Thumbnail for Q&A: Is Quran a miracle? What do I really believe about Muhammad SAW and Quran? by Billionneurons Faraz Siddiqui

Q&A: Is Quran a miracle? What do I really believe about Muhammad SAW and Quran?

Billionneurons Faraz Siddiqui

25m 42s5,316 words~27 min read
Auto-Generated

[0:00]تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم جو تھے وہ بڑے لیڈر تھے۔ اپ نے عربوں کو متحد کیا، انقلاب لائے اور اپ کے بعد وہ انقلاب کنٹینیو ہوا۔ لیکن اپ نبی نہیں تھے۔ رسول نہیں تھے۔ لیکن اپ جھوٹے بھی نہیں تھے۔ قران میرے نزدیک بعد میں کمپائل کی ہوئی کتاب ہے۔ یہ کہنا ہے قران مجید حلف کیا جاتا ہے اس لیے وہ یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی بہت سارے مذاہب میں یہ باتیں موجود تھیں۔ پھر جب لکھائی اگئی تو یہ باتیں پھر مدوم ہو گئیں۔ اگر اپ اج یہ حدیث اپ نکال دیجئے کتب احادیث سے کہ ایک حافظ جتنے کو جنت میں لے کے جائے گا اور جس طرح کی جو باقی چیزیں ہیں تو ہمارے ہاں بھی اس کی روایت ختم ہو جائے گی۔ سلام دوستوں تو حاضر ہوں سوال و جواب کی ایک اور نشست کے ساتھ۔ یہ سوال و جواب مجھے موصول ہوئے ہیں ایک بہت ہی پڑھے لکھی دینی شخصیت کی طرف سے جو مجھے بڑی خوشی ہے کہ ہمارے دینی طبقے میں بھی جو نوجوان لوگ ہیں وہ اب ریشنلٹی کی طرف ا رہے ہیں۔ وہ اپنے دین کو بھی اسی کریٹیکل تھنکنگ سے گزارنا شروع کر چکے ہیں جو کہ وہ الحاد کے لیے مخصوص رکھتے تھے۔ تو چلیے اج کے سوال دیکھتے ہیں۔ قران الہامی کتاب ہے۔ اس کے انہوں نے چار دلائل دیے ہیں کہ پڑھنے اور سننے میں سرور اتا ہے۔ قران کا جواب ممکن نہیں ہو سکا اج تک۔ ایک امی یعنی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے ایسی کتاب لکھ لی۔ قران پوری دنیا میں حفظ کیا جاتا ہے۔ ان کا دوسرا سوال ہے کہ ہر نسل کا جوڑا جوڑا ہے تو ارتقا کو کیسے پتہ چلا کہ اس کو جوڑے بنانے ہیں۔ اسلام اگر حق نہ ہوتا تو دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مذہب کیسے بن جاتا؟ رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی گئی جو قران میں پہلے سے لکھا ہوا تھا۔ یہ اخری سوال ایک اور صاحب کا ہے کہ اپ کی ساری ویڈیوز دیکھ لیں مگر پتہ نہیں چلا کہ اپ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قران کے بارے میں اصل نظریہ کیا ہے؟ زبردست سوال ہیں تو چلیے شروع کرتے ہیں پہلے سوال سے۔ کہ قران الہامی کتاب ہے کہ اس کے پڑھنے اور سننے میں سرور اتا ہے۔ پہلی بات تو یہ دیکھ لیجئے کہ سرور صرف قران مجید کو پڑھنے سننے میں نہیں اتا۔ ہر مذہب کے لوگ جو ہوتے ہیں وہ اپنے مذہب کی چیزوں کو سن کے سرور محسوس کرتے ہیں، سکون محسوس کرتے ہیں مثال کے طور پر میں اپ کے سامنے یہ دو مثالیں دیتا ہوں۔ ایک ہندو بھجن کی مثال ہے اور ایک ایک چانٹ ہے جو کہ بدھسٹ چانٹ ہے۔ یہ سن لیجئے پھر واپس اتے ہیں۔ تو دیکھ لیا اپ نے کیسے لوگ جو ہیں وہ جھوم رہے ہیں اور ان کی سمجھ میں بھی شاید نہیں ا رہا کہ مطلب کیا ہے ان چیزوں کا مگر پھر بھی وہ ایک سرور، ایک کیف، ایک اطمینان محسوس کر رہے ہیں دے ار فیلنگ کنیکٹڈ ٹو گاڈ، کنیکٹڈ ٹو ہائر پاور۔ ایسا کیوں ہے؟ ایسا اس لیے نہیں ہے کہ یہ الفاظ میں کوئی جادو ہے۔ ان الفاظ میں کوئی ڈیونٹی ہے۔ یہ الفاظ کسی خدا کے کان میں جا کے کچھ بجا رہے ہیں اور وہ خدا اپ کے ساتھ کمیونیکیٹ کر رہا ہے اپ کے جذبات کے تھرو۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ زبان ہمارے پاس ائی ہے تقریبا 70 ہزار سال پہلے۔ اس سے پہلے انسان کمیونیکیٹ کرتے تھے اوازوں سے۔ تو ہمارا دماغ جو ہے وہ اوازوں کے لیے زیادہ ریسیپٹو ہے اج بھی بنسبت زبان کے۔ دیکھئے زبان بھی اوازیں ہی ہیں۔ لیکن وہ اوازیں ایک مخصوص فارم میں ہوتی ہیں۔ جبکہ یہ جو ردھم ہوتا ہے ردھم، پچ، ریپیٹیشن یہ ایک دوسری قسم ہوتی ہے جو کہ انسان کا ذہن صدیوں بلکہ کروں ہزاروں سالوں سے سمجھتا ایا ہے۔ ماہرین یہ بتاتے ہیں کہ زبان سے پہلے انسان ایسی ہی چیزوں سے کمیونیکیٹ کرتا تھا۔ دو بار چیخنے کا مطلب ایسے ہے گنگنانے کا مطلب ایسے ہے کوئی ردھمک کوئی چیز ہو رہی ہے تو وہ ایسے ہے پھر جب انسان جو ہے وہ پہاڑوں ندیوں میں رہتا تھا۔ وہ چڑیوں کا چہچہانہ سنتا تھا وہ جھرنوں کا بہنا سنتا تھا وہ بارش کا برسنا سنتا تھا وہ بجلی کا کڑکنا سنتا تھا یہ سب اوازیں اس کو مطلب دیتی تھیں۔ تو یہی اوازیں اس نے خود بھی اختیار کر لیں اور پھر کئی ہزار سال کے بعد وہ لفظ بنے لیکن اج بھی ہمارا دماغ جو ہے وہ اوازوں کے لیے زیادہ ریسیپٹو ہے۔ میں اپ کو اس کی ایک مزے دار مثال بتاتا ہوں۔ یہ جو اسٹڈیز ہوتی ہیں میوزک کے اوپر اس میں ایک اسٹڈی ہوئی تھی الاپ کے اوپر اور یہ کئی ریپیٹ بھی ہوئی ہے۔ تو الاپ جو ہوتا ہے جو یہ قوال وغیرہ کرتے ہیں۔ اس سے دماغ میں تھیٹا اور الفا ویوز بڑھ جاتی ہیں یعنی کہ دماغ کی حرکت سلو ہو جاتی ہے اس میں سکون ا جاتا ہے۔ بالکل یہی کام گریگورین چانٹس میں بھی ہوتا ہے میں اپ کو ایک مثال دیتا ہوں گریگورین چانٹس کی۔

[6:07]یہ جو اپ نے سنا گریگورین چانٹس اپ کی سمجھ میں نہیں ایا لیکن یہ پرسکون ضرور تھا۔ اسی وجہ سے ہمارے جو قوال بھی ہیں عزیز میاں یا نصرت فتح علی خان صاحب یہ اتنے مشہور کیوں ہوئے؟ کہ یہی جو ان کا الاپ ہے جو ان کا تال میل ہے اوازوں کا یہ دماغ کو سکون دیتا ہے چاہے سمجھ میں کچھ نہ ائے۔ ہر مذہبی کتاب کے اشلوک ہوں، قران مجید کے ایات ہوں یا پھر بدھا کے ناموں کا جنتر منتر ہو سب سکون دیتے ہیں کیونکہ اس کی وجہ اوازوں کا ایک مخصوص لہن میں ایک مخصوص انداز میں پڑھنا ہے۔ قران مجید کو پڑھنے سے سرور نہیں اتا۔ قران مجید کو اچھی اواز میں لہن کے ساتھ قرعت کے ساتھ پڑھنے میں مزہ اتا ہے۔ قران کی جو قراتیں ہیں وہ بھی کئی طرح کی ہیں۔ ایک ہوتی ہے سیڈ قرات جس میں اپ کے اندر جب جو ہے وہ عذاب کی ایتیں اتی ہیں تو ان کو اس انداز میں پڑھا جاتا ہے کہ اپ کا دل نرم ہو جائے۔ ایک ہوتی ہیں انبساط کی قرات کہ اپ خوشی محسوس کر رہے ہیں جب اپ اللہ کی تعریف کریں جنت کی نعمتیں بیان کریں۔ تو قاری حضرات یہ کام کرتے ہیں جو بھی قرا کو جانتے ہیں وہ وہ جانتے ہوں گے اس کو یقینا تو یہ اوازوں کا اتار چڑھا ہو یہ قران کے الفاظ نہیں ہیں اگر قران کے الفاظوں میں کچھ ہوتا تو پھر صرف قران کے الفاظوں میں ہوتا۔ گیتا پڑھتے ہوئے انسان جھومتا نہیں۔ کوئی اشلوک پڑھتے ہوئے انسان کو وجد طاری نہیں ہوتا کہ بدھا کا نام جبتے جبتے جو ہے وہ انسان دوسری تیسری دنیا کی سیر کو نہیں نکل جاتا۔ تو یہ کوئی دلیل نہیں ہے الہامی کتاب ہونے کی۔ دوسری بات قران کا جواب ممکن نہیں ہو سکا اج تک۔ یہ تو میں کئی دفعہ بتا چکا ہوں کہ خود مسلمانوں نے کم سے کم چار کتابیں لکھی ہیں قران کے جواب کے طور پر لیکن جواب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ چیلنج پورا کیسے ہو گا۔ جج کون بنے گا؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جن پہ یہ قران نازل ہوا وہ سب سے بہتر جج تھے یہ بتانے کے لیے کہ ایا یہ قران ہے یا یہ قران نہیں ہے۔ وہ تو اج ہے نہیں۔ تو پھر کون بتائے گا؟ کون ہے اج پوری دنیا میں جو یہ جس پہ تمام امت مسلمہ متفق ہو کے کہہ دے کہ بھائی اگر یہ صاحب کہہ دیں گے تو ہم مان لیں گے۔ اور دوسرا یہ دعوی انتہائی مبہم ہے۔ جب ہم کہتے ہیں قران کا جواب ممکن نہیں ہے تو ہم یہ نہیں بتاتے کہ کس معاملے میں۔ ایات اپ بنائیں گے تو ایات میں کیا وہ عذاب کی ایات ہوں کیا وہ خوشی کی ایات ہوں اخرت کی ایات ہوں کفار پہ حملے کی ایات ہوں کفار پہ کامیابی کی ایات ہوں اس میں قافیہ شناسی ہو یا اس میں اہنگ ہو ایک ریپیڈلی جو ایات ا رہی ہیں ہاکم متکا زرتم المقابر اس طرح کی ریپیڈ ایات ہو یہ ہم نہیں بتاتے۔ جب تک اپ یہ ڈیفائن نہیں کریں گے کوئی جواب لکھے گا کیسے جج کیسے کریں گے۔ تو یہ دعوی میرے خیال میں قران مجید جب نازل ہو رہا تھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم حیات تھے اس وقت تک تو تھا۔ اس کے بعد یہ دعوی ایک بس ایمانی کیفیت اپ کو دے سکتا ہے۔ یہ حقیقی طور پہ پورا نہیں ہو سکتا۔ اس کے جوابات لکھے گئے ہیں لیکن مسلمانوں نے ان کو نہیں مانا۔ اج بھی اگر کوئی جواب لکھ لے گا تو لوگ نہیں مانیں گے۔ چلیے اگے چلتے ہیں ایک امی نے کیسے ایسی کتاب لکھ لی یعنی دعوی یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیاوی طور پہ پڑھ لکھے ادمی نہیں تھے تو انہوں نے یہ ایسی کتاب کیسے لکھ لی پہلے تو یہ سمجھ لیجئے کہ پرانے زمانے میں اسکول نہیں ہوتے تھے۔ پہلے لوگ چلتے پھرتے ہی سیکھتے تھے اور یہ اسکولز جو ہیں یہ تو ابھی اج کے زمانے کی بات ہے۔ میں اپ کو ایک ایک مثال دیتا ہوں۔ ایک بہت مشہور کتاب تھی کامن سینس جب یہ پبلش ہوئی یو ایس میں تو اس وقت یو ایس میں نہ اسکولز تھے نہ باقاعدہ کوئی لٹریسی تھی لیکن اس کتاب کی کاپیوں سے جو اندازہ لگایا بکنے کی جو جتنی کاپیز بکی ہیں اس سے اندازہ لگایا ماہرین نے کہ 90 فیصد لوگ پڑھ سکتے تھے اس وقت۔ تو تعلیم کے لیے کوئی اسکولنگ ضروری نہیں تھی۔ پھر بھی چلیے میں اپ کی بات مان لیتا ہوں کہ ان کو الفاظوں کے شناخت نہیں کر سکتے تھے وہ پڑھ نہیں سکتے تھے میں نے مان لیا یہ بھی خاص نہیں ہے سب سے اس کی حالیہ مثال جو ہے وہ جوزف اسمتھ ہیں۔ یہ جو مورمن مذہب کے بانی ہیں ان پہ جو اس کتاب کا نزول ہوا جو بک اف مورمنز کہلاتی ہے وہ انہوں نے بالکل لکھی جبکہ وہ بھی دنیاوی طور پہ پڑھ لکھے نہیں تھے لفظ شناخت نہیں کر سکتے تھے۔ ایسے ہی جو رشی تھے جنہوں نے ویداز لکھیں وہ بھی پڑھ لکھے نہیں تھے۔ اور اس کے علاوہ یہ جو اواستھا لکھی گئی زرتشت کی وہ بھی پڑھ لکھے نہیں تھے۔ بائبل لکھی گئی ہے یہ بھی فارملی پڑھ لکھے لوگ نہیں تھے یہ یاد کیا انہوں نے بعد میں انہوں نے لکھوائی۔ یہ تو ہمیں نہیں معلوم کہ اس کے اتھرز کون تھے لیکن جو پہنچانے والے تھے وہ باقاعدہ پڑھ لکھے نہیں تھے۔ اپ کے جو 11 حواری تھے ان میں سے کون سکالر تھا؟ سارے عام لوگ تھے۔ تو جتنی بھی کتابیں ائی ہیں دنیا میں جتنی مشہور کتابیں ہیں وہ تمام دنیاوی طور پہ غیر پڑھ لکھے افراد نے ہی لکھی ہیں۔ اس سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاص نہیں ہوتے۔ قران پوری دنیا میں حفظ کیا جاتا ہے تو یہ مطلب اس کی اولوہی ہونے کی نشانی ہے۔ دیکھئے یہ بات اپ کی بالکل درست ہے کہ قران سب سے زیادہ حفظ کرنے والی کتاب ہے لیکن یہ اکیلی کتاب نہیں ہے۔ چند مثالیں میں دیتا ہوں۔ میں نے ابھی ذکر کیا تھا ویداز کا۔ تو ویداز قران مجید سے تقریبا ڈیڑھ ہزار دو ہزار یا ڈھائی ہزار سال پرانی کتب ہیں۔ ایگزیکٹ مجھے یاد نہیں ہے۔ لیکن یہ ویداز مکمل طور پہ اورلی ٹرانسمٹڈ ہوئی ہیں۔ بلکہ ہندوز اتنے زبردست تھے کہ انہوں نے ڈویلپ کی میموری ٹیکنیکس یعنی کہ نیمونکس انہوں نے ڈویلپ کیے کہ الفاظ اور ان کی پرنسییشن پریزرو رہے صدیوں تک۔

[11:04]مسلمانوں نے یہ کام نہیں کیا لیکن ہندوؤں نے ایسے نیمونکس ایجاد کیے کہ وہ الفاظ کی پرنسیشن اور گرامر اور جملے پریزرو رہے اور یہ کئی صدیوں بعد لکھی گئی۔ یہ رشی جو تھے یہ پوری پوری کتابیں یاد کرتے تھے۔ پوری پوری عمریں لگاتے تھے اس میں اور اس کو اگے پہنچاتے تھے بغیر اس کے کہ اس وقت لکھائی موجود تھی۔ زرتشت کی کتاب جو ہے وہ بھی اورلی ٹرانسمٹ ہوئی اور بہت اخر میں لکھی گئی ہے۔ توہ جو اج ہم پڑھتے ہیں یہ بھی ظاہر ہو گئی تھی جب رومیوں نے تباہ کیا تھا ٹیمپل یہ بھی یادداشت سے لوگوں نے لکھی اور پھر یہ ہم ہم تک اج یہ لکھی ہوئی پہنچی۔ قران کے بارے میں بھی یہ دعوی کیا جاتا ہے میں اس پہ اپنی باقی ویڈیوز میں تفصیل سے بتا چکا ہوں۔ تو یہ کہنا کہ قران مجید حفظ کیا جاتا ہے اس لیے الہامی ہے یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی بہت سارے مذاہب میں یہ باتیں موجود تھیں۔ پھر جب لکھائی اگئی تو یہ باتیں پھر مدوم ہو گئیں۔ اگر اپ اج یہ حدیث اپ نکال دیجیے کتب احادیث سے کہ ایک حافظ اتنوں کو جنت میں لے کے جائے گا اور اس طرح کی جو باقی چیزیں ہیں تو ہمارے ہاں بھی اس کی روایت ختم ہو جائے گی۔ ہمارے ہاں جو اس کی روایت ہے وہ زندہ اسی لیے ہے کہ اس کا اخرت کے وعدے ہیں اپ یہ وعدے ہٹا لیجئے یہ ختم ہو جائے گی روایت اج تو ویسے بھی ضرورت نہیں ہے کہ حفظ کیا جائے۔ تو بہرحال یہ کوئی دعوی درست نہیں ہے قران مجید کے ساتھ یہ بالکل بھی خاص نہیں ہے۔ دوسرا سوال ہے کہ ہر نسل کا جوڑا جوڑا ہے تو ارتقا کو کیسے پتہ چلا کہ اس کو جوڑے بنانے ہیں۔ یہ قران مجید کی ایت ہے کہ ہم نے ہر چیز جوڑا جوڑا پیدا کی ہے لیکن یہ غلط ہے۔ اج بائیولوجی بتاتی ہے کہ تقریبا ایک لاکھ اسپیشز ہیں جو ہم نے اب تک ڈسکور کی ہیں جو کہ عام الفاظ میں یونسیکس ہیں۔ بائیولوجیکل یونسیکس وہ نہیں ہیں لیکن ویسے ان میں میل، فی میل دونوں ہوتے ہیں۔ ان کو ٹرو ہرمافروڈائیٹ کہا جاتا ہے یعنی کہ ان میں میل، فی میل دونوں ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ دوسری جو قسم ہوتی ہے ان کو کہتے ہیں سائلٹینیس ہرمافروڈائیٹ۔ وہ اسٹارٹ اپنی زندگی کرتے ہیں یا تو ایز ا نر یا مادہ اور پھر بعد میں ا کے وہ اپنا سیکس بدل لیتے ہیں اگر نر تھے تو مادہ ہو جاتے ہیں اگر مادہ تھے تو نر ہو جاتے ہیں۔ اس میں ایک اور چیز بھی ہوتی ہے جس کو کہا جاتا ہے پارتھینوجینیسیس۔ پارتھینوجینیسیس یہ ہوتی ہے کہ بغیر میل کے بغیر نر کے افزائش نسل کوئی جانور مکمل کر لے۔ کموڈو ڈریگنز اس کی ایک بہت مشہور مثال ہے۔ کہ میلز نہ بھی ملیں تب بھی وہ ریپروڈیوس کر سکتے ہیں۔ تو ایک لاکھ کے قریب ایسی چیزیں موجود ہیں جو کہ جوڑا جوڑا نہیں ہیں۔ یہ ہم نے ابھی ڈسکور کی ہیں اصل جو ہیں وہ کافی شاید زیادہ ہو سکتی ہیں۔ اب اس میں پھر تاویل کرتے ہیں کہ نہیں وہ بھی تو جوڑا جوڑا ہی ہیں۔ اب یہ میرا نہیں خیال کہ ایت کا مطلب یہ نکلتا ہے لیکن بہرحال جب قران مجید لکھا جا رہا تھا تو اس وقت یہی معلوم تھا کہ ہر چیز جوڑا جوڑا ہوتی ہے۔ یہی دیکھا تھا انسان نے تو وہی لکھ دیا گیا لیکن اصل میں ایسی بات نہیں ہے۔ جوڑے بنے کیوں؟ جب زندگی سادہ تھی تو ضرورت نہیں تھی الگ الگ ہونے کی لیکن جیسے جیسے لائف کمپلیکیٹ ہوتی گئی جیسے میں اپ کو کچھ مثالیں دکھاتا ہوں۔ یہ دیکھئے یہ گارڈن سنیل ہے جو عام طور پہ پایا جاتا ہے باغات میں اور یہ ہرما فروڈائیٹ ہے یعنی کہ یہ ایز ا میل ہوتا ہے پھر فی میل ہو جاتا ہے۔ یہ دیکھئے یہ ارتھ ورم ہے، کینچوا جس کو کہتے ہیں یہ بھی ایسا ہی ہے۔ یہ ایک مچھلی ہے جو کہ ہرمافروڈائیٹ ہے فی میل شروع ہوتی ہے اور پھر میل بن جاتی ہے۔ اگر اپ نے فائنڈنگ نیمو مووی دیکھی ہے تو یہ مچھلی ہے۔ یہ بھی سیکونشل ہرمافروڈائیٹ ہے یہ اسٹارٹ ایز ا میل ہوتی ہے اور پھر جو ڈومیننٹ میل ہوتا ہے وہ فی میل مچھلی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ تو ایسی بہت ساری مثالیں موجود ہیں۔ تو اس سے کیا یہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ قران مجید درست ہے۔ میرا میرا نہیں خیال۔ میرا نہیں خیال کہ یہ دعوی جو ہے یہ درست مانا جا سکتا ہے کہ ہر چیز جوڑے جوڑے پیدا کی۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ جب لائف کمپلیکیٹڈ ہونا شروع ہوئی۔ یعنی کہ چوائس نیل سادہ لائف فارمز ہیں بیکٹیریا وہ بھی یونسیکس ہیں ان میں میل، فی میل تو ہوتے ہی نہیں سرے سے وہ بس سیدھے سیدھے ڈیوائیڈ ہو جاتے ہیں۔ تو جب لائف کمپلیکیٹڈ ہونا شروع ہوئی زیادہ نروس سسٹم ڈویلپ ہوا، ڈائجیسٹو سسٹم ڈویلپ ہوا چیزوں کو مزید کمپلیکیٹڈ سسٹمز کی ضرورت موجود ہوئی مختلف طرح کے اب اپ کو کاربوہائیڈریٹ بھی کھانے ہیں پروٹین بھی کھانے ہیں اپ کو گیس بھی بنانی ہے جو اپ فاضل مادہ ہے فضلا جو اس کا اس کا اخراج بھی کرنا ہے تو پھر ایولوشن میں اہستہ اہستہ سیپریشن ہوتی گئی تو جیسے جیسے اپ اناٹمک لیڈر میں بڑھتے جائیں گے جیسے جیسے زندگی کمپلیکس سے کمپلیکس ہوتی جائے گی ویسے ویسے میل فی میل سیپریٹ ہوتے جائیں گے۔ میں اپ کو بتاؤں اج بھی کچھ ریئر ڈس ارڈرز ہوتے ہیں بھیڑوں میں اور کتوں میں جن میں ہرمافروڈائیٹ ہوتے ہیں وہ یعنی کہ وہ میل فی میل دونوں ہوتے ہیں ریپروڈیوس بھی کر سکتے ہیں لیکن یہ بہت بہت ہی ریئر ہوتا ہے۔ انسانوں میں تو خیر بالکل ہی نہیں ہوتا۔

[15:06]تو یہ کہنا کہ ارتقا کو معلوم تھا نا ارتقا کو معلوم نہیں تھا۔ ارتقا ایک رینڈم پروسیس ہے اس کا مقصد ہے سروائیول۔ سروائیول کے جو بھی بہتر ہے ارتقا وہ کرتا ہے وہ وہ نہیں کرتا جو بہترین ہے وہ وہ کرتا ہے جو سروائیول کے لیے بہتر ہے۔ تو یہ دعوی بھی قران مجید کا میرے خیال میں درست نہیں ہے۔ اسلام اگر حق نہ ہوتا تو دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مذہب کیسے بن جاتا؟ اگر ایسی بات ہے تو پھر تو عیسائیت ہمیں اختیار کر لینی چاہیے کیونکہ اگر اکثریت جو ہے وہ حق کا معیار ہے تو پھر تو عیسائیت سب سے بڑا مذہب ہے۔ دیکھئے مذاہب کے پھیلنے کی وجوہات ہمیشہ سیاسی ہوتی ہیں۔ عیسائیت سب سے بڑا مذہب اس لیے نہیں ہے ان کے مذہب میں سچائی زیادہ ہے ایسا نہیں ہے۔ وہ اس لیے سب سے بڑا ہے کہ اس کی وجہ سیاسی ہے۔ جب رومنز نے اس کو لیا تب وہ سب سے سوپر پاور تھے اور ان کا دین بہت زیادہ پھیلا پھر جب 1500 میں کالونائزیشن ہوئی پوری تقریبا دنیا کالونائز ہو گئی یورپینز نے وہ سارے عیسائی تھے اس لیے جہاں جہاں وہ گئے وہاں وہاں عیسائیت پھیلتی گئی۔ تو وجہ سیاسی ہوتی ہے۔ اپ اسلام سے بھی فتوحات نکال دیجئے تو اسلام عرب تک ہی رہے گا اور وہیں تک ہی ہوتا ہم لوگ شاید کبھی مسلمان ہوتے ہی نہ اگر کبھی بھی مسلمان فاتحین نہیں اتے تو ہم بھی مسلمان نہ ہوتے جو انڈیا میں رہتے ہیں یہ ایک متھ ہے اور بالکل جھوٹ ہے کہ صوفیوں نے اسلام پھیلایا یہ بالکل جھوٹ بات ہے۔ کہ بہرحال یہ میرا موضوع نہیں ہے اسلام جو یہاں پہ ایا ہے وہ فتوحات کے ذریعے ایا ہے۔ فتوحات کے ذریعے ایا ہے ہمیشہ ایک کہاوت اسی لیے تو مشہور ہے کہ رعایا بادشاہ کے دین پہ ہوتی ہے۔ وہ اسی لیے ہوتی ہے کہ جو بھی ڈومیننٹ پاور ہوتی ہے اسی کا کلچر اور اسی کا مذہب اختیار کر لیا جاتا ہے۔ جب ہم لوگ ڈومیننٹ تھے مسلمان ڈومیننٹ تھے تو عربی لباس فیشن میں تھا۔ پادری تک اپنے لباسوں پہ عربی ایت تو نہیں کہنا چاہیے عربی عبارت نہیں کندہ کرواتے تھے اس کو سلائی کروا کے ایمبرائیڈری کرواتے تھے اس کی کیونکہ یہ نشان تھا اٹومنز کا یہ نشان تھا مملوکوں کا۔ تو یہ کلچر کی بات ہے اور یہ طاقت کے توازن سے دین پھیلتا ہے۔

[16:53]یہ سچائی کا معیار بالکل بھی نہیں ہے کہ وہ زیادہ ہیں تو وہ حق پہ ہونے چاہیے ہیں۔ رسول اللہ کی حفاظت کی گئی جو قران میں پہلے سے لکھا ہوا تھا۔ تو ان کا سوال اصل میں یہ تھا کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا اللہ تعالی نے وعدہ فرمایا کہ اپ کے بعد کوئی نبی نہیں ائے گا قران کا نزول ضروری تھا کیونکہ قیامت تک پھر اسمان کو زمین سے بات نہیں کرنی تھی۔ اس لیے اپ پہ اتنے قاتلانہ حملے ہوئے اور اپ اس میں محفوظ رہے۔ تو پھر میرا اس پہ جواب یہ ہے کہ دیکھئے ہٹلر جو تھا اس پہ تقریبا بتایا جاتا ہے کہ کلوز ٹو 100 اٹیکس ہوئے لیکن 42 اٹیکس بالکل مطلب ڈاکومنٹڈ ہیں وداؤٹ اینی ڈاؤٹ۔ 42 مرتبہ اس پہ جان لیوا حملے ہوئے کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کی پالیسی درست تھی کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اس نے پوری دنیا کو جنگ میں تھوپ دیا ڈھائی ملین افراد مر گئے اس کی جنگ عظیم میں تو وہ صحیح تھا۔ یہ بس ایک اتفاقات ہوتے ہیں زمانے کے۔ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو جاتے تو قران مجید میں کچھ اور لکھا ہوا ہوتا۔ مطلب اس میں مفروضہ اس سوال میں یہ ہے کہ قران پہلے میں اگیا یہ قران میں اور پھر یہ محفوظ بھی رہا۔ بالکل یہی بات کی جاتی ہے ابولہب کے لیے تبطیدا ابی لہب والی جو سورہ ہے کہ 10 سال پہلے یہ ایت نازل ہو گئی تھی ابولہب چاہتا تو مسلمان ہو جاتا اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا ثابت کرتا لیکن اس نے نہیں کیا۔ اس میں بھی مفروضہ یہی ہے کہ ہم تک یہ اطلاع بالکل 100 پرسنٹ ایکوریٹ پہنچی ہے کہ ایت ویسے پہلے ہی اتر چکی تھی۔ یہ ہمیں روایات بتاتی ہیں اور روایات بہت بعد میں لکھی گئیں۔ ہمیں کیسے معلوم یہ بعد میں نہیں لکھ دیا گیا روایات میں۔ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو محفوظ رکھا جائے گا۔ قران مجید میں باتیں ایڈ نہیں ہو گئیں۔ جب میں قران پہ مزید اپنی ویڈیوز بتاؤں گا تو میں اپ کو بتاؤں گا کہ جو ماڈرن ریسرچ ہے وہ اپ کو یہی بتاتی ہے کہ قران مجید اٹھویں صدی کے بعد ہمارے سامنے ایا ہے اس صورت میں جس میں ہم اج دیکھتے ہیں۔ یہ جو مخطوطات کی باتیں ہوتی ہیں کہ جی سننا مین سکرپٹ نکل ایا ڈرمنگ مین سکرپٹ نکل ایا جو جس کی ڈیٹ جو ہے وہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی ہے دیکھئے وہ کھال کی ڈیٹ ہے۔ سیاہی کی ڈیٹ نہیں ہے۔ اور جو ہم اس کے لکھنے کے انداز سے جو ہم نے اندازے لگائے ہیں اب تک وہ اٹھویں مڈ ایٹ سنچری یا نویں صدی سے پہلے کا نہیں ہے وہ۔ تو یہ کہنا کہ قران بالکل مدون تھا یہ ایک ایمانی بات ہے حقیقی طور پہ نہیں ہے۔ نہ ہمارے پاس کوئی ایک چھال کا ٹکڑا درخت کی چھال موجود ہے جس پہ یہ پتھر کا ٹکڑا موجود ہے جس پہ قرانی ایتیں لکھی ہوئی ہیں جو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں۔ حضرت عثمان کے قران بھی موجود نہیں ہیں۔ ان قران ان کے قرانوں کی نقلوں کی نقول موجود ہیں۔ ان میں بھی اپس میں اختلاف ہے۔ تو اپ یہ کیسے کہہ سکتی ہیں قران بغیر کسی ڈاؤٹ کے اپ تک ٹرانسفر ہوا ہے اس لیے یہ دعوی جو ہے کہ رسول اللہ کی حفاظت کی گئی یہ درست ہو گیا۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ خیر میں اگر اپ کے پاس وقت ہو تو اپ سرچ کیجئے گا ایک کتاب کریٹنگ دا قران۔ یہ ایک اسکالر ہیں مستشرق ہیں کافی متاثر مستشرق ہیں۔ ان کی کتابیں ان لائن اویلیبل ہے اس میں اپ دیکھیں گے کہ وہ کیسے تیاپانچہ کرتے ہیں کتنی ڈیٹیل میں جا کے ان ساری روایات کا اور جو ہمارے پاس ایویڈنس موجود ہے اور یہ جو دعوی موجود ہے کہ قران اورل ٹرانسمٹ ہوا ہے۔ یہ دعوی بھی وہ کیسا ڈیبنگ کرتے ہیں۔ میرا ارادہ ہے کہ میں اس کتاب پہ ایک سیریز اف ویڈیوز بناؤں لیکن ابھی اس میں کچھ وقت لگے گا۔ چلیے اخری سوال دیکھتے ہیں کہ اپ کی ساری ویڈیوز دیکھ لیں مگر پتہ نہیں چلا کہ اپ کا رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور قران کے بارے میں اصل نظریہ کیا ہے؟ یہ تو میں نے ویڈیوز بنائی بہت کم ہیں تو یہ تو بتانا ذرا مشکل ہے اپ کے لیے لیکن چلیے میں اپ کا جواب اپ کو دیتا ہوں۔ میرے خیال سے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بالکل ایگزسٹ کرتے تھے وہ ایک انسان تھے۔ جنہوں نے عربوں کو یونائٹ کیا بہت بڑے لیڈر بھی تھے ان کی وہ واحد انسان تھے جن کے اندر پورا عرب متحد ہوا اور ایسا متحد ہوا کہ پوری دنیا کو اس نے پھر تیاپانچہ کر دیا پوری تاریخ بدل دی۔ بہت بڑے لیڈر تھے لیکن رسول نہیں تھے لیکن نبی نہیں تھے۔ اپ کا اخلاق بھی بہت ہی اچھا تھا لیکن ایسا نہیں تھا کہ ہم اج تک اس کو فالو کریں اپ کا اخلاق وہی تھا جو اپ کے زمانے میں ایک اعلی اخلاق سمجھا جاتا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اپ میں ان اس اعلی اخلاق کی بہت ساری خصوصیات جمع ہو گئی تھیں۔ یہاں پہ اکثر مجھ سے اعتراض کیا جاتا ہے کہ اپ کیوں نہیں مانتے کہ جی اپ نے حضرت عائشہ سے نکاح کیا تھا 9 سال کی عمر میں ہمبستری کی تھی حضرت صفیہ کے ساتھ مباہشرت کی تھی اسی رات جس جس کے دن میں حضرت صفیہ کے رشتہ دار قریبی والد اور بھائی اپ شوہر شاید مارے گئے تھے مسلمانوں کے ہاتھوں اور ایسی بہت ساری باتیں ہیں۔ دیکھیے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ ساری روایات جو ہیں یہ مسلمانوں نے ہی اپ کو بتائی ہیں۔ کسی مستشرق نے کسی لائبریری میں ڈھونڈ کے نہیں نکالی۔ یہ مسلمان یہ باتیں صدیوں سے جانتے ہیں۔ ہر بات اس کے کانٹیکسٹ میں سمجھی جانی چاہیے۔ اس میں بہت ساری روایات جو ہیں وہ علی الاعلان جھوٹی ہیں اور مسلمان اس کو بہت صدیوں سے جانتے ہیں۔ یہ سوال لیکن پھر بھی اپ کا ویلڈ رہے گا کہ یہ روایات پھر کتابوں سے نکالی کیوں نہیں گئیں۔ یہاں پہ تقدس ا جائے کہ فلاں حضرت اور فلاں حضرت اور فلاں حضرت نے لکھ دی ہیں تو ہم کیسے نکالیں۔ ہر فرقے کے حضرت موجود ہیں تو جن سے اپ کچھ کہہ نہیں سکتے۔ تو یہ کتابیں اور یہ روایات اج تک چلی ا رہی ہیں ضعیف ترین روایات ہیں یہ ان کو ہم ہی نے بتایا ہے ہمیں مینہ برا یہ مسلمان لوگ ہیں۔ مسلمانوں نے ہی بتایا ہے کہ یہ سب روایات جھوٹی ہیں۔ یہ ضعیف ہیں، یہ موضوع ہیں، یہ منکر ہیں، یہ غریب ہیں۔ یہ مسلمانوں نے ہی بتایا ہے۔ تو یہ روایات حقیقت کی عکاسی نہیں کرتیں۔ اس لیے میں ان کو درست نہیں مانتا۔ جہاں تک حضرت عائشہ سے شادی کی بات ہے اس میں میں نے پہلے بھی شاید کہیں ذکر کیا تھا کہ ڈاکٹر جوشوا لٹل کی بہت ضخیم تحقیق ہے کہ یہ فیبریکیٹڈ روایت ہے جو بعد میں گھڑی گئی سیاسی مقاصد کے لیے۔ اس کا کوئی تعلق حقیقت سے نہیں ہے کیونکہ اس شادی کے علاوہ اپ کو تاریخ میں کوئی شادی نہیں ملتی۔ کوئی نام نہیں ملتا باتیں ملتی ہیں۔ حضرت معاویہ نے فلاں کی شادی کر دی عربی کون تھا کس سے کی تھی کچھ نہیں معلوم حضرت شاہ امام شافعی نے بتایا کہ میں نے 21 سال کی نانی دیکھی کہی ہوئی بات ہے کون ہے کہاں ہے کچھ نہیں معلوم۔ تو میں یہ اس روایت کو درست نہیں سمجھتا۔ مسلمانوں کو چیلنج ضرور کرتا ہوں کیونکہ وہ اس کو درست مانتے ہیں وہ اپنے نبی پہ ایسا گندا الزام برداشت کرتے ہیں جو کوئی بھی برداشت نہیں کرے گا اپنے والد کے اوپر اپنے بھائی کے اوپر لیکن وہ برداشت کرتے ہیں صرف ان کو ان کی سوچ کو جلانے کے لیے۔ تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم جو تھے وہ بڑے لیڈر تھے۔ اپ نے عربوں کو متحد کیا انقلاب لائے اور اپ کے بعد وہ انقلاب کنٹینیو ہوا۔ لیکن اپ نبی نہیں تھے رسول نہیں تھے۔ لیکن اپ جھوٹے بھی نہیں تھے۔ اپ مانتے تھے کہ اپ نبی ہیں اپ پہ جو نازل ہو رہا ہے وہ حق ہے لیکن قران پھر کیا ہے اس سے اب اگلی جڑی ہوئی بات اگئی قران میرے نزدیک بعد میں کمپائل کی ہوئی کتاب ہے۔ یہ میرے نزدیک میں بہت ہی طالب علمہ اور اپنے اپ کو گرا کے کہہ رہا ہوں یہ کسی اسکالر والا میرے نزدیک نہیں ہے مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی ہے۔ تو قران بعد میں کمپائل ہوا ہے اس میں بہت سے ریڈیشنز بعد میں ہوئی ہیں اس کے بعد یہ اس موجودہ شکل میں ہمارے پاس ایا ہے۔

[23:09]ہمارے پاس جو عربک انسکرپشنز کا جو ہے جس کا ایپیگریفی کہتے ہیں۔ جس پہ میں نے بھی کچھ ویڈیوز بنائی ہیں۔ اس کے حساب سے ایسا معلوم ہوتا ہے قران مجید بات کر رہا ہے اپنے سے 100 200 سال گزرے ہوئے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی میں اپ کو ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں حضرت عمر کی اتنی بڑی سلطنت تھی۔ اپ نے اتنی جنگیں لڑی بتائیے جاتا ہے اتنے جگہ اپ گئے فلاں گئے دماغ میں بہت سارے کام کیے ایک بھی روایت نہیں ملتی۔ ایک بھی ڈاکومنٹ نہیں ہے کہ اتنے عمر نے یہ فرمان فلاں عیسائی کو بھیجا بیت المقدس میں بھیجا کہیں اور بھیجا کچھ بھی نہیں ہے کوئی متبادل تاریخ بھی موجود نہیں ہے کہ جی فلاں فلاں پہ عمر کا ایل سی ایا تھا۔ اسلامی خلافت سے ایا تھا یہ سب باتیں اپ کو بنو امیہ میں ا کے ملتی ہیں۔ ڈاکومنٹڈ ایویڈنس۔ روایات موجود ہیں۔ تاریخ موجود ہے ڈاکومنٹڈ ایویڈنس موجود نہیں ہے۔ لیکن تاریخ بھی سن کے ہی لکھی جاتی ہے۔ مورخ پہ الہام نہیں ہو رہا ہوتا۔ لیکن کچھ باتیں لکھی جاتی ہیں۔ کہ بھئی اج یہ ہمارے پاس پرچہ موجود ہے چمڑے کا جس پہ حضرت عمر نے فرمان لکھا تھا یا فلاں دور دراز علاقے میں اپ کی سلطنت جو تین براعظموں میں پھیلی ہوئی تھی۔ وہاں پہ حضرت عمر کا ایک فرمان پہنچا تھا ہمارے پاس کوئی ڈاکومنٹڈ ایویڈنس نہیں ہے۔ سنی سنائی باتیں جو انگریز مورخ ایک باتیں لکھتے ہیں وہ بھی مسلمانوں کو ہی کوٹ کر رہے ہوتے ہیں۔ تو اس لیے مسلمانوں کی جو پرانی تاریخ ہے اس پہ بہت سارے پردے پڑے ہوئے ہیں۔

[24:36]فی الحال میرا ماننا یہ ہے کہ قران مجید الہامی کتاب نہیں ہے۔ شاید محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سارا قران ریویل ہوا ہو ان کو لگا ہو کہ ان میں نزول ہو رہا ہے لیکن اس میں بہت ساری ایڈیشنز یا اس میں تبدیلیاں بعد میں بہت زیادہ ہوئی ہیں۔ کہاں ہوئی ہیں یا کب ہوئی ہیں یہ میں نہیں جانتا یہ میرا فی الحال گمان ہے۔ اس پہ اگر ہم سے دلائل مانگیں گے تو فی الحال میرے پاس کہنا چاہیے کہ بہت ہی مضبوط دلائل نہیں ہیں۔ کیونکہ چھونے والے دلائل نہیں ہیں لیکن بہرحال یہ میں مانتا ہوں کہ قران مجید جو ہے وہ اللہ کی کتاب نہیں ہے اس میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے کہ وہ قیامت تک کے لیے انسانیت کے لیے ہدایت ہو اس میں انسانیت کی ہدایت کے لیے بہت ہی کم چیزیں ہیں نا اس میں کوئی قانون ہے نہ اس میں کوئی اخلاقی معیار ہے۔ جو کہانیاں ہیں ان کہانیوں سے اپ چیزیں نکالتے ہیں لیکن وہ اپنے زمانے کے علم کے حساب سے نکالتے ہیں ان کے اندر بہت کم مواد ہوتا ہے۔ خیر میں بھی گستاخی نہیں کرنا چاہتا۔ تو یہی میرا قران مجید اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نظریہ ہے۔ اگے بدل جائے مجھے معلوم نہیں۔ لیکن فی الحال یہی ہے۔ چلیے بہت لمبی بات ہو گئی اپنا خیال رکھیے گا ملتے ہیں کچھ دنوں میں کسی دوسری ویڈیو کے ساتھ۔ لائک، سبسکرائب اور شیئر ضرور کیجئے گا مجھے بڑی ضرورت ہے اس کی۔ اللہ حافظ۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript