹھے اور حیران ہو گئے پڑھنے والے اللہ والے کہ ابراہیم علیہ السلام جیسا نبی و رسول جنہوں نے پوری زندگی اللہ تعالی کی توحید کی خاطر خود کو لگا دیا۔ لیکن اس کے باوجود اپنے رب تعالی سے یہ دعا کر رہے ہیں یا میرے مالک مجھے بھی اور میری اولاد کو بھی بتوں کی پرستش سے بچا لینا۔ اپ اندازہ لگائیں ہم تصور کر سکتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام بتوں کی پوجا کریں گے یا اپ کی اولاد میں سے۔ لیکن وہ ڈر اور خوف اور وہ عقیدے پر پختگی اور استقامت اس کی جو فکر ہے وہ لاحق تھی ابراہیم علیہ السلام کو۔ اگر ابراہیم علیہ السلام کا عالم یہ تھا اور اللہ تعالی محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو 13 سال کی دعوت توحید کے باوجود حکم دے رہا ہے کہ اپ جان لیجئے کہ اللہ کے علاوہ کوئی الہ نہیں۔ علم حاصل کیجئے۔ تو میں اور اپ یقینا اس توحید کے عقیدے اور اس عقیدے کی اہمیت کو ہمارے لیے سیکھنا کس قدر اہم ہے اور کس قدر اس عقیدے کی اہمیت کو جاننا لازم اور ضروری ہے۔ کہ ہم اللہ سبحانہ و تعالی کے متعلق درست نظریہ رکھ سکیں اور اللہ سبحانہ و تعالی کے بارے میں درست معرفت رکھ سکیں۔ اللہ اکبر۔ اللہ اکبر۔ یاد رکھیں کہ عبادت ہی صراط مستقیم ہے۔ عبادت ہی صراط مستقیم ہے۔ اور اللہ سبحانہ و تعالی نے قران مجید میں عبادت کو صراط مستقیم قرار دیا جیسا کہ میں اپ کے سامنے سورہ ال عمران ایت نمبر 51 اللہ سبحانہ و تعالی فرماتا ہے کہ ان اللہ ربی وربکم فاعبدوا بے شک اللہ تعالی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ فاعبدوا اسی کی عبادت کرو هذا صراط مستقیم یہی سیدھا راستہ ہے۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔ یہی مضمون اللہ سبحانہ و تعالی نے سورہ مریم میں بیان کیا سورہ مریم میں ایت نمبر 36 میں فرمایا و ان اللہ ربی وربکم فاعبدوا بے شک اللہ تعالی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب۔ فاعبدوا اسی کی عبادت کرو هذا صراط مستقیم یہی سیدھا راستہ ہے۔

[17:15]اس کا مطلب ہے کہ اللہ کی عبادت کرنا اور خالص عبادت کرنا جو چاہتا ہے کہ صراط مستقیم کو حاصل کر لے اور سیدھے راستے کو اپنا لے اس کا واحد حل یہ ہے اور واحد راستہ یہ ہے کہ انسان اللہ سبحانہ و تعالی کی خالص عبادت کرے۔ اور قران مجید میں صراط مستقیم دو ہی چیزوں کو بتایا گیا۔ ایک اللہ کی عبادت کو اور ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کی پیروی کو۔ فرمایا و ان هذا صراط مستقیما فاتبعوه ولا تتبعوا السبل فتفرق بكم عن سبيل۔ تو گویا کہ دو ہی راستوں کو دو ہی چیزوں کو قران مجید میں صراط مستقیم سے تعبیر کیا گیا۔ ایک اللہ تعالی کی عبادت اور دوسرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری۔ تو جب یہ عبادت صراط مستقیم ہے۔ اور یہی وہ راستہ ہے جس کو ہم ہر نماز میں ہر رکعت میں مانگتے ہیں اهدنا الصراط المستقیم۔ اور یقینا یہی صراط مستقیم ہے جس پر چل کر انسان جنت کے راستے کی راہ کو پکڑتا ہے اور وہاں پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ تو اسی سے ہمیں سمجھ ا جانی چاہیے کہ کس قدر اہمیت ہے عقیدہ توحید اور عقیدہ اسلامیہ کو سیکھنے اور سمجھنے کی۔ ایک حدیث ہے سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ اس کو بیان کرتے ہیں صحیح مسلم میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لا تقوم الساعة حتى لا يقال في الارض اللہ اللہ کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ زمین میں ایک شخص بھی اللہ اللہ یعنی دعوت توحید توحید کی پکار توحید کا ڈنکا بچانے والا بچانے والا ہوگا تو اللہ تعالی قیامت کو قائم نہیں کرے گا۔ اپ اندازہ لگائیں کہ توحید کی اہمیت کس قدر ہے کہ اگر دنیا میں ایک شخص بھی اللہ کی وحدانیت کا ڈنکا بچانے والا ہے تو اسی طرح سورج بھی نکلے گا۔ سورج غروب بھی ہوگا۔ دن بھی ہوگا۔ رات بھی ہوگی۔ چاند بھی رات کو اپنی پوری روشنی لے کر نکلے گا۔ ستارے اسی طرح ٹمٹمائیں گے اور پورا نظام زندگی اللہ تعالی چلائے گا۔ کیوں دنیا میں ایک شخص ہے جو اللہ اللہ کی پکار پکار رہا ہے اور دعوت توحید اور توحید کا ڈنکا بجا رہا ہے۔ کس قدر اہمیت ہے کہ اللہ نے کائنات کو چلائے رکھا ہے اس ایک شخص کی خاطر اور اس ایک دعوت کی خاطر۔ کس قدر اہمیت ہے توحید کو سیکھنے کی۔ اور توحید کو سمجھنے کی۔ اور توحید کو سیکھنا یہ ہر ایک پر لازم اور ضروری ہے۔ اور یہ بالکل نازک سا معاملہ ہے کہ کہیں چھوٹی سی خطا انسان کو توحید سے ہٹا ہی نہ دے۔ میں اپ کو ایک حدیث سناتا ہوں جامع ترمذی میں صحیح سند کے ساتھ۔ ابو واقد الیثی رضی اللہ عنہ اس حدیث کو بیان کرنے والے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین کے لیے نکلے۔ غزوہ حنین کے لیے۔ تو اپ ایک ایسے درخت کے پاس سے گزرے جو مشرکین اپنے زمانے میں اس درخت کو بڑا متبرک سمجھتے تھے۔ تبرک والا۔ اور اس کا نام تھا ذات انواط۔ کیا کرتے تھے یعلقون علیہ اسلاہم وہ اس ذات انواط جو نامی درخت تھا اس پر اپنے اسلحے لٹکاتے تھے برکت لینے کے لیے کہ اس پر لٹکائیں گے جب جنگ شروع ہوگی تو ہمیں اس درخت کی برکت سے فتح یابی نصیب ہوگی۔ اور اسلحہ صحیح چلے گا۔ تو صحابہ کرام ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور انہیں عقیدہ توحید کو سیکھنے کا اس قدر موقع نہ مل سکا تھا بعض صحابہ۔ تو بعض صحابہ نے کیا کہا ہے اللہ کے رسول اجعل لنا ذات انواط كما لهم ذات انواط۔ اے اللہ کے رسول ہمارے لیے ذات انواط کو مقرر کر دیجیے۔ یعنی ہمارے لیے بھی کوئی ایسا درخت مقرر کر دیں ہم جنگ کے لیے جا رہے ہیں۔ جیسے ان مشرکوں کے لیے ذات انواط ہے۔ جیسے ان کا ذات انواط ہے وہاں سے وہ تبرک لیتے ہیں ہمارا بھی کوئی ایسا درخت مقرر کر دیجیے۔ تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ یہ سبحان اللہ کلمہ تعجب ہے کیسی بات کر رہے ہو تم۔ هذا كما قال قوم موسى کہ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے تم موسی علیہ السلام کی قوم نے کہا تھا موسی علیہ السلام سے۔ کیا اجعل لنا الها كما لهم الها کہ ہمارے لیے بھی کوئی الہ مقرر کر دیجیے جیسے ان کا الہ ہے۔ کہتے ہیں تم نے جو درخت کی درخت کی جو ہے وہ ڈیمانڈ کی ہے اور ذات انواط کی ڈیمانڈ کی ہے یہ ایسی ہی ڈیمانڈ ہے جیسے موسی علیہ السلام سے ان کی قوم نے ڈیمانڈ کی تھی۔ اپ نے فرمایا والذی نفسی بیدي لترکبن سنت من كان قبلکم اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ضرور ان لوگوں کے راستے کی پیروی کرو گے ان لوگوں کے راستے پر چلو گے جو تم سے پہلے ہو گزرے۔ اللہ اکبر۔ تو اپ اندازہ لگائیں کہ ذرا سی غفلت اور ذرا سی عدم معرفت اور عقیدے کو نہ جاننا اور پہچاننا کس قدر بڑی بات انسان اپنی زبان سے نکال دیتا ہے اور اس کو اس کا اندازہ بھی اور شعور بھی نہیں ہوتا۔ اپ اندازہ لگائیں کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درخت کے مطالبے کو الہ کے مطالبے کی طرح قرار دیا کہ جیسے موسی علیہ السلام کے قوم نے الہ کا مطالبہ جیسے کر دیا تھا ایسے ہی تمہارا یہ مطالبہ ہے۔ اللہ اکبر۔ تو عقیدہ توحید کی سیکھنے کی اہمیت کے متعلق میں نے اپ کو چند باتیں یہ ذکر کی ہیں۔ اور صحیح عقیدہ سیکھنے کی بھی یعنی اہمیت اس سے واضح ہوتی ہے۔ اب اگلی بات وہ یہ ہے کہ اب صحیح عقیدہ کیا ہے؟ اور صحیح عقیدے کی معرفت کیسے حاصل ہوگی؟ دنیا میں بہت سے لوگ عقیدہ توحید کی شاید کی بات بھی کرتے ہوں لیکن درست بات اور صحیح بات تک پہنچنا اور اسے حاصل کر لینا۔ یہ اصل چیز ہے کہ جس کی وجہ سے

[24:01]جس کی وجہ سے انسان صحیح عقیدے کی معرفت حاصل کر سکے۔ تو وہ دنیا میں ایک ہی گروہ ہے۔ جو گویا کہ ہم ہم حجۃ اللہ ہم حجۃ اللہ فی الارض کہ زمین میں گویا کہ اللہ کی دلیل ہے۔ حجت ہے۔ اور انبیاء کے راستے کے پیروکار ہیں۔ جو واقعی دنیا میں خالص عقیدہ توحید کی طرف لوگوں کو بلانے والے ہیں۔ خالص عقیدہ توحید کی طرف لوگوں کو بلانے والے ہیں۔ اور اس کی پہچان بھی ہر ایک پر ضروری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ حدیث بہت سے صحابہ کرام سے مروی ہے۔ اور یہ حدیث صحیح بخاری میں بھی ہے اور اس کے جو مکمل الفاظ ہیں وہ صحیح مسلم میں بھی ہیں۔ اپ نے فرمایا لا تزال طائف من امتی میری امت میں ایک گروہ رہے گا۔ لا تزال وہ ہمیشہ رہے گا۔ لا تزال طائف من امتی مختلف الفاظ ہیں اگے حدیث کے منصورین علی الحق ان کی حق پر مدد کی جاتی رہے گی۔ ظاہرین علی الحق حق پر ان کو وہ وہ وہ ظاہر ہوں گے یعنی حق اور وہ گویا کہ ان کے یعنی ایک اکٹھے ہوں گے۔

[25:22]اور یعنی لوگ پہچان جائیں گے بااسانی کہ یہ اہل حق ہیں اور ان کی بات صرف اللہ کی توحید ہی کی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی ہے۔

[26:05]لا یضر من خزلهم ولا من خالفهم ان کو چھوڑ جانے والا اور ان کی مخالفت کرنے والا انہیں کوئی نقصان نہیں دے گا۔ حتی یاتی امر اللہ یہاں تک کہ اللہ کا حکم ا جائے یعنی قیامت ا جائے۔ تو اب ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ گارنٹی ہے کہ وہ گروہ اور وہ طائفہ ہمیشہ رہے گا۔ جب ہمیشہ رہے گا تو اس کی یقینا قران تو کہتا ہے کون صادقین سچوں کے ساتھ ہو جاؤ اور سچوں کو صرف سچا ہونا کافی نہیں ہے۔ سچوں کا ساتھ ہونا سچوں کی جماعت میں شامل ہونا یہ اصل مطالبہ ہے قران مجید کا۔ تو جب اہل حق موجود ہیں اور ہمیشہ موجود ہیں تو ہم سب پر لازم ہے کہ ان اہل حق کو تلاش کیا جائے اور دیکھا جائے کہ جو خالص توحید کی بات کرنے والے اور خالص سنت کی بات کرنے والے وہ کون لوگ ہیں۔ اور ائمہ محدثین کو اگر پڑھا جائے تو وہ واضح کہتے ہیں کہ اس سے مراد اہل السنہ اور اہل الحدیث ہیں۔ اہل السنہ اور اہل الحدیث ہیں۔ اللہ اکبر۔ اہل حدیث ان کی دعوت کے امتیازی خوبیاں کیا ہیں؟ عقیدہ توحید جو یہ دعوت دیتے ہیں ان کی خوبیاں کیا ہیں؟ میں چند باتیں اس کے متعلق ذکر کروں گا۔ مثلا سب سے پہلی چیز جس عقیدہ توحید کی اہل السنہ اہل الحدیث یا سلفی لوگ دعوت دیتے ہیں یہ ایسی دعوت اور مضبوط دعوت ہے کہ انہی بنیادوں پر اگر کوئی چاہتا ہے کہ پوری امت جمع ہو جائے تو وہ یہی دعوت ہے جس کی دعوت اہل حدیث دیتے ہیں سلفی لوگ دیتے ہیں۔ کیونکہ قران مجید میں اللہ سبحانہ و تعالی نے فرمایا یہودیوں اور عیسائیوں کو مخاطب کر کے فرمایا قل یا اہل الکتاب تعالوا الی کلمت سوائے بیننا و بینکم ان لا نعبد الا اللہ ولا نشرك به شيئا اے نبی علیہ الصلوۃ والسلام اپ حکم دیں اپ دعوت دیں بلائیں ان کو حتی کہ یہودیوں کو بھی بلا لیں عیسائیوں کو بھی بلا لیں کیونکہ یہ اسمانی مذہب ہیں۔ اور تورات اور انجیل میں توحید کی دعوت اور کے علامات موجود ہیں۔ ٹھیک ہے۔ وہ تو انہوں نے بعد میں اس کو بدل دیا۔ لیکن جو حقیقی تورات کو جاننے والے ہیں اور حقیقی انجیل کو جاننے پہچاننے والے ہیں انہیں انہیں پہچان ہے کہ توحید کی کس قدر اہمیت ہے۔ تو اے نبی اپ انہیں بلائیں اپ دعوت فکر دیں جمع ہونے کی دعوت دیں۔ قل یا اہل الکتاب تعالوا اے اہل کتاب اؤ جمع ہو جاتے ہیں ہم ایک نقطے پر۔ تعالوا الی کلمت سوائے بیننا و بینکم جو ہمارے اور تمہارے درمیان ایک جیسا ہے۔ ان لا نعبد الا اللہ کہ ہم اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کریں گے ولا نشرك به شيئا اور نہ ہی ہم کسی کی کسی کو شریک کریں گے اللہ سبحانہ و تعالی کے ساتھ۔ تو اہل السنہ اہل الحدیث کی دعوت میں یہ طاقت اور یہ پاور ہے کہ یہ تمام مسلمانوں کو ایک نقطے پر ایک کلمے پر جمع کر سکتی ہے۔ اس قدر یہ اس کے اندر طاقت ہے۔ دوسری چیز ثانیا وہ کیا ہے کہ اہل السنہ اہل الحدیث یا السلفیہ جو سلفی لوگ ہیں ان کے دعوت میں قران اور حدیث کی تعظیم بہت زیادہ ہے۔ یہ ان کے عقیدے کی یعنی کیا کہنا چاہیے کہ امتیازی خوبیاں ہیں۔ امتیازی خوبیاں ہیں کہ ان کی عقیدے اور ان کی دعوت میں قران اور حدیث کی تعظیم بہت زیادہ ہے۔ کیونکہ قران و حدیث میں جو ا گیا ان کا موقف یہ ہے کہ وہی حق اور سچ ہے اور وہی درست ہے۔ اور جو اس میں نہیں ہے لہذا اس ان کے عقیدے میں ان کے عقیدے میں اور ان کے منہج میں قران و سنت کی تعظیم موجود ہے۔ کہ قران جس کو توحید کہتا جاتا ہے اس پر یہ عمل پیرا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اور حدیث جس کو توحید کہتی ہے اس پر یہ عمل پیرا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہ اس کو اس کو تاویلات کے ذریعے سے اور اپنے خالص کچھ بعض نظریات کے ذریعے سے قران و حدیث کا رد نہیں کرتے بلکہ اس کی تعظیم کے ذریعے سے قران و سنت پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ تیسری چیز اہل السنہ اہل الحدیث کی دعوت کے اندر سلف صالحین یعنی صحابہ تابعین کے ساتھ جوڑنے کی دعوت ہے۔ کیونکہ صحابہ وہ واحد ہستیاں ہیں جنہیں اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنے نبی کے لیے پیدا کیا اور ان کے لیے چنا جیسا کہ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے کہ ان اللہ نظر فی قلوب العباد اللہ تعالی نے لوگوں کے دلوں میں جھانکا

[31:17]محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو خیر قلوب العباد تو سب سے بہترین دل جو اللہ تعالی نے پایا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔ فاصفاہ لنفسه و ابتعثه بالرسالت اللہ تعالی نے انہیں اپنی اپنے اپ کے لیے اپنی اپنی ذات کے لیے چن لیا اور رسول بنا کر بھیجا ثم نظر فی قلوب العباد بعد قلب محمد صلی اللہ علیہ وسلم فاجد قلوب اصحابه خیر قلوب العباد تو دوبارہ اللہ نے نظر دوڑائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کے بعد سب سے بہترین دل جو اللہ تعالی کو نے دیکھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے دل تھے۔ فجعلهم وزراء نبی اور پھر اللہ نے کیا کیا کہ ان صحابہ کرام کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وزیر بنا دیا۔ یقاتلون علی دین اور وہ نبی کے ساتھی اللہ کے دین پر گویا کہ قتال کرنے والے، لڑنے والے۔

[32:29]اور گویا کہ اس روایت سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صحابہ کرام کو چن لیا اللہ تعالی نے اور ان کے دلوں پر جھانک کر دیکھا اور ان دلوں کو چن لیا۔ تو اہل السنہ اہل الحدیث اور سلفی ان لوگوں کی دعوت میں سلف صالحین سے جڑنا ہے۔ نہ کہ اپنی اراء اور اپنی افکار کو قران و سنت پر لاگو کرنا ہے نہیں۔

[32:56]بلکہ جیسے قران کو صحابہ نے سمجھا تابعین نے سمجھا ائمہ کرام نے سمجھا اس کی دعوت دینا ہے گویا کہ صحیح عقیدے کی دعوت ان کی دعوت میں شامل ہے۔ اور صحیح عقیدہ یقینا صحابہ کرام سے بڑھ کر کسی کے پاس نہیں ہے۔ چوتھی خوبی جو ان سلفیہ اہل الحدیث کی دعوت کے اندر موجود ہے وہ کیا ہے کہ ان کی دعوت میں بڑی وضاحت ہے۔ بڑا نکھرا پن ہے۔ نکھرا پن۔ کہ قران و سنت میں جو صحیح تصور ہے وہ پیش کر دیا۔ مثلا اس عقیدے میں انشاءاللہ عقیدہ واسطیہ میں ہم جا کر اگے پڑھیں گے کہ اللہ سبحانہ و تعالی کی جو صفات اللہ نے بیان کی ہیں۔ اس پر ہم ایمان لاتے ہیں۔ اور اس میں کسی بھی طرح کی تشبیہ، تعطیل، تحریف اور کیفیت کو بیان نہیں کرتے۔ اللہ اکبر۔ یعنی کتنی واضح بات ہے بالکل سیدھی ام روحا كما جاءت جیسے کہ سلف صالحین کا قول ہے کہ ان ایات صفات کو ویسے ہی بیان کرو جیسے یہ ائی ہیں یعنی اس میں کوئی کیفیت بیان نہیں کی جائے گی ان میں ان کو تعطیل نہیں کی جائے گی ان کا انکار نہیں کیا جائے گا ان کو مخلوق سے تشبیہ نہیں دی جائے گی ان کی مخلوق سے کیفیت بیان نہیں کی جائے گی اور جیسے یہ ائی ہیں ویسے ہی اس کو معنی بیان کیا جائے گا اور اس پر ایمان لایا جائے گا۔ تو اہل السنہ اہل الحدیث کی دعوت میں بڑی یعنی تبین ہے تبیین ہے وضاحت بہت ہے۔ بہت صاف ستھری اور بڑی نکھری اور نتھری ہوئی دعوت ہے کہ ہر ہر شخص ہی اس کو قبول کرنے کے لیے بڑے ہی کھلے دل سے قبول کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے کیوں اس میں کوئی یعنی اٹکل بچو نہیں ہے حیلے بہانے نہیں ہے بلکہ قران و سنت کے واضح دلائل کی بنیاد پر اللہ سبحانہ و تعالی کی عقیدہ توحید کو بیان کرنا ہے۔ اللہ اکبر۔ اب ہم اتے ہیں جو کتاب ہم پڑھنے جا رہے ہیں العقیدۃ الواسطیہ۔

[35:07]اس عقیدے کی یعنی تھوڑا سا پہلے تو اس کی تاریخ اور پھر اس عقیدے کی اہمیت جو میں نے بیان کیا کہ جو اہل السنہ و الجماعت کے عقیدے میں جو خوبیاں اور امتیازی خوبیاں ہیں وہی خوبیاں اس کتاب میں بھی وللہ الحمد موجود ہیں۔ یہ کتاب بنیادی طور پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ کی لکھی گئی ہے۔ ان کے حالات پر شاید کل ہم تھوڑی سی بات کریں لیکن انتہائی اختصار کے ساتھ۔ لیکن اج میں جو بات کرنا چاہتا ہوں کہ یہ کتاب تالیف یعنی لکھے جانے کا سبب کیا بنا؟ تو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ نے اس عقیدے کو لکھنے کی وجہ بیان کی اپنی یعنی مجموع فتاوی کی تیسری جلد میں اگر کوئی پڑھنا چاہے گا تو وہاں موجود ہے۔ اصل میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ نے جب یہ عقیدہ لکھا تو بعد میں بعض لوگوں نے اس عقیدے پر کچھ اعتراضات بھی کیے اور مناظرہ بھی ہوا۔ اس مناظرے کی روداد بھی اسی مجموع فتاوی کی تیسری جلد میں موجود ہے۔ اس کی کچھ ذکر انشاءاللہ اج کے درس میں بھی کروں گا۔ تو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ هذه كان سبب کتابتها انه قدم علي من ارض واسط بعض قضات نواحی ها کہتے ہیں کہ اس کتاب کے لکھے جانے کا سبب یہ بنا کہ واسط ایک علاقہ تھا واسط

[36:47]اس علاقے سے کچھ لوگ یعنی وہاں کے قاضی میرے پاس تشریف لائے وہاں کے قاضی میرے پاس تشریف لائے۔ اور شیخ یقال له رضی الدین الواسطی یقال له رضی الدین الواسطی ان کا نام رضی الدین الواسطی تھا۔ یہ واسط جو ہے نا واسط یہ کوفہ اور بصرہ کے درمیان علاقہ ہے۔

[39:03]کوفہ اور بصرہ کے درمیان علاقہ ہے۔ کوفہ اور بصرہ دونوں 50-50 فرسخ کے فاصلے پر تھے۔ تو یہ جو واسط علاقہ ہے یہ بنیادی طور پر حجاج بن یوسف نے یہ شہر اباد کیا تھا اور بڑی محنت اس پر کی تو کوفہ اور بصرہ کے درمیان ہونے کی وجہ سے اس کا نام واسط رکھ دیا گیا۔

[39:58]کوفہ اور بصرہ کے درمیان تو وہ ا کر کہنے لگے کہ یعنی جب تتاریوں نے حملہ کیا تو اب جہالت اور ظلم عام ہو چکا ہے۔ دین اور علم جو ہے وہ مٹ چکا ہے۔ وسالنی ان اكتب له عقیدۃ تكون عمدت له ولاهل بیت تو انہوں نے مجھ سے سوال کیا شیخ الاسلام کہتے ہیں۔ کہ اپ میرے لیے کوئی عقیدے کی کتاب لکھ دیں جو میرے لیے اسرا ہو اور میرے گھر والوں کے لیے بھی۔ فاستفایت من ذالک انہوں نے اس متعلق بہت زیادہ مجھے اصرار بھی کیا کہ اپ لکھ کر دیں۔ میں نے کہا قد کتب الناس عقائد ائمہ السنہ لوگوں نے ائمہ یعنی اہل السنہ کی بہت سی یعنی عقائد کے اوپر کتابیں لکھی ہیں تو وہ کافی ہیں۔ لیکن فعليها سوال لیکن وہ بار بار مجھ سے اسی کا مطالبہ کر رہے تھے کہ نہیں اپ لکھیں ما احب الا عقیده تكتبها انت میں تو کوئی اور عقیدے کی کتاب نہیں جانتا میں چاہتا ہوں کہ اپ لکھ کر دیں مجھے۔ فکتبت له هذه العقیدۃ وانا قاعد بعد العصر تو میں نے پھر یہ عقیدے کی کتاب جو العقیدۃ الواسطیہ کے نام سے اس کو لکھا اور عصر کی نماز کے بعد بیٹھا سمجھ یہ اتی ہے کہ مغرب تک اس عقیدے کو لکھ دیا۔ اور اس طرح کی بہت سی کتابیں ہیں شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی رحمہ اللہ جو ایک مجلس میں بیٹھ کر انہوں نے لکھی ہیں جیسے مقدمہ فی اصول التفسیر بھی وہ ایک ہی مجلس میں بیٹھ کر لکھا۔ تو یہ بھی ایک ہی مجلس میں بیٹھ کر لکھا وقد انتشرت بها نسق کثیرہ فی مصر و العراق وغیرہما کہتے ہیں اللہ نے اس اس عقیدے کے لکھنے میں اتنی برکت ڈالی کہ اس کے نسخے پھر عام ہو گئے مصر میں عراق میں اور بڑی بڑی جگہوں پر جا کر یہ عام ہو گیا اور بہت زیادہ پھیل گیا۔ اب یہ عقیدہ اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ ائمہ محدثین نے بعد میں انے والے یعنی جو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ کے بعد انے والے والوں نے اس عقیدے سے متعلق کیا کہا جیسا کہ امام ذہبی رحمہ اللہ شیخ الاسلام کی شاگرد ہیں فرماتے ہیں ثم وقع الاتفاق علی ان هذا المعتقد سلفی جید یہ بات امام ابن عبد الہادی نے اپنی کتاب العقود الدریہ فی مناقب شیخ الاسلام ابن تیمیہ یہ ابن عبد الہادی بھی شیخ الاسلام کے شاگرد ہیں اور انہوں نے شیخ الاسلام کی سیرت پر ایک کتاب لکھی ہے اس کا نام رکھا انہوں نے العقود الدریہ اس میں امام ذہبی سے یہ نقل کیا کہ جب یہ عقیدے کی کتاب پھیلی نا تو سب کا اتفاق ہو گیا کہ یہ سلفی عقیدے کی بہت بہترین کتاب ہے۔ سلفی عقیدے کی یہ بہترین کتاب ہے۔ امام ابن رجب رحمہ اللہ یہ یوں کہہ لیں کہ پوتہ شاگرد ہیں شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے۔ یعنی شاگردوں کے شاگرد ہیں۔ تو انہوں نے اپنی کتاب الذیل علی طبقات الحنابلہ میں لکھا ہے وقوع الاتفاق بعد ذالک علی ان هذه عقیدہ سنی سلفیہ کہتے ہیں اس کے بعد اتفاق ہو گیا کہ یہ وہ عقیدہ ہے یہ وہ عقیدے کی کتاب ہے جو خالص سنت پر لکھی جانے والی عقیدے کی کتاب اور سلفی منہج پر لکھی جانے والی یہ کتاب ہے۔ عظیم شاعره اس عقیدہ واسطیہ کے شیخ محمد خلیل الحراس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اخری بات میں بات کروں گا پھر اپ سے سوال لیں گے انشاءاللہ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ کے اس عقیدے کے بارے میں فرماتے ہیں من اجمع ما کتب فی عقیدہ اہل السنہ و الجماعت کہتے ہیں اہل السنہ و الجماعت کے عقیدے پر لکھی جانے والی سب سے جامع ترین کتاب ہے یہ۔ ما اختصار فی فی اللفظہ والدقہ فی العبارات حالانکہ اختصار کے لحاظ سے بہت یعنی چھوٹی کتاب ہے لیکن عبارت میں دقت بہت ہے کہ گویا کہ سمندر کو کوزے میں بند کر دینے کے مترادف ہے۔ تو یہ چند باتیں میں نے اپ کے سامنے ذکر کی اور بھی بہت سی باتیں ہیں وللہ تعالی التوفیق وسصلى الله على نبينا محمد وعلى اله وصحبه وسلم تسلیما کثیرا یہ پوچھا گیا ہے کہ اخری قول کس کا تھا یہ شیخ محمد واسطیہ کے مشہور شعار ہیں یہ ان کا قول

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript